al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 15 · 99 verses
15:1الٓرۚ تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِ وَقُرۡءَانٖ مُّبِينٖ
الٓرٰ، یہ آیتیں ہیں کتاب اور قرآن واضح کی (1) بسا اوقات چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش کہ وہ ہوتے مسلمان (2) آپ چھوڑیے انھیں ، وہ کھائیں اور فائدہ اٹھائیں اور غفلت میں ڈالے رکھے انھیں (لمبی) امید، پس عنقریب وہ جان لیں گے (3) اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس حال میں کہ اس کے لیے میعاد مقرر تھی (4) نہیں آگے نکل سکتی کوئی امت اپنے (مقررہ) وقت سےاور نہ پیچھے رہ سکتی ہے (5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب کی تعظیم اور مدح بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’یہ کتاب کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ آیات بہترین معانی اور افضل ترین مطالب پر دلالت کرتی ہیں ﴿ وَقُرۡاٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’اور قرآن روشن کی۔‘‘ جو بہترین الفاظ اور اپنے مقصد پر قوی ترین دلائل کے ذریعے سے حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ مخلوق اس کی اطاعت کرے، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دے اور فرحت و سرور کے ساتھ اس کو قبول کرے۔
[2] جو کوئی اس عظیم نعمت کو ٹھکراتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے تو وہ گمراہ اور مکذبین میں شمار ہوتا ہے جن پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے یعنی انھوں نے اس کے احکام کو تسلیم کیا ہوتا اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹ جائے گا، آخرت کی علامات اور موت کے مقدمات شروع ہو جائیں گے۔ وہ آخرت کے تمام احوال میں تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے مگر اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہو گا۔ یہ لوگ اس دنیا میں دھوکے میں پڑے رہے۔
[3] پس ﴿ ذَرۡهُمۡ يَاۡكُلُوۡا وَيَتَمَتَّعُوۡا ﴾ ’’چھوڑ دیں ان کو، کھا لیں اور فائدہ اٹھا لیں ‘‘ اپنی لذتوں سے ﴿ وَيُلۡهِهِمُ الۡاَمَلُ ﴾ ’’اور امید ان کو غفلت میں ڈالے رکھے‘‘ یعنی وہ دنیا میں باقی رہنے کی امید رکھتے ہیں ۔ پس بقاء کی یہ امید انھیں آخرت سے غافل کر دیتی ہے ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کو عنقریب جان لیں گے اور ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے اعمال ان کے لیے محض خسارے کا باعث تھے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے دھوکا نہ کھائیں ۔ کیونکہ قوموں کے بارے میں یہ مہلت سنت الٰہی ہے۔
[4]﴿ وَمَاۤ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’اور کسی بستی کو ہم نے ہلاک نہیں کیا‘‘ جو کہ عذاب کی مستحق تھی ﴿ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعۡلُوۡمٌ ﴾ ’’مگر اس کا وقت لکھا ہوا مقرر تھا‘‘ یعنی اس کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا۔
[5]﴿ مَا تَسۡبِقُ مِنۡ اُمَّؔةٍ اَجَلَهَا وَمَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’کوئی قوم اپنے وقت مقررہ سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔‘‘ ورنہ خواہ کتنی ہی تاخیر ہو گناہوں کی تاثیر کا واقع ہونا لابدی ہے۔
15:2رُّبَمَا يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوۡ كَانُواْ مُسۡلِمِينَ
الٓرٰ، یہ آیتیں ہیں کتاب اور قرآن واضح کی (1) بسا اوقات چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش کہ وہ ہوتے مسلمان (2) آپ چھوڑیے انھیں ، وہ کھائیں اور فائدہ اٹھائیں اور غفلت میں ڈالے رکھے انھیں (لمبی) امید، پس عنقریب وہ جان لیں گے (3) اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس حال میں کہ اس کے لیے میعاد مقرر تھی (4) نہیں آگے نکل سکتی کوئی امت اپنے (مقررہ) وقت سےاور نہ پیچھے رہ سکتی ہے (5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب کی تعظیم اور مدح بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’یہ کتاب کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ آیات بہترین معانی اور افضل ترین مطالب پر دلالت کرتی ہیں ﴿ وَقُرۡاٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’اور قرآن روشن کی۔‘‘ جو بہترین الفاظ اور اپنے مقصد پر قوی ترین دلائل کے ذریعے سے حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ مخلوق اس کی اطاعت کرے، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دے اور فرحت و سرور کے ساتھ اس کو قبول کرے۔
[2] جو کوئی اس عظیم نعمت کو ٹھکراتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے تو وہ گمراہ اور مکذبین میں شمار ہوتا ہے جن پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے یعنی انھوں نے اس کے احکام کو تسلیم کیا ہوتا اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹ جائے گا، آخرت کی علامات اور موت کے مقدمات شروع ہو جائیں گے۔ وہ آخرت کے تمام احوال میں تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے مگر اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہو گا۔ یہ لوگ اس دنیا میں دھوکے میں پڑے رہے۔
[3] پس ﴿ ذَرۡهُمۡ يَاۡكُلُوۡا وَيَتَمَتَّعُوۡا ﴾ ’’چھوڑ دیں ان کو، کھا لیں اور فائدہ اٹھا لیں ‘‘ اپنی لذتوں سے ﴿ وَيُلۡهِهِمُ الۡاَمَلُ ﴾ ’’اور امید ان کو غفلت میں ڈالے رکھے‘‘ یعنی وہ دنیا میں باقی رہنے کی امید رکھتے ہیں ۔ پس بقاء کی یہ امید انھیں آخرت سے غافل کر دیتی ہے ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کو عنقریب جان لیں گے اور ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے اعمال ان کے لیے محض خسارے کا باعث تھے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے دھوکا نہ کھائیں ۔ کیونکہ قوموں کے بارے میں یہ مہلت سنت الٰہی ہے۔
[4]﴿ وَمَاۤ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’اور کسی بستی کو ہم نے ہلاک نہیں کیا‘‘ جو کہ عذاب کی مستحق تھی ﴿ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعۡلُوۡمٌ ﴾ ’’مگر اس کا وقت لکھا ہوا مقرر تھا‘‘ یعنی اس کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا۔
[5]﴿ مَا تَسۡبِقُ مِنۡ اُمَّؔةٍ اَجَلَهَا وَمَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’کوئی قوم اپنے وقت مقررہ سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔‘‘ ورنہ خواہ کتنی ہی تاخیر ہو گناہوں کی تاثیر کا واقع ہونا لابدی ہے۔
15:3ذَرۡهُمۡ يَأۡكُلُواْ وَيَتَمَتَّعُواْ وَيُلۡهِهِمُ ٱلۡأَمَلُۖ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُونَ
الٓرٰ، یہ آیتیں ہیں کتاب اور قرآن واضح کی (1) بسا اوقات چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش کہ وہ ہوتے مسلمان (2) آپ چھوڑیے انھیں ، وہ کھائیں اور فائدہ اٹھائیں اور غفلت میں ڈالے رکھے انھیں (لمبی) امید، پس عنقریب وہ جان لیں گے (3) اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس حال میں کہ اس کے لیے میعاد مقرر تھی (4) نہیں آگے نکل سکتی کوئی امت اپنے (مقررہ) وقت سےاور نہ پیچھے رہ سکتی ہے (5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب کی تعظیم اور مدح بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’یہ کتاب کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ آیات بہترین معانی اور افضل ترین مطالب پر دلالت کرتی ہیں ﴿ وَقُرۡاٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’اور قرآن روشن کی۔‘‘ جو بہترین الفاظ اور اپنے مقصد پر قوی ترین دلائل کے ذریعے سے حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ مخلوق اس کی اطاعت کرے، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دے اور فرحت و سرور کے ساتھ اس کو قبول کرے۔
[2] جو کوئی اس عظیم نعمت کو ٹھکراتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے تو وہ گمراہ اور مکذبین میں شمار ہوتا ہے جن پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے یعنی انھوں نے اس کے احکام کو تسلیم کیا ہوتا اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹ جائے گا، آخرت کی علامات اور موت کے مقدمات شروع ہو جائیں گے۔ وہ آخرت کے تمام احوال میں تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے مگر اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہو گا۔ یہ لوگ اس دنیا میں دھوکے میں پڑے رہے۔
[3] پس ﴿ ذَرۡهُمۡ يَاۡكُلُوۡا وَيَتَمَتَّعُوۡا ﴾ ’’چھوڑ دیں ان کو، کھا لیں اور فائدہ اٹھا لیں ‘‘ اپنی لذتوں سے ﴿ وَيُلۡهِهِمُ الۡاَمَلُ ﴾ ’’اور امید ان کو غفلت میں ڈالے رکھے‘‘ یعنی وہ دنیا میں باقی رہنے کی امید رکھتے ہیں ۔ پس بقاء کی یہ امید انھیں آخرت سے غافل کر دیتی ہے ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کو عنقریب جان لیں گے اور ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے اعمال ان کے لیے محض خسارے کا باعث تھے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے دھوکا نہ کھائیں ۔ کیونکہ قوموں کے بارے میں یہ مہلت سنت الٰہی ہے۔
[4]﴿ وَمَاۤ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’اور کسی بستی کو ہم نے ہلاک نہیں کیا‘‘ جو کہ عذاب کی مستحق تھی ﴿ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعۡلُوۡمٌ ﴾ ’’مگر اس کا وقت لکھا ہوا مقرر تھا‘‘ یعنی اس کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا۔
[5]﴿ مَا تَسۡبِقُ مِنۡ اُمَّؔةٍ اَجَلَهَا وَمَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’کوئی قوم اپنے وقت مقررہ سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔‘‘ ورنہ خواہ کتنی ہی تاخیر ہو گناہوں کی تاثیر کا واقع ہونا لابدی ہے۔
15:4وَمَآ أَهۡلَكۡنَا مِن قَرۡيَةٍ إِلَّا وَلَهَا كِتَابٞ مَّعۡلُومٞ
الٓرٰ، یہ آیتیں ہیں کتاب اور قرآن واضح کی (1) بسا اوقات چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش کہ وہ ہوتے مسلمان (2) آپ چھوڑیے انھیں ، وہ کھائیں اور فائدہ اٹھائیں اور غفلت میں ڈالے رکھے انھیں (لمبی) امید، پس عنقریب وہ جان لیں گے (3) اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس حال میں کہ اس کے لیے میعاد مقرر تھی (4) نہیں آگے نکل سکتی کوئی امت اپنے (مقررہ) وقت سےاور نہ پیچھے رہ سکتی ہے (5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب کی تعظیم اور مدح بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’یہ کتاب کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ آیات بہترین معانی اور افضل ترین مطالب پر دلالت کرتی ہیں ﴿ وَقُرۡاٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’اور قرآن روشن کی۔‘‘ جو بہترین الفاظ اور اپنے مقصد پر قوی ترین دلائل کے ذریعے سے حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ مخلوق اس کی اطاعت کرے، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دے اور فرحت و سرور کے ساتھ اس کو قبول کرے۔
[2] جو کوئی اس عظیم نعمت کو ٹھکراتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے تو وہ گمراہ اور مکذبین میں شمار ہوتا ہے جن پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے یعنی انھوں نے اس کے احکام کو تسلیم کیا ہوتا اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹ جائے گا، آخرت کی علامات اور موت کے مقدمات شروع ہو جائیں گے۔ وہ آخرت کے تمام احوال میں تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے مگر اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہو گا۔ یہ لوگ اس دنیا میں دھوکے میں پڑے رہے۔
[3] پس ﴿ ذَرۡهُمۡ يَاۡكُلُوۡا وَيَتَمَتَّعُوۡا ﴾ ’’چھوڑ دیں ان کو، کھا لیں اور فائدہ اٹھا لیں ‘‘ اپنی لذتوں سے ﴿ وَيُلۡهِهِمُ الۡاَمَلُ ﴾ ’’اور امید ان کو غفلت میں ڈالے رکھے‘‘ یعنی وہ دنیا میں باقی رہنے کی امید رکھتے ہیں ۔ پس بقاء کی یہ امید انھیں آخرت سے غافل کر دیتی ہے ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کو عنقریب جان لیں گے اور ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے اعمال ان کے لیے محض خسارے کا باعث تھے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے دھوکا نہ کھائیں ۔ کیونکہ قوموں کے بارے میں یہ مہلت سنت الٰہی ہے۔
[4]﴿ وَمَاۤ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’اور کسی بستی کو ہم نے ہلاک نہیں کیا‘‘ جو کہ عذاب کی مستحق تھی ﴿ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعۡلُوۡمٌ ﴾ ’’مگر اس کا وقت لکھا ہوا مقرر تھا‘‘ یعنی اس کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا۔
[5]﴿ مَا تَسۡبِقُ مِنۡ اُمَّؔةٍ اَجَلَهَا وَمَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’کوئی قوم اپنے وقت مقررہ سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔‘‘ ورنہ خواہ کتنی ہی تاخیر ہو گناہوں کی تاثیر کا واقع ہونا لابدی ہے۔
15:5مَّا تَسۡبِقُ مِنۡ أُمَّةٍ أَجَلَهَا وَمَا يَسۡتَـٔۡخِرُونَ
الٓرٰ، یہ آیتیں ہیں کتاب اور قرآن واضح کی (1) بسا اوقات چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش کہ وہ ہوتے مسلمان (2) آپ چھوڑیے انھیں ، وہ کھائیں اور فائدہ اٹھائیں اور غفلت میں ڈالے رکھے انھیں (لمبی) امید، پس عنقریب وہ جان لیں گے (3) اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس حال میں کہ اس کے لیے میعاد مقرر تھی (4) نہیں آگے نکل سکتی کوئی امت اپنے (مقررہ) وقت سےاور نہ پیچھے رہ سکتی ہے (5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب کی تعظیم اور مدح بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’یہ کتاب کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ آیات بہترین معانی اور افضل ترین مطالب پر دلالت کرتی ہیں ﴿ وَقُرۡاٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’اور قرآن روشن کی۔‘‘ جو بہترین الفاظ اور اپنے مقصد پر قوی ترین دلائل کے ذریعے سے حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ مخلوق اس کی اطاعت کرے، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دے اور فرحت و سرور کے ساتھ اس کو قبول کرے۔
[2] جو کوئی اس عظیم نعمت کو ٹھکراتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے تو وہ گمراہ اور مکذبین میں شمار ہوتا ہے جن پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے یعنی انھوں نے اس کے احکام کو تسلیم کیا ہوتا اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹ جائے گا، آخرت کی علامات اور موت کے مقدمات شروع ہو جائیں گے۔ وہ آخرت کے تمام احوال میں تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے مگر اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہو گا۔ یہ لوگ اس دنیا میں دھوکے میں پڑے رہے۔
[3] پس ﴿ ذَرۡهُمۡ يَاۡكُلُوۡا وَيَتَمَتَّعُوۡا ﴾ ’’چھوڑ دیں ان کو، کھا لیں اور فائدہ اٹھا لیں ‘‘ اپنی لذتوں سے ﴿ وَيُلۡهِهِمُ الۡاَمَلُ ﴾ ’’اور امید ان کو غفلت میں ڈالے رکھے‘‘ یعنی وہ دنیا میں باقی رہنے کی امید رکھتے ہیں ۔ پس بقاء کی یہ امید انھیں آخرت سے غافل کر دیتی ہے ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کو عنقریب جان لیں گے اور ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے اعمال ان کے لیے محض خسارے کا باعث تھے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے دھوکا نہ کھائیں ۔ کیونکہ قوموں کے بارے میں یہ مہلت سنت الٰہی ہے۔
[4]﴿ وَمَاۤ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’اور کسی بستی کو ہم نے ہلاک نہیں کیا‘‘ جو کہ عذاب کی مستحق تھی ﴿ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعۡلُوۡمٌ ﴾ ’’مگر اس کا وقت لکھا ہوا مقرر تھا‘‘ یعنی اس کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا۔
[5]﴿ مَا تَسۡبِقُ مِنۡ اُمَّؔةٍ اَجَلَهَا وَمَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’کوئی قوم اپنے وقت مقررہ سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔‘‘ ورنہ خواہ کتنی ہی تاخیر ہو گناہوں کی تاثیر کا واقع ہونا لابدی ہے۔
15:6وَقَالُواْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِي نُزِّلَ عَلَيۡهِ ٱلذِّكۡرُ إِنَّكَ لَمَجۡنُونٞ
اور انھوں نے کہا، اے وہ شخص! کہ نازل کیا گیا ہے اوپر اس کے یہ قرآن، یقینا تو تو دیوانہ ہے (6) کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتے، اگر ہے تو سچوں میں سے؟(7) نہیں نازل کرتے ہم فرشتے مگر ساتھ حق (عذاب) کےاور نہ ہوں گے وہ (کافر) اس وقت مہلت دیے گئے(8) بے شک ہم ہی نے نازل کیا ہے یہ قرآن اور بے شک ہم ہی اس کے محافظ ہیں (9)
[6] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار نے تمسخر اور استہزا کے طور پر کہا۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡ نُزِّلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ ﴾ ’’اے وہ شخص کہ اترا ہے اس پر قرآن‘‘ یعنی تیرے زعم کے مطابق ﴿ اِنَّكَ لَمَجۡنُوۡنٌؔ ﴾ ’’بے شک تو دیوانہ ہے‘‘ کیونکہ تو سمجھتا ہے کہ محض تیرے کہنے پر ہم تیری پیروی کرنے لگ جائیں گے اور اس مذہب کو چھوڑ دیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔
[8,7]﴿ لَوۡ مَا تَاۡتِيۡنَا بِالۡمَلٰٓىِٕكَةِ ﴾ ’’کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتوں کو‘‘ جو اس چیز کی صداقت اور صحت کی گواہی دیں جو تو لے کر آیا ہے ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو سچا ہے‘‘ اور چونکہ تیری تائید کے لیے تیرے ساتھ فرشتے نہیں آئے اس لیے تو سچا نہیں ہے اور ان کا یہ کہنا سب سے بڑا ظلم اورسب سے بڑی جہالت ہے۔ رہا اس کا ظلم ہونا تو یہ صاف ظاہر ہے کیونکہ معین معجزات کا مطالبہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت بڑی جسارت اور محض تعنت (بے جا سختی)ہے حالانکہ ان معین معجزات کے بغیر بھی بہت سی نشانیوں کے ذریعے سے دلیل اور برہان کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے جو اس چیز کی صحت اور اس کے حق ہونے پر دلالت کرتی ہیں … اور رہی جہالت تو وہ اپنے مصالح اور نقصان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، پس فرشتوں کو نازل کرنے میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جب فرشتے نازل کرتا ہے تو حق کے ساتھ نازل کرتا ہے اور اس کے بعد ان لوگوں کو کوئی مہلت نہیں دی جاتی جو حق کی پیروی نہیں کرتے۔﴿ وَمَا كَانُوۡۤا اِذًا ﴾ ’’اور اس وقت نہ ملے گی‘‘ یعنی فرشتے کے نازل ہونے کے بعد اگر وہ ایمان نہ لائیں … اور وہ ایمان نہیں لائیں گے ﴿ مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ ’’ان کو مہلت‘‘ یعنی ان کو مہلت نہیں دی جائے گی۔ فرشتوں کے نازل ہونے کا مطالبہ، ان کی فوری ہلاکت اور تباہی کا باعث بن جائے گا۔ کیونکہ ایمان ان کے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَوۡ اَنَّنَا نَزَّلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةَ وَؔكَلَّمَهُمُ الۡمَوۡتٰى وَحَشَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ كُلَّ شَيۡءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ يَجۡهَلُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍ 111) ’’اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی نازل کر دیتے۔ مردے ان سے ہم کلام ہوتے اور ہر چیز ان کے سامنے اکٹھی کر دیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے، الا یہ کہ اللہ چاہتا، مگر ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں ۔‘‘
[9] اگر یہ اپنی بات میں سچے ہوتے تو قرآن عظیم کی یہ آیات ہی ان کے لیے کافی ہوتیں ۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ ﴾ ’’بے شک ہم نے اتاری ہے یہ نصیحت‘‘ یعنی قرآن جس میں ہر چیز کا تذکرہ ہے ، مثلاً: مسائل اور واضح دلائل وغیرہ اور جو کوئی نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس سے نصیحت حاصل کر سکتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾ ’’اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ‘‘ یعنی اس کو نازل کرنے کی حالت میں ہر شیطان مردود کی چوری سے ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اور اس کو نازل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے قلب میں اور آپ کی امت کے قلوب میں ودیعت کر دیا۔ نیز اس کے الفاظ کو تغیر و تبدل، کمی بیشی اور اس کے معانی کو ہر قسم کی تبدیلی سے محفوظ کر دیا۔ تحریف کرنے والا جب کبھی اس کے معنی میں تحریف کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو مقرر فرما دیتا ہے جو حق مبین کو واضح کر دیتا ہے۔ قرآن کی حقانیت کی یہ سب سے بڑی دلیل ہے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے مومن بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کی حفاظت یہ ہے کہ وہ اہل قرآن کو ان کے دشمنوں سے محفوظ رکھتا ہے اور وہ ان پر کسی ایسے دشمن کو مسلط نہیں کرتا جو ان کو ہلاک کر ڈالے۔
15:7لَّوۡمَا تَأۡتِينَا بِٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
اور انھوں نے کہا، اے وہ شخص! کہ نازل کیا گیا ہے اوپر اس کے یہ قرآن، یقینا تو تو دیوانہ ہے (6) کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتے، اگر ہے تو سچوں میں سے؟(7) نہیں نازل کرتے ہم فرشتے مگر ساتھ حق (عذاب) کےاور نہ ہوں گے وہ (کافر) اس وقت مہلت دیے گئے(8) بے شک ہم ہی نے نازل کیا ہے یہ قرآن اور بے شک ہم ہی اس کے محافظ ہیں (9)
[6] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار نے تمسخر اور استہزا کے طور پر کہا۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡ نُزِّلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ ﴾ ’’اے وہ شخص کہ اترا ہے اس پر قرآن‘‘ یعنی تیرے زعم کے مطابق ﴿ اِنَّكَ لَمَجۡنُوۡنٌؔ ﴾ ’’بے شک تو دیوانہ ہے‘‘ کیونکہ تو سمجھتا ہے کہ محض تیرے کہنے پر ہم تیری پیروی کرنے لگ جائیں گے اور اس مذہب کو چھوڑ دیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔
[8,7]﴿ لَوۡ مَا تَاۡتِيۡنَا بِالۡمَلٰٓىِٕكَةِ ﴾ ’’کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتوں کو‘‘ جو اس چیز کی صداقت اور صحت کی گواہی دیں جو تو لے کر آیا ہے ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو سچا ہے‘‘ اور چونکہ تیری تائید کے لیے تیرے ساتھ فرشتے نہیں آئے اس لیے تو سچا نہیں ہے اور ان کا یہ کہنا سب سے بڑا ظلم اورسب سے بڑی جہالت ہے۔ رہا اس کا ظلم ہونا تو یہ صاف ظاہر ہے کیونکہ معین معجزات کا مطالبہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت بڑی جسارت اور محض تعنت (بے جا سختی)ہے حالانکہ ان معین معجزات کے بغیر بھی بہت سی نشانیوں کے ذریعے سے دلیل اور برہان کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے جو اس چیز کی صحت اور اس کے حق ہونے پر دلالت کرتی ہیں … اور رہی جہالت تو وہ اپنے مصالح اور نقصان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، پس فرشتوں کو نازل کرنے میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جب فرشتے نازل کرتا ہے تو حق کے ساتھ نازل کرتا ہے اور اس کے بعد ان لوگوں کو کوئی مہلت نہیں دی جاتی جو حق کی پیروی نہیں کرتے۔﴿ وَمَا كَانُوۡۤا اِذًا ﴾ ’’اور اس وقت نہ ملے گی‘‘ یعنی فرشتے کے نازل ہونے کے بعد اگر وہ ایمان نہ لائیں … اور وہ ایمان نہیں لائیں گے ﴿ مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ ’’ان کو مہلت‘‘ یعنی ان کو مہلت نہیں دی جائے گی۔ فرشتوں کے نازل ہونے کا مطالبہ، ان کی فوری ہلاکت اور تباہی کا باعث بن جائے گا۔ کیونکہ ایمان ان کے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَوۡ اَنَّنَا نَزَّلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةَ وَؔكَلَّمَهُمُ الۡمَوۡتٰى وَحَشَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ كُلَّ شَيۡءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ يَجۡهَلُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍ 111) ’’اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی نازل کر دیتے۔ مردے ان سے ہم کلام ہوتے اور ہر چیز ان کے سامنے اکٹھی کر دیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے، الا یہ کہ اللہ چاہتا، مگر ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں ۔‘‘
[9] اگر یہ اپنی بات میں سچے ہوتے تو قرآن عظیم کی یہ آیات ہی ان کے لیے کافی ہوتیں ۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ ﴾ ’’بے شک ہم نے اتاری ہے یہ نصیحت‘‘ یعنی قرآن جس میں ہر چیز کا تذکرہ ہے ، مثلاً: مسائل اور واضح دلائل وغیرہ اور جو کوئی نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس سے نصیحت حاصل کر سکتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾ ’’اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ‘‘ یعنی اس کو نازل کرنے کی حالت میں ہر شیطان مردود کی چوری سے ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اور اس کو نازل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے قلب میں اور آپ کی امت کے قلوب میں ودیعت کر دیا۔ نیز اس کے الفاظ کو تغیر و تبدل، کمی بیشی اور اس کے معانی کو ہر قسم کی تبدیلی سے محفوظ کر دیا۔ تحریف کرنے والا جب کبھی اس کے معنی میں تحریف کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو مقرر فرما دیتا ہے جو حق مبین کو واضح کر دیتا ہے۔ قرآن کی حقانیت کی یہ سب سے بڑی دلیل ہے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے مومن بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کی حفاظت یہ ہے کہ وہ اہل قرآن کو ان کے دشمنوں سے محفوظ رکھتا ہے اور وہ ان پر کسی ایسے دشمن کو مسلط نہیں کرتا جو ان کو ہلاک کر ڈالے۔
15:8مَا نُنَزِّلُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةَ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَمَا كَانُوٓاْ إِذٗا مُّنظَرِينَ
اور انھوں نے کہا، اے وہ شخص! کہ نازل کیا گیا ہے اوپر اس کے یہ قرآن، یقینا تو تو دیوانہ ہے (6) کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتے، اگر ہے تو سچوں میں سے؟(7) نہیں نازل کرتے ہم فرشتے مگر ساتھ حق (عذاب) کےاور نہ ہوں گے وہ (کافر) اس وقت مہلت دیے گئے(8) بے شک ہم ہی نے نازل کیا ہے یہ قرآن اور بے شک ہم ہی اس کے محافظ ہیں (9)
[6] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار نے تمسخر اور استہزا کے طور پر کہا۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡ نُزِّلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ ﴾ ’’اے وہ شخص کہ اترا ہے اس پر قرآن‘‘ یعنی تیرے زعم کے مطابق ﴿ اِنَّكَ لَمَجۡنُوۡنٌؔ ﴾ ’’بے شک تو دیوانہ ہے‘‘ کیونکہ تو سمجھتا ہے کہ محض تیرے کہنے پر ہم تیری پیروی کرنے لگ جائیں گے اور اس مذہب کو چھوڑ دیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔
[8,7]﴿ لَوۡ مَا تَاۡتِيۡنَا بِالۡمَلٰٓىِٕكَةِ ﴾ ’’کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتوں کو‘‘ جو اس چیز کی صداقت اور صحت کی گواہی دیں جو تو لے کر آیا ہے ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو سچا ہے‘‘ اور چونکہ تیری تائید کے لیے تیرے ساتھ فرشتے نہیں آئے اس لیے تو سچا نہیں ہے اور ان کا یہ کہنا سب سے بڑا ظلم اورسب سے بڑی جہالت ہے۔ رہا اس کا ظلم ہونا تو یہ صاف ظاہر ہے کیونکہ معین معجزات کا مطالبہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت بڑی جسارت اور محض تعنت (بے جا سختی)ہے حالانکہ ان معین معجزات کے بغیر بھی بہت سی نشانیوں کے ذریعے سے دلیل اور برہان کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے جو اس چیز کی صحت اور اس کے حق ہونے پر دلالت کرتی ہیں … اور رہی جہالت تو وہ اپنے مصالح اور نقصان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، پس فرشتوں کو نازل کرنے میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جب فرشتے نازل کرتا ہے تو حق کے ساتھ نازل کرتا ہے اور اس کے بعد ان لوگوں کو کوئی مہلت نہیں دی جاتی جو حق کی پیروی نہیں کرتے۔﴿ وَمَا كَانُوۡۤا اِذًا ﴾ ’’اور اس وقت نہ ملے گی‘‘ یعنی فرشتے کے نازل ہونے کے بعد اگر وہ ایمان نہ لائیں … اور وہ ایمان نہیں لائیں گے ﴿ مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ ’’ان کو مہلت‘‘ یعنی ان کو مہلت نہیں دی جائے گی۔ فرشتوں کے نازل ہونے کا مطالبہ، ان کی فوری ہلاکت اور تباہی کا باعث بن جائے گا۔ کیونکہ ایمان ان کے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَوۡ اَنَّنَا نَزَّلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةَ وَؔكَلَّمَهُمُ الۡمَوۡتٰى وَحَشَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ كُلَّ شَيۡءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ يَجۡهَلُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍ 111) ’’اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی نازل کر دیتے۔ مردے ان سے ہم کلام ہوتے اور ہر چیز ان کے سامنے اکٹھی کر دیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے، الا یہ کہ اللہ چاہتا، مگر ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں ۔‘‘
[9] اگر یہ اپنی بات میں سچے ہوتے تو قرآن عظیم کی یہ آیات ہی ان کے لیے کافی ہوتیں ۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ ﴾ ’’بے شک ہم نے اتاری ہے یہ نصیحت‘‘ یعنی قرآن جس میں ہر چیز کا تذکرہ ہے ، مثلاً: مسائل اور واضح دلائل وغیرہ اور جو کوئی نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس سے نصیحت حاصل کر سکتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾ ’’اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ‘‘ یعنی اس کو نازل کرنے کی حالت میں ہر شیطان مردود کی چوری سے ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اور اس کو نازل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے قلب میں اور آپ کی امت کے قلوب میں ودیعت کر دیا۔ نیز اس کے الفاظ کو تغیر و تبدل، کمی بیشی اور اس کے معانی کو ہر قسم کی تبدیلی سے محفوظ کر دیا۔ تحریف کرنے والا جب کبھی اس کے معنی میں تحریف کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو مقرر فرما دیتا ہے جو حق مبین کو واضح کر دیتا ہے۔ قرآن کی حقانیت کی یہ سب سے بڑی دلیل ہے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے مومن بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کی حفاظت یہ ہے کہ وہ اہل قرآن کو ان کے دشمنوں سے محفوظ رکھتا ہے اور وہ ان پر کسی ایسے دشمن کو مسلط نہیں کرتا جو ان کو ہلاک کر ڈالے۔
15:9إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ
اور انھوں نے کہا، اے وہ شخص! کہ نازل کیا گیا ہے اوپر اس کے یہ قرآن، یقینا تو تو دیوانہ ہے (6) کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتے، اگر ہے تو سچوں میں سے؟(7) نہیں نازل کرتے ہم فرشتے مگر ساتھ حق (عذاب) کےاور نہ ہوں گے وہ (کافر) اس وقت مہلت دیے گئے(8) بے شک ہم ہی نے نازل کیا ہے یہ قرآن اور بے شک ہم ہی اس کے محافظ ہیں (9)
[6] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار نے تمسخر اور استہزا کے طور پر کہا۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡ نُزِّلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ ﴾ ’’اے وہ شخص کہ اترا ہے اس پر قرآن‘‘ یعنی تیرے زعم کے مطابق ﴿ اِنَّكَ لَمَجۡنُوۡنٌؔ ﴾ ’’بے شک تو دیوانہ ہے‘‘ کیونکہ تو سمجھتا ہے کہ محض تیرے کہنے پر ہم تیری پیروی کرنے لگ جائیں گے اور اس مذہب کو چھوڑ دیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔
[8,7]﴿ لَوۡ مَا تَاۡتِيۡنَا بِالۡمَلٰٓىِٕكَةِ ﴾ ’’کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتوں کو‘‘ جو اس چیز کی صداقت اور صحت کی گواہی دیں جو تو لے کر آیا ہے ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو سچا ہے‘‘ اور چونکہ تیری تائید کے لیے تیرے ساتھ فرشتے نہیں آئے اس لیے تو سچا نہیں ہے اور ان کا یہ کہنا سب سے بڑا ظلم اورسب سے بڑی جہالت ہے۔ رہا اس کا ظلم ہونا تو یہ صاف ظاہر ہے کیونکہ معین معجزات کا مطالبہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت بڑی جسارت اور محض تعنت (بے جا سختی)ہے حالانکہ ان معین معجزات کے بغیر بھی بہت سی نشانیوں کے ذریعے سے دلیل اور برہان کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے جو اس چیز کی صحت اور اس کے حق ہونے پر دلالت کرتی ہیں … اور رہی جہالت تو وہ اپنے مصالح اور نقصان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، پس فرشتوں کو نازل کرنے میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جب فرشتے نازل کرتا ہے تو حق کے ساتھ نازل کرتا ہے اور اس کے بعد ان لوگوں کو کوئی مہلت نہیں دی جاتی جو حق کی پیروی نہیں کرتے۔﴿ وَمَا كَانُوۡۤا اِذًا ﴾ ’’اور اس وقت نہ ملے گی‘‘ یعنی فرشتے کے نازل ہونے کے بعد اگر وہ ایمان نہ لائیں … اور وہ ایمان نہیں لائیں گے ﴿ مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ ’’ان کو مہلت‘‘ یعنی ان کو مہلت نہیں دی جائے گی۔ فرشتوں کے نازل ہونے کا مطالبہ، ان کی فوری ہلاکت اور تباہی کا باعث بن جائے گا۔ کیونکہ ایمان ان کے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَوۡ اَنَّنَا نَزَّلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةَ وَؔكَلَّمَهُمُ الۡمَوۡتٰى وَحَشَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ كُلَّ شَيۡءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ يَجۡهَلُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍ 111) ’’اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی نازل کر دیتے۔ مردے ان سے ہم کلام ہوتے اور ہر چیز ان کے سامنے اکٹھی کر دیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے، الا یہ کہ اللہ چاہتا، مگر ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں ۔‘‘
[9] اگر یہ اپنی بات میں سچے ہوتے تو قرآن عظیم کی یہ آیات ہی ان کے لیے کافی ہوتیں ۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ ﴾ ’’بے شک ہم نے اتاری ہے یہ نصیحت‘‘ یعنی قرآن جس میں ہر چیز کا تذکرہ ہے ، مثلاً: مسائل اور واضح دلائل وغیرہ اور جو کوئی نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس سے نصیحت حاصل کر سکتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾ ’’اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ‘‘ یعنی اس کو نازل کرنے کی حالت میں ہر شیطان مردود کی چوری سے ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اور اس کو نازل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے قلب میں اور آپ کی امت کے قلوب میں ودیعت کر دیا۔ نیز اس کے الفاظ کو تغیر و تبدل، کمی بیشی اور اس کے معانی کو ہر قسم کی تبدیلی سے محفوظ کر دیا۔ تحریف کرنے والا جب کبھی اس کے معنی میں تحریف کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو مقرر فرما دیتا ہے جو حق مبین کو واضح کر دیتا ہے۔ قرآن کی حقانیت کی یہ سب سے بڑی دلیل ہے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے مومن بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کی حفاظت یہ ہے کہ وہ اہل قرآن کو ان کے دشمنوں سے محفوظ رکھتا ہے اور وہ ان پر کسی ایسے دشمن کو مسلط نہیں کرتا جو ان کو ہلاک کر ڈالے۔
15:10وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ فِي شِيَعِ ٱلۡأَوَّلِينَ
اور البتہ تحقیق بھیجے ہم نے آپ سے پہلے بھی (کئی رسول) پہلے گروہوں میں (10) اور نہیں آتا تھا ان کے پاس کوئی رسول مگر تھے وہ اس کے ساتھ استہزاء کرتے(11) اسی طرح ہم داخل کرتے ہیں اس (استہزاء) کو دلوں میں مجرموں کے (12)(چنانچہ ) نہیں ایمان لاتے وہ ساتھ اس (قرآن) کےاور تحقیق گزر چکا ہے (یہ) طریقہ پہلے لوگوں کا (13)
[10] جب مشرکین نے رسول اللہﷺ کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ گزری ہوئی قوموں اور قرون ماضیہ میں مشرکین کا اپنے انبیاء کے ساتھ یہی رویہ رہا ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ شِيَعِ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے لوگوں میں رسول بھیجے تھے۔‘‘ یعنی گزرے ہوئے گروہوں اور جماعتوں میں رسول مبعوث کر چکے ہیں ۔
[11]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ ﴾ ’’اور جو بھی رسول ان کے پاس آتا‘‘ جو ان کو حق اور ہدایت کی طرف دعوت دیتا۔ ﴿ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ (مشرکین) ان کا تمسخر ہی اڑاتے تھے۔‘‘
[13,12]﴿۠ كَذٰلِكَ نَسۡلُكُهٗ ﴾ ’’اسی طرح داخل کر دیتے ہیں ہم اس کو‘‘ یعنی جھٹلانے کو ﴿ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کے دلوں میں ‘‘ ہم نے ان کو یہ سزا دی، جب ان کے دل کفروتکذیب میں پچھلے لوگوں کے مشابہ ہو گئے اور اپنے رسولوں اور پیغمبروں کے ساتھ استہزاء و تمسخر اور عدم ایمان کے بارے میں بھی ان کا معاملہ ان کے مشابہ ہو گیا، یعنی وہ لوگ جن کا وصف ظلم اور بہتان طرازی تھا۔ ہم نے ان کو اس بنا پر سزا دی کہ ان کے دلوں نے کفر اور تکذیب کی مشابہت اختیار کی، اپنے انبیاء کے معاملے میں تشابہ کا شکار ہو گئے، اپنے رسولوں کے ساتھ ان کا یہ رویہ استہزاء، تمسخر اور عدم ایمان کا تھا۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ وَقَدۡ خَلَتۡ سُنَّةُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور ہوتی آئی ہے رسم پہلوں کی‘‘ یعنی ان کے بارے میں عادت الٰہی یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتا اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کر دیتا ہے۔
15:11وَمَا يَأۡتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ
اور البتہ تحقیق بھیجے ہم نے آپ سے پہلے بھی (کئی رسول) پہلے گروہوں میں (10) اور نہیں آتا تھا ان کے پاس کوئی رسول مگر تھے وہ اس کے ساتھ استہزاء کرتے(11) اسی طرح ہم داخل کرتے ہیں اس (استہزاء) کو دلوں میں مجرموں کے (12)(چنانچہ ) نہیں ایمان لاتے وہ ساتھ اس (قرآن) کےاور تحقیق گزر چکا ہے (یہ) طریقہ پہلے لوگوں کا (13)
[10] جب مشرکین نے رسول اللہﷺ کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ گزری ہوئی قوموں اور قرون ماضیہ میں مشرکین کا اپنے انبیاء کے ساتھ یہی رویہ رہا ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ شِيَعِ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے لوگوں میں رسول بھیجے تھے۔‘‘ یعنی گزرے ہوئے گروہوں اور جماعتوں میں رسول مبعوث کر چکے ہیں ۔
[11]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ ﴾ ’’اور جو بھی رسول ان کے پاس آتا‘‘ جو ان کو حق اور ہدایت کی طرف دعوت دیتا۔ ﴿ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ (مشرکین) ان کا تمسخر ہی اڑاتے تھے۔‘‘
[13,12]﴿۠ كَذٰلِكَ نَسۡلُكُهٗ ﴾ ’’اسی طرح داخل کر دیتے ہیں ہم اس کو‘‘ یعنی جھٹلانے کو ﴿ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کے دلوں میں ‘‘ ہم نے ان کو یہ سزا دی، جب ان کے دل کفروتکذیب میں پچھلے لوگوں کے مشابہ ہو گئے اور اپنے رسولوں اور پیغمبروں کے ساتھ استہزاء و تمسخر اور عدم ایمان کے بارے میں بھی ان کا معاملہ ان کے مشابہ ہو گیا، یعنی وہ لوگ جن کا وصف ظلم اور بہتان طرازی تھا۔ ہم نے ان کو اس بنا پر سزا دی کہ ان کے دلوں نے کفر اور تکذیب کی مشابہت اختیار کی، اپنے انبیاء کے معاملے میں تشابہ کا شکار ہو گئے، اپنے رسولوں کے ساتھ ان کا یہ رویہ استہزاء، تمسخر اور عدم ایمان کا تھا۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ وَقَدۡ خَلَتۡ سُنَّةُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور ہوتی آئی ہے رسم پہلوں کی‘‘ یعنی ان کے بارے میں عادت الٰہی یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتا اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کر دیتا ہے۔
15:12كَذَٰلِكَ نَسۡلُكُهُۥ فِي قُلُوبِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ
اور البتہ تحقیق بھیجے ہم نے آپ سے پہلے بھی (کئی رسول) پہلے گروہوں میں (10) اور نہیں آتا تھا ان کے پاس کوئی رسول مگر تھے وہ اس کے ساتھ استہزاء کرتے(11) اسی طرح ہم داخل کرتے ہیں اس (استہزاء) کو دلوں میں مجرموں کے (12)(چنانچہ ) نہیں ایمان لاتے وہ ساتھ اس (قرآن) کےاور تحقیق گزر چکا ہے (یہ) طریقہ پہلے لوگوں کا (13)
[10] جب مشرکین نے رسول اللہﷺ کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ گزری ہوئی قوموں اور قرون ماضیہ میں مشرکین کا اپنے انبیاء کے ساتھ یہی رویہ رہا ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ شِيَعِ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے لوگوں میں رسول بھیجے تھے۔‘‘ یعنی گزرے ہوئے گروہوں اور جماعتوں میں رسول مبعوث کر چکے ہیں ۔
