al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 11 · 123 verses
11:1الٓرۚ كِتَٰبٌ أُحۡكِمَتۡ ءَايَٰتُهُۥ ثُمَّ فُصِّلَتۡ مِن لَّدُنۡ حَكِيمٍ خَبِيرٍ
الٓرٰ، (یہ) کتاب ہے، محکم کی گئی ہیں آیتیں اس کی، پھر تفصیل سے بیان کی گئی ہیں بڑے حکمت والے خبر دار کی طرف سے (1)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بے شک میں تمھارے لیے اسی کی طرف سے ڈرانے والا اورخوشخبری دینے والا ہوں (2)اور یہ کہ مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے، پھر توبہ کروتم اسی کی طرف، وہ فائدہ دے گا تمھیں فائدہ بہت اچھا ایک وقت مقرر تک اور وہ دے گا ہر فضل والے کو (بدلہ) اس کے فضل کااور اگر منہ پھیرو گے تم تو بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (3) اللہ ہی کی طرف واپسی ہے تمھاری اور وہ اوپر ہرچیز کے خوب قادر ہے (4)
[1]﴿ كِتٰبٌ ﴾ یہ عظیم کتاب اور بہترین فضل و عنایت ہے۔ ﴿اُحۡكِمَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں مستحکم ہیں ۔‘‘ یعنی اس کی آیات کو بہت اچھے اور محکم طریقے سے بیان کیا گیا ہے، اس کی خبریں سچی، اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی، اس کے الفاظ نہایت فصیح اور اس کے معانی بہت خوبصورت ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ فُصِّلَتۡ ﴾ ’’پھر ان کی تفصیل بیان کردی گئی۔‘‘ یعنی ان کو علیحدہ علیحدہ اور معانی و بیان کی بہترین انواع کے ذریعے سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ ﴿ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ﴾ ’’حکمت والے کی طرف سے‘‘ وہ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق جگہ پر ان کو نازل کرتا ہے۔ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے اور اسی چیز سے روکتا ہے جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے ﴿ خَبِيۡرٍ ﴾ وہ تمام ظاہر و باطن کی خبر رکھتا ہے۔جب اس کتاب کا محکم کرنا اور اس کی تفصیل حکمت والی اور خبردار ہستی کی طرف سے ہے تب اس ہستی کی عظمت و جلال، حکمت و کمال اور بے کراں رحمت کے بارے میں مت پوچھ۔
[2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم کتاب کو محض اس مقصد کے لیے نازل فرمایا ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ عبادت صرف اللہ کی کرو‘‘ یعنی دین کو تمام تر اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنے کے لیے نازل فرمایا نیز یہ کہ اس کے ساتھ اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جائے۔ ﴿ اِنَّنِيۡ لَكُمۡ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے لیے‘‘ ﴿ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اس کی طرف سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ نَذِيۡرٌ ﴾ ’’ڈر سنانے والا۔‘‘ یعنی اس شخص کو دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتا ہے۔ ﴿بَشِيۡرٌ ﴾ ’’خوشخبری دینے والا۔‘‘ یعنی اطاعت گزار بندوں کو دنیا و آخرت کے ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں۔
[3]﴿ وَّاَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی ان گناہوں کی بخشش مانگو جو تم سے صادر ہوئے ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کی طرف توبہ کرو۔‘‘ یعنی اپنی عمر میں جن گناہوں سے سابقہ پڑتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے ذریعے سے توبہ کرو اور جن امور کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، انھیں چھوڑ کر ان امور کی طرف لوٹو جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو توبہ واستغفار پر مترتب ہوتے ہیں ۔ فرمایا:﴿يُمَتِّعۡكُمۡ مَّؔتَاعًا حَسَنًا ﴾ ’’وہ تمھیں متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا۔‘‘ یعنی وہ تمھیں رزق عطا کرے گا جس سے تم استفادہ کرو گے اور منتفع ہو گے۔ ﴿اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’ایک وقت مقرر تک‘‘ یعنی تمھاری وفات تک ﴿ وَّيُؤۡتِ كُلَّ ذِيۡ فَضۡلٍ فَضۡلَهٗ ﴾ ’’اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی دے گا۔‘‘ یعنی وہ تم میں سے اہل احسان کو اپنے فضل و کرم سے نوازے گا جو چیز انھیں پسند ہے وہ حاصل ہوگی جو ناپسند ہے وہ ان سے ہٹا دی جائے گی۔ یہ ان کی نیکی کی جزا ہے۔ ﴿وَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’اگر تم نے روگردانی کی۔‘‘ یعنی اگر تم نے اس دعوت سے روگردانی کی جو میں نے تمھیں پیش کی ہے بلکہ تم نے اعراض کیا ہے اور بسا اوقات دعوت کو جھٹلایا ہے ﴿ فَاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ كَبِيۡرٍ ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے‘‘ اور وہ ہے روز قیامت، جس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اکٹھا کرے گا۔
[4]﴿ اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’تمھیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے‘‘ تاکہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے اگر اعمال نیک ہوں گے تو جزا اچھی ہوگی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو بدلہ بھی برا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور مردوں کو زندہ کرنا بھی ’’ہر چیز‘‘ کے زمرے میں شامل ہے اور اس کی خبر سب سے سچی ہستی نے دی ہے۔ پس اس خبر کا وقوع عقلاً اور نقلاً واجب ہے۔
11:2أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّا ٱللَّهَۚ إِنَّنِي لَكُم مِّنۡهُ نَذِيرٞ وَبَشِيرٞ
الٓرٰ، (یہ) کتاب ہے، محکم کی گئی ہیں آیتیں اس کی، پھر تفصیل سے بیان کی گئی ہیں بڑے حکمت والے خبر دار کی طرف سے (1)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بے شک میں تمھارے لیے اسی کی طرف سے ڈرانے والا اورخوشخبری دینے والا ہوں (2)اور یہ کہ مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے، پھر توبہ کروتم اسی کی طرف، وہ فائدہ دے گا تمھیں فائدہ بہت اچھا ایک وقت مقرر تک اور وہ دے گا ہر فضل والے کو (بدلہ) اس کے فضل کااور اگر منہ پھیرو گے تم تو بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (3) اللہ ہی کی طرف واپسی ہے تمھاری اور وہ اوپر ہرچیز کے خوب قادر ہے (4)
[1]﴿ كِتٰبٌ ﴾ یہ عظیم کتاب اور بہترین فضل و عنایت ہے۔ ﴿اُحۡكِمَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں مستحکم ہیں ۔‘‘ یعنی اس کی آیات کو بہت اچھے اور محکم طریقے سے بیان کیا گیا ہے، اس کی خبریں سچی، اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی، اس کے الفاظ نہایت فصیح اور اس کے معانی بہت خوبصورت ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ فُصِّلَتۡ ﴾ ’’پھر ان کی تفصیل بیان کردی گئی۔‘‘ یعنی ان کو علیحدہ علیحدہ اور معانی و بیان کی بہترین انواع کے ذریعے سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ ﴿ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ﴾ ’’حکمت والے کی طرف سے‘‘ وہ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق جگہ پر ان کو نازل کرتا ہے۔ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے اور اسی چیز سے روکتا ہے جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے ﴿ خَبِيۡرٍ ﴾ وہ تمام ظاہر و باطن کی خبر رکھتا ہے۔جب اس کتاب کا محکم کرنا اور اس کی تفصیل حکمت والی اور خبردار ہستی کی طرف سے ہے تب اس ہستی کی عظمت و جلال، حکمت و کمال اور بے کراں رحمت کے بارے میں مت پوچھ۔
