QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

Luqman

لُقْمَان

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 31 · 34 verses

31:1

الٓمٓ

الٓمٓ(1) یہ آیتیں ہیں حکمت والی کتاب کی(2) ہدایت اور رحمت ہے نیکی کرنے والوں کے لیے(3) وہ لوگ جوقائم کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکاۃ اور ساتھ آخرت کے وہ یقین رکھتے ہیں(4) یہی لوگ ہیں ہدایت پر اپنے رب (کی طرف) سے، اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] اللہ تعالیٰ ان ﴿اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’حکمت والی کتاب کی آیات‘‘ کی تعظیم کے لیے ان کی طرف، اشارہ کرتا ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی محکم آیات ہیں جو ایک حکمت والی اور باخبر ہستی سے صادر ہوئی ہیں۔ان آیات کے محکم ہونے سے مندرجہ ذیل امور مراد ہیں:(۱)یہ آیات نہایت واضح، جلیل ترین اور فصیح ترین الفاظ میں آئی ہیں جو نہایت جلیل القدر اور بہترین معانی پر دلالت کرتے ہیں۔(۲)یہ آیات تغیر و تبدل، کمی بیشی اور تحریف سے محفوظ ہیں۔(۳)ان آیات میں گزشتہ زمانے اور آنے والے زمانے کے واقعات اور امور غیبیہ کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ وہ واقعات کے مطابق اور واقعات ان کے مطابق ہیں۔ کتب الٰہیہ میں سے کسی کتاب اور گزشتہ انبیاء میں سے کسی نبی نے ان اخبار کی مخالفت نہیں کی۔ اب تک کوئی علمی، حسی یا عقلی تحقیق ان امور کے متناقض نہیں، جن پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں۔(۴)ان آیات نے جس چیز کا بھی حکم دیا ہے وہ خالص یا راجح مصلحت پر مبنی ہوتی ہے اور جن امور سے روکا ہے وہ واضح یا راجح مفاسد پر مبنی ہوتے ہیں۔ بہت سے معاملات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی حکمت اور ان کے فوائد کا بھی ذکر کیا ہے اسی طرح کسی چیز سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ضرر اور مفاسد سے آگاہ کیا ہے۔(۵)قرآن کریم کی آیات میں ترغیب و ترہیب اور مواعظ بلیغہ اس انداز میں جمع ہیں کہ نیک نفس لوگ، اس کے ذریعے سے اعتدال اختیار کرتے ہیں، اس کو اپنا فیصل بناتے ہیں اور نہایت حزم و احتیاط کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔(۶) آپ دیکھیں گے کہ اس کی آیات، اس کے قصص اور احکامات وغیرہ میں تکرار پایا جاتا ہے، مگر ان کے مضامین میں اتفاق ہے اور ان میں کوئی تناقض اور کوئی اختلاف نہیں۔ صاحب بصیرت جتنا زیادہ اس کے اندر تدبر اور غوروفکر کرتا ہے اس کی آیات و احکام میں توافق و تطابق کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے، اس کو یقین ہو جاتا ہے، جس میں شک وریب کا کوئی شائبہ نہیں، کہ یہ قرآن حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے ہے۔ [3] وہ حکمت سے لبریز ہے، وہ تمام اخلاق کریمہ کی طرف دعوت دیتا ہے اور برے اخلاق سے روکتا ہے، مگر اکثر لوگ اس کی راہنمائی سے محروم ہیں اس پر ایمان لانے اور عمل کرنے سے روگردانی کرتے ہیں۔ البتہ وہ لوگ روگردانی نہیں کرتے جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق سے سرفراز کر کے روگردانی سے بچایا وہ اپنے رب کی عبادت میں احسان سے کام لیتے ہیں اور اس کے بندوں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔پس یہ قرآن انھی کے لیے ﴿هُدًى ﴾ ’’ہدایت ہے‘‘ راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور جہنم کے راستوں سے انھیں بچاتا ہے ﴿وَّرَحۡمَةً﴾اور محسنین کے لیے رحمت ہے۔ اس کے ذریعے سے انھیں دنیا و آخرت کی سعادت، خیر کثیر، ثواب جزیل اور فرحت حاصل ہوتی ہے اور گمراہی و بدبختی ان سے دور ہو جاتی ہے۔ [4] پھر اللہ تعالیٰ نے ان ’’محسنین‘‘ کا وصف بیان فرمایا کہ وہ علم کامل یعنی یقین محکم رکھتے ہیں جو عمل اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف کا موجب ہے اس لیے وہ اس کی نافرمانیوں کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عمل سے موصوف کیا ہے اور عمل کے ضمن میں دو بہترین اعمال کا ذکر فرمایا: وہ نماز کی پابندی کرتے ہیں جو اخلاص، اللہ تعالیٰ سے مناجات، قلب و زبان اور جوارح کے تعبُّد عام کو شامل ہے اور باقی اعمال میں معاون ہے۔ نیز زکاۃ کا بھی تذکرہ فرمایا کہ اسے ادا کرنے والا تمام صفات رذیلہ سے پاک ہوجاتا ہے۔ وہ زکاۃ کے ذریعے سے اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچاتا ہے، اس کی ضرورت پوری کرتا ہے، زکاۃ سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کی محبت کو مال کی محبت پر ترجیح دیتا ہے۔ وہ اپنے محبوب مال کو اس کی خاطر خرچ کرتا ہے جو اسے اپنے مال سے کہیں زیادہ محبوب ہے... اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا۔ [5]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہ نیکوکار لوگ جو علم کامل اور عمل کے جامع ہیں ﴿عَلٰى هُدًى ﴾ ’’ہدایت پر ہیں‘‘ جو بہت عظیم ہے جیسا کہ ’’ہدایت‘‘ کو نکرہ استعمال کرنے سے مستفاد ہوتا ہے۔ ﴿مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’اپنے رب کی طرف سے۔‘‘ جو اپنی نعمتوں کے ذریعے سے ان پر اپنی ربوبیت کا فیضان کرتا اور ان سے تکلیف دہ امور کو دور کرتا رہتا ہے۔ یہ ہدایت، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا ہے، اس خاص ربوبیت سے ہے جو اس نے اپنے اولیاء پر کی ہے اور یہ ربوبیت کی بہترین قسم ہے۔ ﴿وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی لوگ فلاح سے بہرہ ور ہیں‘‘ جنھوں نے اپنے رب کی رضا، اس کے دنیاوی اور اخروی ثواب کو پا لیا اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچ گئے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فلاح کے راستے پر گامزن ہوئے، جس کے سوا فلاح کا کوئی اور راستہ نہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سعادت مند لوگوں کا ذکر کیا جنھوں نے قرآن مجید کے ذریعے سے ہدایت حاصل کی، تو اس کے بعد، ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جو قرآن سے روگردانی کرتے ہیں اور اس کی طرف توجہ نہیں کرتے، ان کو اس کی سخت سزا دی جائے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے قرآن کے بدلے ہر باطل قول اختیار کر کے، بہترین قول اور احسن الحدیث کو چھوڑ دیا اور اس کے بدلے قبیح ترین اور انتہائی گھٹیا اقوال کو اختیار کیا، اسی لیے فرمایا:
31:2

تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡحَكِيمِ

الٓمٓ(1) یہ آیتیں ہیں حکمت والی کتاب کی(2) ہدایت اور رحمت ہے نیکی کرنے والوں کے لیے(3) وہ لوگ جوقائم کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکاۃ اور ساتھ آخرت کے وہ یقین رکھتے ہیں(4) یہی لوگ ہیں ہدایت پر اپنے رب (کی طرف) سے، اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] اللہ تعالیٰ ان ﴿اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’حکمت والی کتاب کی آیات‘‘ کی تعظیم کے لیے ان کی طرف، اشارہ کرتا ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی محکم آیات ہیں جو ایک حکمت والی اور باخبر ہستی سے صادر ہوئی ہیں۔ان آیات کے محکم ہونے سے مندرجہ ذیل امور مراد ہیں:(۱)یہ آیات نہایت واضح، جلیل ترین اور فصیح ترین الفاظ میں آئی ہیں جو نہایت جلیل القدر اور بہترین معانی پر دلالت کرتے ہیں۔(۲)یہ آیات تغیر و تبدل، کمی بیشی اور تحریف سے محفوظ ہیں۔(۳)ان آیات میں گزشتہ زمانے اور آنے والے زمانے کے واقعات اور امور غیبیہ کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ وہ واقعات کے مطابق اور واقعات ان کے مطابق ہیں۔ کتب الٰہیہ میں سے کسی کتاب اور گزشتہ انبیاء میں سے کسی نبی نے ان اخبار کی مخالفت نہیں کی۔ اب تک کوئی علمی، حسی یا عقلی تحقیق ان امور کے متناقض نہیں، جن پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں۔(۴)ان آیات نے جس چیز کا بھی حکم دیا ہے وہ خالص یا راجح مصلحت پر مبنی ہوتی ہے اور جن امور سے روکا ہے وہ واضح یا راجح مفاسد پر مبنی ہوتے ہیں۔ بہت سے معاملات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی حکمت اور ان کے فوائد کا بھی ذکر کیا ہے اسی طرح کسی چیز سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ضرر اور مفاسد سے آگاہ کیا ہے۔(۵)قرآن کریم کی آیات میں ترغیب و ترہیب اور مواعظ بلیغہ اس انداز میں جمع ہیں کہ نیک نفس لوگ، اس کے ذریعے سے اعتدال اختیار کرتے ہیں، اس کو اپنا فیصل بناتے ہیں اور نہایت حزم و احتیاط کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔(۶) آپ دیکھیں گے کہ اس کی آیات، اس کے قصص اور احکامات وغیرہ میں تکرار پایا جاتا ہے، مگر ان کے مضامین میں اتفاق ہے اور ان میں کوئی تناقض اور کوئی اختلاف نہیں۔ صاحب بصیرت جتنا زیادہ اس کے اندر تدبر اور غوروفکر کرتا ہے اس کی آیات و احکام میں توافق و تطابق کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے، اس کو یقین ہو جاتا ہے، جس میں شک وریب کا کوئی شائبہ نہیں، کہ یہ قرآن حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے ہے۔ [3] وہ حکمت سے لبریز ہے، وہ تمام اخلاق کریمہ کی طرف دعوت دیتا ہے اور برے اخلاق سے روکتا ہے، مگر اکثر لوگ اس کی راہنمائی سے محروم ہیں اس پر ایمان لانے اور عمل کرنے سے روگردانی کرتے ہیں۔ البتہ وہ لوگ روگردانی نہیں کرتے جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق سے سرفراز کر کے روگردانی سے بچایا وہ اپنے رب کی عبادت میں احسان سے کام لیتے ہیں اور اس کے بندوں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔پس یہ قرآن انھی کے لیے ﴿هُدًى ﴾ ’’ہدایت ہے‘‘ راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور جہنم کے راستوں سے انھیں بچاتا ہے ﴿وَّرَحۡمَةً﴾اور محسنین کے لیے رحمت ہے۔ اس کے ذریعے سے انھیں دنیا و آخرت کی سعادت، خیر کثیر، ثواب جزیل اور فرحت حاصل ہوتی ہے اور گمراہی و بدبختی ان سے دور ہو جاتی ہے۔ [4] پھر اللہ تعالیٰ نے ان ’’محسنین‘‘ کا وصف بیان فرمایا کہ وہ علم کامل یعنی یقین محکم رکھتے ہیں جو عمل اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف کا موجب ہے اس لیے وہ اس کی نافرمانیوں کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عمل سے موصوف کیا ہے اور عمل کے ضمن میں دو بہترین اعمال کا ذکر فرمایا: وہ نماز کی پابندی کرتے ہیں جو اخلاص، اللہ تعالیٰ سے مناجات، قلب و زبان اور جوارح کے تعبُّد عام کو شامل ہے اور باقی اعمال میں معاون ہے۔ نیز زکاۃ کا بھی تذکرہ فرمایا کہ اسے ادا کرنے والا تمام صفات رذیلہ سے پاک ہوجاتا ہے۔ وہ زکاۃ کے ذریعے سے اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچاتا ہے، اس کی ضرورت پوری کرتا ہے، زکاۃ سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کی محبت کو مال کی محبت پر ترجیح دیتا ہے۔ وہ اپنے محبوب مال کو اس کی خاطر خرچ کرتا ہے جو اسے اپنے مال سے کہیں زیادہ محبوب ہے... اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا۔ [5]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہ نیکوکار لوگ جو علم کامل اور عمل کے جامع ہیں ﴿عَلٰى هُدًى ﴾ ’’ہدایت پر ہیں‘‘ جو بہت عظیم ہے جیسا کہ ’’ہدایت‘‘ کو نکرہ استعمال کرنے سے مستفاد ہوتا ہے۔ ﴿مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’اپنے رب کی طرف سے۔‘‘ جو اپنی نعمتوں کے ذریعے سے ان پر اپنی ربوبیت کا فیضان کرتا اور ان سے تکلیف دہ امور کو دور کرتا رہتا ہے۔ یہ ہدایت، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا ہے، اس خاص ربوبیت سے ہے جو اس نے اپنے اولیاء پر کی ہے اور یہ ربوبیت کی بہترین قسم ہے۔ ﴿وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی لوگ فلاح سے بہرہ ور ہیں‘‘ جنھوں نے اپنے رب کی رضا، اس کے دنیاوی اور اخروی ثواب کو پا لیا اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچ گئے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فلاح کے راستے پر گامزن ہوئے، جس کے سوا فلاح کا کوئی اور راستہ نہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سعادت مند لوگوں کا ذکر کیا جنھوں نے قرآن مجید کے ذریعے سے ہدایت حاصل کی، تو اس کے بعد، ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جو قرآن سے روگردانی کرتے ہیں اور اس کی طرف توجہ نہیں کرتے، ان کو اس کی سخت سزا دی جائے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے قرآن کے بدلے ہر باطل قول اختیار کر کے، بہترین قول اور احسن الحدیث کو چھوڑ دیا اور اس کے بدلے قبیح ترین اور انتہائی گھٹیا اقوال کو اختیار کیا، اسی لیے فرمایا:
31:3

هُدٗى وَرَحۡمَةٗ لِّلۡمُحۡسِنِينَ

الٓمٓ(1) یہ آیتیں ہیں حکمت والی کتاب کی(2) ہدایت اور رحمت ہے نیکی کرنے والوں کے لیے(3) وہ لوگ جوقائم کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکاۃ اور ساتھ آخرت کے وہ یقین رکھتے ہیں(4) یہی لوگ ہیں ہدایت پر اپنے رب (کی طرف) سے، اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] اللہ تعالیٰ ان ﴿اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’حکمت والی کتاب کی آیات‘‘ کی تعظیم کے لیے ان کی طرف، اشارہ کرتا ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی محکم آیات ہیں جو ایک حکمت والی اور باخبر ہستی سے صادر ہوئی ہیں۔ان آیات کے محکم ہونے سے مندرجہ ذیل امور مراد ہیں:(۱)یہ آیات نہایت واضح، جلیل ترین اور فصیح ترین الفاظ میں آئی ہیں جو نہایت جلیل القدر اور بہترین معانی پر دلالت کرتے ہیں۔(۲)یہ آیات تغیر و تبدل، کمی بیشی اور تحریف سے محفوظ ہیں۔(۳)ان آیات میں گزشتہ زمانے اور آنے والے زمانے کے واقعات اور امور غیبیہ کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ وہ واقعات کے مطابق اور واقعات ان کے مطابق ہیں۔ کتب الٰہیہ میں سے کسی کتاب اور گزشتہ انبیاء میں سے کسی نبی نے ان اخبار کی مخالفت نہیں کی۔ اب تک کوئی علمی، حسی یا عقلی تحقیق ان امور کے متناقض نہیں، جن پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں۔(۴)ان آیات نے جس چیز کا بھی حکم دیا ہے وہ خالص یا راجح مصلحت پر مبنی ہوتی ہے اور جن امور سے روکا ہے وہ واضح یا راجح مفاسد پر مبنی ہوتے ہیں۔ بہت سے معاملات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی حکمت اور ان کے فوائد کا بھی ذکر کیا ہے اسی طرح کسی چیز سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ضرر اور مفاسد سے آگاہ کیا ہے۔(۵)قرآن کریم کی آیات میں ترغیب و ترہیب اور مواعظ بلیغہ اس انداز میں جمع ہیں کہ نیک نفس لوگ، اس کے ذریعے سے اعتدال اختیار کرتے ہیں، اس کو اپنا فیصل بناتے ہیں اور نہایت حزم و احتیاط کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔(۶) آپ دیکھیں گے کہ اس کی آیات، اس کے قصص اور احکامات وغیرہ میں تکرار پایا جاتا ہے، مگر ان کے مضامین میں اتفاق ہے اور ان میں کوئی تناقض اور کوئی اختلاف نہیں۔ صاحب بصیرت جتنا زیادہ اس کے اندر تدبر اور غوروفکر کرتا ہے اس کی آیات و احکام میں توافق و تطابق کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے، اس کو یقین ہو جاتا ہے، جس میں شک وریب کا کوئی شائبہ نہیں، کہ یہ قرآن حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے ہے۔ [3] وہ حکمت سے لبریز ہے، وہ تمام اخلاق کریمہ کی طرف دعوت دیتا ہے اور برے اخلاق سے روکتا ہے، مگر اکثر لوگ اس کی راہنمائی سے محروم ہیں اس پر ایمان لانے اور عمل کرنے سے روگردانی کرتے ہیں۔ البتہ وہ لوگ روگردانی نہیں کرتے جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق سے سرفراز کر کے روگردانی سے بچایا وہ اپنے رب کی عبادت میں احسان سے کام لیتے ہیں اور اس کے بندوں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔پس یہ قرآن انھی کے لیے ﴿هُدًى ﴾ ’’ہدایت ہے‘‘ راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور جہنم کے راستوں سے انھیں بچاتا ہے ﴿وَّرَحۡمَةً﴾اور محسنین کے لیے رحمت ہے۔ اس کے ذریعے سے انھیں دنیا و آخرت کی سعادت، خیر کثیر، ثواب جزیل اور فرحت حاصل ہوتی ہے اور گمراہی و بدبختی ان سے دور ہو جاتی ہے۔ [4] پھر اللہ تعالیٰ نے ان ’’محسنین‘‘ کا وصف بیان فرمایا کہ وہ علم کامل یعنی یقین محکم رکھتے ہیں جو عمل اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف کا موجب ہے اس لیے وہ اس کی نافرمانیوں کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عمل سے موصوف کیا ہے اور عمل کے ضمن میں دو بہترین اعمال کا ذکر فرمایا: وہ نماز کی پابندی کرتے ہیں جو اخلاص، اللہ تعالیٰ سے مناجات، قلب و زبان اور جوارح کے تعبُّد عام کو شامل ہے اور باقی اعمال میں معاون ہے۔ نیز زکاۃ کا بھی تذکرہ فرمایا کہ اسے ادا کرنے والا تمام صفات رذیلہ سے پاک ہوجاتا ہے۔ وہ زکاۃ کے ذریعے سے اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچاتا ہے، اس کی ضرورت پوری کرتا ہے، زکاۃ سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کی محبت کو مال کی محبت پر ترجیح دیتا ہے۔ وہ اپنے محبوب مال کو اس کی خاطر خرچ کرتا ہے جو اسے اپنے مال سے کہیں زیادہ محبوب ہے... اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا۔ [5]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہ نیکوکار لوگ جو علم کامل اور عمل کے جامع ہیں ﴿عَلٰى هُدًى ﴾ ’’ہدایت پر ہیں‘‘ جو بہت عظیم ہے جیسا کہ ’’ہدایت‘‘ کو نکرہ استعمال کرنے سے مستفاد ہوتا ہے۔ ﴿مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’اپنے رب کی طرف سے۔‘‘ جو اپنی نعمتوں کے ذریعے سے ان پر اپنی ربوبیت کا فیضان کرتا اور ان سے تکلیف دہ امور کو دور کرتا رہتا ہے۔ یہ ہدایت، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا ہے، اس خاص ربوبیت سے ہے جو اس نے اپنے اولیاء پر کی ہے اور یہ ربوبیت کی بہترین قسم ہے۔ ﴿وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی لوگ فلاح سے بہرہ ور ہیں‘‘ جنھوں نے اپنے رب کی رضا، اس کے دنیاوی اور اخروی ثواب کو پا لیا اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچ گئے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فلاح کے راستے پر گامزن ہوئے، جس کے سوا فلاح کا کوئی اور راستہ نہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سعادت مند لوگوں کا ذکر کیا جنھوں نے قرآن مجید کے ذریعے سے ہدایت حاصل کی، تو اس کے بعد، ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جو قرآن سے روگردانی کرتے ہیں اور اس کی طرف توجہ نہیں کرتے، ان کو اس کی سخت سزا دی جائے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے قرآن کے بدلے ہر باطل قول اختیار کر کے، بہترین قول اور احسن الحدیث کو چھوڑ دیا اور اس کے بدلے قبیح ترین اور انتہائی گھٹیا اقوال کو اختیار کیا، اسی لیے فرمایا:
31:4

ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ

الٓمٓ(1) یہ آیتیں ہیں حکمت والی کتاب کی(2) ہدایت اور رحمت ہے نیکی کرنے والوں کے لیے(3) وہ لوگ جوقائم کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکاۃ اور ساتھ آخرت کے وہ یقین رکھتے ہیں(4) یہی لوگ ہیں ہدایت پر اپنے رب (کی طرف) سے، اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] اللہ تعالیٰ ان ﴿اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’حکمت والی کتاب کی آیات‘‘ کی تعظیم کے لیے ان کی طرف، اشارہ کرتا ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی محکم آیات ہیں جو ایک حکمت والی اور باخبر ہستی سے صادر ہوئی ہیں۔ان آیات کے محکم ہونے سے مندرجہ ذیل امور مراد ہیں:(۱)یہ آیات نہایت واضح، جلیل ترین اور فصیح ترین الفاظ میں آئی ہیں جو نہایت جلیل القدر اور بہترین معانی پر دلالت کرتے ہیں۔(۲)یہ آیات تغیر و تبدل، کمی بیشی اور تحریف سے محفوظ ہیں۔(۳)ان آیات میں گزشتہ زمانے اور آنے والے زمانے کے واقعات اور امور غیبیہ کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ وہ واقعات کے مطابق اور واقعات ان کے مطابق ہیں۔ کتب الٰہیہ میں سے کسی کتاب اور گزشتہ انبیاء میں سے کسی نبی نے ان اخبار کی مخالفت نہیں کی۔ اب تک کوئی علمی، حسی یا عقلی تحقیق ان امور کے متناقض نہیں، جن پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں۔(۴)ان آیات نے جس چیز کا بھی حکم دیا ہے وہ خالص یا راجح مصلحت پر مبنی ہوتی ہے اور جن امور سے روکا ہے وہ واضح یا راجح مفاسد پر مبنی ہوتے ہیں۔ بہت سے معاملات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی حکمت اور ان کے فوائد کا بھی ذکر کیا ہے اسی طرح کسی چیز سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ضرر اور مفاسد سے آگاہ کیا ہے۔(۵)قرآن کریم کی آیات میں ترغیب و ترہیب اور مواعظ بلیغہ اس انداز میں جمع ہیں کہ نیک نفس لوگ، اس کے ذریعے سے اعتدال اختیار کرتے ہیں، اس کو اپنا فیصل بناتے ہیں اور نہایت حزم و احتیاط کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔(۶) آپ دیکھیں گے کہ اس کی آیات، اس کے قصص اور احکامات وغیرہ میں تکرار پایا جاتا ہے، مگر ان کے مضامین میں اتفاق ہے اور ان میں کوئی تناقض اور کوئی اختلاف نہیں۔ صاحب بصیرت جتنا زیادہ اس کے اندر تدبر اور غوروفکر کرتا ہے اس کی آیات و احکام میں توافق و تطابق کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے، اس کو یقین ہو جاتا ہے، جس میں شک وریب کا کوئی شائبہ نہیں، کہ یہ قرآن حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے ہے۔ [3] وہ حکمت سے لبریز ہے، وہ تمام اخلاق کریمہ کی طرف دعوت دیتا ہے اور برے اخلاق سے روکتا ہے، مگر اکثر لوگ اس کی راہنمائی سے محروم ہیں اس پر ایمان لانے اور عمل کرنے سے روگردانی کرتے ہیں۔ البتہ وہ لوگ روگردانی نہیں کرتے جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق سے سرفراز کر کے روگردانی سے بچایا وہ اپنے رب کی عبادت میں احسان سے کام لیتے ہیں اور اس کے بندوں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔پس یہ قرآن انھی کے لیے ﴿هُدًى ﴾ ’’ہدایت ہے‘‘ راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور جہنم کے راستوں سے انھیں بچاتا ہے ﴿وَّرَحۡمَةً﴾اور محسنین کے لیے رحمت ہے۔ اس کے ذریعے سے انھیں دنیا و آخرت کی سعادت، خیر کثیر، ثواب جزیل اور فرحت حاصل ہوتی ہے اور گمراہی و بدبختی ان سے دور ہو جاتی ہے۔ [4] پھر اللہ تعالیٰ نے ان ’’محسنین‘‘ کا وصف بیان فرمایا کہ وہ علم کامل یعنی یقین محکم رکھتے ہیں جو عمل اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف کا موجب ہے اس لیے وہ اس کی نافرمانیوں کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عمل سے موصوف کیا ہے اور عمل کے ضمن میں دو بہترین اعمال کا ذکر فرمایا: وہ نماز کی پابندی کرتے ہیں جو اخلاص، اللہ تعالیٰ سے مناجات، قلب و زبان اور جوارح کے تعبُّد عام کو شامل ہے اور باقی اعمال میں معاون ہے۔ نیز زکاۃ کا بھی تذکرہ فرمایا کہ اسے ادا کرنے والا تمام صفات رذیلہ سے پاک ہوجاتا ہے۔ وہ زکاۃ کے ذریعے سے اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچاتا ہے، اس کی ضرورت پوری کرتا ہے، زکاۃ سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کی محبت کو مال کی محبت پر ترجیح دیتا ہے۔ وہ اپنے محبوب مال کو اس کی خاطر خرچ کرتا ہے جو اسے اپنے مال سے کہیں زیادہ محبوب ہے... اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا۔ [5]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہ نیکوکار لوگ جو علم کامل اور عمل کے جامع ہیں ﴿عَلٰى هُدًى ﴾ ’’ہدایت پر ہیں‘‘ جو بہت عظیم ہے جیسا کہ ’’ہدایت‘‘ کو نکرہ استعمال کرنے سے مستفاد ہوتا ہے۔ ﴿مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’اپنے رب کی طرف سے۔‘‘ جو اپنی نعمتوں کے ذریعے سے ان پر اپنی ربوبیت کا فیضان کرتا اور ان سے تکلیف دہ امور کو دور کرتا رہتا ہے۔ یہ ہدایت، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا ہے، اس خاص ربوبیت سے ہے جو اس نے اپنے اولیاء پر کی ہے اور یہ ربوبیت کی بہترین قسم ہے۔ ﴿وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی لوگ فلاح سے بہرہ ور ہیں‘‘ جنھوں نے اپنے رب کی رضا، اس کے دنیاوی اور اخروی ثواب کو پا لیا اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچ گئے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فلاح کے راستے پر گامزن ہوئے، جس کے سوا فلاح کا کوئی اور راستہ نہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سعادت مند لوگوں کا ذکر کیا جنھوں نے قرآن مجید کے ذریعے سے ہدایت حاصل کی، تو اس کے بعد، ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جو قرآن سے روگردانی کرتے ہیں اور اس کی طرف توجہ نہیں کرتے، ان کو اس کی سخت سزا دی جائے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے قرآن کے بدلے ہر باطل قول اختیار کر کے، بہترین قول اور احسن الحدیث کو چھوڑ دیا اور اس کے بدلے قبیح ترین اور انتہائی گھٹیا اقوال کو اختیار کیا، اسی لیے فرمایا:
31:5

أُوْلَـٰٓئِكَ عَلَىٰ هُدٗى مِّن رَّبِّهِمۡۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ

الٓمٓ(1) یہ آیتیں ہیں حکمت والی کتاب کی(2) ہدایت اور رحمت ہے نیکی کرنے والوں کے لیے(3) وہ لوگ جوقائم کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکاۃ اور ساتھ آخرت کے وہ یقین رکھتے ہیں(4) یہی لوگ ہیں ہدایت پر اپنے رب (کی طرف) سے، اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] اللہ تعالیٰ ان ﴿اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’حکمت والی کتاب کی آیات‘‘ کی تعظیم کے لیے ان کی طرف، اشارہ کرتا ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی محکم آیات ہیں جو ایک حکمت والی اور باخبر ہستی سے صادر ہوئی ہیں۔ان آیات کے محکم ہونے سے مندرجہ ذیل امور مراد ہیں:(۱)یہ آیات نہایت واضح، جلیل ترین اور فصیح ترین الفاظ میں آئی ہیں جو نہایت جلیل القدر اور بہترین معانی پر دلالت کرتے ہیں۔(۲)یہ آیات تغیر و تبدل، کمی بیشی اور تحریف سے محفوظ ہیں۔(۳)ان آیات میں گزشتہ زمانے اور آنے والے زمانے کے واقعات اور امور غیبیہ کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ وہ واقعات کے مطابق اور واقعات ان کے مطابق ہیں۔ کتب الٰہیہ میں سے کسی کتاب اور گزشتہ انبیاء میں سے کسی نبی نے ان اخبار کی مخالفت نہیں کی۔ اب تک کوئی علمی، حسی یا عقلی تحقیق ان امور کے متناقض نہیں، جن پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں۔(۴)ان آیات نے جس چیز کا بھی حکم دیا ہے وہ خالص یا راجح مصلحت پر مبنی ہوتی ہے اور جن امور سے روکا ہے وہ واضح یا راجح مفاسد پر مبنی ہوتے ہیں۔ بہت سے معاملات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی حکمت اور ان کے فوائد کا بھی ذکر کیا ہے اسی طرح کسی چیز سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ضرر اور مفاسد سے آگاہ کیا ہے۔(۵)قرآن کریم کی آیات میں ترغیب و ترہیب اور مواعظ بلیغہ اس انداز میں جمع ہیں کہ نیک نفس لوگ، اس کے ذریعے سے اعتدال اختیار کرتے ہیں، اس کو اپنا فیصل بناتے ہیں اور نہایت حزم و احتیاط کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔(۶) آپ دیکھیں گے کہ اس کی آیات، اس کے قصص اور احکامات وغیرہ میں تکرار پایا جاتا ہے، مگر ان کے مضامین میں اتفاق ہے اور ان میں کوئی تناقض اور کوئی اختلاف نہیں۔ صاحب بصیرت جتنا زیادہ اس کے اندر تدبر اور غوروفکر کرتا ہے اس کی آیات و احکام میں توافق و تطابق کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے، اس کو یقین ہو جاتا ہے، جس میں شک وریب کا کوئی شائبہ نہیں، کہ یہ قرآن حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے ہے۔ [3] وہ حکمت سے لبریز ہے، وہ تمام اخلاق کریمہ کی طرف دعوت دیتا ہے اور برے اخلاق سے روکتا ہے، مگر اکثر لوگ اس کی راہنمائی سے محروم ہیں اس پر ایمان لانے اور عمل کرنے سے روگردانی کرتے ہیں۔ البتہ وہ لوگ روگردانی نہیں کرتے جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق سے سرفراز کر کے روگردانی سے بچایا وہ اپنے رب کی عبادت میں احسان سے کام لیتے ہیں اور اس کے بندوں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔پس یہ قرآن انھی کے لیے ﴿هُدًى ﴾ ’’ہدایت ہے‘‘ راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے اور جہنم کے راستوں سے انھیں بچاتا ہے ﴿وَّرَحۡمَةً﴾اور محسنین کے لیے رحمت ہے۔ اس کے ذریعے سے انھیں دنیا و آخرت کی سعادت، خیر کثیر، ثواب جزیل اور فرحت حاصل ہوتی ہے اور گمراہی و بدبختی ان سے دور ہو جاتی ہے۔ [4] پھر اللہ تعالیٰ نے ان ’’محسنین‘‘ کا وصف بیان فرمایا کہ وہ علم کامل یعنی یقین محکم رکھتے ہیں جو عمل اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف کا موجب ہے اس لیے وہ اس کی نافرمانیوں کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عمل سے موصوف کیا ہے اور عمل کے ضمن میں دو بہترین اعمال کا ذکر فرمایا: وہ نماز کی پابندی کرتے ہیں جو اخلاص، اللہ تعالیٰ سے مناجات، قلب و زبان اور جوارح کے تعبُّد عام کو شامل ہے اور باقی اعمال میں معاون ہے۔ نیز زکاۃ کا بھی تذکرہ فرمایا کہ اسے ادا کرنے والا تمام صفات رذیلہ سے پاک ہوجاتا ہے۔ وہ زکاۃ کے ذریعے سے اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچاتا ہے، اس کی ضرورت پوری کرتا ہے، زکاۃ سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کی محبت کو مال کی محبت پر ترجیح دیتا ہے۔ وہ اپنے محبوب مال کو اس کی خاطر خرچ کرتا ہے جو اسے اپنے مال سے کہیں زیادہ محبوب ہے... اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا۔ [5]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہ نیکوکار لوگ جو علم کامل اور عمل کے جامع ہیں ﴿عَلٰى هُدًى ﴾ ’’ہدایت پر ہیں‘‘ جو بہت عظیم ہے جیسا کہ ’’ہدایت‘‘ کو نکرہ استعمال کرنے سے مستفاد ہوتا ہے۔ ﴿مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’اپنے رب کی طرف سے۔‘‘ جو اپنی نعمتوں کے ذریعے سے ان پر اپنی ربوبیت کا فیضان کرتا اور ان سے تکلیف دہ امور کو دور کرتا رہتا ہے۔ یہ ہدایت، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا ہے، اس خاص ربوبیت سے ہے جو اس نے اپنے اولیاء پر کی ہے اور یہ ربوبیت کی بہترین قسم ہے۔ ﴿وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی لوگ فلاح سے بہرہ ور ہیں‘‘ جنھوں نے اپنے رب کی رضا، اس کے دنیاوی اور اخروی ثواب کو پا لیا اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچ گئے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فلاح کے راستے پر گامزن ہوئے، جس کے سوا فلاح کا کوئی اور راستہ نہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سعادت مند لوگوں کا ذکر کیا جنھوں نے قرآن مجید کے ذریعے سے ہدایت حاصل کی، تو اس کے بعد، ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جو قرآن سے روگردانی کرتے ہیں اور اس کی طرف توجہ نہیں کرتے، ان کو اس کی سخت سزا دی جائے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے قرآن کے بدلے ہر باطل قول اختیار کر کے، بہترین قول اور احسن الحدیث کو چھوڑ دیا اور اس کے بدلے قبیح ترین اور انتہائی گھٹیا اقوال کو اختیار کیا، اسی لیے فرمایا:
31:6

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشۡتَرِي لَهۡوَ ٱلۡحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ

اور بعض لوگوں میں سے وہ ہیں جو خریدتے ہیں غافل کرنے والی باتیں تاکہ وہ گمراہ کریں اللہ کی راہ سے بغیر علم کے، اور(تاکہ) بنائیں اس (راہ ہدایت) کو مذاق، یہی لوگ ہیں، ان کے لیے ہے عذاب ذلیل کرنے والا(6) اور جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں، وہ پھر جاتا ہے تکبر کرتے ہوئے گویا کہ اس نے وہ سنی ہی نہیں، گویا کہ اس کےدونوں کانوں میں ڈاٹ (کارک) ہے، پس خوشخبری دے دیجیے اسے عذاب درد ناک کی(7) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، ان کے لیے ہیں باغ ہائے نعمت(8) وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں (یہ) وعدہ ہے اللہ کا سچا اور وہ غالب ہے، حکمت والا(9) [6]﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ ﴾ ’’اور لوگوں میں سے جو‘‘ اللہ تعالیٰ کی تائید سے محروم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے ﴿يَّشۡتَرِيۡ ﴾ ’’خریدتا ہے‘‘ یعنی جو اختیار کرتا ہے اور لوگوں کو اس میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے ﴿لَهۡوَ الۡحَدِيۡثِ ﴾ ’’لغو باتیں‘‘ یعنی دلوں کو غافل کرنے اور ان کو جلیل القدر مقاصد سے روکنے والے قصے کہانیاں۔ اس آیت کریمہ میں ہر محرم کلام، ہر قسم کی لغویات، ہر قسم کے باطل ہذیانی اقوال جو کفر و فسوق اور عصیان کی ترغیب دیتے ہیں، ان لوگوں کے نظریات جو حق کو ٹھکراتے ہیں اور باطل دلائل کے ساتھ حق کو نیچا دکھانے کے لیے جھگڑتے ہیں، غیبت، چغلی، جھوٹ، سب و شتم، شیطانی گانا بجانا، غفلت میں مبتلا کرنے والے قصے کہانیاں، جن کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہیں، داخل ہیں۔ لوگوں کی یہ صنف ہدایت کی باتوں کو چھوڑ کر کھیل تماشوں پر مشتمل قصے کہانیاں خریدتی ہے۔ ﴿لِيُضِلَّ ﴾ تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’بغیر علم کے اللہ کی راہ سے‘‘ یعنی اپنے فعل میں خود گمراہی کا راستہ اختیار کر کے دوسروں کو گمراہ کرتا ہے۔ اس کا گمراہ کرنے کا عمل خود اس کی اپنی گمراہی سے جنم لیتا ہے، اس کا اس لہو الحدیث سے گمراہ کرنے سے مراد اس کا فائدہ مند بات، عمل نافع، حق مبین اور صراط مستقیم سے روکنا ہے اور یہ سب کچھ اس وقت تک اس کے لیے تکمیل نہیں پاتا جب تک کہ وہ ہدایت اور حق میں (جسے اللہ تعالیٰ کی آیات لے کر آئی ہیں) جرح و قدح نہیں کرتا اور اللہ کی آیات کا مذاق نہیں اڑاتا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور ان کو لانے والے کا تمسخر اڑاتا ہے۔جب ایسے شخص میں باطل کی مدح، اس کی ترغیب، حق میں جرح و قدح، حق اور اہل حق کے ساتھ استہزا وتمسخراکٹھے ہو جاتے ہیں تو وہ بے علم آدمی کو گمراہ کرتا ہے اور اسے ایسی بات بیان کرکے دھوکا دیتا ہے، جس میں گمراہ شخص امتیاز کر سکتا ہے نہ اس کی حقیقت معلوم کر سکتا ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے‘‘ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ گمراہ ہوئے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ استہزا کیا اور واضح حق کی تکذیب کی۔ [7] اس لیے فرمایا: ﴿وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں‘‘ تاکہ وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی اطاعت کرے ﴿وَلّٰى مُسۡتَكۡبِرًا ﴾ تو وہ اس طرح پیٹھ پھیر جاتا ہے جیسے ان آیات سے تکبر کرنے اور ان کو ٹھکرانے والا پیٹھ پھیرتا ہے۔ یہ آیات اس کے دل میں داخل ہوتی ہیں نہ اس پر کچھ اثر کرتی ہیں بلکہ وہ ان کو پیٹھ کر کے چل دیتا ہے۔ ﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَسۡمَعۡهَا ﴾ ’’جیسے اس نے ان کو سنا ہی نہ ہو‘‘ بلکہ ﴿كَاَنَّ فِيۡۤ اُذُنَيۡهِ وَقۡرًا ﴾ ’’گویا اس کے کانوں میں گرانی ہو‘‘ اور آواز اس کے کانوں تک پہنچ ہی نہ سکتی ہو، لہٰذا اس کے لیے ہدایت کی کوئی راہ نہیں۔ ﴿فَبَشِّرۡهُ ﴾ ’’پس اس کو بشارت دے دیجیے۔‘‘ یعنی اسے ایسی بشارت دیں جو اس کے قلب کو حزن و غم سے لبریز کر دے اور اس کے چہرے پر بدحالی، اندھیرا اور گردوغبار چھا جائیں۔ ﴿بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’دردناک عذاب کی۔‘‘ جو قلب و بدن کے لیے بہت درد ناک ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کو جانا جا سکتا ہے۔یہ تو تھی اہل شر کی بشارت اور کتنی بری تھی یہ بشارت۔ [8، 9] رہی اہل خیر کی بشارت تو اس کے بارے میں فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے عبادت باطن کو ایمان کے ساتھ اور عبادت ظاہر کو اسلام اور عمل صالح کے ساتھ جمع کیا ﴿لَهُمۡ جَنّٰتُ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے لیے نعمت کے باغ ہیں۔‘‘ انھوں نے جو نیک اعمال پیش کیے ان پر خوش خبری اور جو نیک اعمال پیچھے چھوڑے ان پر مہمان نوازی کے طور پر۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ ان نعمتوں بھری جنتوں میں، جو جسد و روح کے لیے نعمت ہیں، ہمیشہ رہیں گے۔ ﴿وَعۡدَ اللّٰهِ حَقًّا ﴾ ’’اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ جس کی خلاف ورزی اور جس میں تغیر و تبدل ممکن نہیں ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ کامل غلبہ اور کامل حکمت کا مالک ہے۔ یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے جسے توفیق سے نوازنا چاہا نواز دیا، جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہونا چاہا الگ ہو گیا اور یہ سب کچھ ان کے بارے میں اس کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہے۔
31:7

وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِ ءَايَٰتُنَا وَلَّىٰ مُسۡتَكۡبِرٗا كَأَن لَّمۡ يَسۡمَعۡهَا كَأَنَّ فِيٓ أُذُنَيۡهِ وَقۡرٗاۖ فَبَشِّرۡهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ

اور بعض لوگوں میں سے وہ ہیں جو خریدتے ہیں غافل کرنے والی باتیں تاکہ وہ گمراہ کریں اللہ کی راہ سے بغیر علم کے، اور(تاکہ) بنائیں اس (راہ ہدایت) کو مذاق، یہی لوگ ہیں، ان کے لیے ہے عذاب ذلیل کرنے والا(6) اور جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں، وہ پھر جاتا ہے تکبر کرتے ہوئے گویا کہ اس نے وہ سنی ہی نہیں، گویا کہ اس کےدونوں کانوں میں ڈاٹ (کارک) ہے، پس خوشخبری دے دیجیے اسے عذاب درد ناک کی(7) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، ان کے لیے ہیں باغ ہائے نعمت(8) وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں (یہ) وعدہ ہے اللہ کا سچا اور وہ غالب ہے، حکمت والا(9) [6]﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ ﴾ ’’اور لوگوں میں سے جو‘‘ اللہ تعالیٰ کی تائید سے محروم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے ﴿يَّشۡتَرِيۡ ﴾ ’’خریدتا ہے‘‘ یعنی جو اختیار کرتا ہے اور لوگوں کو اس میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے ﴿لَهۡوَ الۡحَدِيۡثِ ﴾ ’’لغو باتیں‘‘ یعنی دلوں کو غافل کرنے اور ان کو جلیل القدر مقاصد سے روکنے والے قصے کہانیاں۔ اس آیت کریمہ میں ہر محرم کلام، ہر قسم کی لغویات، ہر قسم کے باطل ہذیانی اقوال جو کفر و فسوق اور عصیان کی ترغیب دیتے ہیں، ان لوگوں کے نظریات جو حق کو ٹھکراتے ہیں اور باطل دلائل کے ساتھ حق کو نیچا دکھانے کے لیے جھگڑتے ہیں، غیبت، چغلی، جھوٹ، سب و شتم، شیطانی گانا بجانا، غفلت میں مبتلا کرنے والے قصے کہانیاں، جن کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہیں، داخل ہیں۔ لوگوں کی یہ صنف ہدایت کی باتوں کو چھوڑ کر کھیل تماشوں پر مشتمل قصے کہانیاں خریدتی ہے۔ ﴿لِيُضِلَّ ﴾ تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’بغیر علم کے اللہ کی راہ سے‘‘ یعنی اپنے فعل میں خود گمراہی کا راستہ اختیار کر کے دوسروں کو گمراہ کرتا ہے۔ اس کا گمراہ کرنے کا عمل خود اس کی اپنی گمراہی سے جنم لیتا ہے، اس کا اس لہو الحدیث سے گمراہ کرنے سے مراد اس کا فائدہ مند بات، عمل نافع، حق مبین اور صراط مستقیم سے روکنا ہے اور یہ سب کچھ اس وقت تک اس کے لیے تکمیل نہیں پاتا جب تک کہ وہ ہدایت اور حق میں (جسے اللہ تعالیٰ کی آیات لے کر آئی ہیں) جرح و قدح نہیں کرتا اور اللہ کی آیات کا مذاق نہیں اڑاتا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور ان کو لانے والے کا تمسخر اڑاتا ہے۔جب ایسے شخص میں باطل کی مدح، اس کی ترغیب، حق میں جرح و قدح، حق اور اہل حق کے ساتھ استہزا وتمسخراکٹھے ہو جاتے ہیں تو وہ بے علم آدمی کو گمراہ کرتا ہے اور اسے ایسی بات بیان کرکے دھوکا دیتا ہے، جس میں گمراہ شخص امتیاز کر سکتا ہے نہ اس کی حقیقت معلوم کر سکتا ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے‘‘ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ گمراہ ہوئے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ استہزا کیا اور واضح حق کی تکذیب کی۔ [7] اس لیے فرمایا: ﴿وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں‘‘ تاکہ وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی اطاعت کرے ﴿وَلّٰى مُسۡتَكۡبِرًا ﴾ تو وہ اس طرح پیٹھ پھیر جاتا ہے جیسے ان آیات سے تکبر کرنے اور ان کو ٹھکرانے والا پیٹھ پھیرتا ہے۔ یہ آیات اس کے دل میں داخل ہوتی ہیں نہ اس پر کچھ اثر کرتی ہیں بلکہ وہ ان کو پیٹھ کر کے چل دیتا ہے۔ ﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَسۡمَعۡهَا ﴾ ’’جیسے اس نے ان کو سنا ہی نہ ہو‘‘ بلکہ ﴿كَاَنَّ فِيۡۤ اُذُنَيۡهِ وَقۡرًا ﴾ ’’گویا اس کے کانوں میں گرانی ہو‘‘ اور آواز اس کے کانوں تک پہنچ ہی نہ سکتی ہو، لہٰذا اس کے لیے ہدایت کی کوئی راہ نہیں۔ ﴿فَبَشِّرۡهُ ﴾ ’’پس اس کو بشارت دے دیجیے۔‘‘ یعنی اسے ایسی بشارت دیں جو اس کے قلب کو حزن و غم سے لبریز کر دے اور اس کے چہرے پر بدحالی، اندھیرا اور گردوغبار چھا جائیں۔ ﴿بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’دردناک عذاب کی۔‘‘ جو قلب و بدن کے لیے بہت درد ناک ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کو جانا جا سکتا ہے۔یہ تو تھی اہل شر کی بشارت اور کتنی بری تھی یہ بشارت۔ [8، 9] رہی اہل خیر کی بشارت تو اس کے بارے میں فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے عبادت باطن کو ایمان کے ساتھ اور عبادت ظاہر کو اسلام اور عمل صالح کے ساتھ جمع کیا ﴿لَهُمۡ جَنّٰتُ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے لیے نعمت کے باغ ہیں۔‘‘ انھوں نے جو نیک اعمال پیش کیے ان پر خوش خبری اور جو نیک اعمال پیچھے چھوڑے ان پر مہمان نوازی کے طور پر۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ ان نعمتوں بھری جنتوں میں، جو جسد و روح کے لیے نعمت ہیں، ہمیشہ رہیں گے۔ ﴿وَعۡدَ اللّٰهِ حَقًّا ﴾ ’’اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ جس کی خلاف ورزی اور جس میں تغیر و تبدل ممکن نہیں ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ کامل غلبہ اور کامل حکمت کا مالک ہے۔ یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے جسے توفیق سے نوازنا چاہا نواز دیا، جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہونا چاہا الگ ہو گیا اور یہ سب کچھ ان کے بارے میں اس کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہے۔
31:8

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ لَهُمۡ جَنَّـٰتُ ٱلنَّعِيمِ

اور بعض لوگوں میں سے وہ ہیں جو خریدتے ہیں غافل کرنے والی باتیں تاکہ وہ گمراہ کریں اللہ کی راہ سے بغیر علم کے، اور(تاکہ) بنائیں اس (راہ ہدایت) کو مذاق، یہی لوگ ہیں، ان کے لیے ہے عذاب ذلیل کرنے والا(6) اور جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں، وہ پھر جاتا ہے تکبر کرتے ہوئے گویا کہ اس نے وہ سنی ہی نہیں، گویا کہ اس کےدونوں کانوں میں ڈاٹ (کارک) ہے، پس خوشخبری دے دیجیے اسے عذاب درد ناک کی(7) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، ان کے لیے ہیں باغ ہائے نعمت(8) وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں (یہ) وعدہ ہے اللہ کا سچا اور وہ غالب ہے، حکمت والا(9) [6]﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ ﴾ ’’اور لوگوں میں سے جو‘‘ اللہ تعالیٰ کی تائید سے محروم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے ﴿يَّشۡتَرِيۡ ﴾ ’’خریدتا ہے‘‘ یعنی جو اختیار کرتا ہے اور لوگوں کو اس میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے ﴿لَهۡوَ الۡحَدِيۡثِ ﴾ ’’لغو باتیں‘‘ یعنی دلوں کو غافل کرنے اور ان کو جلیل القدر مقاصد سے روکنے والے قصے کہانیاں۔ اس آیت کریمہ میں ہر محرم کلام، ہر قسم کی لغویات، ہر قسم کے باطل ہذیانی اقوال جو کفر و فسوق اور عصیان کی ترغیب دیتے ہیں، ان لوگوں کے نظریات جو حق کو ٹھکراتے ہیں اور باطل دلائل کے ساتھ حق کو نیچا دکھانے کے لیے جھگڑتے ہیں، غیبت، چغلی، جھوٹ، سب و شتم، شیطانی گانا بجانا، غفلت میں مبتلا کرنے والے قصے کہانیاں، جن کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہیں، داخل ہیں۔ لوگوں کی یہ صنف ہدایت کی باتوں کو چھوڑ کر کھیل تماشوں پر مشتمل قصے کہانیاں خریدتی ہے۔ ﴿لِيُضِلَّ ﴾ تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’بغیر علم کے اللہ کی راہ سے‘‘ یعنی اپنے فعل میں خود گمراہی کا راستہ اختیار کر کے دوسروں کو گمراہ کرتا ہے۔ اس کا گمراہ کرنے کا عمل خود اس کی اپنی گمراہی سے جنم لیتا ہے، اس کا اس لہو الحدیث سے گمراہ کرنے سے مراد اس کا فائدہ مند بات، عمل نافع، حق مبین اور صراط مستقیم سے روکنا ہے اور یہ سب کچھ اس وقت تک اس کے لیے تکمیل نہیں پاتا جب تک کہ وہ ہدایت اور حق میں (جسے اللہ تعالیٰ کی آیات لے کر آئی ہیں) جرح و قدح نہیں کرتا اور اللہ کی آیات کا مذاق نہیں اڑاتا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور ان کو لانے والے کا تمسخر اڑاتا ہے۔جب ایسے شخص میں باطل کی مدح، اس کی ترغیب، حق میں جرح و قدح، حق اور اہل حق کے ساتھ استہزا وتمسخراکٹھے ہو جاتے ہیں تو وہ بے علم آدمی کو گمراہ کرتا ہے اور اسے ایسی بات بیان کرکے دھوکا دیتا ہے، جس میں گمراہ شخص امتیاز کر سکتا ہے نہ اس کی حقیقت معلوم کر سکتا ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے‘‘ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ گمراہ ہوئے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ استہزا کیا اور واضح حق کی تکذیب کی۔ [7] اس لیے فرمایا: ﴿وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں‘‘ تاکہ وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی اطاعت کرے ﴿وَلّٰى مُسۡتَكۡبِرًا ﴾ تو وہ اس طرح پیٹھ پھیر جاتا ہے جیسے ان آیات سے تکبر کرنے اور ان کو ٹھکرانے والا پیٹھ پھیرتا ہے۔ یہ آیات اس کے دل میں داخل ہوتی ہیں نہ اس پر کچھ اثر کرتی ہیں بلکہ وہ ان کو پیٹھ کر کے چل دیتا ہے۔ ﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَسۡمَعۡهَا ﴾ ’’جیسے اس نے ان کو سنا ہی نہ ہو‘‘ بلکہ ﴿كَاَنَّ فِيۡۤ اُذُنَيۡهِ وَقۡرًا ﴾ ’’گویا اس کے کانوں میں گرانی ہو‘‘ اور آواز اس کے کانوں تک پہنچ ہی نہ سکتی ہو، لہٰذا اس کے لیے ہدایت کی کوئی راہ نہیں۔ ﴿فَبَشِّرۡهُ ﴾ ’’پس اس کو بشارت دے دیجیے۔‘‘ یعنی اسے ایسی بشارت دیں جو اس کے قلب کو حزن و غم سے لبریز کر دے اور اس کے چہرے پر بدحالی، اندھیرا اور گردوغبار چھا جائیں۔ ﴿بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’دردناک عذاب کی۔‘‘ جو قلب و بدن کے لیے بہت درد ناک ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کو جانا جا سکتا ہے۔یہ تو تھی اہل شر کی بشارت اور کتنی بری تھی یہ بشارت۔ [8، 9] رہی اہل خیر کی بشارت تو اس کے بارے میں فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے عبادت باطن کو ایمان کے ساتھ اور عبادت ظاہر کو اسلام اور عمل صالح کے ساتھ جمع کیا ﴿لَهُمۡ جَنّٰتُ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے لیے نعمت کے باغ ہیں۔‘‘ انھوں نے جو نیک اعمال پیش کیے ان پر خوش خبری اور جو نیک اعمال پیچھے چھوڑے ان پر مہمان نوازی کے طور پر۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ ان نعمتوں بھری جنتوں میں، جو جسد و روح کے لیے نعمت ہیں، ہمیشہ رہیں گے۔ ﴿وَعۡدَ اللّٰهِ حَقًّا ﴾ ’’اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ جس کی خلاف ورزی اور جس میں تغیر و تبدل ممکن نہیں ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ کامل غلبہ اور کامل حکمت کا مالک ہے۔ یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے جسے توفیق سے نوازنا چاہا نواز دیا، جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہونا چاہا الگ ہو گیا اور یہ سب کچھ ان کے بارے میں اس کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہے۔
31:9

خَٰلِدِينَ فِيهَاۖ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٗاۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ

اور بعض لوگوں میں سے وہ ہیں جو خریدتے ہیں غافل کرنے والی باتیں تاکہ وہ گمراہ کریں اللہ کی راہ سے بغیر علم کے، اور(تاکہ) بنائیں اس (راہ ہدایت) کو مذاق، یہی لوگ ہیں، ان کے لیے ہے عذاب ذلیل کرنے والا(6) اور جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں، وہ پھر جاتا ہے تکبر کرتے ہوئے گویا کہ اس نے وہ سنی ہی نہیں، گویا کہ اس کےدونوں کانوں میں ڈاٹ (کارک) ہے، پس خوشخبری دے دیجیے اسے عذاب درد ناک کی(7) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، ان کے لیے ہیں باغ ہائے نعمت(8) وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں (یہ) وعدہ ہے اللہ کا سچا اور وہ غالب ہے، حکمت والا(9) [6]﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ ﴾ ’’اور لوگوں میں سے جو‘‘ اللہ تعالیٰ کی تائید سے محروم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے ﴿يَّشۡتَرِيۡ ﴾ ’’خریدتا ہے‘‘ یعنی جو اختیار کرتا ہے اور لوگوں کو اس میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے ﴿لَهۡوَ الۡحَدِيۡثِ ﴾ ’’لغو باتیں‘‘ یعنی دلوں کو غافل کرنے اور ان کو جلیل القدر مقاصد سے روکنے والے قصے کہانیاں۔ اس آیت کریمہ میں ہر محرم کلام، ہر قسم کی لغویات، ہر قسم کے باطل ہذیانی اقوال جو کفر و فسوق اور عصیان کی ترغیب دیتے ہیں، ان لوگوں کے نظریات جو حق کو ٹھکراتے ہیں اور باطل دلائل کے ساتھ حق کو نیچا دکھانے کے لیے جھگڑتے ہیں، غیبت، چغلی، جھوٹ، سب و شتم، شیطانی گانا بجانا، غفلت میں مبتلا کرنے والے قصے کہانیاں، جن کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہیں، داخل ہیں۔ لوگوں کی یہ صنف ہدایت کی باتوں کو چھوڑ کر کھیل تماشوں پر مشتمل قصے کہانیاں خریدتی ہے۔ ﴿لِيُضِلَّ ﴾ تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’بغیر علم کے اللہ کی راہ سے‘‘ یعنی اپنے فعل میں خود گمراہی کا راستہ اختیار کر کے دوسروں کو گمراہ کرتا ہے۔ اس کا گمراہ کرنے کا عمل خود اس کی اپنی گمراہی سے جنم لیتا ہے، اس کا اس لہو الحدیث سے گمراہ کرنے سے مراد اس کا فائدہ مند بات، عمل نافع، حق مبین اور صراط مستقیم سے روکنا ہے اور یہ سب کچھ اس وقت تک اس کے لیے تکمیل نہیں پاتا جب تک کہ وہ ہدایت اور حق میں (جسے اللہ تعالیٰ کی آیات لے کر آئی ہیں) جرح و قدح نہیں کرتا اور اللہ کی آیات کا مذاق نہیں اڑاتا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور ان کو لانے والے کا تمسخر اڑاتا ہے۔جب ایسے شخص میں باطل کی مدح، اس کی ترغیب، حق میں جرح و قدح، حق اور اہل حق کے ساتھ استہزا وتمسخراکٹھے ہو جاتے ہیں تو وہ بے علم آدمی کو گمراہ کرتا ہے اور اسے ایسی بات بیان کرکے دھوکا دیتا ہے، جس میں گمراہ شخص امتیاز کر سکتا ہے نہ اس کی حقیقت معلوم کر سکتا ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے‘‘ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ گمراہ ہوئے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ استہزا کیا اور واضح حق کی تکذیب کی۔ [7] اس لیے فرمایا: ﴿وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں‘‘ تاکہ وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی اطاعت کرے ﴿وَلّٰى مُسۡتَكۡبِرًا ﴾ تو وہ اس طرح پیٹھ پھیر جاتا ہے جیسے ان آیات سے تکبر کرنے اور ان کو ٹھکرانے والا پیٹھ پھیرتا ہے۔ یہ آیات اس کے دل میں داخل ہوتی ہیں نہ اس پر کچھ اثر کرتی ہیں بلکہ وہ ان کو پیٹھ کر کے چل دیتا ہے۔ ﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَسۡمَعۡهَا ﴾ ’’جیسے اس نے ان کو سنا ہی نہ ہو‘‘ بلکہ ﴿كَاَنَّ فِيۡۤ اُذُنَيۡهِ وَقۡرًا ﴾ ’’گویا اس کے کانوں میں گرانی ہو‘‘ اور آواز اس کے کانوں تک پہنچ ہی نہ سکتی ہو، لہٰذا اس کے لیے ہدایت کی کوئی راہ نہیں۔ ﴿فَبَشِّرۡهُ ﴾ ’’پس اس کو بشارت دے دیجیے۔‘‘ یعنی اسے ایسی بشارت دیں جو اس کے قلب کو حزن و غم سے لبریز کر دے اور اس کے چہرے پر بدحالی، اندھیرا اور گردوغبار چھا جائیں۔ ﴿بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’دردناک عذاب کی۔‘‘ جو قلب و بدن کے لیے بہت درد ناک ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کو جانا جا سکتا ہے۔یہ تو تھی اہل شر کی بشارت اور کتنی بری تھی یہ بشارت۔ [8، 9] رہی اہل خیر کی بشارت تو اس کے بارے میں فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے عبادت باطن کو ایمان کے ساتھ اور عبادت ظاہر کو اسلام اور عمل صالح کے ساتھ جمع کیا ﴿لَهُمۡ جَنّٰتُ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے لیے نعمت کے باغ ہیں۔‘‘ انھوں نے جو نیک اعمال پیش کیے ان پر خوش خبری اور جو نیک اعمال پیچھے چھوڑے ان پر مہمان نوازی کے طور پر۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ ان نعمتوں بھری جنتوں میں، جو جسد و روح کے لیے نعمت ہیں، ہمیشہ رہیں گے۔ ﴿وَعۡدَ اللّٰهِ حَقًّا ﴾ ’’اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ جس کی خلاف ورزی اور جس میں تغیر و تبدل ممکن نہیں ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ کامل غلبہ اور کامل حکمت کا مالک ہے۔ یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے جسے توفیق سے نوازنا چاہا نواز دیا، جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہونا چاہا الگ ہو گیا اور یہ سب کچھ ان کے بارے میں اس کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہے۔
31:10

خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ بِغَيۡرِ عَمَدٖ تَرَوۡنَهَاۖ وَأَلۡقَىٰ فِي ٱلۡأَرۡضِ رَوَٰسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمۡ وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٖۚ وَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَنۢبَتۡنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوۡجٖ كَرِيمٍ

اس (اللہ) نے پیدا کیے آسمان بغیر (ایسے) ستونوں کے کہ دیکھتے ہو تم ان کو اور اس نے گاڑ دیے زمین میں مضبوط (پہاڑ) تاکہ (نہ) جھک پڑے وہ تمھیں لے کروہ اور اس نے پھیلائے اس میں ہر قسم کے چوپائے اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی، پھر اگائی ہم نے اس میں (غلوں کی) ہر قسم عمدہ (10) یہ مخلوق ہے اللہ کی، پس دکھاؤ تم مجھے کیا ہے وہ جو پیدا کیا ہے ان (معبودوں) نے جو اس کے سوا ہیں؟بلکہ ظالم ہی صریح گمراہی میں ہیں (11) [10] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے سامنے اپنی قدرت کے کچھ آثار، اپنی حکمت کی کچھ انوکھی چیزیں اور اپنی رحمت کے آثار میں سے کچھ نعمتوں کے بارے میں بیان فرماتا ہے:﴿خَلَقَ السَّمٰوٰتِ ﴾ اس نے ساتوں آسمانوں کو ان کی عظمت، ان کی وسعت، ان کی کثافت اور ان کی ہولناک بلندیوں کے ساتھ پیدا کیا ﴿بِغَيۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَهَا ﴾ان کو سہارا دینے کے لیے کوئی ستون نہیں۔ اگر کوئی ستون ہوتا تو ضرور نظر آتا۔ آسمان صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت ہی سے ٹھہرے ہوئے ہیں۔﴿وَاَلۡقٰى فِي الۡاَرۡضِ رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور زمین پر پہاڑ رکھ دیے۔‘‘ یعنی بڑے بڑے پہاڑ، جن کو زمین کے کناروں اور گوشوں میں گاڑ دیا تاکہ زمین ﴿تَمِيۡدَ بِكُمۡ ﴾ ’’تمھیں لے کر ڈھلک نہ جائے۔‘‘ اگر یہ مضبوطی سے گاڑے ہوئے پہاڑ نہ ہوتے تو زمین ڈھلک جاتی اور اپنے بسنے والوں کے ساتھ استقرار نہ پکڑتی۔ ﴿وَبَثَّ فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ دَآبَّةٍ ﴾ اس وسیع زمین میں تمام اصناف کے حیوانات پھیلائے جو انسانوں کے مصالح و منافع کے لیے مسخر ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کے اندر حیوانات پھیلائے تو اسے معلوم تھا کہ ان حیوانات کے زندہ رہنے کے لیے رزق بہت ضروری ہے اس لیے اس نے آسمان سے بابرکت پانی نازل کیا۔ ﴿فَاَنۢۡبـَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور زمین میں ہر قسم کے نفیس جوڑے اگادیے۔‘‘یعنی خوش منظر، نفع مند نباتات جن میں زمین کے اندر پھیلے ہوئے حیوانات چرتے ہیں اور ان کے نیچے تمام حیوانات سکون حاصل کرتے ہیں۔ [11]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام مخلوق، جمادات و حیوانات اور تمام مخلوقات کے لیے رزق رسانی ﴿خَلۡقُ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی تخلیق ہے۔‘‘ جو وحدہ لاشریک ہے، جس کا سب اقرار کرتے ہیں حتیٰ کہ اے مشرکو! تم بھی اقرار کرتے ہو۔ ﴿فَاَرُوۡنِيۡ مَاذَا خَلَقَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ﴾ ’’پس مجھے دکھاؤ کہ اللہ کے سوا جو لوگ ہیں انھوں نے کیا پیدا کیا ہے؟‘‘ یعنی جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے، جن کو تم اپنی حاجتوں میں پکارتے ہو اور ان کی عبادت کرتے ہو۔ پس اس سے لازم آتا ہے کہ ان کی بھی کوئی تخلیق ہو جیسی اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے، ان کے یہ خود ساختہ معبود بھی رزق عطا کرتے ہوں جیسے اللہ تعالیٰ رزق رسانی کرتا ہے۔ اگر تمھارے خود ساختہ معبودوں نے ان میں سے کوئی کام کیا ہے تو مجھے بھی دکھاؤ تاکہ تمھارا ان کے بارے میں یہ دعویٰ ثابت ہو کہ وہ عبادت کے مستحق ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز نہیں دکھا سکتے جو ان باطل معبودوں کی تخلیق ہو کیونکہ مذکورہ تمام اشیاء کے بارے میں وہ اقرارکر چکے ہیں کہ وہ اللہ وحدہ کی تخلیق کردہ ہیں اور ان اشیاء کے علاوہ وہاں کوئی چیز موجود ہی نہیں۔ لہٰذا وہ کسی ایسی چیز کو ثابت کرنے سے عاجز ہیں جو عبادت کی مستحق ہو۔ ان کا ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرنا کسی علم اور بصیرت پر مبنی نہیں بلکہ جہالت اور گمراہی کی بنا پر ہے، اس لیے فرمایا:﴿بَلِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’بلکہ یہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں۔‘‘ یعنی جو بالکل صاف، ظاہر اور واضح ہے کیونکہ وہ ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جو کسی نفع کی مالک ہیں نہ نقصان کی، جن کے قبضۂ قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانے پر قادر ہیں... اور ان لوگوں نے اپنے خالق اور رازق کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیا جو تمام امور کا مالک ہے۔
31:11

هَٰذَا خَلۡقُ ٱللَّهِ فَأَرُونِي مَاذَا خَلَقَ ٱلَّذِينَ مِن دُونِهِۦۚ بَلِ ٱلظَّـٰلِمُونَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ

اس (اللہ) نے پیدا کیے آسمان بغیر (ایسے) ستونوں کے کہ دیکھتے ہو تم ان کو اور اس نے گاڑ دیے زمین میں مضبوط (پہاڑ) تاکہ (نہ) جھک پڑے وہ تمھیں لے کروہ اور اس نے پھیلائے اس میں ہر قسم کے چوپائے اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی، پھر اگائی ہم نے اس میں (غلوں کی) ہر قسم عمدہ (10) یہ مخلوق ہے اللہ کی، پس دکھاؤ تم مجھے کیا ہے وہ جو پیدا کیا ہے ان (معبودوں) نے جو اس کے سوا ہیں؟بلکہ ظالم ہی صریح گمراہی میں ہیں (11) [10] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے سامنے اپنی قدرت کے کچھ آثار، اپنی حکمت کی کچھ انوکھی چیزیں اور اپنی رحمت کے آثار میں سے کچھ نعمتوں کے بارے میں بیان فرماتا ہے:﴿خَلَقَ السَّمٰوٰتِ ﴾ اس نے ساتوں آسمانوں کو ان کی عظمت، ان کی وسعت، ان کی کثافت اور ان کی ہولناک بلندیوں کے ساتھ پیدا کیا ﴿بِغَيۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَهَا ﴾ان کو سہارا دینے کے لیے کوئی ستون نہیں۔ اگر کوئی ستون ہوتا تو ضرور نظر آتا۔ آسمان صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت ہی سے ٹھہرے ہوئے ہیں۔﴿وَاَلۡقٰى فِي الۡاَرۡضِ رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور زمین پر پہاڑ رکھ دیے۔‘‘ یعنی بڑے بڑے پہاڑ، جن کو زمین کے کناروں اور گوشوں میں گاڑ دیا تاکہ زمین ﴿تَمِيۡدَ بِكُمۡ ﴾ ’’تمھیں لے کر ڈھلک نہ جائے۔‘‘ اگر یہ مضبوطی سے گاڑے ہوئے پہاڑ نہ ہوتے تو زمین ڈھلک جاتی اور اپنے بسنے والوں کے ساتھ استقرار نہ پکڑتی۔ ﴿وَبَثَّ فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ دَآبَّةٍ ﴾ اس وسیع زمین میں تمام اصناف کے حیوانات پھیلائے جو انسانوں کے مصالح و منافع کے لیے مسخر ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کے اندر حیوانات پھیلائے تو اسے معلوم تھا کہ ان حیوانات کے زندہ رہنے کے لیے رزق بہت ضروری ہے اس لیے اس نے آسمان سے بابرکت پانی نازل کیا۔ ﴿فَاَنۢۡبـَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور زمین میں ہر قسم کے نفیس جوڑے اگادیے۔‘‘یعنی خوش منظر، نفع مند نباتات جن میں زمین کے اندر پھیلے ہوئے حیوانات چرتے ہیں اور ان کے نیچے تمام حیوانات سکون حاصل کرتے ہیں۔ [11]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام مخلوق، جمادات و حیوانات اور تمام مخلوقات کے لیے رزق رسانی ﴿خَلۡقُ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی تخلیق ہے۔‘‘ جو وحدہ لاشریک ہے، جس کا سب اقرار کرتے ہیں حتیٰ کہ اے مشرکو! تم بھی اقرار کرتے ہو۔ ﴿فَاَرُوۡنِيۡ مَاذَا خَلَقَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ﴾ ’’پس مجھے دکھاؤ کہ اللہ کے سوا جو لوگ ہیں انھوں نے کیا پیدا کیا ہے؟‘‘ یعنی جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے، جن کو تم اپنی حاجتوں میں پکارتے ہو اور ان کی عبادت کرتے ہو۔ پس اس سے لازم آتا ہے کہ ان کی بھی کوئی تخلیق ہو جیسی اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے، ان کے یہ خود ساختہ معبود بھی رزق عطا کرتے ہوں جیسے اللہ تعالیٰ رزق رسانی کرتا ہے۔ اگر تمھارے خود ساختہ معبودوں نے ان میں سے کوئی کام کیا ہے تو مجھے بھی دکھاؤ تاکہ تمھارا ان کے بارے میں یہ دعویٰ ثابت ہو کہ وہ عبادت کے مستحق ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز نہیں دکھا سکتے جو ان باطل معبودوں کی تخلیق ہو کیونکہ مذکورہ تمام اشیاء کے بارے میں وہ اقرارکر چکے ہیں کہ وہ اللہ وحدہ کی تخلیق کردہ ہیں اور ان اشیاء کے علاوہ وہاں کوئی چیز موجود ہی نہیں۔ لہٰذا وہ کسی ایسی چیز کو ثابت کرنے سے عاجز ہیں جو عبادت کی مستحق ہو۔ ان کا ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرنا کسی علم اور بصیرت پر مبنی نہیں بلکہ جہالت اور گمراہی کی بنا پر ہے، اس لیے فرمایا:﴿بَلِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’بلکہ یہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں۔‘‘ یعنی جو بالکل صاف، ظاہر اور واضح ہے کیونکہ وہ ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جو کسی نفع کی مالک ہیں نہ نقصان کی، جن کے قبضۂ قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانے پر قادر ہیں... اور ان لوگوں نے اپنے خالق اور رازق کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیا جو تمام امور کا مالک ہے۔
31:12

