al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 13 · 43 verses
13:1الٓمٓرۚ تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِۗ وَٱلَّذِيٓ أُنزِلَ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَ ٱلۡحَقُّ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤۡمِنُونَ
الٓـمّٓرٰ، یہ آیتیں ہیں کتاب کی اور وہ جو نازل کیا گیا آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے، حق ہے لیکن اکثر لوگ نہیں ایمان لاتے (1)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ قرآن، کتاب اللہ کی آیات ہیں جو دین کے اصول و فروع میں ہر اس چیز کی طرف راہنمائی کرتی ہیں جس کے بندے محتاج ہیں اور یہ قرآن جو رسول اللہﷺ پر آپ کے رب کی طرف سے اتارا گیا وہ واضح حق ہے کیونکہ اس کی خبریں صدق پر مبنی اور اس کے اوامر و نواہی سراسر عدل ہیں اور قطعی دلائل و براہین ان کی تائید کرتے ہیں ۔ جو کوئی اس کے علم کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہی حقیقی اہل علم میں شمار ہوتا ہے اور اس کا علم اس کے لیے عمل کا موجب بنتا ہے۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ یعنی اکثر لوگ یا تو اپنی جہالت، اس سے روگردانی اور اس کی طرف عدم توجہ کی بناء پر یا محض عناد اور ظلم کی و جہ سے، اس قرآن پر ایمان نہیں رکھتے۔ بنا بریں اکثر لوگ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے، اس کی و جہ اس سبب کا معدوم ہونا ہے جو فائدہ اٹھانے کا موجب ہے۔
13:2ٱللَّهُ ٱلَّذِي رَفَعَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ بِغَيۡرِ عَمَدٖ تَرَوۡنَهَاۖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ وَسَخَّرَ ٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَۖ كُلّٞ يَجۡرِي لِأَجَلٖ مُّسَمّٗىۚ يُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَ يُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّكُم بِلِقَآءِ رَبِّكُمۡ تُوقِنُونَ
اللہ وہ ذات ہے جس نے بلند کیے آسمان بغیر ستونوں کے، تم دیکھتے ہو ان کو، پھر مستوی ہوا وہ اوپرعرش کےاور کام میں لگا دیا سورج اورچاند کو، ہر ایک چل رہا ہے واسطے وقت مقرر کے، وہ تدبیر کرتا ہے کام کی ، تفصیل سے بیان کرتا ہے نشانیاں (اپنی) تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو (2) اور وہی ہے (اللہ) جس نے بچھائی زمین اور بنائے اس میں پہاڑ اورنہریں اور ہر قسم کے پھلوں سے بنائے اس میں جوڑے، دو دو، ڈھانپتا ہے رات سے دن کو، بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں واسطے ان لوگوں کے جو غورو فکر کرتے ہیں (3) اور زمین میں ٹکڑے ہیں ایک دوسرے کے قریب قریب اور (اسی طرح) باغات ہیں انگوروں کے اور کھیتیاں ہیں اور کھجوریں ہیں جڑ سے ملی ہوئی اور جدا جدا، سیراب کی جاتی ہیں ساتھ ایک ہی پانی کےاور ہم فضیلت دیتے ہیں بعض کو بعض پھلوں (کے ذائقے) میں ، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں واسطے ان لوگوں کے جو عقل رکھتے ہیں (4)
[2] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ تخلیق و تدبیر اور عظمت و سلطان میں منفرد ہے اس کی یہ وحدانیت دلالت کرتی ہے کہ وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں کرنی چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ ﴾ ’’اللہ وہی تو ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا۔‘‘ آسمانوں کے بہت بڑے اور بہت وسیع ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو بلند کر رکھا ہے۔ ﴿ بِغَيۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَهَا ﴾ ’’ستونوں کے بغیر جیسا کہ تم دیکھتے ہو۔‘‘ یعنی آسمانوں کو سہارا دینے کے لیے ان کے نیچے کوئی ستون نہیں اور ان کو ستون نے سہارا دیا ہوتا تو وہ تمھیں ضرور دکھائی دیتے۔ ﴿ ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے بعد ﴿اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾ ’’وہ عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ وہ عرش عظیم جو اعلیٰ ترین مخلوق ہے۔ استواء کی کیفیت وہ ہے جو اس کے جلال کے لائق اور اس کے کمال کے مناسب ہے۔ ﴿ وَسَخَّرَ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ﴾ ’’اور سورج اور چاند کو مسخر کردیا۔‘‘ بندوں کے مصالح نیز ان کے مویشیوں ، باغات اور کھیتیوں کے مصالح کی خاطر۔ ﴿ كُلٌّ ﴾ ’’ہر ایک‘‘ یعنی چاند اور سورج ﴿ يَّجۡرِيۡ ﴾ ’’چل رہا ہے۔‘‘ یعنی غالب اور علم والی ہستی کے مقرر کردہ اندازے پر چل رہا ہے۔ ﴿لِاَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾’’ایک وقت مقرر تک‘‘ دونوں ایک منظم رفتار سے چل رہے ہیں جس میں کوئی فرق آتا ہے نہ ان کی رفتار میں کوئی سستی آتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت مقرر آ جائے گا اور اللہ اس جہان آب و گل کی بساط لپیٹ دے گا اور بندوں کو دارآخرت میں منتقل کر دے گا۔ جو ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے۔ تب اس وقت اللہ تعالیٰ ان آسمانوں کو لپیٹ دے گا اور ان کو اور ہی آسمانوں سے بدل دے گا اور اسی طرح اس زمین کو دوسری زمین سے بدل دے گا۔ سورج اور چاند بے نور کر دیے جائیں گے اور ان کو اکٹھا کر کے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ تاکہ ان کی عبادت کرنے والے دیکھ لیں کہ وہ عبادت کے مستحق نہ تھے تاکہ وہ سخت حسرت زدہ ہوں اور کفار کو معلوم ہو جائے کہ وہ جھوٹے تھے۔﴿ يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ يُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’تدبیر کرتا ہے کام کی، وہ کھول کر بیان کرتا ہے آیتوں کو‘‘ یہاں خلق و امر کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے یعنی اللہ عظمت والا تخت اقتدار پر مستوی ہے اور وہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تدبیر کر رہا ہے، پس وہی پیدا کرتا ہے اور رزق عطا کرتا ہے، وہی غنی کرتا اور محتاج کرتا ہے، وہ کچھ قوموں کو سربلند کرتا ہے اور کچھ قوموں کو قعر مذلت میں گرا دیتا ہے، وہی عزت عطا کرتا ہے وہی ذلت سے ہمکنار کرتا ہے، وہی گراتا ہے اور وہی رفعتیں عطا کرتا ہے، وہی لغزشوں پر عذر قبول کرتا ہے، وہی مصیبتوں اور تکلیفوں کو دور کرتا ہے، وہی تقدیر کو اس کے وقت مقرر پر نافذ کرتا ہے، جو اس کے احاطۂ علم میں ہے اور جس پر اس کا علم جاری ہو چکا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان فرشتوں کو تدبیر کائنات کے لیے بھیجتا ہے جن کو اس تدبیر کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔وہ کتب الٰہی کو اپنے رسولوں پر نازل فرماتا ہے، احکام شریعت اور اوامر و نواہی کو جن کے بندے سخت محتاج ہیں ، کھول کھول کر بیان کرتا ہے توضیح، تبیین اور تمییز کے ذریعے سے ان کی تفصیل بیان کرتا ہے ﴿ لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’شاید کہ تم‘‘ یعنی اس سبب سے کہ اس نے تمھیں آفاق میں اپنی نشانیاں دکھائیں اور تم پر آیات قرآنیہ نازل فرمائیں ﴿ بِلِقَآءِ رَبِّكُمۡ تُوۡقِنُوۡنَؔ ﴾ ’’اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو‘‘ کیونکہ دلائل کی کثرت اور ان کی توضیح و تبیین تمام امور الٰہیہ میں ، خاص طور پر بڑے بڑے عقائد ، مثلاً: زندگی بعد موت اور قبروں سے نکلنے میں یقین کے حصول کا سبب بنتی ہے۔ نیز ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ﴿حَكِيۡمٌ﴾ ’’حکمت والا‘‘ ہے وہ مخلوق کو بے فائدہ پیدا نہیں کرتا نہ وہ ان کو عبث چھوڑے گا۔ پس جیسے اس نے انبیاء و مرسلین مبعوث کیے اور بندوں کے لیے اوامر و نواہی کی خاطر کتابیں نازل فرمائیں ۔ تب یہ ضروری ٹھہرا کہ وہ بندوں کو ایک ایسے جہاں میں منتقل کرے جہاں انھیں ان کے اعمال کی جزا دی جائے۔ نیکوکاروں کو بہترین بدلہ اور بدکاروں کو ان کی بدی کا بدلہ۔
[3]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ مَدَّ الۡاَرۡضَ ﴾ ’’وہی ہے جس نے پھیلائی زمین‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اپنے بندوں کے لیے تخلیق کیا، اس کو وسعت بخشی، اس میں برکت عطا کی، اپنے بندوں کے لیے اس کو پھیلایا اور اس کے اندران کے لیے فوائد و مصالح ودیعت کیے۔ ﴿ وَجَعَلَ فِيۡهَا رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور رکھے اس میں پہاڑ‘‘ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے تاکہ زمین مخلوق کے ساتھ ڈھلک نہ جائے۔ اس لیے اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین اپنے رہنے والوں کے ساتھ ایک طرف جھک جاتی کیونکہ زمین پانی کی سطح پر تیر رہی ہے جس کو ثبات و استقرار نہیں ۔ مضبوطی کے ساتھ جمے ہوئے پہاڑوں کے ذریعے سے اس میں توازن پیدا کیا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین کے لیے میخیں بنایا ہے۔ ﴿ وَاَنۡهٰرًا﴾ ’’اور دریا‘‘ یعنی زمین کے اندر دریا بنائے جو انسانوں ، ان کے مویشیوں اور ان کے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں ۔ پس ان دریاؤں کے ذریعے سے درخت، کھیتیاں اور باغات اگائے اور ان کے ذریعے سے خیر کثیر برآمد کیا۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَمِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِيۡهَا زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ ’’اور ہر پھل کے رکھے اس میں جوڑے، دو دو قسم‘‘ یعنی ان میں دو اصناف پیدا کیں جن کے بندے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ يُغۡشِي الَّيۡلَ النَّهَارَ ﴾ ’’ڈھانکتا ہے دن پر رات کو‘‘ وہ دن پر رات کو طاری کر دیتا ہے جس سے تمام آفاق پر اندھیرا چھا جاتا ہے اور ہر جاندار اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر دن بھر کی مشقت اور تھکن کو دور کرنے کے لیے آرام کرتا ہے۔ جب وہ اپنی نیند پوری کر لیتے ہیں تو دن رات پر چھا جاتا ہے تو لوگ دن کے وقت پھیل کر اپنے مصالح کے حصول اور اپنے کام کاج میں مشغول ہو جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمِنۡ رَّحۡمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾(القصص: 28؍73)’’اور یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے تمھارے لیے دن اور رات بنائے تاکہ تم اس میں آرام کرو اور تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور شاید کہ تم شکر گزار بنو۔‘‘﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ۔‘‘ یعنی اس میں مطالب الہیہ پر دلائل ہیں ﴿ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَؔكَّرُوۡنَؔ۠ ﴾ ’’غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے لیے جو ان آیات و دلائل میں غور و فکر کرتے ہیں ، انھیں عبرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو اس ہستی کی طرف راہنمائی کرتی ہیں جس نے ان کو تخلیق کیا، ان کی تدبیر کی اور ان میں تصرف کیا۔ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی الٰہ اور کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ وہ غائب اور موجود ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ وہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے، وہ اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے، اپنے خلق و امر میں قابل تعریف، نہایت بابرکت اور بہت بلند ہستی ہے۔
[4]﴿ وَفِي الۡاَرۡضِ قِطَعٌ مُّتَجٰؔوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ ﴾ ’’اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور باغات۔‘‘ اس کے کمال قدرت اور انوکھی صنعت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ زمین میں الگ الگ مگر ایک دوسرے سے متصل خطے پائے جاتے ہیں اور اس کے اندر باغات ہیں جن میں انواع و اقسام کے درخت ہیں ﴿ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّزَرۡعٌ وَّنَخِيۡلٌ ﴾ ’’انگور کے باغ، کھیتیاں اور کھجور کے باغ ہیں ‘‘ اور دیگر پھل اور کھجور کے باغات جن میں سے بعض ﴿ صِنۡوَانٌ ﴾ ’’ایک کی جڑ دوسری سے ملی ہوئی‘‘ یعنی متعدد درخت ایک ہی جڑ سے پھوٹے ہیں ﴿ وَّغَيۡرُ صِنۡوَانٍ يُّسۡقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ﴾ ’’اور بعض بن ملی، ان کو پانی بھی ایک ہی دیا جاتا ہے‘‘ یعنی تمام درخت ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں اور ایک ہی زمین میں اگے ہوئے ہیں ۔ ﴿ وَنُفَضِّلُ بَعۡضَهَا عَلٰى بَعۡضٍ فِي الۡاُكُلِ﴾’’اور فضیلت دی ہم نے بعض کو بعض پر میووں میں ‘‘ یعنی رنگ، ذائقہ، فوائد اور لذت میں بعض کو بعض پر فضیلت دی۔پس یہ اچھی اور زرخیز زمین ہے جس میں بکثرت سرسبز گھاس، بیل بوٹے، درخت اور کھیتیاں اگتی ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی ملی ہوئی زمین کی ایک قسم وہ ہے جس میں گھاس اگتی ہے نہ وہ پانی کو روک کر اس کا ذخیرہ کر سکتی ہے۔ زمین کی ایک قسم وہ ہے جو پانی کو روک کر ذخیرہ کرتی ہے مگر اس میں ہریالی نہیں اگتی، ایک زمین وہ ہے جس میں درخت اور کھیتیاں اگتی ہیں مگر گھاس نہیں ہوتی۔ کوئی پھل شیریں ہے، کوئی تلخ اور کسی کا ذائقہ ان کے بین بین ہے۔کیا یہ تنوع ان کا ذاتی اور طبعی ہے یا غالب اور رحم کرنے والی ہستی کی مقرر کردہ تقدیر ہے؟﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں سمجھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں ۔‘‘ یعنی اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایسی عقل سے بہرہ ور ہیں جو ان کی ان امور کی طرف راہنمائی کرتی ہے جو ان کے لیے مفید ہیں یہ عقل ان امور کی طرف لے چلتی ہے جن کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے اوامر و نواہی کو سمجھتے ہیں ۔رہے روگرداں اور بلیدالذہن لوگ تو وہ اپنے نظریات کے اندھیروں میں حیران و سرگرداں اور اپنی گمراہی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔ اپنے رب کی طرف انھیں کوئی راہ سجھائی دیتی ہے نہ اس کی بات کو یاد رکھتے ہیں ۔
13:3وَهُوَ ٱلَّذِي مَدَّ ٱلۡأَرۡضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَٰسِيَ وَأَنۡهَٰرٗاۖ وَمِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ جَعَلَ فِيهَا زَوۡجَيۡنِ ٱثۡنَيۡنِۖ يُغۡشِي ٱلَّيۡلَ ٱلنَّهَارَۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ
اللہ وہ ذات ہے جس نے بلند کیے آسمان بغیر ستونوں کے، تم دیکھتے ہو ان کو، پھر مستوی ہوا وہ اوپرعرش کےاور کام میں لگا دیا سورج اورچاند کو، ہر ایک چل رہا ہے واسطے وقت مقرر کے، وہ تدبیر کرتا ہے کام کی ، تفصیل سے بیان کرتا ہے نشانیاں (اپنی) تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو (2) اور وہی ہے (اللہ) جس نے بچھائی زمین اور بنائے اس میں پہاڑ اورنہریں اور ہر قسم کے پھلوں سے بنائے اس میں جوڑے، دو دو، ڈھانپتا ہے رات سے دن کو، بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں واسطے ان لوگوں کے جو غورو فکر کرتے ہیں (3) اور زمین میں ٹکڑے ہیں ایک دوسرے کے قریب قریب اور (اسی طرح) باغات ہیں انگوروں کے اور کھیتیاں ہیں اور کھجوریں ہیں جڑ سے ملی ہوئی اور جدا جدا، سیراب کی جاتی ہیں ساتھ ایک ہی پانی کےاور ہم فضیلت دیتے ہیں بعض کو بعض پھلوں (کے ذائقے) میں ، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں واسطے ان لوگوں کے جو عقل رکھتے ہیں (4)
[2] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ تخلیق و تدبیر اور عظمت و سلطان میں منفرد ہے اس کی یہ وحدانیت دلالت کرتی ہے کہ وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں کرنی چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ ﴾ ’’اللہ وہی تو ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا۔‘‘ آسمانوں کے بہت بڑے اور بہت وسیع ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو بلند کر رکھا ہے۔ ﴿ بِغَيۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَهَا ﴾ ’’ستونوں کے بغیر جیسا کہ تم دیکھتے ہو۔‘‘ یعنی آسمانوں کو سہارا دینے کے لیے ان کے نیچے کوئی ستون نہیں اور ان کو ستون نے سہارا دیا ہوتا تو وہ تمھیں ضرور دکھائی دیتے۔ ﴿ ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے بعد ﴿اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾ ’’وہ عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ وہ عرش عظیم جو اعلیٰ ترین مخلوق ہے۔ استواء کی کیفیت وہ ہے جو اس کے جلال کے لائق اور اس کے کمال کے مناسب ہے۔ ﴿ وَسَخَّرَ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ﴾ ’’اور سورج اور چاند کو مسخر کردیا۔‘‘ بندوں کے مصالح نیز ان کے مویشیوں ، باغات اور کھیتیوں کے مصالح کی خاطر۔ ﴿ كُلٌّ ﴾ ’’ہر ایک‘‘ یعنی چاند اور سورج ﴿ يَّجۡرِيۡ ﴾ ’’چل رہا ہے۔‘‘ یعنی غالب اور علم والی ہستی کے مقرر کردہ اندازے پر چل رہا ہے۔ ﴿لِاَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾’’ایک وقت مقرر تک‘‘ دونوں ایک منظم رفتار سے چل رہے ہیں جس میں کوئی فرق آتا ہے نہ ان کی رفتار میں کوئی سستی آتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت مقرر آ جائے گا اور اللہ اس جہان آب و گل کی بساط لپیٹ دے گا اور بندوں کو دارآخرت میں منتقل کر دے گا۔ جو ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے۔ تب اس وقت اللہ تعالیٰ ان آسمانوں کو لپیٹ دے گا اور ان کو اور ہی آسمانوں سے بدل دے گا اور اسی طرح اس زمین کو دوسری زمین سے بدل دے گا۔ سورج اور چاند بے نور کر دیے جائیں گے اور ان کو اکٹھا کر کے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ تاکہ ان کی عبادت کرنے والے دیکھ لیں کہ وہ عبادت کے مستحق نہ تھے تاکہ وہ سخت حسرت زدہ ہوں اور کفار کو معلوم ہو جائے کہ وہ جھوٹے تھے۔﴿ يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ يُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’تدبیر کرتا ہے کام کی، وہ کھول کر بیان کرتا ہے آیتوں کو‘‘ یہاں خلق و امر کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے یعنی اللہ عظمت والا تخت اقتدار پر مستوی ہے اور وہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تدبیر کر رہا ہے، پس وہی پیدا کرتا ہے اور رزق عطا کرتا ہے، وہی غنی کرتا اور محتاج کرتا ہے، وہ کچھ قوموں کو سربلند کرتا ہے اور کچھ قوموں کو قعر مذلت میں گرا دیتا ہے، وہی عزت عطا کرتا ہے وہی ذلت سے ہمکنار کرتا ہے، وہی گراتا ہے اور وہی رفعتیں عطا کرتا ہے، وہی لغزشوں پر عذر قبول کرتا ہے، وہی مصیبتوں اور تکلیفوں کو دور کرتا ہے، وہی تقدیر کو اس کے وقت مقرر پر نافذ کرتا ہے، جو اس کے احاطۂ علم میں ہے اور جس پر اس کا علم جاری ہو چکا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان فرشتوں کو تدبیر کائنات کے لیے بھیجتا ہے جن کو اس تدبیر کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔وہ کتب الٰہی کو اپنے رسولوں پر نازل فرماتا ہے، احکام شریعت اور اوامر و نواہی کو جن کے بندے سخت محتاج ہیں ، کھول کھول کر بیان کرتا ہے توضیح، تبیین اور تمییز کے ذریعے سے ان کی تفصیل بیان کرتا ہے ﴿ لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’شاید کہ تم‘‘ یعنی اس سبب سے کہ اس نے تمھیں آفاق میں اپنی نشانیاں دکھائیں اور تم پر آیات قرآنیہ نازل فرمائیں ﴿ بِلِقَآءِ رَبِّكُمۡ تُوۡقِنُوۡنَؔ ﴾ ’’اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو‘‘ کیونکہ دلائل کی کثرت اور ان کی توضیح و تبیین تمام امور الٰہیہ میں ، خاص طور پر بڑے بڑے عقائد ، مثلاً: زندگی بعد موت اور قبروں سے نکلنے میں یقین کے حصول کا سبب بنتی ہے۔ نیز ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ﴿حَكِيۡمٌ﴾ ’’حکمت والا‘‘ ہے وہ مخلوق کو بے فائدہ پیدا نہیں کرتا نہ وہ ان کو عبث چھوڑے گا۔ پس جیسے اس نے انبیاء و مرسلین مبعوث کیے اور بندوں کے لیے اوامر و نواہی کی خاطر کتابیں نازل فرمائیں ۔ تب یہ ضروری ٹھہرا کہ وہ بندوں کو ایک ایسے جہاں میں منتقل کرے جہاں انھیں ان کے اعمال کی جزا دی جائے۔ نیکوکاروں کو بہترین بدلہ اور بدکاروں کو ان کی بدی کا بدلہ۔
[3]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ مَدَّ الۡاَرۡضَ ﴾ ’’وہی ہے جس نے پھیلائی زمین‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اپنے بندوں کے لیے تخلیق کیا، اس کو وسعت بخشی، اس میں برکت عطا کی، اپنے بندوں کے لیے اس کو پھیلایا اور اس کے اندران کے لیے فوائد و مصالح ودیعت کیے۔ ﴿ وَجَعَلَ فِيۡهَا رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور رکھے اس میں پہاڑ‘‘ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے تاکہ زمین مخلوق کے ساتھ ڈھلک نہ جائے۔ اس لیے اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین اپنے رہنے والوں کے ساتھ ایک طرف جھک جاتی کیونکہ زمین پانی کی سطح پر تیر رہی ہے جس کو ثبات و استقرار نہیں ۔ مضبوطی کے ساتھ جمے ہوئے پہاڑوں کے ذریعے سے اس میں توازن پیدا کیا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین کے لیے میخیں بنایا ہے۔ ﴿ وَاَنۡهٰرًا﴾ ’’اور دریا‘‘ یعنی زمین کے اندر دریا بنائے جو انسانوں ، ان کے مویشیوں اور ان کے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں ۔ پس ان دریاؤں کے ذریعے سے درخت، کھیتیاں اور باغات اگائے اور ان کے ذریعے سے خیر کثیر برآمد کیا۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَمِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِيۡهَا زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ ’’اور ہر پھل کے رکھے اس میں جوڑے، دو دو قسم‘‘ یعنی ان میں دو اصناف پیدا کیں جن کے بندے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ يُغۡشِي الَّيۡلَ النَّهَارَ ﴾ ’’ڈھانکتا ہے دن پر رات کو‘‘ وہ دن پر رات کو طاری کر دیتا ہے جس سے تمام آفاق پر اندھیرا چھا جاتا ہے اور ہر جاندار اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر دن بھر کی مشقت اور تھکن کو دور کرنے کے لیے آرام کرتا ہے۔ جب وہ اپنی نیند پوری کر لیتے ہیں تو دن رات پر چھا جاتا ہے تو لوگ دن کے وقت پھیل کر اپنے مصالح کے حصول اور اپنے کام کاج میں مشغول ہو جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمِنۡ رَّحۡمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾(القصص: 28؍73)’’اور یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے تمھارے لیے دن اور رات بنائے تاکہ تم اس میں آرام کرو اور تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور شاید کہ تم شکر گزار بنو۔‘‘﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ۔‘‘ یعنی اس میں مطالب الہیہ پر دلائل ہیں ﴿ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَؔكَّرُوۡنَؔ۠ ﴾ ’’غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے لیے جو ان آیات و دلائل میں غور و فکر کرتے ہیں ، انھیں عبرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو اس ہستی کی طرف راہنمائی کرتی ہیں جس نے ان کو تخلیق کیا، ان کی تدبیر کی اور ان میں تصرف کیا۔ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی الٰہ اور کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ وہ غائب اور موجود ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ وہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے، وہ اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے، اپنے خلق و امر میں قابل تعریف، نہایت بابرکت اور بہت بلند ہستی ہے۔
[4]﴿ وَفِي الۡاَرۡضِ قِطَعٌ مُّتَجٰؔوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ ﴾ ’’اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور باغات۔‘‘ اس کے کمال قدرت اور انوکھی صنعت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ زمین میں الگ الگ مگر ایک دوسرے سے متصل خطے پائے جاتے ہیں اور اس کے اندر باغات ہیں جن میں انواع و اقسام کے درخت ہیں ﴿ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّزَرۡعٌ وَّنَخِيۡلٌ ﴾ ’’انگور کے باغ، کھیتیاں اور کھجور کے باغ ہیں ‘‘ اور دیگر پھل اور کھجور کے باغات جن میں سے بعض ﴿ صِنۡوَانٌ ﴾ ’’ایک کی جڑ دوسری سے ملی ہوئی‘‘ یعنی متعدد درخت ایک ہی جڑ سے پھوٹے ہیں ﴿ وَّغَيۡرُ صِنۡوَانٍ يُّسۡقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ﴾ ’’اور بعض بن ملی، ان کو پانی بھی ایک ہی دیا جاتا ہے‘‘ یعنی تمام درخت ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں اور ایک ہی زمین میں اگے ہوئے ہیں ۔ ﴿ وَنُفَضِّلُ بَعۡضَهَا عَلٰى بَعۡضٍ فِي الۡاُكُلِ﴾’’اور فضیلت دی ہم نے بعض کو بعض پر میووں میں ‘‘ یعنی رنگ، ذائقہ، فوائد اور لذت میں بعض کو بعض پر فضیلت دی۔پس یہ اچھی اور زرخیز زمین ہے جس میں بکثرت سرسبز گھاس، بیل بوٹے، درخت اور کھیتیاں اگتی ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی ملی ہوئی زمین کی ایک قسم وہ ہے جس میں گھاس اگتی ہے نہ وہ پانی کو روک کر اس کا ذخیرہ کر سکتی ہے۔ زمین کی ایک قسم وہ ہے جو پانی کو روک کر ذخیرہ کرتی ہے مگر اس میں ہریالی نہیں اگتی، ایک زمین وہ ہے جس میں درخت اور کھیتیاں اگتی ہیں مگر گھاس نہیں ہوتی۔ کوئی پھل شیریں ہے، کوئی تلخ اور کسی کا ذائقہ ان کے بین بین ہے۔کیا یہ تنوع ان کا ذاتی اور طبعی ہے یا غالب اور رحم کرنے والی ہستی کی مقرر کردہ تقدیر ہے؟﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں سمجھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں ۔‘‘ یعنی اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایسی عقل سے بہرہ ور ہیں جو ان کی ان امور کی طرف راہنمائی کرتی ہے جو ان کے لیے مفید ہیں یہ عقل ان امور کی طرف لے چلتی ہے جن کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے اوامر و نواہی کو سمجھتے ہیں ۔رہے روگرداں اور بلیدالذہن لوگ تو وہ اپنے نظریات کے اندھیروں میں حیران و سرگرداں اور اپنی گمراہی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔ اپنے رب کی طرف انھیں کوئی راہ سجھائی دیتی ہے نہ اس کی بات کو یاد رکھتے ہیں ۔
13:4وَفِي ٱلۡأَرۡضِ قِطَعٞ مُّتَجَٰوِرَٰتٞ وَجَنَّـٰتٞ مِّنۡ أَعۡنَٰبٖ وَزَرۡعٞ وَنَخِيلٞ صِنۡوَانٞ وَغَيۡرُ صِنۡوَانٖ يُسۡقَىٰ بِمَآءٖ وَٰحِدٖ وَنُفَضِّلُ بَعۡضَهَا عَلَىٰ بَعۡضٖ فِي ٱلۡأُكُلِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ
اللہ وہ ذات ہے جس نے بلند کیے آسمان بغیر ستونوں کے، تم دیکھتے ہو ان کو، پھر مستوی ہوا وہ اوپرعرش کےاور کام میں لگا دیا سورج اورچاند کو، ہر ایک چل رہا ہے واسطے وقت مقرر کے، وہ تدبیر کرتا ہے کام کی ، تفصیل سے بیان کرتا ہے نشانیاں (اپنی) تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو (2) اور وہی ہے (اللہ) جس نے بچھائی زمین اور بنائے اس میں پہاڑ اورنہریں اور ہر قسم کے پھلوں سے بنائے اس میں جوڑے، دو دو، ڈھانپتا ہے رات سے دن کو، بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں واسطے ان لوگوں کے جو غورو فکر کرتے ہیں (3) اور زمین میں ٹکڑے ہیں ایک دوسرے کے قریب قریب اور (اسی طرح) باغات ہیں انگوروں کے اور کھیتیاں ہیں اور کھجوریں ہیں جڑ سے ملی ہوئی اور جدا جدا، سیراب کی جاتی ہیں ساتھ ایک ہی پانی کےاور ہم فضیلت دیتے ہیں بعض کو بعض پھلوں (کے ذائقے) میں ، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں واسطے ان لوگوں کے جو عقل رکھتے ہیں (4)