[2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم کتاب کو محض اس مقصد کے لیے نازل فرمایا ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ عبادت صرف اللہ کی کرو‘‘ یعنی دین کو تمام تر اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنے کے لیے نازل فرمایا نیز یہ کہ اس کے ساتھ اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جائے۔ ﴿ اِنَّنِيۡ لَكُمۡ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے لیے‘‘ ﴿ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اس کی طرف سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ نَذِيۡرٌ ﴾ ’’ڈر سنانے والا۔‘‘ یعنی اس شخص کو دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتا ہے۔ ﴿بَشِيۡرٌ ﴾ ’’خوشخبری دینے والا۔‘‘ یعنی اطاعت گزار بندوں کو دنیا و آخرت کے ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں۔
[3]﴿ وَّاَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی ان گناہوں کی بخشش مانگو جو تم سے صادر ہوئے ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کی طرف توبہ کرو۔‘‘ یعنی اپنی عمر میں جن گناہوں سے سابقہ پڑتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے ذریعے سے توبہ کرو اور جن امور کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، انھیں چھوڑ کر ان امور کی طرف لوٹو جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو توبہ واستغفار پر مترتب ہوتے ہیں ۔ فرمایا:﴿يُمَتِّعۡكُمۡ مَّؔتَاعًا حَسَنًا ﴾ ’’وہ تمھیں متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا۔‘‘ یعنی وہ تمھیں رزق عطا کرے گا جس سے تم استفادہ کرو گے اور منتفع ہو گے۔ ﴿اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’ایک وقت مقرر تک‘‘ یعنی تمھاری وفات تک ﴿ وَّيُؤۡتِ كُلَّ ذِيۡ فَضۡلٍ فَضۡلَهٗ ﴾ ’’اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی دے گا۔‘‘ یعنی وہ تم میں سے اہل احسان کو اپنے فضل و کرم سے نوازے گا جو چیز انھیں پسند ہے وہ حاصل ہوگی جو ناپسند ہے وہ ان سے ہٹا دی جائے گی۔ یہ ان کی نیکی کی جزا ہے۔ ﴿وَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’اگر تم نے روگردانی کی۔‘‘ یعنی اگر تم نے اس دعوت سے روگردانی کی جو میں نے تمھیں پیش کی ہے بلکہ تم نے اعراض کیا ہے اور بسا اوقات دعوت کو جھٹلایا ہے ﴿ فَاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ كَبِيۡرٍ ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے‘‘ اور وہ ہے روز قیامت، جس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اکٹھا کرے گا۔
[4]﴿ اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’تمھیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے‘‘ تاکہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے اگر اعمال نیک ہوں گے تو جزا اچھی ہوگی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو بدلہ بھی برا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور مردوں کو زندہ کرنا بھی ’’ہر چیز‘‘ کے زمرے میں شامل ہے اور اس کی خبر سب سے سچی ہستی نے دی ہے۔ پس اس خبر کا وقوع عقلاً اور نقلاً واجب ہے۔
11:3وَأَنِ ٱسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوبُوٓاْ إِلَيۡهِ يُمَتِّعۡكُم مَّتَٰعًا حَسَنًا إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى وَيُؤۡتِ كُلَّ ذِي فَضۡلٖ فَضۡلَهُۥۖ وَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٖ كَبِيرٍ
الٓرٰ، (یہ) کتاب ہے، محکم کی گئی ہیں آیتیں اس کی، پھر تفصیل سے بیان کی گئی ہیں بڑے حکمت والے خبر دار کی طرف سے (1)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بے شک میں تمھارے لیے اسی کی طرف سے ڈرانے والا اورخوشخبری دینے والا ہوں (2)اور یہ کہ مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے، پھر توبہ کروتم اسی کی طرف، وہ فائدہ دے گا تمھیں فائدہ بہت اچھا ایک وقت مقرر تک اور وہ دے گا ہر فضل والے کو (بدلہ) اس کے فضل کااور اگر منہ پھیرو گے تم تو بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (3) اللہ ہی کی طرف واپسی ہے تمھاری اور وہ اوپر ہرچیز کے خوب قادر ہے (4)
[1]﴿ كِتٰبٌ ﴾ یہ عظیم کتاب اور بہترین فضل و عنایت ہے۔ ﴿اُحۡكِمَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں مستحکم ہیں ۔‘‘ یعنی اس کی آیات کو بہت اچھے اور محکم طریقے سے بیان کیا گیا ہے، اس کی خبریں سچی، اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی، اس کے الفاظ نہایت فصیح اور اس کے معانی بہت خوبصورت ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ فُصِّلَتۡ ﴾ ’’پھر ان کی تفصیل بیان کردی گئی۔‘‘ یعنی ان کو علیحدہ علیحدہ اور معانی و بیان کی بہترین انواع کے ذریعے سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ ﴿ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ﴾ ’’حکمت والے کی طرف سے‘‘ وہ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق جگہ پر ان کو نازل کرتا ہے۔ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے اور اسی چیز سے روکتا ہے جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے ﴿ خَبِيۡرٍ ﴾ وہ تمام ظاہر و باطن کی خبر رکھتا ہے۔جب اس کتاب کا محکم کرنا اور اس کی تفصیل حکمت والی اور خبردار ہستی کی طرف سے ہے تب اس ہستی کی عظمت و جلال، حکمت و کمال اور بے کراں رحمت کے بارے میں مت پوچھ۔
[2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم کتاب کو محض اس مقصد کے لیے نازل فرمایا ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ عبادت صرف اللہ کی کرو‘‘ یعنی دین کو تمام تر اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنے کے لیے نازل فرمایا نیز یہ کہ اس کے ساتھ اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جائے۔ ﴿ اِنَّنِيۡ لَكُمۡ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے لیے‘‘ ﴿ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اس کی طرف سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ نَذِيۡرٌ ﴾ ’’ڈر سنانے والا۔‘‘ یعنی اس شخص کو دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتا ہے۔ ﴿بَشِيۡرٌ ﴾ ’’خوشخبری دینے والا۔‘‘ یعنی اطاعت گزار بندوں کو دنیا و آخرت کے ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں۔