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا لُقۡمَٰنَ ٱلۡحِكۡمَةَ أَنِ ٱشۡكُرۡ لِلَّهِۚ وَمَن يَشۡكُرۡ فَإِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٞ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے لقمان کو حکمت یہ کہ شکر کر تو اللہ کااور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقیناً وہ شکر کرتا ہے اپنی ہی ذات کے لیے، اور جس نے ناشکری کی تو بلاشبہ اللہ بہت بے پروا، قابل تعریف ہے (12) اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو ،جبکہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا، اے میرے بیٹے! نہ شریک ٹھہرا تو ساتھ اللہ کے، بلاشبہ شرک البتہ ظلم ہے بہت بڑا (13) اور وصیت کی ہم نے انسان کو ساتھ اپنے والدین کے (نیک سلوک کرنے کی)، اٹھائے رکھا اسے اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری کے (باوجود) اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو سال میں (اور ) یہ کہ شکر کر تو میرا اور اپنے والدین کا اور میری ہی طرف ہے لوٹنا (14) اور اگر وہ دونوں مجبور کریں تجھے اس بات پر کہ تو شریک ٹھہرائے میرے ساتھ اس چیز کو کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، تو نہ اطاعت کرنا تو ان دونوں کی، اور اچھا سلوک کر تو ان دونوں سے دنیا میں معروف طریقے سے، اور اتباع کر تو اس شخص کے راستے کا جو رجوع کرتا ہے میری طرف، پھر میری ہی طرف واپسی ہے تمھاری پس خبر دوں گا میں تمھیں ا س کی جو تھے تم عمل کرتے (15) اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر ہو وہ (عمل) برابر ایک دانے رائی کے ، پھر ہو وہ کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین میں تو لے آئے گا اسے اللہ، بلاشبہ اللہ نہایت باریک بیں، خوب باخبر ہے (16) اے میرے (پیارے) بیٹے! قائم کر تو نماز اور حکم کر توساتھ نیکی کے، اور روک تو برے کاموں سے، اور صبر کر تو اوپر اس (تکلیف) کے جو پہنچے تجھے، بلاشبہ یہ ہے ہمت کے کاموں میں سے (17) اور نہ تو پھیر اپنا رخ لوگوں سے اور نہ تو چل زمین میں اکڑ کر ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا ہرمتکبر، شیخی خور ے کو (18) اورمیانہ روی اختیار کر تو اپنی چال میں اور پست رکھ تو اپنی آواز بلاشبہ بدترین آوازوں میں سے البتہ آواز ہے گدھے کی (19) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ، ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے، مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت، تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ عمل کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطاو بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان کے لیے اپنے فضل و کرم میں اضافہ کرے، نیز آگاہ فرمایا کہ شکر کی منفعت شکر کرنے والوں ہی کی طرف لوٹتی ہے اور جو کوئی شکر ادا نہیں کرتا تو اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے، جو کوئی اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں وہ بے نیاز اور قابل ستائش ہے، اللہ تعالیٰ کی بے نیازی اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کا اپنی صفات کمال اور اپنے خوبصورت کاموں میں قابل ستائش ہونا اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کے ان دونوں اوصاف میں سے ہر وصف، صفت کمال ہے اور دونوں اوصاف کا مجتمع ہونا گویا کمال کے اندر کمال کا اضافہ ہے۔اس بارے میں اصحاب تفسیر میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا جناب لقمان نبی تھے یا اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت سے نوازا تھا۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی تھی ان میں کچھ ایسی چیزوں کا ذکر فرمایا جو ان کی حکمت پر دلالت کرتی ہیں۔ انھوں نے حکمت کے بڑے بڑے قواعد اور اصولوں کا ذکر کیا: [13]﴿وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ﴾ ’’اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا‘‘ یا انھوں نے اپنے بیٹے کو ایک بات کہی جس کے ذریعے سے انھوں نے اسے امرونہی کی نصیحت کی جو ترغیب و ترہیب سے مقرون تھی۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو اخلاص کا حکم دیا، اسے شرک سے منع کیا اور ممانعت کا سبب بیان کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یقینا شرک ظلم عظیم ہے‘‘ اور اس کے ظلم عظیم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی برا نہیں جو مٹی سے بنی ہوئی مخلوق کو کائنات کے مالک کے مساوی قرار دیتا ہے، وہ اس ناچیز کو جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی اس ہستی کے برابر سمجھتا ہے جو تمام اختیارات کی مالک ہے۔ جو ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہستی کو رب کامل کے برابر مانتا ہے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہے، وہ ایسی ہستی کو جس کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی کسی کو نعمت عطا کر سکے ایسی ہستی کے مساوی قرار دیتا ہے کہ مخلوق کے دین و دنیا، آخرت اور ان کے قلب و بدن میں جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور اس ہستی کے سوا کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتا۔ کیا اس سے بھی بڑا کوئی ظلم ہے؟کیا اس سے بڑا کوئی ظلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی عبادت اور توحید کے لیے پیدا کیا وہ اپنے شرف کے حامل نفس کو خسیس ترین مرتبے تک گرا دیتا ہے اور اس سے ایسی چیز کی عبادت کراتا ہے جو کچھ بھی نہیں؟ پس وہ اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم کرتا ہے۔ [14] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کو قائم کرنے یعنی شرک کو ترک کرنے کا حکم دیا جس کا لازمہ قیام توحید ہے، تو پھر والدین کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’اور ہم نے انسان کو تاکید کی ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اس سے عہد لیا اور اس عہد کو وصیت بنا دیا کہ ہم عنقریب اس سے پوچھیں گے کہ آیا اس نے اس وصیت کو پورا کیا؟ اور کیا اس نے اس وصیت کی حفاظت کی ہے یا نہیں؟ہم نے اسے ﴿بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اس کے والدین کے بارے میں‘‘ وصیت کی اور اس سے کہا: ﴿اشۡكُرۡ لِيۡ ﴾ میری عبودیت کے قیام اور میرے حقوق کی ادائیگی کے ذریعے سے میرا شکر ادا کر اور میری نعمتوں کو میری نافرمانی میں استعمال نہ کر۔ ﴿وَلِوَالِدَيۡكَ ﴾ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک، یعنی نرم و لطیف قول، فعل جمیل، ان کے سامنے تواضع و انکسار، ان کے اکرام و اجلال، ان کی ذمہ داریوں کو اٹھانے، ان کے ساتھ قول و فعل اور ہر لحاظ سے برے سلوک سے اجتناب کرنے کے ذریعے سے ان کا شکر ادا کر۔ ہم نے اسے یہ وصیت کرنے کے بعد آگاہ کیا ﴿اِلَيَّ الۡمَصِيۡرُ ﴾ کہ اے انسان! عنقریب تجھے اس ہستی کی طرف لوٹنا ہے جس نے تجھے وصیت کر کے ان حقوق کی ادائیگی کا مکلف بنایا ہے۔ وہ ہستی تجھ سے پوچھے گی: ’’کیا تو نے اس وصیت کو پورا کیا کہ وہ تجھے اس پر ثواب عطا کرے یا تو نے اس وصیت کو ضائع کر دیا تاکہ تجھے بدترین سزا دے؟‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بعد اس سبب کا ذکر فرمایا جو ماں کے ساتھ حسن سلوک کا موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ ﴾ ’’اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف برداشت کرکے اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا۔‘‘ یعنی نہایت مشقت کے ساتھ اس کو پیٹ میں اٹھائے رکھا۔ وہ استقرار نطفہ ہی سے مشقتوں کا سامنا کرتی رہتی ہے، مثلاً: بعض چیزوں کے کھانے کو جی چاہنا، بیماری، کمزوری، حمل کا بوجھ، حالت میں تغیر اور پھر وضع حمل کے وقت سخت تکلیف کا سامنا کرنا ﴿وَّفِصٰلُهٗ فِيۡ عَامَيۡنِ ﴾ ’’اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا۔‘‘ یعنی وہ اپنی ماں کی پرورش، کفالت اور رضاعت کا محتاج ہوتا ہے۔ کیا اس ہستی کے ساتھ حسن سلوک نہ کیا جائے جو شدید محبت کے ساتھ اپنے بچے کی خاطر یہ سختیاں برداشت کرتی ہے اور اس کے بیٹے کو اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور وصیت نہ کی جائے؟ [15]﴿وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ ﴾ اگر تیرے والدین کوشش کریں ﴿عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ ’’اس چیز کی کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔‘‘ تو یہ نہ سمجھ کہ شرک کے بارے میں ان کی اطاعت کرنا بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق ہر ایک کے حقوق پر مقدم ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ’لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ، ’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني: 170/18، ح: 381، و شرح السنة للبغوي: 44/10)یہاں (ایک قابل غور نکتہ ہے ) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (وَإِنْ جَاھَدَاکَ عَلٰی أَنْ تُشْرِکَ بِي مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَعُقَّھُمَا) ’’اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اسے شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کی نافرمانی اور ان سے بدسلوکی کر‘‘ بلکہ فرمایا: ﴿فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ یعنی تو شرک میں ان کی اطاعت نہ کر۔ باقی رہا ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا تو اس پر قائم رہ، اس لیے فرمایا:﴿وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا ﴾ ’’اور دنیا (کے معاملات) میں ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ رہ۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آ اور اگر وہ حالت کفر و عصیان پرہیں تو پھر ان کی پیروی نہ کر۔ ﴿وَّاتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾ ’’اور اس شخص کی راہ کی اتباع کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، اپنے رب کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اوراس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ان کے راستے کی پیروی یہ ہے کہ انابت الی اللہ میں ان کے مسلک پر چلا جائے۔ انابت سے مراد یہ ہے کہ قلب کے داعیوں اور ارادوں کا اللہ تعالیٰ کی مرضی کی طرف مائل ہونا اور اس کے قریب ہونا، پھر ان کا ارادوں کی پیروی کرنا۔ ﴿ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر میری طرف تمھارا لوٹنا ہے۔‘‘ اطاعت گزار، نافرمان اور صاحب انابت سب میری طرف لوٹیں گے ﴿فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو تم جو کام کرتے ہو میں ان کے بارے میں تمھیں آگاہ کروں گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں۔ [16]﴿يٰبُنَيَّ اِنَّهَاۤ اِنۡ تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ ﴾ ’’اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو‘‘ جو سب سے چھوٹی اور حقیر ترین چیز ہے ﴿فَتَكُنۡ فِيۡ صَخۡرَةٍ ﴾ ’’اور وہ کسی پتھر کے اندر ہو۔‘‘ یعنی چٹان کے درمیان ﴿اَوۡ فِي السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یا آسمان یا زمین کے اندر ہو‘‘ یعنی زمین وآسمان کی کسی بھی جہت میں ہو ﴿يَاۡتِ بِهَا اللّٰهُ ﴾ اللہ تعالیٰ اپنے علم وسیع، خبر تام اور قدرت کامل کے ذریعے سے اسے لے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم اور اپنی خبر میں بہت باریک بین ہے حتیٰ کہ وہ باطنی امور اور اسرار نہاں، بیابانوں اور سمندروں میں چھپی ہوئی چیزوں کی بھی خبر رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے جہاں تک ممکن ہو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے اور اس کی اطاعت کرنے کی ترغیب اور قبیح امور سے، خواہ کم ہوں یا زیادہ، ترہیب مقصود ہے۔ [17]﴿يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اے بیٹے! نماز کی پابندی کر‘‘ آپ نے اسے نماز کی ترغیب دی اور نماز کو اس لیے مختص کیا کہ یہ سب سے بڑی بدنی عبادت ہے۔ ﴿وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡهَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کر۔‘‘ یہ حکم اوامر و نواہی کی معرفت کو مستلزم ہے تاکہ معروف کا حکم دیا جائے اور نواہی سے روکا جائے، نیز یہ ایسے امر کا حکم ہے جس کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل ممکن نہیں، مثلاً: نرمی اور صبر وغیرہ۔ اگلے جملے میں صراحت کے ساتھ فرمایا: ﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ﴾ ’’اور اس تکلیف پر صبر کر جو تجھے پہنچے۔‘‘ یہ آیات کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیکی پر عمل کر کے اور برائی کو ترک کر کے خود اپنی ذات کی تکمیل کی جائے ، پھر نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے روک کر دوسروں کی تکمیل کی جائے۔ چونکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ جب بندہ نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا تو لامحالہ اسے آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا نیز اس راستے میں نفس کو مشقت بھی اٹھانا پڑتی ہے اس لیے اس کو اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا، بے شک یہ بات‘‘ جس کی لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی ہے ﴿مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ﴾ ایسے امور میں سے ہے جن کا عزم کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے اور صرف اولوالعزم لوگوں کو اس کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ [18]﴿وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ﴾ اور تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے تکبر کے ساتھ، لوگوں سے منہ نہ پھیر ﴿وَلَا تَمۡشِ فِي الۡاَرۡضِ مَرَحًا ﴾ اور انعام کرنے والی ہستی کو فراموش کر کے، اس کی نعمتوں پر فخر کرتے ہوئے خود پسندی کے ساتھ اتراتا ہوا زمین پر مت چل ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ﴾ ’’یقینا اللہ کسی خود پسند سے محبت نہیں کرتا‘‘ جو اپنے آپ میں، اپنی ہیئت میں تکبر کرتا ہے۔ ﴿فَخُوۡرٍ ﴾ یعنی جو اپنی باتوں میں فخر کا اظہار کرتا ہے۔ [19]﴿وَاقۡصِدۡ فِيۡ مَشۡيِكَ ﴾ ’’اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر۔‘‘ تکبر اور اتراہٹ کی چال چل نہ بناوٹ کی، بلکہ تواضع اور انکسار کے ساتھ چل۔ ﴿وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے حضور لوگوں کے ساتھ ادب کے طور پر اپنی آواز کو دھیما رکھ۔ ﴿اِنَّ اَنۡؔكَرَ الۡاَصۡوَاتِ ﴾ یعنی بدترین اور قبیح ترین آواز ﴿لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ ﴾ ’’گدھوں کی آواز ہے۔‘‘ اگر بہت زیادہ بلند آواز میں کوئی مصلحت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کو گدھے کے ساتھ مختص نہ کرتا جس کی خساست اور کم عقلی مسلّم ہے۔ یہ وصیتیں، جو جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کی ہیں، حکمت کی بڑی بڑی باتوں کی جامع ہیں اور ان باتوں کو بھی مستلزم ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ ہر وصیت کے ساتھ ایک داعیہ مقرون ہے جو امر کی صورت میں اس پر عمل کی دعوت دیتا ہے اور اگر معاملہ نہی کا ہے تو اس پر عمل سے روکتا ہے اور یہ چیز ہماری اس تفسیر پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ’’حکمت‘‘ کے ضمن میں بیان کی ہے کہ یہ احکام، ان کی حکمتوں اور ان کی مناسبات کا نام ہے۔لقمان نے اپنے بیٹے کو دین کی بنیاد یعنی توحید کا حکم دیا اور شرک سے منع کیا اور ترک شرک کے موجبات کو بیان کیا۔ جناب لقمان نے ا پنے بیٹے کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے موجبات کو بھی واضح کیا ، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ساتھ ساتھ اپنے والدین کا بھی شکر گزار ہو۔ پھر واضح کیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حکم کی اطاعت کی حدود وہاں تک ہیں جہاں تک وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتے۔ بایں ہمہ ان کے ساتھ مخالفت اور عدم شفقت کا رویہ نہ رکھے، بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ جب وہ اسے شرک پر مجبور کریں تو وہ ان کی اطاعت نہ کرے مگر اس صورت میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کو ترک نہ کرے۔جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے مراقبے کا حکم دیا اور اسے خوف دلایا کہ اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی نیکی اور بدی اس کے حضور پیش ہو گی۔ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر سے روکا، اسے تواضع اور انکسار کا حکم دیا، اسے خوشی میں اترانے اور اکڑنے سے منع کیا، اسے اپنی حرکات اور آواز میں سکون اور دھیما پن اختیارکرنے کا حکم دیا اور اس کے متضاد رویے سے روکا، اسے ترغیب دی کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے نیز نماز قائم کرنے اور صبر کرنے کا حکم دیا، جن کی مدد سے ہر کام آسان ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ﴾(البقرۃ:2؍45) ’’اور صبر اور نماز سے مدد لیا کرو۔‘‘ جس شخص نے ان باتوں کی وصیت کی ہو وہ اس امر کا حق دار ہے کہ وہ حکمت و دانائی کے لیے مخصوص اور مشہور ہو، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ اس نے ان کے سامنے اس کی حکمت کا ذکر کیا جو ان کے لیے اچھا نمونہ بن سکے۔
31:13

وَإِذۡ قَالَ لُقۡمَٰنُ لِٱبۡنِهِۦ وَهُوَ يَعِظُهُۥ يَٰبُنَيَّ لَا تُشۡرِكۡ بِٱللَّهِۖ إِنَّ ٱلشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيمٞ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے لقمان کو حکمت یہ کہ شکر کر تو اللہ کااور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقیناً وہ شکر کرتا ہے اپنی ہی ذات کے لیے، اور جس نے ناشکری کی تو بلاشبہ اللہ بہت بے پروا، قابل تعریف ہے (12) اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو ،جبکہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا، اے میرے بیٹے! نہ شریک ٹھہرا تو ساتھ اللہ کے، بلاشبہ شرک البتہ ظلم ہے بہت بڑا (13) اور وصیت کی ہم نے انسان کو ساتھ اپنے والدین کے (نیک سلوک کرنے کی)، اٹھائے رکھا اسے اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری کے (باوجود) اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو سال میں (اور ) یہ کہ شکر کر تو میرا اور اپنے والدین کا اور میری ہی طرف ہے لوٹنا (14) اور اگر وہ دونوں مجبور کریں تجھے اس بات پر کہ تو شریک ٹھہرائے میرے ساتھ اس چیز کو کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، تو نہ اطاعت کرنا تو ان دونوں کی، اور اچھا سلوک کر تو ان دونوں سے دنیا میں معروف طریقے سے، اور اتباع کر تو اس شخص کے راستے کا جو رجوع کرتا ہے میری طرف، پھر میری ہی طرف واپسی ہے تمھاری پس خبر دوں گا میں تمھیں ا س کی جو تھے تم عمل کرتے (15) اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر ہو وہ (عمل) برابر ایک دانے رائی کے ، پھر ہو وہ کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین میں تو لے آئے گا اسے اللہ، بلاشبہ اللہ نہایت باریک بیں، خوب باخبر ہے (16) اے میرے (پیارے) بیٹے! قائم کر تو نماز اور حکم کر توساتھ نیکی کے، اور روک تو برے کاموں سے، اور صبر کر تو اوپر اس (تکلیف) کے جو پہنچے تجھے، بلاشبہ یہ ہے ہمت کے کاموں میں سے (17) اور نہ تو پھیر اپنا رخ لوگوں سے اور نہ تو چل زمین میں اکڑ کر ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا ہرمتکبر، شیخی خور ے کو (18) اورمیانہ روی اختیار کر تو اپنی چال میں اور پست رکھ تو اپنی آواز بلاشبہ بدترین آوازوں میں سے البتہ آواز ہے گدھے کی (19) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ، ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے، مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت، تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ عمل کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطاو بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان کے لیے اپنے فضل و کرم میں اضافہ کرے، نیز آگاہ فرمایا کہ شکر کی منفعت شکر کرنے والوں ہی کی طرف لوٹتی ہے اور جو کوئی شکر ادا نہیں کرتا تو اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے، جو کوئی اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں وہ بے نیاز اور قابل ستائش ہے، اللہ تعالیٰ کی بے نیازی اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کا اپنی صفات کمال اور اپنے خوبصورت کاموں میں قابل ستائش ہونا اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کے ان دونوں اوصاف میں سے ہر وصف، صفت کمال ہے اور دونوں اوصاف کا مجتمع ہونا گویا کمال کے اندر کمال کا اضافہ ہے۔اس بارے میں اصحاب تفسیر میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا جناب لقمان نبی تھے یا اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت سے نوازا تھا۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی تھی ان میں کچھ ایسی چیزوں کا ذکر فرمایا جو ان کی حکمت پر دلالت کرتی ہیں۔ انھوں نے حکمت کے بڑے بڑے قواعد اور اصولوں کا ذکر کیا: [13]﴿وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ﴾ ’’اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا‘‘ یا انھوں نے اپنے بیٹے کو ایک بات کہی جس کے ذریعے سے انھوں نے اسے امرونہی کی نصیحت کی جو ترغیب و ترہیب سے مقرون تھی۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو اخلاص کا حکم دیا، اسے شرک سے منع کیا اور ممانعت کا سبب بیان کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یقینا شرک ظلم عظیم ہے‘‘ اور اس کے ظلم عظیم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی برا نہیں جو مٹی سے بنی ہوئی مخلوق کو کائنات کے مالک کے مساوی قرار دیتا ہے، وہ اس ناچیز کو جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی اس ہستی کے برابر سمجھتا ہے جو تمام اختیارات کی مالک ہے۔ جو ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہستی کو رب کامل کے برابر مانتا ہے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہے، وہ ایسی ہستی کو جس کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی کسی کو نعمت عطا کر سکے ایسی ہستی کے مساوی قرار دیتا ہے کہ مخلوق کے دین و دنیا، آخرت اور ان کے قلب و بدن میں جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور اس ہستی کے سوا کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتا۔ کیا اس سے بھی بڑا کوئی ظلم ہے؟کیا اس سے بڑا کوئی ظلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی عبادت اور توحید کے لیے پیدا کیا وہ اپنے شرف کے حامل نفس کو خسیس ترین مرتبے تک گرا دیتا ہے اور اس سے ایسی چیز کی عبادت کراتا ہے جو کچھ بھی نہیں؟ پس وہ اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم کرتا ہے۔ [14] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کو قائم کرنے یعنی شرک کو ترک کرنے کا حکم دیا جس کا لازمہ قیام توحید ہے، تو پھر والدین کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’اور ہم نے انسان کو تاکید کی ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اس سے عہد لیا اور اس عہد کو وصیت بنا دیا کہ ہم عنقریب اس سے پوچھیں گے کہ آیا اس نے اس وصیت کو پورا کیا؟ اور کیا اس نے اس وصیت کی حفاظت کی ہے یا نہیں؟ہم نے اسے ﴿بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اس کے والدین کے بارے میں‘‘ وصیت کی اور اس سے کہا: ﴿اشۡكُرۡ لِيۡ ﴾ میری عبودیت کے قیام اور میرے حقوق کی ادائیگی کے ذریعے سے میرا شکر ادا کر اور میری نعمتوں کو میری نافرمانی میں استعمال نہ کر۔ ﴿وَلِوَالِدَيۡكَ ﴾ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک، یعنی نرم و لطیف قول، فعل جمیل، ان کے سامنے تواضع و انکسار، ان کے اکرام و اجلال، ان کی ذمہ داریوں کو اٹھانے، ان کے ساتھ قول و فعل اور ہر لحاظ سے برے سلوک سے اجتناب کرنے کے ذریعے سے ان کا شکر ادا کر۔ ہم نے اسے یہ وصیت کرنے کے بعد آگاہ کیا ﴿اِلَيَّ الۡمَصِيۡرُ ﴾ کہ اے انسان! عنقریب تجھے اس ہستی کی طرف لوٹنا ہے جس نے تجھے وصیت کر کے ان حقوق کی ادائیگی کا مکلف بنایا ہے۔ وہ ہستی تجھ سے پوچھے گی: ’’کیا تو نے اس وصیت کو پورا کیا کہ وہ تجھے اس پر ثواب عطا کرے یا تو نے اس وصیت کو ضائع کر دیا تاکہ تجھے بدترین سزا دے؟‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بعد اس سبب کا ذکر فرمایا جو ماں کے ساتھ حسن سلوک کا موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ ﴾ ’’اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف برداشت کرکے اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا۔‘‘ یعنی نہایت مشقت کے ساتھ اس کو پیٹ میں اٹھائے رکھا۔ وہ استقرار نطفہ ہی سے مشقتوں کا سامنا کرتی رہتی ہے، مثلاً: بعض چیزوں کے کھانے کو جی چاہنا، بیماری، کمزوری، حمل کا بوجھ، حالت میں تغیر اور پھر وضع حمل کے وقت سخت تکلیف کا سامنا کرنا ﴿وَّفِصٰلُهٗ فِيۡ عَامَيۡنِ ﴾ ’’اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا۔‘‘ یعنی وہ اپنی ماں کی پرورش، کفالت اور رضاعت کا محتاج ہوتا ہے۔ کیا اس ہستی کے ساتھ حسن سلوک نہ کیا جائے جو شدید محبت کے ساتھ اپنے بچے کی خاطر یہ سختیاں برداشت کرتی ہے اور اس کے بیٹے کو اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور وصیت نہ کی جائے؟ [15]﴿وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ ﴾ اگر تیرے والدین کوشش کریں ﴿عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ ’’اس چیز کی کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔‘‘ تو یہ نہ سمجھ کہ شرک کے بارے میں ان کی اطاعت کرنا بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق ہر ایک کے حقوق پر مقدم ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ’لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ، ’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني: 170/18، ح: 381، و شرح السنة للبغوي: 44/10)یہاں (ایک قابل غور نکتہ ہے ) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (وَإِنْ جَاھَدَاکَ عَلٰی أَنْ تُشْرِکَ بِي مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَعُقَّھُمَا) ’’اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اسے شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کی نافرمانی اور ان سے بدسلوکی کر‘‘ بلکہ فرمایا: ﴿فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ یعنی تو شرک میں ان کی اطاعت نہ کر۔ باقی رہا ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا تو اس پر قائم رہ، اس لیے فرمایا:﴿وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا ﴾ ’’اور دنیا (کے معاملات) میں ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ رہ۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آ اور اگر وہ حالت کفر و عصیان پرہیں تو پھر ان کی پیروی نہ کر۔ ﴿وَّاتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾ ’’اور اس شخص کی راہ کی اتباع کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، اپنے رب کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اوراس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ان کے راستے کی پیروی یہ ہے کہ انابت الی اللہ میں ان کے مسلک پر چلا جائے۔ انابت سے مراد یہ ہے کہ قلب کے داعیوں اور ارادوں کا اللہ تعالیٰ کی مرضی کی طرف مائل ہونا اور اس کے قریب ہونا، پھر ان کا ارادوں کی پیروی کرنا۔ ﴿ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر میری طرف تمھارا لوٹنا ہے۔‘‘ اطاعت گزار، نافرمان اور صاحب انابت سب میری طرف لوٹیں گے ﴿فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو تم جو کام کرتے ہو میں ان کے بارے میں تمھیں آگاہ کروں گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں۔ [16]﴿يٰبُنَيَّ اِنَّهَاۤ اِنۡ تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ ﴾ ’’اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو‘‘ جو سب سے چھوٹی اور حقیر ترین چیز ہے ﴿فَتَكُنۡ فِيۡ صَخۡرَةٍ ﴾ ’’اور وہ کسی پتھر کے اندر ہو۔‘‘ یعنی چٹان کے درمیان ﴿اَوۡ فِي السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یا آسمان یا زمین کے اندر ہو‘‘ یعنی زمین وآسمان کی کسی بھی جہت میں ہو ﴿يَاۡتِ بِهَا اللّٰهُ ﴾ اللہ تعالیٰ اپنے علم وسیع، خبر تام اور قدرت کامل کے ذریعے سے اسے لے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم اور اپنی خبر میں بہت باریک بین ہے حتیٰ کہ وہ باطنی امور اور اسرار نہاں، بیابانوں اور سمندروں میں چھپی ہوئی چیزوں کی بھی خبر رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے جہاں تک ممکن ہو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے اور اس کی اطاعت کرنے کی ترغیب اور قبیح امور سے، خواہ کم ہوں یا زیادہ، ترہیب مقصود ہے۔ [17]﴿يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اے بیٹے! نماز کی پابندی کر‘‘ آپ نے اسے نماز کی ترغیب دی اور نماز کو اس لیے مختص کیا کہ یہ سب سے بڑی بدنی عبادت ہے۔ ﴿وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡهَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کر۔‘‘ یہ حکم اوامر و نواہی کی معرفت کو مستلزم ہے تاکہ معروف کا حکم دیا جائے اور نواہی سے روکا جائے، نیز یہ ایسے امر کا حکم ہے جس کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل ممکن نہیں، مثلاً: نرمی اور صبر وغیرہ۔ اگلے جملے میں صراحت کے ساتھ فرمایا: ﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ﴾ ’’اور اس تکلیف پر صبر کر جو تجھے پہنچے۔‘‘ یہ آیات کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیکی پر عمل کر کے اور برائی کو ترک کر کے خود اپنی ذات کی تکمیل کی جائے ، پھر نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے روک کر دوسروں کی تکمیل کی جائے۔ چونکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ جب بندہ نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا تو لامحالہ اسے آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا نیز اس راستے میں نفس کو مشقت بھی اٹھانا پڑتی ہے اس لیے اس کو اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا، بے شک یہ بات‘‘ جس کی لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی ہے ﴿مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ﴾ ایسے امور میں سے ہے جن کا عزم کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے اور صرف اولوالعزم لوگوں کو اس کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ [18]﴿وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ﴾ اور تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے تکبر کے ساتھ، لوگوں سے منہ نہ پھیر ﴿وَلَا تَمۡشِ فِي الۡاَرۡضِ مَرَحًا ﴾ اور انعام کرنے والی ہستی کو فراموش کر کے، اس کی نعمتوں پر فخر کرتے ہوئے خود پسندی کے ساتھ اتراتا ہوا زمین پر مت چل ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ﴾ ’’یقینا اللہ کسی خود پسند سے محبت نہیں کرتا‘‘ جو اپنے آپ میں، اپنی ہیئت میں تکبر کرتا ہے۔ ﴿فَخُوۡرٍ ﴾ یعنی جو اپنی باتوں میں فخر کا اظہار کرتا ہے۔ [19]﴿وَاقۡصِدۡ فِيۡ مَشۡيِكَ ﴾ ’’اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر۔‘‘ تکبر اور اتراہٹ کی چال چل نہ بناوٹ کی، بلکہ تواضع اور انکسار کے ساتھ چل۔ ﴿وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے حضور لوگوں کے ساتھ ادب کے طور پر اپنی آواز کو دھیما رکھ۔ ﴿اِنَّ اَنۡؔكَرَ الۡاَصۡوَاتِ ﴾ یعنی بدترین اور قبیح ترین آواز ﴿لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ ﴾ ’’گدھوں کی آواز ہے۔‘‘ اگر بہت زیادہ بلند آواز میں کوئی مصلحت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کو گدھے کے ساتھ مختص نہ کرتا جس کی خساست اور کم عقلی مسلّم ہے۔ یہ وصیتیں، جو جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کی ہیں، حکمت کی بڑی بڑی باتوں کی جامع ہیں اور ان باتوں کو بھی مستلزم ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ ہر وصیت کے ساتھ ایک داعیہ مقرون ہے جو امر کی صورت میں اس پر عمل کی دعوت دیتا ہے اور اگر معاملہ نہی کا ہے تو اس پر عمل سے روکتا ہے اور یہ چیز ہماری اس تفسیر پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ’’حکمت‘‘ کے ضمن میں بیان کی ہے کہ یہ احکام، ان کی حکمتوں اور ان کی مناسبات کا نام ہے۔لقمان نے اپنے بیٹے کو دین کی بنیاد یعنی توحید کا حکم دیا اور شرک سے منع کیا اور ترک شرک کے موجبات کو بیان کیا۔ جناب لقمان نے ا پنے بیٹے کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے موجبات کو بھی واضح کیا ، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ساتھ ساتھ اپنے والدین کا بھی شکر گزار ہو۔ پھر واضح کیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حکم کی اطاعت کی حدود وہاں تک ہیں جہاں تک وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتے۔ بایں ہمہ ان کے ساتھ مخالفت اور عدم شفقت کا رویہ نہ رکھے، بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ جب وہ اسے شرک پر مجبور کریں تو وہ ان کی اطاعت نہ کرے مگر اس صورت میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کو ترک نہ کرے۔جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے مراقبے کا حکم دیا اور اسے خوف دلایا کہ اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی نیکی اور بدی اس کے حضور پیش ہو گی۔ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر سے روکا، اسے تواضع اور انکسار کا حکم دیا، اسے خوشی میں اترانے اور اکڑنے سے منع کیا، اسے اپنی حرکات اور آواز میں سکون اور دھیما پن اختیارکرنے کا حکم دیا اور اس کے متضاد رویے سے روکا، اسے ترغیب دی کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے نیز نماز قائم کرنے اور صبر کرنے کا حکم دیا، جن کی مدد سے ہر کام آسان ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ﴾(البقرۃ:2؍45) ’’اور صبر اور نماز سے مدد لیا کرو۔‘‘ جس شخص نے ان باتوں کی وصیت کی ہو وہ اس امر کا حق دار ہے کہ وہ حکمت و دانائی کے لیے مخصوص اور مشہور ہو، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ اس نے ان کے سامنے اس کی حکمت کا ذکر کیا جو ان کے لیے اچھا نمونہ بن سکے۔
31:14

وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيۡهِ حَمَلَتۡهُ أُمُّهُۥ وَهۡنًا عَلَىٰ وَهۡنٖ وَفِصَٰلُهُۥ فِي عَامَيۡنِ أَنِ ٱشۡكُرۡ لِي وَلِوَٰلِدَيۡكَ إِلَيَّ ٱلۡمَصِيرُ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے لقمان کو حکمت یہ کہ شکر کر تو اللہ کااور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقیناً وہ شکر کرتا ہے اپنی ہی ذات کے لیے، اور جس نے ناشکری کی تو بلاشبہ اللہ بہت بے پروا، قابل تعریف ہے (12) اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو ،جبکہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا، اے میرے بیٹے! نہ شریک ٹھہرا تو ساتھ اللہ کے، بلاشبہ شرک البتہ ظلم ہے بہت بڑا (13) اور وصیت کی ہم نے انسان کو ساتھ اپنے والدین کے (نیک سلوک کرنے کی)، اٹھائے رکھا اسے اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری کے (باوجود) اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو سال میں (اور ) یہ کہ شکر کر تو میرا اور اپنے والدین کا اور میری ہی طرف ہے لوٹنا (14) اور اگر وہ دونوں مجبور کریں تجھے اس بات پر کہ تو شریک ٹھہرائے میرے ساتھ اس چیز کو کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، تو نہ اطاعت کرنا تو ان دونوں کی، اور اچھا سلوک کر تو ان دونوں سے دنیا میں معروف طریقے سے، اور اتباع کر تو اس شخص کے راستے کا جو رجوع کرتا ہے میری طرف، پھر میری ہی طرف واپسی ہے تمھاری پس خبر دوں گا میں تمھیں ا س کی جو تھے تم عمل کرتے (15) اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر ہو وہ (عمل) برابر ایک دانے رائی کے ، پھر ہو وہ کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین میں تو لے آئے گا اسے اللہ، بلاشبہ اللہ نہایت باریک بیں، خوب باخبر ہے (16) اے میرے (پیارے) بیٹے! قائم کر تو نماز اور حکم کر توساتھ نیکی کے، اور روک تو برے کاموں سے، اور صبر کر تو اوپر اس (تکلیف) کے جو پہنچے تجھے، بلاشبہ یہ ہے ہمت کے کاموں میں سے (17) اور نہ تو پھیر اپنا رخ لوگوں سے اور نہ تو چل زمین میں اکڑ کر ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا ہرمتکبر، شیخی خور ے کو (18) اورمیانہ روی اختیار کر تو اپنی چال میں اور پست رکھ تو اپنی آواز بلاشبہ بدترین آوازوں میں سے البتہ آواز ہے گدھے کی (19) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ، ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے، مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت، تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ عمل کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطاو بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان کے لیے اپنے فضل و کرم میں اضافہ کرے، نیز آگاہ فرمایا کہ شکر کی منفعت شکر کرنے والوں ہی کی طرف لوٹتی ہے اور جو کوئی شکر ادا نہیں کرتا تو اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے، جو کوئی اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں وہ بے نیاز اور قابل ستائش ہے، اللہ تعالیٰ کی بے نیازی اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کا اپنی صفات کمال اور اپنے خوبصورت کاموں میں قابل ستائش ہونا اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کے ان دونوں اوصاف میں سے ہر وصف، صفت کمال ہے اور دونوں اوصاف کا مجتمع ہونا گویا کمال کے اندر کمال کا اضافہ ہے۔اس بارے میں اصحاب تفسیر میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا جناب لقمان نبی تھے یا اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت سے نوازا تھا۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی تھی ان میں کچھ ایسی چیزوں کا ذکر فرمایا جو ان کی حکمت پر دلالت کرتی ہیں۔ انھوں نے حکمت کے بڑے بڑے قواعد اور اصولوں کا ذکر کیا: [13]﴿وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ﴾ ’’اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا‘‘ یا انھوں نے اپنے بیٹے کو ایک بات کہی جس کے ذریعے سے انھوں نے اسے امرونہی کی نصیحت کی جو ترغیب و ترہیب سے مقرون تھی۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو اخلاص کا حکم دیا، اسے شرک سے منع کیا اور ممانعت کا سبب بیان کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یقینا شرک ظلم عظیم ہے‘‘ اور اس کے ظلم عظیم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی برا نہیں جو مٹی سے بنی ہوئی مخلوق کو کائنات کے مالک کے مساوی قرار دیتا ہے، وہ اس ناچیز کو جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی اس ہستی کے برابر سمجھتا ہے جو تمام اختیارات کی مالک ہے۔ جو ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہستی کو رب کامل کے برابر مانتا ہے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہے، وہ ایسی ہستی کو جس کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی کسی کو نعمت عطا کر سکے ایسی ہستی کے مساوی قرار دیتا ہے کہ مخلوق کے دین و دنیا، آخرت اور ان کے قلب و بدن میں جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور اس ہستی کے سوا کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتا۔ کیا اس سے بھی بڑا کوئی ظلم ہے؟کیا اس سے بڑا کوئی ظلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی عبادت اور توحید کے لیے پیدا کیا وہ اپنے شرف کے حامل نفس کو خسیس ترین مرتبے تک گرا دیتا ہے اور اس سے ایسی چیز کی عبادت کراتا ہے جو کچھ بھی نہیں؟ پس وہ اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم کرتا ہے۔ [14] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کو قائم کرنے یعنی شرک کو ترک کرنے کا حکم دیا جس کا لازمہ قیام توحید ہے، تو پھر والدین کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’اور ہم نے انسان کو تاکید کی ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اس سے عہد لیا اور اس عہد کو وصیت بنا دیا کہ ہم عنقریب اس سے پوچھیں گے کہ آیا اس نے اس وصیت کو پورا کیا؟ اور کیا اس نے اس وصیت کی حفاظت کی ہے یا نہیں؟ہم نے اسے ﴿بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اس کے والدین کے بارے میں‘‘ وصیت کی اور اس سے کہا: ﴿اشۡكُرۡ لِيۡ ﴾ میری عبودیت کے قیام اور میرے حقوق کی ادائیگی کے ذریعے سے میرا شکر ادا کر اور میری نعمتوں کو میری نافرمانی میں استعمال نہ کر۔ ﴿وَلِوَالِدَيۡكَ ﴾ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک، یعنی نرم و لطیف قول، فعل جمیل، ان کے سامنے تواضع و انکسار، ان کے اکرام و اجلال، ان کی ذمہ داریوں کو اٹھانے، ان کے ساتھ قول و فعل اور ہر لحاظ سے برے سلوک سے اجتناب کرنے کے ذریعے سے ان کا شکر ادا کر۔ ہم نے اسے یہ وصیت کرنے کے بعد آگاہ کیا ﴿اِلَيَّ الۡمَصِيۡرُ ﴾ کہ اے انسان! عنقریب تجھے اس ہستی کی طرف لوٹنا ہے جس نے تجھے وصیت کر کے ان حقوق کی ادائیگی کا مکلف بنایا ہے۔ وہ ہستی تجھ سے پوچھے گی: ’’کیا تو نے اس وصیت کو پورا کیا کہ وہ تجھے اس پر ثواب عطا کرے یا تو نے اس وصیت کو ضائع کر دیا تاکہ تجھے بدترین سزا دے؟‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بعد اس سبب کا ذکر فرمایا جو ماں کے ساتھ حسن سلوک کا موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ ﴾ ’’اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف برداشت کرکے اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا۔‘‘ یعنی نہایت مشقت کے ساتھ اس کو پیٹ میں اٹھائے رکھا۔ وہ استقرار نطفہ ہی سے مشقتوں کا سامنا کرتی رہتی ہے، مثلاً: بعض چیزوں کے کھانے کو جی چاہنا، بیماری، کمزوری، حمل کا بوجھ، حالت میں تغیر اور پھر وضع حمل کے وقت سخت تکلیف کا سامنا کرنا ﴿وَّفِصٰلُهٗ فِيۡ عَامَيۡنِ ﴾ ’’اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا۔‘‘ یعنی وہ اپنی ماں کی پرورش، کفالت اور رضاعت کا محتاج ہوتا ہے۔ کیا اس ہستی کے ساتھ حسن سلوک نہ کیا جائے جو شدید محبت کے ساتھ اپنے بچے کی خاطر یہ سختیاں برداشت کرتی ہے اور اس کے بیٹے کو اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور وصیت نہ کی جائے؟ [15]﴿وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ ﴾ اگر تیرے والدین کوشش کریں ﴿عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ ’’اس چیز کی کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔‘‘ تو یہ نہ سمجھ کہ شرک کے بارے میں ان کی اطاعت کرنا بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق ہر ایک کے حقوق پر مقدم ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ’لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ، ’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني: 170/18، ح: 381، و شرح السنة للبغوي: 44/10)یہاں (ایک قابل غور نکتہ ہے ) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (وَإِنْ جَاھَدَاکَ عَلٰی أَنْ تُشْرِکَ بِي مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَعُقَّھُمَا) ’’اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اسے شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کی نافرمانی اور ان سے بدسلوکی کر‘‘ بلکہ فرمایا: ﴿فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ یعنی تو شرک میں ان کی اطاعت نہ کر۔ باقی رہا ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا تو اس پر قائم رہ، اس لیے فرمایا:﴿وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا ﴾ ’’اور دنیا (کے معاملات) میں ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ رہ۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آ اور اگر وہ حالت کفر و عصیان پرہیں تو پھر ان کی پیروی نہ کر۔ ﴿وَّاتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾ ’’اور اس شخص کی راہ کی اتباع کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، اپنے رب کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اوراس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ان کے راستے کی پیروی یہ ہے کہ انابت الی اللہ میں ان کے مسلک پر چلا جائے۔ انابت سے مراد یہ ہے کہ قلب کے داعیوں اور ارادوں کا اللہ تعالیٰ کی مرضی کی طرف مائل ہونا اور اس کے قریب ہونا، پھر ان کا ارادوں کی پیروی کرنا۔ ﴿ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر میری طرف تمھارا لوٹنا ہے۔‘‘ اطاعت گزار، نافرمان اور صاحب انابت سب میری طرف لوٹیں گے ﴿فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو تم جو کام کرتے ہو میں ان کے بارے میں تمھیں آگاہ کروں گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں۔ [16]﴿يٰبُنَيَّ اِنَّهَاۤ اِنۡ تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ ﴾ ’’اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو‘‘ جو سب سے چھوٹی اور حقیر ترین چیز ہے ﴿فَتَكُنۡ فِيۡ صَخۡرَةٍ ﴾ ’’اور وہ کسی پتھر کے اندر ہو۔‘‘ یعنی چٹان کے درمیان ﴿اَوۡ فِي السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یا آسمان یا زمین کے اندر ہو‘‘ یعنی زمین وآسمان کی کسی بھی جہت میں ہو ﴿يَاۡتِ بِهَا اللّٰهُ ﴾ اللہ تعالیٰ اپنے علم وسیع، خبر تام اور قدرت کامل کے ذریعے سے اسے لے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم اور اپنی خبر میں بہت باریک بین ہے حتیٰ کہ وہ باطنی امور اور اسرار نہاں، بیابانوں اور سمندروں میں چھپی ہوئی چیزوں کی بھی خبر رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے جہاں تک ممکن ہو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے اور اس کی اطاعت کرنے کی ترغیب اور قبیح امور سے، خواہ کم ہوں یا زیادہ، ترہیب مقصود ہے۔ [17]﴿يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اے بیٹے! نماز کی پابندی کر‘‘ آپ نے اسے نماز کی ترغیب دی اور نماز کو اس لیے مختص کیا کہ یہ سب سے بڑی بدنی عبادت ہے۔ ﴿وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡهَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کر۔‘‘ یہ حکم اوامر و نواہی کی معرفت کو مستلزم ہے تاکہ معروف کا حکم دیا جائے اور نواہی سے روکا جائے، نیز یہ ایسے امر کا حکم ہے جس کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل ممکن نہیں، مثلاً: نرمی اور صبر وغیرہ۔ اگلے جملے میں صراحت کے ساتھ فرمایا: ﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ﴾ ’’اور اس تکلیف پر صبر کر جو تجھے پہنچے۔‘‘ یہ آیات کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیکی پر عمل کر کے اور برائی کو ترک کر کے خود اپنی ذات کی تکمیل کی جائے ، پھر نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے روک کر دوسروں کی تکمیل کی جائے۔ چونکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ جب بندہ نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا تو لامحالہ اسے آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا نیز اس راستے میں نفس کو مشقت بھی اٹھانا پڑتی ہے اس لیے اس کو اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا، بے شک یہ بات‘‘ جس کی لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی ہے ﴿مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ﴾ ایسے امور میں سے ہے جن کا عزم کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے اور صرف اولوالعزم لوگوں کو اس کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ [18]﴿وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ﴾ اور تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے تکبر کے ساتھ، لوگوں سے منہ نہ پھیر ﴿وَلَا تَمۡشِ فِي الۡاَرۡضِ مَرَحًا ﴾ اور انعام کرنے والی ہستی کو فراموش کر کے، اس کی نعمتوں پر فخر کرتے ہوئے خود پسندی کے ساتھ اتراتا ہوا زمین پر مت چل ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ﴾ ’’یقینا اللہ کسی خود پسند سے محبت نہیں کرتا‘‘ جو اپنے آپ میں، اپنی ہیئت میں تکبر کرتا ہے۔ ﴿فَخُوۡرٍ ﴾ یعنی جو اپنی باتوں میں فخر کا اظہار کرتا ہے۔ [19]﴿وَاقۡصِدۡ فِيۡ مَشۡيِكَ ﴾ ’’اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر۔‘‘ تکبر اور اتراہٹ کی چال چل نہ بناوٹ کی، بلکہ تواضع اور انکسار کے ساتھ چل۔ ﴿وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے حضور لوگوں کے ساتھ ادب کے طور پر اپنی آواز کو دھیما رکھ۔ ﴿اِنَّ اَنۡؔكَرَ الۡاَصۡوَاتِ ﴾ یعنی بدترین اور قبیح ترین آواز ﴿لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ ﴾ ’’گدھوں کی آواز ہے۔‘‘ اگر بہت زیادہ بلند آواز میں کوئی مصلحت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کو گدھے کے ساتھ مختص نہ کرتا جس کی خساست اور کم عقلی مسلّم ہے۔ یہ وصیتیں، جو جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کی ہیں، حکمت کی بڑی بڑی باتوں کی جامع ہیں اور ان باتوں کو بھی مستلزم ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ ہر وصیت کے ساتھ ایک داعیہ مقرون ہے جو امر کی صورت میں اس پر عمل کی دعوت دیتا ہے اور اگر معاملہ نہی کا ہے تو اس پر عمل سے روکتا ہے اور یہ چیز ہماری اس تفسیر پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ’’حکمت‘‘ کے ضمن میں بیان کی ہے کہ یہ احکام، ان کی حکمتوں اور ان کی مناسبات کا نام ہے۔لقمان نے اپنے بیٹے کو دین کی بنیاد یعنی توحید کا حکم دیا اور شرک سے منع کیا اور ترک شرک کے موجبات کو بیان کیا۔ جناب لقمان نے ا پنے بیٹے کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے موجبات کو بھی واضح کیا ، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ساتھ ساتھ اپنے والدین کا بھی شکر گزار ہو۔ پھر واضح کیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حکم کی اطاعت کی حدود وہاں تک ہیں جہاں تک وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتے۔ بایں ہمہ ان کے ساتھ مخالفت اور عدم شفقت کا رویہ نہ رکھے، بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ جب وہ اسے شرک پر مجبور کریں تو وہ ان کی اطاعت نہ کرے مگر اس صورت میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کو ترک نہ کرے۔جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے مراقبے کا حکم دیا اور اسے خوف دلایا کہ اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی نیکی اور بدی اس کے حضور پیش ہو گی۔ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر سے روکا، اسے تواضع اور انکسار کا حکم دیا، اسے خوشی میں اترانے اور اکڑنے سے منع کیا، اسے اپنی حرکات اور آواز میں سکون اور دھیما پن اختیارکرنے کا حکم دیا اور اس کے متضاد رویے سے روکا، اسے ترغیب دی کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے نیز نماز قائم کرنے اور صبر کرنے کا حکم دیا، جن کی مدد سے ہر کام آسان ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ﴾(البقرۃ:2؍45) ’’اور صبر اور نماز سے مدد لیا کرو۔‘‘ جس شخص نے ان باتوں کی وصیت کی ہو وہ اس امر کا حق دار ہے کہ وہ حکمت و دانائی کے لیے مخصوص اور مشہور ہو، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ اس نے ان کے سامنے اس کی حکمت کا ذکر کیا جو ان کے لیے اچھا نمونہ بن سکے۔
31:15

وَإِن جَٰهَدَاكَ عَلَىٰٓ أَن تُشۡرِكَ بِي مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٞ فَلَا تُطِعۡهُمَاۖ وَصَاحِبۡهُمَا فِي ٱلدُّنۡيَا مَعۡرُوفٗاۖ وَٱتَّبِعۡ سَبِيلَ مَنۡ أَنَابَ إِلَيَّۚ ثُمَّ إِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے لقمان کو حکمت یہ کہ شکر کر تو اللہ کااور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقیناً وہ شکر کرتا ہے اپنی ہی ذات کے لیے، اور جس نے ناشکری کی تو بلاشبہ اللہ بہت بے پروا، قابل تعریف ہے (12) اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو ،جبکہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا، اے میرے بیٹے! نہ شریک ٹھہرا تو ساتھ اللہ کے، بلاشبہ شرک البتہ ظلم ہے بہت بڑا (13) اور وصیت کی ہم نے انسان کو ساتھ اپنے والدین کے (نیک سلوک کرنے کی)، اٹھائے رکھا اسے اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری کے (باوجود) اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو سال میں (اور ) یہ کہ شکر کر تو میرا اور اپنے والدین کا اور میری ہی طرف ہے لوٹنا (14) اور اگر وہ دونوں مجبور کریں تجھے اس بات پر کہ تو شریک ٹھہرائے میرے ساتھ اس چیز کو کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، تو نہ اطاعت کرنا تو ان دونوں کی، اور اچھا سلوک کر تو ان دونوں سے دنیا میں معروف طریقے سے، اور اتباع کر تو اس شخص کے راستے کا جو رجوع کرتا ہے میری طرف، پھر میری ہی طرف واپسی ہے تمھاری پس خبر دوں گا میں تمھیں ا س کی جو تھے تم عمل کرتے (15) اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر ہو وہ (عمل) برابر ایک دانے رائی کے ، پھر ہو وہ کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین میں تو لے آئے گا اسے اللہ، بلاشبہ اللہ نہایت باریک بیں، خوب باخبر ہے (16) اے میرے (پیارے) بیٹے! قائم کر تو نماز اور حکم کر توساتھ نیکی کے، اور روک تو برے کاموں سے، اور صبر کر تو اوپر اس (تکلیف) کے جو پہنچے تجھے، بلاشبہ یہ ہے ہمت کے کاموں میں سے (17) اور نہ تو پھیر اپنا رخ لوگوں سے اور نہ تو چل زمین میں اکڑ کر ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا ہرمتکبر، شیخی خور ے کو (18) اورمیانہ روی اختیار کر تو اپنی چال میں اور پست رکھ تو اپنی آواز بلاشبہ بدترین آوازوں میں سے البتہ آواز ہے گدھے کی (19) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ، ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے، مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت، تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ عمل کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطاو بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان کے لیے اپنے فضل و کرم میں اضافہ کرے، نیز آگاہ فرمایا کہ شکر کی منفعت شکر کرنے والوں ہی کی طرف لوٹتی ہے اور جو کوئی شکر ادا نہیں کرتا تو اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے، جو کوئی اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں وہ بے نیاز اور قابل ستائش ہے، اللہ تعالیٰ کی بے نیازی اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کا اپنی صفات کمال اور اپنے خوبصورت کاموں میں قابل ستائش ہونا اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کے ان دونوں اوصاف میں سے ہر وصف، صفت کمال ہے اور دونوں اوصاف کا مجتمع ہونا گویا کمال کے اندر کمال کا اضافہ ہے۔اس بارے میں اصحاب تفسیر میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا جناب لقمان نبی تھے یا اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت سے نوازا تھا۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی تھی ان میں کچھ ایسی چیزوں کا ذکر فرمایا جو ان کی حکمت پر دلالت کرتی ہیں۔ انھوں نے حکمت کے بڑے بڑے قواعد اور اصولوں کا ذکر کیا: [13]﴿وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ﴾ ’’اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا‘‘ یا انھوں نے اپنے بیٹے کو ایک بات کہی جس کے ذریعے سے انھوں نے اسے امرونہی کی نصیحت کی جو ترغیب و ترہیب سے مقرون تھی۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو اخلاص کا حکم دیا، اسے شرک سے منع کیا اور ممانعت کا سبب بیان کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یقینا شرک ظلم عظیم ہے‘‘ اور اس کے ظلم عظیم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی برا نہیں جو مٹی سے بنی ہوئی مخلوق کو کائنات کے مالک کے مساوی قرار دیتا ہے، وہ اس ناچیز کو جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی اس ہستی کے برابر سمجھتا ہے جو تمام اختیارات کی مالک ہے۔ جو ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہستی کو رب کامل کے برابر مانتا ہے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہے، وہ ایسی ہستی کو جس کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی کسی کو نعمت عطا کر سکے ایسی ہستی کے مساوی قرار دیتا ہے کہ مخلوق کے دین و دنیا، آخرت اور ان کے قلب و بدن میں جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور اس ہستی کے سوا کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتا۔ کیا اس سے بھی بڑا کوئی ظلم ہے؟کیا اس سے بڑا کوئی ظلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی عبادت اور توحید کے لیے پیدا کیا وہ اپنے شرف کے حامل نفس کو خسیس ترین مرتبے تک گرا دیتا ہے اور اس سے ایسی چیز کی عبادت کراتا ہے جو کچھ بھی نہیں؟ پس وہ اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم کرتا ہے۔ [14] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کو قائم کرنے یعنی شرک کو ترک کرنے کا حکم دیا جس کا لازمہ قیام توحید ہے، تو پھر والدین کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’اور ہم نے انسان کو تاکید کی ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اس سے عہد لیا اور اس عہد کو وصیت بنا دیا کہ ہم عنقریب اس سے پوچھیں گے کہ آیا اس نے اس وصیت کو پورا کیا؟ اور کیا اس نے اس وصیت کی حفاظت کی ہے یا نہیں؟ہم نے اسے ﴿بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اس کے والدین کے بارے میں‘‘ وصیت کی اور اس سے کہا: ﴿اشۡكُرۡ لِيۡ ﴾ میری عبودیت کے قیام اور میرے حقوق کی ادائیگی کے ذریعے سے میرا شکر ادا کر اور میری نعمتوں کو میری نافرمانی میں استعمال نہ کر۔ ﴿وَلِوَالِدَيۡكَ ﴾ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک، یعنی نرم و لطیف قول، فعل جمیل، ان کے سامنے تواضع و انکسار، ان کے اکرام و اجلال، ان کی ذمہ داریوں کو اٹھانے، ان کے ساتھ قول و فعل اور ہر لحاظ سے برے سلوک سے اجتناب کرنے کے ذریعے سے ان کا شکر ادا کر۔ ہم نے اسے یہ وصیت کرنے کے بعد آگاہ کیا ﴿اِلَيَّ الۡمَصِيۡرُ ﴾ کہ اے انسان! عنقریب تجھے اس ہستی کی طرف لوٹنا ہے جس نے تجھے وصیت کر کے ان حقوق کی ادائیگی کا مکلف بنایا ہے۔ وہ ہستی تجھ سے پوچھے گی: ’’کیا تو نے اس وصیت کو پورا کیا کہ وہ تجھے اس پر ثواب عطا کرے یا تو نے اس وصیت کو ضائع کر دیا تاکہ تجھے بدترین سزا دے؟‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بعد اس سبب کا ذکر فرمایا جو ماں کے ساتھ حسن سلوک کا موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ ﴾ ’’اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف برداشت کرکے اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا۔‘‘ یعنی نہایت مشقت کے ساتھ اس کو پیٹ میں اٹھائے رکھا۔ وہ استقرار نطفہ ہی سے مشقتوں کا سامنا کرتی رہتی ہے، مثلاً: بعض چیزوں کے کھانے کو جی چاہنا، بیماری، کمزوری، حمل کا بوجھ، حالت میں تغیر اور پھر وضع حمل کے وقت سخت تکلیف کا سامنا کرنا ﴿وَّفِصٰلُهٗ فِيۡ عَامَيۡنِ ﴾ ’’اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا۔‘‘ یعنی وہ اپنی ماں کی پرورش، کفالت اور رضاعت کا محتاج ہوتا ہے۔ کیا اس ہستی کے ساتھ حسن سلوک نہ کیا جائے جو شدید محبت کے ساتھ اپنے بچے کی خاطر یہ سختیاں برداشت کرتی ہے اور اس کے بیٹے کو اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور وصیت نہ کی جائے؟ [15]﴿وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ ﴾ اگر تیرے والدین کوشش کریں ﴿عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ ’’اس چیز کی کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔‘‘ تو یہ نہ سمجھ کہ شرک کے بارے میں ان کی اطاعت کرنا بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق ہر ایک کے حقوق پر مقدم ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ’لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ، ’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني: 170/18، ح: 381، و شرح السنة للبغوي: 44/10)یہاں (ایک قابل غور نکتہ ہے ) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (وَإِنْ جَاھَدَاکَ عَلٰی أَنْ تُشْرِکَ بِي مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَعُقَّھُمَا) ’’اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اسے شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کی نافرمانی اور ان سے بدسلوکی کر‘‘ بلکہ فرمایا: ﴿فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ یعنی تو شرک میں ان کی اطاعت نہ کر۔ باقی رہا ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا تو اس پر قائم رہ، اس لیے فرمایا:﴿وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا ﴾ ’’اور دنیا (کے معاملات) میں ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ رہ۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آ اور اگر وہ حالت کفر و عصیان پرہیں تو پھر ان کی پیروی نہ کر۔ ﴿وَّاتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾ ’’اور اس شخص کی راہ کی اتباع کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، اپنے رب کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اوراس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ان کے راستے کی پیروی یہ ہے کہ انابت الی اللہ میں ان کے مسلک پر چلا جائے۔ انابت سے مراد یہ ہے کہ قلب کے داعیوں اور ارادوں کا اللہ تعالیٰ کی مرضی کی طرف مائل ہونا اور اس کے قریب ہونا، پھر ان کا ارادوں کی پیروی کرنا۔ ﴿ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر میری طرف تمھارا لوٹنا ہے۔‘‘ اطاعت گزار، نافرمان اور صاحب انابت سب میری طرف لوٹیں گے ﴿فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو تم جو کام کرتے ہو میں ان کے بارے میں تمھیں آگاہ کروں گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں۔ [16]﴿يٰبُنَيَّ اِنَّهَاۤ اِنۡ تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ ﴾ ’’اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو‘‘ جو سب سے چھوٹی اور حقیر ترین چیز ہے ﴿فَتَكُنۡ فِيۡ صَخۡرَةٍ ﴾ ’’اور وہ کسی پتھر کے اندر ہو۔‘‘ یعنی چٹان کے درمیان ﴿اَوۡ فِي السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یا آسمان یا زمین کے اندر ہو‘‘ یعنی زمین وآسمان کی کسی بھی جہت میں ہو ﴿يَاۡتِ بِهَا اللّٰهُ ﴾ اللہ تعالیٰ اپنے علم وسیع، خبر تام اور قدرت کامل کے ذریعے سے اسے لے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم اور اپنی خبر میں بہت باریک بین ہے حتیٰ کہ وہ باطنی امور اور اسرار نہاں، بیابانوں اور سمندروں میں چھپی ہوئی چیزوں کی بھی خبر رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے جہاں تک ممکن ہو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے اور اس کی اطاعت کرنے کی ترغیب اور قبیح امور سے، خواہ کم ہوں یا زیادہ، ترہیب مقصود ہے۔ [17]﴿يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اے بیٹے! نماز کی پابندی کر‘‘ آپ نے اسے نماز کی ترغیب دی اور نماز کو اس لیے مختص کیا کہ یہ سب سے بڑی بدنی عبادت ہے۔ ﴿وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡهَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کر۔‘‘ یہ حکم اوامر و نواہی کی معرفت کو مستلزم ہے تاکہ معروف کا حکم دیا جائے اور نواہی سے روکا جائے، نیز یہ ایسے امر کا حکم ہے جس کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل ممکن نہیں، مثلاً: نرمی اور صبر وغیرہ۔ اگلے جملے میں صراحت کے ساتھ فرمایا: ﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ﴾ ’’اور اس تکلیف پر صبر کر جو تجھے پہنچے۔‘‘ یہ آیات کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیکی پر عمل کر کے اور برائی کو ترک کر کے خود اپنی ذات کی تکمیل کی جائے ، پھر نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے روک کر دوسروں کی تکمیل کی جائے۔ چونکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ جب بندہ نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا تو لامحالہ اسے آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا نیز اس راستے میں نفس کو مشقت بھی اٹھانا پڑتی ہے اس لیے اس کو اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا، بے شک یہ بات‘‘ جس کی لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی ہے ﴿مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ﴾ ایسے امور میں سے ہے جن کا عزم کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے اور صرف اولوالعزم لوگوں کو اس کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ [18]﴿وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ﴾ اور تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے تکبر کے ساتھ، لوگوں سے منہ نہ پھیر ﴿وَلَا تَمۡشِ فِي الۡاَرۡضِ مَرَحًا ﴾ اور انعام کرنے والی ہستی کو فراموش کر کے، اس کی نعمتوں پر فخر کرتے ہوئے خود پسندی کے ساتھ اتراتا ہوا زمین پر مت چل ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ﴾ ’’یقینا اللہ کسی خود پسند سے محبت نہیں کرتا‘‘ جو اپنے آپ میں، اپنی ہیئت میں تکبر کرتا ہے۔ ﴿فَخُوۡرٍ ﴾ یعنی جو اپنی باتوں میں فخر کا اظہار کرتا ہے۔ [19]﴿وَاقۡصِدۡ فِيۡ مَشۡيِكَ ﴾ ’’اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر۔‘‘ تکبر اور اتراہٹ کی چال چل نہ بناوٹ کی، بلکہ تواضع اور انکسار کے ساتھ چل۔ ﴿وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے حضور لوگوں کے ساتھ ادب کے طور پر اپنی آواز کو دھیما رکھ۔ ﴿اِنَّ اَنۡؔكَرَ الۡاَصۡوَاتِ ﴾ یعنی بدترین اور قبیح ترین آواز ﴿لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ ﴾ ’’گدھوں کی آواز ہے۔‘‘ اگر بہت زیادہ بلند آواز میں کوئی مصلحت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کو گدھے کے ساتھ مختص نہ کرتا جس کی خساست اور کم عقلی مسلّم ہے۔ یہ وصیتیں، جو جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کی ہیں، حکمت کی بڑی بڑی باتوں کی جامع ہیں اور ان باتوں کو بھی مستلزم ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ ہر وصیت کے ساتھ ایک داعیہ مقرون ہے جو امر کی صورت میں اس پر عمل کی دعوت دیتا ہے اور اگر معاملہ نہی کا ہے تو اس پر عمل سے روکتا ہے اور یہ چیز ہماری اس تفسیر پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ’’حکمت‘‘ کے ضمن میں بیان کی ہے کہ یہ احکام، ان کی حکمتوں اور ان کی مناسبات کا نام ہے۔لقمان نے اپنے بیٹے کو دین کی بنیاد یعنی توحید کا حکم دیا اور شرک سے منع کیا اور ترک شرک کے موجبات کو بیان کیا۔ جناب لقمان نے ا پنے بیٹے کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے موجبات کو بھی واضح کیا ، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ساتھ ساتھ اپنے والدین کا بھی شکر گزار ہو۔ پھر واضح کیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حکم کی اطاعت کی حدود وہاں تک ہیں جہاں تک وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتے۔ بایں ہمہ ان کے ساتھ مخالفت اور عدم شفقت کا رویہ نہ رکھے، بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ جب وہ اسے شرک پر مجبور کریں تو وہ ان کی اطاعت نہ کرے مگر اس صورت میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کو ترک نہ کرے۔جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے مراقبے کا حکم دیا اور اسے خوف دلایا کہ اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی نیکی اور بدی اس کے حضور پیش ہو گی۔ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر سے روکا، اسے تواضع اور انکسار کا حکم دیا، اسے خوشی میں اترانے اور اکڑنے سے منع کیا، اسے اپنی حرکات اور آواز میں سکون اور دھیما پن اختیارکرنے کا حکم دیا اور اس کے متضاد رویے سے روکا، اسے ترغیب دی کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے نیز نماز قائم کرنے اور صبر کرنے کا حکم دیا، جن کی مدد سے ہر کام آسان ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ﴾(البقرۃ:2؍45) ’’اور صبر اور نماز سے مدد لیا کرو۔‘‘ جس شخص نے ان باتوں کی وصیت کی ہو وہ اس امر کا حق دار ہے کہ وہ حکمت و دانائی کے لیے مخصوص اور مشہور ہو، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ اس نے ان کے سامنے اس کی حکمت کا ذکر کیا جو ان کے لیے اچھا نمونہ بن سکے۔
31:16

يَٰبُنَيَّ إِنَّهَآ إِن تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٖ مِّنۡ خَرۡدَلٖ فَتَكُن فِي صَخۡرَةٍ أَوۡ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ أَوۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ يَأۡتِ بِهَا ٱللَّهُۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٞ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے لقمان کو حکمت یہ کہ شکر کر تو اللہ کااور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقیناً وہ شکر کرتا ہے اپنی ہی ذات کے لیے، اور جس نے ناشکری کی تو بلاشبہ اللہ بہت بے پروا، قابل تعریف ہے (12) اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو ،جبکہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا، اے میرے بیٹے! نہ شریک ٹھہرا تو ساتھ اللہ کے، بلاشبہ شرک البتہ ظلم ہے بہت بڑا (13) اور وصیت کی ہم نے انسان کو ساتھ اپنے والدین کے (نیک سلوک کرنے کی)، اٹھائے رکھا اسے اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری کے (باوجود) اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو سال میں (اور ) یہ کہ شکر کر تو میرا اور اپنے والدین کا اور میری ہی طرف ہے لوٹنا (14) اور اگر وہ دونوں مجبور کریں تجھے اس بات پر کہ تو شریک ٹھہرائے میرے ساتھ اس چیز کو کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، تو نہ اطاعت کرنا تو ان دونوں کی، اور اچھا سلوک کر تو ان دونوں سے دنیا میں معروف طریقے سے، اور اتباع کر تو اس شخص کے راستے کا جو رجوع کرتا ہے میری طرف، پھر میری ہی طرف واپسی ہے تمھاری پس خبر دوں گا میں تمھیں ا س کی جو تھے تم عمل کرتے (15) اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر ہو وہ (عمل) برابر ایک دانے رائی کے ، پھر ہو وہ کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین میں تو لے آئے گا اسے اللہ، بلاشبہ اللہ نہایت باریک بیں، خوب باخبر ہے (16) اے میرے (پیارے) بیٹے! قائم کر تو نماز اور حکم کر توساتھ نیکی کے، اور روک تو برے کاموں سے، اور صبر کر تو اوپر اس (تکلیف) کے جو پہنچے تجھے، بلاشبہ یہ ہے ہمت کے کاموں میں سے (17) اور نہ تو پھیر اپنا رخ لوگوں سے اور نہ تو چل زمین میں اکڑ کر ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا ہرمتکبر، شیخی خور ے کو (18) اورمیانہ روی اختیار کر تو اپنی چال میں اور پست رکھ تو اپنی آواز بلاشبہ بدترین آوازوں میں سے البتہ آواز ہے گدھے کی (19) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ، ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے، مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت، تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ عمل کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطاو بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان کے لیے اپنے فضل و کرم میں اضافہ کرے، نیز آگاہ فرمایا کہ شکر کی منفعت شکر کرنے والوں ہی کی طرف لوٹتی ہے اور جو کوئی شکر ادا نہیں کرتا تو اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے، جو کوئی اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں وہ بے نیاز اور قابل ستائش ہے، اللہ تعالیٰ کی بے نیازی اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کا اپنی صفات کمال اور اپنے خوبصورت کاموں میں قابل ستائش ہونا اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کے ان دونوں اوصاف میں سے ہر وصف، صفت کمال ہے اور دونوں اوصاف کا مجتمع ہونا گویا کمال کے اندر کمال کا اضافہ ہے۔اس بارے میں اصحاب تفسیر میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا جناب لقمان نبی تھے یا اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت سے نوازا تھا۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی تھی ان میں کچھ ایسی چیزوں کا ذکر فرمایا جو ان کی حکمت پر دلالت کرتی ہیں۔ انھوں نے حکمت کے بڑے بڑے قواعد اور اصولوں کا ذکر کیا: [13]﴿وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ﴾ ’’اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا‘‘ یا انھوں نے اپنے بیٹے کو ایک بات کہی جس کے ذریعے سے انھوں نے اسے امرونہی کی نصیحت کی جو ترغیب و ترہیب سے مقرون تھی۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو اخلاص کا حکم دیا، اسے شرک سے منع کیا اور ممانعت کا سبب بیان کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یقینا شرک ظلم عظیم ہے‘‘ اور اس کے ظلم عظیم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی برا نہیں جو مٹی سے بنی ہوئی مخلوق کو کائنات کے مالک کے مساوی قرار دیتا ہے، وہ اس ناچیز کو جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی اس ہستی کے برابر سمجھتا ہے جو تمام اختیارات کی مالک ہے۔ جو ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہستی کو رب کامل کے برابر مانتا ہے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہے، وہ ایسی ہستی کو جس کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی کسی کو نعمت عطا کر سکے ایسی ہستی کے مساوی قرار دیتا ہے کہ مخلوق کے دین و دنیا، آخرت اور ان کے قلب و بدن میں جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور اس ہستی کے سوا کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتا۔ کیا اس سے بھی بڑا کوئی ظلم ہے؟کیا اس سے بڑا کوئی ظلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی عبادت اور توحید کے لیے پیدا کیا وہ اپنے شرف کے حامل نفس کو خسیس ترین مرتبے تک گرا دیتا ہے اور اس سے ایسی چیز کی عبادت کراتا ہے جو کچھ بھی نہیں؟ پس وہ اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم کرتا ہے۔ [14] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کو قائم کرنے یعنی شرک کو ترک کرنے کا حکم دیا جس کا لازمہ قیام توحید ہے، تو پھر والدین کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’اور ہم نے انسان کو تاکید کی ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اس سے عہد لیا اور اس عہد کو وصیت بنا دیا کہ ہم عنقریب اس سے پوچھیں گے کہ آیا اس نے اس وصیت کو پورا کیا؟ اور کیا اس نے اس وصیت کی حفاظت کی ہے یا نہیں؟ہم نے اسے ﴿بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اس کے والدین کے بارے میں‘‘ وصیت کی اور اس سے کہا: ﴿اشۡكُرۡ لِيۡ ﴾ میری عبودیت کے قیام اور میرے حقوق کی ادائیگی کے ذریعے سے میرا شکر ادا کر اور میری نعمتوں کو میری نافرمانی میں استعمال نہ کر۔ ﴿وَلِوَالِدَيۡكَ ﴾ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک، یعنی نرم و لطیف قول، فعل جمیل، ان کے سامنے تواضع و انکسار، ان کے اکرام و اجلال، ان کی ذمہ داریوں کو اٹھانے، ان کے ساتھ قول و فعل اور ہر لحاظ سے برے سلوک سے اجتناب کرنے کے ذریعے سے ان کا شکر ادا کر۔ ہم نے اسے یہ وصیت کرنے کے بعد آگاہ کیا ﴿اِلَيَّ الۡمَصِيۡرُ ﴾ کہ اے انسان! عنقریب تجھے اس ہستی کی طرف لوٹنا ہے جس نے تجھے وصیت کر کے ان حقوق کی ادائیگی کا مکلف بنایا ہے۔ وہ ہستی تجھ سے پوچھے گی: ’’کیا تو نے اس وصیت کو پورا کیا کہ وہ تجھے اس پر ثواب عطا کرے یا تو نے اس وصیت کو ضائع کر دیا تاکہ تجھے بدترین سزا دے؟‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بعد اس سبب کا ذکر فرمایا جو ماں کے ساتھ حسن سلوک کا موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ ﴾ ’’اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف برداشت کرکے اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا۔‘‘ یعنی نہایت مشقت کے ساتھ اس کو پیٹ میں اٹھائے رکھا۔ وہ استقرار نطفہ ہی سے مشقتوں کا سامنا کرتی رہتی ہے، مثلاً: بعض چیزوں کے کھانے کو جی چاہنا، بیماری، کمزوری، حمل کا بوجھ، حالت میں تغیر اور پھر وضع حمل کے وقت سخت تکلیف کا سامنا کرنا ﴿وَّفِصٰلُهٗ فِيۡ عَامَيۡنِ ﴾ ’’اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا۔‘‘ یعنی وہ اپنی ماں کی پرورش، کفالت اور رضاعت کا محتاج ہوتا ہے۔ کیا اس ہستی کے ساتھ حسن سلوک نہ کیا جائے جو شدید محبت کے ساتھ اپنے بچے کی خاطر یہ سختیاں برداشت کرتی ہے اور اس کے بیٹے کو اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور وصیت نہ کی جائے؟ [15]﴿وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ ﴾ اگر تیرے والدین کوشش کریں ﴿عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ ’’اس چیز کی کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔‘‘ تو یہ نہ سمجھ کہ شرک کے بارے میں ان کی اطاعت کرنا بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق ہر ایک کے حقوق پر مقدم ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ’لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ، ’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني: 170/18، ح: 381، و شرح السنة للبغوي: 44/10)یہاں (ایک قابل غور نکتہ ہے ) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (وَإِنْ جَاھَدَاکَ عَلٰی أَنْ تُشْرِکَ بِي مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَعُقَّھُمَا) ’’اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اسے شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کی نافرمانی اور ان سے بدسلوکی کر‘‘ بلکہ فرمایا: ﴿فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ یعنی تو شرک میں ان کی اطاعت نہ کر۔ باقی رہا ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا تو اس پر قائم رہ، اس لیے فرمایا:﴿وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا ﴾ ’’اور دنیا (کے معاملات) میں ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ رہ۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آ اور اگر وہ حالت کفر و عصیان پرہیں تو پھر ان کی پیروی نہ کر۔ ﴿وَّاتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾ ’’اور اس شخص کی راہ کی اتباع کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، اپنے رب کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اوراس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ان کے راستے کی پیروی یہ ہے کہ انابت الی اللہ میں ان کے مسلک پر چلا جائے۔ انابت سے مراد یہ ہے کہ قلب کے داعیوں اور ارادوں کا اللہ تعالیٰ کی مرضی کی طرف مائل ہونا اور اس کے قریب ہونا، پھر ان کا ارادوں کی پیروی کرنا۔ ﴿ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر میری طرف تمھارا لوٹنا ہے۔‘‘ اطاعت گزار، نافرمان اور صاحب انابت سب میری طرف لوٹیں گے ﴿فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو تم جو کام کرتے ہو میں ان کے بارے میں تمھیں آگاہ کروں گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں۔ [16]﴿يٰبُنَيَّ اِنَّهَاۤ اِنۡ تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ ﴾ ’’اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو‘‘ جو سب سے چھوٹی اور حقیر ترین چیز ہے ﴿فَتَكُنۡ فِيۡ صَخۡرَةٍ ﴾ ’’اور وہ کسی پتھر کے اندر ہو۔‘‘ یعنی چٹان کے درمیان ﴿اَوۡ فِي السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یا آسمان یا زمین کے اندر ہو‘‘ یعنی زمین وآسمان کی کسی بھی جہت میں ہو ﴿يَاۡتِ بِهَا اللّٰهُ ﴾ اللہ تعالیٰ اپنے علم وسیع، خبر تام اور قدرت کامل کے ذریعے سے اسے لے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم اور اپنی خبر میں بہت باریک بین ہے حتیٰ کہ وہ باطنی امور اور اسرار نہاں، بیابانوں اور سمندروں میں چھپی ہوئی چیزوں کی بھی خبر رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے جہاں تک ممکن ہو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے اور اس کی اطاعت کرنے کی ترغیب اور قبیح امور سے، خواہ کم ہوں یا زیادہ، ترہیب مقصود ہے۔ [17]﴿يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اے بیٹے! نماز کی پابندی کر‘‘ آپ نے اسے نماز کی ترغیب دی اور نماز کو اس لیے مختص کیا کہ یہ سب سے بڑی بدنی عبادت ہے۔ ﴿وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡهَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کر۔‘‘ یہ حکم اوامر و نواہی کی معرفت کو مستلزم ہے تاکہ معروف کا حکم دیا جائے اور نواہی سے روکا جائے، نیز یہ ایسے امر کا حکم ہے جس کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل ممکن نہیں، مثلاً: نرمی اور صبر وغیرہ۔ اگلے جملے میں صراحت کے ساتھ فرمایا: ﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ﴾ ’’اور اس تکلیف پر صبر کر جو تجھے پہنچے۔‘‘ یہ آیات کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیکی پر عمل کر کے اور برائی کو ترک کر کے خود اپنی ذات کی تکمیل کی جائے ، پھر نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے روک کر دوسروں کی تکمیل کی جائے۔ چونکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ جب بندہ نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا تو لامحالہ اسے آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا نیز اس راستے میں نفس کو مشقت بھی اٹھانا پڑتی ہے اس لیے اس کو اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا، بے شک یہ بات‘‘ جس کی لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی ہے ﴿مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ﴾ ایسے امور میں سے ہے جن کا عزم کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے اور صرف اولوالعزم لوگوں کو اس کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ [18]﴿وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ﴾ اور تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے تکبر کے ساتھ، لوگوں سے منہ نہ پھیر ﴿وَلَا تَمۡشِ فِي الۡاَرۡضِ مَرَحًا ﴾ اور انعام کرنے والی ہستی کو فراموش کر کے، اس کی نعمتوں پر فخر کرتے ہوئے خود پسندی کے ساتھ اتراتا ہوا زمین پر مت چل ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ﴾ ’’یقینا اللہ کسی خود پسند سے محبت نہیں کرتا‘‘ جو اپنے آپ میں، اپنی ہیئت میں تکبر کرتا ہے۔ ﴿فَخُوۡرٍ ﴾ یعنی جو اپنی باتوں میں فخر کا اظہار کرتا ہے۔ [19]﴿وَاقۡصِدۡ فِيۡ مَشۡيِكَ ﴾ ’’اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر۔‘‘ تکبر اور اتراہٹ کی چال چل نہ بناوٹ کی، بلکہ تواضع اور انکسار کے ساتھ چل۔ ﴿وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے حضور لوگوں کے ساتھ ادب کے طور پر اپنی آواز کو دھیما رکھ۔ ﴿اِنَّ اَنۡؔكَرَ الۡاَصۡوَاتِ ﴾ یعنی بدترین اور قبیح ترین آواز ﴿لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ ﴾ ’’گدھوں کی آواز ہے۔‘‘ اگر بہت زیادہ بلند آواز میں کوئی مصلحت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کو گدھے کے ساتھ مختص نہ کرتا جس کی خساست اور کم عقلی مسلّم ہے۔ یہ وصیتیں، جو جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کی ہیں، حکمت کی بڑی بڑی باتوں کی جامع ہیں اور ان باتوں کو بھی مستلزم ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ ہر وصیت کے ساتھ ایک داعیہ مقرون ہے جو امر کی صورت میں اس پر عمل کی دعوت دیتا ہے اور اگر معاملہ نہی کا ہے تو اس پر عمل سے روکتا ہے اور یہ چیز ہماری اس تفسیر پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ’’حکمت‘‘ کے ضمن میں بیان کی ہے کہ یہ احکام، ان کی حکمتوں اور ان کی مناسبات کا نام ہے۔لقمان نے اپنے بیٹے کو دین کی بنیاد یعنی توحید کا حکم دیا اور شرک سے منع کیا اور ترک شرک کے موجبات کو بیان کیا۔ جناب لقمان نے ا پنے بیٹے کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے موجبات کو بھی واضح کیا ، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ساتھ ساتھ اپنے والدین کا بھی شکر گزار ہو۔ پھر واضح کیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حکم کی اطاعت کی حدود وہاں تک ہیں جہاں تک وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتے۔ بایں ہمہ ان کے ساتھ مخالفت اور عدم شفقت کا رویہ نہ رکھے، بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ جب وہ اسے شرک پر مجبور کریں تو وہ ان کی اطاعت نہ کرے مگر اس صورت میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کو ترک نہ کرے۔جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے مراقبے کا حکم دیا اور اسے خوف دلایا کہ اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی نیکی اور بدی اس کے حضور پیش ہو گی۔ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر سے روکا، اسے تواضع اور انکسار کا حکم دیا، اسے خوشی میں اترانے اور اکڑنے سے منع کیا، اسے اپنی حرکات اور آواز میں سکون اور دھیما پن اختیارکرنے کا حکم دیا اور اس کے متضاد رویے سے روکا، اسے ترغیب دی کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے نیز نماز قائم کرنے اور صبر کرنے کا حکم دیا، جن کی مدد سے ہر کام آسان ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ﴾(البقرۃ:2؍45) ’’اور صبر اور نماز سے مدد لیا کرو۔‘‘ جس شخص نے ان باتوں کی وصیت کی ہو وہ اس امر کا حق دار ہے کہ وہ حکمت و دانائی کے لیے مخصوص اور مشہور ہو، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ اس نے ان کے سامنے اس کی حکمت کا ذکر کیا جو ان کے لیے اچھا نمونہ بن سکے۔
31:17