[11]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ ﴾ ’’اور جو بھی رسول ان کے پاس آتا‘‘ جو ان کو حق اور ہدایت کی طرف دعوت دیتا۔ ﴿ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ (مشرکین) ان کا تمسخر ہی اڑاتے تھے۔‘‘
[13,12]﴿۠ كَذٰلِكَ نَسۡلُكُهٗ ﴾ ’’اسی طرح داخل کر دیتے ہیں ہم اس کو‘‘ یعنی جھٹلانے کو ﴿ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کے دلوں میں ‘‘ ہم نے ان کو یہ سزا دی، جب ان کے دل کفروتکذیب میں پچھلے لوگوں کے مشابہ ہو گئے اور اپنے رسولوں اور پیغمبروں کے ساتھ استہزاء و تمسخر اور عدم ایمان کے بارے میں بھی ان کا معاملہ ان کے مشابہ ہو گیا، یعنی وہ لوگ جن کا وصف ظلم اور بہتان طرازی تھا۔ ہم نے ان کو اس بنا پر سزا دی کہ ان کے دلوں نے کفر اور تکذیب کی مشابہت اختیار کی، اپنے انبیاء کے معاملے میں تشابہ کا شکار ہو گئے، اپنے رسولوں کے ساتھ ان کا یہ رویہ استہزاء، تمسخر اور عدم ایمان کا تھا۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ وَقَدۡ خَلَتۡ سُنَّةُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور ہوتی آئی ہے رسم پہلوں کی‘‘ یعنی ان کے بارے میں عادت الٰہی یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتا اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کر دیتا ہے۔
15:13لَا يُؤۡمِنُونَ بِهِۦ وَقَدۡ خَلَتۡ سُنَّةُ ٱلۡأَوَّلِينَ
اور البتہ تحقیق بھیجے ہم نے آپ سے پہلے بھی (کئی رسول) پہلے گروہوں میں (10) اور نہیں آتا تھا ان کے پاس کوئی رسول مگر تھے وہ اس کے ساتھ استہزاء کرتے(11) اسی طرح ہم داخل کرتے ہیں اس (استہزاء) کو دلوں میں مجرموں کے (12)(چنانچہ ) نہیں ایمان لاتے وہ ساتھ اس (قرآن) کےاور تحقیق گزر چکا ہے (یہ) طریقہ پہلے لوگوں کا (13)
[10] جب مشرکین نے رسول اللہﷺ کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ گزری ہوئی قوموں اور قرون ماضیہ میں مشرکین کا اپنے انبیاء کے ساتھ یہی رویہ رہا ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ شِيَعِ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے لوگوں میں رسول بھیجے تھے۔‘‘ یعنی گزرے ہوئے گروہوں اور جماعتوں میں رسول مبعوث کر چکے ہیں ۔
[11]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ ﴾ ’’اور جو بھی رسول ان کے پاس آتا‘‘ جو ان کو حق اور ہدایت کی طرف دعوت دیتا۔ ﴿ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ (مشرکین) ان کا تمسخر ہی اڑاتے تھے۔‘‘
[13,12]﴿۠ كَذٰلِكَ نَسۡلُكُهٗ ﴾ ’’اسی طرح داخل کر دیتے ہیں ہم اس کو‘‘ یعنی جھٹلانے کو ﴿ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کے دلوں میں ‘‘ ہم نے ان کو یہ سزا دی، جب ان کے دل کفروتکذیب میں پچھلے لوگوں کے مشابہ ہو گئے اور اپنے رسولوں اور پیغمبروں کے ساتھ استہزاء و تمسخر اور عدم ایمان کے بارے میں بھی ان کا معاملہ ان کے مشابہ ہو گیا، یعنی وہ لوگ جن کا وصف ظلم اور بہتان طرازی تھا۔ ہم نے ان کو اس بنا پر سزا دی کہ ان کے دلوں نے کفر اور تکذیب کی مشابہت اختیار کی، اپنے انبیاء کے معاملے میں تشابہ کا شکار ہو گئے، اپنے رسولوں کے ساتھ ان کا یہ رویہ استہزاء، تمسخر اور عدم ایمان کا تھا۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ وَقَدۡ خَلَتۡ سُنَّةُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور ہوتی آئی ہے رسم پہلوں کی‘‘ یعنی ان کے بارے میں عادت الٰہی یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتا اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کر دیتا ہے۔
15:14وَلَوۡ فَتَحۡنَا عَلَيۡهِم بَابٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فَظَلُّواْ فِيهِ يَعۡرُجُونَ
اور اگر کھول دیں ہم اوپر ان کے ایک دروازہ آسمان کا، پس ہو جائیں وہ اس میں چڑھنے والے (14) تو بھی وہ کہیں گے یقینا بند کر دی گئی ہیں نظریں ہماری بلکہ ہم لوگ ہیں جادو کیے ہوئے (15)
[15,14] یعنی اگر ان کے پاس کوئی بڑا سا معجزہ بھی آ جائے تو یہ حق کا انکار کر دیں گے اور ہرگز ایمان نہیں لائیں گے چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَوۡ فَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اگر کھول دیں ہم ان پر دروازہ آسمان سے‘‘ اور وہ خود اس دروازے کا عیاں طور پر مشاہدہ کر لیں اس دروازے میں سے اوپر چڑھ بھی جائیں تب بھی وہ اپنے ظلم و عناد کی بنا پر اس معجزے کا انکار کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ اِنَّمَا سُكِّرَتۡ اَبۡصَارُنَا ﴾ ’’باندھ دیا گیا ہے ہماری نگاہوں کو‘‘ یعنی ہماری آنکھوں پر نشے کا پردہ آ گیا، حتی کہ ہم نے وہ کچھ دیکھا جو ہم دیکھ نہ سکتے تھے۔ ﴿ بَلۡ نَحۡنُ قَوۡمٌ مَّسۡحُوۡرُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے‘‘ یعنی یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ جادو ہے۔ اور جو قوم انکار کی اس حالت کو پہنچ جائے تو ان لوگوں میں اصلاح کی کوئی امید باقی نہیں رہتی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کا ذکر فرمایا جو انبیاء و رسل کے لائے ہوئے حق پر دلالت کرتی ہیں چنانچہ فرمایا:
15:15لَقَالُوٓاْ إِنَّمَا سُكِّرَتۡ أَبۡصَٰرُنَا بَلۡ نَحۡنُ قَوۡمٞ مَّسۡحُورُونَ
اور اگر کھول دیں ہم اوپر ان کے ایک دروازہ آسمان کا، پس ہو جائیں وہ اس میں چڑھنے والے (14) تو بھی وہ کہیں گے یقینا بند کر دی گئی ہیں نظریں ہماری بلکہ ہم لوگ ہیں جادو کیے ہوئے (15)
[15,14] یعنی اگر ان کے پاس کوئی بڑا سا معجزہ بھی آ جائے تو یہ حق کا انکار کر دیں گے اور ہرگز ایمان نہیں لائیں گے چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَوۡ فَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اگر کھول دیں ہم ان پر دروازہ آسمان سے‘‘ اور وہ خود اس دروازے کا عیاں طور پر مشاہدہ کر لیں اس دروازے میں سے اوپر چڑھ بھی جائیں تب بھی وہ اپنے ظلم و عناد کی بنا پر اس معجزے کا انکار کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ اِنَّمَا سُكِّرَتۡ اَبۡصَارُنَا ﴾ ’’باندھ دیا گیا ہے ہماری نگاہوں کو‘‘ یعنی ہماری آنکھوں پر نشے کا پردہ آ گیا، حتی کہ ہم نے وہ کچھ دیکھا جو ہم دیکھ نہ سکتے تھے۔ ﴿ بَلۡ نَحۡنُ قَوۡمٌ مَّسۡحُوۡرُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے‘‘ یعنی یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ جادو ہے۔ اور جو قوم انکار کی اس حالت کو پہنچ جائے تو ان لوگوں میں اصلاح کی کوئی امید باقی نہیں رہتی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کا ذکر فرمایا جو انبیاء و رسل کے لائے ہوئے حق پر دلالت کرتی ہیں چنانچہ فرمایا:
15:16وَلَقَدۡ جَعَلۡنَا فِي ٱلسَّمَآءِ بُرُوجٗا وَزَيَّنَّـٰهَا لِلنَّـٰظِرِينَ
اور البتہ تحقیق بنائے ہم نے آسمان میں برج اور خوب صورت کردیا ہم نے اسے دیکھنے والوں کے لیے (16) اور حفاظت کی ہے ہم نے اس کی ہر شیطان مردود سے (17) مگر جو چوری چھپے لگائے کان (اور کچھ سن لے) تو پیچھے لگتا ہے اس کے شعلہ ظاہر (دہکتا ہوا)(18) اور زمین، پھیلایا ہم نے اسےاور ڈال (گاڑ) دیے ہم نے اس میں مضبوط پہاڑاور ہم نے اگائی اس میں ہر چیز سے مناسب مقدار (19) اور بنائے ہم نے تمھارے لیے اس میں گزر ان کے اسباب اور ان کے لیے (بھی) کہ نہیں ہو تم واسطے ان کے روزی رساں (20)
[16] اللہ تعالیٰ اپنے کامل اقتدار اور مخلوق پر اپنی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدۡ جَعَلۡنَا فِي السَّمَآءِ بُرُوۡجًا ﴾ ’’اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج‘‘ یعنی ہم نے ستاروں کو برجوں کی مانند بنایا اور انھیں بڑی علامتیں بنایا جن کے ذریعے سے بحروبر کی تاریکیوں میں راستے تلاش کیے جاتے ہیں ﴿ وَّزَيَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’اور خوب صورت بنایا ہے اس کو دیکھنے والوں کے لیے‘‘ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان کا منظر اتنا خوبصورت اور اس کی ہیئت اتنی تعجب خیز نہ ہوتی اور یہ چیز دیکھنے والوں کو ان پر تدبر، ان کے معانی میں غوروفکر اور ان کے ذریعے سے ان کے پیدا کرنے والے پر استدلال کی دعوت دیتی ہے۔
[17]﴿وَحَفِظۡنٰهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ ﴾ ’’اور ہم نے اس کی حفاظت کی ہر شیطان مردود سے‘‘ جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا پیچھا کرتے ہیں اور یوں آسمان شیطان کی دست برد سے محفوظ ہے۔ آسمان کا ظاہری حصہ روشن ستاروں کے ذریعے سے خوبصورتی سے سجا ہوا ہے اور اس کا باطنی حصہ آفتوں سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔
[18]﴿ اِلَّا مَنِ اسۡتَرَقَ السَّمۡعَ ﴾ ’’مگر جو چوری سے سن بھاگا‘‘ یعنی بعض اوقات، کبھی کبھار کوئی شیطان سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے ﴿ فَاَتۡبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’تو چمکتا ہوا انگارا اس کے پیچھے لپکتا ہے۔‘‘ یعنی ایک روشن ستارہ اس کا پیچھا کر کے اس کو قتل کر دیتا ہے یا اسے سن گن لینے سے روک دیتا ہے اور کبھی کبھی یہ شہاب ثاقب اس شیطان کو اپنے دوست کے پاس پہنچنے سے پہلے جا لیتا ہے اور آسمان کی خبر زمین پر جانے سے روک دیتا ہے۔ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ شہاب ثاقب کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ آسمانی خبر اپنے دوست کو القا کر دیتا ہے۔ پس وہ شخص اس میں سو جھوٹ ملا کر بیان کرتا ہے اور وہ کلام جو اس نے آسمان سے سنا ہوتا ہے اس سے استدلال کرتا ہے۔
[19]﴿ وَالۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰهَا ﴾ ’’اور زمین کو ہم نے پھیلایا‘‘ یعنی ہم نے زمین کو نہایت وسیع اور کشادہ بنایا ہے تاکہ انسانوں اور حیوانوں کی اس وسیع و عریض زمین کے کناروں تک رسائی، اس سے وافر مقدار میں رزق کا حصول اور اس کے اطراف و جوانب میں سکونت آسان ہو۔ ﴿ وَاَلۡقَيۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور اس پر پہاڑ رکھ دیے۔‘‘ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اللہ کے حکم سے زمین کی حفاظت کرتے ہیں کہ کہیں وہ جھک نہ جائے اور وہ زمین کو جمائے رکھتے ہیں کہ کہیں وہ ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡزُوۡنٍ ﴾ ’’اور اگائی اس میں ہر چیز اندازے سے‘‘ یعنی فائدہ مند اور درست چیز جس کے لوگ اور بستیاں ضرورت مند ہوتی ہیں ، مثلاً: کھجور، انگور، مختلف اصناف کے درخت، انواع و اقسام کی نباتات اور معدنیات۔
[20]﴿ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے اس میں روزی کے اسباب‘‘ یعنی کھیتی باڑی، مویشیوں اور مختلف اقسام کے پیشوں اور دستکاریوں کے ساتھ تمھاری روزی وابستہ کی ﴿ وَمَنۡ لَّسۡتُمۡ لَهٗ بِرٰؔزِقِـيۡنَ ﴾ ’’اور ایسی چیزیں جن کو تم روزی نہیں دیتے‘‘ یعنی ہم نے تمھارے فائدے اور تمھارے مصالح کے لیے تمھیں غلام، لونڈیاں اور مویشی عطا کیے جن کا رزق تمھارے ذمے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھیں عطا کیا اور ان کے رزق کی کفالت اپنے ذمے لی۔
15:17وَحَفِظۡنَٰهَا مِن كُلِّ شَيۡطَٰنٖ رَّجِيمٍ
اور البتہ تحقیق بنائے ہم نے آسمان میں برج اور خوب صورت کردیا ہم نے اسے دیکھنے والوں کے لیے (16) اور حفاظت کی ہے ہم نے اس کی ہر شیطان مردود سے (17) مگر جو چوری چھپے لگائے کان (اور کچھ سن لے) تو پیچھے لگتا ہے اس کے شعلہ ظاہر (دہکتا ہوا)(18) اور زمین، پھیلایا ہم نے اسےاور ڈال (گاڑ) دیے ہم نے اس میں مضبوط پہاڑاور ہم نے اگائی اس میں ہر چیز سے مناسب مقدار (19) اور بنائے ہم نے تمھارے لیے اس میں گزر ان کے اسباب اور ان کے لیے (بھی) کہ نہیں ہو تم واسطے ان کے روزی رساں (20)
[16] اللہ تعالیٰ اپنے کامل اقتدار اور مخلوق پر اپنی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدۡ جَعَلۡنَا فِي السَّمَآءِ بُرُوۡجًا ﴾ ’’اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج‘‘ یعنی ہم نے ستاروں کو برجوں کی مانند بنایا اور انھیں بڑی علامتیں بنایا جن کے ذریعے سے بحروبر کی تاریکیوں میں راستے تلاش کیے جاتے ہیں ﴿ وَّزَيَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’اور خوب صورت بنایا ہے اس کو دیکھنے والوں کے لیے‘‘ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان کا منظر اتنا خوبصورت اور اس کی ہیئت اتنی تعجب خیز نہ ہوتی اور یہ چیز دیکھنے والوں کو ان پر تدبر، ان کے معانی میں غوروفکر اور ان کے ذریعے سے ان کے پیدا کرنے والے پر استدلال کی دعوت دیتی ہے۔
[17]﴿وَحَفِظۡنٰهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ ﴾ ’’اور ہم نے اس کی حفاظت کی ہر شیطان مردود سے‘‘ جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا پیچھا کرتے ہیں اور یوں آسمان شیطان کی دست برد سے محفوظ ہے۔ آسمان کا ظاہری حصہ روشن ستاروں کے ذریعے سے خوبصورتی سے سجا ہوا ہے اور اس کا باطنی حصہ آفتوں سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔
[18]﴿ اِلَّا مَنِ اسۡتَرَقَ السَّمۡعَ ﴾ ’’مگر جو چوری سے سن بھاگا‘‘ یعنی بعض اوقات، کبھی کبھار کوئی شیطان سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے ﴿ فَاَتۡبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’تو چمکتا ہوا انگارا اس کے پیچھے لپکتا ہے۔‘‘ یعنی ایک روشن ستارہ اس کا پیچھا کر کے اس کو قتل کر دیتا ہے یا اسے سن گن لینے سے روک دیتا ہے اور کبھی کبھی یہ شہاب ثاقب اس شیطان کو اپنے دوست کے پاس پہنچنے سے پہلے جا لیتا ہے اور آسمان کی خبر زمین پر جانے سے روک دیتا ہے۔ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ شہاب ثاقب کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ آسمانی خبر اپنے دوست کو القا کر دیتا ہے۔ پس وہ شخص اس میں سو جھوٹ ملا کر بیان کرتا ہے اور وہ کلام جو اس نے آسمان سے سنا ہوتا ہے اس سے استدلال کرتا ہے۔
[19]﴿ وَالۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰهَا ﴾ ’’اور زمین کو ہم نے پھیلایا‘‘ یعنی ہم نے زمین کو نہایت وسیع اور کشادہ بنایا ہے تاکہ انسانوں اور حیوانوں کی اس وسیع و عریض زمین کے کناروں تک رسائی، اس سے وافر مقدار میں رزق کا حصول اور اس کے اطراف و جوانب میں سکونت آسان ہو۔ ﴿ وَاَلۡقَيۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور اس پر پہاڑ رکھ دیے۔‘‘ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اللہ کے حکم سے زمین کی حفاظت کرتے ہیں کہ کہیں وہ جھک نہ جائے اور وہ زمین کو جمائے رکھتے ہیں کہ کہیں وہ ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡزُوۡنٍ ﴾ ’’اور اگائی اس میں ہر چیز اندازے سے‘‘ یعنی فائدہ مند اور درست چیز جس کے لوگ اور بستیاں ضرورت مند ہوتی ہیں ، مثلاً: کھجور، انگور، مختلف اصناف کے درخت، انواع و اقسام کی نباتات اور معدنیات۔
[20]﴿ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے اس میں روزی کے اسباب‘‘ یعنی کھیتی باڑی، مویشیوں اور مختلف اقسام کے پیشوں اور دستکاریوں کے ساتھ تمھاری روزی وابستہ کی ﴿ وَمَنۡ لَّسۡتُمۡ لَهٗ بِرٰؔزِقِـيۡنَ ﴾ ’’اور ایسی چیزیں جن کو تم روزی نہیں دیتے‘‘ یعنی ہم نے تمھارے فائدے اور تمھارے مصالح کے لیے تمھیں غلام، لونڈیاں اور مویشی عطا کیے جن کا رزق تمھارے ذمے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھیں عطا کیا اور ان کے رزق کی کفالت اپنے ذمے لی۔
15:18إِلَّا مَنِ ٱسۡتَرَقَ ٱلسَّمۡعَ فَأَتۡبَعَهُۥ شِهَابٞ مُّبِينٞ
اور البتہ تحقیق بنائے ہم نے آسمان میں برج اور خوب صورت کردیا ہم نے اسے دیکھنے والوں کے لیے (16) اور حفاظت کی ہے ہم نے اس کی ہر شیطان مردود سے (17) مگر جو چوری چھپے لگائے کان (اور کچھ سن لے) تو پیچھے لگتا ہے اس کے شعلہ ظاہر (دہکتا ہوا)(18) اور زمین، پھیلایا ہم نے اسےاور ڈال (گاڑ) دیے ہم نے اس میں مضبوط پہاڑاور ہم نے اگائی اس میں ہر چیز سے مناسب مقدار (19) اور بنائے ہم نے تمھارے لیے اس میں گزر ان کے اسباب اور ان کے لیے (بھی) کہ نہیں ہو تم واسطے ان کے روزی رساں (20)
[16] اللہ تعالیٰ اپنے کامل اقتدار اور مخلوق پر اپنی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدۡ جَعَلۡنَا فِي السَّمَآءِ بُرُوۡجًا ﴾ ’’اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج‘‘ یعنی ہم نے ستاروں کو برجوں کی مانند بنایا اور انھیں بڑی علامتیں بنایا جن کے ذریعے سے بحروبر کی تاریکیوں میں راستے تلاش کیے جاتے ہیں ﴿ وَّزَيَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’اور خوب صورت بنایا ہے اس کو دیکھنے والوں کے لیے‘‘ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان کا منظر اتنا خوبصورت اور اس کی ہیئت اتنی تعجب خیز نہ ہوتی اور یہ چیز دیکھنے والوں کو ان پر تدبر، ان کے معانی میں غوروفکر اور ان کے ذریعے سے ان کے پیدا کرنے والے پر استدلال کی دعوت دیتی ہے۔
[17]﴿وَحَفِظۡنٰهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ ﴾ ’’اور ہم نے اس کی حفاظت کی ہر شیطان مردود سے‘‘ جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا پیچھا کرتے ہیں اور یوں آسمان شیطان کی دست برد سے محفوظ ہے۔ آسمان کا ظاہری حصہ روشن ستاروں کے ذریعے سے خوبصورتی سے سجا ہوا ہے اور اس کا باطنی حصہ آفتوں سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔
[18]﴿ اِلَّا مَنِ اسۡتَرَقَ السَّمۡعَ ﴾ ’’مگر جو چوری سے سن بھاگا‘‘ یعنی بعض اوقات، کبھی کبھار کوئی شیطان سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے ﴿ فَاَتۡبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’تو چمکتا ہوا انگارا اس کے پیچھے لپکتا ہے۔‘‘ یعنی ایک روشن ستارہ اس کا پیچھا کر کے اس کو قتل کر دیتا ہے یا اسے سن گن لینے سے روک دیتا ہے اور کبھی کبھی یہ شہاب ثاقب اس شیطان کو اپنے دوست کے پاس پہنچنے سے پہلے جا لیتا ہے اور آسمان کی خبر زمین پر جانے سے روک دیتا ہے۔ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ شہاب ثاقب کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ آسمانی خبر اپنے دوست کو القا کر دیتا ہے۔ پس وہ شخص اس میں سو جھوٹ ملا کر بیان کرتا ہے اور وہ کلام جو اس نے آسمان سے سنا ہوتا ہے اس سے استدلال کرتا ہے۔
[19]﴿ وَالۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰهَا ﴾ ’’اور زمین کو ہم نے پھیلایا‘‘ یعنی ہم نے زمین کو نہایت وسیع اور کشادہ بنایا ہے تاکہ انسانوں اور حیوانوں کی اس وسیع و عریض زمین کے کناروں تک رسائی، اس سے وافر مقدار میں رزق کا حصول اور اس کے اطراف و جوانب میں سکونت آسان ہو۔ ﴿ وَاَلۡقَيۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور اس پر پہاڑ رکھ دیے۔‘‘ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اللہ کے حکم سے زمین کی حفاظت کرتے ہیں کہ کہیں وہ جھک نہ جائے اور وہ زمین کو جمائے رکھتے ہیں کہ کہیں وہ ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡزُوۡنٍ ﴾ ’’اور اگائی اس میں ہر چیز اندازے سے‘‘ یعنی فائدہ مند اور درست چیز جس کے لوگ اور بستیاں ضرورت مند ہوتی ہیں ، مثلاً: کھجور، انگور، مختلف اصناف کے درخت، انواع و اقسام کی نباتات اور معدنیات۔
[20]﴿ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے اس میں روزی کے اسباب‘‘ یعنی کھیتی باڑی، مویشیوں اور مختلف اقسام کے پیشوں اور دستکاریوں کے ساتھ تمھاری روزی وابستہ کی ﴿ وَمَنۡ لَّسۡتُمۡ لَهٗ بِرٰؔزِقِـيۡنَ ﴾ ’’اور ایسی چیزیں جن کو تم روزی نہیں دیتے‘‘ یعنی ہم نے تمھارے فائدے اور تمھارے مصالح کے لیے تمھیں غلام، لونڈیاں اور مویشی عطا کیے جن کا رزق تمھارے ذمے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھیں عطا کیا اور ان کے رزق کی کفالت اپنے ذمے لی۔
15:19وَٱلۡأَرۡضَ مَدَدۡنَٰهَا وَأَلۡقَيۡنَا فِيهَا رَوَٰسِيَ وَأَنۢبَتۡنَا فِيهَا مِن كُلِّ شَيۡءٖ مَّوۡزُونٖ
اور البتہ تحقیق بنائے ہم نے آسمان میں برج اور خوب صورت کردیا ہم نے اسے دیکھنے والوں کے لیے (16) اور حفاظت کی ہے ہم نے اس کی ہر شیطان مردود سے (17) مگر جو چوری چھپے لگائے کان (اور کچھ سن لے) تو پیچھے لگتا ہے اس کے شعلہ ظاہر (دہکتا ہوا)(18) اور زمین، پھیلایا ہم نے اسےاور ڈال (گاڑ) دیے ہم نے اس میں مضبوط پہاڑاور ہم نے اگائی اس میں ہر چیز سے مناسب مقدار (19) اور بنائے ہم نے تمھارے لیے اس میں گزر ان کے اسباب اور ان کے لیے (بھی) کہ نہیں ہو تم واسطے ان کے روزی رساں (20)
[16] اللہ تعالیٰ اپنے کامل اقتدار اور مخلوق پر اپنی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدۡ جَعَلۡنَا فِي السَّمَآءِ بُرُوۡجًا ﴾ ’’اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج‘‘ یعنی ہم نے ستاروں کو برجوں کی مانند بنایا اور انھیں بڑی علامتیں بنایا جن کے ذریعے سے بحروبر کی تاریکیوں میں راستے تلاش کیے جاتے ہیں ﴿ وَّزَيَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’اور خوب صورت بنایا ہے اس کو دیکھنے والوں کے لیے‘‘ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان کا منظر اتنا خوبصورت اور اس کی ہیئت اتنی تعجب خیز نہ ہوتی اور یہ چیز دیکھنے والوں کو ان پر تدبر، ان کے معانی میں غوروفکر اور ان کے ذریعے سے ان کے پیدا کرنے والے پر استدلال کی دعوت دیتی ہے۔
[17]﴿وَحَفِظۡنٰهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ ﴾ ’’اور ہم نے اس کی حفاظت کی ہر شیطان مردود سے‘‘ جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا پیچھا کرتے ہیں اور یوں آسمان شیطان کی دست برد سے محفوظ ہے۔ آسمان کا ظاہری حصہ روشن ستاروں کے ذریعے سے خوبصورتی سے سجا ہوا ہے اور اس کا باطنی حصہ آفتوں سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔
[18]﴿ اِلَّا مَنِ اسۡتَرَقَ السَّمۡعَ ﴾ ’’مگر جو چوری سے سن بھاگا‘‘ یعنی بعض اوقات، کبھی کبھار کوئی شیطان سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے ﴿ فَاَتۡبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’تو چمکتا ہوا انگارا اس کے پیچھے لپکتا ہے۔‘‘ یعنی ایک روشن ستارہ اس کا پیچھا کر کے اس کو قتل کر دیتا ہے یا اسے سن گن لینے سے روک دیتا ہے اور کبھی کبھی یہ شہاب ثاقب اس شیطان کو اپنے دوست کے پاس پہنچنے سے پہلے جا لیتا ہے اور آسمان کی خبر زمین پر جانے سے روک دیتا ہے۔ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ شہاب ثاقب کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ آسمانی خبر اپنے دوست کو القا کر دیتا ہے۔ پس وہ شخص اس میں سو جھوٹ ملا کر بیان کرتا ہے اور وہ کلام جو اس نے آسمان سے سنا ہوتا ہے اس سے استدلال کرتا ہے۔
[19]﴿ وَالۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰهَا ﴾ ’’اور زمین کو ہم نے پھیلایا‘‘ یعنی ہم نے زمین کو نہایت وسیع اور کشادہ بنایا ہے تاکہ انسانوں اور حیوانوں کی اس وسیع و عریض زمین کے کناروں تک رسائی، اس سے وافر مقدار میں رزق کا حصول اور اس کے اطراف و جوانب میں سکونت آسان ہو۔ ﴿ وَاَلۡقَيۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور اس پر پہاڑ رکھ دیے۔‘‘ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اللہ کے حکم سے زمین کی حفاظت کرتے ہیں کہ کہیں وہ جھک نہ جائے اور وہ زمین کو جمائے رکھتے ہیں کہ کہیں وہ ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡزُوۡنٍ ﴾ ’’اور اگائی اس میں ہر چیز اندازے سے‘‘ یعنی فائدہ مند اور درست چیز جس کے لوگ اور بستیاں ضرورت مند ہوتی ہیں ، مثلاً: کھجور، انگور، مختلف اصناف کے درخت، انواع و اقسام کی نباتات اور معدنیات۔
[20]﴿ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے اس میں روزی کے اسباب‘‘ یعنی کھیتی باڑی، مویشیوں اور مختلف اقسام کے پیشوں اور دستکاریوں کے ساتھ تمھاری روزی وابستہ کی ﴿ وَمَنۡ لَّسۡتُمۡ لَهٗ بِرٰؔزِقِـيۡنَ ﴾ ’’اور ایسی چیزیں جن کو تم روزی نہیں دیتے‘‘ یعنی ہم نے تمھارے فائدے اور تمھارے مصالح کے لیے تمھیں غلام، لونڈیاں اور مویشی عطا کیے جن کا رزق تمھارے ذمے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھیں عطا کیا اور ان کے رزق کی کفالت اپنے ذمے لی۔
15:20وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيهَا مَعَٰيِشَ وَمَن لَّسۡتُمۡ لَهُۥ بِرَٰزِقِينَ
اور البتہ تحقیق بنائے ہم نے آسمان میں برج اور خوب صورت کردیا ہم نے اسے دیکھنے والوں کے لیے (16) اور حفاظت کی ہے ہم نے اس کی ہر شیطان مردود سے (17) مگر جو چوری چھپے لگائے کان (اور کچھ سن لے) تو پیچھے لگتا ہے اس کے شعلہ ظاہر (دہکتا ہوا)(18) اور زمین، پھیلایا ہم نے اسےاور ڈال (گاڑ) دیے ہم نے اس میں مضبوط پہاڑاور ہم نے اگائی اس میں ہر چیز سے مناسب مقدار (19) اور بنائے ہم نے تمھارے لیے اس میں گزر ان کے اسباب اور ان کے لیے (بھی) کہ نہیں ہو تم واسطے ان کے روزی رساں (20)
[16] اللہ تعالیٰ اپنے کامل اقتدار اور مخلوق پر اپنی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدۡ جَعَلۡنَا فِي السَّمَآءِ بُرُوۡجًا ﴾ ’’اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج‘‘ یعنی ہم نے ستاروں کو برجوں کی مانند بنایا اور انھیں بڑی علامتیں بنایا جن کے ذریعے سے بحروبر کی تاریکیوں میں راستے تلاش کیے جاتے ہیں ﴿ وَّزَيَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’اور خوب صورت بنایا ہے اس کو دیکھنے والوں کے لیے‘‘ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان کا منظر اتنا خوبصورت اور اس کی ہیئت اتنی تعجب خیز نہ ہوتی اور یہ چیز دیکھنے والوں کو ان پر تدبر، ان کے معانی میں غوروفکر اور ان کے ذریعے سے ان کے پیدا کرنے والے پر استدلال کی دعوت دیتی ہے۔
[17]﴿وَحَفِظۡنٰهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ ﴾ ’’اور ہم نے اس کی حفاظت کی ہر شیطان مردود سے‘‘ جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا پیچھا کرتے ہیں اور یوں آسمان شیطان کی دست برد سے محفوظ ہے۔ آسمان کا ظاہری حصہ روشن ستاروں کے ذریعے سے خوبصورتی سے سجا ہوا ہے اور اس کا باطنی حصہ آفتوں سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔
[18]﴿ اِلَّا مَنِ اسۡتَرَقَ السَّمۡعَ ﴾ ’’مگر جو چوری سے سن بھاگا‘‘ یعنی بعض اوقات، کبھی کبھار کوئی شیطان سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے ﴿ فَاَتۡبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’تو چمکتا ہوا انگارا اس کے پیچھے لپکتا ہے۔‘‘ یعنی ایک روشن ستارہ اس کا پیچھا کر کے اس کو قتل کر دیتا ہے یا اسے سن گن لینے سے روک دیتا ہے اور کبھی کبھی یہ شہاب ثاقب اس شیطان کو اپنے دوست کے پاس پہنچنے سے پہلے جا لیتا ہے اور آسمان کی خبر زمین پر جانے سے روک دیتا ہے۔ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ شہاب ثاقب کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ آسمانی خبر اپنے دوست کو القا کر دیتا ہے۔ پس وہ شخص اس میں سو جھوٹ ملا کر بیان کرتا ہے اور وہ کلام جو اس نے آسمان سے سنا ہوتا ہے اس سے استدلال کرتا ہے۔
[19]﴿ وَالۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰهَا ﴾ ’’اور زمین کو ہم نے پھیلایا‘‘ یعنی ہم نے زمین کو نہایت وسیع اور کشادہ بنایا ہے تاکہ انسانوں اور حیوانوں کی اس وسیع و عریض زمین کے کناروں تک رسائی، اس سے وافر مقدار میں رزق کا حصول اور اس کے اطراف و جوانب میں سکونت آسان ہو۔ ﴿ وَاَلۡقَيۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور اس پر پہاڑ رکھ دیے۔‘‘ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اللہ کے حکم سے زمین کی حفاظت کرتے ہیں کہ کہیں وہ جھک نہ جائے اور وہ زمین کو جمائے رکھتے ہیں کہ کہیں وہ ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡزُوۡنٍ ﴾ ’’اور اگائی اس میں ہر چیز اندازے سے‘‘ یعنی فائدہ مند اور درست چیز جس کے لوگ اور بستیاں ضرورت مند ہوتی ہیں ، مثلاً: کھجور، انگور، مختلف اصناف کے درخت، انواع و اقسام کی نباتات اور معدنیات۔
[20]﴿ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے اس میں روزی کے اسباب‘‘ یعنی کھیتی باڑی، مویشیوں اور مختلف اقسام کے پیشوں اور دستکاریوں کے ساتھ تمھاری روزی وابستہ کی ﴿ وَمَنۡ لَّسۡتُمۡ لَهٗ بِرٰؔزِقِـيۡنَ ﴾ ’’اور ایسی چیزیں جن کو تم روزی نہیں دیتے‘‘ یعنی ہم نے تمھارے فائدے اور تمھارے مصالح کے لیے تمھیں غلام، لونڈیاں اور مویشی عطا کیے جن کا رزق تمھارے ذمے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھیں عطا کیا اور ان کے رزق کی کفالت اپنے ذمے لی۔
15:21وَإِن مِّن شَيۡءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَآئِنُهُۥ وَمَا نُنَزِّلُهُۥٓ إِلَّا بِقَدَرٖ مَّعۡلُومٖ
اور نہیں ہے کوئی چیز مگر ہمارے پاس خزانے ہیں اس کےاور نہیں اتارتے ہم اس کو مگر ساتھ اندازے مقرر کے (21)
[21] یعنی ہر قسم کا رزق اور ہر قسم کی تقدیر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے قبضۂ اختیار میں نہیں ، رزق کے خزانے اسی کے ہاتھ میں ہیں وہ اپنی حکمت اور بے کراں رحمت کے مطابق جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے محروم کر دیتا ہے ﴿ وَمَا نُنَزِّلُهٗۤ ﴾ ’’اور نہیں اتارتے ہم اس کو‘‘ یعنی ہر مقررہ چیز، جیسے بارش وغیرہ ﴿ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’مگر معین اندازے پر‘‘ یعنی اس کی جو مقدار اللہ تعالیٰ نے مقرر کر دی ہے، اس سے زیادہ ہوتی ہے نہ اس سے کم ہوتی ہے۔
15:22وَأَرۡسَلۡنَا ٱلرِّيَٰحَ لَوَٰقِحَ فَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَسۡقَيۡنَٰكُمُوهُ وَمَآ أَنتُمۡ لَهُۥ بِخَٰزِنِينَ
اور بھیجیں ہم نے ہوائیں بوجھل، پس نازل کیا ہم نے آسمان سے پانی، پھر پلایا ہم نے تمھیں وہ (پانی)اور نہیں ہو تم اس (پانی) کا ذخیرہ کرنے والے (22)
[22] ہم نے ہواؤں ، یعنی رحمت کی ہواؤں کو مسخر کیا ہے جو بادلوں کو بارآور کرتی ہیں جیسے نر مادہ کو بارآور کرتا ہے۔ ان بادلوں سے، اللہ تعالیٰ کے حکم سے پانی نازل ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ بندوں کو، ان کے مویشیوں اور زمینوں کو سیراب کرتا ہے اور باقی پانی زمین میں ذخیرہ ہو جاتا ہے، وہ ان کی حاجات و ضروریات میں کام آتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کا تقاضا ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ لَهٗ بِخٰؔزِنِـيۡنَ ﴾ ’’اور تم تو اس کا خزانہ نہیں رکھتے۔‘‘ یعنی تمھیں یہ قدرت حاصل نہیں کہ تم پانی کو جمع کر کے اس پانی کا ذخیرہ کر سکو بلکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو تمھارے لیے اس کے خزانے جمع کرتا ہے پھر چشموں کی صورت میں زمین پر بہا دیتا ہے یہ اس کی تم پر رحمت اور احسان ہے۔
15:23وَإِنَّا لَنَحۡنُ نُحۡيِۦ وَنُمِيتُ وَنَحۡنُ ٱلۡوَٰرِثُونَ
اور بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہم ہی وارث ہیں (23)اور البتہ تحقیق ہم جانتے ہیں ان لوگوں کو جو پہلے گزر چکے ہیں تم میں سےاور البتہ تحقیق جانتے ہیں ان لوگوں کو (بھی) جو پیچھے رہنے والے ہیں (24) اور بے شک آپ کا رب، وہی اکٹھا کرے گا انھیں ، بلاشبہ وہ بڑی حکمت والا، خوب جاننے والا ہے (25)
[25-23] یہ اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے جو تمام خلائق کو عدم سے وجود میں لاتا ہے حالانکہ وہ اس سے قبل کچھ بھی نہ تھے اور ان کی مدت مقررہ پوری ہونے کے بعد ان کو موت دیتا ہے۔ ﴿ وَنَحۡنُ الۡوٰرِثُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ہی ہیں پیچھے رہنے والے‘‘ اللہ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی مانند ہے ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَرِثُ الۡاَرۡضَ وَمَنۡ عَلَيۡهَا وَ اِلَيۡنَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾(مریم: 19؍40) ’’ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے اور سب ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔‘‘ اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل اور محال نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پہلے لوگوں کو بھی جانتا ہے اور اسے آنے والے لوگوں کا بھی علم ہے، زمین ان میں جو کمی واقع کر رہی ہے اور ان کے اجزا کو بکھیر رہی ہے، سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے دست قدرت کو کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی۔ پس وہ اپنے بندوں کو دوبارہ نئے سرے سے پیدا کرے گا پھر ان کو اپنے حضور اکٹھا کرے گا ﴿اِنَّهٗ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’وہ دانا، جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ تمام اشیاء کو ان کے لائق شان مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق حال مقام پر نازل کرتا ہے، وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا، اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برا عمل ہو گا تو بری جزا ہو گی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدمu پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے، حضرت آدمu کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چنانچہ فرمایا:
15:24وَلَقَدۡ عَلِمۡنَا ٱلۡمُسۡتَقۡدِمِينَ مِنكُمۡ وَلَقَدۡ عَلِمۡنَا ٱلۡمُسۡتَـٔۡخِرِينَ
اور بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہم ہی وارث ہیں (23)اور البتہ تحقیق ہم جانتے ہیں ان لوگوں کو جو پہلے گزر چکے ہیں تم میں سےاور البتہ تحقیق جانتے ہیں ان لوگوں کو (بھی) جو پیچھے رہنے والے ہیں (24) اور بے شک آپ کا رب، وہی اکٹھا کرے گا انھیں ، بلاشبہ وہ بڑی حکمت والا، خوب جاننے والا ہے (25)
[25-23] یہ اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے جو تمام خلائق کو عدم سے وجود میں لاتا ہے حالانکہ وہ اس سے قبل کچھ بھی نہ تھے اور ان کی مدت مقررہ پوری ہونے کے بعد ان کو موت دیتا ہے۔ ﴿ وَنَحۡنُ الۡوٰرِثُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ہی ہیں پیچھے رہنے والے‘‘ اللہ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی مانند ہے ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَرِثُ الۡاَرۡضَ وَمَنۡ عَلَيۡهَا وَ اِلَيۡنَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾(مریم: 19؍40) ’’ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے اور سب ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔‘‘ اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل اور محال نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پہلے لوگوں کو بھی جانتا ہے اور اسے آنے والے لوگوں کا بھی علم ہے، زمین ان میں جو کمی واقع کر رہی ہے اور ان کے اجزا کو بکھیر رہی ہے، سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے دست قدرت کو کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی۔ پس وہ اپنے بندوں کو دوبارہ نئے سرے سے پیدا کرے گا پھر ان کو اپنے حضور اکٹھا کرے گا ﴿اِنَّهٗ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’وہ دانا، جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ تمام اشیاء کو ان کے لائق شان مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق حال مقام پر نازل کرتا ہے، وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا، اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برا عمل ہو گا تو بری جزا ہو گی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدمu پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے، حضرت آدمu کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چنانچہ فرمایا:
15:25وَإِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحۡشُرُهُمۡۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٞ
اور بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہم ہی وارث ہیں (23)اور البتہ تحقیق ہم جانتے ہیں ان لوگوں کو جو پہلے گزر چکے ہیں تم میں سےاور البتہ تحقیق جانتے ہیں ان لوگوں کو (بھی) جو پیچھے رہنے والے ہیں (24) اور بے شک آپ کا رب، وہی اکٹھا کرے گا انھیں ، بلاشبہ وہ بڑی حکمت والا، خوب جاننے والا ہے (25)
[25-23] یہ اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے جو تمام خلائق کو عدم سے وجود میں لاتا ہے حالانکہ وہ اس سے قبل کچھ بھی نہ تھے اور ان کی مدت مقررہ پوری ہونے کے بعد ان کو موت دیتا ہے۔ ﴿ وَنَحۡنُ الۡوٰرِثُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ہی ہیں پیچھے رہنے والے‘‘ اللہ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی مانند ہے ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَرِثُ الۡاَرۡضَ وَمَنۡ عَلَيۡهَا وَ اِلَيۡنَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾(مریم: 19؍40) ’’ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے اور سب ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔‘‘ اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل اور محال نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پہلے لوگوں کو بھی جانتا ہے اور اسے آنے والے لوگوں کا بھی علم ہے، زمین ان میں جو کمی واقع کر رہی ہے اور ان کے اجزا کو بکھیر رہی ہے، سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے دست قدرت کو کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی۔ پس وہ اپنے بندوں کو دوبارہ نئے سرے سے پیدا کرے گا پھر ان کو اپنے حضور اکٹھا کرے گا ﴿اِنَّهٗ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’وہ دانا، جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ تمام اشیاء کو ان کے لائق شان مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق حال مقام پر نازل کرتا ہے، وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا، اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برا عمل ہو گا تو بری جزا ہو گی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدمu پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے، حضرت آدمu کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چنانچہ فرمایا:
15:26وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِن صَلۡصَٰلٖ مِّنۡ حَمَإٖ مَّسۡنُونٖ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)
[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔
[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔
[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔
[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان کی آدمu اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔
[33,32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤـاِبۡلِيۡسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ قَالَ لَمۡ اَكُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾ ’’اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدمu اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ’’میں آدم سے بہتر ہوں ۔‘‘
[35,34]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ اللَّعۡنَةَ﴾ ’’اور تجھ پر لعنت ہے‘‘ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ ﴾ ’’جزا کے دن تک‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
[38-36]﴿ قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب مجھے ڈھیل دے‘‘ یعنی مجھے مہلت دے ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَؔ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک‘‘ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کر لینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لیے ابتلاء اور امتحان ہے تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہو جائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
[39]﴿ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں ‘‘ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آراستہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ ﴿ وَلَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾’’اور ان سب کو بہکا دوں گا‘‘ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔﴿ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لیے خالص کر لیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا‘‘ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔
[41]﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ۔‘‘ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انھیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انھیں شیطان سے بچاتا ہے۔
[42]﴿ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ ﴾ ’’مگر جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اللہ رحمن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہو گیا ﴿ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’بہکے ہوؤں میں سے ہے‘‘ (الغاوی) ’’گمراہ‘‘ (الراشد) ’’ہدایت یافتہ‘‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔
[43]﴿ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے‘‘ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لیے۔