[3]﴿ وَّاَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی ان گناہوں کی بخشش مانگو جو تم سے صادر ہوئے ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کی طرف توبہ کرو۔‘‘ یعنی اپنی عمر میں جن گناہوں سے سابقہ پڑتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے ذریعے سے توبہ کرو اور جن امور کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، انھیں چھوڑ کر ان امور کی طرف لوٹو جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو توبہ واستغفار پر مترتب ہوتے ہیں ۔ فرمایا:﴿يُمَتِّعۡكُمۡ مَّؔتَاعًا حَسَنًا ﴾ ’’وہ تمھیں متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا۔‘‘ یعنی وہ تمھیں رزق عطا کرے گا جس سے تم استفادہ کرو گے اور منتفع ہو گے۔ ﴿اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’ایک وقت مقرر تک‘‘ یعنی تمھاری وفات تک ﴿ وَّيُؤۡتِ كُلَّ ذِيۡ فَضۡلٍ فَضۡلَهٗ ﴾ ’’اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی دے گا۔‘‘ یعنی وہ تم میں سے اہل احسان کو اپنے فضل و کرم سے نوازے گا جو چیز انھیں پسند ہے وہ حاصل ہوگی جو ناپسند ہے وہ ان سے ہٹا دی جائے گی۔ یہ ان کی نیکی کی جزا ہے۔ ﴿وَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’اگر تم نے روگردانی کی۔‘‘ یعنی اگر تم نے اس دعوت سے روگردانی کی جو میں نے تمھیں پیش کی ہے بلکہ تم نے اعراض کیا ہے اور بسا اوقات دعوت کو جھٹلایا ہے ﴿ فَاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ كَبِيۡرٍ ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے‘‘ اور وہ ہے روز قیامت، جس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اکٹھا کرے گا۔
[4]﴿ اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’تمھیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے‘‘ تاکہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے اگر اعمال نیک ہوں گے تو جزا اچھی ہوگی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو بدلہ بھی برا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور مردوں کو زندہ کرنا بھی ’’ہر چیز‘‘ کے زمرے میں شامل ہے اور اس کی خبر سب سے سچی ہستی نے دی ہے۔ پس اس خبر کا وقوع عقلاً اور نقلاً واجب ہے۔
11:4إِلَى ٱللَّهِ مَرۡجِعُكُمۡۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ
الٓرٰ، (یہ) کتاب ہے، محکم کی گئی ہیں آیتیں اس کی، پھر تفصیل سے بیان کی گئی ہیں بڑے حکمت والے خبر دار کی طرف سے (1)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بے شک میں تمھارے لیے اسی کی طرف سے ڈرانے والا اورخوشخبری دینے والا ہوں (2)اور یہ کہ مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے، پھر توبہ کروتم اسی کی طرف، وہ فائدہ دے گا تمھیں فائدہ بہت اچھا ایک وقت مقرر تک اور وہ دے گا ہر فضل والے کو (بدلہ) اس کے فضل کااور اگر منہ پھیرو گے تم تو بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (3) اللہ ہی کی طرف واپسی ہے تمھاری اور وہ اوپر ہرچیز کے خوب قادر ہے (4)
[1]﴿ كِتٰبٌ ﴾ یہ عظیم کتاب اور بہترین فضل و عنایت ہے۔ ﴿اُحۡكِمَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں مستحکم ہیں ۔‘‘ یعنی اس کی آیات کو بہت اچھے اور محکم طریقے سے بیان کیا گیا ہے، اس کی خبریں سچی، اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی، اس کے الفاظ نہایت فصیح اور اس کے معانی بہت خوبصورت ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ فُصِّلَتۡ ﴾ ’’پھر ان کی تفصیل بیان کردی گئی۔‘‘ یعنی ان کو علیحدہ علیحدہ اور معانی و بیان کی بہترین انواع کے ذریعے سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ ﴿ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ﴾ ’’حکمت والے کی طرف سے‘‘ وہ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق جگہ پر ان کو نازل کرتا ہے۔ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے اور اسی چیز سے روکتا ہے جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے ﴿ خَبِيۡرٍ ﴾ وہ تمام ظاہر و باطن کی خبر رکھتا ہے۔جب اس کتاب کا محکم کرنا اور اس کی تفصیل حکمت والی اور خبردار ہستی کی طرف سے ہے تب اس ہستی کی عظمت و جلال، حکمت و کمال اور بے کراں رحمت کے بارے میں مت پوچھ۔
[2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم کتاب کو محض اس مقصد کے لیے نازل فرمایا ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ عبادت صرف اللہ کی کرو‘‘ یعنی دین کو تمام تر اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنے کے لیے نازل فرمایا نیز یہ کہ اس کے ساتھ اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جائے۔ ﴿ اِنَّنِيۡ لَكُمۡ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے لیے‘‘ ﴿ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اس کی طرف سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ نَذِيۡرٌ ﴾ ’’ڈر سنانے والا۔‘‘ یعنی اس شخص کو دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتا ہے۔ ﴿بَشِيۡرٌ ﴾ ’’خوشخبری دینے والا۔‘‘ یعنی اطاعت گزار بندوں کو دنیا و آخرت کے ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں۔
[3]﴿ وَّاَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی ان گناہوں کی بخشش مانگو جو تم سے صادر ہوئے ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کی طرف توبہ کرو۔‘‘ یعنی اپنی عمر میں جن گناہوں سے سابقہ پڑتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے ذریعے سے توبہ کرو اور جن امور کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، انھیں چھوڑ کر ان امور کی طرف لوٹو جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو توبہ واستغفار پر مترتب ہوتے ہیں ۔ فرمایا:﴿يُمَتِّعۡكُمۡ مَّؔتَاعًا حَسَنًا ﴾ ’’وہ تمھیں متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا۔‘‘ یعنی وہ تمھیں رزق عطا کرے گا جس سے تم استفادہ کرو گے اور منتفع ہو گے۔ ﴿اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’ایک وقت مقرر تک‘‘ یعنی تمھاری وفات تک ﴿ وَّيُؤۡتِ كُلَّ ذِيۡ فَضۡلٍ فَضۡلَهٗ ﴾ ’’اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی دے گا۔‘‘ یعنی وہ تم میں سے اہل احسان کو اپنے فضل و کرم سے نوازے گا جو چیز انھیں پسند ہے وہ حاصل ہوگی جو ناپسند ہے وہ ان سے ہٹا دی جائے گی۔ یہ ان کی نیکی کی جزا ہے۔ ﴿وَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’اگر تم نے روگردانی کی۔‘‘ یعنی اگر تم نے اس دعوت سے روگردانی کی جو میں نے تمھیں پیش کی ہے بلکہ تم نے اعراض کیا ہے اور بسا اوقات دعوت کو جھٹلایا ہے ﴿ فَاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ كَبِيۡرٍ ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے‘‘ اور وہ ہے روز قیامت، جس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اکٹھا کرے گا۔
[4]﴿ اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’تمھیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے‘‘ تاکہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے اگر اعمال نیک ہوں گے تو جزا اچھی ہوگی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو بدلہ بھی برا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور مردوں کو زندہ کرنا بھی ’’ہر چیز‘‘ کے زمرے میں شامل ہے اور اس کی خبر سب سے سچی ہستی نے دی ہے۔ پس اس خبر کا وقوع عقلاً اور نقلاً واجب ہے۔
11:5أَلَآ إِنَّهُمۡ يَثۡنُونَ صُدُورَهُمۡ لِيَسۡتَخۡفُواْ مِنۡهُۚ أَلَا حِينَ يَسۡتَغۡشُونَ ثِيَابَهُمۡ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
آگاہ رہو! بے شک وہ دہرے کرتے ہیں سینے اپنے تاکہ وہ چھپ جائیں اللہ سے، آگاہ رہو! جس وقت اوڑھتے ہیں وہ کپڑے اپنے، جانتا ہے اللہ جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں ، بلاشبہ اللہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے (5)