يَٰبُنَيَّ أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ وَأۡمُرۡ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَٱنۡهَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَآ أَصَابَكَۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے لقمان کو حکمت یہ کہ شکر کر تو اللہ کااور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقیناً وہ شکر کرتا ہے اپنی ہی ذات کے لیے، اور جس نے ناشکری کی تو بلاشبہ اللہ بہت بے پروا، قابل تعریف ہے (12) اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو ،جبکہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا، اے میرے بیٹے! نہ شریک ٹھہرا تو ساتھ اللہ کے، بلاشبہ شرک البتہ ظلم ہے بہت بڑا (13) اور وصیت کی ہم نے انسان کو ساتھ اپنے والدین کے (نیک سلوک کرنے کی)، اٹھائے رکھا اسے اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری کے (باوجود) اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو سال میں (اور ) یہ کہ شکر کر تو میرا اور اپنے والدین کا اور میری ہی طرف ہے لوٹنا (14) اور اگر وہ دونوں مجبور کریں تجھے اس بات پر کہ تو شریک ٹھہرائے میرے ساتھ اس چیز کو کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، تو نہ اطاعت کرنا تو ان دونوں کی، اور اچھا سلوک کر تو ان دونوں سے دنیا میں معروف طریقے سے، اور اتباع کر تو اس شخص کے راستے کا جو رجوع کرتا ہے میری طرف، پھر میری ہی طرف واپسی ہے تمھاری پس خبر دوں گا میں تمھیں ا س کی جو تھے تم عمل کرتے (15) اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر ہو وہ (عمل) برابر ایک دانے رائی کے ، پھر ہو وہ کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین میں تو لے آئے گا اسے اللہ، بلاشبہ اللہ نہایت باریک بیں، خوب باخبر ہے (16) اے میرے (پیارے) بیٹے! قائم کر تو نماز اور حکم کر توساتھ نیکی کے، اور روک تو برے کاموں سے، اور صبر کر تو اوپر اس (تکلیف) کے جو پہنچے تجھے، بلاشبہ یہ ہے ہمت کے کاموں میں سے (17) اور نہ تو پھیر اپنا رخ لوگوں سے اور نہ تو چل زمین میں اکڑ کر ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا ہرمتکبر، شیخی خور ے کو (18) اورمیانہ روی اختیار کر تو اپنی چال میں اور پست رکھ تو اپنی آواز بلاشبہ بدترین آوازوں میں سے البتہ آواز ہے گدھے کی (19) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ، ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے، مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت، تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ عمل کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطاو بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان کے لیے اپنے فضل و کرم میں اضافہ کرے، نیز آگاہ فرمایا کہ شکر کی منفعت شکر کرنے والوں ہی کی طرف لوٹتی ہے اور جو کوئی شکر ادا نہیں کرتا تو اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے، جو کوئی اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں وہ بے نیاز اور قابل ستائش ہے، اللہ تعالیٰ کی بے نیازی اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کا اپنی صفات کمال اور اپنے خوبصورت کاموں میں قابل ستائش ہونا اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کے ان دونوں اوصاف میں سے ہر وصف، صفت کمال ہے اور دونوں اوصاف کا مجتمع ہونا گویا کمال کے اندر کمال کا اضافہ ہے۔اس بارے میں اصحاب تفسیر میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا جناب لقمان نبی تھے یا اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت سے نوازا تھا۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی تھی ان میں کچھ ایسی چیزوں کا ذکر فرمایا جو ان کی حکمت پر دلالت کرتی ہیں۔ انھوں نے حکمت کے بڑے بڑے قواعد اور اصولوں کا ذکر کیا: [13]﴿وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ﴾ ’’اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا‘‘ یا انھوں نے اپنے بیٹے کو ایک بات کہی جس کے ذریعے سے انھوں نے اسے امرونہی کی نصیحت کی جو ترغیب و ترہیب سے مقرون تھی۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو اخلاص کا حکم دیا، اسے شرک سے منع کیا اور ممانعت کا سبب بیان کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یقینا شرک ظلم عظیم ہے‘‘ اور اس کے ظلم عظیم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی برا نہیں جو مٹی سے بنی ہوئی مخلوق کو کائنات کے مالک کے مساوی قرار دیتا ہے، وہ اس ناچیز کو جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی اس ہستی کے برابر سمجھتا ہے جو تمام اختیارات کی مالک ہے۔ جو ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہستی کو رب کامل کے برابر مانتا ہے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہے، وہ ایسی ہستی کو جس کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی کسی کو نعمت عطا کر سکے ایسی ہستی کے مساوی قرار دیتا ہے کہ مخلوق کے دین و دنیا، آخرت اور ان کے قلب و بدن میں جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور اس ہستی کے سوا کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتا۔ کیا اس سے بھی بڑا کوئی ظلم ہے؟کیا اس سے بڑا کوئی ظلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی عبادت اور توحید کے لیے پیدا کیا وہ اپنے شرف کے حامل نفس کو خسیس ترین مرتبے تک گرا دیتا ہے اور اس سے ایسی چیز کی عبادت کراتا ہے جو کچھ بھی نہیں؟ پس وہ اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم کرتا ہے۔ [14] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کو قائم کرنے یعنی شرک کو ترک کرنے کا حکم دیا جس کا لازمہ قیام توحید ہے، تو پھر والدین کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’اور ہم نے انسان کو تاکید کی ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اس سے عہد لیا اور اس عہد کو وصیت بنا دیا کہ ہم عنقریب اس سے پوچھیں گے کہ آیا اس نے اس وصیت کو پورا کیا؟ اور کیا اس نے اس وصیت کی حفاظت کی ہے یا نہیں؟ہم نے اسے ﴿بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اس کے والدین کے بارے میں‘‘ وصیت کی اور اس سے کہا: ﴿اشۡكُرۡ لِيۡ ﴾ میری عبودیت کے قیام اور میرے حقوق کی ادائیگی کے ذریعے سے میرا شکر ادا کر اور میری نعمتوں کو میری نافرمانی میں استعمال نہ کر۔ ﴿وَلِوَالِدَيۡكَ ﴾ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک، یعنی نرم و لطیف قول، فعل جمیل، ان کے سامنے تواضع و انکسار، ان کے اکرام و اجلال، ان کی ذمہ داریوں کو اٹھانے، ان کے ساتھ قول و فعل اور ہر لحاظ سے برے سلوک سے اجتناب کرنے کے ذریعے سے ان کا شکر ادا کر۔ ہم نے اسے یہ وصیت کرنے کے بعد آگاہ کیا ﴿اِلَيَّ الۡمَصِيۡرُ ﴾ کہ اے انسان! عنقریب تجھے اس ہستی کی طرف لوٹنا ہے جس نے تجھے وصیت کر کے ان حقوق کی ادائیگی کا مکلف بنایا ہے۔ وہ ہستی تجھ سے پوچھے گی: ’’کیا تو نے اس وصیت کو پورا کیا کہ وہ تجھے اس پر ثواب عطا کرے یا تو نے اس وصیت کو ضائع کر دیا تاکہ تجھے بدترین سزا دے؟‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بعد اس سبب کا ذکر فرمایا جو ماں کے ساتھ حسن سلوک کا موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ ﴾ ’’اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف برداشت کرکے اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا۔‘‘ یعنی نہایت مشقت کے ساتھ اس کو پیٹ میں اٹھائے رکھا۔ وہ استقرار نطفہ ہی سے مشقتوں کا سامنا کرتی رہتی ہے، مثلاً: بعض چیزوں کے کھانے کو جی چاہنا، بیماری، کمزوری، حمل کا بوجھ، حالت میں تغیر اور پھر وضع حمل کے وقت سخت تکلیف کا سامنا کرنا ﴿وَّفِصٰلُهٗ فِيۡ عَامَيۡنِ ﴾ ’’اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا۔‘‘ یعنی وہ اپنی ماں کی پرورش، کفالت اور رضاعت کا محتاج ہوتا ہے۔ کیا اس ہستی کے ساتھ حسن سلوک نہ کیا جائے جو شدید محبت کے ساتھ اپنے بچے کی خاطر یہ سختیاں برداشت کرتی ہے اور اس کے بیٹے کو اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور وصیت نہ کی جائے؟ [15]﴿وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ ﴾ اگر تیرے والدین کوشش کریں ﴿عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ ’’اس چیز کی کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔‘‘ تو یہ نہ سمجھ کہ شرک کے بارے میں ان کی اطاعت کرنا بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق ہر ایک کے حقوق پر مقدم ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ’لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ، ’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني: 170/18، ح: 381، و شرح السنة للبغوي: 44/10)یہاں (ایک قابل غور نکتہ ہے ) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (وَإِنْ جَاھَدَاکَ عَلٰی أَنْ تُشْرِکَ بِي مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَعُقَّھُمَا) ’’اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اسے شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کی نافرمانی اور ان سے بدسلوکی کر‘‘ بلکہ فرمایا: ﴿فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ یعنی تو شرک میں ان کی اطاعت نہ کر۔ باقی رہا ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا تو اس پر قائم رہ، اس لیے فرمایا:﴿وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا ﴾ ’’اور دنیا (کے معاملات) میں ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ رہ۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آ اور اگر وہ حالت کفر و عصیان پرہیں تو پھر ان کی پیروی نہ کر۔ ﴿وَّاتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾ ’’اور اس شخص کی راہ کی اتباع کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، اپنے رب کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اوراس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ان کے راستے کی پیروی یہ ہے کہ انابت الی اللہ میں ان کے مسلک پر چلا جائے۔ انابت سے مراد یہ ہے کہ قلب کے داعیوں اور ارادوں کا اللہ تعالیٰ کی مرضی کی طرف مائل ہونا اور اس کے قریب ہونا، پھر ان کا ارادوں کی پیروی کرنا۔ ﴿ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر میری طرف تمھارا لوٹنا ہے۔‘‘ اطاعت گزار، نافرمان اور صاحب انابت سب میری طرف لوٹیں گے ﴿فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو تم جو کام کرتے ہو میں ان کے بارے میں تمھیں آگاہ کروں گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں۔ [16]﴿يٰبُنَيَّ اِنَّهَاۤ اِنۡ تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ ﴾ ’’اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو‘‘ جو سب سے چھوٹی اور حقیر ترین چیز ہے ﴿فَتَكُنۡ فِيۡ صَخۡرَةٍ ﴾ ’’اور وہ کسی پتھر کے اندر ہو۔‘‘ یعنی چٹان کے درمیان ﴿اَوۡ فِي السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یا آسمان یا زمین کے اندر ہو‘‘ یعنی زمین وآسمان کی کسی بھی جہت میں ہو ﴿يَاۡتِ بِهَا اللّٰهُ ﴾ اللہ تعالیٰ اپنے علم وسیع، خبر تام اور قدرت کامل کے ذریعے سے اسے لے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم اور اپنی خبر میں بہت باریک بین ہے حتیٰ کہ وہ باطنی امور اور اسرار نہاں، بیابانوں اور سمندروں میں چھپی ہوئی چیزوں کی بھی خبر رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے جہاں تک ممکن ہو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے اور اس کی اطاعت کرنے کی ترغیب اور قبیح امور سے، خواہ کم ہوں یا زیادہ، ترہیب مقصود ہے۔ [17]﴿يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اے بیٹے! نماز کی پابندی کر‘‘ آپ نے اسے نماز کی ترغیب دی اور نماز کو اس لیے مختص کیا کہ یہ سب سے بڑی بدنی عبادت ہے۔ ﴿وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡهَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کر۔‘‘ یہ حکم اوامر و نواہی کی معرفت کو مستلزم ہے تاکہ معروف کا حکم دیا جائے اور نواہی سے روکا جائے، نیز یہ ایسے امر کا حکم ہے جس کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل ممکن نہیں، مثلاً: نرمی اور صبر وغیرہ۔ اگلے جملے میں صراحت کے ساتھ فرمایا: ﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ﴾ ’’اور اس تکلیف پر صبر کر جو تجھے پہنچے۔‘‘ یہ آیات کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیکی پر عمل کر کے اور برائی کو ترک کر کے خود اپنی ذات کی تکمیل کی جائے ، پھر نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے روک کر دوسروں کی تکمیل کی جائے۔ چونکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ جب بندہ نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا تو لامحالہ اسے آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا نیز اس راستے میں نفس کو مشقت بھی اٹھانا پڑتی ہے اس لیے اس کو اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا، بے شک یہ بات‘‘ جس کی لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی ہے ﴿مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ﴾ ایسے امور میں سے ہے جن کا عزم کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے اور صرف اولوالعزم لوگوں کو اس کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ [18]﴿وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ﴾ اور تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے تکبر کے ساتھ، لوگوں سے منہ نہ پھیر ﴿وَلَا تَمۡشِ فِي الۡاَرۡضِ مَرَحًا ﴾ اور انعام کرنے والی ہستی کو فراموش کر کے، اس کی نعمتوں پر فخر کرتے ہوئے خود پسندی کے ساتھ اتراتا ہوا زمین پر مت چل ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ﴾ ’’یقینا اللہ کسی خود پسند سے محبت نہیں کرتا‘‘ جو اپنے آپ میں، اپنی ہیئت میں تکبر کرتا ہے۔ ﴿فَخُوۡرٍ ﴾ یعنی جو اپنی باتوں میں فخر کا اظہار کرتا ہے۔ [19]﴿وَاقۡصِدۡ فِيۡ مَشۡيِكَ ﴾ ’’اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر۔‘‘ تکبر اور اتراہٹ کی چال چل نہ بناوٹ کی، بلکہ تواضع اور انکسار کے ساتھ چل۔ ﴿وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے حضور لوگوں کے ساتھ ادب کے طور پر اپنی آواز کو دھیما رکھ۔ ﴿اِنَّ اَنۡؔكَرَ الۡاَصۡوَاتِ ﴾ یعنی بدترین اور قبیح ترین آواز ﴿لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ ﴾ ’’گدھوں کی آواز ہے۔‘‘ اگر بہت زیادہ بلند آواز میں کوئی مصلحت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کو گدھے کے ساتھ مختص نہ کرتا جس کی خساست اور کم عقلی مسلّم ہے۔ یہ وصیتیں، جو جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کی ہیں، حکمت کی بڑی بڑی باتوں کی جامع ہیں اور ان باتوں کو بھی مستلزم ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ ہر وصیت کے ساتھ ایک داعیہ مقرون ہے جو امر کی صورت میں اس پر عمل کی دعوت دیتا ہے اور اگر معاملہ نہی کا ہے تو اس پر عمل سے روکتا ہے اور یہ چیز ہماری اس تفسیر پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ’’حکمت‘‘ کے ضمن میں بیان کی ہے کہ یہ احکام، ان کی حکمتوں اور ان کی مناسبات کا نام ہے۔لقمان نے اپنے بیٹے کو دین کی بنیاد یعنی توحید کا حکم دیا اور شرک سے منع کیا اور ترک شرک کے موجبات کو بیان کیا۔ جناب لقمان نے ا پنے بیٹے کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے موجبات کو بھی واضح کیا ، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ساتھ ساتھ اپنے والدین کا بھی شکر گزار ہو۔ پھر واضح کیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حکم کی اطاعت کی حدود وہاں تک ہیں جہاں تک وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتے۔ بایں ہمہ ان کے ساتھ مخالفت اور عدم شفقت کا رویہ نہ رکھے، بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ جب وہ اسے شرک پر مجبور کریں تو وہ ان کی اطاعت نہ کرے مگر اس صورت میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کو ترک نہ کرے۔جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے مراقبے کا حکم دیا اور اسے خوف دلایا کہ اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی نیکی اور بدی اس کے حضور پیش ہو گی۔ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر سے روکا، اسے تواضع اور انکسار کا حکم دیا، اسے خوشی میں اترانے اور اکڑنے سے منع کیا، اسے اپنی حرکات اور آواز میں سکون اور دھیما پن اختیارکرنے کا حکم دیا اور اس کے متضاد رویے سے روکا، اسے ترغیب دی کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے نیز نماز قائم کرنے اور صبر کرنے کا حکم دیا، جن کی مدد سے ہر کام آسان ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ﴾(البقرۃ:2؍45) ’’اور صبر اور نماز سے مدد لیا کرو۔‘‘ جس شخص نے ان باتوں کی وصیت کی ہو وہ اس امر کا حق دار ہے کہ وہ حکمت و دانائی کے لیے مخصوص اور مشہور ہو، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ اس نے ان کے سامنے اس کی حکمت کا ذکر کیا جو ان کے لیے اچھا نمونہ بن سکے۔
31:18

وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمۡشِ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَرَحًاۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٖ فَخُورٖ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے لقمان کو حکمت یہ کہ شکر کر تو اللہ کااور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقیناً وہ شکر کرتا ہے اپنی ہی ذات کے لیے، اور جس نے ناشکری کی تو بلاشبہ اللہ بہت بے پروا، قابل تعریف ہے (12) اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو ،جبکہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا، اے میرے بیٹے! نہ شریک ٹھہرا تو ساتھ اللہ کے، بلاشبہ شرک البتہ ظلم ہے بہت بڑا (13) اور وصیت کی ہم نے انسان کو ساتھ اپنے والدین کے (نیک سلوک کرنے کی)، اٹھائے رکھا اسے اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری کے (باوجود) اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو سال میں (اور ) یہ کہ شکر کر تو میرا اور اپنے والدین کا اور میری ہی طرف ہے لوٹنا (14) اور اگر وہ دونوں مجبور کریں تجھے اس بات پر کہ تو شریک ٹھہرائے میرے ساتھ اس چیز کو کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، تو نہ اطاعت کرنا تو ان دونوں کی، اور اچھا سلوک کر تو ان دونوں سے دنیا میں معروف طریقے سے، اور اتباع کر تو اس شخص کے راستے کا جو رجوع کرتا ہے میری طرف، پھر میری ہی طرف واپسی ہے تمھاری پس خبر دوں گا میں تمھیں ا س کی جو تھے تم عمل کرتے (15) اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر ہو وہ (عمل) برابر ایک دانے رائی کے ، پھر ہو وہ کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین میں تو لے آئے گا اسے اللہ، بلاشبہ اللہ نہایت باریک بیں، خوب باخبر ہے (16) اے میرے (پیارے) بیٹے! قائم کر تو نماز اور حکم کر توساتھ نیکی کے، اور روک تو برے کاموں سے، اور صبر کر تو اوپر اس (تکلیف) کے جو پہنچے تجھے، بلاشبہ یہ ہے ہمت کے کاموں میں سے (17) اور نہ تو پھیر اپنا رخ لوگوں سے اور نہ تو چل زمین میں اکڑ کر ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا ہرمتکبر، شیخی خور ے کو (18) اورمیانہ روی اختیار کر تو اپنی چال میں اور پست رکھ تو اپنی آواز بلاشبہ بدترین آوازوں میں سے البتہ آواز ہے گدھے کی (19) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ، ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے، مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت، تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ عمل کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطاو بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان کے لیے اپنے فضل و کرم میں اضافہ کرے، نیز آگاہ فرمایا کہ شکر کی منفعت شکر کرنے والوں ہی کی طرف لوٹتی ہے اور جو کوئی شکر ادا نہیں کرتا تو اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے، جو کوئی اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں وہ بے نیاز اور قابل ستائش ہے، اللہ تعالیٰ کی بے نیازی اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کا اپنی صفات کمال اور اپنے خوبصورت کاموں میں قابل ستائش ہونا اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کے ان دونوں اوصاف میں سے ہر وصف، صفت کمال ہے اور دونوں اوصاف کا مجتمع ہونا گویا کمال کے اندر کمال کا اضافہ ہے۔اس بارے میں اصحاب تفسیر میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا جناب لقمان نبی تھے یا اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت سے نوازا تھا۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی تھی ان میں کچھ ایسی چیزوں کا ذکر فرمایا جو ان کی حکمت پر دلالت کرتی ہیں۔ انھوں نے حکمت کے بڑے بڑے قواعد اور اصولوں کا ذکر کیا: [13]﴿وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ﴾ ’’اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا‘‘ یا انھوں نے اپنے بیٹے کو ایک بات کہی جس کے ذریعے سے انھوں نے اسے امرونہی کی نصیحت کی جو ترغیب و ترہیب سے مقرون تھی۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو اخلاص کا حکم دیا، اسے شرک سے منع کیا اور ممانعت کا سبب بیان کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یقینا شرک ظلم عظیم ہے‘‘ اور اس کے ظلم عظیم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی برا نہیں جو مٹی سے بنی ہوئی مخلوق کو کائنات کے مالک کے مساوی قرار دیتا ہے، وہ اس ناچیز کو جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی اس ہستی کے برابر سمجھتا ہے جو تمام اختیارات کی مالک ہے۔ جو ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہستی کو رب کامل کے برابر مانتا ہے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہے، وہ ایسی ہستی کو جس کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی کسی کو نعمت عطا کر سکے ایسی ہستی کے مساوی قرار دیتا ہے کہ مخلوق کے دین و دنیا، آخرت اور ان کے قلب و بدن میں جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور اس ہستی کے سوا کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتا۔ کیا اس سے بھی بڑا کوئی ظلم ہے؟کیا اس سے بڑا کوئی ظلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی عبادت اور توحید کے لیے پیدا کیا وہ اپنے شرف کے حامل نفس کو خسیس ترین مرتبے تک گرا دیتا ہے اور اس سے ایسی چیز کی عبادت کراتا ہے جو کچھ بھی نہیں؟ پس وہ اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم کرتا ہے۔ [14] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کو قائم کرنے یعنی شرک کو ترک کرنے کا حکم دیا جس کا لازمہ قیام توحید ہے، تو پھر والدین کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’اور ہم نے انسان کو تاکید کی ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اس سے عہد لیا اور اس عہد کو وصیت بنا دیا کہ ہم عنقریب اس سے پوچھیں گے کہ آیا اس نے اس وصیت کو پورا کیا؟ اور کیا اس نے اس وصیت کی حفاظت کی ہے یا نہیں؟ہم نے اسے ﴿بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اس کے والدین کے بارے میں‘‘ وصیت کی اور اس سے کہا: ﴿اشۡكُرۡ لِيۡ ﴾ میری عبودیت کے قیام اور میرے حقوق کی ادائیگی کے ذریعے سے میرا شکر ادا کر اور میری نعمتوں کو میری نافرمانی میں استعمال نہ کر۔ ﴿وَلِوَالِدَيۡكَ ﴾ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک، یعنی نرم و لطیف قول، فعل جمیل، ان کے سامنے تواضع و انکسار، ان کے اکرام و اجلال، ان کی ذمہ داریوں کو اٹھانے، ان کے ساتھ قول و فعل اور ہر لحاظ سے برے سلوک سے اجتناب کرنے کے ذریعے سے ان کا شکر ادا کر۔ ہم نے اسے یہ وصیت کرنے کے بعد آگاہ کیا ﴿اِلَيَّ الۡمَصِيۡرُ ﴾ کہ اے انسان! عنقریب تجھے اس ہستی کی طرف لوٹنا ہے جس نے تجھے وصیت کر کے ان حقوق کی ادائیگی کا مکلف بنایا ہے۔ وہ ہستی تجھ سے پوچھے گی: ’’کیا تو نے اس وصیت کو پورا کیا کہ وہ تجھے اس پر ثواب عطا کرے یا تو نے اس وصیت کو ضائع کر دیا تاکہ تجھے بدترین سزا دے؟‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بعد اس سبب کا ذکر فرمایا جو ماں کے ساتھ حسن سلوک کا موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ ﴾ ’’اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف برداشت کرکے اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا۔‘‘ یعنی نہایت مشقت کے ساتھ اس کو پیٹ میں اٹھائے رکھا۔ وہ استقرار نطفہ ہی سے مشقتوں کا سامنا کرتی رہتی ہے، مثلاً: بعض چیزوں کے کھانے کو جی چاہنا، بیماری، کمزوری، حمل کا بوجھ، حالت میں تغیر اور پھر وضع حمل کے وقت سخت تکلیف کا سامنا کرنا ﴿وَّفِصٰلُهٗ فِيۡ عَامَيۡنِ ﴾ ’’اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا۔‘‘ یعنی وہ اپنی ماں کی پرورش، کفالت اور رضاعت کا محتاج ہوتا ہے۔ کیا اس ہستی کے ساتھ حسن سلوک نہ کیا جائے جو شدید محبت کے ساتھ اپنے بچے کی خاطر یہ سختیاں برداشت کرتی ہے اور اس کے بیٹے کو اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور وصیت نہ کی جائے؟ [15]﴿وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ ﴾ اگر تیرے والدین کوشش کریں ﴿عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ ’’اس چیز کی کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔‘‘ تو یہ نہ سمجھ کہ شرک کے بارے میں ان کی اطاعت کرنا بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق ہر ایک کے حقوق پر مقدم ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ’لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ، ’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني: 170/18، ح: 381، و شرح السنة للبغوي: 44/10)یہاں (ایک قابل غور نکتہ ہے ) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (وَإِنْ جَاھَدَاکَ عَلٰی أَنْ تُشْرِکَ بِي مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَعُقَّھُمَا) ’’اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اسے شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کی نافرمانی اور ان سے بدسلوکی کر‘‘ بلکہ فرمایا: ﴿فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ یعنی تو شرک میں ان کی اطاعت نہ کر۔ باقی رہا ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا تو اس پر قائم رہ، اس لیے فرمایا:﴿وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا ﴾ ’’اور دنیا (کے معاملات) میں ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ رہ۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آ اور اگر وہ حالت کفر و عصیان پرہیں تو پھر ان کی پیروی نہ کر۔ ﴿وَّاتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾ ’’اور اس شخص کی راہ کی اتباع کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، اپنے رب کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اوراس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ان کے راستے کی پیروی یہ ہے کہ انابت الی اللہ میں ان کے مسلک پر چلا جائے۔ انابت سے مراد یہ ہے کہ قلب کے داعیوں اور ارادوں کا اللہ تعالیٰ کی مرضی کی طرف مائل ہونا اور اس کے قریب ہونا، پھر ان کا ارادوں کی پیروی کرنا۔ ﴿ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر میری طرف تمھارا لوٹنا ہے۔‘‘ اطاعت گزار، نافرمان اور صاحب انابت سب میری طرف لوٹیں گے ﴿فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو تم جو کام کرتے ہو میں ان کے بارے میں تمھیں آگاہ کروں گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں۔ [16]﴿يٰبُنَيَّ اِنَّهَاۤ اِنۡ تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ ﴾ ’’اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو‘‘ جو سب سے چھوٹی اور حقیر ترین چیز ہے ﴿فَتَكُنۡ فِيۡ صَخۡرَةٍ ﴾ ’’اور وہ کسی پتھر کے اندر ہو۔‘‘ یعنی چٹان کے درمیان ﴿اَوۡ فِي السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یا آسمان یا زمین کے اندر ہو‘‘ یعنی زمین وآسمان کی کسی بھی جہت میں ہو ﴿يَاۡتِ بِهَا اللّٰهُ ﴾ اللہ تعالیٰ اپنے علم وسیع، خبر تام اور قدرت کامل کے ذریعے سے اسے لے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم اور اپنی خبر میں بہت باریک بین ہے حتیٰ کہ وہ باطنی امور اور اسرار نہاں، بیابانوں اور سمندروں میں چھپی ہوئی چیزوں کی بھی خبر رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے جہاں تک ممکن ہو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے اور اس کی اطاعت کرنے کی ترغیب اور قبیح امور سے، خواہ کم ہوں یا زیادہ، ترہیب مقصود ہے۔ [17]﴿يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اے بیٹے! نماز کی پابندی کر‘‘ آپ نے اسے نماز کی ترغیب دی اور نماز کو اس لیے مختص کیا کہ یہ سب سے بڑی بدنی عبادت ہے۔ ﴿وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡهَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کر۔‘‘ یہ حکم اوامر و نواہی کی معرفت کو مستلزم ہے تاکہ معروف کا حکم دیا جائے اور نواہی سے روکا جائے، نیز یہ ایسے امر کا حکم ہے جس کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل ممکن نہیں، مثلاً: نرمی اور صبر وغیرہ۔ اگلے جملے میں صراحت کے ساتھ فرمایا: ﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ﴾ ’’اور اس تکلیف پر صبر کر جو تجھے پہنچے۔‘‘ یہ آیات کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیکی پر عمل کر کے اور برائی کو ترک کر کے خود اپنی ذات کی تکمیل کی جائے ، پھر نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے روک کر دوسروں کی تکمیل کی جائے۔ چونکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ جب بندہ نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا تو لامحالہ اسے آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا نیز اس راستے میں نفس کو مشقت بھی اٹھانا پڑتی ہے اس لیے اس کو اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا، بے شک یہ بات‘‘ جس کی لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی ہے ﴿مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ﴾ ایسے امور میں سے ہے جن کا عزم کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے اور صرف اولوالعزم لوگوں کو اس کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ [18]﴿وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ﴾ اور تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے تکبر کے ساتھ، لوگوں سے منہ نہ پھیر ﴿وَلَا تَمۡشِ فِي الۡاَرۡضِ مَرَحًا ﴾ اور انعام کرنے والی ہستی کو فراموش کر کے، اس کی نعمتوں پر فخر کرتے ہوئے خود پسندی کے ساتھ اتراتا ہوا زمین پر مت چل ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ﴾ ’’یقینا اللہ کسی خود پسند سے محبت نہیں کرتا‘‘ جو اپنے آپ میں، اپنی ہیئت میں تکبر کرتا ہے۔ ﴿فَخُوۡرٍ ﴾ یعنی جو اپنی باتوں میں فخر کا اظہار کرتا ہے۔ [19]﴿وَاقۡصِدۡ فِيۡ مَشۡيِكَ ﴾ ’’اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر۔‘‘ تکبر اور اتراہٹ کی چال چل نہ بناوٹ کی، بلکہ تواضع اور انکسار کے ساتھ چل۔ ﴿وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے حضور لوگوں کے ساتھ ادب کے طور پر اپنی آواز کو دھیما رکھ۔ ﴿اِنَّ اَنۡؔكَرَ الۡاَصۡوَاتِ ﴾ یعنی بدترین اور قبیح ترین آواز ﴿لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ ﴾ ’’گدھوں کی آواز ہے۔‘‘ اگر بہت زیادہ بلند آواز میں کوئی مصلحت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کو گدھے کے ساتھ مختص نہ کرتا جس کی خساست اور کم عقلی مسلّم ہے۔ یہ وصیتیں، جو جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کی ہیں، حکمت کی بڑی بڑی باتوں کی جامع ہیں اور ان باتوں کو بھی مستلزم ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ ہر وصیت کے ساتھ ایک داعیہ مقرون ہے جو امر کی صورت میں اس پر عمل کی دعوت دیتا ہے اور اگر معاملہ نہی کا ہے تو اس پر عمل سے روکتا ہے اور یہ چیز ہماری اس تفسیر پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ’’حکمت‘‘ کے ضمن میں بیان کی ہے کہ یہ احکام، ان کی حکمتوں اور ان کی مناسبات کا نام ہے۔لقمان نے اپنے بیٹے کو دین کی بنیاد یعنی توحید کا حکم دیا اور شرک سے منع کیا اور ترک شرک کے موجبات کو بیان کیا۔ جناب لقمان نے ا پنے بیٹے کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے موجبات کو بھی واضح کیا ، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ساتھ ساتھ اپنے والدین کا بھی شکر گزار ہو۔ پھر واضح کیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حکم کی اطاعت کی حدود وہاں تک ہیں جہاں تک وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتے۔ بایں ہمہ ان کے ساتھ مخالفت اور عدم شفقت کا رویہ نہ رکھے، بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ جب وہ اسے شرک پر مجبور کریں تو وہ ان کی اطاعت نہ کرے مگر اس صورت میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کو ترک نہ کرے۔جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے مراقبے کا حکم دیا اور اسے خوف دلایا کہ اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی نیکی اور بدی اس کے حضور پیش ہو گی۔ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر سے روکا، اسے تواضع اور انکسار کا حکم دیا، اسے خوشی میں اترانے اور اکڑنے سے منع کیا، اسے اپنی حرکات اور آواز میں سکون اور دھیما پن اختیارکرنے کا حکم دیا اور اس کے متضاد رویے سے روکا، اسے ترغیب دی کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے نیز نماز قائم کرنے اور صبر کرنے کا حکم دیا، جن کی مدد سے ہر کام آسان ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ﴾(البقرۃ:2؍45) ’’اور صبر اور نماز سے مدد لیا کرو۔‘‘ جس شخص نے ان باتوں کی وصیت کی ہو وہ اس امر کا حق دار ہے کہ وہ حکمت و دانائی کے لیے مخصوص اور مشہور ہو، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ اس نے ان کے سامنے اس کی حکمت کا ذکر کیا جو ان کے لیے اچھا نمونہ بن سکے۔
31:19