[44]﴿ لَهَا سَبۡعَةُ اَبۡوَابٍ﴾ ’’اس کے سات دروازے ہیں ‘‘ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہو گا۔ ﴿ لِكُلِّ بَابٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ہر دروازے کے واسطے ان میں سے‘‘ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے ﴿ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴾ ’’ایک حصہ ہے بانٹا ہوا‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ ﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا هُمۡ وَالۡغَاوٗنَۙ۰۰ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍94۔95) ’’پس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔‘‘
15:27وَٱلۡجَآنَّ خَلَقۡنَٰهُ مِن قَبۡلُ مِن نَّارِ ٱلسَّمُومِ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)
[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔
[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔
[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔
[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان کی آدمu اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔
[33,32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤـاِبۡلِيۡسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ قَالَ لَمۡ اَكُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾ ’’اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدمu اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ’’میں آدم سے بہتر ہوں ۔‘‘
[35,34]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ اللَّعۡنَةَ﴾ ’’اور تجھ پر لعنت ہے‘‘ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ ﴾ ’’جزا کے دن تک‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
[38-36]﴿ قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب مجھے ڈھیل دے‘‘ یعنی مجھے مہلت دے ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَؔ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک‘‘ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کر لینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لیے ابتلاء اور امتحان ہے تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہو جائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
[39]﴿ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں ‘‘ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آراستہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ ﴿ وَلَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾’’اور ان سب کو بہکا دوں گا‘‘ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔﴿ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لیے خالص کر لیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا‘‘ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔
[41]﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ۔‘‘ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انھیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انھیں شیطان سے بچاتا ہے۔
[42]﴿ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ ﴾ ’’مگر جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اللہ رحمن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہو گیا ﴿ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’بہکے ہوؤں میں سے ہے‘‘ (الغاوی) ’’گمراہ‘‘ (الراشد) ’’ہدایت یافتہ‘‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔
[43]﴿ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے‘‘ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لیے۔
[44]﴿ لَهَا سَبۡعَةُ اَبۡوَابٍ﴾ ’’اس کے سات دروازے ہیں ‘‘ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہو گا۔ ﴿ لِكُلِّ بَابٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ہر دروازے کے واسطے ان میں سے‘‘ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے ﴿ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴾ ’’ایک حصہ ہے بانٹا ہوا‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ ﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا هُمۡ وَالۡغَاوٗنَۙ۰۰ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍94۔95) ’’پس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔‘‘
15:28وَإِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ إِنِّي خَٰلِقُۢ بَشَرٗا مِّن صَلۡصَٰلٖ مِّنۡ حَمَإٖ مَّسۡنُونٖ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)
[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔
[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔
[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔
[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان کی آدمu اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔
[33,32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤـاِبۡلِيۡسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ قَالَ لَمۡ اَكُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾ ’’اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدمu اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ’’میں آدم سے بہتر ہوں ۔‘‘
[35,34]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ اللَّعۡنَةَ﴾ ’’اور تجھ پر لعنت ہے‘‘ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ ﴾ ’’جزا کے دن تک‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
[38-36]﴿ قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب مجھے ڈھیل دے‘‘ یعنی مجھے مہلت دے ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَؔ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک‘‘ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کر لینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لیے ابتلاء اور امتحان ہے تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہو جائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
[39]﴿ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں ‘‘ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آراستہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ ﴿ وَلَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾’’اور ان سب کو بہکا دوں گا‘‘ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔﴿ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لیے خالص کر لیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا‘‘ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔
[41]﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ۔‘‘ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انھیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انھیں شیطان سے بچاتا ہے۔
[42]﴿ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ ﴾ ’’مگر جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اللہ رحمن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہو گیا ﴿ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’بہکے ہوؤں میں سے ہے‘‘ (الغاوی) ’’گمراہ‘‘ (الراشد) ’’ہدایت یافتہ‘‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔
[43]﴿ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے‘‘ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لیے۔
[44]﴿ لَهَا سَبۡعَةُ اَبۡوَابٍ﴾ ’’اس کے سات دروازے ہیں ‘‘ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہو گا۔ ﴿ لِكُلِّ بَابٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ہر دروازے کے واسطے ان میں سے‘‘ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے ﴿ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴾ ’’ایک حصہ ہے بانٹا ہوا‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ ﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا هُمۡ وَالۡغَاوٗنَۙ۰۰ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍94۔95) ’’پس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔‘‘
15:29فَإِذَا سَوَّيۡتُهُۥ وَنَفَخۡتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُۥ سَٰجِدِينَ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)
[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔
[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔
[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔
[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان کی آدمu اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔
[33,32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤـاِبۡلِيۡسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ قَالَ لَمۡ اَكُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾ ’’اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدمu اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ’’میں آدم سے بہتر ہوں ۔‘‘
[35,34]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ اللَّعۡنَةَ﴾ ’’اور تجھ پر لعنت ہے‘‘ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ ﴾ ’’جزا کے دن تک‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
[38-36]﴿ قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب مجھے ڈھیل دے‘‘ یعنی مجھے مہلت دے ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَؔ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک‘‘ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کر لینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لیے ابتلاء اور امتحان ہے تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہو جائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
[39]﴿ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں ‘‘ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آراستہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ ﴿ وَلَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾’’اور ان سب کو بہکا دوں گا‘‘ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔﴿ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لیے خالص کر لیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا‘‘ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔
[41]﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ۔‘‘ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انھیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انھیں شیطان سے بچاتا ہے۔
[42]﴿ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ ﴾ ’’مگر جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اللہ رحمن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہو گیا ﴿ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’بہکے ہوؤں میں سے ہے‘‘ (الغاوی) ’’گمراہ‘‘ (الراشد) ’’ہدایت یافتہ‘‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔
[43]﴿ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے‘‘ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لیے۔
[44]﴿ لَهَا سَبۡعَةُ اَبۡوَابٍ﴾ ’’اس کے سات دروازے ہیں ‘‘ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہو گا۔ ﴿ لِكُلِّ بَابٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ہر دروازے کے واسطے ان میں سے‘‘ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے ﴿ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴾ ’’ایک حصہ ہے بانٹا ہوا‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ ﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا هُمۡ وَالۡغَاوٗنَۙ۰۰ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍94۔95) ’’پس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔‘‘
15:30فَسَجَدَ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ كُلُّهُمۡ أَجۡمَعُونَ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)
[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔
[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔
[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔
[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان کی آدمu اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔
[33,32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤـاِبۡلِيۡسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ قَالَ لَمۡ اَكُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾ ’’اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدمu اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ’’میں آدم سے بہتر ہوں ۔‘‘
[35,34]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ اللَّعۡنَةَ﴾ ’’اور تجھ پر لعنت ہے‘‘ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ ﴾ ’’جزا کے دن تک‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
[38-36]﴿ قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب مجھے ڈھیل دے‘‘ یعنی مجھے مہلت دے ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَؔ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک‘‘ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کر لینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لیے ابتلاء اور امتحان ہے تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہو جائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
[39]﴿ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں ‘‘ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آراستہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ ﴿ وَلَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾’’اور ان سب کو بہکا دوں گا‘‘ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔﴿ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لیے خالص کر لیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا‘‘ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔
[41]﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ۔‘‘ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انھیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انھیں شیطان سے بچاتا ہے۔
[42]﴿ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ ﴾ ’’مگر جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اللہ رحمن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہو گیا ﴿ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’بہکے ہوؤں میں سے ہے‘‘ (الغاوی) ’’گمراہ‘‘ (الراشد) ’’ہدایت یافتہ‘‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔
[43]﴿ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے‘‘ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لیے۔
[44]﴿ لَهَا سَبۡعَةُ اَبۡوَابٍ﴾ ’’اس کے سات دروازے ہیں ‘‘ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہو گا۔ ﴿ لِكُلِّ بَابٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ہر دروازے کے واسطے ان میں سے‘‘ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے ﴿ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴾ ’’ایک حصہ ہے بانٹا ہوا‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ ﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا هُمۡ وَالۡغَاوٗنَۙ۰۰ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍94۔95) ’’پس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔‘‘
15:31إِلَّآ إِبۡلِيسَ أَبَىٰٓ أَن يَكُونَ مَعَ ٱلسَّـٰجِدِينَ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)
[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔
[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔
[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔
[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان کی آدمu اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔
[33,32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤـاِبۡلِيۡسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ قَالَ لَمۡ اَكُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾ ’’اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدمu اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ’’میں آدم سے بہتر ہوں ۔‘‘
[35,34]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ اللَّعۡنَةَ﴾ ’’اور تجھ پر لعنت ہے‘‘ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ ﴾ ’’جزا کے دن تک‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
[38-36]﴿ قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب مجھے ڈھیل دے‘‘ یعنی مجھے مہلت دے ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَؔ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک‘‘ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کر لینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لیے ابتلاء اور امتحان ہے تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہو جائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
[39]﴿ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں ‘‘ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آراستہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ ﴿ وَلَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾’’اور ان سب کو بہکا دوں گا‘‘ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔﴿ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لیے خالص کر لیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا‘‘ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔
[41]﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ۔‘‘ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انھیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انھیں شیطان سے بچاتا ہے۔
[42]﴿ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ ﴾ ’’مگر جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اللہ رحمن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہو گیا ﴿ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’بہکے ہوؤں میں سے ہے‘‘ (الغاوی) ’’گمراہ‘‘ (الراشد) ’’ہدایت یافتہ‘‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔
[43]﴿ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے‘‘ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لیے۔
[44]﴿ لَهَا سَبۡعَةُ اَبۡوَابٍ﴾ ’’اس کے سات دروازے ہیں ‘‘ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہو گا۔ ﴿ لِكُلِّ بَابٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ہر دروازے کے واسطے ان میں سے‘‘ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے ﴿ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴾ ’’ایک حصہ ہے بانٹا ہوا‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ ﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا هُمۡ وَالۡغَاوٗنَۙ۰۰ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍94۔95) ’’پس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔‘‘
15:32قَالَ يَـٰٓإِبۡلِيسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُونَ مَعَ ٱلسَّـٰجِدِينَ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)
[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔
[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔
[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔
[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان کی آدمu اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔
[33,32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤـاِبۡلِيۡسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ قَالَ لَمۡ اَكُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾ ’’اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدمu اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ’’میں آدم سے بہتر ہوں ۔‘‘
[35,34]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ اللَّعۡنَةَ﴾ ’’اور تجھ پر لعنت ہے‘‘ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ ﴾ ’’جزا کے دن تک‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
[38-36]﴿ قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب مجھے ڈھیل دے‘‘ یعنی مجھے مہلت دے ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَؔ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک‘‘ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کر لینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لیے ابتلاء اور امتحان ہے تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہو جائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
[39]﴿ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں ‘‘ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آراستہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ ﴿ وَلَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾’’اور ان سب کو بہکا دوں گا‘‘ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔﴿ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لیے خالص کر لیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا‘‘ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔
[41]﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ۔‘‘ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انھیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انھیں شیطان سے بچاتا ہے۔
[42]﴿ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ ﴾ ’’مگر جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اللہ رحمن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہو گیا ﴿ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’بہکے ہوؤں میں سے ہے‘‘ (الغاوی) ’’گمراہ‘‘ (الراشد) ’’ہدایت یافتہ‘‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔
[43]﴿ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے‘‘ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لیے۔
[44]﴿ لَهَا سَبۡعَةُ اَبۡوَابٍ﴾ ’’اس کے سات دروازے ہیں ‘‘ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہو گا۔ ﴿ لِكُلِّ بَابٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ہر دروازے کے واسطے ان میں سے‘‘ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے ﴿ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴾ ’’ایک حصہ ہے بانٹا ہوا‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ ﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا هُمۡ وَالۡغَاوٗنَۙ۰۰ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍94۔95) ’’پس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔‘‘
15:33قَالَ لَمۡ أَكُن لِّأَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهُۥ مِن صَلۡصَٰلٖ مِّنۡ حَمَإٖ مَّسۡنُونٖ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)
[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔
[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔
[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔
[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان کی آدمu اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔
[33,32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤـاِبۡلِيۡسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ قَالَ لَمۡ اَكُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾ ’’اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدمu اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ’’میں آدم سے بہتر ہوں ۔‘‘
[35,34]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ اللَّعۡنَةَ﴾ ’’اور تجھ پر لعنت ہے‘‘ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ ﴾ ’’جزا کے دن تک‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
[38-36]﴿ قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب مجھے ڈھیل دے‘‘ یعنی مجھے مہلت دے ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَؔ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک‘‘ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کر لینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لیے ابتلاء اور امتحان ہے تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہو جائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
[39]﴿ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں ‘‘ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آراستہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ ﴿ وَلَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾’’اور ان سب کو بہکا دوں گا‘‘ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔﴿ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لیے خالص کر لیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا‘‘ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔
[41]﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ۔‘‘ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انھیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انھیں شیطان سے بچاتا ہے۔
[42]﴿ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ ﴾ ’’مگر جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اللہ رحمن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہو گیا ﴿ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’بہکے ہوؤں میں سے ہے‘‘ (الغاوی) ’’گمراہ‘‘ (الراشد) ’’ہدایت یافتہ‘‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔
[43]﴿ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے‘‘ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لیے۔
[44]﴿ لَهَا سَبۡعَةُ اَبۡوَابٍ﴾ ’’اس کے سات دروازے ہیں ‘‘ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہو گا۔ ﴿ لِكُلِّ بَابٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ہر دروازے کے واسطے ان میں سے‘‘ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے ﴿ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴾ ’’ایک حصہ ہے بانٹا ہوا‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ ﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا هُمۡ وَالۡغَاوٗنَۙ۰۰ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍94۔95) ’’پس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔‘‘
15:34قَالَ فَٱخۡرُجۡ مِنۡهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٞ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)
[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔
[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔
[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔
[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان کی آدمu اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔
[33,32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤـاِبۡلِيۡسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ قَالَ لَمۡ اَكُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾ ’’اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدمu اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ’’میں آدم سے بہتر ہوں ۔‘‘
[35,34]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ اللَّعۡنَةَ﴾ ’’اور تجھ پر لعنت ہے‘‘ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ ﴾ ’’جزا کے دن تک‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
[38-36]﴿ قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب مجھے ڈھیل دے‘‘ یعنی مجھے مہلت دے ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَؔ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک‘‘ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کر لینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لیے ابتلاء اور امتحان ہے تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہو جائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
[39]﴿ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں ‘‘ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آراستہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ ﴿ وَلَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾’’اور ان سب کو بہکا دوں گا‘‘ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔﴿ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لیے خالص کر لیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا‘‘ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔
[41]﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ۔‘‘ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انھیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انھیں شیطان سے بچاتا ہے۔
[42]﴿ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ ﴾ ’’مگر جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اللہ رحمن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہو گیا ﴿ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’بہکے ہوؤں میں سے ہے‘‘ (الغاوی) ’’گمراہ‘‘ (الراشد) ’’ہدایت یافتہ‘‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔
[43]﴿ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے‘‘ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لیے۔
[44]﴿ لَهَا سَبۡعَةُ اَبۡوَابٍ﴾ ’’اس کے سات دروازے ہیں ‘‘ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہو گا۔ ﴿ لِكُلِّ بَابٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ہر دروازے کے واسطے ان میں سے‘‘ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے ﴿ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴾ ’’ایک حصہ ہے بانٹا ہوا‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ ﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا هُمۡ وَالۡغَاوٗنَۙ۰۰ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍94۔95) ’’پس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔‘‘
15:35وَإِنَّ عَلَيۡكَ ٱللَّعۡنَةَ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلدِّينِ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)
[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔
[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔
[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔
[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان کی آدمu اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔
[33,32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤـاِبۡلِيۡسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ قَالَ لَمۡ اَكُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾ ’’اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدمu اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ’’میں آدم سے بہتر ہوں ۔‘‘
[35,34]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ اللَّعۡنَةَ﴾ ’’اور تجھ پر لعنت ہے‘‘ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ ﴾ ’’جزا کے دن تک‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
[38-36]﴿ قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب مجھے ڈھیل دے‘‘ یعنی مجھے مہلت دے ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَؔ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک‘‘ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کر لینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لیے ابتلاء اور امتحان ہے تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہو جائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
[39]﴿ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں ‘‘ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آراستہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ ﴿ وَلَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾’’اور ان سب کو بہکا دوں گا‘‘ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔﴿ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لیے خالص کر لیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا‘‘ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔
[41]﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ۔‘‘ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انھیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انھیں شیطان سے بچاتا ہے۔
[42]﴿ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ ﴾ ’’مگر جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اللہ رحمن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہو گیا ﴿ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’بہکے ہوؤں میں سے ہے‘‘ (الغاوی) ’’گمراہ‘‘ (الراشد) ’’ہدایت یافتہ‘‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔
[43]﴿ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے‘‘ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لیے۔
[44]﴿ لَهَا سَبۡعَةُ اَبۡوَابٍ﴾ ’’اس کے سات دروازے ہیں ‘‘ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہو گا۔ ﴿ لِكُلِّ بَابٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ہر دروازے کے واسطے ان میں سے‘‘ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے ﴿ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴾ ’’ایک حصہ ہے بانٹا ہوا‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ ﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا هُمۡ وَالۡغَاوٗنَۙ۰۰ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍94۔95) ’’پس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔‘‘
15:36قَالَ رَبِّ فَأَنظِرۡنِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)
[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔
[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔
[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔
[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان کی آدمu اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔
[33,32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤـاِبۡلِيۡسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ قَالَ لَمۡ اَكُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾ ’’اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدمu اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ’’میں آدم سے بہتر ہوں ۔‘‘
[35,34]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ اللَّعۡنَةَ﴾ ’’اور تجھ پر لعنت ہے‘‘ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ ﴾ ’’جزا کے دن تک‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
[38-36]﴿ قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب مجھے ڈھیل دے‘‘ یعنی مجھے مہلت دے ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَؔ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک‘‘ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کر لینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لیے ابتلاء اور امتحان ہے تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہو جائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
[39]﴿ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں ‘‘ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آراستہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ ﴿ وَلَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾’’اور ان سب کو بہکا دوں گا‘‘ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔﴿ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لیے خالص کر لیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا‘‘ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔
[41]﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ۔‘‘ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انھیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انھیں شیطان سے بچاتا ہے۔
[42]﴿ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ ﴾ ’’مگر جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اللہ رحمن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہو گیا ﴿ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’بہکے ہوؤں میں سے ہے‘‘ (الغاوی) ’’گمراہ‘‘ (الراشد) ’’ہدایت یافتہ‘‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔
[43]﴿ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے‘‘ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لیے۔
[44]﴿ لَهَا سَبۡعَةُ اَبۡوَابٍ﴾ ’’اس کے سات دروازے ہیں ‘‘ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہو گا۔ ﴿ لِكُلِّ بَابٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ہر دروازے کے واسطے ان میں سے‘‘ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے ﴿ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴾ ’’ایک حصہ ہے بانٹا ہوا‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ ﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا هُمۡ وَالۡغَاوٗنَۙ۰۰ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍94۔95) ’’پس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔‘‘
15:37قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلۡمُنظَرِينَ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)
[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔
[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔
[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔
[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان کی آدمu اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔
[33,32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤـاِبۡلِيۡسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ قَالَ لَمۡ اَكُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾ ’’اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدمu اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ’’میں آدم سے بہتر ہوں ۔‘‘
[35,34]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ اللَّعۡنَةَ﴾ ’’اور تجھ پر لعنت ہے‘‘ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ ﴾ ’’جزا کے دن تک‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
[38-36]﴿ قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب مجھے ڈھیل دے‘‘ یعنی مجھے مہلت دے ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَؔ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک‘‘ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کر لینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لیے ابتلاء اور امتحان ہے تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہو جائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