[5] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت اور ان کی گمراہی کی شدت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے: ﴿ يَثۡنُوۡنَ صُدُوۡرَهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں‘‘ ﴿ لِيَسۡتَخۡفُوۡا مِنۡهُ﴾ ’’تاکہ اس (اللہ) سے پردہ کریں ۔‘‘ یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ سے چھپائیں ۔ پس ان کے سینے اللہ کے علم کے لیے رکاوٹ بن جائیں تاکہ وہ ان کے احوال کو جان نہ سکے اور اس کی نگاہ کے لیے بھی تاکہ وہ ان کے حالات کو دیکھ نہ سکے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس ظن باطل کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ اَلَا حِيۡنَ يَسۡتَغۡشُوۡنَ ثِيَابَهُمۡ ﴾ ’’سن لو جس وقت اوڑھتے ہیں وہ اپنے کپڑے۔‘‘ یعنی جب وہ اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانک لیتے ہیں اللہ تعالیٰ اس حال میں بھی ان کو خوب جانتا ہے جو کہ مخفی ترین حال ہے بلکہ ﴿ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّوۡنَ ﴾ ’’وہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں ‘‘ یعنی وہ جو اقوال و افعال چھپاتے ہیں ﴿وَمَا يُعۡلِنُوۡنَ﴾ ’’اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں ‘‘ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ ﴿ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ ’’دلوں کی باتوں کو جانتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ان ارادوں ، وسوسوں اور سوچوں کو بھی جانتا ہے جن کو یہ سراً یا جہراً نطق زبان سے بھی ظاہر نہیں کرتے... تب تم اپنے حال کو اپنے سینے کو موڑ کر اس سے کیسے چھپا سکتے ہو؟اس آیت کریمہ میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہﷺ کو جھٹلانے والوں اور آپ کی دعوت سے غافل لوگوں کے اعراض کا ذکر کرتا ہے، یعنی جب وہ رسول اللہﷺ کو دیکھتے ہیں تو شدت اعراض کی وجہ سے اپنے سینوں کو موڑ لیتے ہیں تاکہ آپ ان کو دیکھ سکیں نہ ان کو اپنی دعوت سنا سکیں اور نہ ان کو ان باتوں کی نصیحت کر سکیں جو ان کے لیے مفید ہیں ۔ کیا اس اعراض سے بھی بڑھ کر اعراض کی کوئی صورت ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ انھیں وعید سناتا ہے کہ وہ ان کے تمام احوال کو جانتا ہے اور وہ اس سے مخفی نہیں ہیں اور وہ عنقریب ان کو ان کے کرتوتوں کی سزا دے گا۔
11:6۞وَمَا مِن دَآبَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ رِزۡقُهَا وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَاۚ كُلّٞ فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٖ
اور نہیں کوئی چلنے والا (جاندار) زمین میں مگر اوپر اللہ ہی کے ہے رزق اس کااور وہ جانتا ہے قرار گاہ اس کی اور جائے امانت اس کی، ہرچیز کتاب واضح میں (تحریر) ہے (6)
[6] روئے زمین پر چلنے والا ہر جاندار، خواہ انسان ہو یا حیوان، خشکی کا جانور ہو یا پانی کا جانور، ان کی خوراک اور رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ ﴿وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَا﴾ ’’اور وہ جہاں رہتا ہے اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔‘‘ یعنی وہ تمام جانداروں کے ٹھکانوں کو جانتا ہے (مُسْتَقَر) سے مراد وہ جگہ ہے جہاں جانور رہتے ہیں ، جسے ٹھکانا بناتے ہیں اور جہاں پناہ لیتے ہیں اور (مُسْتَوْدَع) سے مراد وہ جگہ ہے جہاں ، اپنی آمدورفت اور مختلف احوال میں منتقل ہوتے ہیں ۔ ﴿ كُلٌّ ﴾ ’’یہ سب کچھ‘‘ ان کے احوال کی تمام تفاصیل ﴿ فِيۡؔ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’واضح کتاب میں ہے۔‘‘ یعنی ہر چیز لوح محفوظ میں مرقوم ہے، جو ان تمام حوادث و واقعات پر مشتمل ہے جو اس کائنات میں وقوع پذیر ہوتے ہیں ۔ تمام حوادث کا اللہ تعالیٰ کے علم نے احاطہ کر رکھا ہے۔ اس نے ہر چیز کی تقدیر لکھ دی ہے ہر چیز پر اس کی مشیت نافذ ہے اور ہر ایک کے لیے اس کا رزق وسیع ہے۔ دل، اس ہستی کی کفایت پر مطمئن ہو جانے چاہئیں ، جو ان کے رزق کی کفالت کرتی ہے اور جس کے علم نے مخلوق کی ذات و صفات کا احاطہ کر رکھا ہے۔
11:7وَهُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ وَكَانَ عَرۡشُهُۥ عَلَى ٱلۡمَآءِ لِيَبۡلُوَكُمۡ أَيُّكُمۡ أَحۡسَنُ عَمَلٗاۗ وَلَئِن قُلۡتَ إِنَّكُم مَّبۡعُوثُونَ مِنۢ بَعۡدِ ٱلۡمَوۡتِ لَيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّبِينٞ
اور (اللہ) وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں اور تھا عرش اس کا اوپر پانی کےتاکہ وہ آزمائے تمھیں کہ کون سا تمھارا اچھا ہے عمل (کرنے) میں ؟ اور البتہ اگر کہیں آپ کہ بے شک تم اٹھائے جاؤ گے بعد مرنے کے تو البتہ ضرور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہے یہ مگر جادو ظاہر (7) اور البتہ اگر مؤخر کر دیں ہم ان (پر) سے عذاب ایک مدت گنی ہوئی تک تو البتہ ضرور کہیں گے وہ (کافر) کہ کون سی چیز روک رہی ہے اس کو؟ آگاہ رہو! جس دن آئے گا (عذاب) ان کے پاس تو نہیں پھیرا جائے گا وہ ان سےاور گھیر لے گا انھیں وہ (عذاب) کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (8)
[7] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اسی نے ﴿ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں ‘‘ پہلا دن اتوار اور چھٹا دن جمعہ تھا اور جس وقت اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ﴿ وَّكَانَ عَرۡشُهٗ عَلَى الۡمَآءِ ﴾ ’’اس کا عرش پانی پر تھا‘‘ ساتویں آسمان کے اوپر۔ پس آسمانوں اور زمین کو تخلیق کرنے کے بعد اپنے عرش پر مستوی ہوا، وہ تمام امور کی تدبیر کرتا ہے اور احکام قدریہ اور احکام شرعیہ میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ لِيَبۡلُوَؔكُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا﴾ ’’تاکہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے۔‘‘ تاکہ وہ اپنے اوامر و نواہی کے ذریعے سے تمھارا امتحان لے اور دیکھے کہ تم میں سے کون اچھے کام کرتا ہے۔فضیل بن عیاضa نے فرمایا: ’’سب سے اچھا عمل وہ ہے جو سب سے خالص اور سب سے زیادہ صحیح ہو۔‘‘ ان سے پوچھا گیا ’’سب سے خالص اور سب سے زیادہ صحیح سے کیا مراد ہے؟‘‘ فرمایا: ’’اگر عمل خالص ہو مگر صحیح نہ ہو تو قبول نہیں ہوتا اور اگر عمل صحیح ہو مگر خالص نہ ہو تب بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حضور قابل قبول نہیں ۔ صرف وہی عمل قابل قبول ہوتا ہے جو خالص بھی ہو اور صحیح بھی ہو۔‘‘ خالص عمل وہ ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو اور صحیح عمل وہ ہے جس میں شریعت اور سنت کی پیروی کی گئی ہو اور یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ ﴾(الذاریات: 51؍56) ’’میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں ۔‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ١ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ١ۙ۬ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدۡ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عِلۡمًا﴾(الطلاق: 65؍12) ’’اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور ان کی مانند سات زمینیں اور ان کے درمیان اللہ تعالیٰ کا حکم اترتا رہتا ہے تاکہ تم لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے علم کے ذریعے سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام مخلوق کو اپنی عبادت اور اپنے اسماء و صفات کی معرفت کے لیے پیدا کیا ہے اور اسی چیز کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور اس ذمہ داری کو ادا کر دیا جس کا اسے حکم دیا گیا تھا وہ فلاح پانے والوں میں سے ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اعراض کیا تو یہی گھاٹے میں پڑنے والے لوگ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ضرور ان کو ایک جگہ جمع کرے گا اور پھر ان کو اپنے اوامر و نواہی کی بنیاد پر جزا دے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کے بارے میں مشرکین کی تکذیب کا ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَىِٕنۡ قُلۡتَ اِنَّـكُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِ الۡمَوۡتِ لَيَقُوۡلَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور اگر آپ کہیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔‘‘ یعنی اگر آپ ان سے کہیں اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں ان کو آگاہ کریں تو یہ آپ کی تصدیق نہیں کریں گے بلکہ وہ نہایت شدت سے آپ کی تکذیب کریں گے اور آپ کی دعوت میں عیب چینی کریں گے اور کہیں گے ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلے جادو کے علاوہ کچھ نہیں ‘‘ مگر آگاہ رہو کہ یہ واضح حق ہے۔
[8]﴿ وَلَىِٕنۡ اَخَّرۡنَا عَنۡهُمُ الۡعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّؔةٍ مَّعۡدُوۡدَةٍ ﴾ ’’اگر ہم روکے رکھیں ان سے عذاب ایک معلوم مدت تک‘‘ یعنی ایک وقت مقررہ تک، جس کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دن بہت دیر سے آئے گا۔ تب وہ ظلم و جہالت کی بنا پر کہتے ہیں :﴿مَا يَحۡبِسُهٗ﴾ ’’کون سی چیز اس (عذاب) کو روکے ہوئے ہے؟‘‘ اس آیت کا مضمون ان کا رسول کو جھٹلانا ہے۔ وہ ان پر عذاب کے فوری طورپر نہ آنے کو رسول (ﷺ ) کے جھوٹا ہونے پر دلیل بناتے ہیں جنھوں نے ان کو عذاب واقع ہونے کی وعید سنائی ہے۔ پس یہ کتنا بعید استدلال ہے! ﴿ اَلَا يَوۡمَ يَاۡتِيۡهِمۡ لَيۡسَ مَصۡرُوۡفًا عَنۡهُمۡ ﴾ ’’دیکھو جس روز عذاب ان پر نازل ہوگا تو پھر ٹلے گا نہیں ‘‘ کہ وہ اپنے معاملے میں غور کر سکیں ﴿ وَحَاقَ بِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کو گھیر لے گا۔‘‘ یعنی نازل ہو کر ﴿ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’وہ (عذاب) جس کے ساتھ یہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ کیونکہ وہ اسے نہایت حقیر سمجھتے تھے حتیٰ کہ جو ان کو عذاب کی وعید سناتا تھا وہ قطعی طور پر اسے جھوٹا سمجھتے تھے۔
11:8وَلَئِنۡ أَخَّرۡنَا عَنۡهُمُ ٱلۡعَذَابَ إِلَىٰٓ أُمَّةٖ مَّعۡدُودَةٖ لَّيَقُولُنَّ مَا يَحۡبِسُهُۥٓۗ أَلَا يَوۡمَ يَأۡتِيهِمۡ لَيۡسَ مَصۡرُوفًا عَنۡهُمۡ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ
اور (اللہ) وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں اور تھا عرش اس کا اوپر پانی کےتاکہ وہ آزمائے تمھیں کہ کون سا تمھارا اچھا ہے عمل (کرنے) میں ؟ اور البتہ اگر کہیں آپ کہ بے شک تم اٹھائے جاؤ گے بعد مرنے کے تو البتہ ضرور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہے یہ مگر جادو ظاہر (7) اور البتہ اگر مؤخر کر دیں ہم ان (پر) سے عذاب ایک مدت گنی ہوئی تک تو البتہ ضرور کہیں گے وہ (کافر) کہ کون سی چیز روک رہی ہے اس کو؟ آگاہ رہو! جس دن آئے گا (عذاب) ان کے پاس تو نہیں پھیرا جائے گا وہ ان سےاور گھیر لے گا انھیں وہ (عذاب) کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (8)
[7] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اسی نے ﴿ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں ‘‘ پہلا دن اتوار اور چھٹا دن جمعہ تھا اور جس وقت اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ﴿ وَّكَانَ عَرۡشُهٗ عَلَى الۡمَآءِ ﴾ ’’اس کا عرش پانی پر تھا‘‘ ساتویں آسمان کے اوپر۔ پس آسمانوں اور زمین کو تخلیق کرنے کے بعد اپنے عرش پر مستوی ہوا، وہ تمام امور کی تدبیر کرتا ہے اور احکام قدریہ اور احکام شرعیہ میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ لِيَبۡلُوَؔكُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا﴾ ’’تاکہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے۔‘‘ تاکہ وہ اپنے اوامر و نواہی کے ذریعے سے تمھارا امتحان لے اور دیکھے کہ تم میں سے کون اچھے کام کرتا ہے۔فضیل بن عیاضa نے فرمایا: ’’سب سے اچھا عمل وہ ہے جو سب سے خالص اور سب سے زیادہ صحیح ہو۔‘‘ ان سے پوچھا گیا ’’سب سے خالص اور سب سے زیادہ صحیح سے کیا مراد ہے؟‘‘ فرمایا: ’’اگر عمل خالص ہو مگر صحیح نہ ہو تو قبول نہیں ہوتا اور اگر عمل صحیح ہو مگر خالص نہ ہو تب بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حضور قابل قبول نہیں ۔ صرف وہی عمل قابل قبول ہوتا ہے جو خالص بھی ہو اور صحیح بھی ہو۔‘‘ خالص عمل وہ ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو اور صحیح عمل وہ ہے جس میں شریعت اور سنت کی پیروی کی گئی ہو اور یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ ﴾(الذاریات: 51؍56) ’’میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں ۔‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ١ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ١ۙ۬ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدۡ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عِلۡمًا﴾(الطلاق: 65؍12) ’’اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور ان کی مانند سات زمینیں اور ان کے درمیان اللہ تعالیٰ کا حکم اترتا رہتا ہے تاکہ تم لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے علم کے ذریعے سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام مخلوق کو اپنی عبادت اور اپنے اسماء و صفات کی معرفت کے لیے پیدا کیا ہے اور اسی چیز کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور اس ذمہ داری کو ادا کر دیا جس کا اسے حکم دیا گیا تھا وہ فلاح پانے والوں میں سے ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اعراض کیا تو یہی گھاٹے میں پڑنے والے لوگ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ضرور ان کو ایک جگہ جمع کرے گا اور پھر ان کو اپنے اوامر و نواہی کی بنیاد پر جزا دے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کے بارے میں مشرکین کی تکذیب کا ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَىِٕنۡ قُلۡتَ اِنَّـكُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِ الۡمَوۡتِ لَيَقُوۡلَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور اگر آپ کہیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔‘‘ یعنی اگر آپ ان سے کہیں اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں ان کو آگاہ کریں تو یہ آپ کی تصدیق نہیں کریں گے بلکہ وہ نہایت شدت سے آپ کی تکذیب کریں گے اور آپ کی دعوت میں عیب چینی کریں گے اور کہیں گے ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلے جادو کے علاوہ کچھ نہیں ‘‘ مگر آگاہ رہو کہ یہ واضح حق ہے۔