وَٱقۡصِدۡ فِي مَشۡيِكَ وَٱغۡضُضۡ مِن صَوۡتِكَۚ إِنَّ أَنكَرَ ٱلۡأَصۡوَٰتِ لَصَوۡتُ ٱلۡحَمِيرِ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے لقمان کو حکمت یہ کہ شکر کر تو اللہ کااور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقیناً وہ شکر کرتا ہے اپنی ہی ذات کے لیے، اور جس نے ناشکری کی تو بلاشبہ اللہ بہت بے پروا، قابل تعریف ہے (12) اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو ،جبکہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا، اے میرے بیٹے! نہ شریک ٹھہرا تو ساتھ اللہ کے، بلاشبہ شرک البتہ ظلم ہے بہت بڑا (13) اور وصیت کی ہم نے انسان کو ساتھ اپنے والدین کے (نیک سلوک کرنے کی)، اٹھائے رکھا اسے اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری کے (باوجود) اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو سال میں (اور ) یہ کہ شکر کر تو میرا اور اپنے والدین کا اور میری ہی طرف ہے لوٹنا (14) اور اگر وہ دونوں مجبور کریں تجھے اس بات پر کہ تو شریک ٹھہرائے میرے ساتھ اس چیز کو کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، تو نہ اطاعت کرنا تو ان دونوں کی، اور اچھا سلوک کر تو ان دونوں سے دنیا میں معروف طریقے سے، اور اتباع کر تو اس شخص کے راستے کا جو رجوع کرتا ہے میری طرف، پھر میری ہی طرف واپسی ہے تمھاری پس خبر دوں گا میں تمھیں ا س کی جو تھے تم عمل کرتے (15) اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر ہو وہ (عمل) برابر ایک دانے رائی کے ، پھر ہو وہ کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین میں تو لے آئے گا اسے اللہ، بلاشبہ اللہ نہایت باریک بیں، خوب باخبر ہے (16) اے میرے (پیارے) بیٹے! قائم کر تو نماز اور حکم کر توساتھ نیکی کے، اور روک تو برے کاموں سے، اور صبر کر تو اوپر اس (تکلیف) کے جو پہنچے تجھے، بلاشبہ یہ ہے ہمت کے کاموں میں سے (17) اور نہ تو پھیر اپنا رخ لوگوں سے اور نہ تو چل زمین میں اکڑ کر ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا ہرمتکبر، شیخی خور ے کو (18) اورمیانہ روی اختیار کر تو اپنی چال میں اور پست رکھ تو اپنی آواز بلاشبہ بدترین آوازوں میں سے البتہ آواز ہے گدھے کی (19) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ، ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے، مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت، تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ عمل کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطاو بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان کے لیے اپنے فضل و کرم میں اضافہ کرے، نیز آگاہ فرمایا کہ شکر کی منفعت شکر کرنے والوں ہی کی طرف لوٹتی ہے اور جو کوئی شکر ادا نہیں کرتا تو اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے، جو کوئی اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں وہ بے نیاز اور قابل ستائش ہے، اللہ تعالیٰ کی بے نیازی اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کا اپنی صفات کمال اور اپنے خوبصورت کاموں میں قابل ستائش ہونا اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کے ان دونوں اوصاف میں سے ہر وصف، صفت کمال ہے اور دونوں اوصاف کا مجتمع ہونا گویا کمال کے اندر کمال کا اضافہ ہے۔اس بارے میں اصحاب تفسیر میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا جناب لقمان نبی تھے یا اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت سے نوازا تھا۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی تھی ان میں کچھ ایسی چیزوں کا ذکر فرمایا جو ان کی حکمت پر دلالت کرتی ہیں۔ انھوں نے حکمت کے بڑے بڑے قواعد اور اصولوں کا ذکر کیا: [13]﴿وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ﴾ ’’اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا‘‘ یا انھوں نے اپنے بیٹے کو ایک بات کہی جس کے ذریعے سے انھوں نے اسے امرونہی کی نصیحت کی جو ترغیب و ترہیب سے مقرون تھی۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو اخلاص کا حکم دیا، اسے شرک سے منع کیا اور ممانعت کا سبب بیان کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یقینا شرک ظلم عظیم ہے‘‘ اور اس کے ظلم عظیم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی برا نہیں جو مٹی سے بنی ہوئی مخلوق کو کائنات کے مالک کے مساوی قرار دیتا ہے، وہ اس ناچیز کو جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی اس ہستی کے برابر سمجھتا ہے جو تمام اختیارات کی مالک ہے۔ جو ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہستی کو رب کامل کے برابر مانتا ہے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہے، وہ ایسی ہستی کو جس کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی کسی کو نعمت عطا کر سکے ایسی ہستی کے مساوی قرار دیتا ہے کہ مخلوق کے دین و دنیا، آخرت اور ان کے قلب و بدن میں جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور اس ہستی کے سوا کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتا۔ کیا اس سے بھی بڑا کوئی ظلم ہے؟کیا اس سے بڑا کوئی ظلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی عبادت اور توحید کے لیے پیدا کیا وہ اپنے شرف کے حامل نفس کو خسیس ترین مرتبے تک گرا دیتا ہے اور اس سے ایسی چیز کی عبادت کراتا ہے جو کچھ بھی نہیں؟ پس وہ اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم کرتا ہے۔ [14] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کو قائم کرنے یعنی شرک کو ترک کرنے کا حکم دیا جس کا لازمہ قیام توحید ہے، تو پھر والدین کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’اور ہم نے انسان کو تاکید کی ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اس سے عہد لیا اور اس عہد کو وصیت بنا دیا کہ ہم عنقریب اس سے پوچھیں گے کہ آیا اس نے اس وصیت کو پورا کیا؟ اور کیا اس نے اس وصیت کی حفاظت کی ہے یا نہیں؟ہم نے اسے ﴿بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اس کے والدین کے بارے میں‘‘ وصیت کی اور اس سے کہا: ﴿اشۡكُرۡ لِيۡ ﴾ میری عبودیت کے قیام اور میرے حقوق کی ادائیگی کے ذریعے سے میرا شکر ادا کر اور میری نعمتوں کو میری نافرمانی میں استعمال نہ کر۔ ﴿وَلِوَالِدَيۡكَ ﴾ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک، یعنی نرم و لطیف قول، فعل جمیل، ان کے سامنے تواضع و انکسار، ان کے اکرام و اجلال، ان کی ذمہ داریوں کو اٹھانے، ان کے ساتھ قول و فعل اور ہر لحاظ سے برے سلوک سے اجتناب کرنے کے ذریعے سے ان کا شکر ادا کر۔ ہم نے اسے یہ وصیت کرنے کے بعد آگاہ کیا ﴿اِلَيَّ الۡمَصِيۡرُ ﴾ کہ اے انسان! عنقریب تجھے اس ہستی کی طرف لوٹنا ہے جس نے تجھے وصیت کر کے ان حقوق کی ادائیگی کا مکلف بنایا ہے۔ وہ ہستی تجھ سے پوچھے گی: ’’کیا تو نے اس وصیت کو پورا کیا کہ وہ تجھے اس پر ثواب عطا کرے یا تو نے اس وصیت کو ضائع کر دیا تاکہ تجھے بدترین سزا دے؟‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بعد اس سبب کا ذکر فرمایا جو ماں کے ساتھ حسن سلوک کا موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ ﴾ ’’اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف برداشت کرکے اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا۔‘‘ یعنی نہایت مشقت کے ساتھ اس کو پیٹ میں اٹھائے رکھا۔ وہ استقرار نطفہ ہی سے مشقتوں کا سامنا کرتی رہتی ہے، مثلاً: بعض چیزوں کے کھانے کو جی چاہنا، بیماری، کمزوری، حمل کا بوجھ، حالت میں تغیر اور پھر وضع حمل کے وقت سخت تکلیف کا سامنا کرنا ﴿وَّفِصٰلُهٗ فِيۡ عَامَيۡنِ ﴾ ’’اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا۔‘‘ یعنی وہ اپنی ماں کی پرورش، کفالت اور رضاعت کا محتاج ہوتا ہے۔ کیا اس ہستی کے ساتھ حسن سلوک نہ کیا جائے جو شدید محبت کے ساتھ اپنے بچے کی خاطر یہ سختیاں برداشت کرتی ہے اور اس کے بیٹے کو اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور وصیت نہ کی جائے؟ [15]﴿وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ ﴾ اگر تیرے والدین کوشش کریں ﴿عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ ’’اس چیز کی کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔‘‘ تو یہ نہ سمجھ کہ شرک کے بارے میں ان کی اطاعت کرنا بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق ہر ایک کے حقوق پر مقدم ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ’لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ، ’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني: 170/18، ح: 381، و شرح السنة للبغوي: 44/10)یہاں (ایک قابل غور نکتہ ہے ) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (وَإِنْ جَاھَدَاکَ عَلٰی أَنْ تُشْرِکَ بِي مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَعُقَّھُمَا) ’’اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اسے شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کی نافرمانی اور ان سے بدسلوکی کر‘‘ بلکہ فرمایا: ﴿فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ یعنی تو شرک میں ان کی اطاعت نہ کر۔ باقی رہا ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا تو اس پر قائم رہ، اس لیے فرمایا:﴿وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا ﴾ ’’اور دنیا (کے معاملات) میں ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ رہ۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آ اور اگر وہ حالت کفر و عصیان پرہیں تو پھر ان کی پیروی نہ کر۔ ﴿وَّاتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾ ’’اور اس شخص کی راہ کی اتباع کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، اپنے رب کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اوراس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ان کے راستے کی پیروی یہ ہے کہ انابت الی اللہ میں ان کے مسلک پر چلا جائے۔ انابت سے مراد یہ ہے کہ قلب کے داعیوں اور ارادوں کا اللہ تعالیٰ کی مرضی کی طرف مائل ہونا اور اس کے قریب ہونا، پھر ان کا ارادوں کی پیروی کرنا۔ ﴿ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر میری طرف تمھارا لوٹنا ہے۔‘‘ اطاعت گزار، نافرمان اور صاحب انابت سب میری طرف لوٹیں گے ﴿فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو تم جو کام کرتے ہو میں ان کے بارے میں تمھیں آگاہ کروں گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں۔ [16]﴿يٰبُنَيَّ اِنَّهَاۤ اِنۡ تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ ﴾ ’’اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو‘‘ جو سب سے چھوٹی اور حقیر ترین چیز ہے ﴿فَتَكُنۡ فِيۡ صَخۡرَةٍ ﴾ ’’اور وہ کسی پتھر کے اندر ہو۔‘‘ یعنی چٹان کے درمیان ﴿اَوۡ فِي السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یا آسمان یا زمین کے اندر ہو‘‘ یعنی زمین وآسمان کی کسی بھی جہت میں ہو ﴿يَاۡتِ بِهَا اللّٰهُ ﴾ اللہ تعالیٰ اپنے علم وسیع، خبر تام اور قدرت کامل کے ذریعے سے اسے لے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم اور اپنی خبر میں بہت باریک بین ہے حتیٰ کہ وہ باطنی امور اور اسرار نہاں، بیابانوں اور سمندروں میں چھپی ہوئی چیزوں کی بھی خبر رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے جہاں تک ممکن ہو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے اور اس کی اطاعت کرنے کی ترغیب اور قبیح امور سے، خواہ کم ہوں یا زیادہ، ترہیب مقصود ہے۔ [17]﴿يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اے بیٹے! نماز کی پابندی کر‘‘ آپ نے اسے نماز کی ترغیب دی اور نماز کو اس لیے مختص کیا کہ یہ سب سے بڑی بدنی عبادت ہے۔ ﴿وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡهَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کر۔‘‘ یہ حکم اوامر و نواہی کی معرفت کو مستلزم ہے تاکہ معروف کا حکم دیا جائے اور نواہی سے روکا جائے، نیز یہ ایسے امر کا حکم ہے جس کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل ممکن نہیں، مثلاً: نرمی اور صبر وغیرہ۔ اگلے جملے میں صراحت کے ساتھ فرمایا: ﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ﴾ ’’اور اس تکلیف پر صبر کر جو تجھے پہنچے۔‘‘ یہ آیات کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیکی پر عمل کر کے اور برائی کو ترک کر کے خود اپنی ذات کی تکمیل کی جائے ، پھر نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے روک کر دوسروں کی تکمیل کی جائے۔ چونکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ جب بندہ نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا تو لامحالہ اسے آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا نیز اس راستے میں نفس کو مشقت بھی اٹھانا پڑتی ہے اس لیے اس کو اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا، بے شک یہ بات‘‘ جس کی لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی ہے ﴿مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ﴾ ایسے امور میں سے ہے جن کا عزم کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے اور صرف اولوالعزم لوگوں کو اس کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ [18]﴿وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ﴾ اور تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے تکبر کے ساتھ، لوگوں سے منہ نہ پھیر ﴿وَلَا تَمۡشِ فِي الۡاَرۡضِ مَرَحًا ﴾ اور انعام کرنے والی ہستی کو فراموش کر کے، اس کی نعمتوں پر فخر کرتے ہوئے خود پسندی کے ساتھ اتراتا ہوا زمین پر مت چل ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ﴾ ’’یقینا اللہ کسی خود پسند سے محبت نہیں کرتا‘‘ جو اپنے آپ میں، اپنی ہیئت میں تکبر کرتا ہے۔ ﴿فَخُوۡرٍ ﴾ یعنی جو اپنی باتوں میں فخر کا اظہار کرتا ہے۔ [19]﴿وَاقۡصِدۡ فِيۡ مَشۡيِكَ ﴾ ’’اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر۔‘‘ تکبر اور اتراہٹ کی چال چل نہ بناوٹ کی، بلکہ تواضع اور انکسار کے ساتھ چل۔ ﴿وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے حضور لوگوں کے ساتھ ادب کے طور پر اپنی آواز کو دھیما رکھ۔ ﴿اِنَّ اَنۡؔكَرَ الۡاَصۡوَاتِ ﴾ یعنی بدترین اور قبیح ترین آواز ﴿لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ ﴾ ’’گدھوں کی آواز ہے۔‘‘ اگر بہت زیادہ بلند آواز میں کوئی مصلحت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کو گدھے کے ساتھ مختص نہ کرتا جس کی خساست اور کم عقلی مسلّم ہے۔ یہ وصیتیں، جو جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کی ہیں، حکمت کی بڑی بڑی باتوں کی جامع ہیں اور ان باتوں کو بھی مستلزم ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ ہر وصیت کے ساتھ ایک داعیہ مقرون ہے جو امر کی صورت میں اس پر عمل کی دعوت دیتا ہے اور اگر معاملہ نہی کا ہے تو اس پر عمل سے روکتا ہے اور یہ چیز ہماری اس تفسیر پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ’’حکمت‘‘ کے ضمن میں بیان کی ہے کہ یہ احکام، ان کی حکمتوں اور ان کی مناسبات کا نام ہے۔لقمان نے اپنے بیٹے کو دین کی بنیاد یعنی توحید کا حکم دیا اور شرک سے منع کیا اور ترک شرک کے موجبات کو بیان کیا۔ جناب لقمان نے ا پنے بیٹے کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے موجبات کو بھی واضح کیا ، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ساتھ ساتھ اپنے والدین کا بھی شکر گزار ہو۔ پھر واضح کیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حکم کی اطاعت کی حدود وہاں تک ہیں جہاں تک وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتے۔ بایں ہمہ ان کے ساتھ مخالفت اور عدم شفقت کا رویہ نہ رکھے، بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ جب وہ اسے شرک پر مجبور کریں تو وہ ان کی اطاعت نہ کرے مگر اس صورت میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کو ترک نہ کرے۔جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے مراقبے کا حکم دیا اور اسے خوف دلایا کہ اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی نیکی اور بدی اس کے حضور پیش ہو گی۔ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر سے روکا، اسے تواضع اور انکسار کا حکم دیا، اسے خوشی میں اترانے اور اکڑنے سے منع کیا، اسے اپنی حرکات اور آواز میں سکون اور دھیما پن اختیارکرنے کا حکم دیا اور اس کے متضاد رویے سے روکا، اسے ترغیب دی کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے نیز نماز قائم کرنے اور صبر کرنے کا حکم دیا، جن کی مدد سے ہر کام آسان ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ﴾(البقرۃ:2؍45) ’’اور صبر اور نماز سے مدد لیا کرو۔‘‘ جس شخص نے ان باتوں کی وصیت کی ہو وہ اس امر کا حق دار ہے کہ وہ حکمت و دانائی کے لیے مخصوص اور مشہور ہو، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ اس نے ان کے سامنے اس کی حکمت کا ذکر کیا جو ان کے لیے اچھا نمونہ بن سکے۔
31:20

أَلَمۡ تَرَوۡاْ أَنَّ ٱللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَأَسۡبَغَ عَلَيۡكُمۡ نِعَمَهُۥ ظَٰهِرَةٗ وَبَاطِنَةٗۗ وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُجَٰدِلُ فِي ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَلَا هُدٗى وَلَا كِتَٰبٖ مُّنِيرٖ

کیا نہیں دیکھا تم نے کہ بے شک اللہ نے کام میں لگا دیا ہے تمھارے لیے (ان سب کو) جو کچھ ہے آسمانوں میں اورجو کچھ ہے زمین میں اورپوری کر دیں اس نے تم پر اپنی نعمتیں ظاہری اورچھپی اور بعض لوگ وہ ہیں جو جھگڑتے ہیں اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر کسی کتاب روشن کے(20) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، تم پیروی کرو اس کی جسے نازل کیا اللہ نے تو وہ کہتے ہیں: ہم تو پیروی کریں گے اسی (راستے) کی کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو، کیا (پیروی کر یں گے انھی کی) اگرچہ تھا شیطان بلاتا رہا ان کو طرف عذاب جہنم کی؟(21) [20، 21] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے اور انھیں ان نعمتوں پر شکر کرنے، ان کا مشاہدہ کرنے اور ان سے عدم غفلت کا حکم دیتا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿اَلَمۡ تَرَوۡا ﴾ کیا تم نے مشاہدہ نہیں کیا؟ کیا تم نے اپنی ظاہری اور دل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش نہیں کی؟ ﴿اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمۡ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ ﴾ کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے (سورج، چاند اور ستاروں میں سے) جو کچھ آسمان میں ہے، اسے تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے۔‘‘ یہ سب بندوں کے فائدے کے لیے مسخر ہیں۔﴿وَمَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور جو کچھ زمین میں ہے۔‘‘ یعنی تمام حیوانات، درخت، کھیتیاں، دریا اور معدنیات وغیرہ کو تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَ لَكُمۡ مَّا فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ﴾(البقرۃ:2؍29) ’’وہی تو ہے جس نے زمین کی سب چیزیں تمھارے لیے پیدا کیں۔‘‘ ﴿وَاَسۡبَغَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ اور جس نے تمھیں دین و دنیا کی نعمتوں، بہت سی منفعتوں کے حصول اور مضرتوں سے دور ہونے جیسی وافر، ظاہری اور باطنی نعمتوں سے ڈھانپ لیا ہے۔ ان میں سے بعض کو ہم جانتے ہیں اور بعض کو نہیں جانتے۔تمھارا وظیفہ یہ ہونا چاہیے کہ تم منعم کی محبت کے ساتھ اور اس کے سامنے سرافگندہ ہو کر ان نعمتوں پر شکر کا اظہار کرو، ان نعمتوں کو اس کی اطاعت میں صرف کرو اور ان نعمتوں سے ان کی نافرمانی پر مدد نہ لو۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان نعمتوں کے پے درپے عطا ہونے کے باوجود ﴿مِنَ النَّاسِ مَنۡ ﴾ ’’لوگوں میں ایسا آدمی بھی ہے جو‘‘ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا بلکہ ان نعمتوں پر ناشکری کرتا ہے۔ اس ہستی کا انکار کرتا ہے جس نے اسے ان نعمتوں سے نوازا اور اس نے اس کے اس حق کو تسلیم نہ کیا جس کے لیے اس نے کتابیں نازل کیں اور اپنے رسول بھیجے۔ ﴿يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ ﴾ اور اس نے باطل دلائل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں جھگڑنا شروع کیا تاکہ حق کو نیچا دکھائے اور اس دعوت کو جسے رسول لے کر آیا ہے، یعنی اللہ وحدہ کی عبادت کی دعوت کو ٹھکرا دے اور یہ جھگڑنے والا شخص ﴿بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ کسی علم اور کسی بصیرت کے بغیر جھگڑتا ہے۔ پس اس کا جھگڑا کسی علمی بنیاد پر مبنی نہیں ہے کہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے اور اس کے ساتھ بات چیت میں نرمی کی جائے ﴿وَّلَا هُدًى ﴾ اور نہ کسی ہدایت پر مبنی ہے، جس کی بنا پر ہدایت یافتہ لوگوں کی پیروی کی جاتی ہے ﴿وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيۡرٍ ﴾اور نہ اس کا مجادلہ کسی روشن اور حق کو واضح کرنے والی کسی کتاب پر مبنی ہے۔ پس اس کا مجادلہ کسی معقول یا منقول دلیل پر مبنی ہے نہ ہدایت یافتہ لوگوں کی اقتدا پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کی بحث و جدال تو صرف اپنے ان آباء و اجداد کی تقلید پر مبنی ہے جو کسی طرح بھی راہ راست پر نہ تھے، بلکہ خود گمراہ اور گمراہ کنندہ تھے۔﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّبِعُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو اللہ نے نازل کیا ہے اس کی اتباع کرو۔‘‘ یعنی جو کچھ اس نے رسولوں کے ذریعے سے نازل فرمایا ہے کیونکہ یہی حق ہے اور ان کے سامنے اس کے ظاہری دلائل بیان کیے ہیں ﴿قَالُوۡا ﴾ تو وہ اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿بَلۡ نَتَّبِـعُ مَا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا ﴾ ’’بلکہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔‘‘ یعنی ہم کسی کی خاطر، خواہ وہ کوئی بھی ہو، ان عقائد و نظریات کو نہیں چھوڑ سکتے جن پر ہمارے باپ دادا عمل پیرا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا اور ان کے باپ دادا کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَوَلَوۡ كَانَ الشَّيۡطٰنُ يَدۡعُوۡهُمۡ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيۡرِ ﴾ ’’خواہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو۔‘‘ یعنی ان کے آباء و اجداد نے شیطان کی آواز پر لبیک کہا اور اس کے پیچھے چل پڑے اور یوں وہ شیطان کے چیلوں میں شامل ہو گئے اور ان پر حیرت و تردد نے غلبہ پا لیا۔ کیا یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ ان کی پیروی کی جائے اور ان کے طریقے پر چلا جائے یا یہ چیز ان کو ان کے آباء و اجداد کے مسلک پر چلنے سے ڈراتی ہے اور ان کی اور ان کے پیروکاروں کی گمراہی کا اعلان کرتی ہے؟ ان کے آباء واجداد کے لیے شیطان کی دعوت کسی محبت اور مودت کی بنا پر نہیں بلکہ یہ تو ان کے ساتھ عداوت اور فریب ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس کے پیروکار اس کے دشمن ہیں جن پر قابو پانے میں وہ کامیاب ہوا ہے۔ جب لوگ اس کی دعوت کو قبول کر کے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کے مستحق بنتے ہیں تو اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔
31:21

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّبِعُواْ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُواْ بَلۡ نَتَّبِعُ مَا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ ءَابَآءَنَآۚ أَوَلَوۡ كَانَ ٱلشَّيۡطَٰنُ يَدۡعُوهُمۡ إِلَىٰ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ

کیا نہیں دیکھا تم نے کہ بے شک اللہ نے کام میں لگا دیا ہے تمھارے لیے (ان سب کو) جو کچھ ہے آسمانوں میں اورجو کچھ ہے زمین میں اورپوری کر دیں اس نے تم پر اپنی نعمتیں ظاہری اورچھپی اور بعض لوگ وہ ہیں جو جھگڑتے ہیں اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر کسی کتاب روشن کے(20) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، تم پیروی کرو اس کی جسے نازل کیا اللہ نے تو وہ کہتے ہیں: ہم تو پیروی کریں گے اسی (راستے) کی کہ پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو، کیا (پیروی کر یں گے انھی کی) اگرچہ تھا شیطان بلاتا رہا ان کو طرف عذاب جہنم کی؟(21) [20، 21] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے اور انھیں ان نعمتوں پر شکر کرنے، ان کا مشاہدہ کرنے اور ان سے عدم غفلت کا حکم دیتا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿اَلَمۡ تَرَوۡا ﴾ کیا تم نے مشاہدہ نہیں کیا؟ کیا تم نے اپنی ظاہری اور دل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش نہیں کی؟ ﴿اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمۡ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ ﴾ کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے (سورج، چاند اور ستاروں میں سے) جو کچھ آسمان میں ہے، اسے تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے۔‘‘ یہ سب بندوں کے فائدے کے لیے مسخر ہیں۔﴿وَمَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور جو کچھ زمین میں ہے۔‘‘ یعنی تمام حیوانات، درخت، کھیتیاں، دریا اور معدنیات وغیرہ کو تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَ لَكُمۡ مَّا فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ﴾(البقرۃ:2؍29) ’’وہی تو ہے جس نے زمین کی سب چیزیں تمھارے لیے پیدا کیں۔‘‘ ﴿وَاَسۡبَغَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ اور جس نے تمھیں دین و دنیا کی نعمتوں، بہت سی منفعتوں کے حصول اور مضرتوں سے دور ہونے جیسی وافر، ظاہری اور باطنی نعمتوں سے ڈھانپ لیا ہے۔ ان میں سے بعض کو ہم جانتے ہیں اور بعض کو نہیں جانتے۔تمھارا وظیفہ یہ ہونا چاہیے کہ تم منعم کی محبت کے ساتھ اور اس کے سامنے سرافگندہ ہو کر ان نعمتوں پر شکر کا اظہار کرو، ان نعمتوں کو اس کی اطاعت میں صرف کرو اور ان نعمتوں سے ان کی نافرمانی پر مدد نہ لو۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان نعمتوں کے پے درپے عطا ہونے کے باوجود ﴿مِنَ النَّاسِ مَنۡ ﴾ ’’لوگوں میں ایسا آدمی بھی ہے جو‘‘ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا بلکہ ان نعمتوں پر ناشکری کرتا ہے۔ اس ہستی کا انکار کرتا ہے جس نے اسے ان نعمتوں سے نوازا اور اس نے اس کے اس حق کو تسلیم نہ کیا جس کے لیے اس نے کتابیں نازل کیں اور اپنے رسول بھیجے۔ ﴿يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ ﴾ اور اس نے باطل دلائل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں جھگڑنا شروع کیا تاکہ حق کو نیچا دکھائے اور اس دعوت کو جسے رسول لے کر آیا ہے، یعنی اللہ وحدہ کی عبادت کی دعوت کو ٹھکرا دے اور یہ جھگڑنے والا شخص ﴿بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ کسی علم اور کسی بصیرت کے بغیر جھگڑتا ہے۔ پس اس کا جھگڑا کسی علمی بنیاد پر مبنی نہیں ہے کہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے اور اس کے ساتھ بات چیت میں نرمی کی جائے ﴿وَّلَا هُدًى ﴾ اور نہ کسی ہدایت پر مبنی ہے، جس کی بنا پر ہدایت یافتہ لوگوں کی پیروی کی جاتی ہے ﴿وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيۡرٍ ﴾اور نہ اس کا مجادلہ کسی روشن اور حق کو واضح کرنے والی کسی کتاب پر مبنی ہے۔ پس اس کا مجادلہ کسی معقول یا منقول دلیل پر مبنی ہے نہ ہدایت یافتہ لوگوں کی اقتدا پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کی بحث و جدال تو صرف اپنے ان آباء و اجداد کی تقلید پر مبنی ہے جو کسی طرح بھی راہ راست پر نہ تھے، بلکہ خود گمراہ اور گمراہ کنندہ تھے۔﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّبِعُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو اللہ نے نازل کیا ہے اس کی اتباع کرو۔‘‘ یعنی جو کچھ اس نے رسولوں کے ذریعے سے نازل فرمایا ہے کیونکہ یہی حق ہے اور ان کے سامنے اس کے ظاہری دلائل بیان کیے ہیں ﴿قَالُوۡا ﴾ تو وہ اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿بَلۡ نَتَّبِـعُ مَا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا ﴾ ’’بلکہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔‘‘ یعنی ہم کسی کی خاطر، خواہ وہ کوئی بھی ہو، ان عقائد و نظریات کو نہیں چھوڑ سکتے جن پر ہمارے باپ دادا عمل پیرا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا اور ان کے باپ دادا کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَوَلَوۡ كَانَ الشَّيۡطٰنُ يَدۡعُوۡهُمۡ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيۡرِ ﴾ ’’خواہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو۔‘‘ یعنی ان کے آباء و اجداد نے شیطان کی آواز پر لبیک کہا اور اس کے پیچھے چل پڑے اور یوں وہ شیطان کے چیلوں میں شامل ہو گئے اور ان پر حیرت و تردد نے غلبہ پا لیا۔ کیا یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ ان کی پیروی کی جائے اور ان کے طریقے پر چلا جائے یا یہ چیز ان کو ان کے آباء و اجداد کے مسلک پر چلنے سے ڈراتی ہے اور ان کی اور ان کے پیروکاروں کی گمراہی کا اعلان کرتی ہے؟ ان کے آباء واجداد کے لیے شیطان کی دعوت کسی محبت اور مودت کی بنا پر نہیں بلکہ یہ تو ان کے ساتھ عداوت اور فریب ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس کے پیروکار اس کے دشمن ہیں جن پر قابو پانے میں وہ کامیاب ہوا ہے۔ جب لوگ اس کی دعوت کو قبول کر کے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کے مستحق بنتے ہیں تو اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔
31:22

۞وَمَن يُسۡلِمۡ وَجۡهَهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ وَهُوَ مُحۡسِنٞ فَقَدِ ٱسۡتَمۡسَكَ بِٱلۡعُرۡوَةِ ٱلۡوُثۡقَىٰۗ وَإِلَى ٱللَّهِ عَٰقِبَةُ ٱلۡأُمُورِ

اور جو جھکا دے اپنا چہرہ طرف اللہ کی، جبکہ وہ نیکوکار ہو تو تحقیق پکڑ لیا اس نے کڑا مضبوط، اور اللہ ہی کی طرف ہے انجام سب کاموں کا(22) اور جس نے کفر کیا تو نہ غم میں ڈالے آپ کو کفر اس کا، ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا، پس ہم خبر دیں گے ان کو (اس کی) جو کچھ انھوں نے کیا ہوگا، بے شک اللہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(23) فائدہ دیتے ہیں ہم ان کو تھوڑا سا ، پھر دھکیل دیں گے ہم ان کو طرف سخت عذاب کی(24) [22]﴿وَمَنۡ يُّسۡلِمۡ وَجۡهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے شریعت پر عمل پیرا ہوتا ہے ﴿وَهُوَ مُحۡسِنٌ ﴾ تو وہ اسلام میں محسن ہے کیونکہ اس کا عمل شرعی ہے اور وہ اس میں رسول ﷺکی اتباع کرتا ہے، یا اس کا معنی یہ ہے کہ جو کوئی عبادات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے اور وہ اپنی عبادات کو احسان کے درجہ تک لے جاتا ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتا ہے گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور اگر یہ کیفیت پیدا نہیں کر سکتا تو وہ اس طرح عبادت کرتا ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حقوق قائم کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے اور ان کے حقوق ادا کرتا ہے… تینوں معانی میں تلازم پایا جاتا ہے اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں سوائے اس پہلو سے کہ دونوں لفظوں کے مورد میں اختلاف ہے ورنہ قبول کرنے اور تکمیل کے لحاظ سے، تمام معانی، دین کے تمام قوانین اور اصولوں کو قائم کرنے پر متفق ہیں۔جو کوئی ان امور پر عمل پیرا ہوا تو ﴿اسۡتَمۡسَكَ بِالۡعُرۡوَةِ الۡوُثۡقٰى ﴾ ’’اس نے مضبوط سہارے کو تھام لیا۔‘‘ یعنی جس نے وہ سہارا تھام لیا جو بھروسے کے قابل تھا، وہ نجات پاگیا اور ہلاکت سے بچ گیا اور ہر بھلائی سے بہرہ ور ہوا اور جس نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا یا اس نے ’’احسان‘‘ سے کام نہ لیا تو اس نے بھروسے کے قابل سہارے کو نہ تھاما اور جب اس نے اس قابل اعتماد سہارے کو نہ تھاما تو وہاں ہلاکت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ ﴾ اورتمام معاملات کا مرجع و منتہا اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا وہ ان کے اعمال کے تقاضوں اور ان کے انجام کے مطابق ان کو جزا وسزا دے گا، لہٰذا اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ [23]﴿وَمَنۡ كَفَرَ فَلَا يَحۡزُنۡكَ كُفۡرُهٗ﴾ ’’اور جو کفر کرے تو اس کا کفر تمھیں غمگین نہ کردے‘‘ کیونکہ آپ کے ذمہ دعوت توحید اور تبلیغ کا جو فرض تھا وہ آپ نے ادا کر دیا اگر کوئی راہ راست اختیار نہیں کرتا، (تو نہ سہی)اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ اجر کے مستحق ہو گئے ، لہٰذا ان کے راہ راست اختیار نہ کرنے پر، آپ کے لیے حزن و غم کا کوئی مقام نہیں کیونکہ ان کے اندر کوئی بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت سے نواز دیتا۔ آپ اس بات پر بھی غم زدہ نہ ہوں کہ انھوں نے آپ کے ساتھ عداوت کی جسارت کی اور آپ کے خلاف اعلان جنگ کیا، وہ اپنی گمراہی اور کفر پر جمے رہے نیز آپ کو اس بارے میں بھی غم زدہ ہونے کی ضرورت نہیں کہ ان پر اس دنیا ہی میں عذاب بھیج دیا گیا۔﴿اِلَيۡنَا مَرۡجِعُهُمۡ فَنُنَبِّئُهُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ﴾ ’’ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے، پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم ان کو بتا دیں گے۔‘‘ ہم انھیں ان کے کفر، عداوت، اللہ کی روشنی کو بجھانے کے لیے ان کی بھاگ دوڑ کرنے اور اس کے رسولوں کو اذیت پہنچانے کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ سینے کے اسرار نہاں کو بھی جانتا ہے‘‘ جن کے بارے میں کبھی کسی نے بات نہیں کی تب ان معاملات کو کیسے نہیں جانے گاجو ظاہر اور سب کے سامنے ہیں؟ [24]﴿نُمَتِّعُهُمۡ قَلِيۡلًا ﴾ ’’ہم انھیں تھوڑا سا فائدہ اٹھانے کی مہلت دیتے ہیں‘‘ اس دنیا میں تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اضافہ کر لیں اور یوں ان کے عذاب میں اضافہ ہو جائے۔ ﴿ثُمَّ نَضۡطَرُّهُمۡ ﴾ ’’ پھر ہم انھیں جبراً کھینچ لائیں گے‘‘ ﴿اِلٰى عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’ایک سخت عذاب کی طرف۔‘‘ یعنی وہ عذاب جو اپنی سختی، بہت بڑا ہونے، اپنی قباحت، اپنی الم ناکی اور اپنی شدت میں انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔
31:23

وَمَن كَفَرَ فَلَا يَحۡزُنكَ كُفۡرُهُۥٓۚ إِلَيۡنَا مَرۡجِعُهُمۡ فَنُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