[39]﴿ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں ‘‘ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آراستہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ ﴿ وَلَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾’’اور ان سب کو بہکا دوں گا‘‘ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔﴿ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لیے خالص کر لیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا‘‘ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔
[41]﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ۔‘‘ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انھیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انھیں شیطان سے بچاتا ہے۔
[42]﴿ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ ﴾ ’’مگر جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اللہ رحمن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہو گیا ﴿ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’بہکے ہوؤں میں سے ہے‘‘ (الغاوی) ’’گمراہ‘‘ (الراشد) ’’ہدایت یافتہ‘‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔
[43]﴿ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے‘‘ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لیے۔
[44]﴿ لَهَا سَبۡعَةُ اَبۡوَابٍ﴾ ’’اس کے سات دروازے ہیں ‘‘ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہو گا۔ ﴿ لِكُلِّ بَابٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ہر دروازے کے واسطے ان میں سے‘‘ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے ﴿ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴾ ’’ایک حصہ ہے بانٹا ہوا‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ ﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا هُمۡ وَالۡغَاوٗنَۙ۰۰ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍94۔95) ’’پس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔‘‘
15:38إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡوَقۡتِ ٱلۡمَعۡلُومِ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)
[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔
[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔
[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔
[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان کی آدمu اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔
[33,32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤـاِبۡلِيۡسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ قَالَ لَمۡ اَكُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾ ’’اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدمu اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ’’میں آدم سے بہتر ہوں ۔‘‘
[35,34]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ اللَّعۡنَةَ﴾ ’’اور تجھ پر لعنت ہے‘‘ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ ﴾ ’’جزا کے دن تک‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
[38-36]﴿ قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب مجھے ڈھیل دے‘‘ یعنی مجھے مہلت دے ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَؔ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک‘‘ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کر لینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لیے ابتلاء اور امتحان ہے تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہو جائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
[39]﴿ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں ‘‘ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آراستہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ ﴿ وَلَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾’’اور ان سب کو بہکا دوں گا‘‘ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔﴿ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لیے خالص کر لیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا‘‘ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔
[41]﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ۔‘‘ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انھیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انھیں شیطان سے بچاتا ہے۔
[42]﴿ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ ﴾ ’’مگر جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اللہ رحمن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہو گیا ﴿ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’بہکے ہوؤں میں سے ہے‘‘ (الغاوی) ’’گمراہ‘‘ (الراشد) ’’ہدایت یافتہ‘‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔
[43]﴿ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے‘‘ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لیے۔
[44]﴿ لَهَا سَبۡعَةُ اَبۡوَابٍ﴾ ’’اس کے سات دروازے ہیں ‘‘ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہو گا۔ ﴿ لِكُلِّ بَابٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ہر دروازے کے واسطے ان میں سے‘‘ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے ﴿ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴾ ’’ایک حصہ ہے بانٹا ہوا‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ ﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا هُمۡ وَالۡغَاوٗنَۙ۰۰ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍94۔95) ’’پس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔‘‘
15:39قَالَ رَبِّ بِمَآ أَغۡوَيۡتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَأُغۡوِيَنَّهُمۡ أَجۡمَعِينَ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)
[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔
[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔
[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔
[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان کی آدمu اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔
[33,32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤـاِبۡلِيۡسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ قَالَ لَمۡ اَكُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾ ’’اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدمu اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ’’میں آدم سے بہتر ہوں ۔‘‘
[35,34]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ اللَّعۡنَةَ﴾ ’’اور تجھ پر لعنت ہے‘‘ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ ﴾ ’’جزا کے دن تک‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
[38-36]﴿ قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب مجھے ڈھیل دے‘‘ یعنی مجھے مہلت دے ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَؔ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک‘‘ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کر لینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لیے ابتلاء اور امتحان ہے تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہو جائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
[39]﴿ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں ‘‘ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آراستہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ ﴿ وَلَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾’’اور ان سب کو بہکا دوں گا‘‘ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔﴿ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لیے خالص کر لیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا‘‘ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔
[41]﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ۔‘‘ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انھیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انھیں شیطان سے بچاتا ہے۔
[42]﴿ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ ﴾ ’’مگر جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اللہ رحمن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہو گیا ﴿ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’بہکے ہوؤں میں سے ہے‘‘ (الغاوی) ’’گمراہ‘‘ (الراشد) ’’ہدایت یافتہ‘‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔
[43]﴿ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے‘‘ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لیے۔
[44]﴿ لَهَا سَبۡعَةُ اَبۡوَابٍ﴾ ’’اس کے سات دروازے ہیں ‘‘ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہو گا۔ ﴿ لِكُلِّ بَابٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ہر دروازے کے واسطے ان میں سے‘‘ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے ﴿ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴾ ’’ایک حصہ ہے بانٹا ہوا‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ ﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا هُمۡ وَالۡغَاوٗنَۙ۰۰ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍94۔95) ’’پس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔‘‘
15:40إِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ ٱلۡمُخۡلَصِينَ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)
[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔
[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔
[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔
[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان کی آدمu اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔
[33,32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤـاِبۡلِيۡسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ قَالَ لَمۡ اَكُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾ ’’اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدمu اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ’’میں آدم سے بہتر ہوں ۔‘‘
[35,34]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ اللَّعۡنَةَ﴾ ’’اور تجھ پر لعنت ہے‘‘ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ ﴾ ’’جزا کے دن تک‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
[38-36]﴿ قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب مجھے ڈھیل دے‘‘ یعنی مجھے مہلت دے ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَؔ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک‘‘ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کر لینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لیے ابتلاء اور امتحان ہے تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہو جائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
[39]﴿ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں ‘‘ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آراستہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ ﴿ وَلَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾’’اور ان سب کو بہکا دوں گا‘‘ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔﴿ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لیے خالص کر لیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا‘‘ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔
[41]﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ۔‘‘ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انھیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انھیں شیطان سے بچاتا ہے۔
[42]﴿ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ ﴾ ’’مگر جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اللہ رحمن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہو گیا ﴿ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’بہکے ہوؤں میں سے ہے‘‘ (الغاوی) ’’گمراہ‘‘ (الراشد) ’’ہدایت یافتہ‘‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔
[43]﴿ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے‘‘ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لیے۔
[44]﴿ لَهَا سَبۡعَةُ اَبۡوَابٍ﴾ ’’اس کے سات دروازے ہیں ‘‘ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہو گا۔ ﴿ لِكُلِّ بَابٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ہر دروازے کے واسطے ان میں سے‘‘ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے ﴿ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴾ ’’ایک حصہ ہے بانٹا ہوا‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ ﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا هُمۡ وَالۡغَاوٗنَۙ۰۰ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍94۔95) ’’پس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔‘‘
15:41قَالَ هَٰذَا صِرَٰطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيمٌ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)
[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔
[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔
[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔
[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان کی آدمu اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔
[33,32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤـاِبۡلِيۡسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ قَالَ لَمۡ اَكُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾ ’’اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدمu اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ’’میں آدم سے بہتر ہوں ۔‘‘
[35,34]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ اللَّعۡنَةَ﴾ ’’اور تجھ پر لعنت ہے‘‘ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ ﴾ ’’جزا کے دن تک‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
[38-36]﴿ قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب مجھے ڈھیل دے‘‘ یعنی مجھے مہلت دے ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَؔ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک‘‘ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کر لینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لیے ابتلاء اور امتحان ہے تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہو جائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
[39]﴿ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں ‘‘ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آراستہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ ﴿ وَلَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾’’اور ان سب کو بہکا دوں گا‘‘ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔﴿ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لیے خالص کر لیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا‘‘ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔
[41]﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ۔‘‘ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انھیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انھیں شیطان سے بچاتا ہے۔
[42]﴿ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ ﴾ ’’مگر جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اللہ رحمن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہو گیا ﴿ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’بہکے ہوؤں میں سے ہے‘‘ (الغاوی) ’’گمراہ‘‘ (الراشد) ’’ہدایت یافتہ‘‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔
[43]﴿ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے‘‘ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لیے۔
[44]﴿ لَهَا سَبۡعَةُ اَبۡوَابٍ﴾ ’’اس کے سات دروازے ہیں ‘‘ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہو گا۔ ﴿ لِكُلِّ بَابٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ہر دروازے کے واسطے ان میں سے‘‘ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے ﴿ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴾ ’’ایک حصہ ہے بانٹا ہوا‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ ﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا هُمۡ وَالۡغَاوٗنَۙ۰۰ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍94۔95) ’’پس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔‘‘
15:42إِنَّ عِبَادِي لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطَٰنٌ إِلَّا مَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلۡغَاوِينَ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)
[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔
[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔
[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔
[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان کی آدمu اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔
[33,32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤـاِبۡلِيۡسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ قَالَ لَمۡ اَكُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾ ’’اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدمu اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ’’میں آدم سے بہتر ہوں ۔‘‘
[35,34]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ اللَّعۡنَةَ﴾ ’’اور تجھ پر لعنت ہے‘‘ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ ﴾ ’’جزا کے دن تک‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
[38-36]﴿ قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب مجھے ڈھیل دے‘‘ یعنی مجھے مہلت دے ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَؔ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک‘‘ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کر لینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لیے ابتلاء اور امتحان ہے تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہو جائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
[39]﴿ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں ‘‘ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آراستہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ ﴿ وَلَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾’’اور ان سب کو بہکا دوں گا‘‘ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔﴿ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لیے خالص کر لیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا‘‘ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔
[41]﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ۔‘‘ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انھیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انھیں شیطان سے بچاتا ہے۔
[42]﴿ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ ﴾ ’’مگر جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اللہ رحمن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہو گیا ﴿ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’بہکے ہوؤں میں سے ہے‘‘ (الغاوی) ’’گمراہ‘‘ (الراشد) ’’ہدایت یافتہ‘‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔
[43]﴿ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے‘‘ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لیے۔
[44]﴿ لَهَا سَبۡعَةُ اَبۡوَابٍ﴾ ’’اس کے سات دروازے ہیں ‘‘ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہو گا۔ ﴿ لِكُلِّ بَابٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ہر دروازے کے واسطے ان میں سے‘‘ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے ﴿ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴾ ’’ایک حصہ ہے بانٹا ہوا‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ ﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا هُمۡ وَالۡغَاوٗنَۙ۰۰ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍94۔95) ’’پس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔‘‘
15:43وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ أَجۡمَعِينَ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)
[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔
[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔
[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔
[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان کی آدمu اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔
[33,32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤـاِبۡلِيۡسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ قَالَ لَمۡ اَكُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾ ’’اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدمu اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ’’میں آدم سے بہتر ہوں ۔‘‘
[35,34]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ اللَّعۡنَةَ﴾ ’’اور تجھ پر لعنت ہے‘‘ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ ﴾ ’’جزا کے دن تک‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
[38-36]﴿ قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب مجھے ڈھیل دے‘‘ یعنی مجھے مہلت دے ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَؔ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک‘‘ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کر لینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لیے ابتلاء اور امتحان ہے تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہو جائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
[39]﴿ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں ‘‘ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آراستہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ ﴿ وَلَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾’’اور ان سب کو بہکا دوں گا‘‘ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔﴿ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لیے خالص کر لیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا‘‘ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔
[41]﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ۔‘‘ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انھیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انھیں شیطان سے بچاتا ہے۔
[42]﴿ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ ﴾ ’’مگر جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اللہ رحمن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہو گیا ﴿ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’بہکے ہوؤں میں سے ہے‘‘ (الغاوی) ’’گمراہ‘‘ (الراشد) ’’ہدایت یافتہ‘‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔
[43]﴿ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے‘‘ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لیے۔
[44]﴿ لَهَا سَبۡعَةُ اَبۡوَابٍ﴾ ’’اس کے سات دروازے ہیں ‘‘ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہو گا۔ ﴿ لِكُلِّ بَابٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ہر دروازے کے واسطے ان میں سے‘‘ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے ﴿ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴾ ’’ایک حصہ ہے بانٹا ہوا‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ ﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا هُمۡ وَالۡغَاوٗنَۙ۰۰ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍94۔95) ’’پس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔‘‘
15:44لَهَا سَبۡعَةُ أَبۡوَٰبٖ لِّكُلِّ بَابٖ مِّنۡهُمۡ جُزۡءٞ مَّقۡسُومٌ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (26) اور جن، پیدا کیا ہم نے اسے اس سے پہلے، سخت حرارت والی آگ سے (27) اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر (آدم) بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (28) پس جب درست کر لوں میں اس کو اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح تو گر پڑناتم اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے (29) پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (30) سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (اس سے) کہ ہو وہ ساتھ سجدہ کرنے والوں کے (31) اللہ نے کہا، اے ابلیس! کیا ہے تجھے اس (بات میں ) کہ نہ ہو تو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے؟ (32) اس نے کہا، نہیں ہوں میں کہ سجدہ کروں (ایسے) بشر کو کہ پیدا کیا تو نے اس کو بجنے والی مٹی سے (، یعنی ) گارے سڑے ہوئے سے (33) اللہ نے کہا، پس تو نکل جا اس سے، پس بلاشبہ تو مردود ہے (34) اور بے شک تجھ پر لعنت ہے روز جزا تک (35) اس نے کہا، اے میرے رب! پس تو مہلت دے مجھے اس دن تک کہ وہ (لوگ) دوبارہ اٹھائے جائیں (36) اللہ نے کہا، پس بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے (37) اس دن تک کہ (اس کا) وقت مقرر ہے (38) اس نے کہا، اے رب! بہ سبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھ کو، یقینا سنوار کر دکھاؤں گا میں ان کو (گناہ) زمین میں اور البتہ ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو سب کو (39) سوائے تیرے (ان) بندوں کے، ان میں سے، جو چنے ہوئے ہیں (40) اللہ نے کہا، یہی راستہ ہے مجھ تک سیدھا (41) بے شک میرے بندے، نہیں ہے واسطے تیرے اوپر ان کے کوئی غلبہ مگر جس نے پیروی کی تیری گمراہوں میں سے (42) اور بے شک جہنم ہی وعدہ گاہ ہے ان کی سب کی (43) اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں ، واسطے ہر ایک دروازے کے ان (گمراہوں ) میں سے ایک حصہ ہے الگ کیا ہوا (44)
[26]﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’ہم نے انسان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی آدمu کو پیدا کیا ﴿ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾’’کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے‘‘ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں ، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں ۔
[27]﴿ وَالۡجَآنَّ ﴾ ’’اور جنوں کو۔‘‘ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے‘‘ یعنی تخلیق آدمu سے پہلے ﴿ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴾ ’’لو کی آگ سے‘‘ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔
[29,28] پس جب اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ ﴾ ’’میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں ۔
[30,31] پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں ‘‘ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔‘‘ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا‘‘ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدمu کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدمu وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ اَبٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو‘‘ یہ شیطان کی آدمu اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔
[33,32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤـاِبۡلِيۡسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰؔجِدِيۡنَ قَالَ لَمۡ اَكُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴾ ’’اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدمu اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ’’میں آدم سے بہتر ہوں ۔‘‘
[35,34]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ اللَّعۡنَةَ﴾ ’’اور تجھ پر لعنت ہے‘‘ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ ﴾ ’’جزا کے دن تک‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
[38-36]﴿ قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب مجھے ڈھیل دے‘‘ یعنی مجھے مہلت دے ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَؔ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک‘‘ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کر لینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لیے ابتلاء اور امتحان ہے تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہو جائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
[39]﴿ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’شیطان نے کہا، اے رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں ‘‘ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آراستہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ ﴿ وَلَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾’’اور ان سب کو بہکا دوں گا‘‘ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔﴿ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لیے خالص کر لیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا‘‘ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔
[41]﴿ اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ ﴾ ’’جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ۔‘‘ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انھیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انھیں شیطان سے بچاتا ہے۔
[42]﴿ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ ﴾ ’’مگر جس نے تیری پیروی کی‘‘ اور اللہ رحمن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہو گیا ﴿ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’بہکے ہوؤں میں سے ہے‘‘ (الغاوی) ’’گمراہ‘‘ (الراشد) ’’ہدایت یافتہ‘‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔
[43]﴿ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے‘‘ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لیے۔
[44]﴿ لَهَا سَبۡعَةُ اَبۡوَابٍ﴾ ’’اس کے سات دروازے ہیں ‘‘ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہو گا۔ ﴿ لِكُلِّ بَابٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ہر دروازے کے واسطے ان میں سے‘‘ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے ﴿ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴾ ’’ایک حصہ ہے بانٹا ہوا‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ ﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا هُمۡ وَالۡغَاوٗنَۙ۰۰ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾(الشعراء: 26؍94۔95) ’’پس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔‘‘
15:45إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي جَنَّـٰتٖ وَعُيُونٍ
بے شک متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے (45)(انھیں کہا جائے گا) داخل ہو جاؤ تم ان میں ساتھ سلامتی کے، با امن (46) اور نکال دیں گے ہم جو کچھ ان کے سینوں میں ہو گا (باہم) کینہ، وہ بھائی بھائی ہوں گے، اوپر تختوں کے آمنے سامنے (بیٹھے ہوئے)(47) نہیں چھوئے گی انھیں ان (باغات) میں کوئی تھکاوٹ اور نہ وہ ان سے نکالے ہی جائیں گے (48)(اے پیغمبر!) خبر دے دیجیے میرے بندوں کو کہ یقینا میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے ولاہوں (49) اور بلاشبہ عذاب میرا ، وہی عذاب ہے بڑا درد ناک (50)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں اس کے دشمنوں یعنی ابلیس کے پیروکارں کو کیا سخت عذاب اور سزا دی جائے گی وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کو کس فضل عظیم اوردائمی نعمتوں سے نوازے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیزگار‘‘ جو شیطان کی اطاعت، اس کے وسوسوں ، گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ ﴾ ’’باغات اور چشموں میں ہوں گے‘‘ جن میں درختوں کی تمام اقسام ہوں گی اور اس میں ہر وقت اور ہر قسم کے پکے ہوئے پھل ہوں گے۔
[46] جنت میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا جائے گا ﴿اُدۡخُلُوۡهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’داخل ہو جاؤ اس میں سلامتی سے ہر نقصان سے محفوظ‘‘ یعنی موت، نیند، تھکن سے، وہاں حاصل نعمتوں میں سے کسی نعمت کے منقطع ہونے یا ان میں کمی واقع ہونے سے، بیماری، حزن و غم اور دیگر تمام کدورتوں سے مامون و محفوظ۔
[47]﴿ وَنَزَعۡنَا مَا فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ ﴾ ’’اور نکال ڈالیں گے ہم ان کے سینوں سے کینہ‘‘ پس ان کے دل ہر قسم کے کینہ اور حسد سے سلامت، پاک صاف اور آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے ﴿ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ﴾ ’’وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان کے آپس میں ایک دوسرے کی زیارت کرنے، ان کو اکٹھے ہونے اور ان کے آپس میں حسن ادب پر دلالت کرتی ہے نیز یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ جنت میں ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر نہیں بلکہ سجے تختوں پر تکیے لگا کر، موتی اور مختلف قسم کے جواہرات جڑے ہوئے بچھونوں پر، ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔
[48]﴿ لَا يَمَسُّهُمۡ فِيۡهَا نَصَبٌ ﴾ ’’نہیں پہنچے گی وہاں ان کو کوئی تھکاوٹ‘‘ انھیں ظاہری تھکاوٹ لاحق ہو گی نہ باطنی اور یہ اس وجہ سے ہو گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھیں ایسی حیات کاملہ سے نوازا ہو گا جو آفات کا اثر قبول نہیں کرے گی۔ ﴿ وَّمَا هُمۡ مِّؔنۡهَا بِمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ کسی بھی وقت جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔
[49] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فیصلوں ، یعنی جنت اور جہنم کا ذکر فرمانے کے بعد، جو ترغیب و ترہیب کا موجب ہیں ، اپنے ان اوصاف کا ذکر فرمایا جو جنت و جہنم کے موجب ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ نَبِّئۡ عِبَادِيۡۤ ﴾ ’’میرے بندوں کو بتادو۔‘‘ یعنی میرے بندوں کو نہایت جزم کے ساتھ خبر دیجیے جس کی تائید دلائل کرتے ہوں کہ ﴿ اَنِّيۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’میں بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہوں ۔‘‘ کیونکہ جب بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ اور اس کی مغفرت کی معرفت حاصل کر لیں گے تو ان اسباب کے حصول میں کوشاں ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ تک پہنچاتے ہیں ، گناہوں کے ارتکاب سے رک کر ان سے توبہ کریں گے تاکہ وہ اس کی مغفرت کے مستحق قرار پائیں۔
[50] اور وہ امید کے اس حال تک نہ پہنچ جائیں کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے مامون سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے بارے میں جرأت کا رویہ رکھیں ۔ نیز انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیجیے! ﴿ وَاَنَّ عَذَابِيۡ هُوَ الۡعَذَابُ الۡاَلِيۡمُ ﴾ ’’میرا عذاب، وہ دردناک عذاب ہے‘‘ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سوا دوسرا عذاب کوئی عذاب ہی نہیں ، اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوئی اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کی کنہ تک پہنچا جا سکتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں کیونکہ جب انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو گی کہ ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ۰۰وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ ﴾(الفجر:89؍25۔26) ’’اس روز نہ کوئی اللہ کے عذاب کی مانند کوئی عذاب دے گا اور نہ اللہ کی گرفت کی مانند کوئی گرفت کر سکے گا۔‘‘ تب وہ ڈریں گے اور ہر اس سبب سے دور رہیں گے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا موجب بنتا ہے۔ بندۂ مومن کے لائق یہی ہے کہ اس کا قلب دائمی طور پر خوف اور امید، رغبت اور رہبت کے درمیان رہے۔ جب بندہ اپنے رب کی بے پایاں رحمت، اس کی مغفرت اور اس کے جود و احسان کی طرف نظر کرے تو اس کا قلب امید اور رغبت سے لبریز ہو جائے اور جب وہ اپنے گناہوں اور اپنے رب کے حقوق کے بارے میں اپنی تقصیر پر نظر ڈالے تو اس کے دل میں خوف اور رہبت پیدا ہو اور وہ گناہوں کو چھوڑ دے۔
15:46ٱدۡخُلُوهَا بِسَلَٰمٍ ءَامِنِينَ
بے شک متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے (45)(انھیں کہا جائے گا) داخل ہو جاؤ تم ان میں ساتھ سلامتی کے، با امن (46) اور نکال دیں گے ہم جو کچھ ان کے سینوں میں ہو گا (باہم) کینہ، وہ بھائی بھائی ہوں گے، اوپر تختوں کے آمنے سامنے (بیٹھے ہوئے)(47) نہیں چھوئے گی انھیں ان (باغات) میں کوئی تھکاوٹ اور نہ وہ ان سے نکالے ہی جائیں گے (48)(اے پیغمبر!) خبر دے دیجیے میرے بندوں کو کہ یقینا میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے ولاہوں (49) اور بلاشبہ عذاب میرا ، وہی عذاب ہے بڑا درد ناک (50)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں اس کے دشمنوں یعنی ابلیس کے پیروکارں کو کیا سخت عذاب اور سزا دی جائے گی وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کو کس فضل عظیم اوردائمی نعمتوں سے نوازے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیزگار‘‘ جو شیطان کی اطاعت، اس کے وسوسوں ، گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ ﴾ ’’باغات اور چشموں میں ہوں گے‘‘ جن میں درختوں کی تمام اقسام ہوں گی اور اس میں ہر وقت اور ہر قسم کے پکے ہوئے پھل ہوں گے۔
[46] جنت میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا جائے گا ﴿اُدۡخُلُوۡهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’داخل ہو جاؤ اس میں سلامتی سے ہر نقصان سے محفوظ‘‘ یعنی موت، نیند، تھکن سے، وہاں حاصل نعمتوں میں سے کسی نعمت کے منقطع ہونے یا ان میں کمی واقع ہونے سے، بیماری، حزن و غم اور دیگر تمام کدورتوں سے مامون و محفوظ۔
[47]﴿ وَنَزَعۡنَا مَا فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ ﴾ ’’اور نکال ڈالیں گے ہم ان کے سینوں سے کینہ‘‘ پس ان کے دل ہر قسم کے کینہ اور حسد سے سلامت، پاک صاف اور آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے ﴿ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ﴾ ’’وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان کے آپس میں ایک دوسرے کی زیارت کرنے، ان کو اکٹھے ہونے اور ان کے آپس میں حسن ادب پر دلالت کرتی ہے نیز یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ جنت میں ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر نہیں بلکہ سجے تختوں پر تکیے لگا کر، موتی اور مختلف قسم کے جواہرات جڑے ہوئے بچھونوں پر، ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔
[48]﴿ لَا يَمَسُّهُمۡ فِيۡهَا نَصَبٌ ﴾ ’’نہیں پہنچے گی وہاں ان کو کوئی تھکاوٹ‘‘ انھیں ظاہری تھکاوٹ لاحق ہو گی نہ باطنی اور یہ اس وجہ سے ہو گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھیں ایسی حیات کاملہ سے نوازا ہو گا جو آفات کا اثر قبول نہیں کرے گی۔ ﴿ وَّمَا هُمۡ مِّؔنۡهَا بِمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ کسی بھی وقت جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔
[49] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فیصلوں ، یعنی جنت اور جہنم کا ذکر فرمانے کے بعد، جو ترغیب و ترہیب کا موجب ہیں ، اپنے ان اوصاف کا ذکر فرمایا جو جنت و جہنم کے موجب ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ نَبِّئۡ عِبَادِيۡۤ ﴾ ’’میرے بندوں کو بتادو۔‘‘ یعنی میرے بندوں کو نہایت جزم کے ساتھ خبر دیجیے جس کی تائید دلائل کرتے ہوں کہ ﴿ اَنِّيۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’میں بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہوں ۔‘‘ کیونکہ جب بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ اور اس کی مغفرت کی معرفت حاصل کر لیں گے تو ان اسباب کے حصول میں کوشاں ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ تک پہنچاتے ہیں ، گناہوں کے ارتکاب سے رک کر ان سے توبہ کریں گے تاکہ وہ اس کی مغفرت کے مستحق قرار پائیں۔
[50] اور وہ امید کے اس حال تک نہ پہنچ جائیں کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے مامون سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے بارے میں جرأت کا رویہ رکھیں ۔ نیز انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیجیے! ﴿ وَاَنَّ عَذَابِيۡ هُوَ الۡعَذَابُ الۡاَلِيۡمُ ﴾ ’’میرا عذاب، وہ دردناک عذاب ہے‘‘ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سوا دوسرا عذاب کوئی عذاب ہی نہیں ، اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوئی اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کی کنہ تک پہنچا جا سکتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں کیونکہ جب انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو گی کہ ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ۰۰وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ ﴾(الفجر:89؍25۔26) ’’اس روز نہ کوئی اللہ کے عذاب کی مانند کوئی عذاب دے گا اور نہ اللہ کی گرفت کی مانند کوئی گرفت کر سکے گا۔‘‘ تب وہ ڈریں گے اور ہر اس سبب سے دور رہیں گے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا موجب بنتا ہے۔ بندۂ مومن کے لائق یہی ہے کہ اس کا قلب دائمی طور پر خوف اور امید، رغبت اور رہبت کے درمیان رہے۔ جب بندہ اپنے رب کی بے پایاں رحمت، اس کی مغفرت اور اس کے جود و احسان کی طرف نظر کرے تو اس کا قلب امید اور رغبت سے لبریز ہو جائے اور جب وہ اپنے گناہوں اور اپنے رب کے حقوق کے بارے میں اپنی تقصیر پر نظر ڈالے تو اس کے دل میں خوف اور رہبت پیدا ہو اور وہ گناہوں کو چھوڑ دے۔
15:47وَنَزَعۡنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنۡ غِلٍّ إِخۡوَٰنًا عَلَىٰ سُرُرٖ مُّتَقَٰبِلِينَ
بے شک متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے (45)(انھیں کہا جائے گا) داخل ہو جاؤ تم ان میں ساتھ سلامتی کے، با امن (46) اور نکال دیں گے ہم جو کچھ ان کے سینوں میں ہو گا (باہم) کینہ، وہ بھائی بھائی ہوں گے، اوپر تختوں کے آمنے سامنے (بیٹھے ہوئے)(47) نہیں چھوئے گی انھیں ان (باغات) میں کوئی تھکاوٹ اور نہ وہ ان سے نکالے ہی جائیں گے (48)(اے پیغمبر!) خبر دے دیجیے میرے بندوں کو کہ یقینا میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے ولاہوں (49) اور بلاشبہ عذاب میرا ، وہی عذاب ہے بڑا درد ناک (50)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں اس کے دشمنوں یعنی ابلیس کے پیروکارں کو کیا سخت عذاب اور سزا دی جائے گی وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کو کس فضل عظیم اوردائمی نعمتوں سے نوازے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیزگار‘‘ جو شیطان کی اطاعت، اس کے وسوسوں ، گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ ﴾ ’’باغات اور چشموں میں ہوں گے‘‘ جن میں درختوں کی تمام اقسام ہوں گی اور اس میں ہر وقت اور ہر قسم کے پکے ہوئے پھل ہوں گے۔
[46] جنت میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا جائے گا ﴿اُدۡخُلُوۡهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’داخل ہو جاؤ اس میں سلامتی سے ہر نقصان سے محفوظ‘‘ یعنی موت، نیند، تھکن سے، وہاں حاصل نعمتوں میں سے کسی نعمت کے منقطع ہونے یا ان میں کمی واقع ہونے سے، بیماری، حزن و غم اور دیگر تمام کدورتوں سے مامون و محفوظ۔
[47]﴿ وَنَزَعۡنَا مَا فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ ﴾ ’’اور نکال ڈالیں گے ہم ان کے سینوں سے کینہ‘‘ پس ان کے دل ہر قسم کے کینہ اور حسد سے سلامت، پاک صاف اور آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے ﴿ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ﴾ ’’وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان کے آپس میں ایک دوسرے کی زیارت کرنے، ان کو اکٹھے ہونے اور ان کے آپس میں حسن ادب پر دلالت کرتی ہے نیز یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ جنت میں ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر نہیں بلکہ سجے تختوں پر تکیے لگا کر، موتی اور مختلف قسم کے جواہرات جڑے ہوئے بچھونوں پر، ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔
[48]﴿ لَا يَمَسُّهُمۡ فِيۡهَا نَصَبٌ ﴾ ’’نہیں پہنچے گی وہاں ان کو کوئی تھکاوٹ‘‘ انھیں ظاہری تھکاوٹ لاحق ہو گی نہ باطنی اور یہ اس وجہ سے ہو گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھیں ایسی حیات کاملہ سے نوازا ہو گا جو آفات کا اثر قبول نہیں کرے گی۔ ﴿ وَّمَا هُمۡ مِّؔنۡهَا بِمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ کسی بھی وقت جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔
[49] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فیصلوں ، یعنی جنت اور جہنم کا ذکر فرمانے کے بعد، جو ترغیب و ترہیب کا موجب ہیں ، اپنے ان اوصاف کا ذکر فرمایا جو جنت و جہنم کے موجب ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ نَبِّئۡ عِبَادِيۡۤ ﴾ ’’میرے بندوں کو بتادو۔‘‘ یعنی میرے بندوں کو نہایت جزم کے ساتھ خبر دیجیے جس کی تائید دلائل کرتے ہوں کہ ﴿ اَنِّيۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’میں بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہوں ۔‘‘ کیونکہ جب بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ اور اس کی مغفرت کی معرفت حاصل کر لیں گے تو ان اسباب کے حصول میں کوشاں ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ تک پہنچاتے ہیں ، گناہوں کے ارتکاب سے رک کر ان سے توبہ کریں گے تاکہ وہ اس کی مغفرت کے مستحق قرار پائیں۔
[50] اور وہ امید کے اس حال تک نہ پہنچ جائیں کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے مامون سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے بارے میں جرأت کا رویہ رکھیں ۔ نیز انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیجیے! ﴿ وَاَنَّ عَذَابِيۡ هُوَ الۡعَذَابُ الۡاَلِيۡمُ ﴾ ’’میرا عذاب، وہ دردناک عذاب ہے‘‘ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سوا دوسرا عذاب کوئی عذاب ہی نہیں ، اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوئی اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کی کنہ تک پہنچا جا سکتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں کیونکہ جب انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو گی کہ ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ۰۰وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ ﴾(الفجر:89؍25۔26) ’’اس روز نہ کوئی اللہ کے عذاب کی مانند کوئی عذاب دے گا اور نہ اللہ کی گرفت کی مانند کوئی گرفت کر سکے گا۔‘‘ تب وہ ڈریں گے اور ہر اس سبب سے دور رہیں گے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا موجب بنتا ہے۔ بندۂ مومن کے لائق یہی ہے کہ اس کا قلب دائمی طور پر خوف اور امید، رغبت اور رہبت کے درمیان رہے۔ جب بندہ اپنے رب کی بے پایاں رحمت، اس کی مغفرت اور اس کے جود و احسان کی طرف نظر کرے تو اس کا قلب امید اور رغبت سے لبریز ہو جائے اور جب وہ اپنے گناہوں اور اپنے رب کے حقوق کے بارے میں اپنی تقصیر پر نظر ڈالے تو اس کے دل میں خوف اور رہبت پیدا ہو اور وہ گناہوں کو چھوڑ دے۔
15:48لَا يَمَسُّهُمۡ فِيهَا نَصَبٞ وَمَا هُم مِّنۡهَا بِمُخۡرَجِينَ
بے شک متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے (45)(انھیں کہا جائے گا) داخل ہو جاؤ تم ان میں ساتھ سلامتی کے، با امن (46) اور نکال دیں گے ہم جو کچھ ان کے سینوں میں ہو گا (باہم) کینہ، وہ بھائی بھائی ہوں گے، اوپر تختوں کے آمنے سامنے (بیٹھے ہوئے)(47) نہیں چھوئے گی انھیں ان (باغات) میں کوئی تھکاوٹ اور نہ وہ ان سے نکالے ہی جائیں گے (48)(اے پیغمبر!) خبر دے دیجیے میرے بندوں کو کہ یقینا میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے ولاہوں (49) اور بلاشبہ عذاب میرا ، وہی عذاب ہے بڑا درد ناک (50)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں اس کے دشمنوں یعنی ابلیس کے پیروکارں کو کیا سخت عذاب اور سزا دی جائے گی وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کو کس فضل عظیم اوردائمی نعمتوں سے نوازے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیزگار‘‘ جو شیطان کی اطاعت، اس کے وسوسوں ، گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ ﴾ ’’باغات اور چشموں میں ہوں گے‘‘ جن میں درختوں کی تمام اقسام ہوں گی اور اس میں ہر وقت اور ہر قسم کے پکے ہوئے پھل ہوں گے۔
[46] جنت میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا جائے گا ﴿اُدۡخُلُوۡهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’داخل ہو جاؤ اس میں سلامتی سے ہر نقصان سے محفوظ‘‘ یعنی موت، نیند، تھکن سے، وہاں حاصل نعمتوں میں سے کسی نعمت کے منقطع ہونے یا ان میں کمی واقع ہونے سے، بیماری، حزن و غم اور دیگر تمام کدورتوں سے مامون و محفوظ۔
[47]﴿ وَنَزَعۡنَا مَا فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ ﴾ ’’اور نکال ڈالیں گے ہم ان کے سینوں سے کینہ‘‘ پس ان کے دل ہر قسم کے کینہ اور حسد سے سلامت، پاک صاف اور آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے ﴿ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ﴾ ’’وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان کے آپس میں ایک دوسرے کی زیارت کرنے، ان کو اکٹھے ہونے اور ان کے آپس میں حسن ادب پر دلالت کرتی ہے نیز یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ جنت میں ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر نہیں بلکہ سجے تختوں پر تکیے لگا کر، موتی اور مختلف قسم کے جواہرات جڑے ہوئے بچھونوں پر، ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔
[48]﴿ لَا يَمَسُّهُمۡ فِيۡهَا نَصَبٌ ﴾ ’’نہیں پہنچے گی وہاں ان کو کوئی تھکاوٹ‘‘ انھیں ظاہری تھکاوٹ لاحق ہو گی نہ باطنی اور یہ اس وجہ سے ہو گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھیں ایسی حیات کاملہ سے نوازا ہو گا جو آفات کا اثر قبول نہیں کرے گی۔ ﴿ وَّمَا هُمۡ مِّؔنۡهَا بِمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ کسی بھی وقت جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔
[49] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فیصلوں ، یعنی جنت اور جہنم کا ذکر فرمانے کے بعد، جو ترغیب و ترہیب کا موجب ہیں ، اپنے ان اوصاف کا ذکر فرمایا جو جنت و جہنم کے موجب ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ نَبِّئۡ عِبَادِيۡۤ ﴾ ’’میرے بندوں کو بتادو۔‘‘ یعنی میرے بندوں کو نہایت جزم کے ساتھ خبر دیجیے جس کی تائید دلائل کرتے ہوں کہ ﴿ اَنِّيۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’میں بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہوں ۔‘‘ کیونکہ جب بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ اور اس کی مغفرت کی معرفت حاصل کر لیں گے تو ان اسباب کے حصول میں کوشاں ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ تک پہنچاتے ہیں ، گناہوں کے ارتکاب سے رک کر ان سے توبہ کریں گے تاکہ وہ اس کی مغفرت کے مستحق قرار پائیں۔
[50] اور وہ امید کے اس حال تک نہ پہنچ جائیں کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے مامون سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے بارے میں جرأت کا رویہ رکھیں ۔ نیز انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیجیے! ﴿ وَاَنَّ عَذَابِيۡ هُوَ الۡعَذَابُ الۡاَلِيۡمُ ﴾ ’’میرا عذاب، وہ دردناک عذاب ہے‘‘ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سوا دوسرا عذاب کوئی عذاب ہی نہیں ، اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوئی اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کی کنہ تک پہنچا جا سکتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں کیونکہ جب انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو گی کہ ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ۰۰وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ ﴾(الفجر:89؍25۔26) ’’اس روز نہ کوئی اللہ کے عذاب کی مانند کوئی عذاب دے گا اور نہ اللہ کی گرفت کی مانند کوئی گرفت کر سکے گا۔‘‘ تب وہ ڈریں گے اور ہر اس سبب سے دور رہیں گے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا موجب بنتا ہے۔ بندۂ مومن کے لائق یہی ہے کہ اس کا قلب دائمی طور پر خوف اور امید، رغبت اور رہبت کے درمیان رہے۔ جب بندہ اپنے رب کی بے پایاں رحمت، اس کی مغفرت اور اس کے جود و احسان کی طرف نظر کرے تو اس کا قلب امید اور رغبت سے لبریز ہو جائے اور جب وہ اپنے گناہوں اور اپنے رب کے حقوق کے بارے میں اپنی تقصیر پر نظر ڈالے تو اس کے دل میں خوف اور رہبت پیدا ہو اور وہ گناہوں کو چھوڑ دے۔
15:49۞نَبِّئۡ عِبَادِيٓ أَنِّيٓ أَنَا ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
بے شک متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے (45)(انھیں کہا جائے گا) داخل ہو جاؤ تم ان میں ساتھ سلامتی کے، با امن (46) اور نکال دیں گے ہم جو کچھ ان کے سینوں میں ہو گا (باہم) کینہ، وہ بھائی بھائی ہوں گے، اوپر تختوں کے آمنے سامنے (بیٹھے ہوئے)(47) نہیں چھوئے گی انھیں ان (باغات) میں کوئی تھکاوٹ اور نہ وہ ان سے نکالے ہی جائیں گے (48)(اے پیغمبر!) خبر دے دیجیے میرے بندوں کو کہ یقینا میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے ولاہوں (49) اور بلاشبہ عذاب میرا ، وہی عذاب ہے بڑا درد ناک (50)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں اس کے دشمنوں یعنی ابلیس کے پیروکارں کو کیا سخت عذاب اور سزا دی جائے گی وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کو کس فضل عظیم اوردائمی نعمتوں سے نوازے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیزگار‘‘ جو شیطان کی اطاعت، اس کے وسوسوں ، گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ ﴾ ’’باغات اور چشموں میں ہوں گے‘‘ جن میں درختوں کی تمام اقسام ہوں گی اور اس میں ہر وقت اور ہر قسم کے پکے ہوئے پھل ہوں گے۔
[46] جنت میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا جائے گا ﴿اُدۡخُلُوۡهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’داخل ہو جاؤ اس میں سلامتی سے ہر نقصان سے محفوظ‘‘ یعنی موت، نیند، تھکن سے، وہاں حاصل نعمتوں میں سے کسی نعمت کے منقطع ہونے یا ان میں کمی واقع ہونے سے، بیماری، حزن و غم اور دیگر تمام کدورتوں سے مامون و محفوظ۔
[47]﴿ وَنَزَعۡنَا مَا فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ ﴾ ’’اور نکال ڈالیں گے ہم ان کے سینوں سے کینہ‘‘ پس ان کے دل ہر قسم کے کینہ اور حسد سے سلامت، پاک صاف اور آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے ﴿ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ﴾ ’’وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان کے آپس میں ایک دوسرے کی زیارت کرنے، ان کو اکٹھے ہونے اور ان کے آپس میں حسن ادب پر دلالت کرتی ہے نیز یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ جنت میں ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر نہیں بلکہ سجے تختوں پر تکیے لگا کر، موتی اور مختلف قسم کے جواہرات جڑے ہوئے بچھونوں پر، ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔
[48]﴿ لَا يَمَسُّهُمۡ فِيۡهَا نَصَبٌ ﴾ ’’نہیں پہنچے گی وہاں ان کو کوئی تھکاوٹ‘‘ انھیں ظاہری تھکاوٹ لاحق ہو گی نہ باطنی اور یہ اس وجہ سے ہو گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھیں ایسی حیات کاملہ سے نوازا ہو گا جو آفات کا اثر قبول نہیں کرے گی۔ ﴿ وَّمَا هُمۡ مِّؔنۡهَا بِمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ کسی بھی وقت جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔
[49] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فیصلوں ، یعنی جنت اور جہنم کا ذکر فرمانے کے بعد، جو ترغیب و ترہیب کا موجب ہیں ، اپنے ان اوصاف کا ذکر فرمایا جو جنت و جہنم کے موجب ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ نَبِّئۡ عِبَادِيۡۤ ﴾ ’’میرے بندوں کو بتادو۔‘‘ یعنی میرے بندوں کو نہایت جزم کے ساتھ خبر دیجیے جس کی تائید دلائل کرتے ہوں کہ ﴿ اَنِّيۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’میں بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہوں ۔‘‘ کیونکہ جب بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ اور اس کی مغفرت کی معرفت حاصل کر لیں گے تو ان اسباب کے حصول میں کوشاں ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ تک پہنچاتے ہیں ، گناہوں کے ارتکاب سے رک کر ان سے توبہ کریں گے تاکہ وہ اس کی مغفرت کے مستحق قرار پائیں۔
[50] اور وہ امید کے اس حال تک نہ پہنچ جائیں کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے مامون سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے بارے میں جرأت کا رویہ رکھیں ۔ نیز انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیجیے! ﴿ وَاَنَّ عَذَابِيۡ هُوَ الۡعَذَابُ الۡاَلِيۡمُ ﴾ ’’میرا عذاب، وہ دردناک عذاب ہے‘‘ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سوا دوسرا عذاب کوئی عذاب ہی نہیں ، اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوئی اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کی کنہ تک پہنچا جا سکتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں کیونکہ جب انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو گی کہ ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ۰۰وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ ﴾(الفجر:89؍25۔26) ’’اس روز نہ کوئی اللہ کے عذاب کی مانند کوئی عذاب دے گا اور نہ اللہ کی گرفت کی مانند کوئی گرفت کر سکے گا۔‘‘ تب وہ ڈریں گے اور ہر اس سبب سے دور رہیں گے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا موجب بنتا ہے۔ بندۂ مومن کے لائق یہی ہے کہ اس کا قلب دائمی طور پر خوف اور امید، رغبت اور رہبت کے درمیان رہے۔ جب بندہ اپنے رب کی بے پایاں رحمت، اس کی مغفرت اور اس کے جود و احسان کی طرف نظر کرے تو اس کا قلب امید اور رغبت سے لبریز ہو جائے اور جب وہ اپنے گناہوں اور اپنے رب کے حقوق کے بارے میں اپنی تقصیر پر نظر ڈالے تو اس کے دل میں خوف اور رہبت پیدا ہو اور وہ گناہوں کو چھوڑ دے۔
15:50وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ ٱلۡعَذَابُ ٱلۡأَلِيمُ
بے شک متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے (45)(انھیں کہا جائے گا) داخل ہو جاؤ تم ان میں ساتھ سلامتی کے، با امن (46) اور نکال دیں گے ہم جو کچھ ان کے سینوں میں ہو گا (باہم) کینہ، وہ بھائی بھائی ہوں گے، اوپر تختوں کے آمنے سامنے (بیٹھے ہوئے)(47) نہیں چھوئے گی انھیں ان (باغات) میں کوئی تھکاوٹ اور نہ وہ ان سے نکالے ہی جائیں گے (48)(اے پیغمبر!) خبر دے دیجیے میرے بندوں کو کہ یقینا میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے ولاہوں (49) اور بلاشبہ عذاب میرا ، وہی عذاب ہے بڑا درد ناک (50)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں اس کے دشمنوں یعنی ابلیس کے پیروکارں کو کیا سخت عذاب اور سزا دی جائے گی وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کو کس فضل عظیم اوردائمی نعمتوں سے نوازے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیزگار‘‘ جو شیطان کی اطاعت، اس کے وسوسوں ، گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ ﴾ ’’باغات اور چشموں میں ہوں گے‘‘ جن میں درختوں کی تمام اقسام ہوں گی اور اس میں ہر وقت اور ہر قسم کے پکے ہوئے پھل ہوں گے۔
[46] جنت میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا جائے گا ﴿اُدۡخُلُوۡهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’داخل ہو جاؤ اس میں سلامتی سے ہر نقصان سے محفوظ‘‘ یعنی موت، نیند، تھکن سے، وہاں حاصل نعمتوں میں سے کسی نعمت کے منقطع ہونے یا ان میں کمی واقع ہونے سے، بیماری، حزن و غم اور دیگر تمام کدورتوں سے مامون و محفوظ۔
[47]﴿ وَنَزَعۡنَا مَا فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ ﴾ ’’اور نکال ڈالیں گے ہم ان کے سینوں سے کینہ‘‘ پس ان کے دل ہر قسم کے کینہ اور حسد سے سلامت، پاک صاف اور آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے ﴿ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ﴾ ’’وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان کے آپس میں ایک دوسرے کی زیارت کرنے، ان کو اکٹھے ہونے اور ان کے آپس میں حسن ادب پر دلالت کرتی ہے نیز یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ جنت میں ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر نہیں بلکہ سجے تختوں پر تکیے لگا کر، موتی اور مختلف قسم کے جواہرات جڑے ہوئے بچھونوں پر، ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔
[48]﴿ لَا يَمَسُّهُمۡ فِيۡهَا نَصَبٌ ﴾ ’’نہیں پہنچے گی وہاں ان کو کوئی تھکاوٹ‘‘ انھیں ظاہری تھکاوٹ لاحق ہو گی نہ باطنی اور یہ اس وجہ سے ہو گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھیں ایسی حیات کاملہ سے نوازا ہو گا جو آفات کا اثر قبول نہیں کرے گی۔ ﴿ وَّمَا هُمۡ مِّؔنۡهَا بِمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ کسی بھی وقت جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔
[49] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فیصلوں ، یعنی جنت اور جہنم کا ذکر فرمانے کے بعد، جو ترغیب و ترہیب کا موجب ہیں ، اپنے ان اوصاف کا ذکر فرمایا جو جنت و جہنم کے موجب ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ نَبِّئۡ عِبَادِيۡۤ ﴾ ’’میرے بندوں کو بتادو۔‘‘ یعنی میرے بندوں کو نہایت جزم کے ساتھ خبر دیجیے جس کی تائید دلائل کرتے ہوں کہ ﴿ اَنِّيۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’میں بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہوں ۔‘‘ کیونکہ جب بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ اور اس کی مغفرت کی معرفت حاصل کر لیں گے تو ان اسباب کے حصول میں کوشاں ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ تک پہنچاتے ہیں ، گناہوں کے ارتکاب سے رک کر ان سے توبہ کریں گے تاکہ وہ اس کی مغفرت کے مستحق قرار پائیں۔
[50] اور وہ امید کے اس حال تک نہ پہنچ جائیں کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے مامون سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے بارے میں جرأت کا رویہ رکھیں ۔ نیز انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیجیے! ﴿ وَاَنَّ عَذَابِيۡ هُوَ الۡعَذَابُ الۡاَلِيۡمُ ﴾ ’’میرا عذاب، وہ دردناک عذاب ہے‘‘ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سوا دوسرا عذاب کوئی عذاب ہی نہیں ، اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوئی اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کی کنہ تک پہنچا جا سکتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں کیونکہ جب انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو گی کہ ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ۰۰وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ ﴾(الفجر:89؍25۔26) ’’اس روز نہ کوئی اللہ کے عذاب کی مانند کوئی عذاب دے گا اور نہ اللہ کی گرفت کی مانند کوئی گرفت کر سکے گا۔‘‘ تب وہ ڈریں گے اور ہر اس سبب سے دور رہیں گے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا موجب بنتا ہے۔ بندۂ مومن کے لائق یہی ہے کہ اس کا قلب دائمی طور پر خوف اور امید، رغبت اور رہبت کے درمیان رہے۔ جب بندہ اپنے رب کی بے پایاں رحمت، اس کی مغفرت اور اس کے جود و احسان کی طرف نظر کرے تو اس کا قلب امید اور رغبت سے لبریز ہو جائے اور جب وہ اپنے گناہوں اور اپنے رب کے حقوق کے بارے میں اپنی تقصیر پر نظر ڈالے تو اس کے دل میں خوف اور رہبت پیدا ہو اور وہ گناہوں کو چھوڑ دے۔
15:51وَنَبِّئۡهُمۡ عَن ضَيۡفِ إِبۡرَٰهِيمَ
اور خبر دیجیے انھیں مہمانوں کی بابت ابراہیم کے (51) جس وقت داخل ہوئے وہ اس پر تو کہا انھوں نے، سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، تحقیق ہم تو تم سے ڈرتے ہیں (52) انھوں نے کہا، نہ ڈر تو، بلاشبہ ہم تو خوش خبری دیتے ہیں تجھے ایک لڑکے علم والے کی (53) ابراہیم نے کہا، کیا تم خوشخبری دیتے ہو مجھے باوجود اس کے کہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپا؟ سو (اب) کس چیز کی خوشخبری دیتے ہو تم؟ (54)انھوں نے کہا، ہم بشارت دیتے ہیں تجھے حق (امر واقعی) کی پس نہ ہو تو ناامیدوں میں سے (55)ابراہیم نے کہااور وہ کون ناامید ہوتا ہے رحمت سے اپنے رب کی سوائے گمراہوں کے؟ (56)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَنَبِّئۡهُمۡ عَنۡ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ ’’ان کو ابراہیم کے مہمانوں کی بابت خبر دیں ‘‘ یعنی اس عجیب قصے کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے کیونکہ آپ کے ان کے سامنے انبیاء کرام کے قصے اور ان کے حالات بیان کرنے سے، ان کو عبرت حاصل ہو گی اور وہ ان کی پیروی کریں گے… خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ابراہیم خلیلu کا قصہ، جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کی ملت کی پیروی کریں ۔ حضرت ابراہیمu کے مہمانوں سے مراد وہ مکرم فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کا مہمان بنا کر ان کو اعزاز بخشا۔
[52]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’جب وہ آئے ان کے گھر میں تو کہا سلام‘‘ یعنی انھوں نے ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیا اور کہا ﴿ قَالَ اِنَّا مِنۡكُمۡ وَجِلُوۡنَ ﴾ ’’ہم تم لوگوں سے خائف ہیں ۔‘‘ اور خوف زدہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس آئے تو آپ نے ان کو مہمان سمجھا اور آپ جلدی سے گھر گئے اور ان کی مہمان نوازی کے لیے بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ جب آپ نے دیکھا کہ مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ نے ان کو چور وغیرہ سمجھا اور خوف زدہ ہو گئے۔﴿ قَالُوۡا﴾ فرشتوں نے ان سے کہا:
[53]﴿ لَا تَوۡجَلۡ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’ڈریں مت، ہم آپ کو ایک سمجھ دار لڑکے کی خوش خبری سناتے ہیں ‘‘ یہاں لڑکے سے مراد اسحاقu ہیں ۔ یہ بشارت اس بات کو متضمن ہے کہ وہ بچہ جس کی خوشخبری دی گئی تھی، لڑکا تھا، لڑکی نہ تھا، یہاں ’’علیم‘‘ سے مراد ہے ’’کثیر العلم‘‘ (بہت علم و فہم والا) ایک اور آیت کریمہ میں یوں آتا ہے ﴿ وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾(الصافات:37؍ 112) ’’اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی کہ وہ نبی اور صالح لوگوں میں سے ہوں گے۔‘‘
[54] ابراہیمu نے اس خوش خبری پر متعجب ہو کر کہا ﴿ اَبَشَّرۡتُمُوۡنِيۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے (بیٹے کی) خوشخبری دیتے ہو۔‘‘ ﴿ عَلٰۤى اَنۡ مَّسَّنِيَ الۡكِبَرُ ﴾ ’’جبکہ پہنچ چکا مجھ کو بڑھاپا‘‘ بنابریں وہ اولاد ہونے کے بارے میں ایک قسم کی مایوسی سے دوچار تھے ﴿ فَبِمَ تُبَشِّرُوۡنَ ﴾ ’’پس کس وجہ سے تم مجھے خوشخبری دیتے ہو؟‘‘ حالانکہ اولاد ہونے کے اسباب تو معدوم ہو چکے ہیں ۔
[55]﴿ قَالُوۡا بَشَّرۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم نے آپ کو سچی خوش خبری سنائی ہے‘‘ جس میں کوئی شک و شبہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے خاص طور پر… اے نبوت کے گھر والو! تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہیں … تمھیں تو اللہ کے فضل و احسان کو نادر و ناممکن نہیں سمجھنا چاہیے۔ ﴿ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡقٰنِطِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ ناامیدوں میں سے نہ ہوں ‘‘ یعنی آپ ان لوگوں میں سے نہ ہو جائیں جو بھلائی کے وجود کو مستبعد سمجھتے ہیں ۔ بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی عنایات و احسان کے امیدوار رہیے۔
[56] ابراہیمu نے جواب میں فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔقۡنَطُ مِنۡ رَّحۡمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوۡنَ ﴾ ’’رب کی رحمت سے ناامید گمراہ لوگ ہی ہوتے ہیں ‘‘ جو اپنے رب اور اس کی قدرت کاملہ سے لاعلم ہیں لیکن جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور علم عظیم سے نواز رکھا ہو، مایوسی اس تک راہ نہیں پا سکتی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لیے اسباب و وسائل اور طریقوں کی کثرت کو خوب جانتا ہے، پھر جب فرشتوں نے حضرت ابراہیمu کو بیٹے کی بشارت دی تو انھوں نے جان لیا کہ ان کو نہایت اہم کام پر بھیجا گیا ہے۔
15:52إِذۡ دَخَلُواْ عَلَيۡهِ فَقَالُواْ سَلَٰمٗا قَالَ إِنَّا مِنكُمۡ وَجِلُونَ
اور خبر دیجیے انھیں مہمانوں کی بابت ابراہیم کے (51) جس وقت داخل ہوئے وہ اس پر تو کہا انھوں نے، سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، تحقیق ہم تو تم سے ڈرتے ہیں (52) انھوں نے کہا، نہ ڈر تو، بلاشبہ ہم تو خوش خبری دیتے ہیں تجھے ایک لڑکے علم والے کی (53) ابراہیم نے کہا، کیا تم خوشخبری دیتے ہو مجھے باوجود اس کے کہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپا؟ سو (اب) کس چیز کی خوشخبری دیتے ہو تم؟ (54)انھوں نے کہا، ہم بشارت دیتے ہیں تجھے حق (امر واقعی) کی پس نہ ہو تو ناامیدوں میں سے (55)ابراہیم نے کہااور وہ کون ناامید ہوتا ہے رحمت سے اپنے رب کی سوائے گمراہوں کے؟ (56)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَنَبِّئۡهُمۡ عَنۡ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ ’’ان کو ابراہیم کے مہمانوں کی بابت خبر دیں ‘‘ یعنی اس عجیب قصے کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے کیونکہ آپ کے ان کے سامنے انبیاء کرام کے قصے اور ان کے حالات بیان کرنے سے، ان کو عبرت حاصل ہو گی اور وہ ان کی پیروی کریں گے… خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ابراہیم خلیلu کا قصہ، جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کی ملت کی پیروی کریں ۔ حضرت ابراہیمu کے مہمانوں سے مراد وہ مکرم فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کا مہمان بنا کر ان کو اعزاز بخشا۔
[52]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’جب وہ آئے ان کے گھر میں تو کہا سلام‘‘ یعنی انھوں نے ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیا اور کہا ﴿ قَالَ اِنَّا مِنۡكُمۡ وَجِلُوۡنَ ﴾ ’’ہم تم لوگوں سے خائف ہیں ۔‘‘ اور خوف زدہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس آئے تو آپ نے ان کو مہمان سمجھا اور آپ جلدی سے گھر گئے اور ان کی مہمان نوازی کے لیے بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ جب آپ نے دیکھا کہ مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ نے ان کو چور وغیرہ سمجھا اور خوف زدہ ہو گئے۔﴿ قَالُوۡا﴾ فرشتوں نے ان سے کہا:
[53]﴿ لَا تَوۡجَلۡ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’ڈریں مت، ہم آپ کو ایک سمجھ دار لڑکے کی خوش خبری سناتے ہیں ‘‘ یہاں لڑکے سے مراد اسحاقu ہیں ۔ یہ بشارت اس بات کو متضمن ہے کہ وہ بچہ جس کی خوشخبری دی گئی تھی، لڑکا تھا، لڑکی نہ تھا، یہاں ’’علیم‘‘ سے مراد ہے ’’کثیر العلم‘‘ (بہت علم و فہم والا) ایک اور آیت کریمہ میں یوں آتا ہے ﴿ وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾(الصافات:37؍ 112) ’’اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی کہ وہ نبی اور صالح لوگوں میں سے ہوں گے۔‘‘
[54] ابراہیمu نے اس خوش خبری پر متعجب ہو کر کہا ﴿ اَبَشَّرۡتُمُوۡنِيۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے (بیٹے کی) خوشخبری دیتے ہو۔‘‘ ﴿ عَلٰۤى اَنۡ مَّسَّنِيَ الۡكِبَرُ ﴾ ’’جبکہ پہنچ چکا مجھ کو بڑھاپا‘‘ بنابریں وہ اولاد ہونے کے بارے میں ایک قسم کی مایوسی سے دوچار تھے ﴿ فَبِمَ تُبَشِّرُوۡنَ ﴾ ’’پس کس وجہ سے تم مجھے خوشخبری دیتے ہو؟‘‘ حالانکہ اولاد ہونے کے اسباب تو معدوم ہو چکے ہیں ۔
[55]﴿ قَالُوۡا بَشَّرۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم نے آپ کو سچی خوش خبری سنائی ہے‘‘ جس میں کوئی شک و شبہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے خاص طور پر… اے نبوت کے گھر والو! تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہیں … تمھیں تو اللہ کے فضل و احسان کو نادر و ناممکن نہیں سمجھنا چاہیے۔ ﴿ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡقٰنِطِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ ناامیدوں میں سے نہ ہوں ‘‘ یعنی آپ ان لوگوں میں سے نہ ہو جائیں جو بھلائی کے وجود کو مستبعد سمجھتے ہیں ۔ بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی عنایات و احسان کے امیدوار رہیے۔
[56] ابراہیمu نے جواب میں فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔقۡنَطُ مِنۡ رَّحۡمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوۡنَ ﴾ ’’رب کی رحمت سے ناامید گمراہ لوگ ہی ہوتے ہیں ‘‘ جو اپنے رب اور اس کی قدرت کاملہ سے لاعلم ہیں لیکن جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور علم عظیم سے نواز رکھا ہو، مایوسی اس تک راہ نہیں پا سکتی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لیے اسباب و وسائل اور طریقوں کی کثرت کو خوب جانتا ہے، پھر جب فرشتوں نے حضرت ابراہیمu کو بیٹے کی بشارت دی تو انھوں نے جان لیا کہ ان کو نہایت اہم کام پر بھیجا گیا ہے۔
15:53قَالُواْ لَا تَوۡجَلۡ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَٰمٍ عَلِيمٖ
اور خبر دیجیے انھیں مہمانوں کی بابت ابراہیم کے (51) جس وقت داخل ہوئے وہ اس پر تو کہا انھوں نے، سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، تحقیق ہم تو تم سے ڈرتے ہیں (52) انھوں نے کہا، نہ ڈر تو، بلاشبہ ہم تو خوش خبری دیتے ہیں تجھے ایک لڑکے علم والے کی (53) ابراہیم نے کہا، کیا تم خوشخبری دیتے ہو مجھے باوجود اس کے کہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپا؟ سو (اب) کس چیز کی خوشخبری دیتے ہو تم؟ (54)انھوں نے کہا، ہم بشارت دیتے ہیں تجھے حق (امر واقعی) کی پس نہ ہو تو ناامیدوں میں سے (55)ابراہیم نے کہااور وہ کون ناامید ہوتا ہے رحمت سے اپنے رب کی سوائے گمراہوں کے؟ (56)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَنَبِّئۡهُمۡ عَنۡ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ ’’ان کو ابراہیم کے مہمانوں کی بابت خبر دیں ‘‘ یعنی اس عجیب قصے کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے کیونکہ آپ کے ان کے سامنے انبیاء کرام کے قصے اور ان کے حالات بیان کرنے سے، ان کو عبرت حاصل ہو گی اور وہ ان کی پیروی کریں گے… خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ابراہیم خلیلu کا قصہ، جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کی ملت کی پیروی کریں ۔ حضرت ابراہیمu کے مہمانوں سے مراد وہ مکرم فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کا مہمان بنا کر ان کو اعزاز بخشا۔
[52]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’جب وہ آئے ان کے گھر میں تو کہا سلام‘‘ یعنی انھوں نے ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیا اور کہا ﴿ قَالَ اِنَّا مِنۡكُمۡ وَجِلُوۡنَ ﴾ ’’ہم تم لوگوں سے خائف ہیں ۔‘‘ اور خوف زدہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس آئے تو آپ نے ان کو مہمان سمجھا اور آپ جلدی سے گھر گئے اور ان کی مہمان نوازی کے لیے بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ جب آپ نے دیکھا کہ مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ نے ان کو چور وغیرہ سمجھا اور خوف زدہ ہو گئے۔﴿ قَالُوۡا﴾ فرشتوں نے ان سے کہا:
[53]﴿ لَا تَوۡجَلۡ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’ڈریں مت، ہم آپ کو ایک سمجھ دار لڑکے کی خوش خبری سناتے ہیں ‘‘ یہاں لڑکے سے مراد اسحاقu ہیں ۔ یہ بشارت اس بات کو متضمن ہے کہ وہ بچہ جس کی خوشخبری دی گئی تھی، لڑکا تھا، لڑکی نہ تھا، یہاں ’’علیم‘‘ سے مراد ہے ’’کثیر العلم‘‘ (بہت علم و فہم والا) ایک اور آیت کریمہ میں یوں آتا ہے ﴿ وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾(الصافات:37؍ 112) ’’اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی کہ وہ نبی اور صالح لوگوں میں سے ہوں گے۔‘‘
[54] ابراہیمu نے اس خوش خبری پر متعجب ہو کر کہا ﴿ اَبَشَّرۡتُمُوۡنِيۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے (بیٹے کی) خوشخبری دیتے ہو۔‘‘ ﴿ عَلٰۤى اَنۡ مَّسَّنِيَ الۡكِبَرُ ﴾ ’’جبکہ پہنچ چکا مجھ کو بڑھاپا‘‘ بنابریں وہ اولاد ہونے کے بارے میں ایک قسم کی مایوسی سے دوچار تھے ﴿ فَبِمَ تُبَشِّرُوۡنَ ﴾ ’’پس کس وجہ سے تم مجھے خوشخبری دیتے ہو؟‘‘ حالانکہ اولاد ہونے کے اسباب تو معدوم ہو چکے ہیں ۔
[55]﴿ قَالُوۡا بَشَّرۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم نے آپ کو سچی خوش خبری سنائی ہے‘‘ جس میں کوئی شک و شبہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے خاص طور پر… اے نبوت کے گھر والو! تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہیں … تمھیں تو اللہ کے فضل و احسان کو نادر و ناممکن نہیں سمجھنا چاہیے۔ ﴿ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡقٰنِطِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ ناامیدوں میں سے نہ ہوں ‘‘ یعنی آپ ان لوگوں میں سے نہ ہو جائیں جو بھلائی کے وجود کو مستبعد سمجھتے ہیں ۔ بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی عنایات و احسان کے امیدوار رہیے۔
[56] ابراہیمu نے جواب میں فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔقۡنَطُ مِنۡ رَّحۡمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوۡنَ ﴾ ’’رب کی رحمت سے ناامید گمراہ لوگ ہی ہوتے ہیں ‘‘ جو اپنے رب اور اس کی قدرت کاملہ سے لاعلم ہیں لیکن جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور علم عظیم سے نواز رکھا ہو، مایوسی اس تک راہ نہیں پا سکتی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لیے اسباب و وسائل اور طریقوں کی کثرت کو خوب جانتا ہے، پھر جب فرشتوں نے حضرت ابراہیمu کو بیٹے کی بشارت دی تو انھوں نے جان لیا کہ ان کو نہایت اہم کام پر بھیجا گیا ہے۔
15:54قَالَ أَبَشَّرۡتُمُونِي عَلَىٰٓ أَن مَّسَّنِيَ ٱلۡكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ
اور خبر دیجیے انھیں مہمانوں کی بابت ابراہیم کے (51) جس وقت داخل ہوئے وہ اس پر تو کہا انھوں نے، سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، تحقیق ہم تو تم سے ڈرتے ہیں (52) انھوں نے کہا، نہ ڈر تو، بلاشبہ ہم تو خوش خبری دیتے ہیں تجھے ایک لڑکے علم والے کی (53) ابراہیم نے کہا، کیا تم خوشخبری دیتے ہو مجھے باوجود اس کے کہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپا؟ سو (اب) کس چیز کی خوشخبری دیتے ہو تم؟ (54)انھوں نے کہا، ہم بشارت دیتے ہیں تجھے حق (امر واقعی) کی پس نہ ہو تو ناامیدوں میں سے (55)ابراہیم نے کہااور وہ کون ناامید ہوتا ہے رحمت سے اپنے رب کی سوائے گمراہوں کے؟ (56)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَنَبِّئۡهُمۡ عَنۡ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ ’’ان کو ابراہیم کے مہمانوں کی بابت خبر دیں ‘‘ یعنی اس عجیب قصے کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے کیونکہ آپ کے ان کے سامنے انبیاء کرام کے قصے اور ان کے حالات بیان کرنے سے، ان کو عبرت حاصل ہو گی اور وہ ان کی پیروی کریں گے… خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ابراہیم خلیلu کا قصہ، جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کی ملت کی پیروی کریں ۔ حضرت ابراہیمu کے مہمانوں سے مراد وہ مکرم فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کا مہمان بنا کر ان کو اعزاز بخشا۔