[8]﴿ وَلَىِٕنۡ اَخَّرۡنَا عَنۡهُمُ الۡعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّؔةٍ مَّعۡدُوۡدَةٍ ﴾ ’’اگر ہم روکے رکھیں ان سے عذاب ایک معلوم مدت تک‘‘ یعنی ایک وقت مقررہ تک، جس کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دن بہت دیر سے آئے گا۔ تب وہ ظلم و جہالت کی بنا پر کہتے ہیں :﴿مَا يَحۡبِسُهٗ﴾ ’’کون سی چیز اس (عذاب) کو روکے ہوئے ہے؟‘‘ اس آیت کا مضمون ان کا رسول کو جھٹلانا ہے۔ وہ ان پر عذاب کے فوری طورپر نہ آنے کو رسول (ﷺ ) کے جھوٹا ہونے پر دلیل بناتے ہیں جنھوں نے ان کو عذاب واقع ہونے کی وعید سنائی ہے۔ پس یہ کتنا بعید استدلال ہے! ﴿ اَلَا يَوۡمَ يَاۡتِيۡهِمۡ لَيۡسَ مَصۡرُوۡفًا عَنۡهُمۡ ﴾ ’’دیکھو جس روز عذاب ان پر نازل ہوگا تو پھر ٹلے گا نہیں ‘‘ کہ وہ اپنے معاملے میں غور کر سکیں ﴿ وَحَاقَ بِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کو گھیر لے گا۔‘‘ یعنی نازل ہو کر ﴿ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’وہ (عذاب) جس کے ساتھ یہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ کیونکہ وہ اسے نہایت حقیر سمجھتے تھے حتیٰ کہ جو ان کو عذاب کی وعید سناتا تھا وہ قطعی طور پر اسے جھوٹا سمجھتے تھے۔
11:9وَلَئِنۡ أَذَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِنَّا رَحۡمَةٗ ثُمَّ نَزَعۡنَٰهَا مِنۡهُ إِنَّهُۥ لَيَـُٔوسٞ كَفُورٞ
اور البتہ اگر چکھائیں ہم انسان کو اپنی طرف سے رحمت، پھر چھین لیں ہم وہ (رحمت) اس سے تو بے شک (ہو جاتا ہے) وہ انتہائی ناامید، بہت ناشکرا (9) اور البتہ اگر چکھائیں ہم اسے راحت بعد اس تکلیف کے جو پہنچی اسے تو ضرور کہے گا چلی گئیں برائیاں (دکھ درد) مجھ سے، بلاشبہ وہ بہت اترانے والا، بڑا شیخی بگھارنے والا ہے (10) مگر وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا اور عمل کیے نیک، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے مغفرت ہے اور اجر بہت بڑا (11)
[10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ جاہل اور ظالم ہے بایں طور کہ جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے، مثلاً:اسے صحت، رزق اور اولاد وغیرہ سے نوازتا ہے، پھر وہ اس سے چھین لیتا ہے تو مایوسی اور ناامیدی کے سامنے جھک جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ثواب کی اسے ذرہ بھر امید نہیں رہتی اور اس کے دل میں یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ اللہ تعالیٰ یہ تمام چیزیں دوبارہ عطا کر سکتا ہے یا ان جیسی اور چیزوں سے یا ان سے بہتر چیزوں سے اسے نواز سکتا ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ اسے اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہے، اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور اتراتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ یہ بھلائی اس کے پاس ہمیشہ رہے گی اور کہتا ہے:﴿ ذَهَبَ السَّيِّاٰتُ عَنِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوۡرٌ ﴾ ’’دور ہو گئیں برائیاں مجھ سے، بے شک وہ تو اترانے والا، شیخی خورہ ہے‘‘ یعنی اسے جو کچھ اس کی خواہشات نفس کے موافق عطا کیا گیا اس پر خوش ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کے بندوں کے سامنے فخر اور تکبر کا اظہار کرتا ہے اور یہ چیز اسے غرور، خود پسندی، مخلوق الٰہی کے ساتھ تکبر کرنے، ان کے ساتھ حقارت سے پیش آنے اور انھیں کم تر سمجھنے پر آمادہ کرتی ہے اور اس سے بڑھ کر اور کون سا عیب ہو سکتا ہے؟
[11] یہ ہے انسان کی فطرت! سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ توفیق سے نواز دے اور اسے ان مذموم اخلاق سے نکال کر اخلاق حسنہ کی طرف لے جائے اور یہ وہ لوگ ہیں جو مصائب اور تکالیف کے وقت اپنے نفس کو صبر پر مجبور کرتے ہیں اور مایوس نہیں ہوتے اور خوشی کے وقت بھی صبر کرتے ہیں ۔ پس خوشی میں اتراتے نہیں ہیں اور نیکیوں میں واجبات و مستحبات پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ان کے لیے ان کے گناہوں کی مغفرت ہے، جس سے ہر خوف زائل ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَّاَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور بڑا اجر ہے‘‘ اور یہ نعمتوں سے بھرپور جنت کے حصول میں کامیابی ہے، جس میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی نفس چاہت کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔
11:10وَلَئِنۡ أَذَقۡنَٰهُ نَعۡمَآءَ بَعۡدَ ضَرَّآءَ مَسَّتۡهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ ٱلسَّيِّـَٔاتُ عَنِّيٓۚ إِنَّهُۥ لَفَرِحٞ فَخُورٌ
اور البتہ اگر چکھائیں ہم انسان کو اپنی طرف سے رحمت، پھر چھین لیں ہم وہ (رحمت) اس سے تو بے شک (ہو جاتا ہے) وہ انتہائی ناامید، بہت ناشکرا (9) اور البتہ اگر چکھائیں ہم اسے راحت بعد اس تکلیف کے جو پہنچی اسے تو ضرور کہے گا چلی گئیں برائیاں (دکھ درد) مجھ سے، بلاشبہ وہ بہت اترانے والا، بڑا شیخی بگھارنے والا ہے (10) مگر وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا اور عمل کیے نیک، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے مغفرت ہے اور اجر بہت بڑا (11)
[10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ جاہل اور ظالم ہے بایں طور کہ جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے، مثلاً:اسے صحت، رزق اور اولاد وغیرہ سے نوازتا ہے، پھر وہ اس سے چھین لیتا ہے تو مایوسی اور ناامیدی کے سامنے جھک جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ثواب کی اسے ذرہ بھر امید نہیں رہتی اور اس کے دل میں یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ اللہ تعالیٰ یہ تمام چیزیں دوبارہ عطا کر سکتا ہے یا ان جیسی اور چیزوں سے یا ان سے بہتر چیزوں سے اسے نواز سکتا ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ اسے اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہے، اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور اتراتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ یہ بھلائی اس کے پاس ہمیشہ رہے گی اور کہتا ہے:﴿ ذَهَبَ السَّيِّاٰتُ عَنِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوۡرٌ ﴾ ’’دور ہو گئیں برائیاں مجھ سے، بے شک وہ تو اترانے والا، شیخی خورہ ہے‘‘ یعنی اسے جو کچھ اس کی خواہشات نفس کے موافق عطا کیا گیا اس پر خوش ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کے بندوں کے سامنے فخر اور تکبر کا اظہار کرتا ہے اور یہ چیز اسے غرور، خود پسندی، مخلوق الٰہی کے ساتھ تکبر کرنے، ان کے ساتھ حقارت سے پیش آنے اور انھیں کم تر سمجھنے پر آمادہ کرتی ہے اور اس سے بڑھ کر اور کون سا عیب ہو سکتا ہے؟
[11] یہ ہے انسان کی فطرت! سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ توفیق سے نواز دے اور اسے ان مذموم اخلاق سے نکال کر اخلاق حسنہ کی طرف لے جائے اور یہ وہ لوگ ہیں جو مصائب اور تکالیف کے وقت اپنے نفس کو صبر پر مجبور کرتے ہیں اور مایوس نہیں ہوتے اور خوشی کے وقت بھی صبر کرتے ہیں ۔ پس خوشی میں اتراتے نہیں ہیں اور نیکیوں میں واجبات و مستحبات پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ان کے لیے ان کے گناہوں کی مغفرت ہے، جس سے ہر خوف زائل ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَّاَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور بڑا اجر ہے‘‘ اور یہ نعمتوں سے بھرپور جنت کے حصول میں کامیابی ہے، جس میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی نفس چاہت کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔
11:11إِلَّا ٱلَّذِينَ صَبَرُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَأَجۡرٞ كَبِيرٞ
اور البتہ اگر چکھائیں ہم انسان کو اپنی طرف سے رحمت، پھر چھین لیں ہم وہ (رحمت) اس سے تو بے شک (ہو جاتا ہے) وہ انتہائی ناامید، بہت ناشکرا (9) اور البتہ اگر چکھائیں ہم اسے راحت بعد اس تکلیف کے جو پہنچی اسے تو ضرور کہے گا چلی گئیں برائیاں (دکھ درد) مجھ سے، بلاشبہ وہ بہت اترانے والا، بڑا شیخی بگھارنے والا ہے (10) مگر وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا اور عمل کیے نیک، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے مغفرت ہے اور اجر بہت بڑا (11)
[10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ جاہل اور ظالم ہے بایں طور کہ جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے، مثلاً:اسے صحت، رزق اور اولاد وغیرہ سے نوازتا ہے، پھر وہ اس سے چھین لیتا ہے تو مایوسی اور ناامیدی کے سامنے جھک جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ثواب کی اسے ذرہ بھر امید نہیں رہتی اور اس کے دل میں یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ اللہ تعالیٰ یہ تمام چیزیں دوبارہ عطا کر سکتا ہے یا ان جیسی اور چیزوں سے یا ان سے بہتر چیزوں سے اسے نواز سکتا ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ اسے اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہے، اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور اتراتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ یہ بھلائی اس کے پاس ہمیشہ رہے گی اور کہتا ہے:﴿ ذَهَبَ السَّيِّاٰتُ عَنِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوۡرٌ ﴾ ’’دور ہو گئیں برائیاں مجھ سے، بے شک وہ تو اترانے والا، شیخی خورہ ہے‘‘ یعنی اسے جو کچھ اس کی خواہشات نفس کے موافق عطا کیا گیا اس پر خوش ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کے بندوں کے سامنے فخر اور تکبر کا اظہار کرتا ہے اور یہ چیز اسے غرور، خود پسندی، مخلوق الٰہی کے ساتھ تکبر کرنے، ان کے ساتھ حقارت سے پیش آنے اور انھیں کم تر سمجھنے پر آمادہ کرتی ہے اور اس سے بڑھ کر اور کون سا عیب ہو سکتا ہے؟
[11] یہ ہے انسان کی فطرت! سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ توفیق سے نواز دے اور اسے ان مذموم اخلاق سے نکال کر اخلاق حسنہ کی طرف لے جائے اور یہ وہ لوگ ہیں جو مصائب اور تکالیف کے وقت اپنے نفس کو صبر پر مجبور کرتے ہیں اور مایوس نہیں ہوتے اور خوشی کے وقت بھی صبر کرتے ہیں ۔ پس خوشی میں اتراتے نہیں ہیں اور نیکیوں میں واجبات و مستحبات پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ان کے لیے ان کے گناہوں کی مغفرت ہے، جس سے ہر خوف زائل ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَّاَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور بڑا اجر ہے‘‘ اور یہ نعمتوں سے بھرپور جنت کے حصول میں کامیابی ہے، جس میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی نفس چاہت کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔
11:12فَلَعَلَّكَ تَارِكُۢ بَعۡضَ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيۡكَ وَضَآئِقُۢ بِهِۦ صَدۡرُكَ أَن يَقُولُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ كَنزٌ أَوۡ جَآءَ مَعَهُۥ مَلَكٌۚ إِنَّمَآ أَنتَ نَذِيرٞۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ وَكِيلٌ
پس شاید آپ چھوڑنے والے ہوں بعض وہ چیز جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف اور تنگ ہونے والا ہو بوجہ اس کے سینہ آپ کا، اس اندیشے سے کہ کہیں وہ (کافر) کیوں نہیں نازل کیا گیا آپ پر کوئی خزانہ یا (کیوں نہیں ) آیا آپ کے ساتھ کوئی فرشتہ، بلاشبہ آپ تو صرف ڈرانے والے ہی ہیں اور اللہ اوپر ہر چیز کے نگران ہے (12) کیا وہ کہتے ہیں کہ خود گھڑا ہے اس نے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے، پس لے آؤ تم دس سورتیں اس جیسی گھڑی ہوئی اور بلا لو (تعاون کے لیے) جنھیں (بلانے کی) طاقت رکھتے ہو تم سوائے اللہ کے اگر ہو تم سچے(13) پھر اگر نہ جواب دیں وہ تمھیں تو جان لو کہ یقینا وہ (قرآن) نازل کیا گیا ہے ساتھ اللہ کے علم کےاور یہ کہ نہیں کوئی معبود (برحق) سوائے اس کے تو کیا (اب) تم مسلمان ہوتے ہو؟ (14)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ، کفار کی تکذیب پر اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعۡضَ مَا يُوۡحٰۤى اِلَيۡكَ وَضَآىِٕقٌۢ بِهٖ صَدۡرُكَ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا﴾ ’’شاید آپ کچھ چیز وحی میں سے جو آپ کے پاس آتی ہے چھوڑ دیں اور اس (خیال) سے آپ کا دل تنگ ہوکہ یہ (کافر) کہنے لگیں ۔‘‘ یعنی آپ جیسی ہستی کے لائق نہیں کہ ان کا قول آپ پر اثر انداز ہو اور آپ کو اپنے راستے سے روک دے اور آپ وحی کے کچھ حصے کو ترک کر دیں اور ان کی عیب چینی اور ان کے اس قول پر تنگ دل ہوں کہ ﴿لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ كَنۡزٌ اَوۡ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ ﴾ ’’کیوں نہ اترا اس پر خزانہ یا کیوں نہ آیا اس کے ساتھ فرشتہ‘‘ کیونکہ یہ قول عیب چینی، ظلم، عناد اور دلائل سے جہالت کی بنا پر جنم لیتا ہے۔ پس آپ اپنے راستے پر گامزن رہیے اور ان کے یہ رکیک الفاظ آپ کی راہ کھوٹی نہ کرنے پائیں جو صرف ایک انتہائی بیوقوف آدمی ہی سے صادر ہو سکتے ہیں اور اس کی وجہ سے آپ تنگ دل نہ ہوں ۔کیا انھوں نے آپ کے سامنے کوئی ایسی دلیل پیش کی ہے، جس کا آپ جواب نہیں دے پائے؟ یا انھوں نے اس چیز کی برائی اس انداز سے بیان کی ہے جسے لے کر آپ آئے ہیں کہ وہ اس میں مؤثر ثابت ہوئی ہے اور جس سے اس کی قدرومنزلت کم ہوئی ہے۔ پس آپ اس سے تنگ دل ہوئے ہیں ؟ یا ان کا حساب آپ کے ذمہ ہے اور آپ سے ان کی جبری ہدایت کا مطالبہ کیا گیا ہے؟ ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ نَذِيۡرٌ١ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ وَّؔكِيۡلٌ﴾ ’’آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہر چیز کا ذمے دار ہے‘‘ پس وہ ان جھٹلانے والوں پر نگران ہے، وہ ان کے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور پھر وہ ان کو ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[13]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس (قرآن) کو از خود بنالیا ہے۔‘‘ یعنی اس قرآن کو محمدﷺ نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُلۡ﴾ ان سے کہہ دیجیے! ﴿ فَاۡتُوۡا بِعَشۡرِ سُوَرٍ مِّثۡلِهٖ مُفۡتَرَيٰتٍ وَّادۡعُوۡا مَنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلالو۔‘‘ یعنی اگر اس قرآن کو تمھارے قول کے مطابق… محمدﷺ نے اپنی طرف سے تصنیف کیا ہے، تب تو فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے تمھارے اور محمدﷺ کے درمیان کوئی فرق نہیں اور تم حقیقی دشمن ہو اور محمدﷺ کی دعوت کے ابطال کے لیے انتہائی کوشش کے حریص ہو… اگر تم اپنے موقف میں سچے ہو تو اس جیسی دس سورتیں گھڑ لاؤ۔