[2] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ تخلیق و تدبیر اور عظمت و سلطان میں منفرد ہے اس کی یہ وحدانیت دلالت کرتی ہے کہ وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں کرنی چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ ﴾ ’’اللہ وہی تو ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا۔‘‘ آسمانوں کے بہت بڑے اور بہت وسیع ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو بلند کر رکھا ہے۔ ﴿ بِغَيۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَهَا ﴾ ’’ستونوں کے بغیر جیسا کہ تم دیکھتے ہو۔‘‘ یعنی آسمانوں کو سہارا دینے کے لیے ان کے نیچے کوئی ستون نہیں اور ان کو ستون نے سہارا دیا ہوتا تو وہ تمھیں ضرور دکھائی دیتے۔ ﴿ ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے بعد ﴿اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾ ’’وہ عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ وہ عرش عظیم جو اعلیٰ ترین مخلوق ہے۔ استواء کی کیفیت وہ ہے جو اس کے جلال کے لائق اور اس کے کمال کے مناسب ہے۔ ﴿ وَسَخَّرَ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ﴾ ’’اور سورج اور چاند کو مسخر کردیا۔‘‘ بندوں کے مصالح نیز ان کے مویشیوں ، باغات اور کھیتیوں کے مصالح کی خاطر۔ ﴿ كُلٌّ ﴾ ’’ہر ایک‘‘ یعنی چاند اور سورج ﴿ يَّجۡرِيۡ ﴾ ’’چل رہا ہے۔‘‘ یعنی غالب اور علم والی ہستی کے مقرر کردہ اندازے پر چل رہا ہے۔ ﴿لِاَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾’’ایک وقت مقرر تک‘‘ دونوں ایک منظم رفتار سے چل رہے ہیں جس میں کوئی فرق آتا ہے نہ ان کی رفتار میں کوئی سستی آتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت مقرر آ جائے گا اور اللہ اس جہان آب و گل کی بساط لپیٹ دے گا اور بندوں کو دارآخرت میں منتقل کر دے گا۔ جو ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے۔ تب اس وقت اللہ تعالیٰ ان آسمانوں کو لپیٹ دے گا اور ان کو اور ہی آسمانوں سے بدل دے گا اور اسی طرح اس زمین کو دوسری زمین سے بدل دے گا۔ سورج اور چاند بے نور کر دیے جائیں گے اور ان کو اکٹھا کر کے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ تاکہ ان کی عبادت کرنے والے دیکھ لیں کہ وہ عبادت کے مستحق نہ تھے تاکہ وہ سخت حسرت زدہ ہوں اور کفار کو معلوم ہو جائے کہ وہ جھوٹے تھے۔﴿ يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ يُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’تدبیر کرتا ہے کام کی، وہ کھول کر بیان کرتا ہے آیتوں کو‘‘ یہاں خلق و امر کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے یعنی اللہ عظمت والا تخت اقتدار پر مستوی ہے اور وہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تدبیر کر رہا ہے، پس وہی پیدا کرتا ہے اور رزق عطا کرتا ہے، وہی غنی کرتا اور محتاج کرتا ہے، وہ کچھ قوموں کو سربلند کرتا ہے اور کچھ قوموں کو قعر مذلت میں گرا دیتا ہے، وہی عزت عطا کرتا ہے وہی ذلت سے ہمکنار کرتا ہے، وہی گراتا ہے اور وہی رفعتیں عطا کرتا ہے، وہی لغزشوں پر عذر قبول کرتا ہے، وہی مصیبتوں اور تکلیفوں کو دور کرتا ہے، وہی تقدیر کو اس کے وقت مقرر پر نافذ کرتا ہے، جو اس کے احاطۂ علم میں ہے اور جس پر اس کا علم جاری ہو چکا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان فرشتوں کو تدبیر کائنات کے لیے بھیجتا ہے جن کو اس تدبیر کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔وہ کتب الٰہی کو اپنے رسولوں پر نازل فرماتا ہے، احکام شریعت اور اوامر و نواہی کو جن کے بندے سخت محتاج ہیں ، کھول کھول کر بیان کرتا ہے توضیح، تبیین اور تمییز کے ذریعے سے ان کی تفصیل بیان کرتا ہے ﴿ لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’شاید کہ تم‘‘ یعنی اس سبب سے کہ اس نے تمھیں آفاق میں اپنی نشانیاں دکھائیں اور تم پر آیات قرآنیہ نازل فرمائیں ﴿ بِلِقَآءِ رَبِّكُمۡ تُوۡقِنُوۡنَؔ ﴾ ’’اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو‘‘ کیونکہ دلائل کی کثرت اور ان کی توضیح و تبیین تمام امور الٰہیہ میں ، خاص طور پر بڑے بڑے عقائد ، مثلاً: زندگی بعد موت اور قبروں سے نکلنے میں یقین کے حصول کا سبب بنتی ہے۔ نیز ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ﴿حَكِيۡمٌ﴾ ’’حکمت والا‘‘ ہے وہ مخلوق کو بے فائدہ پیدا نہیں کرتا نہ وہ ان کو عبث چھوڑے گا۔ پس جیسے اس نے انبیاء و مرسلین مبعوث کیے اور بندوں کے لیے اوامر و نواہی کی خاطر کتابیں نازل فرمائیں ۔ تب یہ ضروری ٹھہرا کہ وہ بندوں کو ایک ایسے جہاں میں منتقل کرے جہاں انھیں ان کے اعمال کی جزا دی جائے۔ نیکوکاروں کو بہترین بدلہ اور بدکاروں کو ان کی بدی کا بدلہ۔
[3]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ مَدَّ الۡاَرۡضَ ﴾ ’’وہی ہے جس نے پھیلائی زمین‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اپنے بندوں کے لیے تخلیق کیا، اس کو وسعت بخشی، اس میں برکت عطا کی، اپنے بندوں کے لیے اس کو پھیلایا اور اس کے اندران کے لیے فوائد و مصالح ودیعت کیے۔ ﴿ وَجَعَلَ فِيۡهَا رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور رکھے اس میں پہاڑ‘‘ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے تاکہ زمین مخلوق کے ساتھ ڈھلک نہ جائے۔ اس لیے اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین اپنے رہنے والوں کے ساتھ ایک طرف جھک جاتی کیونکہ زمین پانی کی سطح پر تیر رہی ہے جس کو ثبات و استقرار نہیں ۔ مضبوطی کے ساتھ جمے ہوئے پہاڑوں کے ذریعے سے اس میں توازن پیدا کیا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین کے لیے میخیں بنایا ہے۔ ﴿ وَاَنۡهٰرًا﴾ ’’اور دریا‘‘ یعنی زمین کے اندر دریا بنائے جو انسانوں ، ان کے مویشیوں اور ان کے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں ۔ پس ان دریاؤں کے ذریعے سے درخت، کھیتیاں اور باغات اگائے اور ان کے ذریعے سے خیر کثیر برآمد کیا۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَمِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِيۡهَا زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ ’’اور ہر پھل کے رکھے اس میں جوڑے، دو دو قسم‘‘ یعنی ان میں دو اصناف پیدا کیں جن کے بندے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ يُغۡشِي الَّيۡلَ النَّهَارَ ﴾ ’’ڈھانکتا ہے دن پر رات کو‘‘ وہ دن پر رات کو طاری کر دیتا ہے جس سے تمام آفاق پر اندھیرا چھا جاتا ہے اور ہر جاندار اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر دن بھر کی مشقت اور تھکن کو دور کرنے کے لیے آرام کرتا ہے۔ جب وہ اپنی نیند پوری کر لیتے ہیں تو دن رات پر چھا جاتا ہے تو لوگ دن کے وقت پھیل کر اپنے مصالح کے حصول اور اپنے کام کاج میں مشغول ہو جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمِنۡ رَّحۡمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾(القصص: 28؍73)’’اور یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے تمھارے لیے دن اور رات بنائے تاکہ تم اس میں آرام کرو اور تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور شاید کہ تم شکر گزار بنو۔‘‘﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ۔‘‘ یعنی اس میں مطالب الہیہ پر دلائل ہیں ﴿ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَؔكَّرُوۡنَؔ۠ ﴾ ’’غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے لیے جو ان آیات و دلائل میں غور و فکر کرتے ہیں ، انھیں عبرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو اس ہستی کی طرف راہنمائی کرتی ہیں جس نے ان کو تخلیق کیا، ان کی تدبیر کی اور ان میں تصرف کیا۔ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی الٰہ اور کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ وہ غائب اور موجود ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ وہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے، وہ اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے، اپنے خلق و امر میں قابل تعریف، نہایت بابرکت اور بہت بلند ہستی ہے۔
[4]﴿ وَفِي الۡاَرۡضِ قِطَعٌ مُّتَجٰؔوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ ﴾ ’’اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور باغات۔‘‘ اس کے کمال قدرت اور انوکھی صنعت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ زمین میں الگ الگ مگر ایک دوسرے سے متصل خطے پائے جاتے ہیں اور اس کے اندر باغات ہیں جن میں انواع و اقسام کے درخت ہیں ﴿ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّزَرۡعٌ وَّنَخِيۡلٌ ﴾ ’’انگور کے باغ، کھیتیاں اور کھجور کے باغ ہیں ‘‘ اور دیگر پھل اور کھجور کے باغات جن میں سے بعض ﴿ صِنۡوَانٌ ﴾ ’’ایک کی جڑ دوسری سے ملی ہوئی‘‘ یعنی متعدد درخت ایک ہی جڑ سے پھوٹے ہیں ﴿ وَّغَيۡرُ صِنۡوَانٍ يُّسۡقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ﴾ ’’اور بعض بن ملی، ان کو پانی بھی ایک ہی دیا جاتا ہے‘‘ یعنی تمام درخت ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں اور ایک ہی زمین میں اگے ہوئے ہیں ۔ ﴿ وَنُفَضِّلُ بَعۡضَهَا عَلٰى بَعۡضٍ فِي الۡاُكُلِ﴾’’اور فضیلت دی ہم نے بعض کو بعض پر میووں میں ‘‘ یعنی رنگ، ذائقہ، فوائد اور لذت میں بعض کو بعض پر فضیلت دی۔پس یہ اچھی اور زرخیز زمین ہے جس میں بکثرت سرسبز گھاس، بیل بوٹے، درخت اور کھیتیاں اگتی ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی ملی ہوئی زمین کی ایک قسم وہ ہے جس میں گھاس اگتی ہے نہ وہ پانی کو روک کر اس کا ذخیرہ کر سکتی ہے۔ زمین کی ایک قسم وہ ہے جو پانی کو روک کر ذخیرہ کرتی ہے مگر اس میں ہریالی نہیں اگتی، ایک زمین وہ ہے جس میں درخت اور کھیتیاں اگتی ہیں مگر گھاس نہیں ہوتی۔ کوئی پھل شیریں ہے، کوئی تلخ اور کسی کا ذائقہ ان کے بین بین ہے۔کیا یہ تنوع ان کا ذاتی اور طبعی ہے یا غالب اور رحم کرنے والی ہستی کی مقرر کردہ تقدیر ہے؟﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں سمجھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں ۔‘‘ یعنی اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایسی عقل سے بہرہ ور ہیں جو ان کی ان امور کی طرف راہنمائی کرتی ہے جو ان کے لیے مفید ہیں یہ عقل ان امور کی طرف لے چلتی ہے جن کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے اوامر و نواہی کو سمجھتے ہیں ۔رہے روگرداں اور بلیدالذہن لوگ تو وہ اپنے نظریات کے اندھیروں میں حیران و سرگرداں اور اپنی گمراہی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔ اپنے رب کی طرف انھیں کوئی راہ سجھائی دیتی ہے نہ اس کی بات کو یاد رکھتے ہیں ۔
13:5۞وَإِن تَعۡجَبۡ فَعَجَبٞ قَوۡلُهُمۡ أَءِذَا كُنَّا تُرَٰبًا أَءِنَّا لَفِي خَلۡقٖ جَدِيدٍۗ أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمۡۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ ٱلۡأَغۡلَٰلُ فِيٓ أَعۡنَاقِهِمۡۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ
او ر اگر تعجب کریں آپ تو عجیب ہے بات ان کی کہ کیا جب ہو جائیں گے ہم مٹی تو کیا ہم ، البتہ نئی پیدائش میں ہوں گے؟ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا ساتھ اپنے رب کےاور یہی لوگ ہیں کہ طوق ہوں گے ان کی گردنوں میں اور یہی لوگ دوزخی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (5)
[5] اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنۡ تَعۡجَبۡ ﴾ ’’اور اگر آپ تعجب کریں ‘‘ میں احتمال ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی عظمت اور توحید کے دلائل کی کثرت پر تعجب ہو۔ اس لیے کہ اس کے باوجود جھٹلانے والوں کا انکار اور ان کا روز قیامت کی تکذیب کرنا عجیب بات ہے۔ کہتے ہیں : ﴿ فَعَجَبٌ قَوۡلُهُمۡ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيۡ خَلۡقٍ جَدِيۡدٍ﴾ ’’کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے، کیا نئے سرے سے بنائے جائیں گے؟‘‘ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق یہ بہت بعید اور ممتنع ہے کہ جب وہ مٹی میں رل مل جائیں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کرے۔ انھوں نے بربنائے جہالت خالق کی قدرت کو مخلوق کی قدرت پر قیاس کر لیا ہے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ یہ مخلوق کی قدرت سے باہر ہے تو انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ خالق کے لیے بھی ممتنع ہے۔ حالانکہ وہ فراموش کر بیٹھے کہ ان کو پہلی بار اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھے۔آیت کریمہ میں اس معنیٰ کا احتمال بھی ہے اگر آپ ان کی بات اور ان کی ان کے مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی تکذیب پر تعجب کرتے ہیں تو واقعی ان کی یہ بات عجائبات میں شمار ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ شخص جس کے سامنے آیات الٰہی بیان کی جائیں ، جو زندگی بعد موت پر ایسے قطعی دلائل دیکھتا ہو جن میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں اور اس کے بعد وہ انکار کر دے تو یہ عجیب بات ہے۔ مگر ان کی یہ بات کوئی انوکھی چیز نہیں ہے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ﴾’’یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا‘‘ اور اس کی وحدانیت کو جھٹلایا حالانکہ توحید سب سے زیادہ واضح اور سب سے زیادہ روشن چیز ہے۔﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ الۡاَغۡلٰلُ ﴾ ’’اور وہی لوگ، طوق ہیں ‘‘ جو ان کو راہ ہدایت سے روکتے ہیں ﴿ فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ﴾ ’’ان کی گردنوں میں ‘‘ کیونکہ انھیں ایمان کی طرف بلایا گیا مگر وہ ایمان نہ لائے، ان کے سامنے ہدایت پیش کی گئی مگر انھوں نے اسے قبول نہ کیا۔ لہذا سزا کے طور پر ان کے دل پلٹ دیے گئے کیونکہ یہ لوگ پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے۔ ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’یہی لوگ دوزخی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ یعنی وہ جہنم سے کبھی نہیں نکلیں گے۔
13:6وَيَسۡتَعۡجِلُونَكَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبۡلَ ٱلۡحَسَنَةِ وَقَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهِمُ ٱلۡمَثُلَٰتُۗ وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغۡفِرَةٖ لِّلنَّاسِ عَلَىٰ ظُلۡمِهِمۡۖ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ
اور وہ جلدی طلب کرتے ہیں آپ سے برائی (عذاب) پہلے بھلائی (رحمت) سےاور تحقیق گزر چکی ہیں پہلے ان سے مثالیں (عذاب کی)اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ مغفرت والا ہے واسطے لوگوں کے باوجود ان کے ظلم کےاور بے شک آپ کا رب ، البتہ سخت سزا والا ہے (6)
[6] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کو جھٹلانے والے مشرکین کی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جن کو نصیحت کی گئی مگر انھوں نے نصیحت حاصل نہ کی۔ ان پر دلائل قائم کیے گئے مگر انھوں نے ان دلائل کو نہ مانا بلکہ اس کے برعکس انھوں نے کھلم کھلا انکار کیا انھوں نے اللہ واحد و قہار کے حلم اور ان کے گناہوں پر فوری طور پر گرفت نہ ہونے کی و جہ سے استدلال کیا کہ وہ حق پر ہیں ۔ انھوں نے رسول اللہﷺ سے کہنا شروع کر دیا کہ وہ جلدی سے عذاب لے آئیں اور ان میں سے بعض تو یہاں تک کہہ دیتے ﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال: 8؍32)’’اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘﴿ وَقَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِمُ الۡمَثُلٰتُ﴾ ’’اور گزر چکی ہیں ان سے پہلے مثالیں ‘‘ اور حال یہ ہے کہ جھٹلانے والی قوموں پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نازل ہونے کے واقعات گزر چکے ہیں کیا وہ اپنے حال پر غور و فکر کر کے اپنی جہالت کو چھوڑ نہیں سکتے؟ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوۡ مَغۡفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلۡمِهِمۡ﴾ ’’اور آپ کا رب لوگوں کو ان کے ظلم کے باوجود معاف کرنے والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی بھلائی، اس کا احسان، اس کا کرم اور اس کا عفوودرگزر اس کے بندوں پر ہمیشہ نازل ہوتا رہتا ہے اور بندوں کی طرف سے ان کا شرک و عصیان اس کی طرف بلند ہوتا ہے، اس کے بندے اس کی نافرمانی کرتے ہیں وہ ان کو اپنے دروازے کی طرف بلاتا ہے، وہ جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں مگر وہ انھیں اپنے فضل و احسان سے محروم نہیں کرتا۔ پس اگر وہ توبہ کر لیں تو وہ ان کا دوست ہے کیونکہ وہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں سے بہت محبت کرتا ہے۔ اگر وہ توبہ نہ کریں تو وہ ان کا طبیب ہے، وہ ان کو مصائب میں مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ ان کو گناہوں سے پاک کردے۔ وہ کہتا ہے:﴿قُلۡ يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ﴾(الزمر:39؍53) ’’کہہ دیجیے! اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘ ان لوگوں کو جو اپنے گناہوں پر مصر رہتے ہیں ، جو اللہ غالب اور بخشنے والے کے پاس توبہ، استغفار اور التجا کرنے سے انکار کر دیتے ہیں ۔ پس بندوں کو اللہ تعالیٰ کی ان سزاؤں سے ڈرنا چاہیے جو وہ اہل جرائم کو دیتا ہے، اس کی پکڑ نہایت سخت اور دردناک ہے۔
13:7وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ ءَايَةٞ مِّن رَّبِّهِۦٓۗ إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرٞۖ وَلِكُلِّ قَوۡمٍ هَادٍ
اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کیوں نہیں نازل کی گئی اوپر اس (رسول) کے کوئی نشانی (معجزہ) اس کے رب کی طرف سے؟ (اے پیغمبر!) آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور واسطے ہر قوم کے ایک راہ دکھانے والاہوتا ہے (7)
[7] یعنی کفار آپﷺ سے بغیر سوچے سمجھے اور اپنی خواہشات کے مطابق معین آیات و معجزات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ ’’کیوں نہیں اتاری گئی آپ پر کوئی نشانی، آپ کے رب کی طرف سے‘‘ معجزات کے مطالبے کا جواب نہ ملنے پر رسول اللہﷺ کے سامنے عذر پیش کرتے ہوئے یہ بات کہتے ہیں ۔ حالانکہ رسول اللہﷺ تو محض ڈرانے والے ہیں آپ کو کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو آیات و معجزات نازل فرماتا ہے۔ اس نے ایسے واضح دلائل کے ساتھ رسول کی تائید فرمائی جو عقل مندوں پر مخفی نہیں ہیں اور طالب حق ان دلائل کے ذریعے سے راہ راست پا سکتا ہے۔ رہا منکر حق، جو اپنے ظلم و جہالت کی وجہ سے بغیر سوچے سمجھے آیات و معجزات کا مطالبہ کرتا ہے تو یہ مطالبہ باطل جھوٹ اور بہتان طرازی ہے کیونکہ اس کے پاس جو بھی معجزہ اور نشانی آئے گی وہ اس پر ایمان لائے گا نہ اس کی اطاعت کرے گا کیونکہ اس کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس کی صحت پر دلائل نہیں بلکہ اس کے ایمان نہ لانے کی وجہ صرف خواہشات نفس اور شہوات کی پیروی ہے۔ ﴿ وَّلِكُلِّ قَوۡمٍ هَادٍ ﴾ ’’اور ہر قوم کے لیے ایک راہنما ہوا کرتا ہے۔‘‘ یعنی ہر قوم کے پاس انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین میں سے ایک داعی آتا ہے جو انھیں ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔ ان کے پاس دلائل و براہین ہوتے ہیں جو اس ہدایت کی صحت پر دلالت کرتے ہیں ۔
13:8ٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا تَحۡمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ ٱلۡأَرۡحَامُ وَمَا تَزۡدَادُۚ وَكُلُّ شَيۡءٍ عِندَهُۥ بِمِقۡدَارٍ
اللہ جانتا ہے جو کچھ اٹھاتی ہے (پیٹ میں ) ہر ایک مادہ،اور جو کچھ کم کرتے ہیں رحم اور جو کچھ زیادہ کرتے ہیں اورہر ایک چیز اس کے ہاں ساتھ ایک اندازے کے ہے(8) وہ جاننے والا ہے پوشیدہ اور ظاہر کا، بہت بڑا، نہایت بلند (9) برابر ہے (اللہ کے علم میں ) تم میں سے جو کوئی آہستہ کہے بات کو یا بلندآواز سے کہے اسےاورجو شخص کہ وہ چھپنے والا ہے رات (کے اندھیرے) میں اور جو چلنے والا ہے دن (کی روشنی) میں (10) واسطے اس (انسان) کے باری بار ی آنے والے فرشتے ہیں اس کے آگے سے اور اس کے پیچھے سے، وہ حفاظت کرتے ہیں اس کی اللہ کے حکم سے، بے شک اللہ نہیں بدلتا اس نعمت کو جو کسی قوم کے پاس ہے یہاں تک کہ وہ (خود) بدل لیں اپنی اس کیفیت کو جو ان کے دلوں میں ہےاور جب ارادہ کرتا ہے اللہ ساتھ کسی قوم کے برائی (عذاب) کا تو نہیں کوئی پھیرنے والا اس کواور نہیں واسطے ان (لوگوں ) کے سوائے اللہ کے کوئی کار سا ز(11)
[9,8] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کا علم سب کو شامل، اس کی اطلاع بہت وسیع اور اس نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، چنانچہ فرماتا ہے:﴿ اَللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تَحۡمِلُ كُلُّ اُنۡثٰى﴾ ’’اللہ جانتا ہے جو پیٹ میں رکھتی ہے ہر مادہ‘‘ یعنی انسان اورجانوروں میں سے ﴿ وَمَا تَغِيۡضُ الۡاَرۡحَامُ ﴾ ’’اور جو کم کرتے ہیں پیٹ‘‘ یعنی رحم میں موجود حمل میں جو کمی ہوتی ہے یا وہ ہلاک ہوجاتے ہیں یا وہ سکڑ کر مضمحل ہو جاتے ہیں ﴿ وَمَا تَزۡدَادُ﴾ ’’اور جو وہ زیادہ کرتے ہیں ‘‘ اور ان میں موجود بچے بڑے ہوجاتے ہیں ۔ ﴿ وَكُلُّ شَيۡءٍ عِنۡدَهٗ بِمِقۡدَارٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کا اس کے ہاں اندازہ ہے‘‘ کوئی چیز اس مقدار سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے۔ اس مقدار سے زیادہ ہو سکتی نہ کم مگر جس کا تقاضا اس کی حکمت اور علم کرے۔ ﴿ عٰؔلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ الۡكَبِيۡرُ ﴾ ’’وہ نہاں اور آشکار کا جاننے والا اور بڑا ہے۔‘‘ یعنی وہ عالم غیب اور عالم ظاہر کا علم رکھتا ہے وہ اپنی ذات اور اپنے اسماء و صفات میں بڑا ہے۔ ﴿ الۡمُتَعَالِ ﴾ ’’عالی رتبہ ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی ذات، قدرت اور غلبہ کے اعتبار سے تمام مخلوق پر بلند ہے۔
[10]﴿ سَوَؔآءٌ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’برابر ہے تم میں سے‘‘ یعنی اس کے علم اور سمع و بصر میں ﴿ مَّنۡ اَسَرَّ الۡقَوۡلَ وَمَنۡ جَهَرَ بِهٖ وَمَنۡ هُوَ مُسۡتَخۡفٍۭؔ بِالَّيۡلِ ﴾ ’’جو آہستہ بات کہے اور جو پکار کر کہے اور جو چھپنے والا ہے رات میں ‘‘ یعنی رات کے وقت کسی خفیہ مقام پر ٹھہرا ہوا ہے ﴿ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ ﴾ ’’اور جو دن میں چلنے والا ہے‘‘ یعنی دن کے وقت اپنی پناہ گاہ کے اندر ہے اور (اَلسَّرَب) اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں انسان چھپتا ہے، خواہ یہ جگہ گھر کے اندر ہو، کوئی غار ہو یا کوئی کھوہ وغیرہ ہو۔
[11]﴿لَهٗ ﴾ ’’اس کے لیے۔‘‘ یعنی انسان کے لیے ﴿مُعَقِّبٰؔتٌ ﴾ ’’پہرے دار ہیں ‘‘ یعنی فرشتے جو شب و روز ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں ﴿ مِّنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهٖ يَحۡفَظُوۡنَهٗ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ﴾’’بندے کے آگے سے اور اس کے پیچھے سے، اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں ‘‘ یعنی یہ فرشتے اس کے جسم و روح کی ہر اس چیز سے حفاظت کرتے ہیں جو اس کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے، وہ اس کے اعمال کی حفاظت کرتے ہیں اور وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتے ہیں ۔ پس جیسے اللہ تعالیٰ کے علم نے انسان کا احاطہ کر رکھا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لیے یہ فرشتے بھیج رکھے ہیں جبکہ انسان کے اعمال اور احوال اللہ تعالیٰ سے اوجھل ہیں نہ وہ ان میں سے کچھ بھولتا ہے۔﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوۡمٍ ﴾ ’’بے شک اللہ، وہ نہیں بدلتا جو لوگوں کو حاصل ہے‘‘ یعنی نعمت، احسان اور اسباب زیست کی فراوانی ﴿ حَتّٰى يُغَيِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’جب تک وہ خود اس چیز کو نہ بدل دیں ‘‘ یعنی جب تک کہ وہ ایمان سے کفر، اطاعت سے نافرمانی اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر سے ناشکری کی طرف منتقل نہیں ہوتے، تب اس صورت میں اللہ تعالیٰ ان سے اپنی نعمتیں سلب کر لیتا ہے اور اسی طرح جب بندے اپنی حالت کو بدل لیتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو چھوڑ کر اطاعت کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں تو پھر ان کی بدبختی کی حالت کو بھلائی، مسرت، خوشی اور رحمت کی حالت میں بدل دیتا ہے۔ ﴿ وَاِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوۡمٍ سُوۡٓءًا﴾ ’’اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی قوم کے لیے کسی عذاب، سختی یا کسی ایسے امر کا ارادہ کرتا ہے جسے وہ ناپسند کرتے ہیں تو اس کا ارادہ ان پر ضرور نافذ ہوتا ہے۔ ﴿ فَلَا مَرَدَّ لَهٗ﴾ اسے کوئی رد نہیں کرسکتا، یعنی اس سے انھیں کوئی بچا نہیں سکتا۔ ﴿ وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ وَّالٍ ﴾ ’’اور اس کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں ‘‘ یعنی جو ان کے معاملات کی سرپرستی کر کے ان کے لیے ان کی محبوب و مرغوب اشیاء مہیا کرے اور ناپسندیدہ چیزوں کو ان سے دور کرے۔ پس لوگ ان امور پر قائم رہنے سے بچیں جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں مباداکہ ان پر وہ عذاب نازل ہو جائے جو مجرموں پر سے ہٹایا نہیں جاتا۔
13:9عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ ٱلۡكَبِيرُ ٱلۡمُتَعَالِ
اللہ جانتا ہے جو کچھ اٹھاتی ہے (پیٹ میں ) ہر ایک مادہ،اور جو کچھ کم کرتے ہیں رحم اور جو کچھ زیادہ کرتے ہیں اورہر ایک چیز اس کے ہاں ساتھ ایک اندازے کے ہے(8) وہ جاننے والا ہے پوشیدہ اور ظاہر کا، بہت بڑا، نہایت بلند (9) برابر ہے (اللہ کے علم میں ) تم میں سے جو کوئی آہستہ کہے بات کو یا بلندآواز سے کہے اسےاورجو شخص کہ وہ چھپنے والا ہے رات (کے اندھیرے) میں اور جو چلنے والا ہے دن (کی روشنی) میں (10) واسطے اس (انسان) کے باری بار ی آنے والے فرشتے ہیں اس کے آگے سے اور اس کے پیچھے سے، وہ حفاظت کرتے ہیں اس کی اللہ کے حکم سے، بے شک اللہ نہیں بدلتا اس نعمت کو جو کسی قوم کے پاس ہے یہاں تک کہ وہ (خود) بدل لیں اپنی اس کیفیت کو جو ان کے دلوں میں ہےاور جب ارادہ کرتا ہے اللہ ساتھ کسی قوم کے برائی (عذاب) کا تو نہیں کوئی پھیرنے والا اس کواور نہیں واسطے ان (لوگوں ) کے سوائے اللہ کے کوئی کار سا ز(11)
[9,8] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کا علم سب کو شامل، اس کی اطلاع بہت وسیع اور اس نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، چنانچہ فرماتا ہے:﴿ اَللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تَحۡمِلُ كُلُّ اُنۡثٰى﴾ ’’اللہ جانتا ہے جو پیٹ میں رکھتی ہے ہر مادہ‘‘ یعنی انسان اورجانوروں میں سے ﴿ وَمَا تَغِيۡضُ الۡاَرۡحَامُ ﴾ ’’اور جو کم کرتے ہیں پیٹ‘‘ یعنی رحم میں موجود حمل میں جو کمی ہوتی ہے یا وہ ہلاک ہوجاتے ہیں یا وہ سکڑ کر مضمحل ہو جاتے ہیں ﴿ وَمَا تَزۡدَادُ﴾ ’’اور جو وہ زیادہ کرتے ہیں ‘‘ اور ان میں موجود بچے بڑے ہوجاتے ہیں ۔ ﴿ وَكُلُّ شَيۡءٍ عِنۡدَهٗ بِمِقۡدَارٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کا اس کے ہاں اندازہ ہے‘‘ کوئی چیز اس مقدار سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے۔ اس مقدار سے زیادہ ہو سکتی نہ کم مگر جس کا تقاضا اس کی حکمت اور علم کرے۔ ﴿ عٰؔلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ الۡكَبِيۡرُ ﴾ ’’وہ نہاں اور آشکار کا جاننے والا اور بڑا ہے۔‘‘ یعنی وہ عالم غیب اور عالم ظاہر کا علم رکھتا ہے وہ اپنی ذات اور اپنے اسماء و صفات میں بڑا ہے۔ ﴿ الۡمُتَعَالِ ﴾ ’’عالی رتبہ ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی ذات، قدرت اور غلبہ کے اعتبار سے تمام مخلوق پر بلند ہے۔
[10]﴿ سَوَؔآءٌ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’برابر ہے تم میں سے‘‘ یعنی اس کے علم اور سمع و بصر میں ﴿ مَّنۡ اَسَرَّ الۡقَوۡلَ وَمَنۡ جَهَرَ بِهٖ وَمَنۡ هُوَ مُسۡتَخۡفٍۭؔ بِالَّيۡلِ ﴾ ’’جو آہستہ بات کہے اور جو پکار کر کہے اور جو چھپنے والا ہے رات میں ‘‘ یعنی رات کے وقت کسی خفیہ مقام پر ٹھہرا ہوا ہے ﴿ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ ﴾ ’’اور جو دن میں چلنے والا ہے‘‘ یعنی دن کے وقت اپنی پناہ گاہ کے اندر ہے اور (اَلسَّرَب) اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں انسان چھپتا ہے، خواہ یہ جگہ گھر کے اندر ہو، کوئی غار ہو یا کوئی کھوہ وغیرہ ہو۔
[11]﴿لَهٗ ﴾ ’’اس کے لیے۔‘‘ یعنی انسان کے لیے ﴿مُعَقِّبٰؔتٌ ﴾ ’’پہرے دار ہیں ‘‘ یعنی فرشتے جو شب و روز ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں ﴿ مِّنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهٖ يَحۡفَظُوۡنَهٗ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ﴾’’بندے کے آگے سے اور اس کے پیچھے سے، اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں ‘‘ یعنی یہ فرشتے اس کے جسم و روح کی ہر اس چیز سے حفاظت کرتے ہیں جو اس کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے، وہ اس کے اعمال کی حفاظت کرتے ہیں اور وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتے ہیں ۔ پس جیسے اللہ تعالیٰ کے علم نے انسان کا احاطہ کر رکھا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لیے یہ فرشتے بھیج رکھے ہیں جبکہ انسان کے اعمال اور احوال اللہ تعالیٰ سے اوجھل ہیں نہ وہ ان میں سے کچھ بھولتا ہے۔﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوۡمٍ ﴾ ’’بے شک اللہ، وہ نہیں بدلتا جو لوگوں کو حاصل ہے‘‘ یعنی نعمت، احسان اور اسباب زیست کی فراوانی ﴿ حَتّٰى يُغَيِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’جب تک وہ خود اس چیز کو نہ بدل دیں ‘‘ یعنی جب تک کہ وہ ایمان سے کفر، اطاعت سے نافرمانی اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر سے ناشکری کی طرف منتقل نہیں ہوتے، تب اس صورت میں اللہ تعالیٰ ان سے اپنی نعمتیں سلب کر لیتا ہے اور اسی طرح جب بندے اپنی حالت کو بدل لیتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو چھوڑ کر اطاعت کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں تو پھر ان کی بدبختی کی حالت کو بھلائی، مسرت، خوشی اور رحمت کی حالت میں بدل دیتا ہے۔ ﴿ وَاِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوۡمٍ سُوۡٓءًا﴾ ’’اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی قوم کے لیے کسی عذاب، سختی یا کسی ایسے امر کا ارادہ کرتا ہے جسے وہ ناپسند کرتے ہیں تو اس کا ارادہ ان پر ضرور نافذ ہوتا ہے۔ ﴿ فَلَا مَرَدَّ لَهٗ﴾ اسے کوئی رد نہیں کرسکتا، یعنی اس سے انھیں کوئی بچا نہیں سکتا۔ ﴿ وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ وَّالٍ ﴾ ’’اور اس کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں ‘‘ یعنی جو ان کے معاملات کی سرپرستی کر کے ان کے لیے ان کی محبوب و مرغوب اشیاء مہیا کرے اور ناپسندیدہ چیزوں کو ان سے دور کرے۔ پس لوگ ان امور پر قائم رہنے سے بچیں جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں مباداکہ ان پر وہ عذاب نازل ہو جائے جو مجرموں پر سے ہٹایا نہیں جاتا۔