اور جو جھکا دے اپنا چہرہ طرف اللہ کی، جبکہ وہ نیکوکار ہو تو تحقیق پکڑ لیا اس نے کڑا مضبوط، اور اللہ ہی کی طرف ہے انجام سب کاموں کا(22) اور جس نے کفر کیا تو نہ غم میں ڈالے آپ کو کفر اس کا، ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا، پس ہم خبر دیں گے ان کو (اس کی) جو کچھ انھوں نے کیا ہوگا، بے شک اللہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(23) فائدہ دیتے ہیں ہم ان کو تھوڑا سا ، پھر دھکیل دیں گے ہم ان کو طرف سخت عذاب کی(24) [22]﴿وَمَنۡ يُّسۡلِمۡ وَجۡهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے شریعت پر عمل پیرا ہوتا ہے ﴿وَهُوَ مُحۡسِنٌ ﴾ تو وہ اسلام میں محسن ہے کیونکہ اس کا عمل شرعی ہے اور وہ اس میں رسول ﷺکی اتباع کرتا ہے، یا اس کا معنی یہ ہے کہ جو کوئی عبادات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے اور وہ اپنی عبادات کو احسان کے درجہ تک لے جاتا ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتا ہے گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور اگر یہ کیفیت پیدا نہیں کر سکتا تو وہ اس طرح عبادت کرتا ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حقوق قائم کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے اور ان کے حقوق ادا کرتا ہے… تینوں معانی میں تلازم پایا جاتا ہے اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں سوائے اس پہلو سے کہ دونوں لفظوں کے مورد میں اختلاف ہے ورنہ قبول کرنے اور تکمیل کے لحاظ سے، تمام معانی، دین کے تمام قوانین اور اصولوں کو قائم کرنے پر متفق ہیں۔جو کوئی ان امور پر عمل پیرا ہوا تو ﴿اسۡتَمۡسَكَ بِالۡعُرۡوَةِ الۡوُثۡقٰى ﴾ ’’اس نے مضبوط سہارے کو تھام لیا۔‘‘ یعنی جس نے وہ سہارا تھام لیا جو بھروسے کے قابل تھا، وہ نجات پاگیا اور ہلاکت سے بچ گیا اور ہر بھلائی سے بہرہ ور ہوا اور جس نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا یا اس نے ’’احسان‘‘ سے کام نہ لیا تو اس نے بھروسے کے قابل سہارے کو نہ تھاما اور جب اس نے اس قابل اعتماد سہارے کو نہ تھاما تو وہاں ہلاکت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ ﴾ اورتمام معاملات کا مرجع و منتہا اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا وہ ان کے اعمال کے تقاضوں اور ان کے انجام کے مطابق ان کو جزا وسزا دے گا، لہٰذا اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ [23]﴿وَمَنۡ كَفَرَ فَلَا يَحۡزُنۡكَ كُفۡرُهٗ﴾ ’’اور جو کفر کرے تو اس کا کفر تمھیں غمگین نہ کردے‘‘ کیونکہ آپ کے ذمہ دعوت توحید اور تبلیغ کا جو فرض تھا وہ آپ نے ادا کر دیا اگر کوئی راہ راست اختیار نہیں کرتا، (تو نہ سہی)اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ اجر کے مستحق ہو گئے ، لہٰذا ان کے راہ راست اختیار نہ کرنے پر، آپ کے لیے حزن و غم کا کوئی مقام نہیں کیونکہ ان کے اندر کوئی بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت سے نواز دیتا۔ آپ اس بات پر بھی غم زدہ نہ ہوں کہ انھوں نے آپ کے ساتھ عداوت کی جسارت کی اور آپ کے خلاف اعلان جنگ کیا، وہ اپنی گمراہی اور کفر پر جمے رہے نیز آپ کو اس بارے میں بھی غم زدہ ہونے کی ضرورت نہیں کہ ان پر اس دنیا ہی میں عذاب بھیج دیا گیا۔﴿اِلَيۡنَا مَرۡجِعُهُمۡ فَنُنَبِّئُهُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ﴾ ’’ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے، پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم ان کو بتا دیں گے۔‘‘ ہم انھیں ان کے کفر، عداوت، اللہ کی روشنی کو بجھانے کے لیے ان کی بھاگ دوڑ کرنے اور اس کے رسولوں کو اذیت پہنچانے کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ سینے کے اسرار نہاں کو بھی جانتا ہے‘‘ جن کے بارے میں کبھی کسی نے بات نہیں کی تب ان معاملات کو کیسے نہیں جانے گاجو ظاہر اور سب کے سامنے ہیں؟ [24]﴿نُمَتِّعُهُمۡ قَلِيۡلًا ﴾ ’’ہم انھیں تھوڑا سا فائدہ اٹھانے کی مہلت دیتے ہیں‘‘ اس دنیا میں تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اضافہ کر لیں اور یوں ان کے عذاب میں اضافہ ہو جائے۔ ﴿ثُمَّ نَضۡطَرُّهُمۡ ﴾ ’’ پھر ہم انھیں جبراً کھینچ لائیں گے‘‘ ﴿اِلٰى عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’ایک سخت عذاب کی طرف۔‘‘ یعنی وہ عذاب جو اپنی سختی، بہت بڑا ہونے، اپنی قباحت، اپنی الم ناکی اور اپنی شدت میں انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔
31:24

نُمَتِّعُهُمۡ قَلِيلٗا ثُمَّ نَضۡطَرُّهُمۡ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٖ

اور جو جھکا دے اپنا چہرہ طرف اللہ کی، جبکہ وہ نیکوکار ہو تو تحقیق پکڑ لیا اس نے کڑا مضبوط، اور اللہ ہی کی طرف ہے انجام سب کاموں کا(22) اور جس نے کفر کیا تو نہ غم میں ڈالے آپ کو کفر اس کا، ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا، پس ہم خبر دیں گے ان کو (اس کی) جو کچھ انھوں نے کیا ہوگا، بے شک اللہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(23) فائدہ دیتے ہیں ہم ان کو تھوڑا سا ، پھر دھکیل دیں گے ہم ان کو طرف سخت عذاب کی(24) [22]﴿وَمَنۡ يُّسۡلِمۡ وَجۡهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے شریعت پر عمل پیرا ہوتا ہے ﴿وَهُوَ مُحۡسِنٌ ﴾ تو وہ اسلام میں محسن ہے کیونکہ اس کا عمل شرعی ہے اور وہ اس میں رسول ﷺکی اتباع کرتا ہے، یا اس کا معنی یہ ہے کہ جو کوئی عبادات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے اور وہ اپنی عبادات کو احسان کے درجہ تک لے جاتا ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتا ہے گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور اگر یہ کیفیت پیدا نہیں کر سکتا تو وہ اس طرح عبادت کرتا ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حقوق قائم کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے اور ان کے حقوق ادا کرتا ہے… تینوں معانی میں تلازم پایا جاتا ہے اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں سوائے اس پہلو سے کہ دونوں لفظوں کے مورد میں اختلاف ہے ورنہ قبول کرنے اور تکمیل کے لحاظ سے، تمام معانی، دین کے تمام قوانین اور اصولوں کو قائم کرنے پر متفق ہیں۔جو کوئی ان امور پر عمل پیرا ہوا تو ﴿اسۡتَمۡسَكَ بِالۡعُرۡوَةِ الۡوُثۡقٰى ﴾ ’’اس نے مضبوط سہارے کو تھام لیا۔‘‘ یعنی جس نے وہ سہارا تھام لیا جو بھروسے کے قابل تھا، وہ نجات پاگیا اور ہلاکت سے بچ گیا اور ہر بھلائی سے بہرہ ور ہوا اور جس نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا یا اس نے ’’احسان‘‘ سے کام نہ لیا تو اس نے بھروسے کے قابل سہارے کو نہ تھاما اور جب اس نے اس قابل اعتماد سہارے کو نہ تھاما تو وہاں ہلاکت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ ﴾ اورتمام معاملات کا مرجع و منتہا اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا وہ ان کے اعمال کے تقاضوں اور ان کے انجام کے مطابق ان کو جزا وسزا دے گا، لہٰذا اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ [23]﴿وَمَنۡ كَفَرَ فَلَا يَحۡزُنۡكَ كُفۡرُهٗ﴾ ’’اور جو کفر کرے تو اس کا کفر تمھیں غمگین نہ کردے‘‘ کیونکہ آپ کے ذمہ دعوت توحید اور تبلیغ کا جو فرض تھا وہ آپ نے ادا کر دیا اگر کوئی راہ راست اختیار نہیں کرتا، (تو نہ سہی)اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ اجر کے مستحق ہو گئے ، لہٰذا ان کے راہ راست اختیار نہ کرنے پر، آپ کے لیے حزن و غم کا کوئی مقام نہیں کیونکہ ان کے اندر کوئی بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت سے نواز دیتا۔ آپ اس بات پر بھی غم زدہ نہ ہوں کہ انھوں نے آپ کے ساتھ عداوت کی جسارت کی اور آپ کے خلاف اعلان جنگ کیا، وہ اپنی گمراہی اور کفر پر جمے رہے نیز آپ کو اس بارے میں بھی غم زدہ ہونے کی ضرورت نہیں کہ ان پر اس دنیا ہی میں عذاب بھیج دیا گیا۔﴿اِلَيۡنَا مَرۡجِعُهُمۡ فَنُنَبِّئُهُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ﴾ ’’ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے، پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم ان کو بتا دیں گے۔‘‘ ہم انھیں ان کے کفر، عداوت، اللہ کی روشنی کو بجھانے کے لیے ان کی بھاگ دوڑ کرنے اور اس کے رسولوں کو اذیت پہنچانے کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ سینے کے اسرار نہاں کو بھی جانتا ہے‘‘ جن کے بارے میں کبھی کسی نے بات نہیں کی تب ان معاملات کو کیسے نہیں جانے گاجو ظاہر اور سب کے سامنے ہیں؟ [24]﴿نُمَتِّعُهُمۡ قَلِيۡلًا ﴾ ’’ہم انھیں تھوڑا سا فائدہ اٹھانے کی مہلت دیتے ہیں‘‘ اس دنیا میں تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اضافہ کر لیں اور یوں ان کے عذاب میں اضافہ ہو جائے۔ ﴿ثُمَّ نَضۡطَرُّهُمۡ ﴾ ’’ پھر ہم انھیں جبراً کھینچ لائیں گے‘‘ ﴿اِلٰى عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’ایک سخت عذاب کی طرف۔‘‘ یعنی وہ عذاب جو اپنی سختی، بہت بڑا ہونے، اپنی قباحت، اپنی الم ناکی اور اپنی شدت میں انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔
31:25

وَلَئِن سَأَلۡتَهُم مَّنۡ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُۚ قُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ

اور البتہ اگرپوچھیں آپ ان سے، کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟ تو وہ ضرور کہیں گے: اللہ نے ،کہہ دیجیے: سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے(25) اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بے شک اللہ، وہ بے نیاز ہے تعریف کے لائق(26) اور اگر بے شک جو کچھ زمین میں ہیں درختوں سے (وہ) قلمیں ہو جائیں اور سمندر (سیاہی) زیادہ کریں اس (سیاہی) کو اس کےبعد سات سمندر (اور) تو بھی نہ ختم ہوں کلمات اللہ کے، بے شک اللہ نہایت غالب، خوب حکمت والا ہے(27) نہیں ہے پیدا کرنا تمھارا اور نہ دوبارہ اٹھانا تمھارا، مگر مانند ایک جان کے، بے شک اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے(28) [25] اگر آپ حق کو جھٹلانے والے ان مشرکین سے پوچھیں: ﴿مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟‘‘ تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ ان کے بتوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا اور وہ بول اٹھتے کہ اللہ اکیلے نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے ﴿قُلِ ﴾ ان کو الزامی جواب دیتے اور ان کے اس اقرار کو ان کے انکار کے خلاف حجت بناتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ ’’ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ جس نے نور کو واضح کر دیا اور خود تمھاری ہی طرف سے دلیل کو ظاہر کر دیا۔ اگر وہ جانتے ہوتے تو انھیں یقین ہوتا کہ وہ ہستی جو کائنات کی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے وہ استحقاق عبادت اور توحید میں بھی متفرد ہے لیکن ﴿اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان میں اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اسی لیے انھوں نے دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرایا، بصیرت کی بنا پر نہیں بلکہ حیرت اور شک کی بنا پر وہ اپنے مذہب کے تناقض پر راضی ہو گئے۔ [26] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی وسعت اوصاف کے نمونے کے طور پر ان دو آیتوں کا ذکر فرمایا تاکہ وہ اپنے بندوں کو اپنی معرفت، محبت اور دین میں اخلاص کی دعوت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی عمومی ملکیت کا ذکر کیا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے... یہ تمام عالم علوی اور عالم سفلی کو شامل ہے... سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ وہ احکام کونی و قدری، احکام دینی و امری اور احکام جزائی کے ذریعے سے ان میں تصرف کرتا ہے۔ پس تمام مخلوق اس کی مملوک ہے جو اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہے اور وہ کسی چیز کی مالک نہیں۔ وہ بے حد بے نیاز ہے وہ کسی چیز کا محتاج نہیں جس کی مخلوق محتاج ہوتی ہے۔ ﴿مَاۤ اُرِيۡدُ مِنۡهُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ وَّمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ يُّطۡعِمُوۡنِ ﴾(الذّٰریٰت:51؍57) ’’میں ان سے رزق طلب نہیں کرتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں۔‘‘ نیز انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے اعمال اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ ان کے اعمال کا فائدہ صرف انھی کو پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے اور ان کے اعمال سے بے نیاز ہے۔ یہ اس کی بے نیازی ہے کہ اس نے انھیں ان کی دنیا و آخرت میں بے نیاز بنا دیا اور ان کے لیے وہ کافی ہوگیا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی وسعت حمد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ اس کی حمد و ثنا اس کی ذات کا لازمہ ہے وہ ہر لحاظ ہی سے قابل تعریف ہے۔ وہ اپنی ذات میں اور اپنی صفات میں قابل تعریف ہے۔ اس کی صفات میں سے ہر صفت کامل ترین حمد وثنا کی مستحق ہے کیونکہ یہ عظمت وکمال پر مبنی صفات ہیں۔ اس کے تمام افعال اور اس کی تمام تخلیقات قابل تعریف اور اس کے تمام اوامر و نواہی قابل ستائش ہیں۔ وہ تمام فیصلے اور احکام جو اس نے دنیا وآخرت میں اپنے بندوں پر اور بندوں کے درمیان نافذ کیے ہیں، ان پر وہ قابل حمدوستائش ہے۔ [27] اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی وسعت اور اپنے قول کی عظمت کو ایسی شرح کے ساتھ بیان کیا جو دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے، جس سے عقل و خرد حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں اور عقل مند اور اصحاب بصیرت اس کی معرفت میں سیاحت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَوۡ اَنَّ مَا فِي الۡاَرۡضِ مِنۡ شَجَرَةٍ اَقۡلَامٌؔ﴾ ’’اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں۔‘‘ جن کے ساتھ لکھا جائے ﴿وَّالۡبَحۡرُ يَمُدُّهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ سَبۡعَةُ اَبۡحُرٍ ﴾ ’’اور سمندر روشنائی ہو اور اس کے بعد سات سمندر اور‘‘ روشنائی بن جائیں جن سے لکھنے میں مدد لی جائے تو قلم ٹوٹ جائیں گے اور یہ روشنائی ختم ہو جائے گی لیکن ﴿كَلِمٰتُ اللّٰهِ ﴾ اللہ تعالیٰ کی باتیں لکھنے سے کبھی ختم نہ ہوں گی۔یہ مبالغہ نہیں ہے، جس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ عقل انسانی اللہ کی بعض صفات کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے اور وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے اس کی معرفت سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے انھیں سرفراز کیا ہے اور سب سے بڑی منقبت ہے جو انھیں حاصل ہوئی ہے جس کا کامل طور پر ادراک ممکن نہیں، مگر جس چیز کا کامل ادراک ممکن نہ ہو اس کو کامل طور پر ترک نہیں کیا جا سکتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان میں سے بعض صفات کی طرف اس طرح توجہ دلائی ہے جس سے ان کے قلب منور ہوتے ہیں اور انھیں شرح صدر حاصل ہوتی ہے وہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے جس پر وہ نہیں پہنچے، اس چیز سے راہ نمائی لیتے ہیں جس تک وہ پہنچ چکے ہیں۔ اور وہ اسی طرح کہتے ہیں جیسے ان میں سے بہترین انسان اور اپنے رب کی سب سے زیادہ معرفت رکھنے والی ہستی نے کہا: ’لَا نُحْصِي ثَنَاءً عَلَیْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ،(اصل لفظ (لَا اُحْصِي) ہے اور یہ مؤلفa کی سبقت قلم ہے) ’’ہم تیری ثنا بیان نہیں کر سکتے، تو ایسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی ثنا بیان کی۔‘‘(صحیح مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع والسجود؟، ح: 486) ورنہ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ اس سے جلیل تر اور عظیم تر ہے۔یہ تمثیل ان معانی کو قریب کرنے کے باب میں سے ہے جہاں تک پہنچنے کی ذہن اور فہم طاقت نہیں رکھتا۔ ورنہ اگر درختوں کو کئی گنا کر لیا جائے اور سمندروں کو بھی کئی گنا کر کے ان کی روشنائی بنا لی جائے تب بھی ان کے ختم ہونے کا تو تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ مخلوق ہیں... رہا اللہ تبارک و تعالیٰ کا کلام، تو اس کے ختم ہونے کا تصور نہیں کیا جا سکتا بلکہ عقلی اور نقلی دلیل دلالت کرتی ہے کہ اس کا کلام ختم ہوتا ہے نہ اس کی کوئی انتہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کے سوا باقی ہر چیز کی انتہا ہے۔ ﴿وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الۡمُنۡتَهٰى ﴾(النجم:53؍42) ’’اور تیرے رب ہی کے پاس پہنچنا ہے۔‘‘ جب عقل اللہ تعالیٰ کی ’’اولیت‘‘ اور ’’آخریت‘‘ کا تصور کرے تو، ذہن گزرے ہوئے زمانوں کو فرض کرے۔ وہ ازمان گزشتہ کا جتنا بھی اندازہ لگائے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بھی پہلے ہے جس کا کوئی منتہیٰ نہیں۔ اسی طرح عقل وذہن میں آنے والے زمانوں کے بارے میں خواہ کتنا ہی اندازہ کر لیں اور قلب و زبان کے ذریعے سے اس کی مدد بھی لے لیں، اللہ تعالیٰ ان کے ان اندازوں سے بھی زیادہ متأخر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے تمام اوقات میں فیصلہ کرتا ہے، کلام کرتا ہے، وہ جیسے چاہتا ہے اور جب چاہتا ہے اپنا قول و فعل صادر کرتا ہے اسے اپنے اقوال و افعال سے کوئی چیز مانع نہیں۔ جب عقل نے اس حقیقت کا تصور کر لیا تو معلوم ہوا کہ یہ مثال جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ضمن میں بیان کی ہے صرف اس لیے ہے کہ بندوں کو اس کا تھوڑا سا ادراک ہو جائے ورنہ اللہ تعالیٰ کا کلام اس سے عظیم تر اور جلیل تر ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عزت کے جلال اور کمال حکمت کا ذکر کیا فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی تمام عزت و غلبے کا وہی مالک ہے تمام عالم علوی اور عالم سفلی میں جو بھی قوت پائی جاتی ہے وہ اسی کی طرف سے ہے، وہی ہے جس کی توفیق کے بغیر گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت ہے۔ وہ اپنے غلبے کے ذریعے سے تمام مخلوق پر غالب ہے، ان میں تصرف اور ان کی تدبیرکرتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت سے تمام مخلوق کو پیدا کیا۔ اس تخلیق سے اس کی غرض و غایت اور مقصد بھی حکمت ہی ہے اسی طرح امرونہی بھی اس کی حکمت ہی سے وجود میں آئے ہیں، اور ان کو وجود میں لانے کی غایت مقصود بھی حکمت ہی ہے۔ پس وہ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عظیم اور کامل قدرت کا ذکر فرمایا جس کا عقل تصور تک نہیں کر سکتی۔ پس فرمایا: ﴿مَا خَلۡقُكُمۡ وَلَا بَعۡثُكُمۡ اِلَّا كَنَفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’تم سب کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ اٹھانا تو بس ایسا ہے جیسے ایک متنفس کو (پیدا کرنا اور اٹھانا)‘‘ اور یہ ایسی چیز ہے جو عقل کو حیران کر دیتی ہے۔ تمام مخلوق کی تخلیق... ان کی کثرت کے باوجود اور ان کی موت کے بعد ان کے بکھر جانے کے باوجود ان کو ایک لمحہ میں دوبارہ زندہ کرنا… ایسے ہی ہے جیسے اس نے صرف ایک نفس کو پیدا کیا ہو۔ اس لیے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور پھر اعمال کی جزا دینے کو بعید سمجھنا اللہ تعالیٰ کی عظمت، قوت اور قدرت کے بارے میں جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ پھر ذکر فرمایا کہ وہ تمام مسموعات کو سنتا اور تمام مرئیات کو دیکھتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘
31:26

لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡغَنِيُّ ٱلۡحَمِيدُ

اور البتہ اگرپوچھیں آپ ان سے، کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟ تو وہ ضرور کہیں گے: اللہ نے ،کہہ دیجیے: سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے(25) اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بے شک اللہ، وہ بے نیاز ہے تعریف کے لائق(26) اور اگر بے شک جو کچھ زمین میں ہیں درختوں سے (وہ) قلمیں ہو جائیں اور سمندر (سیاہی) زیادہ کریں اس (سیاہی) کو اس کےبعد سات سمندر (اور) تو بھی نہ ختم ہوں کلمات اللہ کے، بے شک اللہ نہایت غالب، خوب حکمت والا ہے(27) نہیں ہے پیدا کرنا تمھارا اور نہ دوبارہ اٹھانا تمھارا، مگر مانند ایک جان کے، بے شک اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے(28) [25] اگر آپ حق کو جھٹلانے والے ان مشرکین سے پوچھیں: ﴿مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟‘‘ تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ ان کے بتوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا اور وہ بول اٹھتے کہ اللہ اکیلے نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے ﴿قُلِ ﴾ ان کو الزامی جواب دیتے اور ان کے اس اقرار کو ان کے انکار کے خلاف حجت بناتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ ’’ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ جس نے نور کو واضح کر دیا اور خود تمھاری ہی طرف سے دلیل کو ظاہر کر دیا۔ اگر وہ جانتے ہوتے تو انھیں یقین ہوتا کہ وہ ہستی جو کائنات کی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے وہ استحقاق عبادت اور توحید میں بھی متفرد ہے لیکن ﴿اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان میں اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اسی لیے انھوں نے دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرایا، بصیرت کی بنا پر نہیں بلکہ حیرت اور شک کی بنا پر وہ اپنے مذہب کے تناقض پر راضی ہو گئے۔ [26] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی وسعت اوصاف کے نمونے کے طور پر ان دو آیتوں کا ذکر فرمایا تاکہ وہ اپنے بندوں کو اپنی معرفت، محبت اور دین میں اخلاص کی دعوت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی عمومی ملکیت کا ذکر کیا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے... یہ تمام عالم علوی اور عالم سفلی کو شامل ہے... سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ وہ احکام کونی و قدری، احکام دینی و امری اور احکام جزائی کے ذریعے سے ان میں تصرف کرتا ہے۔ پس تمام مخلوق اس کی مملوک ہے جو اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہے اور وہ کسی چیز کی مالک نہیں۔ وہ بے حد بے نیاز ہے وہ کسی چیز کا محتاج نہیں جس کی مخلوق محتاج ہوتی ہے۔ ﴿مَاۤ اُرِيۡدُ مِنۡهُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ وَّمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ يُّطۡعِمُوۡنِ ﴾(الذّٰریٰت:51؍57) ’’میں ان سے رزق طلب نہیں کرتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں۔‘‘ نیز انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے اعمال اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ ان کے اعمال کا فائدہ صرف انھی کو پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے اور ان کے اعمال سے بے نیاز ہے۔ یہ اس کی بے نیازی ہے کہ اس نے انھیں ان کی دنیا و آخرت میں بے نیاز بنا دیا اور ان کے لیے وہ کافی ہوگیا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی وسعت حمد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ اس کی حمد و ثنا اس کی ذات کا لازمہ ہے وہ ہر لحاظ ہی سے قابل تعریف ہے۔ وہ اپنی ذات میں اور اپنی صفات میں قابل تعریف ہے۔ اس کی صفات میں سے ہر صفت کامل ترین حمد وثنا کی مستحق ہے کیونکہ یہ عظمت وکمال پر مبنی صفات ہیں۔ اس کے تمام افعال اور اس کی تمام تخلیقات قابل تعریف اور اس کے تمام اوامر و نواہی قابل ستائش ہیں۔ وہ تمام فیصلے اور احکام جو اس نے دنیا وآخرت میں اپنے بندوں پر اور بندوں کے درمیان نافذ کیے ہیں، ان پر وہ قابل حمدوستائش ہے۔ [27] اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی وسعت اور اپنے قول کی عظمت کو ایسی شرح کے ساتھ بیان کیا جو دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے، جس سے عقل و خرد حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں اور عقل مند اور اصحاب بصیرت اس کی معرفت میں سیاحت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَوۡ اَنَّ مَا فِي الۡاَرۡضِ مِنۡ شَجَرَةٍ اَقۡلَامٌؔ﴾ ’’اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں۔‘‘ جن کے ساتھ لکھا جائے ﴿وَّالۡبَحۡرُ يَمُدُّهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ سَبۡعَةُ اَبۡحُرٍ ﴾ ’’اور سمندر روشنائی ہو اور اس کے بعد سات سمندر اور‘‘ روشنائی بن جائیں جن سے لکھنے میں مدد لی جائے تو قلم ٹوٹ جائیں گے اور یہ روشنائی ختم ہو جائے گی لیکن ﴿كَلِمٰتُ اللّٰهِ ﴾ اللہ تعالیٰ کی باتیں لکھنے سے کبھی ختم نہ ہوں گی۔یہ مبالغہ نہیں ہے، جس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ عقل انسانی اللہ کی بعض صفات کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے اور وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے اس کی معرفت سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے انھیں سرفراز کیا ہے اور سب سے بڑی منقبت ہے جو انھیں حاصل ہوئی ہے جس کا کامل طور پر ادراک ممکن نہیں، مگر جس چیز کا کامل ادراک ممکن نہ ہو اس کو کامل طور پر ترک نہیں کیا جا سکتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان میں سے بعض صفات کی طرف اس طرح توجہ دلائی ہے جس سے ان کے قلب منور ہوتے ہیں اور انھیں شرح صدر حاصل ہوتی ہے وہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے جس پر وہ نہیں پہنچے، اس چیز سے راہ نمائی لیتے ہیں جس تک وہ پہنچ چکے ہیں۔ اور وہ اسی طرح کہتے ہیں جیسے ان میں سے بہترین انسان اور اپنے رب کی سب سے زیادہ معرفت رکھنے والی ہستی نے کہا: ’لَا نُحْصِي ثَنَاءً عَلَیْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ،(اصل لفظ (لَا اُحْصِي) ہے اور یہ مؤلفa کی سبقت قلم ہے) ’’ہم تیری ثنا بیان نہیں کر سکتے، تو ایسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی ثنا بیان کی۔‘‘(صحیح مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع والسجود؟، ح: 486) ورنہ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ اس سے جلیل تر اور عظیم تر ہے۔یہ تمثیل ان معانی کو قریب کرنے کے باب میں سے ہے جہاں تک پہنچنے کی ذہن اور فہم طاقت نہیں رکھتا۔ ورنہ اگر درختوں کو کئی گنا کر لیا جائے اور سمندروں کو بھی کئی گنا کر کے ان کی روشنائی بنا لی جائے تب بھی ان کے ختم ہونے کا تو تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ مخلوق ہیں... رہا اللہ تبارک و تعالیٰ کا کلام، تو اس کے ختم ہونے کا تصور نہیں کیا جا سکتا بلکہ عقلی اور نقلی دلیل دلالت کرتی ہے کہ اس کا کلام ختم ہوتا ہے نہ اس کی کوئی انتہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کے سوا باقی ہر چیز کی انتہا ہے۔ ﴿وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الۡمُنۡتَهٰى ﴾(النجم:53؍42) ’’اور تیرے رب ہی کے پاس پہنچنا ہے۔‘‘ جب عقل اللہ تعالیٰ کی ’’اولیت‘‘ اور ’’آخریت‘‘ کا تصور کرے تو، ذہن گزرے ہوئے زمانوں کو فرض کرے۔ وہ ازمان گزشتہ کا جتنا بھی اندازہ لگائے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بھی پہلے ہے جس کا کوئی منتہیٰ نہیں۔ اسی طرح عقل وذہن میں آنے والے زمانوں کے بارے میں خواہ کتنا ہی اندازہ کر لیں اور قلب و زبان کے ذریعے سے اس کی مدد بھی لے لیں، اللہ تعالیٰ ان کے ان اندازوں سے بھی زیادہ متأخر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے تمام اوقات میں فیصلہ کرتا ہے، کلام کرتا ہے، وہ جیسے چاہتا ہے اور جب چاہتا ہے اپنا قول و فعل صادر کرتا ہے اسے اپنے اقوال و افعال سے کوئی چیز مانع نہیں۔ جب عقل نے اس حقیقت کا تصور کر لیا تو معلوم ہوا کہ یہ مثال جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ضمن میں بیان کی ہے صرف اس لیے ہے کہ بندوں کو اس کا تھوڑا سا ادراک ہو جائے ورنہ اللہ تعالیٰ کا کلام اس سے عظیم تر اور جلیل تر ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عزت کے جلال اور کمال حکمت کا ذکر کیا فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی تمام عزت و غلبے کا وہی مالک ہے تمام عالم علوی اور عالم سفلی میں جو بھی قوت پائی جاتی ہے وہ اسی کی طرف سے ہے، وہی ہے جس کی توفیق کے بغیر گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت ہے۔ وہ اپنے غلبے کے ذریعے سے تمام مخلوق پر غالب ہے، ان میں تصرف اور ان کی تدبیرکرتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت سے تمام مخلوق کو پیدا کیا۔ اس تخلیق سے اس کی غرض و غایت اور مقصد بھی حکمت ہی ہے اسی طرح امرونہی بھی اس کی حکمت ہی سے وجود میں آئے ہیں، اور ان کو وجود میں لانے کی غایت مقصود بھی حکمت ہی ہے۔ پس وہ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عظیم اور کامل قدرت کا ذکر فرمایا جس کا عقل تصور تک نہیں کر سکتی۔ پس فرمایا: ﴿مَا خَلۡقُكُمۡ وَلَا بَعۡثُكُمۡ اِلَّا كَنَفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’تم سب کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ اٹھانا تو بس ایسا ہے جیسے ایک متنفس کو (پیدا کرنا اور اٹھانا)‘‘ اور یہ ایسی چیز ہے جو عقل کو حیران کر دیتی ہے۔ تمام مخلوق کی تخلیق... ان کی کثرت کے باوجود اور ان کی موت کے بعد ان کے بکھر جانے کے باوجود ان کو ایک لمحہ میں دوبارہ زندہ کرنا… ایسے ہی ہے جیسے اس نے صرف ایک نفس کو پیدا کیا ہو۔ اس لیے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور پھر اعمال کی جزا دینے کو بعید سمجھنا اللہ تعالیٰ کی عظمت، قوت اور قدرت کے بارے میں جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ پھر ذکر فرمایا کہ وہ تمام مسموعات کو سنتا اور تمام مرئیات کو دیکھتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘
31:27

وَلَوۡ أَنَّمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ مِن شَجَرَةٍ أَقۡلَٰمٞ وَٱلۡبَحۡرُ يَمُدُّهُۥ مِنۢ بَعۡدِهِۦ سَبۡعَةُ أَبۡحُرٖ مَّا نَفِدَتۡ كَلِمَٰتُ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٞ

اور البتہ اگرپوچھیں آپ ان سے، کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟ تو وہ ضرور کہیں گے: اللہ نے ،کہہ دیجیے: سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے(25) اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بے شک اللہ، وہ بے نیاز ہے تعریف کے لائق(26) اور اگر بے شک جو کچھ زمین میں ہیں درختوں سے (وہ) قلمیں ہو جائیں اور سمندر (سیاہی) زیادہ کریں اس (سیاہی) کو اس کےبعد سات سمندر (اور) تو بھی نہ ختم ہوں کلمات اللہ کے، بے شک اللہ نہایت غالب، خوب حکمت والا ہے(27) نہیں ہے پیدا کرنا تمھارا اور نہ دوبارہ اٹھانا تمھارا، مگر مانند ایک جان کے، بے شک اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے(28) [25] اگر آپ حق کو جھٹلانے والے ان مشرکین سے پوچھیں: ﴿مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟‘‘ تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ ان کے بتوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا اور وہ بول اٹھتے کہ اللہ اکیلے نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے ﴿قُلِ ﴾ ان کو الزامی جواب دیتے اور ان کے اس اقرار کو ان کے انکار کے خلاف حجت بناتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ ’’ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ جس نے نور کو واضح کر دیا اور خود تمھاری ہی طرف سے دلیل کو ظاہر کر دیا۔ اگر وہ جانتے ہوتے تو انھیں یقین ہوتا کہ وہ ہستی جو کائنات کی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے وہ استحقاق عبادت اور توحید میں بھی متفرد ہے لیکن ﴿اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان میں اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اسی لیے انھوں نے دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرایا، بصیرت کی بنا پر نہیں بلکہ حیرت اور شک کی بنا پر وہ اپنے مذہب کے تناقض پر راضی ہو گئے۔ [26] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی وسعت اوصاف کے نمونے کے طور پر ان دو آیتوں کا ذکر فرمایا تاکہ وہ اپنے بندوں کو اپنی معرفت، محبت اور دین میں اخلاص کی دعوت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی عمومی ملکیت کا ذکر کیا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے... یہ تمام عالم علوی اور عالم سفلی کو شامل ہے... سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ وہ احکام کونی و قدری، احکام دینی و امری اور احکام جزائی کے ذریعے سے ان میں تصرف کرتا ہے۔ پس تمام مخلوق اس کی مملوک ہے جو اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہے اور وہ کسی چیز کی مالک نہیں۔ وہ بے حد بے نیاز ہے وہ کسی چیز کا محتاج نہیں جس کی مخلوق محتاج ہوتی ہے۔ ﴿مَاۤ اُرِيۡدُ مِنۡهُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ وَّمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ يُّطۡعِمُوۡنِ ﴾(الذّٰریٰت:51؍57) ’’میں ان سے رزق طلب نہیں کرتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں۔‘‘ نیز انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے اعمال اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ ان کے اعمال کا فائدہ صرف انھی کو پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے اور ان کے اعمال سے بے نیاز ہے۔ یہ اس کی بے نیازی ہے کہ اس نے انھیں ان کی دنیا و آخرت میں بے نیاز بنا دیا اور ان کے لیے وہ کافی ہوگیا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی وسعت حمد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ اس کی حمد و ثنا اس کی ذات کا لازمہ ہے وہ ہر لحاظ ہی سے قابل تعریف ہے۔ وہ اپنی ذات میں اور اپنی صفات میں قابل تعریف ہے۔ اس کی صفات میں سے ہر صفت کامل ترین حمد وثنا کی مستحق ہے کیونکہ یہ عظمت وکمال پر مبنی صفات ہیں۔ اس کے تمام افعال اور اس کی تمام تخلیقات قابل تعریف اور اس کے تمام اوامر و نواہی قابل ستائش ہیں۔ وہ تمام فیصلے اور احکام جو اس نے دنیا وآخرت میں اپنے بندوں پر اور بندوں کے درمیان نافذ کیے ہیں، ان پر وہ قابل حمدوستائش ہے۔ [27] اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی وسعت اور اپنے قول کی عظمت کو ایسی شرح کے ساتھ بیان کیا جو دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے، جس سے عقل و خرد حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں اور عقل مند اور اصحاب بصیرت اس کی معرفت میں سیاحت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَوۡ اَنَّ مَا فِي الۡاَرۡضِ مِنۡ شَجَرَةٍ اَقۡلَامٌؔ﴾ ’’اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں۔‘‘ جن کے ساتھ لکھا جائے ﴿وَّالۡبَحۡرُ يَمُدُّهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ سَبۡعَةُ اَبۡحُرٍ ﴾ ’’اور سمندر روشنائی ہو اور اس کے بعد سات سمندر اور‘‘ روشنائی بن جائیں جن سے لکھنے میں مدد لی جائے تو قلم ٹوٹ جائیں گے اور یہ روشنائی ختم ہو جائے گی لیکن ﴿كَلِمٰتُ اللّٰهِ ﴾ اللہ تعالیٰ کی باتیں لکھنے سے کبھی ختم نہ ہوں گی۔یہ مبالغہ نہیں ہے، جس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ عقل انسانی اللہ کی بعض صفات کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے اور وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے اس کی معرفت سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے انھیں سرفراز کیا ہے اور سب سے بڑی منقبت ہے جو انھیں حاصل ہوئی ہے جس کا کامل طور پر ادراک ممکن نہیں، مگر جس چیز کا کامل ادراک ممکن نہ ہو اس کو کامل طور پر ترک نہیں کیا جا سکتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان میں سے بعض صفات کی طرف اس طرح توجہ دلائی ہے جس سے ان کے قلب منور ہوتے ہیں اور انھیں شرح صدر حاصل ہوتی ہے وہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے جس پر وہ نہیں پہنچے، اس چیز سے راہ نمائی لیتے ہیں جس تک وہ پہنچ چکے ہیں۔ اور وہ اسی طرح کہتے ہیں جیسے ان میں سے بہترین انسان اور اپنے رب کی سب سے زیادہ معرفت رکھنے والی ہستی نے کہا: ’لَا نُحْصِي ثَنَاءً عَلَیْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ،(اصل لفظ (لَا اُحْصِي) ہے اور یہ مؤلفa کی سبقت قلم ہے) ’’ہم تیری ثنا بیان نہیں کر سکتے، تو ایسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی ثنا بیان کی۔‘‘(صحیح مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع والسجود؟، ح: 486) ورنہ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ اس سے جلیل تر اور عظیم تر ہے۔یہ تمثیل ان معانی کو قریب کرنے کے باب میں سے ہے جہاں تک پہنچنے کی ذہن اور فہم طاقت نہیں رکھتا۔ ورنہ اگر درختوں کو کئی گنا کر لیا جائے اور سمندروں کو بھی کئی گنا کر کے ان کی روشنائی بنا لی جائے تب بھی ان کے ختم ہونے کا تو تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ مخلوق ہیں... رہا اللہ تبارک و تعالیٰ کا کلام، تو اس کے ختم ہونے کا تصور نہیں کیا جا سکتا بلکہ عقلی اور نقلی دلیل دلالت کرتی ہے کہ اس کا کلام ختم ہوتا ہے نہ اس کی کوئی انتہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کے سوا باقی ہر چیز کی انتہا ہے۔ ﴿وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الۡمُنۡتَهٰى ﴾(النجم:53؍42) ’’اور تیرے رب ہی کے پاس پہنچنا ہے۔‘‘ جب عقل اللہ تعالیٰ کی ’’اولیت‘‘ اور ’’آخریت‘‘ کا تصور کرے تو، ذہن گزرے ہوئے زمانوں کو فرض کرے۔ وہ ازمان گزشتہ کا جتنا بھی اندازہ لگائے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بھی پہلے ہے جس کا کوئی منتہیٰ نہیں۔ اسی طرح عقل وذہن میں آنے والے زمانوں کے بارے میں خواہ کتنا ہی اندازہ کر لیں اور قلب و زبان کے ذریعے سے اس کی مدد بھی لے لیں، اللہ تعالیٰ ان کے ان اندازوں سے بھی زیادہ متأخر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے تمام اوقات میں فیصلہ کرتا ہے، کلام کرتا ہے، وہ جیسے چاہتا ہے اور جب چاہتا ہے اپنا قول و فعل صادر کرتا ہے اسے اپنے اقوال و افعال سے کوئی چیز مانع نہیں۔ جب عقل نے اس حقیقت کا تصور کر لیا تو معلوم ہوا کہ یہ مثال جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ضمن میں بیان کی ہے صرف اس لیے ہے کہ بندوں کو اس کا تھوڑا سا ادراک ہو جائے ورنہ اللہ تعالیٰ کا کلام اس سے عظیم تر اور جلیل تر ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عزت کے جلال اور کمال حکمت کا ذکر کیا فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی تمام عزت و غلبے کا وہی مالک ہے تمام عالم علوی اور عالم سفلی میں جو بھی قوت پائی جاتی ہے وہ اسی کی طرف سے ہے، وہی ہے جس کی توفیق کے بغیر گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت ہے۔ وہ اپنے غلبے کے ذریعے سے تمام مخلوق پر غالب ہے، ان میں تصرف اور ان کی تدبیرکرتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت سے تمام مخلوق کو پیدا کیا۔ اس تخلیق سے اس کی غرض و غایت اور مقصد بھی حکمت ہی ہے اسی طرح امرونہی بھی اس کی حکمت ہی سے وجود میں آئے ہیں، اور ان کو وجود میں لانے کی غایت مقصود بھی حکمت ہی ہے۔ پس وہ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عظیم اور کامل قدرت کا ذکر فرمایا جس کا عقل تصور تک نہیں کر سکتی۔ پس فرمایا: ﴿مَا خَلۡقُكُمۡ وَلَا بَعۡثُكُمۡ اِلَّا كَنَفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’تم سب کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ اٹھانا تو بس ایسا ہے جیسے ایک متنفس کو (پیدا کرنا اور اٹھانا)‘‘ اور یہ ایسی چیز ہے جو عقل کو حیران کر دیتی ہے۔ تمام مخلوق کی تخلیق... ان کی کثرت کے باوجود اور ان کی موت کے بعد ان کے بکھر جانے کے باوجود ان کو ایک لمحہ میں دوبارہ زندہ کرنا… ایسے ہی ہے جیسے اس نے صرف ایک نفس کو پیدا کیا ہو۔ اس لیے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور پھر اعمال کی جزا دینے کو بعید سمجھنا اللہ تعالیٰ کی عظمت، قوت اور قدرت کے بارے میں جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ پھر ذکر فرمایا کہ وہ تمام مسموعات کو سنتا اور تمام مرئیات کو دیکھتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘
31:28