[52]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’جب وہ آئے ان کے گھر میں تو کہا سلام‘‘ یعنی انھوں نے ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیا اور کہا ﴿ قَالَ اِنَّا مِنۡكُمۡ وَجِلُوۡنَ ﴾ ’’ہم تم لوگوں سے خائف ہیں ۔‘‘ اور خوف زدہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس آئے تو آپ نے ان کو مہمان سمجھا اور آپ جلدی سے گھر گئے اور ان کی مہمان نوازی کے لیے بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ جب آپ نے دیکھا کہ مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ نے ان کو چور وغیرہ سمجھا اور خوف زدہ ہو گئے۔﴿ قَالُوۡا﴾ فرشتوں نے ان سے کہا:
[53]﴿ لَا تَوۡجَلۡ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’ڈریں مت، ہم آپ کو ایک سمجھ دار لڑکے کی خوش خبری سناتے ہیں ‘‘ یہاں لڑکے سے مراد اسحاقu ہیں ۔ یہ بشارت اس بات کو متضمن ہے کہ وہ بچہ جس کی خوشخبری دی گئی تھی، لڑکا تھا، لڑکی نہ تھا، یہاں ’’علیم‘‘ سے مراد ہے ’’کثیر العلم‘‘ (بہت علم و فہم والا) ایک اور آیت کریمہ میں یوں آتا ہے ﴿ وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾(الصافات:37؍ 112) ’’اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی کہ وہ نبی اور صالح لوگوں میں سے ہوں گے۔‘‘
[54] ابراہیمu نے اس خوش خبری پر متعجب ہو کر کہا ﴿ اَبَشَّرۡتُمُوۡنِيۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے (بیٹے کی) خوشخبری دیتے ہو۔‘‘ ﴿ عَلٰۤى اَنۡ مَّسَّنِيَ الۡكِبَرُ ﴾ ’’جبکہ پہنچ چکا مجھ کو بڑھاپا‘‘ بنابریں وہ اولاد ہونے کے بارے میں ایک قسم کی مایوسی سے دوچار تھے ﴿ فَبِمَ تُبَشِّرُوۡنَ ﴾ ’’پس کس وجہ سے تم مجھے خوشخبری دیتے ہو؟‘‘ حالانکہ اولاد ہونے کے اسباب تو معدوم ہو چکے ہیں ۔
[55]﴿ قَالُوۡا بَشَّرۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم نے آپ کو سچی خوش خبری سنائی ہے‘‘ جس میں کوئی شک و شبہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے خاص طور پر… اے نبوت کے گھر والو! تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہیں … تمھیں تو اللہ کے فضل و احسان کو نادر و ناممکن نہیں سمجھنا چاہیے۔ ﴿ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡقٰنِطِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ ناامیدوں میں سے نہ ہوں ‘‘ یعنی آپ ان لوگوں میں سے نہ ہو جائیں جو بھلائی کے وجود کو مستبعد سمجھتے ہیں ۔ بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی عنایات و احسان کے امیدوار رہیے۔
[56] ابراہیمu نے جواب میں فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔقۡنَطُ مِنۡ رَّحۡمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوۡنَ ﴾ ’’رب کی رحمت سے ناامید گمراہ لوگ ہی ہوتے ہیں ‘‘ جو اپنے رب اور اس کی قدرت کاملہ سے لاعلم ہیں لیکن جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور علم عظیم سے نواز رکھا ہو، مایوسی اس تک راہ نہیں پا سکتی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لیے اسباب و وسائل اور طریقوں کی کثرت کو خوب جانتا ہے، پھر جب فرشتوں نے حضرت ابراہیمu کو بیٹے کی بشارت دی تو انھوں نے جان لیا کہ ان کو نہایت اہم کام پر بھیجا گیا ہے۔
15:55قَالُواْ بَشَّرۡنَٰكَ بِٱلۡحَقِّ فَلَا تَكُن مِّنَ ٱلۡقَٰنِطِينَ
اور خبر دیجیے انھیں مہمانوں کی بابت ابراہیم کے (51) جس وقت داخل ہوئے وہ اس پر تو کہا انھوں نے، سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، تحقیق ہم تو تم سے ڈرتے ہیں (52) انھوں نے کہا، نہ ڈر تو، بلاشبہ ہم تو خوش خبری دیتے ہیں تجھے ایک لڑکے علم والے کی (53) ابراہیم نے کہا، کیا تم خوشخبری دیتے ہو مجھے باوجود اس کے کہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپا؟ سو (اب) کس چیز کی خوشخبری دیتے ہو تم؟ (54)انھوں نے کہا، ہم بشارت دیتے ہیں تجھے حق (امر واقعی) کی پس نہ ہو تو ناامیدوں میں سے (55)ابراہیم نے کہااور وہ کون ناامید ہوتا ہے رحمت سے اپنے رب کی سوائے گمراہوں کے؟ (56)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَنَبِّئۡهُمۡ عَنۡ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ ’’ان کو ابراہیم کے مہمانوں کی بابت خبر دیں ‘‘ یعنی اس عجیب قصے کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے کیونکہ آپ کے ان کے سامنے انبیاء کرام کے قصے اور ان کے حالات بیان کرنے سے، ان کو عبرت حاصل ہو گی اور وہ ان کی پیروی کریں گے… خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ابراہیم خلیلu کا قصہ، جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کی ملت کی پیروی کریں ۔ حضرت ابراہیمu کے مہمانوں سے مراد وہ مکرم فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کا مہمان بنا کر ان کو اعزاز بخشا۔
[52]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’جب وہ آئے ان کے گھر میں تو کہا سلام‘‘ یعنی انھوں نے ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیا اور کہا ﴿ قَالَ اِنَّا مِنۡكُمۡ وَجِلُوۡنَ ﴾ ’’ہم تم لوگوں سے خائف ہیں ۔‘‘ اور خوف زدہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس آئے تو آپ نے ان کو مہمان سمجھا اور آپ جلدی سے گھر گئے اور ان کی مہمان نوازی کے لیے بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ جب آپ نے دیکھا کہ مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ نے ان کو چور وغیرہ سمجھا اور خوف زدہ ہو گئے۔﴿ قَالُوۡا﴾ فرشتوں نے ان سے کہا:
[53]﴿ لَا تَوۡجَلۡ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’ڈریں مت، ہم آپ کو ایک سمجھ دار لڑکے کی خوش خبری سناتے ہیں ‘‘ یہاں لڑکے سے مراد اسحاقu ہیں ۔ یہ بشارت اس بات کو متضمن ہے کہ وہ بچہ جس کی خوشخبری دی گئی تھی، لڑکا تھا، لڑکی نہ تھا، یہاں ’’علیم‘‘ سے مراد ہے ’’کثیر العلم‘‘ (بہت علم و فہم والا) ایک اور آیت کریمہ میں یوں آتا ہے ﴿ وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾(الصافات:37؍ 112) ’’اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی کہ وہ نبی اور صالح لوگوں میں سے ہوں گے۔‘‘
[54] ابراہیمu نے اس خوش خبری پر متعجب ہو کر کہا ﴿ اَبَشَّرۡتُمُوۡنِيۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے (بیٹے کی) خوشخبری دیتے ہو۔‘‘ ﴿ عَلٰۤى اَنۡ مَّسَّنِيَ الۡكِبَرُ ﴾ ’’جبکہ پہنچ چکا مجھ کو بڑھاپا‘‘ بنابریں وہ اولاد ہونے کے بارے میں ایک قسم کی مایوسی سے دوچار تھے ﴿ فَبِمَ تُبَشِّرُوۡنَ ﴾ ’’پس کس وجہ سے تم مجھے خوشخبری دیتے ہو؟‘‘ حالانکہ اولاد ہونے کے اسباب تو معدوم ہو چکے ہیں ۔
[55]﴿ قَالُوۡا بَشَّرۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم نے آپ کو سچی خوش خبری سنائی ہے‘‘ جس میں کوئی شک و شبہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے خاص طور پر… اے نبوت کے گھر والو! تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہیں … تمھیں تو اللہ کے فضل و احسان کو نادر و ناممکن نہیں سمجھنا چاہیے۔ ﴿ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡقٰنِطِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ ناامیدوں میں سے نہ ہوں ‘‘ یعنی آپ ان لوگوں میں سے نہ ہو جائیں جو بھلائی کے وجود کو مستبعد سمجھتے ہیں ۔ بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی عنایات و احسان کے امیدوار رہیے۔
[56] ابراہیمu نے جواب میں فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔقۡنَطُ مِنۡ رَّحۡمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوۡنَ ﴾ ’’رب کی رحمت سے ناامید گمراہ لوگ ہی ہوتے ہیں ‘‘ جو اپنے رب اور اس کی قدرت کاملہ سے لاعلم ہیں لیکن جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور علم عظیم سے نواز رکھا ہو، مایوسی اس تک راہ نہیں پا سکتی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لیے اسباب و وسائل اور طریقوں کی کثرت کو خوب جانتا ہے، پھر جب فرشتوں نے حضرت ابراہیمu کو بیٹے کی بشارت دی تو انھوں نے جان لیا کہ ان کو نہایت اہم کام پر بھیجا گیا ہے۔
15:56قَالَ وَمَن يَقۡنَطُ مِن رَّحۡمَةِ رَبِّهِۦٓ إِلَّا ٱلضَّآلُّونَ
اور خبر دیجیے انھیں مہمانوں کی بابت ابراہیم کے (51) جس وقت داخل ہوئے وہ اس پر تو کہا انھوں نے، سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، تحقیق ہم تو تم سے ڈرتے ہیں (52) انھوں نے کہا، نہ ڈر تو، بلاشبہ ہم تو خوش خبری دیتے ہیں تجھے ایک لڑکے علم والے کی (53) ابراہیم نے کہا، کیا تم خوشخبری دیتے ہو مجھے باوجود اس کے کہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپا؟ سو (اب) کس چیز کی خوشخبری دیتے ہو تم؟ (54)انھوں نے کہا، ہم بشارت دیتے ہیں تجھے حق (امر واقعی) کی پس نہ ہو تو ناامیدوں میں سے (55)ابراہیم نے کہااور وہ کون ناامید ہوتا ہے رحمت سے اپنے رب کی سوائے گمراہوں کے؟ (56)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَنَبِّئۡهُمۡ عَنۡ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ ’’ان کو ابراہیم کے مہمانوں کی بابت خبر دیں ‘‘ یعنی اس عجیب قصے کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے کیونکہ آپ کے ان کے سامنے انبیاء کرام کے قصے اور ان کے حالات بیان کرنے سے، ان کو عبرت حاصل ہو گی اور وہ ان کی پیروی کریں گے… خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ابراہیم خلیلu کا قصہ، جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کی ملت کی پیروی کریں ۔ حضرت ابراہیمu کے مہمانوں سے مراد وہ مکرم فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کا مہمان بنا کر ان کو اعزاز بخشا۔
[52]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’جب وہ آئے ان کے گھر میں تو کہا سلام‘‘ یعنی انھوں نے ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیا اور کہا ﴿ قَالَ اِنَّا مِنۡكُمۡ وَجِلُوۡنَ ﴾ ’’ہم تم لوگوں سے خائف ہیں ۔‘‘ اور خوف زدہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس آئے تو آپ نے ان کو مہمان سمجھا اور آپ جلدی سے گھر گئے اور ان کی مہمان نوازی کے لیے بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ جب آپ نے دیکھا کہ مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ نے ان کو چور وغیرہ سمجھا اور خوف زدہ ہو گئے۔﴿ قَالُوۡا﴾ فرشتوں نے ان سے کہا:
[53]﴿ لَا تَوۡجَلۡ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’ڈریں مت، ہم آپ کو ایک سمجھ دار لڑکے کی خوش خبری سناتے ہیں ‘‘ یہاں لڑکے سے مراد اسحاقu ہیں ۔ یہ بشارت اس بات کو متضمن ہے کہ وہ بچہ جس کی خوشخبری دی گئی تھی، لڑکا تھا، لڑکی نہ تھا، یہاں ’’علیم‘‘ سے مراد ہے ’’کثیر العلم‘‘ (بہت علم و فہم والا) ایک اور آیت کریمہ میں یوں آتا ہے ﴿ وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾(الصافات:37؍ 112) ’’اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی کہ وہ نبی اور صالح لوگوں میں سے ہوں گے۔‘‘
[54] ابراہیمu نے اس خوش خبری پر متعجب ہو کر کہا ﴿ اَبَشَّرۡتُمُوۡنِيۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے (بیٹے کی) خوشخبری دیتے ہو۔‘‘ ﴿ عَلٰۤى اَنۡ مَّسَّنِيَ الۡكِبَرُ ﴾ ’’جبکہ پہنچ چکا مجھ کو بڑھاپا‘‘ بنابریں وہ اولاد ہونے کے بارے میں ایک قسم کی مایوسی سے دوچار تھے ﴿ فَبِمَ تُبَشِّرُوۡنَ ﴾ ’’پس کس وجہ سے تم مجھے خوشخبری دیتے ہو؟‘‘ حالانکہ اولاد ہونے کے اسباب تو معدوم ہو چکے ہیں ۔
[55]﴿ قَالُوۡا بَشَّرۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم نے آپ کو سچی خوش خبری سنائی ہے‘‘ جس میں کوئی شک و شبہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے خاص طور پر… اے نبوت کے گھر والو! تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہیں … تمھیں تو اللہ کے فضل و احسان کو نادر و ناممکن نہیں سمجھنا چاہیے۔ ﴿ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡقٰنِطِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ ناامیدوں میں سے نہ ہوں ‘‘ یعنی آپ ان لوگوں میں سے نہ ہو جائیں جو بھلائی کے وجود کو مستبعد سمجھتے ہیں ۔ بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی عنایات و احسان کے امیدوار رہیے۔
[56] ابراہیمu نے جواب میں فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔقۡنَطُ مِنۡ رَّحۡمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوۡنَ ﴾ ’’رب کی رحمت سے ناامید گمراہ لوگ ہی ہوتے ہیں ‘‘ جو اپنے رب اور اس کی قدرت کاملہ سے لاعلم ہیں لیکن جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور علم عظیم سے نواز رکھا ہو، مایوسی اس تک راہ نہیں پا سکتی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لیے اسباب و وسائل اور طریقوں کی کثرت کو خوب جانتا ہے، پھر جب فرشتوں نے حضرت ابراہیمu کو بیٹے کی بشارت دی تو انھوں نے جان لیا کہ ان کو نہایت اہم کام پر بھیجا گیا ہے۔
15:57قَالَ فَمَا خَطۡبُكُمۡ أَيُّهَا ٱلۡمُرۡسَلُونَ
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:58قَالُوٓاْ إِنَّآ أُرۡسِلۡنَآ إِلَىٰ قَوۡمٖ مُّجۡرِمِينَ
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:59إِلَّآ ءَالَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمۡ أَجۡمَعِينَ
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:60إِلَّا ٱمۡرَأَتَهُۥ قَدَّرۡنَآ إِنَّهَا لَمِنَ ٱلۡغَٰبِرِينَ
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:61فَلَمَّا جَآءَ ءَالَ لُوطٍ ٱلۡمُرۡسَلُونَ
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:62قَالَ إِنَّكُمۡ قَوۡمٞ مُّنكَرُونَ
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:63قَالُواْ بَلۡ جِئۡنَٰكَ بِمَا كَانُواْ فِيهِ يَمۡتَرُونَ
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:64وَأَتَيۡنَٰكَ بِٱلۡحَقِّ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:65فَأَسۡرِ بِأَهۡلِكَ بِقِطۡعٖ مِّنَ ٱلَّيۡلِ وَٱتَّبِعۡ أَدۡبَٰرَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنكُمۡ أَحَدٞ وَٱمۡضُواْ حَيۡثُ تُؤۡمَرُونَ
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:66وَقَضَيۡنَآ إِلَيۡهِ ذَٰلِكَ ٱلۡأَمۡرَ أَنَّ دَابِرَ هَـٰٓؤُلَآءِ مَقۡطُوعٞ مُّصۡبِحِينَ
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:67وَجَآءَ أَهۡلُ ٱلۡمَدِينَةِ يَسۡتَبۡشِرُونَ
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:68قَالَ إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ ضَيۡفِي فَلَا تَفۡضَحُونِ
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:69وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَلَا تُخۡزُونِ
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:70قَالُوٓاْ أَوَلَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ ٱلۡعَٰلَمِينَ
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:71قَالَ هَـٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِيٓ إِن كُنتُمۡ فَٰعِلِينَ
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:72لَعَمۡرُكَ إِنَّهُمۡ لَفِي سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُونَ
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:73فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِينَ
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:74فَجَعَلۡنَا عَٰلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةٗ مِّن سِجِّيلٍ
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:75إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّلۡمُتَوَسِّمِينَ
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:76وَإِنَّهَا لَبِسَبِيلٖ مُّقِيمٍ
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:77إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:78وَإِن كَانَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡأَيۡكَةِ لَظَٰلِمِينَ
اور بے شک تھے ایکہ (بستی) والے ، البتہ ظالم (78) پس انتقام لیا ہم نے ان سےاور بے شک وہ دونوں (تباہ شدہ بستیاں ) البتہ راستے ظاہر پر (واقع) ہیں (79)
[78] یہ حضرت شعیبu کی قوم ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی (الأیکۃ) کی طرف اضافت کی ہے اور (الأیکۃ) سے مراد وہ باغ ہے جس میں بکثرت درخت ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی نعمت کا ذکر فرمائے مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس، جب ان کے نبی حضرت شعیبu ان کے پاس آئے اور ان کو توحید کی دعوت دی، ناپ تول میں ان کو لوگوں پر ظلم کرنے سے باز آنے کی تلقین کی اور اس ظلم سے ان کو سختی سے منع کیا مگر وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں اپنے ظلم پر جمے رہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا یہاں ظالمین کے لفظ سے ذکر فرمایا۔
[79]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ﴾ ’’پس ہم نے ان سے بدلہ لیا‘‘ اور چھتری والے دن کے عذاب نے ان کو آ لیا، بلاشبہ یہ بہت بڑے دن کا عذاب تھا۔ ﴿ وَاِنَّهُمَا ﴾ ’’اور یہ دونوں ‘‘ یعنی دیار قوم لوط اور اصحاب ایکہ ﴿ لَبِـاِمَامٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’کھلے راستے پر ہیں ۔‘‘ یعنی یہ دونوں بستیاں واضح راستے پر واقع ہیں جہاں ہر وقت مسافروں کے قافلے گزرتے رہتے ہیں ۔ ان کے وہ آثار نمایاں ہیں جن کا آنکھوں سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور عقل مند لوگ اس سے عبرت حاصل کر سکتے ہیں ۔
15:79فَٱنتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٖ مُّبِينٖ
اور بے شک تھے ایکہ (بستی) والے ، البتہ ظالم (78) پس انتقام لیا ہم نے ان سےاور بے شک وہ دونوں (تباہ شدہ بستیاں ) البتہ راستے ظاہر پر (واقع) ہیں (79)
[78] یہ حضرت شعیبu کی قوم ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی (الأیکۃ) کی طرف اضافت کی ہے اور (الأیکۃ) سے مراد وہ باغ ہے جس میں بکثرت درخت ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی نعمت کا ذکر فرمائے مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس، جب ان کے نبی حضرت شعیبu ان کے پاس آئے اور ان کو توحید کی دعوت دی، ناپ تول میں ان کو لوگوں پر ظلم کرنے سے باز آنے کی تلقین کی اور اس ظلم سے ان کو سختی سے منع کیا مگر وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں اپنے ظلم پر جمے رہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا یہاں ظالمین کے لفظ سے ذکر فرمایا۔
[79]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ﴾ ’’پس ہم نے ان سے بدلہ لیا‘‘ اور چھتری والے دن کے عذاب نے ان کو آ لیا، بلاشبہ یہ بہت بڑے دن کا عذاب تھا۔ ﴿ وَاِنَّهُمَا ﴾ ’’اور یہ دونوں ‘‘ یعنی دیار قوم لوط اور اصحاب ایکہ ﴿ لَبِـاِمَامٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’کھلے راستے پر ہیں ۔‘‘ یعنی یہ دونوں بستیاں واضح راستے پر واقع ہیں جہاں ہر وقت مسافروں کے قافلے گزرتے رہتے ہیں ۔ ان کے وہ آثار نمایاں ہیں جن کا آنکھوں سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور عقل مند لوگ اس سے عبرت حاصل کر سکتے ہیں ۔
15:80وَلَقَدۡ كَذَّبَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡحِجۡرِ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
اور البتہ تحقیق جھٹلایا باشندگان حجر نے رسولوں کو (80) اور دیں ہم نے انھیں اپنی نشانیاں پس تھے وہ ان سے اعراض کرنے والے (81) اور تھے وہ تراشتے پہاڑوں سے گھر بے خوف ہو کر(82) پس آپکڑا انھیں چیخ نے صبح کے وقت (83) پس نہ فائدہ دیا انھیں اس (مال) نے جو تھے وہ کماتے (84)
[80] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل، حجر یعنی صالحu کی قوم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو حجاز کے علاقہ حجر میں آباد تھی انھوں نے اپنے رسولوں ، یعنی صالحu کو جھٹلایا، جس نے کسی ایک رسول کو جھٹلایا اس نے گویا تمام رسولوں کو جھٹلایا کیونکہ ان سب کی دعوت ایک تھی۔ انھوں نے کسی رسول کی اس کی ذاتی شخصیت کی بنا پر تکذیب نہیں کی بلکہ انھوں نے حق کی تکذیب کی جس کے لانے میں تمام رسول مشترک تھے۔
[81]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ اٰيٰتِنَا ﴾ اور ہم نے انھیں وہ نشانیاں عطا کیں جو اس حق کی صحت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں صالحu لے کر آئے تھے، ان نشانیوں میں سے وہ اونٹنی بھی تھی جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کی بہت بڑی نشانی تھی۔ ﴿ فَكَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس وہ ان سے منہ پھیرتے رہے‘‘ وہ تکبر اور سرکشی کی بنا پر ان نشانیوں سے روگردانی کیا کرتے تھے۔
[82]﴿ وَؔكَانُوۡا ﴾ ’’اور تھے وہ‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی کثرت کی بنا پر ﴿ يَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’تراشتے تھے پہاڑوں کے گھر اطمینان کے ساتھ‘‘ یعنی اپنے گھروں میں ہر قسم کے خوف سے مطمئن ہو کر۔ پس اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کیا ہوتا اور اپنے نبی صالحu کی تصدیق کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو بے پناہ رزق عطا کرتا اور مختلف انواع کے دنیاوی اور اخروی ثواب کے ذریعے سے ان کی عزت افزائی کرتا۔ مگر انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے کہنے لگے: ﴿ يٰصٰلِحُ ائۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍77) ’’اے صالح! لے آؤ وہ عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو، اگر تم واقعی رسول ہو۔‘‘
[83]﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’سو پکڑ لیا ان کو چنگھاڑنے، صبح ہونے کے وقت‘‘ پس ان کے سینوں میں ان کے دل پارہ پارہ ہو کر رہ گئے اور وہ اپنے گھر میں ہلاک ہو کر اوندھے منہ پڑے رہ گئے اور اس کے ساتھ ساتھ دائمی رسوائی اور لعنت نے ان کا پیچھا کیا۔
[84]﴿ فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ ’’پس کام نہ آیا ان کے جو کچھ وہ کماتے تھے۔‘‘ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم (عذاب) آجاتا ہے تو پھر اس کو لشکروں کی کثرت، انصار و اعوان کی قوت اور مال و دولت کی بہتات واپس نہیں لوٹا سکتی۔
15:81وَءَاتَيۡنَٰهُمۡ ءَايَٰتِنَا فَكَانُواْ عَنۡهَا مُعۡرِضِينَ
اور البتہ تحقیق جھٹلایا باشندگان حجر نے رسولوں کو (80) اور دیں ہم نے انھیں اپنی نشانیاں پس تھے وہ ان سے اعراض کرنے والے (81) اور تھے وہ تراشتے پہاڑوں سے گھر بے خوف ہو کر(82) پس آپکڑا انھیں چیخ نے صبح کے وقت (83) پس نہ فائدہ دیا انھیں اس (مال) نے جو تھے وہ کماتے (84)
[80] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل، حجر یعنی صالحu کی قوم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو حجاز کے علاقہ حجر میں آباد تھی انھوں نے اپنے رسولوں ، یعنی صالحu کو جھٹلایا، جس نے کسی ایک رسول کو جھٹلایا اس نے گویا تمام رسولوں کو جھٹلایا کیونکہ ان سب کی دعوت ایک تھی۔ انھوں نے کسی رسول کی اس کی ذاتی شخصیت کی بنا پر تکذیب نہیں کی بلکہ انھوں نے حق کی تکذیب کی جس کے لانے میں تمام رسول مشترک تھے۔
[81]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ اٰيٰتِنَا ﴾ اور ہم نے انھیں وہ نشانیاں عطا کیں جو اس حق کی صحت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں صالحu لے کر آئے تھے، ان نشانیوں میں سے وہ اونٹنی بھی تھی جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کی بہت بڑی نشانی تھی۔ ﴿ فَكَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس وہ ان سے منہ پھیرتے رہے‘‘ وہ تکبر اور سرکشی کی بنا پر ان نشانیوں سے روگردانی کیا کرتے تھے۔
[82]﴿ وَؔكَانُوۡا ﴾ ’’اور تھے وہ‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی کثرت کی بنا پر ﴿ يَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’تراشتے تھے پہاڑوں کے گھر اطمینان کے ساتھ‘‘ یعنی اپنے گھروں میں ہر قسم کے خوف سے مطمئن ہو کر۔ پس اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کیا ہوتا اور اپنے نبی صالحu کی تصدیق کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو بے پناہ رزق عطا کرتا اور مختلف انواع کے دنیاوی اور اخروی ثواب کے ذریعے سے ان کی عزت افزائی کرتا۔ مگر انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے کہنے لگے: ﴿ يٰصٰلِحُ ائۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍77) ’’اے صالح! لے آؤ وہ عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو، اگر تم واقعی رسول ہو۔‘‘
[83]﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’سو پکڑ لیا ان کو چنگھاڑنے، صبح ہونے کے وقت‘‘ پس ان کے سینوں میں ان کے دل پارہ پارہ ہو کر رہ گئے اور وہ اپنے گھر میں ہلاک ہو کر اوندھے منہ پڑے رہ گئے اور اس کے ساتھ ساتھ دائمی رسوائی اور لعنت نے ان کا پیچھا کیا۔
[84]﴿ فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ ’’پس کام نہ آیا ان کے جو کچھ وہ کماتے تھے۔‘‘ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم (عذاب) آجاتا ہے تو پھر اس کو لشکروں کی کثرت، انصار و اعوان کی قوت اور مال و دولت کی بہتات واپس نہیں لوٹا سکتی۔
15:82وَكَانُواْ يَنۡحِتُونَ مِنَ ٱلۡجِبَالِ بُيُوتًا ءَامِنِينَ
اور البتہ تحقیق جھٹلایا باشندگان حجر نے رسولوں کو (80) اور دیں ہم نے انھیں اپنی نشانیاں پس تھے وہ ان سے اعراض کرنے والے (81) اور تھے وہ تراشتے پہاڑوں سے گھر بے خوف ہو کر(82) پس آپکڑا انھیں چیخ نے صبح کے وقت (83) پس نہ فائدہ دیا انھیں اس (مال) نے جو تھے وہ کماتے (84)
[80] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل، حجر یعنی صالحu کی قوم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو حجاز کے علاقہ حجر میں آباد تھی انھوں نے اپنے رسولوں ، یعنی صالحu کو جھٹلایا، جس نے کسی ایک رسول کو جھٹلایا اس نے گویا تمام رسولوں کو جھٹلایا کیونکہ ان سب کی دعوت ایک تھی۔ انھوں نے کسی رسول کی اس کی ذاتی شخصیت کی بنا پر تکذیب نہیں کی بلکہ انھوں نے حق کی تکذیب کی جس کے لانے میں تمام رسول مشترک تھے۔
[81]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ اٰيٰتِنَا ﴾ اور ہم نے انھیں وہ نشانیاں عطا کیں جو اس حق کی صحت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں صالحu لے کر آئے تھے، ان نشانیوں میں سے وہ اونٹنی بھی تھی جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کی بہت بڑی نشانی تھی۔ ﴿ فَكَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس وہ ان سے منہ پھیرتے رہے‘‘ وہ تکبر اور سرکشی کی بنا پر ان نشانیوں سے روگردانی کیا کرتے تھے۔
[82]﴿ وَؔكَانُوۡا ﴾ ’’اور تھے وہ‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی کثرت کی بنا پر ﴿ يَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’تراشتے تھے پہاڑوں کے گھر اطمینان کے ساتھ‘‘ یعنی اپنے گھروں میں ہر قسم کے خوف سے مطمئن ہو کر۔ پس اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کیا ہوتا اور اپنے نبی صالحu کی تصدیق کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو بے پناہ رزق عطا کرتا اور مختلف انواع کے دنیاوی اور اخروی ثواب کے ذریعے سے ان کی عزت افزائی کرتا۔ مگر انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے کہنے لگے: ﴿ يٰصٰلِحُ ائۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍77) ’’اے صالح! لے آؤ وہ عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو، اگر تم واقعی رسول ہو۔‘‘
[83]﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’سو پکڑ لیا ان کو چنگھاڑنے، صبح ہونے کے وقت‘‘ پس ان کے سینوں میں ان کے دل پارہ پارہ ہو کر رہ گئے اور وہ اپنے گھر میں ہلاک ہو کر اوندھے منہ پڑے رہ گئے اور اس کے ساتھ ساتھ دائمی رسوائی اور لعنت نے ان کا پیچھا کیا۔
[84]﴿ فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ ’’پس کام نہ آیا ان کے جو کچھ وہ کماتے تھے۔‘‘ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم (عذاب) آجاتا ہے تو پھر اس کو لشکروں کی کثرت، انصار و اعوان کی قوت اور مال و دولت کی بہتات واپس نہیں لوٹا سکتی۔
15:83فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلصَّيۡحَةُ مُصۡبِحِينَ
اور البتہ تحقیق جھٹلایا باشندگان حجر نے رسولوں کو (80) اور دیں ہم نے انھیں اپنی نشانیاں پس تھے وہ ان سے اعراض کرنے والے (81) اور تھے وہ تراشتے پہاڑوں سے گھر بے خوف ہو کر(82) پس آپکڑا انھیں چیخ نے صبح کے وقت (83) پس نہ فائدہ دیا انھیں اس (مال) نے جو تھے وہ کماتے (84)
[80] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل، حجر یعنی صالحu کی قوم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو حجاز کے علاقہ حجر میں آباد تھی انھوں نے اپنے رسولوں ، یعنی صالحu کو جھٹلایا، جس نے کسی ایک رسول کو جھٹلایا اس نے گویا تمام رسولوں کو جھٹلایا کیونکہ ان سب کی دعوت ایک تھی۔ انھوں نے کسی رسول کی اس کی ذاتی شخصیت کی بنا پر تکذیب نہیں کی بلکہ انھوں نے حق کی تکذیب کی جس کے لانے میں تمام رسول مشترک تھے۔
[81]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ اٰيٰتِنَا ﴾ اور ہم نے انھیں وہ نشانیاں عطا کیں جو اس حق کی صحت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں صالحu لے کر آئے تھے، ان نشانیوں میں سے وہ اونٹنی بھی تھی جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کی بہت بڑی نشانی تھی۔ ﴿ فَكَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس وہ ان سے منہ پھیرتے رہے‘‘ وہ تکبر اور سرکشی کی بنا پر ان نشانیوں سے روگردانی کیا کرتے تھے۔
[82]﴿ وَؔكَانُوۡا ﴾ ’’اور تھے وہ‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی کثرت کی بنا پر ﴿ يَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’تراشتے تھے پہاڑوں کے گھر اطمینان کے ساتھ‘‘ یعنی اپنے گھروں میں ہر قسم کے خوف سے مطمئن ہو کر۔ پس اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کیا ہوتا اور اپنے نبی صالحu کی تصدیق کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو بے پناہ رزق عطا کرتا اور مختلف انواع کے دنیاوی اور اخروی ثواب کے ذریعے سے ان کی عزت افزائی کرتا۔ مگر انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے کہنے لگے: ﴿ يٰصٰلِحُ ائۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍77) ’’اے صالح! لے آؤ وہ عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو، اگر تم واقعی رسول ہو۔‘‘
[83]﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’سو پکڑ لیا ان کو چنگھاڑنے، صبح ہونے کے وقت‘‘ پس ان کے سینوں میں ان کے دل پارہ پارہ ہو کر رہ گئے اور وہ اپنے گھر میں ہلاک ہو کر اوندھے منہ پڑے رہ گئے اور اس کے ساتھ ساتھ دائمی رسوائی اور لعنت نے ان کا پیچھا کیا۔
[84]﴿ فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ ’’پس کام نہ آیا ان کے جو کچھ وہ کماتے تھے۔‘‘ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم (عذاب) آجاتا ہے تو پھر اس کو لشکروں کی کثرت، انصار و اعوان کی قوت اور مال و دولت کی بہتات واپس نہیں لوٹا سکتی۔
15:84فَمَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ
اور البتہ تحقیق جھٹلایا باشندگان حجر نے رسولوں کو (80) اور دیں ہم نے انھیں اپنی نشانیاں پس تھے وہ ان سے اعراض کرنے والے (81) اور تھے وہ تراشتے پہاڑوں سے گھر بے خوف ہو کر(82) پس آپکڑا انھیں چیخ نے صبح کے وقت (83) پس نہ فائدہ دیا انھیں اس (مال) نے جو تھے وہ کماتے (84)
[80] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل، حجر یعنی صالحu کی قوم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو حجاز کے علاقہ حجر میں آباد تھی انھوں نے اپنے رسولوں ، یعنی صالحu کو جھٹلایا، جس نے کسی ایک رسول کو جھٹلایا اس نے گویا تمام رسولوں کو جھٹلایا کیونکہ ان سب کی دعوت ایک تھی۔ انھوں نے کسی رسول کی اس کی ذاتی شخصیت کی بنا پر تکذیب نہیں کی بلکہ انھوں نے حق کی تکذیب کی جس کے لانے میں تمام رسول مشترک تھے۔
[81]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ اٰيٰتِنَا ﴾ اور ہم نے انھیں وہ نشانیاں عطا کیں جو اس حق کی صحت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں صالحu لے کر آئے تھے، ان نشانیوں میں سے وہ اونٹنی بھی تھی جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کی بہت بڑی نشانی تھی۔ ﴿ فَكَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس وہ ان سے منہ پھیرتے رہے‘‘ وہ تکبر اور سرکشی کی بنا پر ان نشانیوں سے روگردانی کیا کرتے تھے۔
[82]﴿ وَؔكَانُوۡا ﴾ ’’اور تھے وہ‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی کثرت کی بنا پر ﴿ يَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’تراشتے تھے پہاڑوں کے گھر اطمینان کے ساتھ‘‘ یعنی اپنے گھروں میں ہر قسم کے خوف سے مطمئن ہو کر۔ پس اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کیا ہوتا اور اپنے نبی صالحu کی تصدیق کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو بے پناہ رزق عطا کرتا اور مختلف انواع کے دنیاوی اور اخروی ثواب کے ذریعے سے ان کی عزت افزائی کرتا۔ مگر انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے کہنے لگے: ﴿ يٰصٰلِحُ ائۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍77) ’’اے صالح! لے آؤ وہ عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو، اگر تم واقعی رسول ہو۔‘‘
[83]﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’سو پکڑ لیا ان کو چنگھاڑنے، صبح ہونے کے وقت‘‘ پس ان کے سینوں میں ان کے دل پارہ پارہ ہو کر رہ گئے اور وہ اپنے گھر میں ہلاک ہو کر اوندھے منہ پڑے رہ گئے اور اس کے ساتھ ساتھ دائمی رسوائی اور لعنت نے ان کا پیچھا کیا۔
[84]﴿ فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ ’’پس کام نہ آیا ان کے جو کچھ وہ کماتے تھے۔‘‘ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم (عذاب) آجاتا ہے تو پھر اس کو لشکروں کی کثرت، انصار و اعوان کی قوت اور مال و دولت کی بہتات واپس نہیں لوٹا سکتی۔
15:85وَمَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَآ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۗ وَإِنَّ ٱلسَّاعَةَ لَأٓتِيَةٞۖ فَٱصۡفَحِ ٱلصَّفۡحَ ٱلۡجَمِيلَ
اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے مگر ساتھ حق کےاور بے شک قیامت ، البتہ آنے والی ہے، پس آپ درگزر کریں (ان سے) درگزر کرنا اچھے انداز سے (85) بلاشبہ آپ کا رب ، وہی پیدا کرنے والا، خوب جاننے والا ہے (86)
[85] یعنی ہم نے زمین و آسمان کو عبث اور باطل پیدا نہیں کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے دشمن سمجھتے ہیں ۔ ﴿اِلَّا بِالۡحَقِّ﴾ بلکہ ہم نے زمین و آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، جو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے اندر ہے اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے نیز زمین و آسمان اللہ کی قدرت کاملہ، بے پایاں رحمت، حکمت اور اس کے علم محیط پر دلالت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جس کے سوا کوئی دوسری ہستی عبادت کے لائق نہیں ۔ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ ﴾ ’’اور قیامت بے شک آنے والی ہے‘‘ اور اس گھڑی کے آنے میں کوئی شک نہیں کیونکہ ابتدا میں زمین و آسمان کی تخلیق، مخلوقات کو دوسری مرتبہ پیدا کرنے کی نسبت زیادہ مشکل ہے۔ ﴿ فَاصۡفَحِ الصَّفۡحَ الۡجَمِيۡلَ﴾ ’’پس درگزر کریں اچھی طرح درگزر کرنا‘‘ یعنی ان سے اس طرح درگزر کیجیے کہ اس میں کسی قسم کی اذیت نہ ہو بلکہ اس کے برعکس برائی کرنے والے کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آیے، اس کی تقصیر کو بخش دیجیے تاکہ آپ اپنے رب سے بہت زیادہ اجروثواب حاصل کریں ۔ کیونکہ ہر آنے والی چیز قریب ہوتی ہے۔اس آیت کریمہ کے جو معانی میں نے یہاں ذکر کیے ہیں مجھ پر اس سے بہتر معانی ظاہر ہوئے ہیں اور وہ یہ ہے کہ… رسول اللہﷺ کو جس کام کا حکم دیا گیا ہے وہ ہے نہایت اچھے طریقے سے درگزر کرنا، یعنی وہ اچھا طریقہ جو بغض، کینہ اور قولی و فعلی اذیت سے پاک ہو۔ اس طرح درگزر کرنا نہ ہو جو احسن طریقے سے نہیں ہوتا اور یہ ایسا درگزر کرنا ہے جو صحیح مقام پر نہ ہو۔ اس لیے جہاں سزا دینے کا تقاضا ہو وہاں عفو اور درگزر سے کام نہ لیا جائے، مثلاً:زیادتی کرنے والے ظالموں کو سزا دینا، جن کو سزا کے سوا کوئی اور طریقہ درست نہیں کر سکتا… یہ ہے اس آیت کریمہ کا معنی۔
[86]﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡخَلّٰقُ﴾ بے شک آپ کا رب تمام کائنات کا پیدا کرنے والا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ اس کی مخلوقات اور اس کے احاطۂ علم یعنی تمام کائنات میں سے کوئی چیز اسے بے بس نہیں کر سکتی۔
15:86إِنَّ رَبَّكَ هُوَ ٱلۡخَلَّـٰقُ ٱلۡعَلِيمُ
اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے مگر ساتھ حق کےاور بے شک قیامت ، البتہ آنے والی ہے، پس آپ درگزر کریں (ان سے) درگزر کرنا اچھے انداز سے (85) بلاشبہ آپ کا رب ، وہی پیدا کرنے والا، خوب جاننے والا ہے (86)
[85] یعنی ہم نے زمین و آسمان کو عبث اور باطل پیدا نہیں کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے دشمن سمجھتے ہیں ۔ ﴿اِلَّا بِالۡحَقِّ﴾ بلکہ ہم نے زمین و آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، جو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے اندر ہے اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے نیز زمین و آسمان اللہ کی قدرت کاملہ، بے پایاں رحمت، حکمت اور اس کے علم محیط پر دلالت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جس کے سوا کوئی دوسری ہستی عبادت کے لائق نہیں ۔ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ ﴾ ’’اور قیامت بے شک آنے والی ہے‘‘ اور اس گھڑی کے آنے میں کوئی شک نہیں کیونکہ ابتدا میں زمین و آسمان کی تخلیق، مخلوقات کو دوسری مرتبہ پیدا کرنے کی نسبت زیادہ مشکل ہے۔ ﴿ فَاصۡفَحِ الصَّفۡحَ الۡجَمِيۡلَ﴾ ’’پس درگزر کریں اچھی طرح درگزر کرنا‘‘ یعنی ان سے اس طرح درگزر کیجیے کہ اس میں کسی قسم کی اذیت نہ ہو بلکہ اس کے برعکس برائی کرنے والے کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آیے، اس کی تقصیر کو بخش دیجیے تاکہ آپ اپنے رب سے بہت زیادہ اجروثواب حاصل کریں ۔ کیونکہ ہر آنے والی چیز قریب ہوتی ہے۔اس آیت کریمہ کے جو معانی میں نے یہاں ذکر کیے ہیں مجھ پر اس سے بہتر معانی ظاہر ہوئے ہیں اور وہ یہ ہے کہ… رسول اللہﷺ کو جس کام کا حکم دیا گیا ہے وہ ہے نہایت اچھے طریقے سے درگزر کرنا، یعنی وہ اچھا طریقہ جو بغض، کینہ اور قولی و فعلی اذیت سے پاک ہو۔ اس طرح درگزر کرنا نہ ہو جو احسن طریقے سے نہیں ہوتا اور یہ ایسا درگزر کرنا ہے جو صحیح مقام پر نہ ہو۔ اس لیے جہاں سزا دینے کا تقاضا ہو وہاں عفو اور درگزر سے کام نہ لیا جائے، مثلاً:زیادتی کرنے والے ظالموں کو سزا دینا، جن کو سزا کے سوا کوئی اور طریقہ درست نہیں کر سکتا… یہ ہے اس آیت کریمہ کا معنی۔
[86]﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡخَلّٰقُ﴾ بے شک آپ کا رب تمام کائنات کا پیدا کرنے والا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ اس کی مخلوقات اور اس کے احاطۂ علم یعنی تمام کائنات میں سے کوئی چیز اسے بے بس نہیں کر سکتی۔
15:87وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَٰكَ سَبۡعٗا مِّنَ ٱلۡمَثَانِي وَٱلۡقُرۡءَانَ ٱلۡعَظِيمَ
اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)
[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔
[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔
[89]﴿وَقُلۡ اِنِّيۡۤ اَنَا النَّذِيۡرُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’اور کہہ دیجیے، میں تو کھول کر ڈرانے والا ہوں ‘‘ یعنی لوگوں کو ڈرانے، رسالت کی ادائیگی، قریب اور بعید، دوست اور دشمن کو تبلیغ کی ذمہ داری آپ(ﷺ) پر عائد ہے اسے پورا کیجیے۔ جب آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی تو ان کا حساب آپ(ﷺ) پر ہے نہ آپ کا حساب ان کے ذمہ ہے۔
[90]﴿ كَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَى الۡمُقۡتَسِمِيۡنَ ﴾ ’’جیسا کہ (عذاب) بھیجا ہم نے ان بانٹنے والوں پر‘‘ یعنی (آپ ان کو اس طرح عذاب سے ڈرا رہے ہیں ) جیسے ہم نے اس چیز کو جھٹلانے والوں پر، جسے لے کر آپﷺ مبعوث ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے میں کوشاں رہنے والوں پر، عذاب نازل کیا۔