13:10سَوَآءٞ مِّنكُم مَّنۡ أَسَرَّ ٱلۡقَوۡلَ وَمَن جَهَرَ بِهِۦ وَمَنۡ هُوَ مُسۡتَخۡفِۭ بِٱلَّيۡلِ وَسَارِبُۢ بِٱلنَّهَارِ
اللہ جانتا ہے جو کچھ اٹھاتی ہے (پیٹ میں ) ہر ایک مادہ،اور جو کچھ کم کرتے ہیں رحم اور جو کچھ زیادہ کرتے ہیں اورہر ایک چیز اس کے ہاں ساتھ ایک اندازے کے ہے(8) وہ جاننے والا ہے پوشیدہ اور ظاہر کا، بہت بڑا، نہایت بلند (9) برابر ہے (اللہ کے علم میں ) تم میں سے جو کوئی آہستہ کہے بات کو یا بلندآواز سے کہے اسےاورجو شخص کہ وہ چھپنے والا ہے رات (کے اندھیرے) میں اور جو چلنے والا ہے دن (کی روشنی) میں (10) واسطے اس (انسان) کے باری بار ی آنے والے فرشتے ہیں اس کے آگے سے اور اس کے پیچھے سے، وہ حفاظت کرتے ہیں اس کی اللہ کے حکم سے، بے شک اللہ نہیں بدلتا اس نعمت کو جو کسی قوم کے پاس ہے یہاں تک کہ وہ (خود) بدل لیں اپنی اس کیفیت کو جو ان کے دلوں میں ہےاور جب ارادہ کرتا ہے اللہ ساتھ کسی قوم کے برائی (عذاب) کا تو نہیں کوئی پھیرنے والا اس کواور نہیں واسطے ان (لوگوں ) کے سوائے اللہ کے کوئی کار سا ز(11)
[9,8] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کا علم سب کو شامل، اس کی اطلاع بہت وسیع اور اس نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، چنانچہ فرماتا ہے:﴿ اَللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تَحۡمِلُ كُلُّ اُنۡثٰى﴾ ’’اللہ جانتا ہے جو پیٹ میں رکھتی ہے ہر مادہ‘‘ یعنی انسان اورجانوروں میں سے ﴿ وَمَا تَغِيۡضُ الۡاَرۡحَامُ ﴾ ’’اور جو کم کرتے ہیں پیٹ‘‘ یعنی رحم میں موجود حمل میں جو کمی ہوتی ہے یا وہ ہلاک ہوجاتے ہیں یا وہ سکڑ کر مضمحل ہو جاتے ہیں ﴿ وَمَا تَزۡدَادُ﴾ ’’اور جو وہ زیادہ کرتے ہیں ‘‘ اور ان میں موجود بچے بڑے ہوجاتے ہیں ۔ ﴿ وَكُلُّ شَيۡءٍ عِنۡدَهٗ بِمِقۡدَارٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کا اس کے ہاں اندازہ ہے‘‘ کوئی چیز اس مقدار سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے۔ اس مقدار سے زیادہ ہو سکتی نہ کم مگر جس کا تقاضا اس کی حکمت اور علم کرے۔ ﴿ عٰؔلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ الۡكَبِيۡرُ ﴾ ’’وہ نہاں اور آشکار کا جاننے والا اور بڑا ہے۔‘‘ یعنی وہ عالم غیب اور عالم ظاہر کا علم رکھتا ہے وہ اپنی ذات اور اپنے اسماء و صفات میں بڑا ہے۔ ﴿ الۡمُتَعَالِ ﴾ ’’عالی رتبہ ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی ذات، قدرت اور غلبہ کے اعتبار سے تمام مخلوق پر بلند ہے۔
[10]﴿ سَوَؔآءٌ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’برابر ہے تم میں سے‘‘ یعنی اس کے علم اور سمع و بصر میں ﴿ مَّنۡ اَسَرَّ الۡقَوۡلَ وَمَنۡ جَهَرَ بِهٖ وَمَنۡ هُوَ مُسۡتَخۡفٍۭؔ بِالَّيۡلِ ﴾ ’’جو آہستہ بات کہے اور جو پکار کر کہے اور جو چھپنے والا ہے رات میں ‘‘ یعنی رات کے وقت کسی خفیہ مقام پر ٹھہرا ہوا ہے ﴿ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ ﴾ ’’اور جو دن میں چلنے والا ہے‘‘ یعنی دن کے وقت اپنی پناہ گاہ کے اندر ہے اور (اَلسَّرَب) اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں انسان چھپتا ہے، خواہ یہ جگہ گھر کے اندر ہو، کوئی غار ہو یا کوئی کھوہ وغیرہ ہو۔
[11]﴿لَهٗ ﴾ ’’اس کے لیے۔‘‘ یعنی انسان کے لیے ﴿مُعَقِّبٰؔتٌ ﴾ ’’پہرے دار ہیں ‘‘ یعنی فرشتے جو شب و روز ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں ﴿ مِّنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهٖ يَحۡفَظُوۡنَهٗ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ﴾’’بندے کے آگے سے اور اس کے پیچھے سے، اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں ‘‘ یعنی یہ فرشتے اس کے جسم و روح کی ہر اس چیز سے حفاظت کرتے ہیں جو اس کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے، وہ اس کے اعمال کی حفاظت کرتے ہیں اور وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتے ہیں ۔ پس جیسے اللہ تعالیٰ کے علم نے انسان کا احاطہ کر رکھا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لیے یہ فرشتے بھیج رکھے ہیں جبکہ انسان کے اعمال اور احوال اللہ تعالیٰ سے اوجھل ہیں نہ وہ ان میں سے کچھ بھولتا ہے۔﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوۡمٍ ﴾ ’’بے شک اللہ، وہ نہیں بدلتا جو لوگوں کو حاصل ہے‘‘ یعنی نعمت، احسان اور اسباب زیست کی فراوانی ﴿ حَتّٰى يُغَيِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’جب تک وہ خود اس چیز کو نہ بدل دیں ‘‘ یعنی جب تک کہ وہ ایمان سے کفر، اطاعت سے نافرمانی اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر سے ناشکری کی طرف منتقل نہیں ہوتے، تب اس صورت میں اللہ تعالیٰ ان سے اپنی نعمتیں سلب کر لیتا ہے اور اسی طرح جب بندے اپنی حالت کو بدل لیتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو چھوڑ کر اطاعت کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں تو پھر ان کی بدبختی کی حالت کو بھلائی، مسرت، خوشی اور رحمت کی حالت میں بدل دیتا ہے۔ ﴿ وَاِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوۡمٍ سُوۡٓءًا﴾ ’’اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی قوم کے لیے کسی عذاب، سختی یا کسی ایسے امر کا ارادہ کرتا ہے جسے وہ ناپسند کرتے ہیں تو اس کا ارادہ ان پر ضرور نافذ ہوتا ہے۔ ﴿ فَلَا مَرَدَّ لَهٗ﴾ اسے کوئی رد نہیں کرسکتا، یعنی اس سے انھیں کوئی بچا نہیں سکتا۔ ﴿ وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ وَّالٍ ﴾ ’’اور اس کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں ‘‘ یعنی جو ان کے معاملات کی سرپرستی کر کے ان کے لیے ان کی محبوب و مرغوب اشیاء مہیا کرے اور ناپسندیدہ چیزوں کو ان سے دور کرے۔ پس لوگ ان امور پر قائم رہنے سے بچیں جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں مباداکہ ان پر وہ عذاب نازل ہو جائے جو مجرموں پر سے ہٹایا نہیں جاتا۔
13:11لَهُۥ مُعَقِّبَٰتٞ مِّنۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهِۦ يَحۡفَظُونَهُۥ مِنۡ أَمۡرِ ٱللَّهِۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنفُسِهِمۡۗ وَإِذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِقَوۡمٖ سُوٓءٗا فَلَا مَرَدَّ لَهُۥۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَالٍ
اللہ جانتا ہے جو کچھ اٹھاتی ہے (پیٹ میں ) ہر ایک مادہ،اور جو کچھ کم کرتے ہیں رحم اور جو کچھ زیادہ کرتے ہیں اورہر ایک چیز اس کے ہاں ساتھ ایک اندازے کے ہے(8) وہ جاننے والا ہے پوشیدہ اور ظاہر کا، بہت بڑا، نہایت بلند (9) برابر ہے (اللہ کے علم میں ) تم میں سے جو کوئی آہستہ کہے بات کو یا بلندآواز سے کہے اسےاورجو شخص کہ وہ چھپنے والا ہے رات (کے اندھیرے) میں اور جو چلنے والا ہے دن (کی روشنی) میں (10) واسطے اس (انسان) کے باری بار ی آنے والے فرشتے ہیں اس کے آگے سے اور اس کے پیچھے سے، وہ حفاظت کرتے ہیں اس کی اللہ کے حکم سے، بے شک اللہ نہیں بدلتا اس نعمت کو جو کسی قوم کے پاس ہے یہاں تک کہ وہ (خود) بدل لیں اپنی اس کیفیت کو جو ان کے دلوں میں ہےاور جب ارادہ کرتا ہے اللہ ساتھ کسی قوم کے برائی (عذاب) کا تو نہیں کوئی پھیرنے والا اس کواور نہیں واسطے ان (لوگوں ) کے سوائے اللہ کے کوئی کار سا ز(11)
[9,8] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کا علم سب کو شامل، اس کی اطلاع بہت وسیع اور اس نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، چنانچہ فرماتا ہے:﴿ اَللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تَحۡمِلُ كُلُّ اُنۡثٰى﴾ ’’اللہ جانتا ہے جو پیٹ میں رکھتی ہے ہر مادہ‘‘ یعنی انسان اورجانوروں میں سے ﴿ وَمَا تَغِيۡضُ الۡاَرۡحَامُ ﴾ ’’اور جو کم کرتے ہیں پیٹ‘‘ یعنی رحم میں موجود حمل میں جو کمی ہوتی ہے یا وہ ہلاک ہوجاتے ہیں یا وہ سکڑ کر مضمحل ہو جاتے ہیں ﴿ وَمَا تَزۡدَادُ﴾ ’’اور جو وہ زیادہ کرتے ہیں ‘‘ اور ان میں موجود بچے بڑے ہوجاتے ہیں ۔ ﴿ وَكُلُّ شَيۡءٍ عِنۡدَهٗ بِمِقۡدَارٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کا اس کے ہاں اندازہ ہے‘‘ کوئی چیز اس مقدار سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے۔ اس مقدار سے زیادہ ہو سکتی نہ کم مگر جس کا تقاضا اس کی حکمت اور علم کرے۔ ﴿ عٰؔلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ الۡكَبِيۡرُ ﴾ ’’وہ نہاں اور آشکار کا جاننے والا اور بڑا ہے۔‘‘ یعنی وہ عالم غیب اور عالم ظاہر کا علم رکھتا ہے وہ اپنی ذات اور اپنے اسماء و صفات میں بڑا ہے۔ ﴿ الۡمُتَعَالِ ﴾ ’’عالی رتبہ ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی ذات، قدرت اور غلبہ کے اعتبار سے تمام مخلوق پر بلند ہے۔
[10]﴿ سَوَؔآءٌ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’برابر ہے تم میں سے‘‘ یعنی اس کے علم اور سمع و بصر میں ﴿ مَّنۡ اَسَرَّ الۡقَوۡلَ وَمَنۡ جَهَرَ بِهٖ وَمَنۡ هُوَ مُسۡتَخۡفٍۭؔ بِالَّيۡلِ ﴾ ’’جو آہستہ بات کہے اور جو پکار کر کہے اور جو چھپنے والا ہے رات میں ‘‘ یعنی رات کے وقت کسی خفیہ مقام پر ٹھہرا ہوا ہے ﴿ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ ﴾ ’’اور جو دن میں چلنے والا ہے‘‘ یعنی دن کے وقت اپنی پناہ گاہ کے اندر ہے اور (اَلسَّرَب) اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں انسان چھپتا ہے، خواہ یہ جگہ گھر کے اندر ہو، کوئی غار ہو یا کوئی کھوہ وغیرہ ہو۔
[11]﴿لَهٗ ﴾ ’’اس کے لیے۔‘‘ یعنی انسان کے لیے ﴿مُعَقِّبٰؔتٌ ﴾ ’’پہرے دار ہیں ‘‘ یعنی فرشتے جو شب و روز ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں ﴿ مِّنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهٖ يَحۡفَظُوۡنَهٗ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ﴾’’بندے کے آگے سے اور اس کے پیچھے سے، اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں ‘‘ یعنی یہ فرشتے اس کے جسم و روح کی ہر اس چیز سے حفاظت کرتے ہیں جو اس کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے، وہ اس کے اعمال کی حفاظت کرتے ہیں اور وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتے ہیں ۔ پس جیسے اللہ تعالیٰ کے علم نے انسان کا احاطہ کر رکھا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لیے یہ فرشتے بھیج رکھے ہیں جبکہ انسان کے اعمال اور احوال اللہ تعالیٰ سے اوجھل ہیں نہ وہ ان میں سے کچھ بھولتا ہے۔﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوۡمٍ ﴾ ’’بے شک اللہ، وہ نہیں بدلتا جو لوگوں کو حاصل ہے‘‘ یعنی نعمت، احسان اور اسباب زیست کی فراوانی ﴿ حَتّٰى يُغَيِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’جب تک وہ خود اس چیز کو نہ بدل دیں ‘‘ یعنی جب تک کہ وہ ایمان سے کفر، اطاعت سے نافرمانی اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر سے ناشکری کی طرف منتقل نہیں ہوتے، تب اس صورت میں اللہ تعالیٰ ان سے اپنی نعمتیں سلب کر لیتا ہے اور اسی طرح جب بندے اپنی حالت کو بدل لیتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو چھوڑ کر اطاعت کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں تو پھر ان کی بدبختی کی حالت کو بھلائی، مسرت، خوشی اور رحمت کی حالت میں بدل دیتا ہے۔ ﴿ وَاِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوۡمٍ سُوۡٓءًا﴾ ’’اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی قوم کے لیے کسی عذاب، سختی یا کسی ایسے امر کا ارادہ کرتا ہے جسے وہ ناپسند کرتے ہیں تو اس کا ارادہ ان پر ضرور نافذ ہوتا ہے۔ ﴿ فَلَا مَرَدَّ لَهٗ﴾ اسے کوئی رد نہیں کرسکتا، یعنی اس سے انھیں کوئی بچا نہیں سکتا۔ ﴿ وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ وَّالٍ ﴾ ’’اور اس کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں ‘‘ یعنی جو ان کے معاملات کی سرپرستی کر کے ان کے لیے ان کی محبوب و مرغوب اشیاء مہیا کرے اور ناپسندیدہ چیزوں کو ان سے دور کرے۔ پس لوگ ان امور پر قائم رہنے سے بچیں جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں مباداکہ ان پر وہ عذاب نازل ہو جائے جو مجرموں پر سے ہٹایا نہیں جاتا۔
13:12هُوَ ٱلَّذِي يُرِيكُمُ ٱلۡبَرۡقَ خَوۡفٗا وَطَمَعٗا وَيُنشِئُ ٱلسَّحَابَ ٱلثِّقَالَ
وہی ہے (اللہ) جو دکھاتا ہے تمھیں بجلی ڈرانے اور امید دلانے کے لیےاور وہی پیدا کرتا ہے بادل بھاری (12)اور تسبیح بیان کرتی ہے گرج ساتھ اس کی حمد کےاور فرشتے بھی اس کے خوف سےاور وہ بھیجتا ہے کڑکتی بجلیاں ، پھر پہنچاتا (گراتا) ہے وہ بجلیاں جس پر چاہتا ہےاور وہ (کافر) جھگڑا کرتے ہیں اللہ کی بابت اور وہ شدید قوت والا ہے (13)
[12]﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُرِيۡكُمُ الۡـبَرۡقَ خَوۡفًا وَّطَمَعًا ﴾ ’’وہی ہے جو دکھاتا ہے تم کو بجلی، ڈرانے کے لیے اور امید دلانے کے لیے‘‘ یعنی اس بجلی (کے گرنے) کی وجہ سے کڑک اور عمارتوں کے منہدم ہونے کا نیز باغات اور کھیتیوں کے پھلوں پر مختلف اقسام کے ضرر رساں اثرات کا خدشہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس میں بھلائی اور فائدے کی امید بھی ہوتی ہے۔ ﴿ وَّيُنۡشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ ﴾ ’’اور وہ بارش سے لدے ہوئے بھاری بھاری بادل اٹھاتا ہے۔‘‘ یہ بارش بندوں کو اور زمین کو فائدہ دیتی ہے
[13]﴿ وَيُسَبِّحُ الرَّعۡدُ بِحَمۡدِهٖ ﴾ ’’اور تسبیح بیان کرتا ہے گرجنے والا، اس کی خوبیوں کی‘‘ (اَلرَّعْد) سے مراد بجلی کی کڑک کی آواز ہے جو بادلوں سے سنائی دیتی ہے اور بندوں کو ڈرا دیتی ہے۔ یہ کڑک اپنے رب کے سامنے جھکی ہوئی، اس کی تسبیح کے ساتھ اس کی حمد کرتی ہے۔ ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ مِنۡ خِيۡفَتِهٖ﴾ ’’اور سب فرشتے اس کے ڈر سے‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے فروتنی کے ساتھ اور اس کی سطوت سے ڈرتے ہوئے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ﴿وَيُرۡسِلُ الصَّوَاعِقَ﴾ ’’اور بھیجتا ہے وہ کڑکتی بجلیاں ‘‘ اس سے مراد وہ آگ ہے، جو بادلوں سے نکلتی ہے ﴿ فَيُصِيۡبُ بِهَا مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’پھر ڈالتا ہے ان کو جس پر چاہے‘‘ وہ یہ کڑکتی ہوئی بجلیاں اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اور جتنی چاہتا ہے اور جب ارادہ کرتا ہے گرا دیتا ہے ﴿ وَهُمۡ يُجَادِلُوۡنَ فِي اللّٰهِ١ۚ وَهُوَ شَدِيۡدُ الۡمِحَالِ ﴾ ’’اور وہ جھگڑتے ہیں اللہ کی بات میں اور اس کی گرفت سخت ہے‘‘ وہ بہت زیادہ قوت و اختیار کا مالک ہے وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے کوئی اس کے سامنے دم مار سکتا ہے نہ بھاگ کر بچ سکتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ اکیلا ہی، بندوں کے لیے بادل اور بارش لاتا ہے جس کے اندر ان کے رزق کا مادہ ہے، وہی ہے جو تمام امور کی تدبیر کرتا ہے، بڑی سے بڑی مخلوق اس کے خوف سے نہایت عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے سرافگندہ ہے، بندے اس کے خوف سے لرزاں ہیں اور وہ بہت بڑی قوت کا مالک ہے… تب وہی عبادت کا مستحق ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔
13:13وَيُسَبِّحُ ٱلرَّعۡدُ بِحَمۡدِهِۦ وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ مِنۡ خِيفَتِهِۦ وَيُرۡسِلُ ٱلصَّوَٰعِقَ فَيُصِيبُ بِهَا مَن يَشَآءُ وَهُمۡ يُجَٰدِلُونَ فِي ٱللَّهِ وَهُوَ شَدِيدُ ٱلۡمِحَالِ
وہی ہے (اللہ) جو دکھاتا ہے تمھیں بجلی ڈرانے اور امید دلانے کے لیےاور وہی پیدا کرتا ہے بادل بھاری (12)اور تسبیح بیان کرتی ہے گرج ساتھ اس کی حمد کےاور فرشتے بھی اس کے خوف سےاور وہ بھیجتا ہے کڑکتی بجلیاں ، پھر پہنچاتا (گراتا) ہے وہ بجلیاں جس پر چاہتا ہےاور وہ (کافر) جھگڑا کرتے ہیں اللہ کی بابت اور وہ شدید قوت والا ہے (13)
[12]﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُرِيۡكُمُ الۡـبَرۡقَ خَوۡفًا وَّطَمَعًا ﴾ ’’وہی ہے جو دکھاتا ہے تم کو بجلی، ڈرانے کے لیے اور امید دلانے کے لیے‘‘ یعنی اس بجلی (کے گرنے) کی وجہ سے کڑک اور عمارتوں کے منہدم ہونے کا نیز باغات اور کھیتیوں کے پھلوں پر مختلف اقسام کے ضرر رساں اثرات کا خدشہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس میں بھلائی اور فائدے کی امید بھی ہوتی ہے۔ ﴿ وَّيُنۡشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ ﴾ ’’اور وہ بارش سے لدے ہوئے بھاری بھاری بادل اٹھاتا ہے۔‘‘ یہ بارش بندوں کو اور زمین کو فائدہ دیتی ہے
[13]﴿ وَيُسَبِّحُ الرَّعۡدُ بِحَمۡدِهٖ ﴾ ’’اور تسبیح بیان کرتا ہے گرجنے والا، اس کی خوبیوں کی‘‘ (اَلرَّعْد) سے مراد بجلی کی کڑک کی آواز ہے جو بادلوں سے سنائی دیتی ہے اور بندوں کو ڈرا دیتی ہے۔ یہ کڑک اپنے رب کے سامنے جھکی ہوئی، اس کی تسبیح کے ساتھ اس کی حمد کرتی ہے۔ ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ مِنۡ خِيۡفَتِهٖ﴾ ’’اور سب فرشتے اس کے ڈر سے‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے فروتنی کے ساتھ اور اس کی سطوت سے ڈرتے ہوئے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ﴿وَيُرۡسِلُ الصَّوَاعِقَ﴾ ’’اور بھیجتا ہے وہ کڑکتی بجلیاں ‘‘ اس سے مراد وہ آگ ہے، جو بادلوں سے نکلتی ہے ﴿ فَيُصِيۡبُ بِهَا مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’پھر ڈالتا ہے ان کو جس پر چاہے‘‘ وہ یہ کڑکتی ہوئی بجلیاں اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اور جتنی چاہتا ہے اور جب ارادہ کرتا ہے گرا دیتا ہے ﴿ وَهُمۡ يُجَادِلُوۡنَ فِي اللّٰهِ١ۚ وَهُوَ شَدِيۡدُ الۡمِحَالِ ﴾ ’’اور وہ جھگڑتے ہیں اللہ کی بات میں اور اس کی گرفت سخت ہے‘‘ وہ بہت زیادہ قوت و اختیار کا مالک ہے وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے کوئی اس کے سامنے دم مار سکتا ہے نہ بھاگ کر بچ سکتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ اکیلا ہی، بندوں کے لیے بادل اور بارش لاتا ہے جس کے اندر ان کے رزق کا مادہ ہے، وہی ہے جو تمام امور کی تدبیر کرتا ہے، بڑی سے بڑی مخلوق اس کے خوف سے نہایت عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے سرافگندہ ہے، بندے اس کے خوف سے لرزاں ہیں اور وہ بہت بڑی قوت کا مالک ہے… تب وہی عبادت کا مستحق ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔
13:14لَهُۥ دَعۡوَةُ ٱلۡحَقِّۚ وَٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسۡتَجِيبُونَ لَهُم بِشَيۡءٍ إِلَّا كَبَٰسِطِ كَفَّيۡهِ إِلَى ٱلۡمَآءِ لِيَبۡلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَٰلِغِهِۦۚ وَمَا دُعَآءُ ٱلۡكَٰفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَٰلٖ
اسی کے لیے ہے پکارنا سچا اور جنھیں وہ (مشرک) لوگ پکارتے ہیں سوائے اللہ کے، نہیں جواب دیتے وہ ان کو کچھ بھی مگر مانند (اس شخص کے جو) پھیلانے والا ہے دونوں ہتھیلیاں اپنی، پانی کی طرف تاکہ پہنچے وہ( پانی) اس شخص کے منہ میں حالانکہ نہیں ہے وہ پہنچنے والا اس (کے منہ) تک اور نہیں ہے پکارنا کافروں کا مگر گمراہی میں (14)
[14]﴿ لَهٗ دَعۡوَةُ الۡحَقِّ﴾’’سود مند پکارنا تو اسی کا ہے۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے دعوت حق ہے۔ دعوت حق سے سے مراد، صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ کو صرف اسی کے لیے خالص کرنا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو پکارا جائے، اس سے ڈرا جائے، اس پر امیدیں باندھی جائیں ، اس سے محبت کی جائے، اس کی طرف رغبت رکھی جائے، اس سے خوف کھایا جائے اور اسی کی طرف رجوع کیا جائے کیونکہ اسی کی الوہیت حق ہے اور غیر اللہ کی الوہیت باطل ہے۔﴿ وَالَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ ﴾ ’’اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے سوا بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو، جن کو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے، پکارتے ہیں ﴿ لَا يَسۡتَجِيۡبُوۡنَ۠ لَهُمۡ بِشَيۡءٍ ﴾ ’’وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کر سکتے۔‘‘ یعنی یہ خود ساختہ معبود ان کو تھوڑا یا بہت کوئی جواب نہیں دے سکتے جو ان کو پکارتے اور عبادت کرتے ہیں خواہ اس پکار کا تعلق امور دنیا سے ہو یا آخرت سے ﴿ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيۡهِ اِلَى الۡمَآءِ ﴾ ’’مگر جیسے کسی نے پھیلائے دونوں ہاتھ پانی کی طرف‘‘ یعنی وہ شخص جس کے ہاتھ دور ہونے کی بنا پر پانی تک پہنچ نہیں سکتے ﴿ لِيَبۡلُغَ ﴾ ’’کہ آپہنچے وہ پانی‘‘ یعنی اپنے ہاتھوں کو پانی کی طرف پھیلانے کی وجہ سے ﴿ فَاهُ ﴾ ’’اس کے منہ تک‘‘ کیونکہ وہ پیاسا ہے اور شدت پیاس کی وجہ سے اپنا ہاتھ پانی کی طرف بڑھاتا ہے مگر وہ پانی اس تک پہنچ نہیں پاتا۔ اسی طرح کفار جو اللہ کے ساتھ خود ساختہ معبودوں کو پکارتے ہیں ، یہ معبود ان کو کوئی جواب دے سکتے ہیں نہ ان کی حاجت کے شدید ترین اوقات میں ان کو کچھ فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ کیونکہ وہ خود اسی طرح محتاج ہیں جس طرح ان کو پکارنے والے محتاج ہیں ۔ وہ زمین و آسمان میں ذرہ بھر کسی چیز کے مالک نہیں نہ وہ ان میں شریک ہیں اور نہ ان میں کوئی اللہ کا مددگار ہے۔ ﴿ وَمَا دُعَآءُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾ ’’اور کافروں کی ساری پکار گمراہی میں ہے‘‘ کیونکہ جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ، باطل ہیں ۔ پس ان کی عبادت کرنا اور ان کو پکارنا سب باطل ٹھہرا، مقاصد کے بطلان کے ساتھ وسائل بھی باطل ہو جاتے ہیں اور چونکہ اللہ تعالیٰ ہی واضح حقیقی بادشاہ ہے، اس لیے اس کی عبادت حق ہے اور عبادت گزار کو دنیا و آخرت میں نفع پہنچاتی ہے۔غیر اللہ کو پکارنے والے کفار کی پکار کو اس شخص سے تشبیہ دینا جو پانی کی طرف ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ پانی اس کے منہ تک پہنچ جائے… ایک بہترین تشبیہ ہے کیونکہ یہ ایک امر محال سے تشبیہ ہے جس طرح یہ امر محال ہے اس لیے مشبہ بہ بھی محال ہے۔ کسی چیز کی نفی کے لیے اس کو امر محال پر معلق ٹھہرانا، نفی کا بلیغ ترین پیرا یہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَاسۡتَؔكۡبَرُوۡا عَنۡهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمۡ اَبۡوَابُ السَّمَآءِ وَلَا يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ حَتّٰى يَـلِجَ الۡجَمَلُ فِيۡ سَمِّ الۡؔخِيَاطِ﴾(الاعراف: 7؍40) ’’بے شک وہ لوگ جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ تکبر سے پیش آئے ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے۔ ان کا جنت میں داخل ہونا اتنا ہی محال ہو گا جتنا اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزرنا۔‘‘
13:15وَلِلَّهِۤ يَسۡجُدُۤ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ طَوۡعٗا وَكَرۡهٗا وَظِلَٰلُهُم بِٱلۡغُدُوِّ وَٱلۡأٓصَالِ۩
اور واسطے اللہ ہی کے سجدہ کرتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے اور ناخوشی سے اور ان کے سائے بھی صبح اور شام کے وقت (15)
[15] یعنی زمین و آسمان کی ہر چیز اپنے رب کی مطیع اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہے ﴿ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا ﴾ ’’خوشی سے اور ناخوشی سے‘‘ (طَوْعاً) اس شخص کے لیے جو اختیاری طور پر اللہ کے سامنے جھکتا اور اسے سجدہ کرتا ہے جیسے اہل ایمان اپنے اختیار سے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکتے ہیں (کَرْھاً) اس شخص کے لیے استعمال ہوا ہے جو تکبر کرتے ہوئے اپنے رب کی عبادت نہیں کرتا مگر خود اس کی فطرت اور اس کا حال اس کی تکذیب کرتے ہیں ﴿ وَّظِلٰلُهُمۡ بِالۡغُدُوِّ وَالۡاٰصَالِ ﴾ ’’اور ان کی پرچھائیاں صبح اور شام‘‘ یعنی تمام مخلوقات کے سائے، صبح و شام اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور ہر چیز کا سجدہ اس کے حسب حال ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿وَاِنۡ مِّنۡ شَيۡءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهٖ وَلٰكِنۡ لَّا تَفۡقَهُوۡنَ تَسۡبِيۡحَهُمۡ﴾(بنی اسرائیل: 17؍44) ’’اس جہان ہست و بود میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح بیان نہ کر رہی ہو مگر تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ۔‘‘ جب صورت حال یہ ہے کہ تمام کائنات طوعاً و کرہاً اپنے رب کے سامنے سرافگندہ ہے تو معلوم ہوا کہ وہی الٰہ حقیقی اور وہی معبود حقیقی ہے اور غیر اللہ کی الوہیت باطل ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے غیر اللہ کی الوہیت کے بطلان کا ذکر کرتے ہوئے دلیل دی ہے۔
13:16قُلۡ مَن رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ قُلِ ٱللَّهُۚ قُلۡ أَفَٱتَّخَذۡتُم مِّن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ لَا يَمۡلِكُونَ لِأَنفُسِهِمۡ نَفۡعٗا وَلَا ضَرّٗاۚ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِي ٱلۡأَعۡمَىٰ وَٱلۡبَصِيرُ أَمۡ هَلۡ تَسۡتَوِي ٱلظُّلُمَٰتُ وَٱلنُّورُۗ أَمۡ جَعَلُواْ لِلَّهِ شُرَكَآءَ خَلَقُواْ كَخَلۡقِهِۦ فَتَشَٰبَهَ ٱلۡخَلۡقُ عَلَيۡهِمۡۚ قُلِ ٱللَّهُ خَٰلِقُ كُلِّ شَيۡءٖ وَهُوَ ٱلۡوَٰحِدُ ٱلۡقَهَّـٰرُ
کہہ دیجیے (پوچھیے) کون ہے رب آسمانوں اور زمین کا؟ کہہ دیجیے، اللہ! کہیے، کیا پس پکڑے ہیں تم نے سوائے اس کے ایسے حمایتی کہ نہیں اختیاررکھتے وہ واسطے اپنے نفسوں کے (بھی) نفع کا اور نہ نقصان کا، کہہ دیجیے، کیا برابر ہوتا ہے اندھا اور دیکھنے والا؟ یا کیا برابر ہوتے ہیں اندھیرے اور روشنی؟ کیا بنائے ہیں انھوں نے واسطے اللہ کے ایسے شریک کہ پیدا کیا انھوں نے مانند پیدا کرنے اللہ کے، پس مشتبہ ہو گئی پیدائش ان پر؟ کہہ دیجیے، اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے ہر چیز کااور وہ یکتاہے نہایت غالب ہے (16)
[16] یعنی ان مشرکین سے کہہ دیجیے جو بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور ان کے ساتھ ویسی ہی محبت کرتے ہیں جیسی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کرتے ہیں اور ان کے تقرب کے لیے مختلف انواع کی عبادت ان کو پیش کرتے ہیں ۔ کیا تمھاری عقل ماری گئی ہے کہ تم نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے تم ان کی عبادت کرتے ہو حالانکہ وہ عبادت کے مستحق نہیں ہیں ؟ ﴿ لَا يَمۡلِكُوۡنَ لِاَنۡفُسِهِمۡ نَفۡعًا وَّلَا ضَرًّا ﴾ ’’وہ اپنے نفسوں کے لیے بھی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتے‘‘ اور تمھارا حال یہ ہے کہ تم نے اس ہستی کی سرپرستی کو چھوڑ دیا جو اسماء و صفات میں کامل، زندوں اور مردوں کی مالک ہے، جس کے ہاتھ میں تمام کائنات کی تخلیق و تدبیر اور نفع و نقصان ہے۔ پس اللہ وحدہ کی عبادت اور خودساختہ شریکوں کی عبادت برابر نہیں ہو سکتی۔ فرمایا:﴿ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِي الۡاَعۡمٰى وَالۡبَصِيۡرُ١ۙ۬ اَمۡ هَلۡ تَسۡتَوِي الظُّلُمٰتُ وَالنُّوۡرُ﴾ ’’کہہ دیجیے، کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتا ہے یا کیا اندھیرے اور روشنی برابر ہو سکتی ہے؟‘‘ اگر انھیں کوئی شک و شبہ ہے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے معبود بھی پیدا کر سکتے ہیں جیسے اللہ پیدا کرتا ہے ان کے معبود بھی وہ کام کر سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلیل قائم کر کے ان کا شک و شبہ زائل کر دیجیے۔پس ان سے کہہ دیجیے ﴿ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے‘‘ پس یہ محال ہے کہ کوئی چیز اپنے آپ کو پیدا کر سکتی ہے اور یہ بھی محال ہے کہ کوئی چیز خالق کے بغیر وجود میں آ جائے اور تب یہ حقیقت متعین ہو گئی کہ کوئی ایسی ہستی موجود ہے جو کائنات کی خالق اور الٰہ ہے، اس کی تخلیق میں کوئی اس کا شریک نہیں کیونکہ وہ واحدوقہار ہے اور وحدانیت اور غلبہ یہ باہم لازم ہیں اور یہ اکیلے اللہ کے لیے متعین ہیں ۔ تمام کائنات میں ہر مخلوق کے اوپر ایک اور مخلوق ہے جو اس پر غالب ہے پھر اس غالب مخلوق پر فوقیت رکھنے والی ایک اور مخلوق ہے حتیٰ کہ یہ سلسلہ اس واحد و قہار ہستی پر جا کر ختم ہو جاتا ہے۔ غلبہ اور توحید لازم و ملزوم اور اللہ واحد کے لیے متحقق اور متعین ہیں … تب ناقابل تردید عقلی دلیل کے ذریعے سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جن ہستیوں کو پکارا جاتا ہے انھوں نے ان مخلوقات میں سے کسی چیز کو بھی تخلیق نہیں کیا اور اس طرح یہ بات متحقق ہو گئی کہ ان ہستیوں کی عبادت باطل ہے۔