مَّا خَلۡقُكُمۡ وَلَا بَعۡثُكُمۡ إِلَّا كَنَفۡسٖ وَٰحِدَةٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعُۢ بَصِيرٌ

اور البتہ اگرپوچھیں آپ ان سے، کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟ تو وہ ضرور کہیں گے: اللہ نے ،کہہ دیجیے: سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے(25) اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بے شک اللہ، وہ بے نیاز ہے تعریف کے لائق(26) اور اگر بے شک جو کچھ زمین میں ہیں درختوں سے (وہ) قلمیں ہو جائیں اور سمندر (سیاہی) زیادہ کریں اس (سیاہی) کو اس کےبعد سات سمندر (اور) تو بھی نہ ختم ہوں کلمات اللہ کے، بے شک اللہ نہایت غالب، خوب حکمت والا ہے(27) نہیں ہے پیدا کرنا تمھارا اور نہ دوبارہ اٹھانا تمھارا، مگر مانند ایک جان کے، بے شک اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے(28) [25] اگر آپ حق کو جھٹلانے والے ان مشرکین سے پوچھیں: ﴿مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟‘‘ تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ ان کے بتوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا اور وہ بول اٹھتے کہ اللہ اکیلے نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے ﴿قُلِ ﴾ ان کو الزامی جواب دیتے اور ان کے اس اقرار کو ان کے انکار کے خلاف حجت بناتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ ’’ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ جس نے نور کو واضح کر دیا اور خود تمھاری ہی طرف سے دلیل کو ظاہر کر دیا۔ اگر وہ جانتے ہوتے تو انھیں یقین ہوتا کہ وہ ہستی جو کائنات کی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے وہ استحقاق عبادت اور توحید میں بھی متفرد ہے لیکن ﴿اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان میں اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اسی لیے انھوں نے دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرایا، بصیرت کی بنا پر نہیں بلکہ حیرت اور شک کی بنا پر وہ اپنے مذہب کے تناقض پر راضی ہو گئے۔ [26] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی وسعت اوصاف کے نمونے کے طور پر ان دو آیتوں کا ذکر فرمایا تاکہ وہ اپنے بندوں کو اپنی معرفت، محبت اور دین میں اخلاص کی دعوت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی عمومی ملکیت کا ذکر کیا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے... یہ تمام عالم علوی اور عالم سفلی کو شامل ہے... سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ وہ احکام کونی و قدری، احکام دینی و امری اور احکام جزائی کے ذریعے سے ان میں تصرف کرتا ہے۔ پس تمام مخلوق اس کی مملوک ہے جو اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہے اور وہ کسی چیز کی مالک نہیں۔ وہ بے حد بے نیاز ہے وہ کسی چیز کا محتاج نہیں جس کی مخلوق محتاج ہوتی ہے۔ ﴿مَاۤ اُرِيۡدُ مِنۡهُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ وَّمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ يُّطۡعِمُوۡنِ ﴾(الذّٰریٰت:51؍57) ’’میں ان سے رزق طلب نہیں کرتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں۔‘‘ نیز انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے اعمال اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ ان کے اعمال کا فائدہ صرف انھی کو پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے اور ان کے اعمال سے بے نیاز ہے۔ یہ اس کی بے نیازی ہے کہ اس نے انھیں ان کی دنیا و آخرت میں بے نیاز بنا دیا اور ان کے لیے وہ کافی ہوگیا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی وسعت حمد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ اس کی حمد و ثنا اس کی ذات کا لازمہ ہے وہ ہر لحاظ ہی سے قابل تعریف ہے۔ وہ اپنی ذات میں اور اپنی صفات میں قابل تعریف ہے۔ اس کی صفات میں سے ہر صفت کامل ترین حمد وثنا کی مستحق ہے کیونکہ یہ عظمت وکمال پر مبنی صفات ہیں۔ اس کے تمام افعال اور اس کی تمام تخلیقات قابل تعریف اور اس کے تمام اوامر و نواہی قابل ستائش ہیں۔ وہ تمام فیصلے اور احکام جو اس نے دنیا وآخرت میں اپنے بندوں پر اور بندوں کے درمیان نافذ کیے ہیں، ان پر وہ قابل حمدوستائش ہے۔ [27] اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی وسعت اور اپنے قول کی عظمت کو ایسی شرح کے ساتھ بیان کیا جو دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے، جس سے عقل و خرد حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں اور عقل مند اور اصحاب بصیرت اس کی معرفت میں سیاحت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَوۡ اَنَّ مَا فِي الۡاَرۡضِ مِنۡ شَجَرَةٍ اَقۡلَامٌؔ﴾ ’’اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں۔‘‘ جن کے ساتھ لکھا جائے ﴿وَّالۡبَحۡرُ يَمُدُّهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ سَبۡعَةُ اَبۡحُرٍ ﴾ ’’اور سمندر روشنائی ہو اور اس کے بعد سات سمندر اور‘‘ روشنائی بن جائیں جن سے لکھنے میں مدد لی جائے تو قلم ٹوٹ جائیں گے اور یہ روشنائی ختم ہو جائے گی لیکن ﴿كَلِمٰتُ اللّٰهِ ﴾ اللہ تعالیٰ کی باتیں لکھنے سے کبھی ختم نہ ہوں گی۔یہ مبالغہ نہیں ہے، جس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ عقل انسانی اللہ کی بعض صفات کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے اور وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے اس کی معرفت سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے انھیں سرفراز کیا ہے اور سب سے بڑی منقبت ہے جو انھیں حاصل ہوئی ہے جس کا کامل طور پر ادراک ممکن نہیں، مگر جس چیز کا کامل ادراک ممکن نہ ہو اس کو کامل طور پر ترک نہیں کیا جا سکتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان میں سے بعض صفات کی طرف اس طرح توجہ دلائی ہے جس سے ان کے قلب منور ہوتے ہیں اور انھیں شرح صدر حاصل ہوتی ہے وہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے جس پر وہ نہیں پہنچے، اس چیز سے راہ نمائی لیتے ہیں جس تک وہ پہنچ چکے ہیں۔ اور وہ اسی طرح کہتے ہیں جیسے ان میں سے بہترین انسان اور اپنے رب کی سب سے زیادہ معرفت رکھنے والی ہستی نے کہا: ’لَا نُحْصِي ثَنَاءً عَلَیْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ،(اصل لفظ (لَا اُحْصِي) ہے اور یہ مؤلفa کی سبقت قلم ہے) ’’ہم تیری ثنا بیان نہیں کر سکتے، تو ایسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی ثنا بیان کی۔‘‘(صحیح مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع والسجود؟، ح: 486) ورنہ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ اس سے جلیل تر اور عظیم تر ہے۔یہ تمثیل ان معانی کو قریب کرنے کے باب میں سے ہے جہاں تک پہنچنے کی ذہن اور فہم طاقت نہیں رکھتا۔ ورنہ اگر درختوں کو کئی گنا کر لیا جائے اور سمندروں کو بھی کئی گنا کر کے ان کی روشنائی بنا لی جائے تب بھی ان کے ختم ہونے کا تو تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ مخلوق ہیں... رہا اللہ تبارک و تعالیٰ کا کلام، تو اس کے ختم ہونے کا تصور نہیں کیا جا سکتا بلکہ عقلی اور نقلی دلیل دلالت کرتی ہے کہ اس کا کلام ختم ہوتا ہے نہ اس کی کوئی انتہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کے سوا باقی ہر چیز کی انتہا ہے۔ ﴿وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الۡمُنۡتَهٰى ﴾(النجم:53؍42) ’’اور تیرے رب ہی کے پاس پہنچنا ہے۔‘‘ جب عقل اللہ تعالیٰ کی ’’اولیت‘‘ اور ’’آخریت‘‘ کا تصور کرے تو، ذہن گزرے ہوئے زمانوں کو فرض کرے۔ وہ ازمان گزشتہ کا جتنا بھی اندازہ لگائے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بھی پہلے ہے جس کا کوئی منتہیٰ نہیں۔ اسی طرح عقل وذہن میں آنے والے زمانوں کے بارے میں خواہ کتنا ہی اندازہ کر لیں اور قلب و زبان کے ذریعے سے اس کی مدد بھی لے لیں، اللہ تعالیٰ ان کے ان اندازوں سے بھی زیادہ متأخر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے تمام اوقات میں فیصلہ کرتا ہے، کلام کرتا ہے، وہ جیسے چاہتا ہے اور جب چاہتا ہے اپنا قول و فعل صادر کرتا ہے اسے اپنے اقوال و افعال سے کوئی چیز مانع نہیں۔ جب عقل نے اس حقیقت کا تصور کر لیا تو معلوم ہوا کہ یہ مثال جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ضمن میں بیان کی ہے صرف اس لیے ہے کہ بندوں کو اس کا تھوڑا سا ادراک ہو جائے ورنہ اللہ تعالیٰ کا کلام اس سے عظیم تر اور جلیل تر ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عزت کے جلال اور کمال حکمت کا ذکر کیا فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی تمام عزت و غلبے کا وہی مالک ہے تمام عالم علوی اور عالم سفلی میں جو بھی قوت پائی جاتی ہے وہ اسی کی طرف سے ہے، وہی ہے جس کی توفیق کے بغیر گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت ہے۔ وہ اپنے غلبے کے ذریعے سے تمام مخلوق پر غالب ہے، ان میں تصرف اور ان کی تدبیرکرتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت سے تمام مخلوق کو پیدا کیا۔ اس تخلیق سے اس کی غرض و غایت اور مقصد بھی حکمت ہی ہے اسی طرح امرونہی بھی اس کی حکمت ہی سے وجود میں آئے ہیں، اور ان کو وجود میں لانے کی غایت مقصود بھی حکمت ہی ہے۔ پس وہ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عظیم اور کامل قدرت کا ذکر فرمایا جس کا عقل تصور تک نہیں کر سکتی۔ پس فرمایا: ﴿مَا خَلۡقُكُمۡ وَلَا بَعۡثُكُمۡ اِلَّا كَنَفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’تم سب کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ اٹھانا تو بس ایسا ہے جیسے ایک متنفس کو (پیدا کرنا اور اٹھانا)‘‘ اور یہ ایسی چیز ہے جو عقل کو حیران کر دیتی ہے۔ تمام مخلوق کی تخلیق... ان کی کثرت کے باوجود اور ان کی موت کے بعد ان کے بکھر جانے کے باوجود ان کو ایک لمحہ میں دوبارہ زندہ کرنا… ایسے ہی ہے جیسے اس نے صرف ایک نفس کو پیدا کیا ہو۔ اس لیے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور پھر اعمال کی جزا دینے کو بعید سمجھنا اللہ تعالیٰ کی عظمت، قوت اور قدرت کے بارے میں جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ پھر ذکر فرمایا کہ وہ تمام مسموعات کو سنتا اور تمام مرئیات کو دیکھتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘
31:29

أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يُولِجُ ٱلَّيۡلَ فِي ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِي ٱلَّيۡلِ وَسَخَّرَ ٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَۖ كُلّٞ يَجۡرِيٓ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى وَأَنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ

کیا نہیں دیکھا آپ نے، بے شک اللہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور اس نے کام میں لگا دیا ہے سورج اور چاند کو، ہر ایک چل رہا ہے ایک وقت مقرر تک اور (یہ کہ) بے شک اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے(29) یہ اس سبب سے کہ بے شک اللہ، وہی ہے حق، اور (یہ کہ) بے شک جس کو وہ پکارتے ہیں اس کے سوا، باطل ہے اور یہ کہ بلاشبہ اللہ، وہی ہے بلند بہت بڑا (30) [29]اس آیت کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے اپنے تصرف و تدبیر میں متفرد ہونے، رات کو دن میں داخل کرنے اور دن کو رات میں داخل کرنے میں اپنی قدرت و اختیار کا ذکر کیا گیا ہے۔ جب دن اور رات میں سے کوئی داخل ہوتا ہے تو دوسرا چلا جاتا ہے۔ وہ سورج اور چاند کو مسخر کرنے میں بھی متفرد ہے۔ سورج اور چاند اس کی تدبیر اور نظام کے تحت چل رہے ہیں۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے، ان میں خلل واقع نہیں ہوا... تاکہ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ دین و دنیا سے متعلق اپنے بندوں کے مصالح و منافع کو پورا کرے، جس سے اس کے بندے عبرت حاصل کرتے اور فائدہ حاصل کرتے ہیں۔﴿كُلٌّ ﴾ ’’ہر ایک‘‘ یعنی سورج اور چاند دونوں ﴿يَّجۡرِيۡۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ایک مدت مقرر تک چلے جا رہے ہیں۔ جب یہ مدت پوری ہو جائے گی تو ان کی گردش ختم اور ان کی قوت معطل ہو جائے گی اور یہ قیامت کا دن ہو گا جب سورج اور چاند سیاہ اور بے نور کر دیے جائیں گے۔ دنیا کے گھر کی انتہا اور آخرت کے گھر کی ابتدا ہو جائے گی۔ ﴿وَّاَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ ﴾ اور تم جو نیکی اور بدی کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے ﴿خَبِيۡرٌ ﴾ ’’باخبر ہے۔‘‘ اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔ وہ عنقریب تمھیں ان اعمال پر جزا وسزا دے گا۔ اطاعت کرنے والوں کو ثواب سے نوازے گا اور نافرمانوں کو سزا دے گا۔ [30]﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ جو اللہ تعالیٰ نے تمھارے سامنے اپنی عظمت اور اپنی صفات کو بیان کیا ہے ﴿بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنی ذات و صفات میں حق ہے، اس کا دین حق ہے، اس کے رسول حق ہیں، اس کا وعدہ حق ہے، اس کی وعید حق ہے اور اس کی عبادت حق ہے۔ ﴿وَاَنَّ مَا يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الۡبَاطِلُ ﴾ اور جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، سب اپنی ذات و صفات میں باطل ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو وجود میں نہ لاتا تو کبھی وجود میں نہ آ سکتے۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی امداد نہ کرے تو ان کی بقا ممکن نہیں۔ جب یہ خود باطل ہیں تو ان کی عبادت سب سے بڑا باطل ہے۔﴿وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡعَلِيُّ ﴾ ’’اور بے شک اللہ تعالیٰ (بذاتہ) بلند ہے‘‘ وہ تمام مخلوقات سے اوپر ہے۔ اس کی صفات اس سے بلندتر ہیں کہ ان پر مخلوق کی صفات کو قیاس کیا جائے وہ مخلوق کے اوپر اور ان پر غالب ہے۔ ﴿الۡكَبِيۡرُ ﴾ وہ اپنی ذات و صفات میں کبریائی کا مالک ہے اور زمین اور آسمان کی تمام مخلوق کے دل اس کی کبریائی سے لبریز ہیں۔
31:30

ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدۡعُونَ مِن دُونِهِ ٱلۡبَٰطِلُ وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡكَبِيرُ

کیا نہیں دیکھا آپ نے، بے شک اللہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور اس نے کام میں لگا دیا ہے سورج اور چاند کو، ہر ایک چل رہا ہے ایک وقت مقرر تک اور (یہ کہ) بے شک اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے(29) یہ اس سبب سے کہ بے شک اللہ، وہی ہے حق، اور (یہ کہ) بے شک جس کو وہ پکارتے ہیں اس کے سوا، باطل ہے اور یہ کہ بلاشبہ اللہ، وہی ہے بلند بہت بڑا (30) [29]اس آیت کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے اپنے تصرف و تدبیر میں متفرد ہونے، رات کو دن میں داخل کرنے اور دن کو رات میں داخل کرنے میں اپنی قدرت و اختیار کا ذکر کیا گیا ہے۔ جب دن اور رات میں سے کوئی داخل ہوتا ہے تو دوسرا چلا جاتا ہے۔ وہ سورج اور چاند کو مسخر کرنے میں بھی متفرد ہے۔ سورج اور چاند اس کی تدبیر اور نظام کے تحت چل رہے ہیں۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے، ان میں خلل واقع نہیں ہوا... تاکہ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ دین و دنیا سے متعلق اپنے بندوں کے مصالح و منافع کو پورا کرے، جس سے اس کے بندے عبرت حاصل کرتے اور فائدہ حاصل کرتے ہیں۔﴿كُلٌّ ﴾ ’’ہر ایک‘‘ یعنی سورج اور چاند دونوں ﴿يَّجۡرِيۡۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ایک مدت مقرر تک چلے جا رہے ہیں۔ جب یہ مدت پوری ہو جائے گی تو ان کی گردش ختم اور ان کی قوت معطل ہو جائے گی اور یہ قیامت کا دن ہو گا جب سورج اور چاند سیاہ اور بے نور کر دیے جائیں گے۔ دنیا کے گھر کی انتہا اور آخرت کے گھر کی ابتدا ہو جائے گی۔ ﴿وَّاَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ ﴾ اور تم جو نیکی اور بدی کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے ﴿خَبِيۡرٌ ﴾ ’’باخبر ہے۔‘‘ اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔ وہ عنقریب تمھیں ان اعمال پر جزا وسزا دے گا۔ اطاعت کرنے والوں کو ثواب سے نوازے گا اور نافرمانوں کو سزا دے گا۔ [30]﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ جو اللہ تعالیٰ نے تمھارے سامنے اپنی عظمت اور اپنی صفات کو بیان کیا ہے ﴿بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنی ذات و صفات میں حق ہے، اس کا دین حق ہے، اس کے رسول حق ہیں، اس کا وعدہ حق ہے، اس کی وعید حق ہے اور اس کی عبادت حق ہے۔ ﴿وَاَنَّ مَا يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الۡبَاطِلُ ﴾ اور جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، سب اپنی ذات و صفات میں باطل ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو وجود میں نہ لاتا تو کبھی وجود میں نہ آ سکتے۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی امداد نہ کرے تو ان کی بقا ممکن نہیں۔ جب یہ خود باطل ہیں تو ان کی عبادت سب سے بڑا باطل ہے۔﴿وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡعَلِيُّ ﴾ ’’اور بے شک اللہ تعالیٰ (بذاتہ) بلند ہے‘‘ وہ تمام مخلوقات سے اوپر ہے۔ اس کی صفات اس سے بلندتر ہیں کہ ان پر مخلوق کی صفات کو قیاس کیا جائے وہ مخلوق کے اوپر اور ان پر غالب ہے۔ ﴿الۡكَبِيۡرُ ﴾ وہ اپنی ذات و صفات میں کبریائی کا مالک ہے اور زمین اور آسمان کی تمام مخلوق کے دل اس کی کبریائی سے لبریز ہیں۔
31:31

أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱلۡفُلۡكَ تَجۡرِي فِي ٱلۡبَحۡرِ بِنِعۡمَتِ ٱللَّهِ لِيُرِيَكُم مِّنۡ ءَايَٰتِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّكُلِّ صَبَّارٖ شَكُورٖ

کیا نہیں دیکھا آپ نے بے شک کشتی چلتی ہے سمندر میں ساتھ فضل اللہ کے، تاکہ دکھائے وہ تمھیں اپنی کچھ نشانیاں، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں ہر بڑے صابر شاکر کے لیے (31) اور جب ڈھانپ لیتی ہے انھیں کوئی (بڑی) موج، مانند سائبانوں کے، تو پکارتے ہیں وہ اللہ کو، خالص کرتے ہوئے اس کے لیے دین (پکار) کو ، پھر جب وہ نجات دے دیتا ہے ان کو خشکی کی طرف تو کوئی ہی ان میں سے عہد پر قائم رہنے والا ہوتا ہے، اور نہیں انکارکرتا ہماری آیتوں کا مگر ہر عہد توڑنے والا ناشکرا ہی (32) [31] کیا تو نے اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی رحمت اوراپنے بندوں پر اس کی عنایت کے آثار نہیں دیکھے؟ اس نے سمندر کو مسخر کیا جس میں اس کے حکم قدری اور اس کے لطف و احسان سے کشتیاں چلتی ہیں۔ ﴿لِيُـرِيَكُمۡ مِّنۡ اٰيٰتِهٖ﴾ ’’تاکہ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے۔‘‘ ان نشانیوں میں نفع اور عبرت ہے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ ’’بے شک اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکرکرنے والے کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ پس یہ وہ لوگ ہیں جو آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، وہ ہر تکلیف پر صبر کرتے ہیں اور خوشی پر شکر کرتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو چھوڑ کر اس کی اطاعت پر صبر کرتے ہیں، اس کی قضا و قدر پر صبر کرتے اور اس کی دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اس کا شکر کرتے ہیں۔ [32] اللہ تعالیٰ لوگوں کا حال بیان کرتا ہے کہ جب لوگ سمندر میں سفر کرتے ہیں اور سمندر کی موجیں چھتری کی مانند ان پر چھا جاتی ہیں تب وہ اللہ کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے صرف اسی کو پکارتے ہیں۔ ﴿فَلَمَّا نَجّٰىهُمۡ اِلَى الۡـبَرِّ ﴾ ’’ پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر لے آتا ہے۔‘‘ تو وہ دو گروہوں میں منقسم ہو جاتے ہیں: ان میں سے ایک گروہ کے لوگ درمیانی راہ پر چلنے والے ہیں، یعنی کامل طریقے سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ وہ گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور ایک گروہ اللہ تعالیٰ کی ناشکری کر کے اس کی نعمت کا انکار کرتا ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَمَا يَجۡحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ ﴾ ’’اور ہماری آیتوں کا وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن ہیں۔‘‘ ان کی بدعہدی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے رب سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے سمندر اور اس کی سختیوں سے انھیں نجات دی تو وہ اس کے شکر گزار بندے بنیں گے۔ پس اس فریق نے بد عہدی کی اپنے عہد کو پورا نہ کیا اور اس پر مستزاد یہ کہ ﴿كَفُوۡرٍ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے سخت ناشکرے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے ان سختیوں سے نجات دی ہو کیا اس کے لیے اس کا شکر ادا کرنے کے سوا کچھ اور لائق ہے؟
31:32

وَإِذَا غَشِيَهُم مَّوۡجٞ كَٱلظُّلَلِ دَعَوُاْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمۡ إِلَى ٱلۡبَرِّ فَمِنۡهُم مُّقۡتَصِدٞۚ وَمَا يَجۡحَدُ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَّا كُلُّ خَتَّارٖ كَفُورٖ

کیا نہیں دیکھا آپ نے بے شک کشتی چلتی ہے سمندر میں ساتھ فضل اللہ کے، تاکہ دکھائے وہ تمھیں اپنی کچھ نشانیاں، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں ہر بڑے صابر شاکر کے لیے (31) اور جب ڈھانپ لیتی ہے انھیں کوئی (بڑی) موج، مانند سائبانوں کے، تو پکارتے ہیں وہ اللہ کو، خالص کرتے ہوئے اس کے لیے دین (پکار) کو ، پھر جب وہ نجات دے دیتا ہے ان کو خشکی کی طرف تو کوئی ہی ان میں سے عہد پر قائم رہنے والا ہوتا ہے، اور نہیں انکارکرتا ہماری آیتوں کا مگر ہر عہد توڑنے والا ناشکرا ہی (32) [31] کیا تو نے اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی رحمت اوراپنے بندوں پر اس کی عنایت کے آثار نہیں دیکھے؟ اس نے سمندر کو مسخر کیا جس میں اس کے حکم قدری اور اس کے لطف و احسان سے کشتیاں چلتی ہیں۔ ﴿لِيُـرِيَكُمۡ مِّنۡ اٰيٰتِهٖ﴾ ’’تاکہ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے۔‘‘ ان نشانیوں میں نفع اور عبرت ہے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ ’’بے شک اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکرکرنے والے کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ پس یہ وہ لوگ ہیں جو آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، وہ ہر تکلیف پر صبر کرتے ہیں اور خوشی پر شکر کرتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو چھوڑ کر اس کی اطاعت پر صبر کرتے ہیں، اس کی قضا و قدر پر صبر کرتے اور اس کی دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اس کا شکر کرتے ہیں۔ [32] اللہ تعالیٰ لوگوں کا حال بیان کرتا ہے کہ جب لوگ سمندر میں سفر کرتے ہیں اور سمندر کی موجیں چھتری کی مانند ان پر چھا جاتی ہیں تب وہ اللہ کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے صرف اسی کو پکارتے ہیں۔ ﴿فَلَمَّا نَجّٰىهُمۡ اِلَى الۡـبَرِّ ﴾ ’’ پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر لے آتا ہے۔‘‘ تو وہ دو گروہوں میں منقسم ہو جاتے ہیں: ان میں سے ایک گروہ کے لوگ درمیانی راہ پر چلنے والے ہیں، یعنی کامل طریقے سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ وہ گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور ایک گروہ اللہ تعالیٰ کی ناشکری کر کے اس کی نعمت کا انکار کرتا ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَمَا يَجۡحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ ﴾ ’’اور ہماری آیتوں کا وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن ہیں۔‘‘ ان کی بدعہدی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے رب سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے سمندر اور اس کی سختیوں سے انھیں نجات دی تو وہ اس کے شکر گزار بندے بنیں گے۔ پس اس فریق نے بد عہدی کی اپنے عہد کو پورا نہ کیا اور اس پر مستزاد یہ کہ ﴿كَفُوۡرٍ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے سخت ناشکرے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے ان سختیوں سے نجات دی ہو کیا اس کے لیے اس کا شکر ادا کرنے کے سوا کچھ اور لائق ہے؟
31:33

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمۡ وَٱخۡشَوۡاْ يَوۡمٗا لَّا يَجۡزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِۦ وَلَا مَوۡلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِۦ شَيۡـًٔاۚ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِٱللَّهِ ٱلۡغَرُورُ

اے لوگو! تقوی اختیارکرو اپنے رب کا اور ڈرواس دن سے کہ نہیں کام آئے گا کوئی باپ اپنی اولاد کے اور نہ کوئی اولاد ہی کام آنے والی ہو گی اپنے باپ کے کچھ بھی، بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے، پس نہ دھوکے میں ڈال دے تمھیں زندگانیٔ دنیا، اور نہ دھوکے میں ڈالے تمھیں اللہ کے متعلق بڑا دھوکے باز (شیطان)(33) [33] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے تقویٰ کا حکم دیتا ہے۔ تقویٰ سے مراد اس کے حکم کی تعمیل کرنا اور منہیات کو ترک کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے سخت دن کے خوف کی طرف ان کی توجہ مبذول کرواتا ہے۔ جس روز ہر شخص کو اپنے سوا کسی کا ہوش نہیں ہو گا پس ﴿لَّا يَجۡزِيۡ وَالِدٌ عَنۡ وَّلَدِهٖ١ٞ وَلَا مَوۡلُوۡدٌ هُوَ جَازٍ عَنۡ وَّالِدِهٖ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے گا نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکے گا۔‘‘ یعنی وہ اس کی نیکیوں میں اضافہ کر سکے گا نہ اس کے گناہوں میں کوئی کمی کر سکے گا۔ ہر بندے کا عمل پورا ہو چکا ہوگا اور اس پر اس کی جزا وسزا بھی متحقق ہو چکی ہوگی۔ تو اس ہولناک دن کی طرف دیکھ، جو بندے کو قوت عطا کر کے اس کے لیے تقویٰ کو آسان کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت ہے کہ وہ انھیں تقویٰ کا حکم دیتا ہے جس کے اندر ان کی سعادت ہے اور اس پر ان کے ساتھ ثواب کا وعدہ کرتا ہے، انھیں عذاب سے ڈراتا ہے، انھیں مواعظ اور (قیامت کے) خوفناک مقامات سے ڈرا کر، برائیوں سے روکتا ہے... اے جہانوں کے رب! تیری ہی ستائش ہے۔ ﴿اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ پس اللہ کے وعدے میں شک نہ کرو اور ایسے کام نہ کرو جو اس وعدے کو سچا نہ ماننے والوں کے ہوتے ہیں۔ بنا بریں فرمایا: ﴿فَلَا تَغُرَّنَّـكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا ﴾ یعنی دنیا کی زیب و زینت، اس کی چکا چوند اور اس کے فتنے تمھیں دھوکے میں نہ ڈال دیں ﴿وَلَا يَغُرَّنَّـكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ ﴾ ’’اور فریب دینے والا تمھیں اللہ کے بارے میں کسی طرح کا فریب نہ دے‘‘ یعنی شیطان ہر وقت انسان کو فریب میں مبتلا رکھتا ہے اور کسی وقت بھی اس سے غافل نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر حق ہے۔ اور اس نے ان کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا، نیز کیا انھوں نے اس کا حق پورا کیا ہے یا اس بارے میں انھوں نے کوتاہی کی ہے؟ یہ ایسا معاملہ ہے جس کا اہتمام واجب ہے۔ بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ اسے اپنا نصب العین اور زندگی کا سرمایہ بنائے رکھے جس کے لیے کوشش کی جاتی ہے۔ اس راستے کی سب سے بڑی آفت فتنہ میں مبتلا کرنے والی دنیا ہے اور سب سے بڑا راہزن شیطان ہے جو وسوسے ڈالتا اور گمراہ کرتا ہے، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دنیا اور شیطان کے فریب میں مبتلا ہونے سے روکا ہے۔ ﴿يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيۡهِمۡ١ؕ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا﴾(النساء:4؍120) ’’شیطان ان سے وعدہ کرتا ہے، ان کو آرزوئیں دلاتا ہے اور شیطان کا وعدہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
31:34

إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥ عِلۡمُ ٱلسَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ ٱلۡغَيۡثَ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلۡأَرۡحَامِۖ وَمَا تَدۡرِي نَفۡسٞ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدٗاۖ وَمَا تَدۡرِي نَفۡسُۢ بِأَيِّ أَرۡضٖ تَمُوتُۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرُۢ

بے شک اللہ، اسی کے پاس ہے علم قیامت کا اوروہی نازل کرتا ہے بارش اور وہی جانتا ہے جو کچھ رحموں (ماؤ ں کے پیٹوں) میں ہے اور نہیں جانتا کوئی نفس کہ کیا کام کرے گا وہ کل کو اور نہیں جانتا کوئی نفس کہ کس زمین میں وہ مرے گا، بے شک اللہ خوب جاننے والا، خوب خبردار ہے (34) [34] یہ امر متحقق ہے کہ علم الٰہی نے غیب و شاہد اور ظاہر و باطن ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے اور کبھی کبھی بہت سے امور غیبیہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مطلع کر دیتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں مذکور پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کا علم کسی کو بھی نہیں دیا گیا، عام لوگ تو کیا ان امور کو کوئی نبی مرسل جانتا ہے نہ کوئی مقرب فرشتہ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾ صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰؔىهَا١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ١ۚ لَا يُجَلِّيۡهَا لِوَقۡتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔ ۘ ؕ ثَقُلَتۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ؕ لَا تَاۡتِيۡكُمۡ اِلَّا بَغۡتَةً﴾(الأعراف:7؍187)’’وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ آخر قیامت کی گھڑی کب آئے گی، کہہ دیجیے اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا، آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری حادثہ ہوگا اور وہ تم پر اچانک ہی آ جائے گی۔‘‘﴿وَيُنَزِّلُ الۡغَيۡثَ ﴾ وہ اکیلا ہی ہے جو بارش برساتا ہے اور وہی اس کے برسنے کا وقت جانتا ہے۔ ﴿وَيَعۡلَمُ مَا فِي الۡاَرۡحَامِ ﴾ پس رحموں کے اندر جو کچھ ہے اس نے تخلیق کیا ہے اور اس کے متعلق وہی جانتا ہے کہ آیا وہ نر ہے یا مادہ، اس لیے اس پر مقرر کردہ فرشتہ اللہ تعالیٰ سے عرض کرتا ہے لڑکا یا لڑکی؟ پس اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ ﴿وَمَا تَدۡرِيۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدًا ﴾ ’’اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا۔‘‘ یعنی دین اور دنیا کی کمائی میں سے ﴿وَمَا تَدۡرِيۡ نَفۡسٌۢ بِاَيِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ ﴾ ’’اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سر زمین میں اسے موت آئے گی۔‘‘ بلکہ یہ تمام علم صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مختص ہے۔ ان مذکورہ چیزوں کا علم مخصوص کرنے کے بعد بیان فرمایا کہ اس کاعلم تمام چیزوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ تمام ظاہری و باطنی امور، تمام چھپی ہوئی اور تمام اسرار نہاں سے باخبر اور ان کو جانتا ہے۔ یہ اس کی حکمت کاملہ ہے کہ اس نے پانچ چیزوں کا علم بندوں سے چھپا رکھا ہے کیونکہ اس کے اندر ان کے مصالح پنہاں ہیں۔ صاحب تدبر پر یہ چیز مخفی نہیں۔