[91]﴿الَّذِيۡنَ جَعَلُوا الۡقُرۡاٰنَ عِضِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔‘‘ یعنی جنھوں نے قرآن کو مختلف اصناف، اعضا اور اجزا میں تقسیم کر رکھا ہے اور اپنی خواہشات نفس کے مطابق اس میں تصرف کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض (قرآن کے متعلق) کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے، بعض کہتے ہیں کہ یہ کہانت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ افتراء پردازی ہے اور اس قسم کے دیگر اقوال جو ان جھٹلانے والے کفار نے پھیلا رکھے ہیں جو محض اس مقصد کے لیے قرآن میں جرح و قدح کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ہدایت کے راستے سے روک سکیں ۔
[93,92]﴿ فَوَرَبِّكَ لَنَسۡـَٔؔلَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’پس قسم ہے آپ کے رب کی، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے‘‘ یعنی ان تمام لوگوں سے جنھوں نے اس قرآن میں جرح و قدح کی، اس میں عیب چینی اور اس میں تحریف کر کے اس کو بدل ڈالا۔ ﴿ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ہم ان سے ان کے اعمال کے بارے میں ضرور پوچھیں گے۔ یہ ان کے لیے سب سے بڑی ترہیب اور ان کے اعمال پر زجروتوبیخ ہے۔
[94] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ کفار مکہ اور اور دیگر کفار کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں اور اس چیز کو کھلا کھلا بیان کر دیں جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تمام لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کر دیں ، کوئی رکاوٹ آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے روک نہ دے اور ان مضطرب اذہان کے مالک لوگوں کی باتیں آپ کو اللہ کی راہ سے روک نہ دیں ﴿ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور مشرکین سے اعراض کریں ۔‘‘ یعنی مشرکین کی پروا نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے رہیے۔
[95]﴿ اِنَّا كَفَيۡنٰكَ الۡمُسۡتَهۡزِءِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھیں ان لوگوں کے شر سے بچانے کے لیے کافی ہیں جو تم سے استہزا کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ آپ کا اور اس حق کا جسے لے کر آپ مبعوث ہوئے ہیں تمسخر اڑاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول سے یہ وعدہ ہے کہ تمسخر اڑانے والے آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ان کے مقابلہ میں ، اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کافی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسا کر دکھایا، چنانچہ جس کسی نے بھی رسول اللہﷺ اور حق کے ساتھ استہزاء کیا، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک کیا اور اسے بدترین طریقے سے قتل کیا۔
[96] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا وصف بیان کیا اور فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح آپ کو ایذا پہنچاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کو بھی ایذا دیتے ہیں ۔ ﴿الَّذِيۡنَ يَجۡعَلُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’جو کہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسرے معبود‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کا رب اور ان کا خالق ہے اور ان پر تمام احسان اسی کی طرف سے ہیں ۔ ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’عنقریب وہ جان لیں گے‘‘ یعنی جب وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے تو انھیں اپنے کرتوتوں کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
[97]﴿ وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّكَ يَضِيۡقُ صَدۡرُكَ بِمَا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی وہ آپ کی تکذیب اور استہزاء کی بابت جو باتیں کہتے ہیں ، وہ ہمیں معلوم ہیں اور ہم عذاب کے ذریعے سے ان کے استیصال پر پوری پوری قدرت رکھتے ہیں نیز ان کو فوری طور پر وہ سزا دے سکتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دے رہا ہے، تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔
[98]﴿ فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَ كُنۡ مِّنَ السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’پس (اے محمدﷺ) آپ اپنے رب کی خوبیاں بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح و تحمید کیجیے اور نماز پڑھیے کیونکہ اس سے شرح صدر حاصل ہوتا ہے اور یہ ذکر اور نماز آپ کے امور میں آپ کی مدد کریں گے۔
[99]﴿ وَاعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتّٰى يَاۡتِيَكَ الۡيَقِيۡنُ ﴾ ’’اور اپنے رب کی عبادت کیجیے، یہاں تک کہ آپ کے پاس یقینی بات آجائے‘‘ یعنی آپ کو موت آ جائے، یعنی اپنے تمام اوقات میں ، اللہ تعالیٰ کے قرب کے لیے دائمی طور پر مختلف عبادات میں مصروف رہیے۔ پس نبی مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی حتیٰ کہ آپ کو آپ کے رب کی طرف سے واپسی کا حکم آ پہنچا۔ صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کثیرا۔
15:88لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعۡنَا بِهِۦٓ أَزۡوَٰجٗا مِّنۡهُمۡ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَٱخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِينَ
اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)
[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔
[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔
[89]﴿وَقُلۡ اِنِّيۡۤ اَنَا النَّذِيۡرُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’اور کہہ دیجیے، میں تو کھول کر ڈرانے والا ہوں ‘‘ یعنی لوگوں کو ڈرانے، رسالت کی ادائیگی، قریب اور بعید، دوست اور دشمن کو تبلیغ کی ذمہ داری آپ(ﷺ) پر عائد ہے اسے پورا کیجیے۔ جب آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی تو ان کا حساب آپ(ﷺ) پر ہے نہ آپ کا حساب ان کے ذمہ ہے۔
[90]﴿ كَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَى الۡمُقۡتَسِمِيۡنَ ﴾ ’’جیسا کہ (عذاب) بھیجا ہم نے ان بانٹنے والوں پر‘‘ یعنی (آپ ان کو اس طرح عذاب سے ڈرا رہے ہیں ) جیسے ہم نے اس چیز کو جھٹلانے والوں پر، جسے لے کر آپﷺ مبعوث ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے میں کوشاں رہنے والوں پر، عذاب نازل کیا۔
[91]﴿الَّذِيۡنَ جَعَلُوا الۡقُرۡاٰنَ عِضِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔‘‘ یعنی جنھوں نے قرآن کو مختلف اصناف، اعضا اور اجزا میں تقسیم کر رکھا ہے اور اپنی خواہشات نفس کے مطابق اس میں تصرف کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض (قرآن کے متعلق) کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے، بعض کہتے ہیں کہ یہ کہانت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ افتراء پردازی ہے اور اس قسم کے دیگر اقوال جو ان جھٹلانے والے کفار نے پھیلا رکھے ہیں جو محض اس مقصد کے لیے قرآن میں جرح و قدح کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ہدایت کے راستے سے روک سکیں ۔
[93,92]﴿ فَوَرَبِّكَ لَنَسۡـَٔؔلَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’پس قسم ہے آپ کے رب کی، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے‘‘ یعنی ان تمام لوگوں سے جنھوں نے اس قرآن میں جرح و قدح کی، اس میں عیب چینی اور اس میں تحریف کر کے اس کو بدل ڈالا۔ ﴿ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ہم ان سے ان کے اعمال کے بارے میں ضرور پوچھیں گے۔ یہ ان کے لیے سب سے بڑی ترہیب اور ان کے اعمال پر زجروتوبیخ ہے۔
[94] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ کفار مکہ اور اور دیگر کفار کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں اور اس چیز کو کھلا کھلا بیان کر دیں جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تمام لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کر دیں ، کوئی رکاوٹ آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے روک نہ دے اور ان مضطرب اذہان کے مالک لوگوں کی باتیں آپ کو اللہ کی راہ سے روک نہ دیں ﴿ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور مشرکین سے اعراض کریں ۔‘‘ یعنی مشرکین کی پروا نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے رہیے۔
[95]﴿ اِنَّا كَفَيۡنٰكَ الۡمُسۡتَهۡزِءِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھیں ان لوگوں کے شر سے بچانے کے لیے کافی ہیں جو تم سے استہزا کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ آپ کا اور اس حق کا جسے لے کر آپ مبعوث ہوئے ہیں تمسخر اڑاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول سے یہ وعدہ ہے کہ تمسخر اڑانے والے آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ان کے مقابلہ میں ، اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کافی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسا کر دکھایا، چنانچہ جس کسی نے بھی رسول اللہﷺ اور حق کے ساتھ استہزاء کیا، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک کیا اور اسے بدترین طریقے سے قتل کیا۔
[96] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا وصف بیان کیا اور فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح آپ کو ایذا پہنچاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کو بھی ایذا دیتے ہیں ۔ ﴿الَّذِيۡنَ يَجۡعَلُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’جو کہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسرے معبود‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کا رب اور ان کا خالق ہے اور ان پر تمام احسان اسی کی طرف سے ہیں ۔ ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’عنقریب وہ جان لیں گے‘‘ یعنی جب وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے تو انھیں اپنے کرتوتوں کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
[97]﴿ وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّكَ يَضِيۡقُ صَدۡرُكَ بِمَا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی وہ آپ کی تکذیب اور استہزاء کی بابت جو باتیں کہتے ہیں ، وہ ہمیں معلوم ہیں اور ہم عذاب کے ذریعے سے ان کے استیصال پر پوری پوری قدرت رکھتے ہیں نیز ان کو فوری طور پر وہ سزا دے سکتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دے رہا ہے، تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔
[98]﴿ فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَ كُنۡ مِّنَ السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’پس (اے محمدﷺ) آپ اپنے رب کی خوبیاں بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح و تحمید کیجیے اور نماز پڑھیے کیونکہ اس سے شرح صدر حاصل ہوتا ہے اور یہ ذکر اور نماز آپ کے امور میں آپ کی مدد کریں گے۔
[99]﴿ وَاعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتّٰى يَاۡتِيَكَ الۡيَقِيۡنُ ﴾ ’’اور اپنے رب کی عبادت کیجیے، یہاں تک کہ آپ کے پاس یقینی بات آجائے‘‘ یعنی آپ کو موت آ جائے، یعنی اپنے تمام اوقات میں ، اللہ تعالیٰ کے قرب کے لیے دائمی طور پر مختلف عبادات میں مصروف رہیے۔ پس نبی مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی حتیٰ کہ آپ کو آپ کے رب کی طرف سے واپسی کا حکم آ پہنچا۔ صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کثیرا۔
15:89وَقُلۡ إِنِّيٓ أَنَا ٱلنَّذِيرُ ٱلۡمُبِينُ
اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)
[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔
[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔
[89]﴿وَقُلۡ اِنِّيۡۤ اَنَا النَّذِيۡرُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’اور کہہ دیجیے، میں تو کھول کر ڈرانے والا ہوں ‘‘ یعنی لوگوں کو ڈرانے، رسالت کی ادائیگی، قریب اور بعید، دوست اور دشمن کو تبلیغ کی ذمہ داری آپ(ﷺ) پر عائد ہے اسے پورا کیجیے۔ جب آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی تو ان کا حساب آپ(ﷺ) پر ہے نہ آپ کا حساب ان کے ذمہ ہے۔
[90]﴿ كَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَى الۡمُقۡتَسِمِيۡنَ ﴾ ’’جیسا کہ (عذاب) بھیجا ہم نے ان بانٹنے والوں پر‘‘ یعنی (آپ ان کو اس طرح عذاب سے ڈرا رہے ہیں ) جیسے ہم نے اس چیز کو جھٹلانے والوں پر، جسے لے کر آپﷺ مبعوث ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے میں کوشاں رہنے والوں پر، عذاب نازل کیا۔
[91]﴿الَّذِيۡنَ جَعَلُوا الۡقُرۡاٰنَ عِضِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔‘‘ یعنی جنھوں نے قرآن کو مختلف اصناف، اعضا اور اجزا میں تقسیم کر رکھا ہے اور اپنی خواہشات نفس کے مطابق اس میں تصرف کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض (قرآن کے متعلق) کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے، بعض کہتے ہیں کہ یہ کہانت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ افتراء پردازی ہے اور اس قسم کے دیگر اقوال جو ان جھٹلانے والے کفار نے پھیلا رکھے ہیں جو محض اس مقصد کے لیے قرآن میں جرح و قدح کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ہدایت کے راستے سے روک سکیں ۔
[93,92]﴿ فَوَرَبِّكَ لَنَسۡـَٔؔلَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’پس قسم ہے آپ کے رب کی، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے‘‘ یعنی ان تمام لوگوں سے جنھوں نے اس قرآن میں جرح و قدح کی، اس میں عیب چینی اور اس میں تحریف کر کے اس کو بدل ڈالا۔ ﴿ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ہم ان سے ان کے اعمال کے بارے میں ضرور پوچھیں گے۔ یہ ان کے لیے سب سے بڑی ترہیب اور ان کے اعمال پر زجروتوبیخ ہے۔
[94] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ کفار مکہ اور اور دیگر کفار کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں اور اس چیز کو کھلا کھلا بیان کر دیں جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تمام لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کر دیں ، کوئی رکاوٹ آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے روک نہ دے اور ان مضطرب اذہان کے مالک لوگوں کی باتیں آپ کو اللہ کی راہ سے روک نہ دیں ﴿ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور مشرکین سے اعراض کریں ۔‘‘ یعنی مشرکین کی پروا نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے رہیے۔
[95]﴿ اِنَّا كَفَيۡنٰكَ الۡمُسۡتَهۡزِءِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھیں ان لوگوں کے شر سے بچانے کے لیے کافی ہیں جو تم سے استہزا کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ آپ کا اور اس حق کا جسے لے کر آپ مبعوث ہوئے ہیں تمسخر اڑاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول سے یہ وعدہ ہے کہ تمسخر اڑانے والے آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ان کے مقابلہ میں ، اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کافی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسا کر دکھایا، چنانچہ جس کسی نے بھی رسول اللہﷺ اور حق کے ساتھ استہزاء کیا، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک کیا اور اسے بدترین طریقے سے قتل کیا۔
[96] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا وصف بیان کیا اور فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح آپ کو ایذا پہنچاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کو بھی ایذا دیتے ہیں ۔ ﴿الَّذِيۡنَ يَجۡعَلُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’جو کہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسرے معبود‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کا رب اور ان کا خالق ہے اور ان پر تمام احسان اسی کی طرف سے ہیں ۔ ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’عنقریب وہ جان لیں گے‘‘ یعنی جب وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے تو انھیں اپنے کرتوتوں کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
[97]﴿ وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّكَ يَضِيۡقُ صَدۡرُكَ بِمَا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی وہ آپ کی تکذیب اور استہزاء کی بابت جو باتیں کہتے ہیں ، وہ ہمیں معلوم ہیں اور ہم عذاب کے ذریعے سے ان کے استیصال پر پوری پوری قدرت رکھتے ہیں نیز ان کو فوری طور پر وہ سزا دے سکتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دے رہا ہے، تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔
[98]﴿ فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَ كُنۡ مِّنَ السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’پس (اے محمدﷺ) آپ اپنے رب کی خوبیاں بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح و تحمید کیجیے اور نماز پڑھیے کیونکہ اس سے شرح صدر حاصل ہوتا ہے اور یہ ذکر اور نماز آپ کے امور میں آپ کی مدد کریں گے۔
[99]﴿ وَاعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتّٰى يَاۡتِيَكَ الۡيَقِيۡنُ ﴾ ’’اور اپنے رب کی عبادت کیجیے، یہاں تک کہ آپ کے پاس یقینی بات آجائے‘‘ یعنی آپ کو موت آ جائے، یعنی اپنے تمام اوقات میں ، اللہ تعالیٰ کے قرب کے لیے دائمی طور پر مختلف عبادات میں مصروف رہیے۔ پس نبی مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی حتیٰ کہ آپ کو آپ کے رب کی طرف سے واپسی کا حکم آ پہنچا۔ صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کثیرا۔
15:90كَمَآ أَنزَلۡنَا عَلَى ٱلۡمُقۡتَسِمِينَ
اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)
[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔
[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔
[89]﴿وَقُلۡ اِنِّيۡۤ اَنَا النَّذِيۡرُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’اور کہہ دیجیے، میں تو کھول کر ڈرانے والا ہوں ‘‘ یعنی لوگوں کو ڈرانے، رسالت کی ادائیگی، قریب اور بعید، دوست اور دشمن کو تبلیغ کی ذمہ داری آپ(ﷺ) پر عائد ہے اسے پورا کیجیے۔ جب آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی تو ان کا حساب آپ(ﷺ) پر ہے نہ آپ کا حساب ان کے ذمہ ہے۔
[90]﴿ كَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَى الۡمُقۡتَسِمِيۡنَ ﴾ ’’جیسا کہ (عذاب) بھیجا ہم نے ان بانٹنے والوں پر‘‘ یعنی (آپ ان کو اس طرح عذاب سے ڈرا رہے ہیں ) جیسے ہم نے اس چیز کو جھٹلانے والوں پر، جسے لے کر آپﷺ مبعوث ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے میں کوشاں رہنے والوں پر، عذاب نازل کیا۔
[91]﴿الَّذِيۡنَ جَعَلُوا الۡقُرۡاٰنَ عِضِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔‘‘ یعنی جنھوں نے قرآن کو مختلف اصناف، اعضا اور اجزا میں تقسیم کر رکھا ہے اور اپنی خواہشات نفس کے مطابق اس میں تصرف کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض (قرآن کے متعلق) کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے، بعض کہتے ہیں کہ یہ کہانت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ افتراء پردازی ہے اور اس قسم کے دیگر اقوال جو ان جھٹلانے والے کفار نے پھیلا رکھے ہیں جو محض اس مقصد کے لیے قرآن میں جرح و قدح کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ہدایت کے راستے سے روک سکیں ۔
[93,92]﴿ فَوَرَبِّكَ لَنَسۡـَٔؔلَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’پس قسم ہے آپ کے رب کی، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے‘‘ یعنی ان تمام لوگوں سے جنھوں نے اس قرآن میں جرح و قدح کی، اس میں عیب چینی اور اس میں تحریف کر کے اس کو بدل ڈالا۔ ﴿ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ہم ان سے ان کے اعمال کے بارے میں ضرور پوچھیں گے۔ یہ ان کے لیے سب سے بڑی ترہیب اور ان کے اعمال پر زجروتوبیخ ہے۔
[94] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ کفار مکہ اور اور دیگر کفار کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں اور اس چیز کو کھلا کھلا بیان کر دیں جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تمام لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کر دیں ، کوئی رکاوٹ آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے روک نہ دے اور ان مضطرب اذہان کے مالک لوگوں کی باتیں آپ کو اللہ کی راہ سے روک نہ دیں ﴿ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور مشرکین سے اعراض کریں ۔‘‘ یعنی مشرکین کی پروا نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے رہیے۔
[95]﴿ اِنَّا كَفَيۡنٰكَ الۡمُسۡتَهۡزِءِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھیں ان لوگوں کے شر سے بچانے کے لیے کافی ہیں جو تم سے استہزا کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ آپ کا اور اس حق کا جسے لے کر آپ مبعوث ہوئے ہیں تمسخر اڑاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول سے یہ وعدہ ہے کہ تمسخر اڑانے والے آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ان کے مقابلہ میں ، اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کافی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسا کر دکھایا، چنانچہ جس کسی نے بھی رسول اللہﷺ اور حق کے ساتھ استہزاء کیا، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک کیا اور اسے بدترین طریقے سے قتل کیا۔
[96] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا وصف بیان کیا اور فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح آپ کو ایذا پہنچاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کو بھی ایذا دیتے ہیں ۔ ﴿الَّذِيۡنَ يَجۡعَلُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’جو کہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسرے معبود‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کا رب اور ان کا خالق ہے اور ان پر تمام احسان اسی کی طرف سے ہیں ۔ ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’عنقریب وہ جان لیں گے‘‘ یعنی جب وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے تو انھیں اپنے کرتوتوں کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
[97]﴿ وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّكَ يَضِيۡقُ صَدۡرُكَ بِمَا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی وہ آپ کی تکذیب اور استہزاء کی بابت جو باتیں کہتے ہیں ، وہ ہمیں معلوم ہیں اور ہم عذاب کے ذریعے سے ان کے استیصال پر پوری پوری قدرت رکھتے ہیں نیز ان کو فوری طور پر وہ سزا دے سکتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دے رہا ہے، تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔
[98]﴿ فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَ كُنۡ مِّنَ السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’پس (اے محمدﷺ) آپ اپنے رب کی خوبیاں بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح و تحمید کیجیے اور نماز پڑھیے کیونکہ اس سے شرح صدر حاصل ہوتا ہے اور یہ ذکر اور نماز آپ کے امور میں آپ کی مدد کریں گے۔
[99]﴿ وَاعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتّٰى يَاۡتِيَكَ الۡيَقِيۡنُ ﴾ ’’اور اپنے رب کی عبادت کیجیے، یہاں تک کہ آپ کے پاس یقینی بات آجائے‘‘ یعنی آپ کو موت آ جائے، یعنی اپنے تمام اوقات میں ، اللہ تعالیٰ کے قرب کے لیے دائمی طور پر مختلف عبادات میں مصروف رہیے۔ پس نبی مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی حتیٰ کہ آپ کو آپ کے رب کی طرف سے واپسی کا حکم آ پہنچا۔ صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کثیرا۔
15:91ٱلَّذِينَ جَعَلُواْ ٱلۡقُرۡءَانَ عِضِينَ
اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)
[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔
[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔
[89]﴿وَقُلۡ اِنِّيۡۤ اَنَا النَّذِيۡرُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’اور کہہ دیجیے، میں تو کھول کر ڈرانے والا ہوں ‘‘ یعنی لوگوں کو ڈرانے، رسالت کی ادائیگی، قریب اور بعید، دوست اور دشمن کو تبلیغ کی ذمہ داری آپ(ﷺ) پر عائد ہے اسے پورا کیجیے۔ جب آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی تو ان کا حساب آپ(ﷺ) پر ہے نہ آپ کا حساب ان کے ذمہ ہے۔
[90]﴿ كَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَى الۡمُقۡتَسِمِيۡنَ ﴾ ’’جیسا کہ (عذاب) بھیجا ہم نے ان بانٹنے والوں پر‘‘ یعنی (آپ ان کو اس طرح عذاب سے ڈرا رہے ہیں ) جیسے ہم نے اس چیز کو جھٹلانے والوں پر، جسے لے کر آپﷺ مبعوث ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے میں کوشاں رہنے والوں پر، عذاب نازل کیا۔
[91]﴿الَّذِيۡنَ جَعَلُوا الۡقُرۡاٰنَ عِضِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔‘‘ یعنی جنھوں نے قرآن کو مختلف اصناف، اعضا اور اجزا میں تقسیم کر رکھا ہے اور اپنی خواہشات نفس کے مطابق اس میں تصرف کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض (قرآن کے متعلق) کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے، بعض کہتے ہیں کہ یہ کہانت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ افتراء پردازی ہے اور اس قسم کے دیگر اقوال جو ان جھٹلانے والے کفار نے پھیلا رکھے ہیں جو محض اس مقصد کے لیے قرآن میں جرح و قدح کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ہدایت کے راستے سے روک سکیں ۔
[93,92]﴿ فَوَرَبِّكَ لَنَسۡـَٔؔلَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’پس قسم ہے آپ کے رب کی، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے‘‘ یعنی ان تمام لوگوں سے جنھوں نے اس قرآن میں جرح و قدح کی، اس میں عیب چینی اور اس میں تحریف کر کے اس کو بدل ڈالا۔ ﴿ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ہم ان سے ان کے اعمال کے بارے میں ضرور پوچھیں گے۔ یہ ان کے لیے سب سے بڑی ترہیب اور ان کے اعمال پر زجروتوبیخ ہے۔
[94] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ کفار مکہ اور اور دیگر کفار کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں اور اس چیز کو کھلا کھلا بیان کر دیں جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تمام لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کر دیں ، کوئی رکاوٹ آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے روک نہ دے اور ان مضطرب اذہان کے مالک لوگوں کی باتیں آپ کو اللہ کی راہ سے روک نہ دیں ﴿ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور مشرکین سے اعراض کریں ۔‘‘ یعنی مشرکین کی پروا نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے رہیے۔
[95]﴿ اِنَّا كَفَيۡنٰكَ الۡمُسۡتَهۡزِءِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھیں ان لوگوں کے شر سے بچانے کے لیے کافی ہیں جو تم سے استہزا کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ آپ کا اور اس حق کا جسے لے کر آپ مبعوث ہوئے ہیں تمسخر اڑاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول سے یہ وعدہ ہے کہ تمسخر اڑانے والے آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ان کے مقابلہ میں ، اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کافی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسا کر دکھایا، چنانچہ جس کسی نے بھی رسول اللہﷺ اور حق کے ساتھ استہزاء کیا، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک کیا اور اسے بدترین طریقے سے قتل کیا۔
[96] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا وصف بیان کیا اور فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح آپ کو ایذا پہنچاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کو بھی ایذا دیتے ہیں ۔ ﴿الَّذِيۡنَ يَجۡعَلُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’جو کہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسرے معبود‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کا رب اور ان کا خالق ہے اور ان پر تمام احسان اسی کی طرف سے ہیں ۔ ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’عنقریب وہ جان لیں گے‘‘ یعنی جب وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے تو انھیں اپنے کرتوتوں کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
[97]﴿ وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّكَ يَضِيۡقُ صَدۡرُكَ بِمَا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی وہ آپ کی تکذیب اور استہزاء کی بابت جو باتیں کہتے ہیں ، وہ ہمیں معلوم ہیں اور ہم عذاب کے ذریعے سے ان کے استیصال پر پوری پوری قدرت رکھتے ہیں نیز ان کو فوری طور پر وہ سزا دے سکتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دے رہا ہے، تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔
[98]﴿ فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَ كُنۡ مِّنَ السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’پس (اے محمدﷺ) آپ اپنے رب کی خوبیاں بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح و تحمید کیجیے اور نماز پڑھیے کیونکہ اس سے شرح صدر حاصل ہوتا ہے اور یہ ذکر اور نماز آپ کے امور میں آپ کی مدد کریں گے۔
[99]﴿ وَاعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتّٰى يَاۡتِيَكَ الۡيَقِيۡنُ ﴾ ’’اور اپنے رب کی عبادت کیجیے، یہاں تک کہ آپ کے پاس یقینی بات آجائے‘‘ یعنی آپ کو موت آ جائے، یعنی اپنے تمام اوقات میں ، اللہ تعالیٰ کے قرب کے لیے دائمی طور پر مختلف عبادات میں مصروف رہیے۔ پس نبی مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی حتیٰ کہ آپ کو آپ کے رب کی طرف سے واپسی کا حکم آ پہنچا۔ صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کثیرا۔
15:92فَوَرَبِّكَ لَنَسۡـَٔلَنَّهُمۡ أَجۡمَعِينَ
اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)
[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔
[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔
[89]﴿وَقُلۡ اِنِّيۡۤ اَنَا النَّذِيۡرُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’اور کہہ دیجیے، میں تو کھول کر ڈرانے والا ہوں ‘‘ یعنی لوگوں کو ڈرانے، رسالت کی ادائیگی، قریب اور بعید، دوست اور دشمن کو تبلیغ کی ذمہ داری آپ(ﷺ) پر عائد ہے اسے پورا کیجیے۔ جب آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی تو ان کا حساب آپ(ﷺ) پر ہے نہ آپ کا حساب ان کے ذمہ ہے۔
[90]﴿ كَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَى الۡمُقۡتَسِمِيۡنَ ﴾ ’’جیسا کہ (عذاب) بھیجا ہم نے ان بانٹنے والوں پر‘‘ یعنی (آپ ان کو اس طرح عذاب سے ڈرا رہے ہیں ) جیسے ہم نے اس چیز کو جھٹلانے والوں پر، جسے لے کر آپﷺ مبعوث ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے میں کوشاں رہنے والوں پر، عذاب نازل کیا۔
[91]﴿الَّذِيۡنَ جَعَلُوا الۡقُرۡاٰنَ عِضِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔‘‘ یعنی جنھوں نے قرآن کو مختلف اصناف، اعضا اور اجزا میں تقسیم کر رکھا ہے اور اپنی خواہشات نفس کے مطابق اس میں تصرف کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض (قرآن کے متعلق) کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے، بعض کہتے ہیں کہ یہ کہانت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ افتراء پردازی ہے اور اس قسم کے دیگر اقوال جو ان جھٹلانے والے کفار نے پھیلا رکھے ہیں جو محض اس مقصد کے لیے قرآن میں جرح و قدح کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ہدایت کے راستے سے روک سکیں ۔
[93,92]﴿ فَوَرَبِّكَ لَنَسۡـَٔؔلَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’پس قسم ہے آپ کے رب کی، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے‘‘ یعنی ان تمام لوگوں سے جنھوں نے اس قرآن میں جرح و قدح کی، اس میں عیب چینی اور اس میں تحریف کر کے اس کو بدل ڈالا۔ ﴿ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ہم ان سے ان کے اعمال کے بارے میں ضرور پوچھیں گے۔ یہ ان کے لیے سب سے بڑی ترہیب اور ان کے اعمال پر زجروتوبیخ ہے۔
[94] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ کفار مکہ اور اور دیگر کفار کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں اور اس چیز کو کھلا کھلا بیان کر دیں جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تمام لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کر دیں ، کوئی رکاوٹ آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے روک نہ دے اور ان مضطرب اذہان کے مالک لوگوں کی باتیں آپ کو اللہ کی راہ سے روک نہ دیں ﴿ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور مشرکین سے اعراض کریں ۔‘‘ یعنی مشرکین کی پروا نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے رہیے۔
[95]﴿ اِنَّا كَفَيۡنٰكَ الۡمُسۡتَهۡزِءِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھیں ان لوگوں کے شر سے بچانے کے لیے کافی ہیں جو تم سے استہزا کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ آپ کا اور اس حق کا جسے لے کر آپ مبعوث ہوئے ہیں تمسخر اڑاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول سے یہ وعدہ ہے کہ تمسخر اڑانے والے آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ان کے مقابلہ میں ، اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کافی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسا کر دکھایا، چنانچہ جس کسی نے بھی رسول اللہﷺ اور حق کے ساتھ استہزاء کیا، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک کیا اور اسے بدترین طریقے سے قتل کیا۔
[96] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا وصف بیان کیا اور فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح آپ کو ایذا پہنچاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کو بھی ایذا دیتے ہیں ۔ ﴿الَّذِيۡنَ يَجۡعَلُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’جو کہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسرے معبود‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کا رب اور ان کا خالق ہے اور ان پر تمام احسان اسی کی طرف سے ہیں ۔ ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’عنقریب وہ جان لیں گے‘‘ یعنی جب وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے تو انھیں اپنے کرتوتوں کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
[97]﴿ وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّكَ يَضِيۡقُ صَدۡرُكَ بِمَا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی وہ آپ کی تکذیب اور استہزاء کی بابت جو باتیں کہتے ہیں ، وہ ہمیں معلوم ہیں اور ہم عذاب کے ذریعے سے ان کے استیصال پر پوری پوری قدرت رکھتے ہیں نیز ان کو فوری طور پر وہ سزا دے سکتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دے رہا ہے، تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔
[98]﴿ فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَ كُنۡ مِّنَ السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’پس (اے محمدﷺ) آپ اپنے رب کی خوبیاں بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح و تحمید کیجیے اور نماز پڑھیے کیونکہ اس سے شرح صدر حاصل ہوتا ہے اور یہ ذکر اور نماز آپ کے امور میں آپ کی مدد کریں گے۔
[99]﴿ وَاعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتّٰى يَاۡتِيَكَ الۡيَقِيۡنُ ﴾ ’’اور اپنے رب کی عبادت کیجیے، یہاں تک کہ آپ کے پاس یقینی بات آجائے‘‘ یعنی آپ کو موت آ جائے، یعنی اپنے تمام اوقات میں ، اللہ تعالیٰ کے قرب کے لیے دائمی طور پر مختلف عبادات میں مصروف رہیے۔ پس نبی مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی حتیٰ کہ آپ کو آپ کے رب کی طرف سے واپسی کا حکم آ پہنچا۔ صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کثیرا۔
15:93عَمَّا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)
[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔
[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔
[89]﴿وَقُلۡ اِنِّيۡۤ اَنَا النَّذِيۡرُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’اور کہہ دیجیے، میں تو کھول کر ڈرانے والا ہوں ‘‘ یعنی لوگوں کو ڈرانے، رسالت کی ادائیگی، قریب اور بعید، دوست اور دشمن کو تبلیغ کی ذمہ داری آپ(ﷺ) پر عائد ہے اسے پورا کیجیے۔ جب آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی تو ان کا حساب آپ(ﷺ) پر ہے نہ آپ کا حساب ان کے ذمہ ہے۔
[90]﴿ كَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَى الۡمُقۡتَسِمِيۡنَ ﴾ ’’جیسا کہ (عذاب) بھیجا ہم نے ان بانٹنے والوں پر‘‘ یعنی (آپ ان کو اس طرح عذاب سے ڈرا رہے ہیں ) جیسے ہم نے اس چیز کو جھٹلانے والوں پر، جسے لے کر آپﷺ مبعوث ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے میں کوشاں رہنے والوں پر، عذاب نازل کیا۔
[91]﴿الَّذِيۡنَ جَعَلُوا الۡقُرۡاٰنَ عِضِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔‘‘ یعنی جنھوں نے قرآن کو مختلف اصناف، اعضا اور اجزا میں تقسیم کر رکھا ہے اور اپنی خواہشات نفس کے مطابق اس میں تصرف کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض (قرآن کے متعلق) کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے، بعض کہتے ہیں کہ یہ کہانت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ افتراء پردازی ہے اور اس قسم کے دیگر اقوال جو ان جھٹلانے والے کفار نے پھیلا رکھے ہیں جو محض اس مقصد کے لیے قرآن میں جرح و قدح کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ہدایت کے راستے سے روک سکیں ۔
[93,92]﴿ فَوَرَبِّكَ لَنَسۡـَٔؔلَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’پس قسم ہے آپ کے رب کی، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے‘‘ یعنی ان تمام لوگوں سے جنھوں نے اس قرآن میں جرح و قدح کی، اس میں عیب چینی اور اس میں تحریف کر کے اس کو بدل ڈالا۔ ﴿ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ہم ان سے ان کے اعمال کے بارے میں ضرور پوچھیں گے۔ یہ ان کے لیے سب سے بڑی ترہیب اور ان کے اعمال پر زجروتوبیخ ہے۔
[94] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ کفار مکہ اور اور دیگر کفار کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں اور اس چیز کو کھلا کھلا بیان کر دیں جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تمام لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کر دیں ، کوئی رکاوٹ آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے روک نہ دے اور ان مضطرب اذہان کے مالک لوگوں کی باتیں آپ کو اللہ کی راہ سے روک نہ دیں ﴿ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور مشرکین سے اعراض کریں ۔‘‘ یعنی مشرکین کی پروا نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے رہیے۔
[95]﴿ اِنَّا كَفَيۡنٰكَ الۡمُسۡتَهۡزِءِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھیں ان لوگوں کے شر سے بچانے کے لیے کافی ہیں جو تم سے استہزا کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ آپ کا اور اس حق کا جسے لے کر آپ مبعوث ہوئے ہیں تمسخر اڑاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول سے یہ وعدہ ہے کہ تمسخر اڑانے والے آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ان کے مقابلہ میں ، اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کافی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسا کر دکھایا، چنانچہ جس کسی نے بھی رسول اللہﷺ اور حق کے ساتھ استہزاء کیا، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک کیا اور اسے بدترین طریقے سے قتل کیا۔
[96] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا وصف بیان کیا اور فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح آپ کو ایذا پہنچاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کو بھی ایذا دیتے ہیں ۔ ﴿الَّذِيۡنَ يَجۡعَلُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’جو کہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسرے معبود‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کا رب اور ان کا خالق ہے اور ان پر تمام احسان اسی کی طرف سے ہیں ۔ ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’عنقریب وہ جان لیں گے‘‘ یعنی جب وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے تو انھیں اپنے کرتوتوں کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