13:17أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَسَالَتۡ أَوۡدِيَةُۢ بِقَدَرِهَا فَٱحۡتَمَلَ ٱلسَّيۡلُ زَبَدٗا رَّابِيٗاۖ وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيۡهِ فِي ٱلنَّارِ ٱبۡتِغَآءَ حِلۡيَةٍ أَوۡ مَتَٰعٖ زَبَدٞ مِّثۡلُهُۥۚ كَذَٰلِكَ يَضۡرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡحَقَّ وَٱلۡبَٰطِلَۚ فَأَمَّا ٱلزَّبَدُ فَيَذۡهَبُ جُفَآءٗۖ وَأَمَّا مَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ فَيَمۡكُثُ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ كَذَٰلِكَ يَضۡرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡأَمۡثَالَ
اللہ نے نازل کیا آسمان سے پانی، پس بہہ پڑیں (اس سے) وادیاں ساتھ اپنے اندازے کے، پھر اٹھا لیا سیلاب نے جھاگ ابھرا ہوااور ان چیزوں میں بھی کہ تپاتے ہیں انھیں وہ آگ میں ، واسطے تلاش کرنے زیور یا سامان کے، جھاگ ہے ماننداس (آب رواں کے) جھاگ کے، اسی طرح مثال بیان کرتا ہے اللہ حق اور باطل کی، پس لیکن جو جھاگ ہے تو وہ چلا جاتا ہے خشک ہو کراور لیکن جو چیز نفع دیتی ہے لوگوں کو تو وہ ٹھہرتی ہے زمین میں ، اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ مثالیں (17)
[17] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہدایت کو جسے قلب و روح کی زندگی کے لیے اپنے رسولﷺ پر نازل فرمایا، پانی سے تشبیہ دی ہے جسے اس نے بدن کی زندگی کے لیے نازل فرمایا۔ ہدایت الٰہی میں جو عام اور کثیر نفع ہے اور بندے جس کے محتاج ہیں ، اس کو بارش میں موجود اس نفع عام سے تشبیہ دی ہے جو بندوں کے لیے بہت ضروری ہے اور ہدایت کے حامل قلوب اور ان کے تفاوت (باہمی فرق) کو ان وادیوں سے تشبیہ دی ہے جن کے اندر سیلاب بہتے ہیں ۔ پس بڑی وادی، جس میں بہت زیادہ پانی سما جاتا ہے اس بڑے دل کی مانند ہے جو بہت زیادہ علم سے لبریز ہے اور چھوٹی وادی جو تھوڑے سے پانی کی متحمل ہوتی ہے اس چھوٹے دل کی مانند ہوتی ہے جس میں بہت تھوڑا علم سماتا ہے۔ وصول حق کے وقت دلوں کے اندر جو شہوات و شبہات ہوتے ہیں ان کو اس جھاگ سے تشبیہ دی ہے جو سیلاب کے پانی کی سطح پر آ جاتا ہے اور یہ جھاگ اس وقت بھی اوپر آجاتا ہے جب زیور کو کھوٹ سے خالص کرنے کے لیے آگ میں تپایا جاتا ہے اور جھاگ برابر پانی کے اوپر رہتا ہے اور پانی کو مکدر کرنے والا میل کچیل پانی کی سطح پر تیرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ مضمحل ہو کر ختم ہو جاتا ہے اور صاف پانی اور خالص زیور باقی رہ جاتا ہے جو لوگوں کے لیے فائدہ مند ہے۔یہی حال شبہات و شہوات کا ہے قلب ان شبہات و شہوات کو ناپسند کرتا ہے، وہ دلائل و براہین اور پختہ ارادے کے ذریعے سے ان کے خلاف جدوجہد کرتا ہے حتیٰ کہ یہ شبہات و شہوات مضمحل ہو کر ختم ہو جاتے ہیں اور قلب پاک صاف اور خالص ہو جاتا ہے اور حق کے علم، اس کو ترجیح دینے اور اس کی رغبت کے سوا اس میں کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ باطل زائل ہو جاتا ہے اور حق اس کو مٹا دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ الۡبَاطِلَ كَانَ زَهُوۡقًا﴾(بنی اسرائیل: 17؍81) ’’بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے۔‘‘ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ كَذٰلِكَ يَضۡرِبُ اللّٰهُ الۡاَمۡثَالَ﴾ ’’اس طرح بیان کرتا ہے اللہ مثالیں ‘‘ تاکہ باطل میں سے حق اور گمراہی میں سے ہدایت واضح ہو جائے۔
13:18لِلَّذِينَ ٱسۡتَجَابُواْ لِرَبِّهِمُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ وَٱلَّذِينَ لَمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَهُۥ لَوۡ أَنَّ لَهُم مَّا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا وَمِثۡلَهُۥ مَعَهُۥ لَٱفۡتَدَوۡاْ بِهِۦٓۚ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ سُوٓءُ ٱلۡحِسَابِ وَمَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمِهَادُ
واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے قبول کیا (حکم) اپنے رب کا، بھلائی ہے۔ اور وہ لوگ جنھوں نے نہیں قبول کیا (حکم) اس کا، اگر بے شک ہو واسطے ان کے جو کچھ زمین میں ہے سارا اور اس کی مثل (اور) اس کے ساتھ تو ضرور بدلے میں دے دیں وہ اسے، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے سخت حساب ہے اور ٹھکانا ان کا جہنم ہےاور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے (18)
[18]جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے حق کو باطل سے واضح کر دیا تو اب فرما رہا ہے کہ لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں ۔(۱)اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہنے والے، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ثواب کا ذکر فرمایا۔(۲)اپنے رب کی دعوت پر لبیک نہ کہنے والے، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا۔﴿لِلَّذِيۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّهِمُ ﴾ ’’ان لوگوں کے لیے جنھوں نے اپنے رب کا حکم مانا‘‘ یعنی جن کے دل علم و ایمان کے سامنے سرافگندہ ہیں اور ان کے جوارح امرونہی پر عمل پیرا ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے جو کچھ چاہتا ہے وہ اس کی مراد کی موافقت کرتے ہیں ۔ ﴿الۡحُسۡنٰى﴾ ’’بھلائی ہے‘‘، یعنی اچھی حالت اور اچھا ثواب ان کی صفات جلیل ترین، ان کے مناقب بہترین اور ان کے لیے دنیاوی اور اخروی ثواب ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں اس کا گزر ہوا ہے۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ لَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهٗ﴾ ’’اور جنھوں نے اس کا حکم نہ مانا‘‘ یعنی ان کے سامنے مثالیں بیان کرنے اور حق واضح کرنے کے بعد بھی انھوں نے اپنے رب کی آواز پر لبیک نہ کہا، ان کی حالت اچھی نہ ہو گی۔ ﴿ لَوۡ اَنَّ لَهُمۡ مَّا فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اگر ان کے پاس ہو جو کچھ کہ زمین میں ہے سارا‘‘ یعنی زمین کا تمام سونا چاندی وغیرہ ﴿ وَّمِثۡلَهٗ مَعَهٗ لَافۡتَدَوۡا بِهٖ﴾’’اور اتنا ہی اس کے ساتھ اور تو سب دے ڈالیں اپنے بدلے میں ‘‘ یعنی قیامت کے روز کے عذاب سے بچنے کے لیے فدیہ میں ۔ تو ان سے یہ سب کچھ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ اور یہ مال انھیں حاصل بھی کہاں سے ہو گا؟﴿ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ الۡحِسَابِ﴾ ’’ان کے لیے ہے برا حساب‘‘ یعنی یہ حساب ہر اس بداعمالی کے بارے میں ہو گا جس کا انھوں نے دنیا میں ارتکاب کیا تھا اور بندوں کے جو حقوق ضائع کیے تھے، ان کی تمام بداعمالیاں لکھ کر محفوظ کر لی گئی ہیں ۔ وہ پکار اٹھیں گے ﴿يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکھف: 18؍49)’’ہاے ہماری بدبختی! یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو لکھنے سے چھوڑتی ہے نہ کسی بڑی بات کو اور وہ اپنے تمام اعمال کو موجود پائیں گے جو انھوں نے سرانجام دیے ہوں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ یعنی اس برے حساب کتاب کے بعد ﴿ مَاۡوٰىهُمۡ جَهَنَّمُ﴾ ’’ان کا ٹھکانا جہنم ہے‘‘ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع ہے، مثلاً: شدید بھوک، دردناک پیاس، بھڑکتی ہوئی آگ، کھانے کو تھوہر، ٹھٹھرا دینے والی سردی، خاردار جھاڑ اور عذاب کی وہ تمام اقسام جن کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے ﴿ وَبِئۡسَ الۡمِهَادُ ﴾ ’’اور وہ بری جگہ ہے۔‘‘ یعنی ان کا مسکن اور ٹھکانا بدترین ہو گا۔
13:19۞أَفَمَن يَعۡلَمُ أَنَّمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَ ٱلۡحَقُّ كَمَنۡ هُوَ أَعۡمَىٰٓۚ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ
کیا پس وہ شخص جو جانتا ہے کہ یقینا جو کچھ نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف، آپ کے رب کی طرف سے وہ حق ہے، مانند اس شخص کے (ہو سکتا ہے) جو اندھا ہے؟ یقینا نصیحت حاصل کرتے ہیں عقل والے ہی (19) وہ لوگ جو پورا کرتے ہیں عہد اللہ کا اور نہیں توڑتے وہ پختہ عہد کو (20) اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں اس چیز کو کہ حکم دیا ہے اللہ نے اس کی بابت کہ ملایا جائے (اسے)اور وہ ڈرتے ہیں اپنے رب سےاور ڈرتے ہیں وہ سخت حساب سے (21) اور وہ لوگ کہ جنھوں نے صبر کیاواسطے تلاش کرنے کے رضا مندی اپنے رب کی اور انھوں نے قائم کی نماز اور خرچ کیا اس میں سے جو رزق دیا ہم نے انھیں پوشیدہ اور ظاہر اور وہ دور کرتے ہیں ساتھ اچھائی کے برائی کو، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے (بہتر) انجام ہے آخرت کا (22) باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے، وہ داخل ہوں گے ان میں اور وہ بھی جو نیک ہیں ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سےاور فرشتے داخل ہوں گے اوپر ان کے (جنت کے) ہر دروازے سے (23)(اورکہیں گے) سلام ہو تم پر بوجہ اس کے کہ صبر کیا تم نے، سو بہت ہی اچھا انجام ہے آخرت کا (24)
[20,19] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل علم و عمل اور غیر اہل علم لوگوں کے درمیان فرق کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَفَمَنۡ يَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’بھلا جو شخص جانتا ہے کہ جو کچھ اترا آپ پر آپ کے رب کی طرف سے، حق ہے‘‘ پس اس حق کو خوب سمجھ لیا اور اس پر عمل پیرا ہوا ﴿ كَمَنۡ هُوَ اَعۡمٰى ﴾ ’’برابر ہو سکتا ہے اس کے جو کہ اندھا ہے‘‘ اور وہ حق کا علم رکھتا ہے نہ حق پر عمل کرتا ہے، دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ پس بندے پر لازم ہے کہ وہ غور کرے کہ فریقین میں سے کس کا حال اچھا اور کس کا انجام بہتر ہے، پھر اسے چاہیے کہ اسی راستے کو ترجیح دے اور اسی گروہ کی پیروی میں رواں دواں رہے۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص غوروفکر نہیں کرتا کہ اس کے لیے کیا چیز فائدہ مند اور کیا چیز نقصان دہ ہے؟ ﴿ اِنَّمَا يَتَذَكَّـرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ ’’عقل مند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ‘‘ یعنی جو پختہ عقل اور کامل رائے رکھتے ہیں یہ لوگ کائنات کا لب لباب اور بنی آدم میں چنے ہوئے لوگ ہیں ۔اگر آپ ان کے اوصاف کے بارے میں سوال کریں تو آپ ان اوصاف سے بڑھ کر کوئی وصف نہیں پائیں گے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو موصوف کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں ‘‘ وہ ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کی تھی اور وہ عہد جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا یعنی اس کے حقوق کو کامل طور پر قائم کرنا، ان کو پوری طرح ادا کرنا یعنی ان حقوق کی نشوونما اور ان میں خیر خواہی کرنا۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان حقوق کی تکمیل یہ ہے کہ وہ ﴿ لَا يَنۡقُضُوۡنَ الۡمِيۡثَاقَ ﴾ ’’وہ اقرار کو نہیں توڑتے۔‘‘ یعنی اس عہد کو نہیں توڑتے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے باندھا ہے۔ اس آیت کریمہ کے حکم میں ہر قسم کا معاہدہ، عہد، قسم اور نذر وغیرہ داخل ہیں جنھیں بندے اپنے آپ پر لازم کرتے ہیں ۔ اس عہد اور میثاق کو بتمام پورا کیے بغیر بندہ، عقل مندوں میں شمار نہیں ہو سکتا جن کے لیے ثواب عظیم ہے۔
[21]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں جس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا‘‘ یہ ان تمام امور کے لیے عام ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت، اللہ تعالیٰ وحدہ کی عبادت اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے لیے سرتسلیم خم کرنا۔ سب اس میں داخل ہے۔ یہ لوگ اپنے ماں باپ کے ساتھ قولی اور فعلی حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں اور ان کی نافرمانی نہیں کرتے۔ اسی طرح اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اپنے قول و فعل میں حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں ۔ اپنی بیویوں ، اپنے دوستوں ، ساتھیوں اور اپنے غلاموں کے دین اور دنیاوی حقوق کی کامل ادائیگی کے ذریعے سے حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔اور وہ سبب جس کی بنا پر بندہ ان امور کو ملاتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ اور روز حساب کا خوف ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَيَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ ﴾ ’’اور وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کا خوف اور قیامت کے دن اس کے حضور پیش ہونے کا ڈر انھیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ارتکاب اور اس کے احکام میں کوتاہی سے بچاتا ہے، ان کا یہ رویہ عذاب کے ڈر اور ثواب کی امید کی بنا پر ہے۔
[22]﴿ وَالَّذِيۡنَ صَبَرُوا﴾ ’’اور جو صبر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو مامورات کی تعمیل اور منہیات سے بچنے اور ان سے دور رہنے اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاوقدر پرعدم ناراضی کے ساتھ صبر کرتے ہیں مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ صبر ﴿ ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِمۡ ﴾ صرف ’’اپنے رب کی رضا کی خاطر ہو‘‘ کسی فاسد اغراض و مقاصد کے لیے نہ ہو۔ یہی وہ صبر ہے جو فائدہ مند ہے جو بندے کو اپنے رب کی رضا کی طلب اور اس کے قرب کی امید کا پابند اور اس کے ثواب سے بہرہ ور کرتا ہے اور یہی وہ صبر ہے جو اہل ایمان کی خصوصیات میں شمار ہوتا ہے۔ وہ صبر جو بہت سے لوگوں میں مشترک ہوتا ہے اس کی غایت و انتہا استقلال اور فخر ہے یہ صبر نیک اور بد، مومن اور کافر، ہر قسم کے لوگوں سے صادر ہو سکتا ہے صبر کی یہ قسم درحقیقت ممدوح نہیں ہے۔ ﴿ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اور نماز قائم کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ نماز کو اس کے تمام ارکان، شرائط اور ظاہری و باطنی تکمیل کے ساتھ قائم کرتے ہیں ، ﴿ وَاَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً ﴾ ’’اور جو ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں ‘‘ اس میں تمام نفقات واجبہ ، مثلاً:زکٰوۃ اور کفارہ اور نفقات مستحبہ داخل ہیں ۔ یہ کھلے چھپے ان تمام مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں ضرورت تقاضا کرتی ہے۔﴿ وَّيَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَةِ السَّؔيِّئَةَ ﴾ ’’اور وہ برائی کے مقابلے میں بھلائی کرتے ہیں ‘‘ یعنی جو کوئی قول و فعل کے ذریعے سے ان کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے، وہ اس کے ساتھ برے طریقے سے پیش نہیں آتے بلکہ اس کے برعکس حسن سلوک سے پیش آتے ہیں ۔ پس جو کوئی انھیں محروم کرتا ہے یہ اسے عطا کرتے ہیں ، جو کوئی ان پر ظلم کرتا ہے یہ اسے معاف کر دیتے ہیں ، جو کوئی ان سے قطع تعلق کرتا ہے یہ اس سے جڑتے ہیں اور جو کوئی ان سے برا سلوک کرتا ہے یہ اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں …جب برا سلوک کرنے والوں کے ساتھ ان کے حسن سلوک کی یہ کیفیت ہے تو اس شخص کے ساتھ ان کے حسن سلوک کی کیا کیفیت ہو گی جس نے ان کے ساتھ کبھی برا سلوک نہیں کیا۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان صفات جلیلہ اور مناقب جمیلہ کے حامل ہیں ﴿ لَهُمۡ عُقۡبَى الدَّارِ﴾ ’’انھی کے لیے آخرت کا گھر ہے۔‘‘
[24,23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ جَنّٰتُ عَدۡنٍ ﴾ ’’باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے‘‘ یعنی وہ ان جنتوں میں قیام کریں گے وہ کبھی ان سے دور نہ ہوں گے اور نہ وہ ان جنتوں سے منتقل ہونا چاہیں گے وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے اوپر کوئی منزل نہیں … کیونکہ یہ جنتیں ایسی نعمت اور مسرت پر مشتمل ہیں جو مطلوب و مقصود ہے۔ اور ان کے لیے نعمت کی تکمیل اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک یہ ہے کہ ﴿ يَّدۡخُلُوۡنَهَا۠ وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ ﴾ ’’وہ اس (جنت) میں داخل ہوں گے اور جو نیک ہوئے ان کے باپ دادا میں سے، (مردوں اور عورتوں میں سے) اور ان کی بیویوں میں سے اور ان کی اولاد میں سے۔‘‘ اور اسی طرح ان جیسے دیگر لوگ، ان کے دوست، ہم نشین، ان کے ساتھی۔ اس لیے کہ یہ سب ان کی ازواج اور اولاد کی قبیل ہی میں شمار ہوں گے ﴿وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍ ﴾ ’’اور فرشتے ان پر ہر دروازے سے داخل ہوں گے‘‘ وہ انھیں سلام اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اکرام و تکریم کے ذریعے سے ہدیہ تہنیت پیش کریں گے۔ اور کہیں گے ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر سلامتی ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر سلامتی اور سلام کا ہدیہ ہے جو تمھیں پیش کیا گیا ہے اور یہ سلام ہر ناخوشگوار کے زائل ہونے کو متضمن اور ہر محبوب چیز کے حصول کو مستلزم ہے ﴿ بِمَا صَبَرۡتُمۡ ﴾ ’’تمھارے صبر کے سبب سے‘‘ یہ صبر ہی ہے جس نے تمھیں ان مقامات بلند اور جنت عالیشان میں پہنچایا ﴿ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ ﴾ ’’سو کیا خوب ہے عاقبت کا گھر‘‘ پس جو کوئی اپنے نفس کا خیرخواہ ہے اور اس کے نزدیک اس کی قدروقیمت ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کے تزکیہ کے لیے پوری جدوجہد کرے شاید وہ عقل مندوں کے اوصاف سے بہرہ ور ہو سکے اور شاید اسے آخرت کے گھر سے کوئی حصہ مل سکے جو دلوں کی آرزو اور روح کا سرور ہے جو ہر قسم کی لذتوں اور فرحتوں کا جامع ہے۔ پس اس قسم کی منزل کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے اور اس قسم کے مقام کے لیے سبقت کرنی چاہیے۔
13:20ٱلَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهۡدِ ٱللَّهِ وَلَا يَنقُضُونَ ٱلۡمِيثَٰقَ
کیا پس وہ شخص جو جانتا ہے کہ یقینا جو کچھ نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف، آپ کے رب کی طرف سے وہ حق ہے، مانند اس شخص کے (ہو سکتا ہے) جو اندھا ہے؟ یقینا نصیحت حاصل کرتے ہیں عقل والے ہی (19) وہ لوگ جو پورا کرتے ہیں عہد اللہ کا اور نہیں توڑتے وہ پختہ عہد کو (20) اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں اس چیز کو کہ حکم دیا ہے اللہ نے اس کی بابت کہ ملایا جائے (اسے)اور وہ ڈرتے ہیں اپنے رب سےاور ڈرتے ہیں وہ سخت حساب سے (21) اور وہ لوگ کہ جنھوں نے صبر کیاواسطے تلاش کرنے کے رضا مندی اپنے رب کی اور انھوں نے قائم کی نماز اور خرچ کیا اس میں سے جو رزق دیا ہم نے انھیں پوشیدہ اور ظاہر اور وہ دور کرتے ہیں ساتھ اچھائی کے برائی کو، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے (بہتر) انجام ہے آخرت کا (22) باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے، وہ داخل ہوں گے ان میں اور وہ بھی جو نیک ہیں ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سےاور فرشتے داخل ہوں گے اوپر ان کے (جنت کے) ہر دروازے سے (23)(اورکہیں گے) سلام ہو تم پر بوجہ اس کے کہ صبر کیا تم نے، سو بہت ہی اچھا انجام ہے آخرت کا (24)
[20,19] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل علم و عمل اور غیر اہل علم لوگوں کے درمیان فرق کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَفَمَنۡ يَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’بھلا جو شخص جانتا ہے کہ جو کچھ اترا آپ پر آپ کے رب کی طرف سے، حق ہے‘‘ پس اس حق کو خوب سمجھ لیا اور اس پر عمل پیرا ہوا ﴿ كَمَنۡ هُوَ اَعۡمٰى ﴾ ’’برابر ہو سکتا ہے اس کے جو کہ اندھا ہے‘‘ اور وہ حق کا علم رکھتا ہے نہ حق پر عمل کرتا ہے، دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ پس بندے پر لازم ہے کہ وہ غور کرے کہ فریقین میں سے کس کا حال اچھا اور کس کا انجام بہتر ہے، پھر اسے چاہیے کہ اسی راستے کو ترجیح دے اور اسی گروہ کی پیروی میں رواں دواں رہے۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص غوروفکر نہیں کرتا کہ اس کے لیے کیا چیز فائدہ مند اور کیا چیز نقصان دہ ہے؟ ﴿ اِنَّمَا يَتَذَكَّـرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ ’’عقل مند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ‘‘ یعنی جو پختہ عقل اور کامل رائے رکھتے ہیں یہ لوگ کائنات کا لب لباب اور بنی آدم میں چنے ہوئے لوگ ہیں ۔اگر آپ ان کے اوصاف کے بارے میں سوال کریں تو آپ ان اوصاف سے بڑھ کر کوئی وصف نہیں پائیں گے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو موصوف کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں ‘‘ وہ ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کی تھی اور وہ عہد جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا یعنی اس کے حقوق کو کامل طور پر قائم کرنا، ان کو پوری طرح ادا کرنا یعنی ان حقوق کی نشوونما اور ان میں خیر خواہی کرنا۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان حقوق کی تکمیل یہ ہے کہ وہ ﴿ لَا يَنۡقُضُوۡنَ الۡمِيۡثَاقَ ﴾ ’’وہ اقرار کو نہیں توڑتے۔‘‘ یعنی اس عہد کو نہیں توڑتے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے باندھا ہے۔ اس آیت کریمہ کے حکم میں ہر قسم کا معاہدہ، عہد، قسم اور نذر وغیرہ داخل ہیں جنھیں بندے اپنے آپ پر لازم کرتے ہیں ۔ اس عہد اور میثاق کو بتمام پورا کیے بغیر بندہ، عقل مندوں میں شمار نہیں ہو سکتا جن کے لیے ثواب عظیم ہے۔
[21]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں جس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا‘‘ یہ ان تمام امور کے لیے عام ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت، اللہ تعالیٰ وحدہ کی عبادت اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے لیے سرتسلیم خم کرنا۔ سب اس میں داخل ہے۔ یہ لوگ اپنے ماں باپ کے ساتھ قولی اور فعلی حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں اور ان کی نافرمانی نہیں کرتے۔ اسی طرح اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اپنے قول و فعل میں حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں ۔ اپنی بیویوں ، اپنے دوستوں ، ساتھیوں اور اپنے غلاموں کے دین اور دنیاوی حقوق کی کامل ادائیگی کے ذریعے سے حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔اور وہ سبب جس کی بنا پر بندہ ان امور کو ملاتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ اور روز حساب کا خوف ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَيَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ ﴾ ’’اور وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کا خوف اور قیامت کے دن اس کے حضور پیش ہونے کا ڈر انھیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ارتکاب اور اس کے احکام میں کوتاہی سے بچاتا ہے، ان کا یہ رویہ عذاب کے ڈر اور ثواب کی امید کی بنا پر ہے۔
[22]﴿ وَالَّذِيۡنَ صَبَرُوا﴾ ’’اور جو صبر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو مامورات کی تعمیل اور منہیات سے بچنے اور ان سے دور رہنے اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاوقدر پرعدم ناراضی کے ساتھ صبر کرتے ہیں مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ صبر ﴿ ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِمۡ ﴾ صرف ’’اپنے رب کی رضا کی خاطر ہو‘‘ کسی فاسد اغراض و مقاصد کے لیے نہ ہو۔ یہی وہ صبر ہے جو فائدہ مند ہے جو بندے کو اپنے رب کی رضا کی طلب اور اس کے قرب کی امید کا پابند اور اس کے ثواب سے بہرہ ور کرتا ہے اور یہی وہ صبر ہے جو اہل ایمان کی خصوصیات میں شمار ہوتا ہے۔ وہ صبر جو بہت سے لوگوں میں مشترک ہوتا ہے اس کی غایت و انتہا استقلال اور فخر ہے یہ صبر نیک اور بد، مومن اور کافر، ہر قسم کے لوگوں سے صادر ہو سکتا ہے صبر کی یہ قسم درحقیقت ممدوح نہیں ہے۔ ﴿ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اور نماز قائم کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ نماز کو اس کے تمام ارکان، شرائط اور ظاہری و باطنی تکمیل کے ساتھ قائم کرتے ہیں ، ﴿ وَاَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً ﴾ ’’اور جو ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں ‘‘ اس میں تمام نفقات واجبہ ، مثلاً:زکٰوۃ اور کفارہ اور نفقات مستحبہ داخل ہیں ۔ یہ کھلے چھپے ان تمام مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں ضرورت تقاضا کرتی ہے۔﴿ وَّيَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَةِ السَّؔيِّئَةَ ﴾ ’’اور وہ برائی کے مقابلے میں بھلائی کرتے ہیں ‘‘ یعنی جو کوئی قول و فعل کے ذریعے سے ان کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے، وہ اس کے ساتھ برے طریقے سے پیش نہیں آتے بلکہ اس کے برعکس حسن سلوک سے پیش آتے ہیں ۔ پس جو کوئی انھیں محروم کرتا ہے یہ اسے عطا کرتے ہیں ، جو کوئی ان پر ظلم کرتا ہے یہ اسے معاف کر دیتے ہیں ، جو کوئی ان سے قطع تعلق کرتا ہے یہ اس سے جڑتے ہیں اور جو کوئی ان سے برا سلوک کرتا ہے یہ اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں …جب برا سلوک کرنے والوں کے ساتھ ان کے حسن سلوک کی یہ کیفیت ہے تو اس شخص کے ساتھ ان کے حسن سلوک کی کیا کیفیت ہو گی جس نے ان کے ساتھ کبھی برا سلوک نہیں کیا۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان صفات جلیلہ اور مناقب جمیلہ کے حامل ہیں ﴿ لَهُمۡ عُقۡبَى الدَّارِ﴾ ’’انھی کے لیے آخرت کا گھر ہے۔‘‘
[24,23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ جَنّٰتُ عَدۡنٍ ﴾ ’’باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے‘‘ یعنی وہ ان جنتوں میں قیام کریں گے وہ کبھی ان سے دور نہ ہوں گے اور نہ وہ ان جنتوں سے منتقل ہونا چاہیں گے وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے اوپر کوئی منزل نہیں … کیونکہ یہ جنتیں ایسی نعمت اور مسرت پر مشتمل ہیں جو مطلوب و مقصود ہے۔ اور ان کے لیے نعمت کی تکمیل اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک یہ ہے کہ ﴿ يَّدۡخُلُوۡنَهَا۠ وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ ﴾ ’’وہ اس (جنت) میں داخل ہوں گے اور جو نیک ہوئے ان کے باپ دادا میں سے، (مردوں اور عورتوں میں سے) اور ان کی بیویوں میں سے اور ان کی اولاد میں سے۔‘‘ اور اسی طرح ان جیسے دیگر لوگ، ان کے دوست، ہم نشین، ان کے ساتھی۔ اس لیے کہ یہ سب ان کی ازواج اور اولاد کی قبیل ہی میں شمار ہوں گے ﴿وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍ ﴾ ’’اور فرشتے ان پر ہر دروازے سے داخل ہوں گے‘‘ وہ انھیں سلام اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اکرام و تکریم کے ذریعے سے ہدیہ تہنیت پیش کریں گے۔ اور کہیں گے ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر سلامتی ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر سلامتی اور سلام کا ہدیہ ہے جو تمھیں پیش کیا گیا ہے اور یہ سلام ہر ناخوشگوار کے زائل ہونے کو متضمن اور ہر محبوب چیز کے حصول کو مستلزم ہے ﴿ بِمَا صَبَرۡتُمۡ ﴾ ’’تمھارے صبر کے سبب سے‘‘ یہ صبر ہی ہے جس نے تمھیں ان مقامات بلند اور جنت عالیشان میں پہنچایا ﴿ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ ﴾ ’’سو کیا خوب ہے عاقبت کا گھر‘‘ پس جو کوئی اپنے نفس کا خیرخواہ ہے اور اس کے نزدیک اس کی قدروقیمت ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کے تزکیہ کے لیے پوری جدوجہد کرے شاید وہ عقل مندوں کے اوصاف سے بہرہ ور ہو سکے اور شاید اسے آخرت کے گھر سے کوئی حصہ مل سکے جو دلوں کی آرزو اور روح کا سرور ہے جو ہر قسم کی لذتوں اور فرحتوں کا جامع ہے۔ پس اس قسم کی منزل کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے اور اس قسم کے مقام کے لیے سبقت کرنی چاہیے۔
13:21وَٱلَّذِينَ يَصِلُونَ مَآ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ وَيَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ وَيَخَافُونَ سُوٓءَ ٱلۡحِسَابِ
کیا پس وہ شخص جو جانتا ہے کہ یقینا جو کچھ نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف، آپ کے رب کی طرف سے وہ حق ہے، مانند اس شخص کے (ہو سکتا ہے) جو اندھا ہے؟ یقینا نصیحت حاصل کرتے ہیں عقل والے ہی (19) وہ لوگ جو پورا کرتے ہیں عہد اللہ کا اور نہیں توڑتے وہ پختہ عہد کو (20) اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں اس چیز کو کہ حکم دیا ہے اللہ نے اس کی بابت کہ ملایا جائے (اسے)اور وہ ڈرتے ہیں اپنے رب سےاور ڈرتے ہیں وہ سخت حساب سے (21) اور وہ لوگ کہ جنھوں نے صبر کیاواسطے تلاش کرنے کے رضا مندی اپنے رب کی اور انھوں نے قائم کی نماز اور خرچ کیا اس میں سے جو رزق دیا ہم نے انھیں پوشیدہ اور ظاہر اور وہ دور کرتے ہیں ساتھ اچھائی کے برائی کو، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے (بہتر) انجام ہے آخرت کا (22) باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے، وہ داخل ہوں گے ان میں اور وہ بھی جو نیک ہیں ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سےاور فرشتے داخل ہوں گے اوپر ان کے (جنت کے) ہر دروازے سے (23)(اورکہیں گے) سلام ہو تم پر بوجہ اس کے کہ صبر کیا تم نے، سو بہت ہی اچھا انجام ہے آخرت کا (24)
[20,19] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل علم و عمل اور غیر اہل علم لوگوں کے درمیان فرق کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَفَمَنۡ يَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’بھلا جو شخص جانتا ہے کہ جو کچھ اترا آپ پر آپ کے رب کی طرف سے، حق ہے‘‘ پس اس حق کو خوب سمجھ لیا اور اس پر عمل پیرا ہوا ﴿ كَمَنۡ هُوَ اَعۡمٰى ﴾ ’’برابر ہو سکتا ہے اس کے جو کہ اندھا ہے‘‘ اور وہ حق کا علم رکھتا ہے نہ حق پر عمل کرتا ہے، دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ پس بندے پر لازم ہے کہ وہ غور کرے کہ فریقین میں سے کس کا حال اچھا اور کس کا انجام بہتر ہے، پھر اسے چاہیے کہ اسی راستے کو ترجیح دے اور اسی گروہ کی پیروی میں رواں دواں رہے۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص غوروفکر نہیں کرتا کہ اس کے لیے کیا چیز فائدہ مند اور کیا چیز نقصان دہ ہے؟ ﴿ اِنَّمَا يَتَذَكَّـرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ ’’عقل مند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ‘‘ یعنی جو پختہ عقل اور کامل رائے رکھتے ہیں یہ لوگ کائنات کا لب لباب اور بنی آدم میں چنے ہوئے لوگ ہیں ۔اگر آپ ان کے اوصاف کے بارے میں سوال کریں تو آپ ان اوصاف سے بڑھ کر کوئی وصف نہیں پائیں گے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو موصوف کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں ‘‘ وہ ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کی تھی اور وہ عہد جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا یعنی اس کے حقوق کو کامل طور پر قائم کرنا، ان کو پوری طرح ادا کرنا یعنی ان حقوق کی نشوونما اور ان میں خیر خواہی کرنا۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان حقوق کی تکمیل یہ ہے کہ وہ ﴿ لَا يَنۡقُضُوۡنَ الۡمِيۡثَاقَ ﴾ ’’وہ اقرار کو نہیں توڑتے۔‘‘ یعنی اس عہد کو نہیں توڑتے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے باندھا ہے۔ اس آیت کریمہ کے حکم میں ہر قسم کا معاہدہ، عہد، قسم اور نذر وغیرہ داخل ہیں جنھیں بندے اپنے آپ پر لازم کرتے ہیں ۔ اس عہد اور میثاق کو بتمام پورا کیے بغیر بندہ، عقل مندوں میں شمار نہیں ہو سکتا جن کے لیے ثواب عظیم ہے۔
[21]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں جس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا‘‘ یہ ان تمام امور کے لیے عام ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت، اللہ تعالیٰ وحدہ کی عبادت اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے لیے سرتسلیم خم کرنا۔ سب اس میں داخل ہے۔ یہ لوگ اپنے ماں باپ کے ساتھ قولی اور فعلی حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں اور ان کی نافرمانی نہیں کرتے۔ اسی طرح اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اپنے قول و فعل میں حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں ۔ اپنی بیویوں ، اپنے دوستوں ، ساتھیوں اور اپنے غلاموں کے دین اور دنیاوی حقوق کی کامل ادائیگی کے ذریعے سے حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔اور وہ سبب جس کی بنا پر بندہ ان امور کو ملاتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ اور روز حساب کا خوف ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَيَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ ﴾ ’’اور وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کا خوف اور قیامت کے دن اس کے حضور پیش ہونے کا ڈر انھیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ارتکاب اور اس کے احکام میں کوتاہی سے بچاتا ہے، ان کا یہ رویہ عذاب کے ڈر اور ثواب کی امید کی بنا پر ہے۔
[22]﴿ وَالَّذِيۡنَ صَبَرُوا﴾ ’’اور جو صبر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو مامورات کی تعمیل اور منہیات سے بچنے اور ان سے دور رہنے اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاوقدر پرعدم ناراضی کے ساتھ صبر کرتے ہیں مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ صبر ﴿ ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِمۡ ﴾ صرف ’’اپنے رب کی رضا کی خاطر ہو‘‘ کسی فاسد اغراض و مقاصد کے لیے نہ ہو۔ یہی وہ صبر ہے جو فائدہ مند ہے جو بندے کو اپنے رب کی رضا کی طلب اور اس کے قرب کی امید کا پابند اور اس کے ثواب سے بہرہ ور کرتا ہے اور یہی وہ صبر ہے جو اہل ایمان کی خصوصیات میں شمار ہوتا ہے۔ وہ صبر جو بہت سے لوگوں میں مشترک ہوتا ہے اس کی غایت و انتہا استقلال اور فخر ہے یہ صبر نیک اور بد، مومن اور کافر، ہر قسم کے لوگوں سے صادر ہو سکتا ہے صبر کی یہ قسم درحقیقت ممدوح نہیں ہے۔ ﴿ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اور نماز قائم کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ نماز کو اس کے تمام ارکان، شرائط اور ظاہری و باطنی تکمیل کے ساتھ قائم کرتے ہیں ، ﴿ وَاَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً ﴾ ’’اور جو ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں ‘‘ اس میں تمام نفقات واجبہ ، مثلاً:زکٰوۃ اور کفارہ اور نفقات مستحبہ داخل ہیں ۔ یہ کھلے چھپے ان تمام مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں ضرورت تقاضا کرتی ہے۔﴿ وَّيَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَةِ السَّؔيِّئَةَ ﴾ ’’اور وہ برائی کے مقابلے میں بھلائی کرتے ہیں ‘‘ یعنی جو کوئی قول و فعل کے ذریعے سے ان کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے، وہ اس کے ساتھ برے طریقے سے پیش نہیں آتے بلکہ اس کے برعکس حسن سلوک سے پیش آتے ہیں ۔ پس جو کوئی انھیں محروم کرتا ہے یہ اسے عطا کرتے ہیں ، جو کوئی ان پر ظلم کرتا ہے یہ اسے معاف کر دیتے ہیں ، جو کوئی ان سے قطع تعلق کرتا ہے یہ اس سے جڑتے ہیں اور جو کوئی ان سے برا سلوک کرتا ہے یہ اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں …جب برا سلوک کرنے والوں کے ساتھ ان کے حسن سلوک کی یہ کیفیت ہے تو اس شخص کے ساتھ ان کے حسن سلوک کی کیا کیفیت ہو گی جس نے ان کے ساتھ کبھی برا سلوک نہیں کیا۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان صفات جلیلہ اور مناقب جمیلہ کے حامل ہیں ﴿ لَهُمۡ عُقۡبَى الدَّارِ﴾ ’’انھی کے لیے آخرت کا گھر ہے۔‘‘
[24,23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ جَنّٰتُ عَدۡنٍ ﴾ ’’باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے‘‘ یعنی وہ ان جنتوں میں قیام کریں گے وہ کبھی ان سے دور نہ ہوں گے اور نہ وہ ان جنتوں سے منتقل ہونا چاہیں گے وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے اوپر کوئی منزل نہیں … کیونکہ یہ جنتیں ایسی نعمت اور مسرت پر مشتمل ہیں جو مطلوب و مقصود ہے۔ اور ان کے لیے نعمت کی تکمیل اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک یہ ہے کہ ﴿ يَّدۡخُلُوۡنَهَا۠ وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ ﴾ ’’وہ اس (جنت) میں داخل ہوں گے اور جو نیک ہوئے ان کے باپ دادا میں سے، (مردوں اور عورتوں میں سے) اور ان کی بیویوں میں سے اور ان کی اولاد میں سے۔‘‘ اور اسی طرح ان جیسے دیگر لوگ، ان کے دوست، ہم نشین، ان کے ساتھی۔ اس لیے کہ یہ سب ان کی ازواج اور اولاد کی قبیل ہی میں شمار ہوں گے ﴿وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍ ﴾ ’’اور فرشتے ان پر ہر دروازے سے داخل ہوں گے‘‘ وہ انھیں سلام اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اکرام و تکریم کے ذریعے سے ہدیہ تہنیت پیش کریں گے۔ اور کہیں گے ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر سلامتی ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر سلامتی اور سلام کا ہدیہ ہے جو تمھیں پیش کیا گیا ہے اور یہ سلام ہر ناخوشگوار کے زائل ہونے کو متضمن اور ہر محبوب چیز کے حصول کو مستلزم ہے ﴿ بِمَا صَبَرۡتُمۡ ﴾ ’’تمھارے صبر کے سبب سے‘‘ یہ صبر ہی ہے جس نے تمھیں ان مقامات بلند اور جنت عالیشان میں پہنچایا ﴿ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ ﴾ ’’سو کیا خوب ہے عاقبت کا گھر‘‘ پس جو کوئی اپنے نفس کا خیرخواہ ہے اور اس کے نزدیک اس کی قدروقیمت ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کے تزکیہ کے لیے پوری جدوجہد کرے شاید وہ عقل مندوں کے اوصاف سے بہرہ ور ہو سکے اور شاید اسے آخرت کے گھر سے کوئی حصہ مل سکے جو دلوں کی آرزو اور روح کا سرور ہے جو ہر قسم کی لذتوں اور فرحتوں کا جامع ہے۔ پس اس قسم کی منزل کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے اور اس قسم کے مقام کے لیے سبقت کرنی چاہیے۔
13:22وَٱلَّذِينَ صَبَرُواْ ٱبۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِمۡ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنفَقُواْ مِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ سِرّٗا وَعَلَانِيَةٗ وَيَدۡرَءُونَ بِٱلۡحَسَنَةِ ٱلسَّيِّئَةَ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عُقۡبَى ٱلدَّارِ
کیا پس وہ شخص جو جانتا ہے کہ یقینا جو کچھ نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف، آپ کے رب کی طرف سے وہ حق ہے، مانند اس شخص کے (ہو سکتا ہے) جو اندھا ہے؟ یقینا نصیحت حاصل کرتے ہیں عقل والے ہی (19) وہ لوگ جو پورا کرتے ہیں عہد اللہ کا اور نہیں توڑتے وہ پختہ عہد کو (20) اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں اس چیز کو کہ حکم دیا ہے اللہ نے اس کی بابت کہ ملایا جائے (اسے)اور وہ ڈرتے ہیں اپنے رب سےاور ڈرتے ہیں وہ سخت حساب سے (21) اور وہ لوگ کہ جنھوں نے صبر کیاواسطے تلاش کرنے کے رضا مندی اپنے رب کی اور انھوں نے قائم کی نماز اور خرچ کیا اس میں سے جو رزق دیا ہم نے انھیں پوشیدہ اور ظاہر اور وہ دور کرتے ہیں ساتھ اچھائی کے برائی کو، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے (بہتر) انجام ہے آخرت کا (22) باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے، وہ داخل ہوں گے ان میں اور وہ بھی جو نیک ہیں ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سےاور فرشتے داخل ہوں گے اوپر ان کے (جنت کے) ہر دروازے سے (23)(اورکہیں گے) سلام ہو تم پر بوجہ اس کے کہ صبر کیا تم نے، سو بہت ہی اچھا انجام ہے آخرت کا (24)
[20,19] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل علم و عمل اور غیر اہل علم لوگوں کے درمیان فرق کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَفَمَنۡ يَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’بھلا جو شخص جانتا ہے کہ جو کچھ اترا آپ پر آپ کے رب کی طرف سے، حق ہے‘‘ پس اس حق کو خوب سمجھ لیا اور اس پر عمل پیرا ہوا ﴿ كَمَنۡ هُوَ اَعۡمٰى ﴾ ’’برابر ہو سکتا ہے اس کے جو کہ اندھا ہے‘‘ اور وہ حق کا علم رکھتا ہے نہ حق پر عمل کرتا ہے، دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ پس بندے پر لازم ہے کہ وہ غور کرے کہ فریقین میں سے کس کا حال اچھا اور کس کا انجام بہتر ہے، پھر اسے چاہیے کہ اسی راستے کو ترجیح دے اور اسی گروہ کی پیروی میں رواں دواں رہے۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص غوروفکر نہیں کرتا کہ اس کے لیے کیا چیز فائدہ مند اور کیا چیز نقصان دہ ہے؟ ﴿ اِنَّمَا يَتَذَكَّـرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ ’’عقل مند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ‘‘ یعنی جو پختہ عقل اور کامل رائے رکھتے ہیں یہ لوگ کائنات کا لب لباب اور بنی آدم میں چنے ہوئے لوگ ہیں ۔اگر آپ ان کے اوصاف کے بارے میں سوال کریں تو آپ ان اوصاف سے بڑھ کر کوئی وصف نہیں پائیں گے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو موصوف کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں ‘‘ وہ ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کی تھی اور وہ عہد جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا یعنی اس کے حقوق کو کامل طور پر قائم کرنا، ان کو پوری طرح ادا کرنا یعنی ان حقوق کی نشوونما اور ان میں خیر خواہی کرنا۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان حقوق کی تکمیل یہ ہے کہ وہ ﴿ لَا يَنۡقُضُوۡنَ الۡمِيۡثَاقَ ﴾ ’’وہ اقرار کو نہیں توڑتے۔‘‘ یعنی اس عہد کو نہیں توڑتے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے باندھا ہے۔ اس آیت کریمہ کے حکم میں ہر قسم کا معاہدہ، عہد، قسم اور نذر وغیرہ داخل ہیں جنھیں بندے اپنے آپ پر لازم کرتے ہیں ۔ اس عہد اور میثاق کو بتمام پورا کیے بغیر بندہ، عقل مندوں میں شمار نہیں ہو سکتا جن کے لیے ثواب عظیم ہے۔
[21]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں جس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا‘‘ یہ ان تمام امور کے لیے عام ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت، اللہ تعالیٰ وحدہ کی عبادت اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے لیے سرتسلیم خم کرنا۔ سب اس میں داخل ہے۔ یہ لوگ اپنے ماں باپ کے ساتھ قولی اور فعلی حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں اور ان کی نافرمانی نہیں کرتے۔ اسی طرح اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اپنے قول و فعل میں حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں ۔ اپنی بیویوں ، اپنے دوستوں ، ساتھیوں اور اپنے غلاموں کے دین اور دنیاوی حقوق کی کامل ادائیگی کے ذریعے سے حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔اور وہ سبب جس کی بنا پر بندہ ان امور کو ملاتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ اور روز حساب کا خوف ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَيَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ ﴾ ’’اور وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کا خوف اور قیامت کے دن اس کے حضور پیش ہونے کا ڈر انھیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ارتکاب اور اس کے احکام میں کوتاہی سے بچاتا ہے، ان کا یہ رویہ عذاب کے ڈر اور ثواب کی امید کی بنا پر ہے۔
[22]﴿ وَالَّذِيۡنَ صَبَرُوا﴾ ’’اور جو صبر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو مامورات کی تعمیل اور منہیات سے بچنے اور ان سے دور رہنے اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاوقدر پرعدم ناراضی کے ساتھ صبر کرتے ہیں مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ صبر ﴿ ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِمۡ ﴾ صرف ’’اپنے رب کی رضا کی خاطر ہو‘‘ کسی فاسد اغراض و مقاصد کے لیے نہ ہو۔ یہی وہ صبر ہے جو فائدہ مند ہے جو بندے کو اپنے رب کی رضا کی طلب اور اس کے قرب کی امید کا پابند اور اس کے ثواب سے بہرہ ور کرتا ہے اور یہی وہ صبر ہے جو اہل ایمان کی خصوصیات میں شمار ہوتا ہے۔ وہ صبر جو بہت سے لوگوں میں مشترک ہوتا ہے اس کی غایت و انتہا استقلال اور فخر ہے یہ صبر نیک اور بد، مومن اور کافر، ہر قسم کے لوگوں سے صادر ہو سکتا ہے صبر کی یہ قسم درحقیقت ممدوح نہیں ہے۔ ﴿ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اور نماز قائم کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ نماز کو اس کے تمام ارکان، شرائط اور ظاہری و باطنی تکمیل کے ساتھ قائم کرتے ہیں ، ﴿ وَاَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً ﴾ ’’اور جو ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں ‘‘ اس میں تمام نفقات واجبہ ، مثلاً:زکٰوۃ اور کفارہ اور نفقات مستحبہ داخل ہیں ۔ یہ کھلے چھپے ان تمام مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں ضرورت تقاضا کرتی ہے۔﴿ وَّيَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَةِ السَّؔيِّئَةَ ﴾ ’’اور وہ برائی کے مقابلے میں بھلائی کرتے ہیں ‘‘ یعنی جو کوئی قول و فعل کے ذریعے سے ان کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے، وہ اس کے ساتھ برے طریقے سے پیش نہیں آتے بلکہ اس کے برعکس حسن سلوک سے پیش آتے ہیں ۔ پس جو کوئی انھیں محروم کرتا ہے یہ اسے عطا کرتے ہیں ، جو کوئی ان پر ظلم کرتا ہے یہ اسے معاف کر دیتے ہیں ، جو کوئی ان سے قطع تعلق کرتا ہے یہ اس سے جڑتے ہیں اور جو کوئی ان سے برا سلوک کرتا ہے یہ اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں …جب برا سلوک کرنے والوں کے ساتھ ان کے حسن سلوک کی یہ کیفیت ہے تو اس شخص کے ساتھ ان کے حسن سلوک کی کیا کیفیت ہو گی جس نے ان کے ساتھ کبھی برا سلوک نہیں کیا۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان صفات جلیلہ اور مناقب جمیلہ کے حامل ہیں ﴿ لَهُمۡ عُقۡبَى الدَّارِ﴾ ’’انھی کے لیے آخرت کا گھر ہے۔‘‘
[24,23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ جَنّٰتُ عَدۡنٍ ﴾ ’’باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے‘‘ یعنی وہ ان جنتوں میں قیام کریں گے وہ کبھی ان سے دور نہ ہوں گے اور نہ وہ ان جنتوں سے منتقل ہونا چاہیں گے وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے اوپر کوئی منزل نہیں … کیونکہ یہ جنتیں ایسی نعمت اور مسرت پر مشتمل ہیں جو مطلوب و مقصود ہے۔ اور ان کے لیے نعمت کی تکمیل اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک یہ ہے کہ ﴿ يَّدۡخُلُوۡنَهَا۠ وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ ﴾ ’’وہ اس (جنت) میں داخل ہوں گے اور جو نیک ہوئے ان کے باپ دادا میں سے، (مردوں اور عورتوں میں سے) اور ان کی بیویوں میں سے اور ان کی اولاد میں سے۔‘‘ اور اسی طرح ان جیسے دیگر لوگ، ان کے دوست، ہم نشین، ان کے ساتھی۔ اس لیے کہ یہ سب ان کی ازواج اور اولاد کی قبیل ہی میں شمار ہوں گے ﴿وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍ ﴾ ’’اور فرشتے ان پر ہر دروازے سے داخل ہوں گے‘‘ وہ انھیں سلام اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اکرام و تکریم کے ذریعے سے ہدیہ تہنیت پیش کریں گے۔ اور کہیں گے ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر سلامتی ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر سلامتی اور سلام کا ہدیہ ہے جو تمھیں پیش کیا گیا ہے اور یہ سلام ہر ناخوشگوار کے زائل ہونے کو متضمن اور ہر محبوب چیز کے حصول کو مستلزم ہے ﴿ بِمَا صَبَرۡتُمۡ ﴾ ’’تمھارے صبر کے سبب سے‘‘ یہ صبر ہی ہے جس نے تمھیں ان مقامات بلند اور جنت عالیشان میں پہنچایا ﴿ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ ﴾ ’’سو کیا خوب ہے عاقبت کا گھر‘‘ پس جو کوئی اپنے نفس کا خیرخواہ ہے اور اس کے نزدیک اس کی قدروقیمت ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کے تزکیہ کے لیے پوری جدوجہد کرے شاید وہ عقل مندوں کے اوصاف سے بہرہ ور ہو سکے اور شاید اسے آخرت کے گھر سے کوئی حصہ مل سکے جو دلوں کی آرزو اور روح کا سرور ہے جو ہر قسم کی لذتوں اور فرحتوں کا جامع ہے۔ پس اس قسم کی منزل کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے اور اس قسم کے مقام کے لیے سبقت کرنی چاہیے۔
13:23جَنَّـٰتُ عَدۡنٖ يَدۡخُلُونَهَا وَمَن صَلَحَ مِنۡ ءَابَآئِهِمۡ وَأَزۡوَٰجِهِمۡ وَذُرِّيَّـٰتِهِمۡۖ وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ يَدۡخُلُونَ عَلَيۡهِم مِّن كُلِّ بَابٖ
کیا پس وہ شخص جو جانتا ہے کہ یقینا جو کچھ نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف، آپ کے رب کی طرف سے وہ حق ہے، مانند اس شخص کے (ہو سکتا ہے) جو اندھا ہے؟ یقینا نصیحت حاصل کرتے ہیں عقل والے ہی (19) وہ لوگ جو پورا کرتے ہیں عہد اللہ کا اور نہیں توڑتے وہ پختہ عہد کو (20) اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں اس چیز کو کہ حکم دیا ہے اللہ نے اس کی بابت کہ ملایا جائے (اسے)اور وہ ڈرتے ہیں اپنے رب سےاور ڈرتے ہیں وہ سخت حساب سے (21) اور وہ لوگ کہ جنھوں نے صبر کیاواسطے تلاش کرنے کے رضا مندی اپنے رب کی اور انھوں نے قائم کی نماز اور خرچ کیا اس میں سے جو رزق دیا ہم نے انھیں پوشیدہ اور ظاہر اور وہ دور کرتے ہیں ساتھ اچھائی کے برائی کو، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے (بہتر) انجام ہے آخرت کا (22) باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے، وہ داخل ہوں گے ان میں اور وہ بھی جو نیک ہیں ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سےاور فرشتے داخل ہوں گے اوپر ان کے (جنت کے) ہر دروازے سے (23)(اورکہیں گے) سلام ہو تم پر بوجہ اس کے کہ صبر کیا تم نے، سو بہت ہی اچھا انجام ہے آخرت کا (24)
[20,19] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل علم و عمل اور غیر اہل علم لوگوں کے درمیان فرق کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَفَمَنۡ يَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’بھلا جو شخص جانتا ہے کہ جو کچھ اترا آپ پر آپ کے رب کی طرف سے، حق ہے‘‘ پس اس حق کو خوب سمجھ لیا اور اس پر عمل پیرا ہوا ﴿ كَمَنۡ هُوَ اَعۡمٰى ﴾ ’’برابر ہو سکتا ہے اس کے جو کہ اندھا ہے‘‘ اور وہ حق کا علم رکھتا ہے نہ حق پر عمل کرتا ہے، دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ پس بندے پر لازم ہے کہ وہ غور کرے کہ فریقین میں سے کس کا حال اچھا اور کس کا انجام بہتر ہے، پھر اسے چاہیے کہ اسی راستے کو ترجیح دے اور اسی گروہ کی پیروی میں رواں دواں رہے۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص غوروفکر نہیں کرتا کہ اس کے لیے کیا چیز فائدہ مند اور کیا چیز نقصان دہ ہے؟ ﴿ اِنَّمَا يَتَذَكَّـرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ ’’عقل مند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ‘‘ یعنی جو پختہ عقل اور کامل رائے رکھتے ہیں یہ لوگ کائنات کا لب لباب اور بنی آدم میں چنے ہوئے لوگ ہیں ۔اگر آپ ان کے اوصاف کے بارے میں سوال کریں تو آپ ان اوصاف سے بڑھ کر کوئی وصف نہیں پائیں گے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو موصوف کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں ‘‘ وہ ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کی تھی اور وہ عہد جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا یعنی اس کے حقوق کو کامل طور پر قائم کرنا، ان کو پوری طرح ادا کرنا یعنی ان حقوق کی نشوونما اور ان میں خیر خواہی کرنا۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان حقوق کی تکمیل یہ ہے کہ وہ ﴿ لَا يَنۡقُضُوۡنَ الۡمِيۡثَاقَ ﴾ ’’وہ اقرار کو نہیں توڑتے۔‘‘ یعنی اس عہد کو نہیں توڑتے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے باندھا ہے۔ اس آیت کریمہ کے حکم میں ہر قسم کا معاہدہ، عہد، قسم اور نذر وغیرہ داخل ہیں جنھیں بندے اپنے آپ پر لازم کرتے ہیں ۔ اس عہد اور میثاق کو بتمام پورا کیے بغیر بندہ، عقل مندوں میں شمار نہیں ہو سکتا جن کے لیے ثواب عظیم ہے۔
[21]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں جس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا‘‘ یہ ان تمام امور کے لیے عام ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت، اللہ تعالیٰ وحدہ کی عبادت اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے لیے سرتسلیم خم کرنا۔ سب اس میں داخل ہے۔ یہ لوگ اپنے ماں باپ کے ساتھ قولی اور فعلی حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں اور ان کی نافرمانی نہیں کرتے۔ اسی طرح اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اپنے قول و فعل میں حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں ۔ اپنی بیویوں ، اپنے دوستوں ، ساتھیوں اور اپنے غلاموں کے دین اور دنیاوی حقوق کی کامل ادائیگی کے ذریعے سے حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔اور وہ سبب جس کی بنا پر بندہ ان امور کو ملاتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ اور روز حساب کا خوف ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَيَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ ﴾ ’’اور وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کا خوف اور قیامت کے دن اس کے حضور پیش ہونے کا ڈر انھیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ارتکاب اور اس کے احکام میں کوتاہی سے بچاتا ہے، ان کا یہ رویہ عذاب کے ڈر اور ثواب کی امید کی بنا پر ہے۔
[22]﴿ وَالَّذِيۡنَ صَبَرُوا﴾ ’’اور جو صبر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو مامورات کی تعمیل اور منہیات سے بچنے اور ان سے دور رہنے اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاوقدر پرعدم ناراضی کے ساتھ صبر کرتے ہیں مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ صبر ﴿ ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِمۡ ﴾ صرف ’’اپنے رب کی رضا کی خاطر ہو‘‘ کسی فاسد اغراض و مقاصد کے لیے نہ ہو۔ یہی وہ صبر ہے جو فائدہ مند ہے جو بندے کو اپنے رب کی رضا کی طلب اور اس کے قرب کی امید کا پابند اور اس کے ثواب سے بہرہ ور کرتا ہے اور یہی وہ صبر ہے جو اہل ایمان کی خصوصیات میں شمار ہوتا ہے۔ وہ صبر جو بہت سے لوگوں میں مشترک ہوتا ہے اس کی غایت و انتہا استقلال اور فخر ہے یہ صبر نیک اور بد، مومن اور کافر، ہر قسم کے لوگوں سے صادر ہو سکتا ہے صبر کی یہ قسم درحقیقت ممدوح نہیں ہے۔ ﴿ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اور نماز قائم کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ نماز کو اس کے تمام ارکان، شرائط اور ظاہری و باطنی تکمیل کے ساتھ قائم کرتے ہیں ، ﴿ وَاَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً ﴾ ’’اور جو ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں ‘‘ اس میں تمام نفقات واجبہ ، مثلاً:زکٰوۃ اور کفارہ اور نفقات مستحبہ داخل ہیں ۔ یہ کھلے چھپے ان تمام مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں ضرورت تقاضا کرتی ہے۔﴿ وَّيَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَةِ السَّؔيِّئَةَ ﴾ ’’اور وہ برائی کے مقابلے میں بھلائی کرتے ہیں ‘‘ یعنی جو کوئی قول و فعل کے ذریعے سے ان کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے، وہ اس کے ساتھ برے طریقے سے پیش نہیں آتے بلکہ اس کے برعکس حسن سلوک سے پیش آتے ہیں ۔ پس جو کوئی انھیں محروم کرتا ہے یہ اسے عطا کرتے ہیں ، جو کوئی ان پر ظلم کرتا ہے یہ اسے معاف کر دیتے ہیں ، جو کوئی ان سے قطع تعلق کرتا ہے یہ اس سے جڑتے ہیں اور جو کوئی ان سے برا سلوک کرتا ہے یہ اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں …جب برا سلوک کرنے والوں کے ساتھ ان کے حسن سلوک کی یہ کیفیت ہے تو اس شخص کے ساتھ ان کے حسن سلوک کی کیا کیفیت ہو گی جس نے ان کے ساتھ کبھی برا سلوک نہیں کیا۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان صفات جلیلہ اور مناقب جمیلہ کے حامل ہیں ﴿ لَهُمۡ عُقۡبَى الدَّارِ﴾ ’’انھی کے لیے آخرت کا گھر ہے۔‘‘