[97]﴿ وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّكَ يَضِيۡقُ صَدۡرُكَ بِمَا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی وہ آپ کی تکذیب اور استہزاء کی بابت جو باتیں کہتے ہیں ، وہ ہمیں معلوم ہیں اور ہم عذاب کے ذریعے سے ان کے استیصال پر پوری پوری قدرت رکھتے ہیں نیز ان کو فوری طور پر وہ سزا دے سکتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دے رہا ہے، تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔
[98]﴿ فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَ كُنۡ مِّنَ السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’پس (اے محمدﷺ) آپ اپنے رب کی خوبیاں بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح و تحمید کیجیے اور نماز پڑھیے کیونکہ اس سے شرح صدر حاصل ہوتا ہے اور یہ ذکر اور نماز آپ کے امور میں آپ کی مدد کریں گے۔
[99]﴿ وَاعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتّٰى يَاۡتِيَكَ الۡيَقِيۡنُ ﴾ ’’اور اپنے رب کی عبادت کیجیے، یہاں تک کہ آپ کے پاس یقینی بات آجائے‘‘ یعنی آپ کو موت آ جائے، یعنی اپنے تمام اوقات میں ، اللہ تعالیٰ کے قرب کے لیے دائمی طور پر مختلف عبادات میں مصروف رہیے۔ پس نبی مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی حتیٰ کہ آپ کو آپ کے رب کی طرف سے واپسی کا حکم آ پہنچا۔ صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کثیرا۔
15:94فَٱصۡدَعۡ بِمَا تُؤۡمَرُ وَأَعۡرِضۡ عَنِ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)
[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔
[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔
[89]﴿وَقُلۡ اِنِّيۡۤ اَنَا النَّذِيۡرُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’اور کہہ دیجیے، میں تو کھول کر ڈرانے والا ہوں ‘‘ یعنی لوگوں کو ڈرانے، رسالت کی ادائیگی، قریب اور بعید، دوست اور دشمن کو تبلیغ کی ذمہ داری آپ(ﷺ) پر عائد ہے اسے پورا کیجیے۔ جب آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی تو ان کا حساب آپ(ﷺ) پر ہے نہ آپ کا حساب ان کے ذمہ ہے۔
[90]﴿ كَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَى الۡمُقۡتَسِمِيۡنَ ﴾ ’’جیسا کہ (عذاب) بھیجا ہم نے ان بانٹنے والوں پر‘‘ یعنی (آپ ان کو اس طرح عذاب سے ڈرا رہے ہیں ) جیسے ہم نے اس چیز کو جھٹلانے والوں پر، جسے لے کر آپﷺ مبعوث ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے میں کوشاں رہنے والوں پر، عذاب نازل کیا۔
[91]﴿الَّذِيۡنَ جَعَلُوا الۡقُرۡاٰنَ عِضِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔‘‘ یعنی جنھوں نے قرآن کو مختلف اصناف، اعضا اور اجزا میں تقسیم کر رکھا ہے اور اپنی خواہشات نفس کے مطابق اس میں تصرف کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض (قرآن کے متعلق) کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے، بعض کہتے ہیں کہ یہ کہانت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ افتراء پردازی ہے اور اس قسم کے دیگر اقوال جو ان جھٹلانے والے کفار نے پھیلا رکھے ہیں جو محض اس مقصد کے لیے قرآن میں جرح و قدح کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ہدایت کے راستے سے روک سکیں ۔
[93,92]﴿ فَوَرَبِّكَ لَنَسۡـَٔؔلَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’پس قسم ہے آپ کے رب کی، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے‘‘ یعنی ان تمام لوگوں سے جنھوں نے اس قرآن میں جرح و قدح کی، اس میں عیب چینی اور اس میں تحریف کر کے اس کو بدل ڈالا۔ ﴿ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ہم ان سے ان کے اعمال کے بارے میں ضرور پوچھیں گے۔ یہ ان کے لیے سب سے بڑی ترہیب اور ان کے اعمال پر زجروتوبیخ ہے۔
[94] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ کفار مکہ اور اور دیگر کفار کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں اور اس چیز کو کھلا کھلا بیان کر دیں جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تمام لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کر دیں ، کوئی رکاوٹ آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے روک نہ دے اور ان مضطرب اذہان کے مالک لوگوں کی باتیں آپ کو اللہ کی راہ سے روک نہ دیں ﴿ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور مشرکین سے اعراض کریں ۔‘‘ یعنی مشرکین کی پروا نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے رہیے۔
[95]﴿ اِنَّا كَفَيۡنٰكَ الۡمُسۡتَهۡزِءِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھیں ان لوگوں کے شر سے بچانے کے لیے کافی ہیں جو تم سے استہزا کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ آپ کا اور اس حق کا جسے لے کر آپ مبعوث ہوئے ہیں تمسخر اڑاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول سے یہ وعدہ ہے کہ تمسخر اڑانے والے آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ان کے مقابلہ میں ، اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کافی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسا کر دکھایا، چنانچہ جس کسی نے بھی رسول اللہﷺ اور حق کے ساتھ استہزاء کیا، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک کیا اور اسے بدترین طریقے سے قتل کیا۔
[96] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا وصف بیان کیا اور فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح آپ کو ایذا پہنچاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کو بھی ایذا دیتے ہیں ۔ ﴿الَّذِيۡنَ يَجۡعَلُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’جو کہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسرے معبود‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کا رب اور ان کا خالق ہے اور ان پر تمام احسان اسی کی طرف سے ہیں ۔ ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’عنقریب وہ جان لیں گے‘‘ یعنی جب وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے تو انھیں اپنے کرتوتوں کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
[97]﴿ وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّكَ يَضِيۡقُ صَدۡرُكَ بِمَا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی وہ آپ کی تکذیب اور استہزاء کی بابت جو باتیں کہتے ہیں ، وہ ہمیں معلوم ہیں اور ہم عذاب کے ذریعے سے ان کے استیصال پر پوری پوری قدرت رکھتے ہیں نیز ان کو فوری طور پر وہ سزا دے سکتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دے رہا ہے، تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔
[98]﴿ فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَ كُنۡ مِّنَ السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’پس (اے محمدﷺ) آپ اپنے رب کی خوبیاں بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح و تحمید کیجیے اور نماز پڑھیے کیونکہ اس سے شرح صدر حاصل ہوتا ہے اور یہ ذکر اور نماز آپ کے امور میں آپ کی مدد کریں گے۔
[99]﴿ وَاعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتّٰى يَاۡتِيَكَ الۡيَقِيۡنُ ﴾ ’’اور اپنے رب کی عبادت کیجیے، یہاں تک کہ آپ کے پاس یقینی بات آجائے‘‘ یعنی آپ کو موت آ جائے، یعنی اپنے تمام اوقات میں ، اللہ تعالیٰ کے قرب کے لیے دائمی طور پر مختلف عبادات میں مصروف رہیے۔ پس نبی مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی حتیٰ کہ آپ کو آپ کے رب کی طرف سے واپسی کا حکم آ پہنچا۔ صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کثیرا۔
15:95إِنَّا كَفَيۡنَٰكَ ٱلۡمُسۡتَهۡزِءِينَ
اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)
[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔
[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔
[89]﴿وَقُلۡ اِنِّيۡۤ اَنَا النَّذِيۡرُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’اور کہہ دیجیے، میں تو کھول کر ڈرانے والا ہوں ‘‘ یعنی لوگوں کو ڈرانے، رسالت کی ادائیگی، قریب اور بعید، دوست اور دشمن کو تبلیغ کی ذمہ داری آپ(ﷺ) پر عائد ہے اسے پورا کیجیے۔ جب آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی تو ان کا حساب آپ(ﷺ) پر ہے نہ آپ کا حساب ان کے ذمہ ہے۔
[90]﴿ كَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَى الۡمُقۡتَسِمِيۡنَ ﴾ ’’جیسا کہ (عذاب) بھیجا ہم نے ان بانٹنے والوں پر‘‘ یعنی (آپ ان کو اس طرح عذاب سے ڈرا رہے ہیں ) جیسے ہم نے اس چیز کو جھٹلانے والوں پر، جسے لے کر آپﷺ مبعوث ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے میں کوشاں رہنے والوں پر، عذاب نازل کیا۔
[91]﴿الَّذِيۡنَ جَعَلُوا الۡقُرۡاٰنَ عِضِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔‘‘ یعنی جنھوں نے قرآن کو مختلف اصناف، اعضا اور اجزا میں تقسیم کر رکھا ہے اور اپنی خواہشات نفس کے مطابق اس میں تصرف کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض (قرآن کے متعلق) کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے، بعض کہتے ہیں کہ یہ کہانت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ افتراء پردازی ہے اور اس قسم کے دیگر اقوال جو ان جھٹلانے والے کفار نے پھیلا رکھے ہیں جو محض اس مقصد کے لیے قرآن میں جرح و قدح کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ہدایت کے راستے سے روک سکیں ۔
[93,92]﴿ فَوَرَبِّكَ لَنَسۡـَٔؔلَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’پس قسم ہے آپ کے رب کی، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے‘‘ یعنی ان تمام لوگوں سے جنھوں نے اس قرآن میں جرح و قدح کی، اس میں عیب چینی اور اس میں تحریف کر کے اس کو بدل ڈالا۔ ﴿ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ہم ان سے ان کے اعمال کے بارے میں ضرور پوچھیں گے۔ یہ ان کے لیے سب سے بڑی ترہیب اور ان کے اعمال پر زجروتوبیخ ہے۔
[94] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ کفار مکہ اور اور دیگر کفار کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں اور اس چیز کو کھلا کھلا بیان کر دیں جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تمام لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کر دیں ، کوئی رکاوٹ آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے روک نہ دے اور ان مضطرب اذہان کے مالک لوگوں کی باتیں آپ کو اللہ کی راہ سے روک نہ دیں ﴿ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور مشرکین سے اعراض کریں ۔‘‘ یعنی مشرکین کی پروا نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے رہیے۔
[95]﴿ اِنَّا كَفَيۡنٰكَ الۡمُسۡتَهۡزِءِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھیں ان لوگوں کے شر سے بچانے کے لیے کافی ہیں جو تم سے استہزا کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ آپ کا اور اس حق کا جسے لے کر آپ مبعوث ہوئے ہیں تمسخر اڑاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول سے یہ وعدہ ہے کہ تمسخر اڑانے والے آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ان کے مقابلہ میں ، اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کافی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسا کر دکھایا، چنانچہ جس کسی نے بھی رسول اللہﷺ اور حق کے ساتھ استہزاء کیا، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک کیا اور اسے بدترین طریقے سے قتل کیا۔
[96] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا وصف بیان کیا اور فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح آپ کو ایذا پہنچاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کو بھی ایذا دیتے ہیں ۔ ﴿الَّذِيۡنَ يَجۡعَلُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’جو کہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسرے معبود‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کا رب اور ان کا خالق ہے اور ان پر تمام احسان اسی کی طرف سے ہیں ۔ ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’عنقریب وہ جان لیں گے‘‘ یعنی جب وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے تو انھیں اپنے کرتوتوں کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
[97]﴿ وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّكَ يَضِيۡقُ صَدۡرُكَ بِمَا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی وہ آپ کی تکذیب اور استہزاء کی بابت جو باتیں کہتے ہیں ، وہ ہمیں معلوم ہیں اور ہم عذاب کے ذریعے سے ان کے استیصال پر پوری پوری قدرت رکھتے ہیں نیز ان کو فوری طور پر وہ سزا دے سکتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دے رہا ہے، تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔
[98]﴿ فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَ كُنۡ مِّنَ السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’پس (اے محمدﷺ) آپ اپنے رب کی خوبیاں بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح و تحمید کیجیے اور نماز پڑھیے کیونکہ اس سے شرح صدر حاصل ہوتا ہے اور یہ ذکر اور نماز آپ کے امور میں آپ کی مدد کریں گے۔
[99]﴿ وَاعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتّٰى يَاۡتِيَكَ الۡيَقِيۡنُ ﴾ ’’اور اپنے رب کی عبادت کیجیے، یہاں تک کہ آپ کے پاس یقینی بات آجائے‘‘ یعنی آپ کو موت آ جائے، یعنی اپنے تمام اوقات میں ، اللہ تعالیٰ کے قرب کے لیے دائمی طور پر مختلف عبادات میں مصروف رہیے۔ پس نبی مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی حتیٰ کہ آپ کو آپ کے رب کی طرف سے واپسی کا حکم آ پہنچا۔ صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کثیرا۔
15:96ٱلَّذِينَ يَجۡعَلُونَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَۚ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُونَ
اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)
[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔
[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔
[89]﴿وَقُلۡ اِنِّيۡۤ اَنَا النَّذِيۡرُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’اور کہہ دیجیے، میں تو کھول کر ڈرانے والا ہوں ‘‘ یعنی لوگوں کو ڈرانے، رسالت کی ادائیگی، قریب اور بعید، دوست اور دشمن کو تبلیغ کی ذمہ داری آپ(ﷺ) پر عائد ہے اسے پورا کیجیے۔ جب آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی تو ان کا حساب آپ(ﷺ) پر ہے نہ آپ کا حساب ان کے ذمہ ہے۔
[90]﴿ كَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَى الۡمُقۡتَسِمِيۡنَ ﴾ ’’جیسا کہ (عذاب) بھیجا ہم نے ان بانٹنے والوں پر‘‘ یعنی (آپ ان کو اس طرح عذاب سے ڈرا رہے ہیں ) جیسے ہم نے اس چیز کو جھٹلانے والوں پر، جسے لے کر آپﷺ مبعوث ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے میں کوشاں رہنے والوں پر، عذاب نازل کیا۔
[91]﴿الَّذِيۡنَ جَعَلُوا الۡقُرۡاٰنَ عِضِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔‘‘ یعنی جنھوں نے قرآن کو مختلف اصناف، اعضا اور اجزا میں تقسیم کر رکھا ہے اور اپنی خواہشات نفس کے مطابق اس میں تصرف کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض (قرآن کے متعلق) کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے، بعض کہتے ہیں کہ یہ کہانت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ افتراء پردازی ہے اور اس قسم کے دیگر اقوال جو ان جھٹلانے والے کفار نے پھیلا رکھے ہیں جو محض اس مقصد کے لیے قرآن میں جرح و قدح کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ہدایت کے راستے سے روک سکیں ۔
[93,92]﴿ فَوَرَبِّكَ لَنَسۡـَٔؔلَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’پس قسم ہے آپ کے رب کی، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے‘‘ یعنی ان تمام لوگوں سے جنھوں نے اس قرآن میں جرح و قدح کی، اس میں عیب چینی اور اس میں تحریف کر کے اس کو بدل ڈالا۔ ﴿ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ہم ان سے ان کے اعمال کے بارے میں ضرور پوچھیں گے۔ یہ ان کے لیے سب سے بڑی ترہیب اور ان کے اعمال پر زجروتوبیخ ہے۔
[94] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ کفار مکہ اور اور دیگر کفار کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں اور اس چیز کو کھلا کھلا بیان کر دیں جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تمام لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کر دیں ، کوئی رکاوٹ آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے روک نہ دے اور ان مضطرب اذہان کے مالک لوگوں کی باتیں آپ کو اللہ کی راہ سے روک نہ دیں ﴿ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور مشرکین سے اعراض کریں ۔‘‘ یعنی مشرکین کی پروا نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے رہیے۔
[95]﴿ اِنَّا كَفَيۡنٰكَ الۡمُسۡتَهۡزِءِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھیں ان لوگوں کے شر سے بچانے کے لیے کافی ہیں جو تم سے استہزا کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ آپ کا اور اس حق کا جسے لے کر آپ مبعوث ہوئے ہیں تمسخر اڑاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول سے یہ وعدہ ہے کہ تمسخر اڑانے والے آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ان کے مقابلہ میں ، اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کافی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسا کر دکھایا، چنانچہ جس کسی نے بھی رسول اللہﷺ اور حق کے ساتھ استہزاء کیا، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک کیا اور اسے بدترین طریقے سے قتل کیا۔
[96] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا وصف بیان کیا اور فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح آپ کو ایذا پہنچاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کو بھی ایذا دیتے ہیں ۔ ﴿الَّذِيۡنَ يَجۡعَلُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’جو کہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسرے معبود‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کا رب اور ان کا خالق ہے اور ان پر تمام احسان اسی کی طرف سے ہیں ۔ ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’عنقریب وہ جان لیں گے‘‘ یعنی جب وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے تو انھیں اپنے کرتوتوں کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
[97]﴿ وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّكَ يَضِيۡقُ صَدۡرُكَ بِمَا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی وہ آپ کی تکذیب اور استہزاء کی بابت جو باتیں کہتے ہیں ، وہ ہمیں معلوم ہیں اور ہم عذاب کے ذریعے سے ان کے استیصال پر پوری پوری قدرت رکھتے ہیں نیز ان کو فوری طور پر وہ سزا دے سکتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دے رہا ہے، تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔
[98]﴿ فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَ كُنۡ مِّنَ السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’پس (اے محمدﷺ) آپ اپنے رب کی خوبیاں بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح و تحمید کیجیے اور نماز پڑھیے کیونکہ اس سے شرح صدر حاصل ہوتا ہے اور یہ ذکر اور نماز آپ کے امور میں آپ کی مدد کریں گے۔
[99]﴿ وَاعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتّٰى يَاۡتِيَكَ الۡيَقِيۡنُ ﴾ ’’اور اپنے رب کی عبادت کیجیے، یہاں تک کہ آپ کے پاس یقینی بات آجائے‘‘ یعنی آپ کو موت آ جائے، یعنی اپنے تمام اوقات میں ، اللہ تعالیٰ کے قرب کے لیے دائمی طور پر مختلف عبادات میں مصروف رہیے۔ پس نبی مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی حتیٰ کہ آپ کو آپ کے رب کی طرف سے واپسی کا حکم آ پہنچا۔ صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کثیرا۔
15:97وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدۡرُكَ بِمَا يَقُولُونَ
اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)
[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔
[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔
[89]﴿وَقُلۡ اِنِّيۡۤ اَنَا النَّذِيۡرُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’اور کہہ دیجیے، میں تو کھول کر ڈرانے والا ہوں ‘‘ یعنی لوگوں کو ڈرانے، رسالت کی ادائیگی، قریب اور بعید، دوست اور دشمن کو تبلیغ کی ذمہ داری آپ(ﷺ) پر عائد ہے اسے پورا کیجیے۔ جب آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی تو ان کا حساب آپ(ﷺ) پر ہے نہ آپ کا حساب ان کے ذمہ ہے۔
[90]﴿ كَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَى الۡمُقۡتَسِمِيۡنَ ﴾ ’’جیسا کہ (عذاب) بھیجا ہم نے ان بانٹنے والوں پر‘‘ یعنی (آپ ان کو اس طرح عذاب سے ڈرا رہے ہیں ) جیسے ہم نے اس چیز کو جھٹلانے والوں پر، جسے لے کر آپﷺ مبعوث ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے میں کوشاں رہنے والوں پر، عذاب نازل کیا۔
[91]﴿الَّذِيۡنَ جَعَلُوا الۡقُرۡاٰنَ عِضِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔‘‘ یعنی جنھوں نے قرآن کو مختلف اصناف، اعضا اور اجزا میں تقسیم کر رکھا ہے اور اپنی خواہشات نفس کے مطابق اس میں تصرف کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض (قرآن کے متعلق) کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے، بعض کہتے ہیں کہ یہ کہانت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ افتراء پردازی ہے اور اس قسم کے دیگر اقوال جو ان جھٹلانے والے کفار نے پھیلا رکھے ہیں جو محض اس مقصد کے لیے قرآن میں جرح و قدح کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ہدایت کے راستے سے روک سکیں ۔
[93,92]﴿ فَوَرَبِّكَ لَنَسۡـَٔؔلَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’پس قسم ہے آپ کے رب کی، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے‘‘ یعنی ان تمام لوگوں سے جنھوں نے اس قرآن میں جرح و قدح کی، اس میں عیب چینی اور اس میں تحریف کر کے اس کو بدل ڈالا۔ ﴿ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ہم ان سے ان کے اعمال کے بارے میں ضرور پوچھیں گے۔ یہ ان کے لیے سب سے بڑی ترہیب اور ان کے اعمال پر زجروتوبیخ ہے۔
[94] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ کفار مکہ اور اور دیگر کفار کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں اور اس چیز کو کھلا کھلا بیان کر دیں جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تمام لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کر دیں ، کوئی رکاوٹ آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے روک نہ دے اور ان مضطرب اذہان کے مالک لوگوں کی باتیں آپ کو اللہ کی راہ سے روک نہ دیں ﴿ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور مشرکین سے اعراض کریں ۔‘‘ یعنی مشرکین کی پروا نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے رہیے۔
[95]﴿ اِنَّا كَفَيۡنٰكَ الۡمُسۡتَهۡزِءِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھیں ان لوگوں کے شر سے بچانے کے لیے کافی ہیں جو تم سے استہزا کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ آپ کا اور اس حق کا جسے لے کر آپ مبعوث ہوئے ہیں تمسخر اڑاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول سے یہ وعدہ ہے کہ تمسخر اڑانے والے آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ان کے مقابلہ میں ، اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کافی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسا کر دکھایا، چنانچہ جس کسی نے بھی رسول اللہﷺ اور حق کے ساتھ استہزاء کیا، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک کیا اور اسے بدترین طریقے سے قتل کیا۔
[96] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا وصف بیان کیا اور فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح آپ کو ایذا پہنچاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کو بھی ایذا دیتے ہیں ۔ ﴿الَّذِيۡنَ يَجۡعَلُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’جو کہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسرے معبود‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کا رب اور ان کا خالق ہے اور ان پر تمام احسان اسی کی طرف سے ہیں ۔ ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’عنقریب وہ جان لیں گے‘‘ یعنی جب وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے تو انھیں اپنے کرتوتوں کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
[97]﴿ وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّكَ يَضِيۡقُ صَدۡرُكَ بِمَا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی وہ آپ کی تکذیب اور استہزاء کی بابت جو باتیں کہتے ہیں ، وہ ہمیں معلوم ہیں اور ہم عذاب کے ذریعے سے ان کے استیصال پر پوری پوری قدرت رکھتے ہیں نیز ان کو فوری طور پر وہ سزا دے سکتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دے رہا ہے، تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔
[98]﴿ فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَ كُنۡ مِّنَ السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’پس (اے محمدﷺ) آپ اپنے رب کی خوبیاں بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح و تحمید کیجیے اور نماز پڑھیے کیونکہ اس سے شرح صدر حاصل ہوتا ہے اور یہ ذکر اور نماز آپ کے امور میں آپ کی مدد کریں گے۔
[99]﴿ وَاعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتّٰى يَاۡتِيَكَ الۡيَقِيۡنُ ﴾ ’’اور اپنے رب کی عبادت کیجیے، یہاں تک کہ آپ کے پاس یقینی بات آجائے‘‘ یعنی آپ کو موت آ جائے، یعنی اپنے تمام اوقات میں ، اللہ تعالیٰ کے قرب کے لیے دائمی طور پر مختلف عبادات میں مصروف رہیے۔ پس نبی مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی حتیٰ کہ آپ کو آپ کے رب کی طرف سے واپسی کا حکم آ پہنچا۔ صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کثیرا۔
15:98فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ ٱلسَّـٰجِدِينَ
اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)
[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔
[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔
[89]﴿وَقُلۡ اِنِّيۡۤ اَنَا النَّذِيۡرُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’اور کہہ دیجیے، میں تو کھول کر ڈرانے والا ہوں ‘‘ یعنی لوگوں کو ڈرانے، رسالت کی ادائیگی، قریب اور بعید، دوست اور دشمن کو تبلیغ کی ذمہ داری آپ(ﷺ) پر عائد ہے اسے پورا کیجیے۔ جب آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی تو ان کا حساب آپ(ﷺ) پر ہے نہ آپ کا حساب ان کے ذمہ ہے۔
[90]﴿ كَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَى الۡمُقۡتَسِمِيۡنَ ﴾ ’’جیسا کہ (عذاب) بھیجا ہم نے ان بانٹنے والوں پر‘‘ یعنی (آپ ان کو اس طرح عذاب سے ڈرا رہے ہیں ) جیسے ہم نے اس چیز کو جھٹلانے والوں پر، جسے لے کر آپﷺ مبعوث ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے میں کوشاں رہنے والوں پر، عذاب نازل کیا۔
[91]﴿الَّذِيۡنَ جَعَلُوا الۡقُرۡاٰنَ عِضِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔‘‘ یعنی جنھوں نے قرآن کو مختلف اصناف، اعضا اور اجزا میں تقسیم کر رکھا ہے اور اپنی خواہشات نفس کے مطابق اس میں تصرف کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض (قرآن کے متعلق) کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے، بعض کہتے ہیں کہ یہ کہانت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ افتراء پردازی ہے اور اس قسم کے دیگر اقوال جو ان جھٹلانے والے کفار نے پھیلا رکھے ہیں جو محض اس مقصد کے لیے قرآن میں جرح و قدح کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ہدایت کے راستے سے روک سکیں ۔
[93,92]﴿ فَوَرَبِّكَ لَنَسۡـَٔؔلَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’پس قسم ہے آپ کے رب کی، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے‘‘ یعنی ان تمام لوگوں سے جنھوں نے اس قرآن میں جرح و قدح کی، اس میں عیب چینی اور اس میں تحریف کر کے اس کو بدل ڈالا۔ ﴿ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ہم ان سے ان کے اعمال کے بارے میں ضرور پوچھیں گے۔ یہ ان کے لیے سب سے بڑی ترہیب اور ان کے اعمال پر زجروتوبیخ ہے۔
[94] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ کفار مکہ اور اور دیگر کفار کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں اور اس چیز کو کھلا کھلا بیان کر دیں جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تمام لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کر دیں ، کوئی رکاوٹ آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے روک نہ دے اور ان مضطرب اذہان کے مالک لوگوں کی باتیں آپ کو اللہ کی راہ سے روک نہ دیں ﴿ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور مشرکین سے اعراض کریں ۔‘‘ یعنی مشرکین کی پروا نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے رہیے۔
[95]﴿ اِنَّا كَفَيۡنٰكَ الۡمُسۡتَهۡزِءِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھیں ان لوگوں کے شر سے بچانے کے لیے کافی ہیں جو تم سے استہزا کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ آپ کا اور اس حق کا جسے لے کر آپ مبعوث ہوئے ہیں تمسخر اڑاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول سے یہ وعدہ ہے کہ تمسخر اڑانے والے آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ان کے مقابلہ میں ، اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کافی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسا کر دکھایا، چنانچہ جس کسی نے بھی رسول اللہﷺ اور حق کے ساتھ استہزاء کیا، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک کیا اور اسے بدترین طریقے سے قتل کیا۔
[96] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا وصف بیان کیا اور فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح آپ کو ایذا پہنچاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کو بھی ایذا دیتے ہیں ۔ ﴿الَّذِيۡنَ يَجۡعَلُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’جو کہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسرے معبود‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کا رب اور ان کا خالق ہے اور ان پر تمام احسان اسی کی طرف سے ہیں ۔ ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’عنقریب وہ جان لیں گے‘‘ یعنی جب وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے تو انھیں اپنے کرتوتوں کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
[97]﴿ وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّكَ يَضِيۡقُ صَدۡرُكَ بِمَا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی وہ آپ کی تکذیب اور استہزاء کی بابت جو باتیں کہتے ہیں ، وہ ہمیں معلوم ہیں اور ہم عذاب کے ذریعے سے ان کے استیصال پر پوری پوری قدرت رکھتے ہیں نیز ان کو فوری طور پر وہ سزا دے سکتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دے رہا ہے، تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔
[98]﴿ فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَ كُنۡ مِّنَ السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’پس (اے محمدﷺ) آپ اپنے رب کی خوبیاں بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح و تحمید کیجیے اور نماز پڑھیے کیونکہ اس سے شرح صدر حاصل ہوتا ہے اور یہ ذکر اور نماز آپ کے امور میں آپ کی مدد کریں گے۔
[99]﴿ وَاعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتّٰى يَاۡتِيَكَ الۡيَقِيۡنُ ﴾ ’’اور اپنے رب کی عبادت کیجیے، یہاں تک کہ آپ کے پاس یقینی بات آجائے‘‘ یعنی آپ کو موت آ جائے، یعنی اپنے تمام اوقات میں ، اللہ تعالیٰ کے قرب کے لیے دائمی طور پر مختلف عبادات میں مصروف رہیے۔ پس نبی مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی حتیٰ کہ آپ کو آپ کے رب کی طرف سے واپسی کا حکم آ پہنچا۔ صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کثیرا۔
15:99وَٱعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأۡتِيَكَ ٱلۡيَقِينُ
اور البتہ تحقیق دی ہیں ہم نے آپ کو ساتھ (آیتیں ) بار بار دہرائی جانے والیں اور قرآن عظیم (87) نہ ڈالیں آپ اپنی آنکھیں طرف اس (مال و متاع) کے کہ فائدہ دیا ہم نے ساتھ اس کے کئی قسم کے لوگوں کو ان (کافروں ) میں سےاور نہ غم کھائیں ان پراورجھکا دیں اپنا بازو مومنوں کے لیے (88) اور فرما دیجیے، بے شک میں تو خوب ڈرانے والا ہوں ظاہر (89)(ایسے ہی عذاب سے) جیسا کہ نازل کیا تھا ہم نے اوپر قسمیں کھانے والوں کے(90) وہ لوگ جنھوں نے کر دیا قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (91) پس قسم ہے آپ کے رب کی! ہم ضرور پوچھیں گے ان سے سب سے (92) اس چیز کی بابت جو تھے وہ عمل کرتے (93) پس کھول کر سنا دیں اس چیز کو کہ حکم دیے گئے ہیں آپ (اس کا)اور اعراض کریں مشرکوں سے (94) بلاشبہ ہم کافی ہیں آپ کو استہزاء کرنے والوں سے (95)وہ لوگ جو بناتے ہیں ساتھ اللہ کے معبود دوسرے، پس عنقریب وہ جان لیں گے (انجام اپنا)(96) اور البتہ تحقیق جانتے ہیں ہم کہ بے شک آپ، تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں (97) پس آپ تسبیح بیان کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور ہوں آپ سجدہ کرنے والوں سے (98) اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس یقین (موت)(99)
[87] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِيۡ ﴾ ’’ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں ، دہرائی جانے والی‘‘ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ’’سات لمبی سورتیں ‘‘ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں ۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ﴾ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں ، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ۔
[88] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ’’سبع مثانی‘‘ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۔‘‘ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں ‘‘ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر غم نہ کھائیں ‘‘ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔
[89]﴿وَقُلۡ اِنِّيۡۤ اَنَا النَّذِيۡرُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’اور کہہ دیجیے، میں تو کھول کر ڈرانے والا ہوں ‘‘ یعنی لوگوں کو ڈرانے، رسالت کی ادائیگی، قریب اور بعید، دوست اور دشمن کو تبلیغ کی ذمہ داری آپ(ﷺ) پر عائد ہے اسے پورا کیجیے۔ جب آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی تو ان کا حساب آپ(ﷺ) پر ہے نہ آپ کا حساب ان کے ذمہ ہے۔
[90]﴿ كَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَى الۡمُقۡتَسِمِيۡنَ ﴾ ’’جیسا کہ (عذاب) بھیجا ہم نے ان بانٹنے والوں پر‘‘ یعنی (آپ ان کو اس طرح عذاب سے ڈرا رہے ہیں ) جیسے ہم نے اس چیز کو جھٹلانے والوں پر، جسے لے کر آپﷺ مبعوث ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے میں کوشاں رہنے والوں پر، عذاب نازل کیا۔
[91]﴿الَّذِيۡنَ جَعَلُوا الۡقُرۡاٰنَ عِضِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔‘‘ یعنی جنھوں نے قرآن کو مختلف اصناف، اعضا اور اجزا میں تقسیم کر رکھا ہے اور اپنی خواہشات نفس کے مطابق اس میں تصرف کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض (قرآن کے متعلق) کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے، بعض کہتے ہیں کہ یہ کہانت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ افتراء پردازی ہے اور اس قسم کے دیگر اقوال جو ان جھٹلانے والے کفار نے پھیلا رکھے ہیں جو محض اس مقصد کے لیے قرآن میں جرح و قدح کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ہدایت کے راستے سے روک سکیں ۔
[93,92]﴿ فَوَرَبِّكَ لَنَسۡـَٔؔلَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’پس قسم ہے آپ کے رب کی، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے‘‘ یعنی ان تمام لوگوں سے جنھوں نے اس قرآن میں جرح و قدح کی، اس میں عیب چینی اور اس میں تحریف کر کے اس کو بدل ڈالا۔ ﴿ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ہم ان سے ان کے اعمال کے بارے میں ضرور پوچھیں گے۔ یہ ان کے لیے سب سے بڑی ترہیب اور ان کے اعمال پر زجروتوبیخ ہے۔
[94] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ کفار مکہ اور اور دیگر کفار کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں اور اس چیز کو کھلا کھلا بیان کر دیں جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تمام لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کر دیں ، کوئی رکاوٹ آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے روک نہ دے اور ان مضطرب اذہان کے مالک لوگوں کی باتیں آپ کو اللہ کی راہ سے روک نہ دیں ﴿ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور مشرکین سے اعراض کریں ۔‘‘ یعنی مشرکین کی پروا نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے رہیے۔
[95]﴿ اِنَّا كَفَيۡنٰكَ الۡمُسۡتَهۡزِءِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھیں ان لوگوں کے شر سے بچانے کے لیے کافی ہیں جو تم سے استہزا کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ آپ کا اور اس حق کا جسے لے کر آپ مبعوث ہوئے ہیں تمسخر اڑاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول سے یہ وعدہ ہے کہ تمسخر اڑانے والے آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ان کے مقابلہ میں ، اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کافی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسا کر دکھایا، چنانچہ جس کسی نے بھی رسول اللہﷺ اور حق کے ساتھ استہزاء کیا، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک کیا اور اسے بدترین طریقے سے قتل کیا۔
[96] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا وصف بیان کیا اور فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح آپ کو ایذا پہنچاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کو بھی ایذا دیتے ہیں ۔ ﴿الَّذِيۡنَ يَجۡعَلُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’جو کہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسرے معبود‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کا رب اور ان کا خالق ہے اور ان پر تمام احسان اسی کی طرف سے ہیں ۔ ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’عنقریب وہ جان لیں گے‘‘ یعنی جب وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے تو انھیں اپنے کرتوتوں کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
[97]﴿ وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّكَ يَضِيۡقُ صَدۡرُكَ بِمَا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی وہ آپ کی تکذیب اور استہزاء کی بابت جو باتیں کہتے ہیں ، وہ ہمیں معلوم ہیں اور ہم عذاب کے ذریعے سے ان کے استیصال پر پوری پوری قدرت رکھتے ہیں نیز ان کو فوری طور پر وہ سزا دے سکتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دے رہا ہے، تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔
[98]﴿ فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَ كُنۡ مِّنَ السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’پس (اے محمدﷺ) آپ اپنے رب کی خوبیاں بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ یعنی نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح و تحمید کیجیے اور نماز پڑھیے کیونکہ اس سے شرح صدر حاصل ہوتا ہے اور یہ ذکر اور نماز آپ کے امور میں آپ کی مدد کریں گے۔
[99]﴿ وَاعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتّٰى يَاۡتِيَكَ الۡيَقِيۡنُ ﴾ ’’اور اپنے رب کی عبادت کیجیے، یہاں تک کہ آپ کے پاس یقینی بات آجائے‘‘ یعنی آپ کو موت آ جائے، یعنی اپنے تمام اوقات میں ، اللہ تعالیٰ کے قرب کے لیے دائمی طور پر مختلف عبادات میں مصروف رہیے۔ پس نبی مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی حتیٰ کہ آپ کو آپ کے رب کی طرف سے واپسی کا حکم آ پہنچا۔ صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کثیرا۔