[24,23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ جَنّٰتُ عَدۡنٍ ﴾ ’’باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے‘‘ یعنی وہ ان جنتوں میں قیام کریں گے وہ کبھی ان سے دور نہ ہوں گے اور نہ وہ ان جنتوں سے منتقل ہونا چاہیں گے وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے اوپر کوئی منزل نہیں … کیونکہ یہ جنتیں ایسی نعمت اور مسرت پر مشتمل ہیں جو مطلوب و مقصود ہے۔ اور ان کے لیے نعمت کی تکمیل اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک یہ ہے کہ ﴿ يَّدۡخُلُوۡنَهَا۠ وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ ﴾ ’’وہ اس (جنت) میں داخل ہوں گے اور جو نیک ہوئے ان کے باپ دادا میں سے، (مردوں اور عورتوں میں سے) اور ان کی بیویوں میں سے اور ان کی اولاد میں سے۔‘‘ اور اسی طرح ان جیسے دیگر لوگ، ان کے دوست، ہم نشین، ان کے ساتھی۔ اس لیے کہ یہ سب ان کی ازواج اور اولاد کی قبیل ہی میں شمار ہوں گے ﴿وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍ ﴾ ’’اور فرشتے ان پر ہر دروازے سے داخل ہوں گے‘‘ وہ انھیں سلام اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اکرام و تکریم کے ذریعے سے ہدیہ تہنیت پیش کریں گے۔ اور کہیں گے ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر سلامتی ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر سلامتی اور سلام کا ہدیہ ہے جو تمھیں پیش کیا گیا ہے اور یہ سلام ہر ناخوشگوار کے زائل ہونے کو متضمن اور ہر محبوب چیز کے حصول کو مستلزم ہے ﴿ بِمَا صَبَرۡتُمۡ ﴾ ’’تمھارے صبر کے سبب سے‘‘ یہ صبر ہی ہے جس نے تمھیں ان مقامات بلند اور جنت عالیشان میں پہنچایا ﴿ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ ﴾ ’’سو کیا خوب ہے عاقبت کا گھر‘‘ پس جو کوئی اپنے نفس کا خیرخواہ ہے اور اس کے نزدیک اس کی قدروقیمت ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کے تزکیہ کے لیے پوری جدوجہد کرے شاید وہ عقل مندوں کے اوصاف سے بہرہ ور ہو سکے اور شاید اسے آخرت کے گھر سے کوئی حصہ مل سکے جو دلوں کی آرزو اور روح کا سرور ہے جو ہر قسم کی لذتوں اور فرحتوں کا جامع ہے۔ پس اس قسم کی منزل کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے اور اس قسم کے مقام کے لیے سبقت کرنی چاہیے۔
13:24سَلَٰمٌ عَلَيۡكُم بِمَا صَبَرۡتُمۡۚ فَنِعۡمَ عُقۡبَى ٱلدَّارِ
کیا پس وہ شخص جو جانتا ہے کہ یقینا جو کچھ نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف، آپ کے رب کی طرف سے وہ حق ہے، مانند اس شخص کے (ہو سکتا ہے) جو اندھا ہے؟ یقینا نصیحت حاصل کرتے ہیں عقل والے ہی (19) وہ لوگ جو پورا کرتے ہیں عہد اللہ کا اور نہیں توڑتے وہ پختہ عہد کو (20) اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں اس چیز کو کہ حکم دیا ہے اللہ نے اس کی بابت کہ ملایا جائے (اسے)اور وہ ڈرتے ہیں اپنے رب سےاور ڈرتے ہیں وہ سخت حساب سے (21) اور وہ لوگ کہ جنھوں نے صبر کیاواسطے تلاش کرنے کے رضا مندی اپنے رب کی اور انھوں نے قائم کی نماز اور خرچ کیا اس میں سے جو رزق دیا ہم نے انھیں پوشیدہ اور ظاہر اور وہ دور کرتے ہیں ساتھ اچھائی کے برائی کو، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے (بہتر) انجام ہے آخرت کا (22) باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے، وہ داخل ہوں گے ان میں اور وہ بھی جو نیک ہیں ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سےاور فرشتے داخل ہوں گے اوپر ان کے (جنت کے) ہر دروازے سے (23)(اورکہیں گے) سلام ہو تم پر بوجہ اس کے کہ صبر کیا تم نے، سو بہت ہی اچھا انجام ہے آخرت کا (24)
[20,19] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل علم و عمل اور غیر اہل علم لوگوں کے درمیان فرق کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَفَمَنۡ يَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’بھلا جو شخص جانتا ہے کہ جو کچھ اترا آپ پر آپ کے رب کی طرف سے، حق ہے‘‘ پس اس حق کو خوب سمجھ لیا اور اس پر عمل پیرا ہوا ﴿ كَمَنۡ هُوَ اَعۡمٰى ﴾ ’’برابر ہو سکتا ہے اس کے جو کہ اندھا ہے‘‘ اور وہ حق کا علم رکھتا ہے نہ حق پر عمل کرتا ہے، دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ پس بندے پر لازم ہے کہ وہ غور کرے کہ فریقین میں سے کس کا حال اچھا اور کس کا انجام بہتر ہے، پھر اسے چاہیے کہ اسی راستے کو ترجیح دے اور اسی گروہ کی پیروی میں رواں دواں رہے۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص غوروفکر نہیں کرتا کہ اس کے لیے کیا چیز فائدہ مند اور کیا چیز نقصان دہ ہے؟ ﴿ اِنَّمَا يَتَذَكَّـرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ ’’عقل مند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ‘‘ یعنی جو پختہ عقل اور کامل رائے رکھتے ہیں یہ لوگ کائنات کا لب لباب اور بنی آدم میں چنے ہوئے لوگ ہیں ۔اگر آپ ان کے اوصاف کے بارے میں سوال کریں تو آپ ان اوصاف سے بڑھ کر کوئی وصف نہیں پائیں گے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو موصوف کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں ‘‘ وہ ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کی تھی اور وہ عہد جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا یعنی اس کے حقوق کو کامل طور پر قائم کرنا، ان کو پوری طرح ادا کرنا یعنی ان حقوق کی نشوونما اور ان میں خیر خواہی کرنا۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان حقوق کی تکمیل یہ ہے کہ وہ ﴿ لَا يَنۡقُضُوۡنَ الۡمِيۡثَاقَ ﴾ ’’وہ اقرار کو نہیں توڑتے۔‘‘ یعنی اس عہد کو نہیں توڑتے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے باندھا ہے۔ اس آیت کریمہ کے حکم میں ہر قسم کا معاہدہ، عہد، قسم اور نذر وغیرہ داخل ہیں جنھیں بندے اپنے آپ پر لازم کرتے ہیں ۔ اس عہد اور میثاق کو بتمام پورا کیے بغیر بندہ، عقل مندوں میں شمار نہیں ہو سکتا جن کے لیے ثواب عظیم ہے۔
[21]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں جس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا‘‘ یہ ان تمام امور کے لیے عام ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت، اللہ تعالیٰ وحدہ کی عبادت اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے لیے سرتسلیم خم کرنا۔ سب اس میں داخل ہے۔ یہ لوگ اپنے ماں باپ کے ساتھ قولی اور فعلی حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں اور ان کی نافرمانی نہیں کرتے۔ اسی طرح اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اپنے قول و فعل میں حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں ۔ اپنی بیویوں ، اپنے دوستوں ، ساتھیوں اور اپنے غلاموں کے دین اور دنیاوی حقوق کی کامل ادائیگی کے ذریعے سے حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔اور وہ سبب جس کی بنا پر بندہ ان امور کو ملاتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ اور روز حساب کا خوف ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَيَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ ﴾ ’’اور وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کا خوف اور قیامت کے دن اس کے حضور پیش ہونے کا ڈر انھیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ارتکاب اور اس کے احکام میں کوتاہی سے بچاتا ہے، ان کا یہ رویہ عذاب کے ڈر اور ثواب کی امید کی بنا پر ہے۔
[22]﴿ وَالَّذِيۡنَ صَبَرُوا﴾ ’’اور جو صبر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو مامورات کی تعمیل اور منہیات سے بچنے اور ان سے دور رہنے اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاوقدر پرعدم ناراضی کے ساتھ صبر کرتے ہیں مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ صبر ﴿ ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِمۡ ﴾ صرف ’’اپنے رب کی رضا کی خاطر ہو‘‘ کسی فاسد اغراض و مقاصد کے لیے نہ ہو۔ یہی وہ صبر ہے جو فائدہ مند ہے جو بندے کو اپنے رب کی رضا کی طلب اور اس کے قرب کی امید کا پابند اور اس کے ثواب سے بہرہ ور کرتا ہے اور یہی وہ صبر ہے جو اہل ایمان کی خصوصیات میں شمار ہوتا ہے۔ وہ صبر جو بہت سے لوگوں میں مشترک ہوتا ہے اس کی غایت و انتہا استقلال اور فخر ہے یہ صبر نیک اور بد، مومن اور کافر، ہر قسم کے لوگوں سے صادر ہو سکتا ہے صبر کی یہ قسم درحقیقت ممدوح نہیں ہے۔ ﴿ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اور نماز قائم کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ نماز کو اس کے تمام ارکان، شرائط اور ظاہری و باطنی تکمیل کے ساتھ قائم کرتے ہیں ، ﴿ وَاَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً ﴾ ’’اور جو ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں ‘‘ اس میں تمام نفقات واجبہ ، مثلاً:زکٰوۃ اور کفارہ اور نفقات مستحبہ داخل ہیں ۔ یہ کھلے چھپے ان تمام مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں ضرورت تقاضا کرتی ہے۔﴿ وَّيَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَةِ السَّؔيِّئَةَ ﴾ ’’اور وہ برائی کے مقابلے میں بھلائی کرتے ہیں ‘‘ یعنی جو کوئی قول و فعل کے ذریعے سے ان کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے، وہ اس کے ساتھ برے طریقے سے پیش نہیں آتے بلکہ اس کے برعکس حسن سلوک سے پیش آتے ہیں ۔ پس جو کوئی انھیں محروم کرتا ہے یہ اسے عطا کرتے ہیں ، جو کوئی ان پر ظلم کرتا ہے یہ اسے معاف کر دیتے ہیں ، جو کوئی ان سے قطع تعلق کرتا ہے یہ اس سے جڑتے ہیں اور جو کوئی ان سے برا سلوک کرتا ہے یہ اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں …جب برا سلوک کرنے والوں کے ساتھ ان کے حسن سلوک کی یہ کیفیت ہے تو اس شخص کے ساتھ ان کے حسن سلوک کی کیا کیفیت ہو گی جس نے ان کے ساتھ کبھی برا سلوک نہیں کیا۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان صفات جلیلہ اور مناقب جمیلہ کے حامل ہیں ﴿ لَهُمۡ عُقۡبَى الدَّارِ﴾ ’’انھی کے لیے آخرت کا گھر ہے۔‘‘
[24,23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ جَنّٰتُ عَدۡنٍ ﴾ ’’باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے‘‘ یعنی وہ ان جنتوں میں قیام کریں گے وہ کبھی ان سے دور نہ ہوں گے اور نہ وہ ان جنتوں سے منتقل ہونا چاہیں گے وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے اوپر کوئی منزل نہیں … کیونکہ یہ جنتیں ایسی نعمت اور مسرت پر مشتمل ہیں جو مطلوب و مقصود ہے۔ اور ان کے لیے نعمت کی تکمیل اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک یہ ہے کہ ﴿ يَّدۡخُلُوۡنَهَا۠ وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ ﴾ ’’وہ اس (جنت) میں داخل ہوں گے اور جو نیک ہوئے ان کے باپ دادا میں سے، (مردوں اور عورتوں میں سے) اور ان کی بیویوں میں سے اور ان کی اولاد میں سے۔‘‘ اور اسی طرح ان جیسے دیگر لوگ، ان کے دوست، ہم نشین، ان کے ساتھی۔ اس لیے کہ یہ سب ان کی ازواج اور اولاد کی قبیل ہی میں شمار ہوں گے ﴿وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍ ﴾ ’’اور فرشتے ان پر ہر دروازے سے داخل ہوں گے‘‘ وہ انھیں سلام اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اکرام و تکریم کے ذریعے سے ہدیہ تہنیت پیش کریں گے۔ اور کہیں گے ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر سلامتی ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر سلامتی اور سلام کا ہدیہ ہے جو تمھیں پیش کیا گیا ہے اور یہ سلام ہر ناخوشگوار کے زائل ہونے کو متضمن اور ہر محبوب چیز کے حصول کو مستلزم ہے ﴿ بِمَا صَبَرۡتُمۡ ﴾ ’’تمھارے صبر کے سبب سے‘‘ یہ صبر ہی ہے جس نے تمھیں ان مقامات بلند اور جنت عالیشان میں پہنچایا ﴿ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ ﴾ ’’سو کیا خوب ہے عاقبت کا گھر‘‘ پس جو کوئی اپنے نفس کا خیرخواہ ہے اور اس کے نزدیک اس کی قدروقیمت ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کے تزکیہ کے لیے پوری جدوجہد کرے شاید وہ عقل مندوں کے اوصاف سے بہرہ ور ہو سکے اور شاید اسے آخرت کے گھر سے کوئی حصہ مل سکے جو دلوں کی آرزو اور روح کا سرور ہے جو ہر قسم کی لذتوں اور فرحتوں کا جامع ہے۔ پس اس قسم کی منزل کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے اور اس قسم کے مقام کے لیے سبقت کرنی چاہیے۔
13:25وَٱلَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهۡدَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ مِيثَٰقِهِۦ وَيَقۡطَعُونَ مَآ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ وَيُفۡسِدُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمُ ٱللَّعۡنَةُ وَلَهُمۡ سُوٓءُ ٱلدَّارِ
اور وہ لوگ جو توڑتے ہیں عہد اللہ کا بعد پختہ کرنے کے اس کواور قطع کرتے ہیں اس چیز کو کہ حکم دیا اللہ نے اس کی بابت کہ ملایا جائے (اسے) اور وہ فساد کرتے ہیں زمین میں ، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے لعنت اورواسطے انھی کے بہت برا گھر ہے (آخرت کا)(25)
[25] اہل جنت کا حال بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کے ایسے احوال بیان فرمائے ہیں جو اہل جنت کے اوصاف کے برعکس ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿الَّذِيۡنَ يَنۡقُضُوۡنَ عَهۡدَ اللّٰهِ مِنۢۡ بَعۡدِ مِيۡثَاقِهٖ ﴾ ’’وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں اس کو مضبوط کرنے کے بعد‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اپنے انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے اس عہد کو مؤکد اور پکا کرنے کے بعد انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑا اور اطاعت و تسلیم سے اس عہد کو پورا نہ کیا بلکہ اس سے روگردانی کرتے ہوئے اس کو توڑ دیا۔ ﴿ وَيَقۡطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ ﴾ ’’اور قطع کرتے ہیں اس چیز کو جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا‘‘ پس انھوں نے ایمان و عمل کے ذریعے سے اپنے اور اپنے رب کے مابین تعلق کو قائم کیا، نہ انھوں نے صلہ رحمی کی اور نہ انھوں نے حقوق ادا کیے بلکہ اس کے برعکس انھوں نے کفرومعاصی کا ارتکاب کرکے، لوگوں کو اللہ کے راستے سے روک کر اور اس کے راستے کو ٹیڑھا کرنے کی کوششوں کے ذریعے سے، زمین میں فساد پھیلایا۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ اللَّعۡنَةُ ﴾ ’’ایسوں پر لعنت ہے۔‘‘ یعنی ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور اس کے فرشتوں اور اس کے مومن بندوں کی طرف سے مذمت ہے ﴿ وَلَهُمۡ سُوۡٓءُ الدَّارِ ﴾ ’’اور ان کے لیے گھر بھی برا ہے۔‘‘ اس سے مراد جہنم ہے کیونکہ اس میں ان کے لیے المناک عذاب ہو گا۔
13:26ٱللَّهُ يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُۚ وَفَرِحُواْ بِٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا فِي ٱلۡأٓخِرَةِ إِلَّا مَتَٰعٞ
اللہ کشادہ کرتا ہے رزق واسطے جس کے چاہے اور تنگ کرتا ہے (جس کے لیے چاہے) اور وہ کافر اتراتے ہیں ساتھ زندگانی دنیا کے اور نہیں ہے زندگانی دنیا آخرت (کے مقابلے) میں مگر متاع (حقیر)(26)
[26] یعنی وہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہے۔ رزق وسیع کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے اسے کشادہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے نپاتلا رزق عطا کر کے اس پر رزق کو تنگ کردیتا ہے ﴿ وَفَرِحُوۡا ﴾ ’’اور وہ خوش ہورہے ہیں ۔‘‘ یعنی کفار خوش ہیں ﴿ بِالۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’دنیا کی زندگی پر‘‘ انھیں ایسی خوشی ہے جو ان کے لیے دنیا پر اطمینان اور آخرت سے غفلت کی موجب ہے اور یہ ان کی کم عقلی ہے۔ ﴿ وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور نہیں ہے دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں مگر حقیر سامان‘‘ یعنی دنیا کی زندگی ایک حقیر سی چیز ہے جس سے بہت کم فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور جو فائدہ اٹھانے والے دنیا داروں سے جدا ہو جائے گی اور اپنے پیچھے ایک طویل ہلاکت چھوڑ جائے گی۔
13:27وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ ءَايَةٞ مِّن رَّبِّهِۦۚ قُلۡ إِنَّ ٱللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِيٓ إِلَيۡهِ مَنۡ أَنَابَ
اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کیوں نہیں نازل کی گئی آپ پر کوئی (بڑی) نشانی آپ کے رب کی طرف سے؟ کہہ دیجیے، بے شک اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت دیتا ہے اپنی طرف اس شخص کو جو (اس کی طرف) رجوع کرے (27) وہ لوگ جو ایمان لائے اور مطمئن ہوتے ہیں دل ان کے ساتھ اللہ کے ذکر کے، آگاہ رہو! اللہ کے ذکر کے ساتھ ہی مطمئن ہوتے ہیں دل (28)وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، راحت و فرحت ہے ان کے لیے اور اچھا ٹھکانا ہے (29)
[27] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ، اللہ کے رسول سے بطریق تلبیس بے سوچے سمجھے سوال کرتے ہیں اور کہتے ہیں ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ ’’کیوں نہ اتری اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی ان کے زعم کے مطابق، اگر ان کے پاس معجزہ آ گیا ہوتا تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا ﴿ قُلۡ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ اَنَابَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہے اور راہ دکھلاتا ہے اپنی طرف اس کو جس نے رجوع کیا‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب گار ہوا۔ پس ہدایت اور گمراہی ان کے ہاتھ میں نہیں ہے کہ وہ اسے آیات و معجزات پر موقوف قرار دیں ۔ بایں ہمہ وہ سخت جھوٹے ہیں ۔ اگر ہم ان پر فرشتے نازل کر دیں ، ان کے ساتھ مردے ہم کلام ہوں اور ان کے سامنے ہر چیز اکٹھی کر دیں تب بھی یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر ایمان نہیں لائیں گے۔ مگر ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں ۔یہ لازم نہیں کہ رسول ان کے پاس وہی متعین معجزہ لے کر آئے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں بلکہ وہ جو نشانی لے کر آئے جس سے حق واضح ہو جائے تو کافی ہے اور اس سے مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور ان کے لیے ان کے متعین معجزات کے طلب کرنے سے زیادہ نفع مند ہے۔ کیونکہ اگر ان کے مطالبے کے مطابق نشانی آ جائے اور وہ اس پر ایمان لانے سے انکار کر دیں تو بہت جلد ان کو اللہ تعالیٰ کا عذاب آ لے گا۔
[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کی علامت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَتَطۡمَىِٕنُّ قُلُوۡبُهُمۡ بِذِكۡرِ اللّٰهِ﴾ ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دلوں کا قلق اور اضطراب دور ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ فرحت اور لذت آ جاتی ہے۔ فرمایا ﴿اَلَا بِذِكۡرِ اللّٰهِ تَطۡمَىِٕنُّ الۡقُلُوۡبُ﴾ ’’سنو! اللہ کے ذکر سے ہی دل چین پاتے ہیں ‘‘ دلوں کے لائق اور سزا وار بھی یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سوا کسی چیز سے مطمئن نہ ہوں کیونکہ دلوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی محبت اس کے انس اور اس کی معرفت سے بڑھ کر کوئی چیز لذیذ اور شیریں نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت کی مقدار کے مطابق دل اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ۔ اس قول کے مطابق یہاں ذکر سے مراد بندے کا اپنے رب کا ذکر کرنا ہے ، مثلاً: تسبیح اور تکبیر و تہلیل وغیرہ۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی یاد دہانی کے لیے نازل فرمائی ہے۔ تب ذکر الٰہی کے ذریعے سے اطمینان قلب کے معنی یہ ہوں گے کہ دل جب قرآن کے معانی اور اس کے احکام کی معرفت حاصل کر لیتے ہیں تو اس پرمطمئن ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ قرآن کے معانی حق مبین پر دلالت کرتے ہیں اور دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس پر دل مطمئن ہوتے ہیں کیونکہ علم اور یقین کے بغیر دلوں کو اطمینان حاصل نہیں ہوتا اور کتاب اللہ کامل ترین وجوہ کے ساتھ علم اور یقین کو متضمن ہے۔ کتاب اللہ کے سوا دیگر کتب علم و یقین کی طرف راجع نہیں ہوتیں اس لیے دل ان پر مطمئن نہیں ہوتے بلکہ اس کے برعکس وہ، دلائل کے تعارض اور احکام کے تضاد کی بنا پر ہمیشہ قلق کا شکار رہتے ہیں ﴿ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا﴾(النساء: 4؍82) ’’اگر یہ قرآن اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت سا اختلاف پاتے۔‘‘ اور یہ چیز کتاب اللہ کی دی ہوئی خبر، کتاب اللہ میں تدبیر اور دیگر مختلف علوم میں غوروفکر سے واضح ہوجاتی ہے پس (طالب حق) ان کتب علوم اور کتاب اللہ کے درمیان بہت بڑا فرق پائے گا۔
[29] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔‘‘ یعنی جو اپنے دل سے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور یوم آخرت پر ایمان لائے، اعمال صالحہ یعنی اعمال قلوب ، مثلاً: محبت الٰہی، خشیت الٰہی اور اللہ تعالیٰ پر امید وغیرہ اور اعمال جوارح ، مثلاً: نماز وغیرہ کے ذریعے سے اس ایمان کی تصدیق کرے۔ ﴿ طُوۡبٰى لَهُمۡ وَحُسۡنُ مَاٰبٍ ﴾ ’’ان کے لیے خوش حالی اور عمدہ ٹھکانا ہے۔‘‘ یعنی ان کا حال پاک صاف اور ان کا انجام اچھا ہے اور یہ اس بنا پر ہے کہ انھیں دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی طرف سے اکرام و تکریم حاصل ہے اور انھیں کامل راحت اور پورا اطمینان قلب عطا کیا گیا ہے۔ ان جملہ نعمتوں میں ، جنت کا ’’شجر طوبیٰ‘‘ بھی شامل ہے کہ ایک سوار اس درخت کے سائے میں ایک سو سال تک چلتا رہے گا مگر سایہ ختم ہونے کو نہیں آئے گا۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہوا ہے۔(مسند أحمد، (3؍71)
13:28ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَتَطۡمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكۡرِ ٱللَّهِۗ أَلَا بِذِكۡرِ ٱللَّهِ تَطۡمَئِنُّ ٱلۡقُلُوبُ
اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کیوں نہیں نازل کی گئی آپ پر کوئی (بڑی) نشانی آپ کے رب کی طرف سے؟ کہہ دیجیے، بے شک اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت دیتا ہے اپنی طرف اس شخص کو جو (اس کی طرف) رجوع کرے (27) وہ لوگ جو ایمان لائے اور مطمئن ہوتے ہیں دل ان کے ساتھ اللہ کے ذکر کے، آگاہ رہو! اللہ کے ذکر کے ساتھ ہی مطمئن ہوتے ہیں دل (28)وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، راحت و فرحت ہے ان کے لیے اور اچھا ٹھکانا ہے (29)
[27] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ، اللہ کے رسول سے بطریق تلبیس بے سوچے سمجھے سوال کرتے ہیں اور کہتے ہیں ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ ’’کیوں نہ اتری اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی ان کے زعم کے مطابق، اگر ان کے پاس معجزہ آ گیا ہوتا تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا ﴿ قُلۡ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ اَنَابَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہے اور راہ دکھلاتا ہے اپنی طرف اس کو جس نے رجوع کیا‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب گار ہوا۔ پس ہدایت اور گمراہی ان کے ہاتھ میں نہیں ہے کہ وہ اسے آیات و معجزات پر موقوف قرار دیں ۔ بایں ہمہ وہ سخت جھوٹے ہیں ۔ اگر ہم ان پر فرشتے نازل کر دیں ، ان کے ساتھ مردے ہم کلام ہوں اور ان کے سامنے ہر چیز اکٹھی کر دیں تب بھی یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر ایمان نہیں لائیں گے۔ مگر ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں ۔یہ لازم نہیں کہ رسول ان کے پاس وہی متعین معجزہ لے کر آئے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں بلکہ وہ جو نشانی لے کر آئے جس سے حق واضح ہو جائے تو کافی ہے اور اس سے مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور ان کے لیے ان کے متعین معجزات کے طلب کرنے سے زیادہ نفع مند ہے۔ کیونکہ اگر ان کے مطالبے کے مطابق نشانی آ جائے اور وہ اس پر ایمان لانے سے انکار کر دیں تو بہت جلد ان کو اللہ تعالیٰ کا عذاب آ لے گا۔
[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کی علامت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَتَطۡمَىِٕنُّ قُلُوۡبُهُمۡ بِذِكۡرِ اللّٰهِ﴾ ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دلوں کا قلق اور اضطراب دور ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ فرحت اور لذت آ جاتی ہے۔ فرمایا ﴿اَلَا بِذِكۡرِ اللّٰهِ تَطۡمَىِٕنُّ الۡقُلُوۡبُ﴾ ’’سنو! اللہ کے ذکر سے ہی دل چین پاتے ہیں ‘‘ دلوں کے لائق اور سزا وار بھی یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سوا کسی چیز سے مطمئن نہ ہوں کیونکہ دلوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی محبت اس کے انس اور اس کی معرفت سے بڑھ کر کوئی چیز لذیذ اور شیریں نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت کی مقدار کے مطابق دل اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ۔ اس قول کے مطابق یہاں ذکر سے مراد بندے کا اپنے رب کا ذکر کرنا ہے ، مثلاً: تسبیح اور تکبیر و تہلیل وغیرہ۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی یاد دہانی کے لیے نازل فرمائی ہے۔ تب ذکر الٰہی کے ذریعے سے اطمینان قلب کے معنی یہ ہوں گے کہ دل جب قرآن کے معانی اور اس کے احکام کی معرفت حاصل کر لیتے ہیں تو اس پرمطمئن ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ قرآن کے معانی حق مبین پر دلالت کرتے ہیں اور دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس پر دل مطمئن ہوتے ہیں کیونکہ علم اور یقین کے بغیر دلوں کو اطمینان حاصل نہیں ہوتا اور کتاب اللہ کامل ترین وجوہ کے ساتھ علم اور یقین کو متضمن ہے۔ کتاب اللہ کے سوا دیگر کتب علم و یقین کی طرف راجع نہیں ہوتیں اس لیے دل ان پر مطمئن نہیں ہوتے بلکہ اس کے برعکس وہ، دلائل کے تعارض اور احکام کے تضاد کی بنا پر ہمیشہ قلق کا شکار رہتے ہیں ﴿ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا﴾(النساء: 4؍82) ’’اگر یہ قرآن اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت سا اختلاف پاتے۔‘‘ اور یہ چیز کتاب اللہ کی دی ہوئی خبر، کتاب اللہ میں تدبیر اور دیگر مختلف علوم میں غوروفکر سے واضح ہوجاتی ہے پس (طالب حق) ان کتب علوم اور کتاب اللہ کے درمیان بہت بڑا فرق پائے گا۔
[29] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔‘‘ یعنی جو اپنے دل سے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور یوم آخرت پر ایمان لائے، اعمال صالحہ یعنی اعمال قلوب ، مثلاً: محبت الٰہی، خشیت الٰہی اور اللہ تعالیٰ پر امید وغیرہ اور اعمال جوارح ، مثلاً: نماز وغیرہ کے ذریعے سے اس ایمان کی تصدیق کرے۔ ﴿ طُوۡبٰى لَهُمۡ وَحُسۡنُ مَاٰبٍ ﴾ ’’ان کے لیے خوش حالی اور عمدہ ٹھکانا ہے۔‘‘ یعنی ان کا حال پاک صاف اور ان کا انجام اچھا ہے اور یہ اس بنا پر ہے کہ انھیں دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی طرف سے اکرام و تکریم حاصل ہے اور انھیں کامل راحت اور پورا اطمینان قلب عطا کیا گیا ہے۔ ان جملہ نعمتوں میں ، جنت کا ’’شجر طوبیٰ‘‘ بھی شامل ہے کہ ایک سوار اس درخت کے سائے میں ایک سو سال تک چلتا رہے گا مگر سایہ ختم ہونے کو نہیں آئے گا۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہوا ہے۔(مسند أحمد، (3؍71)
13:29ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ طُوبَىٰ لَهُمۡ وَحُسۡنُ مَـَٔابٖ
اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کیوں نہیں نازل کی گئی آپ پر کوئی (بڑی) نشانی آپ کے رب کی طرف سے؟ کہہ دیجیے، بے شک اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت دیتا ہے اپنی طرف اس شخص کو جو (اس کی طرف) رجوع کرے (27) وہ لوگ جو ایمان لائے اور مطمئن ہوتے ہیں دل ان کے ساتھ اللہ کے ذکر کے، آگاہ رہو! اللہ کے ذکر کے ساتھ ہی مطمئن ہوتے ہیں دل (28)وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، راحت و فرحت ہے ان کے لیے اور اچھا ٹھکانا ہے (29)
[27] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ، اللہ کے رسول سے بطریق تلبیس بے سوچے سمجھے سوال کرتے ہیں اور کہتے ہیں ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ ’’کیوں نہ اتری اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی ان کے زعم کے مطابق، اگر ان کے پاس معجزہ آ گیا ہوتا تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا ﴿ قُلۡ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ اَنَابَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہے اور راہ دکھلاتا ہے اپنی طرف اس کو جس نے رجوع کیا‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب گار ہوا۔ پس ہدایت اور گمراہی ان کے ہاتھ میں نہیں ہے کہ وہ اسے آیات و معجزات پر موقوف قرار دیں ۔ بایں ہمہ وہ سخت جھوٹے ہیں ۔ اگر ہم ان پر فرشتے نازل کر دیں ، ان کے ساتھ مردے ہم کلام ہوں اور ان کے سامنے ہر چیز اکٹھی کر دیں تب بھی یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر ایمان نہیں لائیں گے۔ مگر ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں ۔یہ لازم نہیں کہ رسول ان کے پاس وہی متعین معجزہ لے کر آئے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں بلکہ وہ جو نشانی لے کر آئے جس سے حق واضح ہو جائے تو کافی ہے اور اس سے مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور ان کے لیے ان کے متعین معجزات کے طلب کرنے سے زیادہ نفع مند ہے۔ کیونکہ اگر ان کے مطالبے کے مطابق نشانی آ جائے اور وہ اس پر ایمان لانے سے انکار کر دیں تو بہت جلد ان کو اللہ تعالیٰ کا عذاب آ لے گا۔
[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کی علامت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَتَطۡمَىِٕنُّ قُلُوۡبُهُمۡ بِذِكۡرِ اللّٰهِ﴾ ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دلوں کا قلق اور اضطراب دور ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ فرحت اور لذت آ جاتی ہے۔ فرمایا ﴿اَلَا بِذِكۡرِ اللّٰهِ تَطۡمَىِٕنُّ الۡقُلُوۡبُ﴾ ’’سنو! اللہ کے ذکر سے ہی دل چین پاتے ہیں ‘‘ دلوں کے لائق اور سزا وار بھی یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سوا کسی چیز سے مطمئن نہ ہوں کیونکہ دلوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی محبت اس کے انس اور اس کی معرفت سے بڑھ کر کوئی چیز لذیذ اور شیریں نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت کی مقدار کے مطابق دل اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ۔ اس قول کے مطابق یہاں ذکر سے مراد بندے کا اپنے رب کا ذکر کرنا ہے ، مثلاً: تسبیح اور تکبیر و تہلیل وغیرہ۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی یاد دہانی کے لیے نازل فرمائی ہے۔ تب ذکر الٰہی کے ذریعے سے اطمینان قلب کے معنی یہ ہوں گے کہ دل جب قرآن کے معانی اور اس کے احکام کی معرفت حاصل کر لیتے ہیں تو اس پرمطمئن ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ قرآن کے معانی حق مبین پر دلالت کرتے ہیں اور دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس پر دل مطمئن ہوتے ہیں کیونکہ علم اور یقین کے بغیر دلوں کو اطمینان حاصل نہیں ہوتا اور کتاب اللہ کامل ترین وجوہ کے ساتھ علم اور یقین کو متضمن ہے۔ کتاب اللہ کے سوا دیگر کتب علم و یقین کی طرف راجع نہیں ہوتیں اس لیے دل ان پر مطمئن نہیں ہوتے بلکہ اس کے برعکس وہ، دلائل کے تعارض اور احکام کے تضاد کی بنا پر ہمیشہ قلق کا شکار رہتے ہیں ﴿ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا﴾(النساء: 4؍82) ’’اگر یہ قرآن اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت سا اختلاف پاتے۔‘‘ اور یہ چیز کتاب اللہ کی دی ہوئی خبر، کتاب اللہ میں تدبیر اور دیگر مختلف علوم میں غوروفکر سے واضح ہوجاتی ہے پس (طالب حق) ان کتب علوم اور کتاب اللہ کے درمیان بہت بڑا فرق پائے گا۔
[29] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔‘‘ یعنی جو اپنے دل سے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور یوم آخرت پر ایمان لائے، اعمال صالحہ یعنی اعمال قلوب ، مثلاً: محبت الٰہی، خشیت الٰہی اور اللہ تعالیٰ پر امید وغیرہ اور اعمال جوارح ، مثلاً: نماز وغیرہ کے ذریعے سے اس ایمان کی تصدیق کرے۔ ﴿ طُوۡبٰى لَهُمۡ وَحُسۡنُ مَاٰبٍ ﴾ ’’ان کے لیے خوش حالی اور عمدہ ٹھکانا ہے۔‘‘ یعنی ان کا حال پاک صاف اور ان کا انجام اچھا ہے اور یہ اس بنا پر ہے کہ انھیں دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی طرف سے اکرام و تکریم حاصل ہے اور انھیں کامل راحت اور پورا اطمینان قلب عطا کیا گیا ہے۔ ان جملہ نعمتوں میں ، جنت کا ’’شجر طوبیٰ‘‘ بھی شامل ہے کہ ایک سوار اس درخت کے سائے میں ایک سو سال تک چلتا رہے گا مگر سایہ ختم ہونے کو نہیں آئے گا۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہوا ہے۔(مسند أحمد، (3؍71)
13:30كَذَٰلِكَ أَرۡسَلۡنَٰكَ فِيٓ أُمَّةٖ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهَآ أُمَمٞ لِّتَتۡلُوَاْ عَلَيۡهِمُ ٱلَّذِيٓ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ وَهُمۡ يَكۡفُرُونَ بِٱلرَّحۡمَٰنِۚ قُلۡ هُوَ رَبِّي لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَإِلَيۡهِ مَتَابِ
(جیسے پہلے رسول بھیجے تھے) اسی طرح بھیجا ہم نے آپ کو ایسی امت میں کہ گزر چکی ہیں پہلے اس سے کئی امتیں تاکہ آپ پڑھیں اوپر ان کے وہ (قرآن) جو وحی کیا ہم نے آپ کی طرف اور وہ کفر کرتے ہیں ساتھ رحمن کے، کہہ دیجیے وہ میرا رب ہے، نہیں کوئی معبود (برحق) مگر وہی، اسی پر بھروسہ کیا میں نے اور اسی کی طرف ہے لوٹنا میرا (30)
[30] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمدﷺ سے فرماتا ہے ﴿كَذٰلِكَ اَرۡسَلۡنٰكَ﴾ ’’اسی طرح ہم نے آپ کوبھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے آپﷺ کو آپ کی قوم کی طرف مبعوث کیا تاکہ آپ ان کو ہدایت کی طرف دعوت دیں ﴿فِيۡۤ اُمَّةٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهَاۤ اُمَمٌ ﴾ ’’ایک امت میں کہ اس سے پہلے کئی امتیں گزر چکی ہیں ‘‘ جن کے اندر ہم نے اپنے رسول بھیجے، لہٰذا آپ کوئی انوکھے رسول نہیں ہیں کہ وہ آپ کی رسالت کو اوپرا سمجھیں اور نہ آپ اپنی طرف سے کوئی بات کرتے ہیں ۔ بلکہ آپ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کی ہیں جو دلوں کی تطہیر اور نفوس کا تزکیہ کرتی ہیں اور آپ کی قوم کا حال یہ ہے کہ وہ رحمان کا انکار کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت اور احسان سے نوازا اور سب سے بڑی رحمت یہ ہے کہ ہم نے آپ کو ان کی طرف مبعوث فرمایا اور ہم نے آپ پر کتاب نازل فرمائی مگر انھوں نے شکر گزاری کے ساتھ اس کو قبول کرنے کی بجائے اس کا انکار کر کے اسے ٹھکرا دیا۔ پس انھوں نے تکذیب کرنے والی ان قوموں سے عبرت حاصل نہ کی جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں ، کہ اللہ تعالیٰ نے کیسے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں پکڑ لیا۔ ﴿ قُلۡ هُوَ رَبِّيۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’کہہ دیجیے! وہ میرا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘‘ یہ آیت کریمہ دو قسم کی توحید کو متضمن ہے توحید الوہیت اور توحید ربوبیت۔ پس وہ میرا رب ہے اور جب سے وہ مجھے وجود میں لایا ہے اس وقت سے میری پرورش کر رہا ہے اور وہی میرا معبود ہے ﴿ عَلَيۡهِ تَوَؔكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام امور میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں ﴿ وَاِلَيۡهِ مَتَابِ ﴾ ’’اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنی تمام عبادات اور حاجات میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔
13:31وَلَوۡ أَنَّ قُرۡءَانٗا سُيِّرَتۡ بِهِ ٱلۡجِبَالُ أَوۡ قُطِّعَتۡ بِهِ ٱلۡأَرۡضُ أَوۡ كُلِّمَ بِهِ ٱلۡمَوۡتَىٰۗ بَل لِّلَّهِ ٱلۡأَمۡرُ جَمِيعًاۗ أَفَلَمۡ يَاْيۡـَٔسِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَن لَّوۡ يَشَآءُ ٱللَّهُ لَهَدَى ٱلنَّاسَ جَمِيعٗاۗ وَلَا يَزَالُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ تُصِيبُهُم بِمَا صَنَعُواْ قَارِعَةٌ أَوۡ تَحُلُّ قَرِيبٗا مِّن دَارِهِمۡ حَتَّىٰ يَأۡتِيَ وَعۡدُ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُخۡلِفُ ٱلۡمِيعَادَ
اوراگر بے شک ہوتا کوئی قرآن کہ چلائے جاتے اس کے ذریعے سے پہاڑ یا قطع کی جاتی اس کے ذریعے سے زمین یا بلوائے جاتے اس کے ذریعے سے مردے (تو وہ یہی قرآن ہوتا )بلکہ واسطے اللہ ہی کے ہے معاملہ (اختیار)سارا، کیا پس (ابھی تک) نہیں جانا ان لوگوں نے جو ایمان لائے کہ اگر چاہتا اللہ تو ، البتہ ہدایت دیتا لوگوں کو سب کواور ہمیشہ رہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا پہنچے گی انھیں بوجہ اس کے جو انھوں نے کیا، سخت آفت یا وہ اترے گی قریب ان کے گھروں کے یہاں تک کہ آجائے وعدہ اللہ کا، بے شک اللہ نہیں خلاف کرتا (اپنے )وعدے کے (31)
[31] اللہ تبارک و تعالیٰ تمام کتب منزلہ پر قرآن کریم کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ اَنَّ قُرۡاٰنًا ﴾ ’’اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا۔‘‘ یعنی کتب الٰہیہ میں سے کوئی قرآن ایسا ہوتا ﴿ سُيِّرَتۡ بِهِ الۡجِبَالُ ﴾ ’’کہ اس کے ذریعے سے پہاڑوں کو (اپنی جگہ سے) ہلا دیا جاتا‘‘ ﴿ اَوۡ قُطِّعَتۡ بِهِ الۡاَرۡضُ ﴾ ’’یا ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی اس سے زمین‘‘ اور اس کے ذریعے سے زمین پھٹ جاتی اور وہ باغات اور دریاؤں میں تبدیل ہو جاتی ﴿ اَوۡ كُلِّمَ بِهِ الۡمَوۡتٰى﴾ ’’اور اس کے ذریعے سے مردے بولنے لگتے‘‘ تو وہ یہی قرآن ہوتا ﴿ بَلۡ لِّلّٰهِ الۡاَمۡرُ جَمِيۡعًا ﴾’’بلکہ سب کام تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں ‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ صرف وہی معجزے دکھاتا ہے جن کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے۔ تب ان جھٹلانے والوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنی خواہش سے معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں ؟ پس کیا ان کو یا کسی اور کو آیات و معجزات پر کوئی اختیار ہے؟﴿ اَفَلَمۡ يَايۡــَٔسِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ لَّوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيۡعًا﴾ ’’کیا ایمان والوں کو اس بات پر اطمینان نہیں کہ اللہ چاہے تو سب لوگوں کو ہدایت سے نواز دے‘‘ پس انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو ہدایت دینے پر قادر ہے مگر اللہ تعالیٰ ایسا کرنا نہیں چاہتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ ﴿ وَلَا يَزَالُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور کفار اپنے کفر پر جمے رہیں گے‘‘ یعنی وہ عبرت حاصل کریں گے نہ نصیحت حاصل کریں گے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کے شہروں پر پے درپے ہلاکتیں اور عذاب نازل فرماتا ہے یا ان کے قریب علاقوں پر مصائب نازل ہوتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے کفر پر مصر ہیں ﴿ حَتّٰى يَاۡتِيَ وَعۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آپہنچے۔‘‘ یعنی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے فوری نزول عذاب کے وعدے کا وقت آ جائے جس کو روکنا ممکن نہیں ۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾ ’’بے شک اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نزول عذاب کے بارے میں تہدید و تخویف ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر، عناد اور ظلم کی بنا پر وعدہ کر رکھا ہے۔
13:32وَلَقَدِ ٱسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٖ مِّن قَبۡلِكَ فَأَمۡلَيۡتُ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ ثُمَّ أَخَذۡتُهُمۡۖ فَكَيۡفَ كَانَ عِقَابِ
اور البتہ تحقیق استہزاء کیا گیا ساتھ رسولوں کے آپ سے پہلے تو مہلت دی میں نے واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، پھر پکڑا میں نے ان کو، پس کیسا (شدید) تھا عذاب میرا؟ (32)
[32] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کو ثبات کی تلقین کرتے اور تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدِ اسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’اور ٹھٹھا کیا گیا آپ سے پہلے کتنے رسولوں کے ساتھ‘‘ یعنی آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کی تکذیب کی گئی اور جسے ایذا پہنچائی گئی ہو۔ ﴿ فَاَمۡلَيۡتُ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’پس میں نے کافروں کو ڈھیل دی‘‘ یعنی جنھوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا، میں نے ایک مدت تک ان کو مہلت دی حتیٰ کہ وہ اس گمان باطل میں مبتلا ہو گئے کہ ان کو عذاب نہیں دیا جائے گا ﴿ ثُمَّ اَخَذۡتُهُمۡ﴾ ’’پھر میں نے ان کو (مختلف قسم کے عذاب کے ذریعے سے) پکڑ لیا‘‘ ﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عِقَابِ ﴾ ’’پس کیسا تھا میرا عقاب‘‘ اللہ تعالیٰ کی سزا بڑی سخت اور اس کا عذاب بڑا درد ناک ہے۔ وہ لوگ جو آپ کو جھٹلاتے ہیں اور آپ کا تمسخر اڑاتے ہیں ، ہماری دی ہوئی مہلت سے دھوکے میں مبتلا نہ ہوں ، ان کے سامنے ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کا نمونہ موجود ہے۔ لہذا انھیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو گزشتہ نافرمان قوموں کے ساتھ کیا گیا۔
13:33أَفَمَنۡ هُوَ قَآئِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفۡسِۭ بِمَا كَسَبَتۡۗ وَجَعَلُواْ لِلَّهِ شُرَكَآءَ قُلۡ سَمُّوهُمۡۚ أَمۡ تُنَبِّـُٔونَهُۥ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَم بِظَٰهِرٖ مِّنَ ٱلۡقَوۡلِۗ بَلۡ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ مَكۡرُهُمۡ وَصُدُّواْ عَنِ ٱلسَّبِيلِۗ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنۡ هَادٖ
کیا پس وہ ذات جو نگہبان ہے ہر نفس پر، ساتھ اس کے جو اس نے کمایا (مانند اس کے ہے جو ایسا نہیں ؟) اور بنائے انھوں نے اللہ کے لیے شریک، کہہ دیجیے، تم نام تو لو ان کےبلکہ تم خبر دیتے ہو اللہ کو ان چیزوں کی کہ نہیں جانتا وہ (انھیں ) زمین میں ؟بلکہ (تم شریک قرار دیتے ہو ان کو) ظن باطل سےبلکہ مزین کر دیا گیا واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، مکران کااور وہ روکے گئے راہ حق سےاور جسے گمراہ کرے اللہ تو نہیں ہے واسطے اس کے کوئی بھی ہدایت دینے والا (33) ان کے لیے عذاب ہے زندگانی دنیا میں اور البتہ عذاب آخرت کا سخت ترین ہے اور نہیں ہے واسطے ان کے اللہ (کے عذاب) سے (کوئی بھی) بچانے والا (34)
[33]﴿ اَفَمَنۡ هُوَ قَآىِٕمٌ عَلٰى كُلِّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’تو کیا جو ہر متنفس کے اعمال کانگران ہے۔‘‘ یعنی کیا وہ ہستی جو دنیاوی اور اخروی جزا اور عدل و انصاف کے ساتھ ہر متنفس کے عمل کو دیکھ رہی ہے… اور وہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ… اس ہستی کی مانند ہو سکتی ہے جو اس جیسی نہیں ہے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ شُرَؔكَآءَ﴾ ’’اور انھوں نے اللہ کے شریک ٹھہرا لیے‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ایک ہے، وہ یکتا اور بے نیاز ہے، جس کا کوئی شریک ہے نہ ہمسر اور نظیر۔ ﴿ قُلۡ ﴾ اگر وہ سچے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے ﴿ سَمُّوۡهُمۡ﴾ ’’ان کے نام لو‘‘ تاکہ ہمیں ان کا حال معلوم ہو ﴿ اَمۡ تُنَبِّـُٔوۡنَهٗ۠ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یا تم اللہ کو بتلاتے ہو جو وہ نہیں جانتا زمین میں ‘‘ جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ غائب اور حاضر ہر چیز کو جانتا ہے اور اس کے علم میں کوئی ایسی ہستی نہیں جو اس کی شریک ہو تو ان کے اس دعویٰ کا بطلان واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہے اور تم اس شخص کی مانند ہو جو اللہ تعالیٰ کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ اس کا کوئی شریک ہے اور اللہ تعالیٰ کو اس کا علم نہیں ہے اور یہ باطل ترین قول ہے اس لیے فرمایا: ﴿ اَمۡ بِظَاهِرٍ مِّنَ الۡقَوۡلِ﴾’’یا کرتے ہو اوپر ہی اوپر باتیں ‘‘ تمھارے دعویٰ، کہ اللہ تعالیٰ کا شریک ہے، کی انتہا یہ ہے کہ یہ تمھاری خالی خولی باتیں ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور تمام کائنات میں کوئی ایسی ہستی نہیں جو کچھ بھی عبادت کی مستحق ہو۔﴿ بَلۡ زُيِّنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مَكۡرُهُمۡ ﴾ ’’بلکہ خوب صورت کر دیے گئے ہیں کافروں کے لیے ان کے فریب‘‘ وہ چال جو انھوں نے چلی، یعنی ان کا کفر، شرک اور آیات الٰہی کو جھٹلانا ﴿ وَصُدُّوۡا عَنِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور وہ (ہدایت کے) راستے سے روک لیے گئے ہیں ۔‘‘ یعنی انھیں صراط مستقیم سے روک دیا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے کرامت کے گھر تک پہنچاتا ہے ﴿ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ ﴾ ’’اور جس کو گمراہ کر دے اللہ، اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ‘‘ کیونکہ کسی کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ۔
[34]﴿ لَهُمۡ عَذَابٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَشَقُّ﴾ ’’ان کے لیے عذاب ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے‘‘ یعنی آخرت کا عذاب اپنی شدت اور دوام کی بنا پر دنیا کے عذاب سے زیادہ سخت ہے۔ ﴿ وَمَا لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ وَّاقٍ ﴾ ’’اور ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے، جب اس کے عذاب کا رخ ان کی طرف پھیر دیا جائے گا تو اسے کوئی نہیں روک سکے گا۔
13:34لَّهُمۡ عَذَابٞ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَلَعَذَابُ ٱلۡأٓخِرَةِ أَشَقُّۖ وَمَا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن وَاقٖ
کیا پس وہ ذات جو نگہبان ہے ہر نفس پر، ساتھ اس کے جو اس نے کمایا (مانند اس کے ہے جو ایسا نہیں ؟) اور بنائے انھوں نے اللہ کے لیے شریک، کہہ دیجیے، تم نام تو لو ان کےبلکہ تم خبر دیتے ہو اللہ کو ان چیزوں کی کہ نہیں جانتا وہ (انھیں ) زمین میں ؟بلکہ (تم شریک قرار دیتے ہو ان کو) ظن باطل سےبلکہ مزین کر دیا گیا واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، مکران کااور وہ روکے گئے راہ حق سےاور جسے گمراہ کرے اللہ تو نہیں ہے واسطے اس کے کوئی بھی ہدایت دینے والا (33) ان کے لیے عذاب ہے زندگانی دنیا میں اور البتہ عذاب آخرت کا سخت ترین ہے اور نہیں ہے واسطے ان کے اللہ (کے عذاب) سے (کوئی بھی) بچانے والا (34)
[33]﴿ اَفَمَنۡ هُوَ قَآىِٕمٌ عَلٰى كُلِّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’تو کیا جو ہر متنفس کے اعمال کانگران ہے۔‘‘ یعنی کیا وہ ہستی جو دنیاوی اور اخروی جزا اور عدل و انصاف کے ساتھ ہر متنفس کے عمل کو دیکھ رہی ہے… اور وہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ… اس ہستی کی مانند ہو سکتی ہے جو اس جیسی نہیں ہے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ شُرَؔكَآءَ﴾ ’’اور انھوں نے اللہ کے شریک ٹھہرا لیے‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ایک ہے، وہ یکتا اور بے نیاز ہے، جس کا کوئی شریک ہے نہ ہمسر اور نظیر۔ ﴿ قُلۡ ﴾ اگر وہ سچے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے ﴿ سَمُّوۡهُمۡ﴾ ’’ان کے نام لو‘‘ تاکہ ہمیں ان کا حال معلوم ہو ﴿ اَمۡ تُنَبِّـُٔوۡنَهٗ۠ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یا تم اللہ کو بتلاتے ہو جو وہ نہیں جانتا زمین میں ‘‘ جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ غائب اور حاضر ہر چیز کو جانتا ہے اور اس کے علم میں کوئی ایسی ہستی نہیں جو اس کی شریک ہو تو ان کے اس دعویٰ کا بطلان واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہے اور تم اس شخص کی مانند ہو جو اللہ تعالیٰ کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ اس کا کوئی شریک ہے اور اللہ تعالیٰ کو اس کا علم نہیں ہے اور یہ باطل ترین قول ہے اس لیے فرمایا: ﴿ اَمۡ بِظَاهِرٍ مِّنَ الۡقَوۡلِ﴾’’یا کرتے ہو اوپر ہی اوپر باتیں ‘‘ تمھارے دعویٰ، کہ اللہ تعالیٰ کا شریک ہے، کی انتہا یہ ہے کہ یہ تمھاری خالی خولی باتیں ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور تمام کائنات میں کوئی ایسی ہستی نہیں جو کچھ بھی عبادت کی مستحق ہو۔﴿ بَلۡ زُيِّنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مَكۡرُهُمۡ ﴾ ’’بلکہ خوب صورت کر دیے گئے ہیں کافروں کے لیے ان کے فریب‘‘ وہ چال جو انھوں نے چلی، یعنی ان کا کفر، شرک اور آیات الٰہی کو جھٹلانا ﴿ وَصُدُّوۡا عَنِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور وہ (ہدایت کے) راستے سے روک لیے گئے ہیں ۔‘‘ یعنی انھیں صراط مستقیم سے روک دیا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے کرامت کے گھر تک پہنچاتا ہے ﴿ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ ﴾ ’’اور جس کو گمراہ کر دے اللہ، اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ‘‘ کیونکہ کسی کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ۔
[34]﴿ لَهُمۡ عَذَابٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَشَقُّ﴾ ’’ان کے لیے عذاب ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے‘‘ یعنی آخرت کا عذاب اپنی شدت اور دوام کی بنا پر دنیا کے عذاب سے زیادہ سخت ہے۔ ﴿ وَمَا لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ وَّاقٍ ﴾ ’’اور ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے، جب اس کے عذاب کا رخ ان کی طرف پھیر دیا جائے گا تو اسے کوئی نہیں روک سکے گا۔
13:35۞مَّثَلُ ٱلۡجَنَّةِ ٱلَّتِي وُعِدَ ٱلۡمُتَّقُونَۖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ أُكُلُهَا دَآئِمٞ وَظِلُّهَاۚ تِلۡكَ عُقۡبَى ٱلَّذِينَ ٱتَّقَواْۚ وَّعُقۡبَى ٱلۡكَٰفِرِينَ ٱلنَّارُ
صفت اس جنت کی جس کا وعدہ دیے گئے ہیں متقی لوگ (یہ ہے کہ) بہتی ہیں اس کے نیچے نہریں ، اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ بھی، یہ انجام ہے ان لوگوں کا جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا اور انجام کافروں کا آگ ہے (35)
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ مَثَلُ الۡجَنَّةِ الَّتِيۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ﴾ ’’جنت کا حال، جس کا وعدہ پرہیز گاروں سے ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے نواہی کو ترک کر دیا اور اس کے اوامر کی تعمیل میں کوتاہی نہیں کی، ان کے لیے جنت کا وعدہ ہے۔ اس جنت کا وصف اور اس کی حقیقت یہ ہے ﴿ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’بہتی ہیں اس کے نیچے نہریں ‘‘ یعنی شہد، شراب، دودھ اور پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جن میں گڑھے نہ ہوں گے۔ یہ نہریں جنت کے باغات اور درختوں کو سیراب کریں گی، یہ باغات اور درخت ہر قسم کے پھل اٹھائیں گے۔ ﴿ اُكُلُهَا دَآىِٕمٌ وَّظِلُّهَا﴾ ’’ان کے پھل ہمیشہ رہنے والے ہیں اور ان کا سایہ بھی لازوال ہے‘‘ ﴿ تِلۡكَ عُقۡبَى الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا ﴾ ’’یہ انجام ہے ان لوگوں کا جو ڈرتے رہے‘‘ یعنی ان کا انجام اور ان کی عاقبت جس کی طرف یہ رواں دواں ہیں ﴿ وَّعُقۡبَى الۡكٰفِرِيۡنَ النَّارُ ﴾ ’’اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔‘‘ پس دیکھ لو! دونوں فریقوں کے درمیان کتنا واضح فرق ہے۔
13:36وَٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يَفۡرَحُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَۖ وَمِنَ ٱلۡأَحۡزَابِ مَن يُنكِرُ بَعۡضَهُۥۚ قُلۡ إِنَّمَآ أُمِرۡتُ أَنۡ أَعۡبُدَ ٱللَّهَ وَلَآ أُشۡرِكَ بِهِۦٓۚ إِلَيۡهِ أَدۡعُواْ وَإِلَيۡهِ مَـَٔابِ
اور وہ لوگ کہ دی ہم نے ان کو کتاب، وہ خوش ہوتے ہیں ساتھ اس (قرآن) کے جو اتارا گیا ہے آپ کی طرف اور کچھ گروہ وہ ہیں جو انکار کرتے ہیں اس کے بعض (احکام) کا، کہہ دیجیے مجھے تو حکم دیا گیا ہے اس کا کہ میں عبادت کروں صرف اللہ ہی کی اور نہ شریک ٹھہراؤں ساتھ اس کے (کسی کو بھی) اسی کی طرف بلاتا ہوں میں اور اسی کی طرف واپسی ہے میری (36)
[36]﴿وَالَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡكِتٰبَ﴾ ’’اور وہ لوگ جن کو دی ہم نے کتاب‘‘ یعنی ہم نے ان کو کتاب اللہ اور اس کی معرفت سے نوازا ﴿ يَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’وہ خوش ہوتے ہیں اس پر جو نازل ہوا آپ پر‘‘ پس وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ، اس کی تصدیق کرتے ہیں اور کتب الٰہیہ کی ایک دوسری کے ساتھ موافقت اور ایک دوسری کی تصدیق کرنے کی بنا پر خوش ہوتے ہیں یہ ان لوگوں کا حال ہے جو اہل کتاب میں سے ایمان لائے۔ ﴿ وَمِنَ الۡاَحۡزَابِ مَنۡ يُّنۡؔكِرُ بَعۡضَهٗ﴾ ’’اور بعض گروہ وہ ہیں جو اس کی بعض باتوں کا انکار کرتے ہیں ‘‘ یعنی کفار کے، حق سے منحرف، گروہ اس قرآن کے کچھ حصے کا انکار کرتے ہیں اور اس کی تصدیق نہیں کرتے۔ ﴿مَنِ اهۡتَدٰؔى فَاِنَّمَا يَهۡتَدِيۡ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَا﴾(بنی اسرائیل: 17؍15) ’’جو کوئی راہ راست پر چلتا ہے تو اس کی راست روی اس کے اپنے لیے فائدہ مند ہے۔ اور جو کوئی گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی کا وبال بھی اسی پر ہے۔‘‘اے محمد! (ﷺ)آپ تو صرف ڈرانے والے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے ہیں ۔﴿ قُلۡ اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰهَ وَلَاۤ اُشۡرِكَ بِهٖ﴾ ’’کہہ دیجیے! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں صرف اللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤں ‘‘ یعنی مجھے صرف اللہ وحدہ کے لیے دین کو خالص کرنے کا حکم دیا گیا ہے ﴿ اِلَيۡهِ اَدۡعُوۡا وَاِلَيۡهِ مَاٰبِ ﴾ ’’اسی کی طرف میں بلاتا ہوں اور اسی کی طرف میرا ٹھکانا ہے‘‘ یعنی وہی میرا مرجع ہے جس کی طرف میں لوٹوں گا وہ مجھے اس بات کی جزا دے گا کہ میں نے اس کے دین کی طرف لوگوں کو دعوت دی اور مجھے جو حکم دیا گیا میں نے اس کی تعمیل کی۔
13:37وَكَذَٰلِكَ أَنزَلۡنَٰهُ حُكۡمًا عَرَبِيّٗاۚ وَلَئِنِ ٱتَّبَعۡتَ أَهۡوَآءَهُم بَعۡدَ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلۡعِلۡمِ مَا لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا وَاقٖ
اور اسی طرح نازل کیا ہم نے اس (قرآن) کو حکم عربی زبان میں اور البتہ اگر پیروی کی آپ نے ان کی خواہشوں کی بعد اس کے کہ آیا آپ کے پاس علم تو نہیں ہو گا واسطے آپ کے اللہ (کے عذاب) سے کوئی حمایتی اور نہ کوئی بچانے والا (37)
[37] یعنی ہم نے اس قرآن اور اس کتاب کو فرمان عربی بنا کر نازل کیا ہے یعنی واضح ترین اور فصیح ترین زبان کے ذریعے سے اسے محکم اور پختہ بنا کر نازل کیا ہے تاکہ اس میں کوئی شک و شبہ واقع نہ ہو تاکہ یہ اس امر کا موجب ہو کہ صرف اسی کی اتباع کی جائے، اس میں مداہنت نہ کی جائے اور بے علم لوگوں کی خواہشات نفس میں سے اس کے متضاد اور متناقض امور کی پیروی نہ کی جائے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو… درآں حالیکہ آپ معصوم ہیں … وعید سنائی تاکہ آپ کو آپ کی عصمت یاد دلائے اور تاکہ تمام احکام میں آپ امت کے لیے نمونہ بنیں ۔ فرمایا:﴿ وَلَىِٕنِ اتَّبَعۡتَ اَهۡوَؔآءَؔهُمۡ بَعۡدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ﴾ ’’اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی، اس علم کے بعد جو آپ کے پاس پہنچا‘‘ واضح علم، جو آپ کو ان کی خواہشات نفس کی پیروی سے روکتا ہے ﴿ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِيٍّ ﴾ ’’تو نہیں ہو گا آپ کے لیے اللہ کے مقابلے میں کوئی حمایتی‘‘ جو آپ کی سرپرستی کرے اور آپ کو آپ کا امر محبوب عطا کرے ﴿وَّلَا وَاقٍ ﴾ ’’اور نہ کوئی بچانے والا‘‘ جو آپ کو امر مکروہ سے بچا سکے۔
13:38وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا رُسُلٗا مِّن قَبۡلِكَ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ أَزۡوَٰجٗا وَذُرِّيَّةٗۚ وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأۡتِيَ بِـَٔايَةٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۗ لِكُلِّ أَجَلٖ كِتَابٞ
اور البتہ تحقیق بھیجے ہم نے کئی رسول آپ سے پہلےاور کیں ہم نے واسطے ان کے بیویاں اور اولاداور نہیں ہے (اختیار) واسطے کسی رسول کے یہ کہ وہ لے آئے کوئی نشانی (معجزہ) مگر ساتھ اللہ کے حکم کے، ہر مقررہ وعدے کے لیے لکھا ہوا (وقت) ہے (38) مٹاتا ہے اللہ جو چاہتا ہے اور ثابت رکھتا ہے (جو چاہے)اور اسی کے پاس ہے اصل کتاب(39)
[38] یعنی آپﷺ پہلے رسول نہیں ہیں جن کو لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے کہ یہ لوگ آپ کی رسالت کو کوئی انوکھی چیز سمجھیں ۔ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِكَ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ اَزۡوَاجًا وَّذُرِّيَّةً﴾’’اور آپ سے پہلے ہم نے کئی رسول بھیجے اور دیں ہم نے ان کو بیویاں اور اولاد‘‘ اس لیے آپﷺ کے دشمن اس وجہ سے آپ کی عیب چینی نہ کریں کہ آپ کے بیوی بچے ہیں ۔ آپ کے بھائی دیگر انبیاء و مرسلین کے بھی بیوی بچے تھے۔ تب وہ آپ میں کس بات پر جرح و قدح کرتے ہیں حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ سے قبل انبیاء و رسل بھی اسی طرح تھے۔ ان کی یہ عیب چینی اپنی اغراض فاسدہ اور خواہشات نفس کی خاطر ہے… اگر وہ آپ سے کوئی معجزہ طلب کرتے ہیں تو اپنی خواہش کے مطابق مطالبہ کرتے ہیں ۔ آپ کو کسی چیز کا بھی اختیار نہیں ۔﴿ وَمَا كَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ يَّاۡتِيَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور کسی رسول سے یہ نہیں ہوا کہ وہ لے آئے کوئی نشانی مگر اللہ کے حکم سے‘‘ اور اللہ تعالیٰ معجزے دکھانے کی تب اجازت دیتا ہے جب اس کی قضا و قدر کے مطابق مقرر کیا ہوا وقت آ جاتا ہے۔ ﴿ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ ﴾ ’’ہر ایک وعدہ لکھا ہوا ہے‘‘ اور یہ مقرر کیا ہوا وقت آگے بڑھ سکتا ہے نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ لہذا ان کا آیات و معجزات اور عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانا اس بات کا موجب نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقررکردہ وقت کو آگے کر دے جس کو اس نے اپنی تقدیر میں موخر کر رکھا ہے۔ بایں ہمہ کہ وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔
[39]﴿ يَمۡحُوا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ ﴾ ’’اللہ جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی مقرر کردہ تقدیر میں سے جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے ﴿وَيُثۡبِتُ﴾ ’’اور قائم رکھتا ہے۔‘‘ یعنی اس تقدیر میں سے جو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے اور یہ تغیر اور محو کرنا ان امور کے علاوہ ہے جن کو اس کا قلم تقدیر لکھ چکا ہے۔ پس ان امور میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ محال ہے کہ اس کے علم میں کوئی نقص یا خلل ہو۔ اس لیے فرمایا ﴿وَعِنۡدَهٗۤ اُمُّ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔‘‘ یعنی اس کے پاس لوح محفوظ ہے۔ جس کی طرف تمام اشیاء لوٹتی ہیں یہ اصل ہے اور باقی تمام اشیاء اس کی فروع ہیں ۔ پس تغیر و تبدل فروع میں واقع ہوتا ہے ، مثلاً: روز و شب کے اعمال جن کو فرشتے لکھ لیتے ہیں اور ان اعمال کو قائم رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ اسباب فراہم کرتا ہے اور ان کو محو کرنے کے لیے بھی اسباب مہیا کرتا ہے اور یہ اسباب اس نوشۂ تقدیر سے تجاوز نہیں کرتے جو لوح محفوظ میں مرقوم ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ نے نیکی، صلہ رحمی اور احسان کو لمبی عمر اور کشائش رزق کے لیے اسباب بنایا ہے، جیسے گناہوں کو رزق اور عمر میں بے برکتی کا سبب بنایا ہے۔ اور جیسے ہلاکت سے نجات کے اسباب کو سلامتی کا سبب بنایا اور جیسے ہلاکت کے مواقع میں پڑنے کو ہلاکت کا سبب بنایا۔ پس اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور ارادے کے مطابق تمام امور کی تدبیر کرتا ہے، اس کی تدبیر اس کے مخالف نہیں ہوتی جسے اس نے اپنے علم کے مطابق لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔
13:39يَمۡحُواْ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ وَيُثۡبِتُۖ وَعِندَهُۥٓ أُمُّ ٱلۡكِتَٰبِ
اور البتہ تحقیق بھیجے ہم نے کئی رسول آپ سے پہلےاور کیں ہم نے واسطے ان کے بیویاں اور اولاداور نہیں ہے (اختیار) واسطے کسی رسول کے یہ کہ وہ لے آئے کوئی نشانی (معجزہ) مگر ساتھ اللہ کے حکم کے، ہر مقررہ وعدے کے لیے لکھا ہوا (وقت) ہے (38) مٹاتا ہے اللہ جو چاہتا ہے اور ثابت رکھتا ہے (جو چاہے)اور اسی کے پاس ہے اصل کتاب(39)
[38] یعنی آپﷺ پہلے رسول نہیں ہیں جن کو لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے کہ یہ لوگ آپ کی رسالت کو کوئی انوکھی چیز سمجھیں ۔ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِكَ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ اَزۡوَاجًا وَّذُرِّيَّةً﴾’’اور آپ سے پہلے ہم نے کئی رسول بھیجے اور دیں ہم نے ان کو بیویاں اور اولاد‘‘ اس لیے آپﷺ کے دشمن اس وجہ سے آپ کی عیب چینی نہ کریں کہ آپ کے بیوی بچے ہیں ۔ آپ کے بھائی دیگر انبیاء و مرسلین کے بھی بیوی بچے تھے۔ تب وہ آپ میں کس بات پر جرح و قدح کرتے ہیں حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ سے قبل انبیاء و رسل بھی اسی طرح تھے۔ ان کی یہ عیب چینی اپنی اغراض فاسدہ اور خواہشات نفس کی خاطر ہے… اگر وہ آپ سے کوئی معجزہ طلب کرتے ہیں تو اپنی خواہش کے مطابق مطالبہ کرتے ہیں ۔ آپ کو کسی چیز کا بھی اختیار نہیں ۔﴿ وَمَا كَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ يَّاۡتِيَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور کسی رسول سے یہ نہیں ہوا کہ وہ لے آئے کوئی نشانی مگر اللہ کے حکم سے‘‘ اور اللہ تعالیٰ معجزے دکھانے کی تب اجازت دیتا ہے جب اس کی قضا و قدر کے مطابق مقرر کیا ہوا وقت آ جاتا ہے۔ ﴿ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ ﴾ ’’ہر ایک وعدہ لکھا ہوا ہے‘‘ اور یہ مقرر کیا ہوا وقت آگے بڑھ سکتا ہے نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ لہذا ان کا آیات و معجزات اور عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانا اس بات کا موجب نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقررکردہ وقت کو آگے کر دے جس کو اس نے اپنی تقدیر میں موخر کر رکھا ہے۔ بایں ہمہ کہ وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔
[39]﴿ يَمۡحُوا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ ﴾ ’’اللہ جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی مقرر کردہ تقدیر میں سے جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے ﴿وَيُثۡبِتُ﴾ ’’اور قائم رکھتا ہے۔‘‘ یعنی اس تقدیر میں سے جو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے اور یہ تغیر اور محو کرنا ان امور کے علاوہ ہے جن کو اس کا قلم تقدیر لکھ چکا ہے۔ پس ان امور میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ محال ہے کہ اس کے علم میں کوئی نقص یا خلل ہو۔ اس لیے فرمایا ﴿وَعِنۡدَهٗۤ اُمُّ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔‘‘ یعنی اس کے پاس لوح محفوظ ہے۔ جس کی طرف تمام اشیاء لوٹتی ہیں یہ اصل ہے اور باقی تمام اشیاء اس کی فروع ہیں ۔ پس تغیر و تبدل فروع میں واقع ہوتا ہے ، مثلاً: روز و شب کے اعمال جن کو فرشتے لکھ لیتے ہیں اور ان اعمال کو قائم رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ اسباب فراہم کرتا ہے اور ان کو محو کرنے کے لیے بھی اسباب مہیا کرتا ہے اور یہ اسباب اس نوشۂ تقدیر سے تجاوز نہیں کرتے جو لوح محفوظ میں مرقوم ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ نے نیکی، صلہ رحمی اور احسان کو لمبی عمر اور کشائش رزق کے لیے اسباب بنایا ہے، جیسے گناہوں کو رزق اور عمر میں بے برکتی کا سبب بنایا ہے۔ اور جیسے ہلاکت سے نجات کے اسباب کو سلامتی کا سبب بنایا اور جیسے ہلاکت کے مواقع میں پڑنے کو ہلاکت کا سبب بنایا۔ پس اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور ارادے کے مطابق تمام امور کی تدبیر کرتا ہے، اس کی تدبیر اس کے مخالف نہیں ہوتی جسے اس نے اپنے علم کے مطابق لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔
13:40وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعۡضَ ٱلَّذِي نَعِدُهُمۡ أَوۡ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيۡكَ ٱلۡبَلَٰغُ وَعَلَيۡنَا ٱلۡحِسَابُ
اور اگر ہم دکھائیں آپ کو بعض وہ (عذاب) جس کا ہم وعدہ کرتے ہیں ان سے یا ہم وفات دے دیں آپ کو، پس آپ پر توصرف پہنچانا ہی ہےاور ہم پر ہے حساب (لینا)(40)کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ بے شک ہم چلے آتے ہیں (ان کی) زمین کو، کم کرتے ہوئے اسے اس کے اطراف سےاور اللہ حکم کرتا ہے، نہیں ہے کوئی رد کرنے والا اس کے حکم کواور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے (41)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا ہے کہ کفار کو جس عذاب کی وعید سنائی گئی ہے آپ اس کے بارے میں جلدی نہ کریں ۔ اگر وہ اپنی سرکشی اور کفر پر جمے رہے تو وہ عذاب ان کو ضرور آئے گا جس کی ان کو وعید سنائی گئی ہے۔ ﴿ وَاِنۡ مَّا نُرِيَنَّكَ ﴾ ’’اگر دکھلا دیں ہم آپ کو‘‘ یعنی ان کو عذاب دیا جانا ہم آپ کو دنیا ہی میں دکھا دیں جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔ یہ نزول عذاب اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف اور اس کی حمد و ثنا پر مبنی ہے کوئی اس میں نقص اور خامی تلاش نہیں کر سکتا اور نہ اس میں جرح و قدح کی کوئی گنجائش ہے۔ ﴿ اَوۡ نَتَوَفَّيَنَّكَ۠ ﴾ ’’یا آپ کو اٹھا لیں ‘‘ یعنی ان پر نزول عذاب سے قبل اگر ہم آپ کو وفات دے دیں پس آپ اس میں مشغول نہ ہوں ۔ ﴿ فَاِنَّمَا عَلَيۡكَ الۡبَلٰغُ ﴾ ’’آپ کے ذمہ تو پہنچا دینا ہے۔‘‘ اور مخلوق کے سامنے بیان کر دینا ہے ﴿ وَعَلَيۡنَا الۡحِسَابُ ﴾ ’’اور حساب لینا ہمارے ذمے ہے‘‘ ہم مخلوق سے ان کی ذمہ داریوں کا حساب لیں گے کہ انھوں نے ان کو پورا کیا ہے یا ضائع کیا ہے، پھر ہم انھیں ثواب سے نوازیں گے یا عذاب میں مبتلا کریں گے۔
[41] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جھٹلانے والوں کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّا نَاۡتِي الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُهَا مِنۡ اَطۡرَافِهَا﴾ ’’کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آ رہے ہیں ‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور ظالموں کے استیصال کے ذریعے سے زمین کا دائرہ ہر طرف سے تنگ کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ نیز اس کی تفسیر میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مشرکین کے شہروں کی فتح، ان کے مال اور بدن میں کمی کے ذریعے سے چاروں طرف سے ان پر حلقہ تنگ ہوتا جا رہا ہے… اس کی تفسیر میں بعض دیگر اقوال بھی ہیں ۔اس کے ظاہر معنی یہ ہیں...واللہ تعالیٰ اعلم… کہ اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کی اراضی کی حالت یہ بنا دی کہ وہ فتح ہو رہی ہیں اور چھینی جا رہی ہیں ، ان پر چاروں طرف سے مصائب ٹوٹ رہے ہیں ، ان کی جان و مال میں کمی سے پہلے یہ ان کے لیے تنبیہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ان پر ایسے عذاب نازل کر رہا ہے جسے کوئی رد کرنے پر قادر نہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ يَحۡكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكۡمِهٖ﴾ ’’اور اللہ، فیصلہ کرتا ہے، اس کے فیصلے کو کوئی پیچھے ڈالنے والا نہیں ‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ کا حکم شرعی، حکم کونی و قدری اور حکم جزائی داخل ہے۔ یہ تمام احکام، جن کا اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتا ہے، حکمت اور پختگی کے بلند ترین درجے پر پائے جاتے ہیں جن میں کوئی نقص اور کوئی خلل نہیں ۔ بلکہ یہ تمام احکام عدل و انصاف اور اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا پر مبنی ہیں کوئی ان فیصلوں میں خامی اور نقص تلاش نہیں کر سکتا اور نہ ان میں جرح و قدح کی کوئی گنجائش ہے۔ اس کے برعکس دیگر ہستیوں کے فیصلے کبھی حق و صواب کے موافق ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے۔ ﴿وَهُوَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ﴾ ’’اور وہ جلد حساب لینے والا ہے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مطالبے میں جلدی نہ مچائیں کیونکہ ہر وہ چیز جسے آنا ہے وہ قریب ہوتی ہے۔
13:41أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا نَأۡتِي ٱلۡأَرۡضَ نَنقُصُهَا مِنۡ أَطۡرَافِهَاۚ وَٱللَّهُ يَحۡكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكۡمِهِۦۚ وَهُوَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ
اور اگر ہم دکھائیں آپ کو بعض وہ (عذاب) جس کا ہم وعدہ کرتے ہیں ان سے یا ہم وفات دے دیں آپ کو، پس آپ پر توصرف پہنچانا ہی ہےاور ہم پر ہے حساب (لینا)(40)کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ بے شک ہم چلے آتے ہیں (ان کی) زمین کو، کم کرتے ہوئے اسے اس کے اطراف سےاور اللہ حکم کرتا ہے، نہیں ہے کوئی رد کرنے والا اس کے حکم کواور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے (41)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا ہے کہ کفار کو جس عذاب کی وعید سنائی گئی ہے آپ اس کے بارے میں جلدی نہ کریں ۔ اگر وہ اپنی سرکشی اور کفر پر جمے رہے تو وہ عذاب ان کو ضرور آئے گا جس کی ان کو وعید سنائی گئی ہے۔ ﴿ وَاِنۡ مَّا نُرِيَنَّكَ ﴾ ’’اگر دکھلا دیں ہم آپ کو‘‘ یعنی ان کو عذاب دیا جانا ہم آپ کو دنیا ہی میں دکھا دیں جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔ یہ نزول عذاب اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف اور اس کی حمد و ثنا پر مبنی ہے کوئی اس میں نقص اور خامی تلاش نہیں کر سکتا اور نہ اس میں جرح و قدح کی کوئی گنجائش ہے۔ ﴿ اَوۡ نَتَوَفَّيَنَّكَ۠ ﴾ ’’یا آپ کو اٹھا لیں ‘‘ یعنی ان پر نزول عذاب سے قبل اگر ہم آپ کو وفات دے دیں پس آپ اس میں مشغول نہ ہوں ۔ ﴿ فَاِنَّمَا عَلَيۡكَ الۡبَلٰغُ ﴾ ’’آپ کے ذمہ تو پہنچا دینا ہے۔‘‘ اور مخلوق کے سامنے بیان کر دینا ہے ﴿ وَعَلَيۡنَا الۡحِسَابُ ﴾ ’’اور حساب لینا ہمارے ذمے ہے‘‘ ہم مخلوق سے ان کی ذمہ داریوں کا حساب لیں گے کہ انھوں نے ان کو پورا کیا ہے یا ضائع کیا ہے، پھر ہم انھیں ثواب سے نوازیں گے یا عذاب میں مبتلا کریں گے۔
[41] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جھٹلانے والوں کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّا نَاۡتِي الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُهَا مِنۡ اَطۡرَافِهَا﴾ ’’کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آ رہے ہیں ‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور ظالموں کے استیصال کے ذریعے سے زمین کا دائرہ ہر طرف سے تنگ کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ نیز اس کی تفسیر میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مشرکین کے شہروں کی فتح، ان کے مال اور بدن میں کمی کے ذریعے سے چاروں طرف سے ان پر حلقہ تنگ ہوتا جا رہا ہے… اس کی تفسیر میں بعض دیگر اقوال بھی ہیں ۔اس کے ظاہر معنی یہ ہیں...واللہ تعالیٰ اعلم… کہ اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کی اراضی کی حالت یہ بنا دی کہ وہ فتح ہو رہی ہیں اور چھینی جا رہی ہیں ، ان پر چاروں طرف سے مصائب ٹوٹ رہے ہیں ، ان کی جان و مال میں کمی سے پہلے یہ ان کے لیے تنبیہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ان پر ایسے عذاب نازل کر رہا ہے جسے کوئی رد کرنے پر قادر نہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ يَحۡكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكۡمِهٖ﴾ ’’اور اللہ، فیصلہ کرتا ہے، اس کے فیصلے کو کوئی پیچھے ڈالنے والا نہیں ‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ کا حکم شرعی، حکم کونی و قدری اور حکم جزائی داخل ہے۔ یہ تمام احکام، جن کا اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتا ہے، حکمت اور پختگی کے بلند ترین درجے پر پائے جاتے ہیں جن میں کوئی نقص اور کوئی خلل نہیں ۔ بلکہ یہ تمام احکام عدل و انصاف اور اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا پر مبنی ہیں کوئی ان فیصلوں میں خامی اور نقص تلاش نہیں کر سکتا اور نہ ان میں جرح و قدح کی کوئی گنجائش ہے۔ اس کے برعکس دیگر ہستیوں کے فیصلے کبھی حق و صواب کے موافق ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے۔ ﴿وَهُوَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ﴾ ’’اور وہ جلد حساب لینے والا ہے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مطالبے میں جلدی نہ مچائیں کیونکہ ہر وہ چیز جسے آنا ہے وہ قریب ہوتی ہے۔
13:42وَقَدۡ مَكَرَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ فَلِلَّهِ ٱلۡمَكۡرُ جَمِيعٗاۖ يَعۡلَمُ مَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٖۗ وَسَيَعۡلَمُ ٱلۡكُفَّـٰرُ لِمَنۡ عُقۡبَى ٱلدَّارِ
اور تحقیق تدبیریں کی تھیں (انبیاء کے خلاف) ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے،پس واسطے اللہ ہی کے ہیں تدبیریں ساری، وہ جانتا ہے جو کچھ کماتا ہے ہر نفساور عن قریب جان لیں گے کافر، کس کے لیے ہے (اچھا) انجام آخرت کا؟ (42) اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہے تو رسول، آپ کہہ دیجیے، کافی ہے اللہ گواہ میرے درمیان اور تمھارے درمیاناور وہ شخص (بھی) کہ اس کے پاس ہے علم کتاب کا (43)
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَقَدۡ مَكَرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’ان سے پہلے لوگوں نے بھی چال چلی۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنے رسولوں اور اس حق کے خلاف سازشیں کیں جنھیں لے کر رسول آئے تھے مگر ان کی چالیں اور سازشیں کسی کام نہ آئیں اور وہ کچھ بھی نہ کر سکے۔ کیونکہ وہ اللہ کے خلاف جنگ کرتے ہیں ۔ ﴿ فَلِلّٰهِ الۡمَؔكۡرُ جَمِيۡعًا﴾ ’’پس اللہ کے ہاتھ میں ہے سب تدبیر‘‘ یعنی کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی چال چلنے پر قادر نہیں اور یہ چال اللہ تعالیٰ کی قضاوقدر کے تحت آتی ہے۔ چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف سازشیں کرتے ہیں لہذا ان کی سازش اور چال ناکامی اور ندامت کا داغ لے کر انھی کی طرف لوٹے گی۔ ﴿ يَعۡلَمُ مَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٍ﴾ ’’وہ جانتا ہے جو کماتا ہے ہر نفس‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر جان کے بارے میں خوب جانتا ہے کہ اس نے کیا کمائی کی، یعنی اللہ تعالیٰ ہر ایک نفس کے عزم و ارادے اور ظاہری اور باطنی اعمال کو خوب جانتا ہے۔ مکر اور سازش بھی لازمی طور پر انسان کے اکتساب میں شمار ہوتے ہیں ، پس ان کا مکر اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں ۔ اس لیے یہ ممتنع ہے کہ ان کی چال حق اور اہل حق کو نقصان پہنچا کر ان کو کوئی فائدہ دے۔ فرمایا:﴿ وَسَيَعۡلَمُ الۡكُفّٰرُ لِمَنۡ عُقۡبَى الدَّارِ ﴾ ’’اور عنقریب جان لیں گے کافر کہ کس کے لیے ہے گھر عاقبت کا‘‘ یعنی اچھا انجام کفار کے لیے ہے یا اللہ کے رسولوں کے لیے؟ اور یہ حقیقت معلوم ہے کہ اہل تقویٰ کی عاقبت اچھی ہے۔ کفر اور اہل کفر کی عاقبت اچھی نہیں ہے۔
[43]﴿ وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَسۡتَ مُرۡسَلًا﴾ ’’اور کافر کہتے ہیں کہ آپ بھیجے ہوئے نہیں ہیں ‘‘ یعنی کفار آپﷺ کی اور اس حق کی تکذیب کرتے ہیں جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے ﴿ قُلۡ﴾ اگر وہ آپ سے گواہ طلب کریں تو ان سے کہہ دیجیے ﴿ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًۢا بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكُمۡ﴾’’اللہ میرے اور تمھارے درمیان گواہ کافی ہے‘‘ اور اس کی گواہی اس کے قول و فعل اور اقرار کے ذریعے سے ہوتی ہے۔قول کے ذریعے سے اس کی شہادت یہ ہے کہ اس نے یہ قرآن مخلوق میں سب سے سچی ہستی پر نازل فرمایا جو آپﷺ کی رسالت کو ثابت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اپنی تائید سے نوازا اور آپ کو ایسی فتح و نصرت عطا کی جو آپ کی، آپ کے اصحاب اور آپ کے متبعین کی قدرت اختیار سے باہر تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فعل و تائید کے ذریعے سے شہادت ہے۔ اقرار کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی شہادت یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے لوگوں کو خبر دی کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور اس نے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ وہ آپ کی اطاعت کریں ۔ پس جو کوئی آپ کی اطاعت کرتا ہے اس کے لیے اللہ کی رضامندی اور اس کی کرامت ہے اور جو کوئی آپ کی اطاعت نہیں کرتا تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور جہنم ہے اور اس کا خون اور مال حلال ہے اور اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دعوے پر برقرار رکھتا ہے۔ اگر رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ پر کوئی جھوٹ باندھا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں آپ کو عذاب دے دیتا۔﴿ وَمَنۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اور جس کو خبر ہے کتاب کی‘‘ یہ آیت کریمہ اہل کتاب کے تمام علماء کو شامل ہے۔ کیونکہ ان میں سے جو کوئی ایمان لا کر حق کی اتباع کرتا ہے وہ رسول اللہﷺ کی گواہی دیتا ہے اور نہایت صراحت سے آپ کے حق میں شہادت دیتا ہے اور ان میں سے جو کوئی گواہی کو چھپاتا ہے تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی خبر کہ اس کے پاس شہادت ہے، اس کی خبر سے زیادہ بلیغ ہے۔ اگر اس کے پاس شہادت نہ ہوتی تو دلیل کے ساتھ اپنے طلب شہادت کو رد کر دیتا۔ پس اس کا سکوت دلالت کرتا ہے کہ اس کے پاس رسول کے حق میں شہادت موجود ہے جو اس نے چھپا رکھی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل کتاب سے گواہی لینے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ وہ گواہی دینے کی اہلیت رکھتے ہیں ہر معاملے میں صرف اسی شخص سے گواہی لی جانی چاہیے جو اس کا اہل ہو اور دوسروں کی نسبت اس بارے میں زیادہ علم رکھتا ہو۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو اس معاملے میں بالکل اجنبی ہوں ، مثلاً:ان پڑھ مشرکین عرب وغیرہ تو ان سے شہادت طلب کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ انھیں اس معاملے کی کوئی خبر ہے نہ انھیں اس کی معرفت ہی حاصل ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
13:43وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَسۡتَ مُرۡسَلٗاۚ قُلۡ كَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدَۢا بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡ وَمَنۡ عِندَهُۥ عِلۡمُ ٱلۡكِتَٰبِ
اور تحقیق تدبیریں کی تھیں (انبیاء کے خلاف) ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے،پس واسطے اللہ ہی کے ہیں تدبیریں ساری، وہ جانتا ہے جو کچھ کماتا ہے ہر نفساور عن قریب جان لیں گے کافر، کس کے لیے ہے (اچھا) انجام آخرت کا؟ (42) اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہے تو رسول، آپ کہہ دیجیے، کافی ہے اللہ گواہ میرے درمیان اور تمھارے درمیاناور وہ شخص (بھی) کہ اس کے پاس ہے علم کتاب کا (43)
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَقَدۡ مَكَرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’ان سے پہلے لوگوں نے بھی چال چلی۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنے رسولوں اور اس حق کے خلاف سازشیں کیں جنھیں لے کر رسول آئے تھے مگر ان کی چالیں اور سازشیں کسی کام نہ آئیں اور وہ کچھ بھی نہ کر سکے۔ کیونکہ وہ اللہ کے خلاف جنگ کرتے ہیں ۔ ﴿ فَلِلّٰهِ الۡمَؔكۡرُ جَمِيۡعًا﴾ ’’پس اللہ کے ہاتھ میں ہے سب تدبیر‘‘ یعنی کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی چال چلنے پر قادر نہیں اور یہ چال اللہ تعالیٰ کی قضاوقدر کے تحت آتی ہے۔ چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف سازشیں کرتے ہیں لہذا ان کی سازش اور چال ناکامی اور ندامت کا داغ لے کر انھی کی طرف لوٹے گی۔ ﴿ يَعۡلَمُ مَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٍ﴾ ’’وہ جانتا ہے جو کماتا ہے ہر نفس‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر جان کے بارے میں خوب جانتا ہے کہ اس نے کیا کمائی کی، یعنی اللہ تعالیٰ ہر ایک نفس کے عزم و ارادے اور ظاہری اور باطنی اعمال کو خوب جانتا ہے۔ مکر اور سازش بھی لازمی طور پر انسان کے اکتساب میں شمار ہوتے ہیں ، پس ان کا مکر اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں ۔ اس لیے یہ ممتنع ہے کہ ان کی چال حق اور اہل حق کو نقصان پہنچا کر ان کو کوئی فائدہ دے۔ فرمایا:﴿ وَسَيَعۡلَمُ الۡكُفّٰرُ لِمَنۡ عُقۡبَى الدَّارِ ﴾ ’’اور عنقریب جان لیں گے کافر کہ کس کے لیے ہے گھر عاقبت کا‘‘ یعنی اچھا انجام کفار کے لیے ہے یا اللہ کے رسولوں کے لیے؟ اور یہ حقیقت معلوم ہے کہ اہل تقویٰ کی عاقبت اچھی ہے۔ کفر اور اہل کفر کی عاقبت اچھی نہیں ہے۔
[43]﴿ وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَسۡتَ مُرۡسَلًا﴾ ’’اور کافر کہتے ہیں کہ آپ بھیجے ہوئے نہیں ہیں ‘‘ یعنی کفار آپﷺ کی اور اس حق کی تکذیب کرتے ہیں جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے ﴿ قُلۡ﴾ اگر وہ آپ سے گواہ طلب کریں تو ان سے کہہ دیجیے ﴿ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًۢا بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكُمۡ﴾’’اللہ میرے اور تمھارے درمیان گواہ کافی ہے‘‘ اور اس کی گواہی اس کے قول و فعل اور اقرار کے ذریعے سے ہوتی ہے۔قول کے ذریعے سے اس کی شہادت یہ ہے کہ اس نے یہ قرآن مخلوق میں سب سے سچی ہستی پر نازل فرمایا جو آپﷺ کی رسالت کو ثابت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اپنی تائید سے نوازا اور آپ کو ایسی فتح و نصرت عطا کی جو آپ کی، آپ کے اصحاب اور آپ کے متبعین کی قدرت اختیار سے باہر تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فعل و تائید کے ذریعے سے شہادت ہے۔ اقرار کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی شہادت یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے لوگوں کو خبر دی کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور اس نے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ وہ آپ کی اطاعت کریں ۔ پس جو کوئی آپ کی اطاعت کرتا ہے اس کے لیے اللہ کی رضامندی اور اس کی کرامت ہے اور جو کوئی آپ کی اطاعت نہیں کرتا تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور جہنم ہے اور اس کا خون اور مال حلال ہے اور اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دعوے پر برقرار رکھتا ہے۔ اگر رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ پر کوئی جھوٹ باندھا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں آپ کو عذاب دے دیتا۔﴿ وَمَنۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اور جس کو خبر ہے کتاب کی‘‘ یہ آیت کریمہ اہل کتاب کے تمام علماء کو شامل ہے۔ کیونکہ ان میں سے جو کوئی ایمان لا کر حق کی اتباع کرتا ہے وہ رسول اللہﷺ کی گواہی دیتا ہے اور نہایت صراحت سے آپ کے حق میں شہادت دیتا ہے اور ان میں سے جو کوئی گواہی کو چھپاتا ہے تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی خبر کہ اس کے پاس شہادت ہے، اس کی خبر سے زیادہ بلیغ ہے۔ اگر اس کے پاس شہادت نہ ہوتی تو دلیل کے ساتھ اپنے طلب شہادت کو رد کر دیتا۔ پس اس کا سکوت دلالت کرتا ہے کہ اس کے پاس رسول کے حق میں شہادت موجود ہے جو اس نے چھپا رکھی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل کتاب سے گواہی لینے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ وہ گواہی دینے کی اہلیت رکھتے ہیں ہر معاملے میں صرف اسی شخص سے گواہی لی جانی چاہیے جو اس کا اہل ہو اور دوسروں کی نسبت اس بارے میں زیادہ علم رکھتا ہو۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو اس معاملے میں بالکل اجنبی ہوں ، مثلاً:ان پڑھ مشرکین عرب وغیرہ تو ان سے شہادت طلب کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ انھیں اس معاملے کی کوئی خبر ہے نہ انھیں اس کی معرفت ہی حاصل ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