[14]﴿ فَاِلَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكُمۡ ﴾ ’’پس اگر وہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی وہ اس کا کوئی جواب نہ دیں ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰهِ ﴾ ’’تو جان لو کہ قرآن تو اترا ہے اللہ کے علم سے‘‘ دلیل و مقتضی کے قیام اور معارض کی نفی کی بنا پر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَاَنۡ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ، وہی الوہیت اور عبادت کا مستحق ہے۔ ﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’تو کیا تم مسلمان ہوتے ہو؟‘‘ یعنی کیا تم اس کی الوہیت کو مانتے ہو اور اس کی عبادت کے لیے سر تسلیم خم کرتے ہو؟ان آیات کریمہ میں اس امر کی طرف راہ نمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کے لیے مناسب نہیں کہ دعوت پر اعتراض کرنے والے معترضین کے اعتراضات اور رد و قدح کی بنا پر دعوت دین سے رک جائے۔ خاص طور پر جبکہ اس رد و قدح پر کوئی دلیل نہ ہو اور دعوت میں کوئی خامی بھی نہ ہو۔ نیز یہ کہ داعی کو تنگ دل نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے اپنی دعوت پر مطمئن ہونا چاہیے، وہ اپنے راستے پر گامزن رہے اور اپنی منزل کو سامنے رکھے، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ داعی نئے نئے مطالبات پیش کرنے والوں کو اہمیت نہ دے، صرف دلائل ہی ان کے سامنے رکھے۔ تمام مسائل پر ایسے دلائل کا قائم کر دینا جن کا توڑ نہ کیا جا سکے یہی کافی ہے۔اور اس آیت کریمہ میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ یہ قرآن بنفسہ معجزہ ہے، کوئی بشر ایسی کتاب نہیں لا سکتا، کتاب تو کیا اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت ہی نہیں بنا سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے بڑے بڑے بلغاء و فصحاء کو مقابلے کی دعوت دی مگر انھوں نے مقابلہ نہ کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ ایسی کتاب بنانے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ وہ امور جن میں محض غلبۂ ظن کافی نہیں بلکہ علم یقینی مطلوب ہے، وہ ہیں علم القرآن اور علم التوحید، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰهِ وَاَنۡ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’تو جان لو کہ وہ اللہ کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘
11:13أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰهُۖ قُلۡ فَأۡتُواْ بِعَشۡرِ سُوَرٖ مِّثۡلِهِۦ مُفۡتَرَيَٰتٖ وَٱدۡعُواْ مَنِ ٱسۡتَطَعۡتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
پس شاید آپ چھوڑنے والے ہوں بعض وہ چیز جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف اور تنگ ہونے والا ہو بوجہ اس کے سینہ آپ کا، اس اندیشے سے کہ کہیں وہ (کافر) کیوں نہیں نازل کیا گیا آپ پر کوئی خزانہ یا (کیوں نہیں ) آیا آپ کے ساتھ کوئی فرشتہ، بلاشبہ آپ تو صرف ڈرانے والے ہی ہیں اور اللہ اوپر ہر چیز کے نگران ہے (12) کیا وہ کہتے ہیں کہ خود گھڑا ہے اس نے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے، پس لے آؤ تم دس سورتیں اس جیسی گھڑی ہوئی اور بلا لو (تعاون کے لیے) جنھیں (بلانے کی) طاقت رکھتے ہو تم سوائے اللہ کے اگر ہو تم سچے(13) پھر اگر نہ جواب دیں وہ تمھیں تو جان لو کہ یقینا وہ (قرآن) نازل کیا گیا ہے ساتھ اللہ کے علم کےاور یہ کہ نہیں کوئی معبود (برحق) سوائے اس کے تو کیا (اب) تم مسلمان ہوتے ہو؟ (14)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ، کفار کی تکذیب پر اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعۡضَ مَا يُوۡحٰۤى اِلَيۡكَ وَضَآىِٕقٌۢ بِهٖ صَدۡرُكَ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا﴾ ’’شاید آپ کچھ چیز وحی میں سے جو آپ کے پاس آتی ہے چھوڑ دیں اور اس (خیال) سے آپ کا دل تنگ ہوکہ یہ (کافر) کہنے لگیں ۔‘‘ یعنی آپ جیسی ہستی کے لائق نہیں کہ ان کا قول آپ پر اثر انداز ہو اور آپ کو اپنے راستے سے روک دے اور آپ وحی کے کچھ حصے کو ترک کر دیں اور ان کی عیب چینی اور ان کے اس قول پر تنگ دل ہوں کہ ﴿لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ كَنۡزٌ اَوۡ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ ﴾ ’’کیوں نہ اترا اس پر خزانہ یا کیوں نہ آیا اس کے ساتھ فرشتہ‘‘ کیونکہ یہ قول عیب چینی، ظلم، عناد اور دلائل سے جہالت کی بنا پر جنم لیتا ہے۔ پس آپ اپنے راستے پر گامزن رہیے اور ان کے یہ رکیک الفاظ آپ کی راہ کھوٹی نہ کرنے پائیں جو صرف ایک انتہائی بیوقوف آدمی ہی سے صادر ہو سکتے ہیں اور اس کی وجہ سے آپ تنگ دل نہ ہوں ۔کیا انھوں نے آپ کے سامنے کوئی ایسی دلیل پیش کی ہے، جس کا آپ جواب نہیں دے پائے؟ یا انھوں نے اس چیز کی برائی اس انداز سے بیان کی ہے جسے لے کر آپ آئے ہیں کہ وہ اس میں مؤثر ثابت ہوئی ہے اور جس سے اس کی قدرومنزلت کم ہوئی ہے۔ پس آپ اس سے تنگ دل ہوئے ہیں ؟ یا ان کا حساب آپ کے ذمہ ہے اور آپ سے ان کی جبری ہدایت کا مطالبہ کیا گیا ہے؟ ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ نَذِيۡرٌ١ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ وَّؔكِيۡلٌ﴾ ’’آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہر چیز کا ذمے دار ہے‘‘ پس وہ ان جھٹلانے والوں پر نگران ہے، وہ ان کے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور پھر وہ ان کو ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[13]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس (قرآن) کو از خود بنالیا ہے۔‘‘ یعنی اس قرآن کو محمدﷺ نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُلۡ﴾ ان سے کہہ دیجیے! ﴿ فَاۡتُوۡا بِعَشۡرِ سُوَرٍ مِّثۡلِهٖ مُفۡتَرَيٰتٍ وَّادۡعُوۡا مَنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلالو۔‘‘ یعنی اگر اس قرآن کو تمھارے قول کے مطابق… محمدﷺ نے اپنی طرف سے تصنیف کیا ہے، تب تو فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے تمھارے اور محمدﷺ کے درمیان کوئی فرق نہیں اور تم حقیقی دشمن ہو اور محمدﷺ کی دعوت کے ابطال کے لیے انتہائی کوشش کے حریص ہو… اگر تم اپنے موقف میں سچے ہو تو اس جیسی دس سورتیں گھڑ لاؤ۔
[14]﴿ فَاِلَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكُمۡ ﴾ ’’پس اگر وہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی وہ اس کا کوئی جواب نہ دیں ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰهِ ﴾ ’’تو جان لو کہ قرآن تو اترا ہے اللہ کے علم سے‘‘ دلیل و مقتضی کے قیام اور معارض کی نفی کی بنا پر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَاَنۡ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ، وہی الوہیت اور عبادت کا مستحق ہے۔ ﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’تو کیا تم مسلمان ہوتے ہو؟‘‘ یعنی کیا تم اس کی الوہیت کو مانتے ہو اور اس کی عبادت کے لیے سر تسلیم خم کرتے ہو؟ان آیات کریمہ میں اس امر کی طرف راہ نمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کے لیے مناسب نہیں کہ دعوت پر اعتراض کرنے والے معترضین کے اعتراضات اور رد و قدح کی بنا پر دعوت دین سے رک جائے۔ خاص طور پر جبکہ اس رد و قدح پر کوئی دلیل نہ ہو اور دعوت میں کوئی خامی بھی نہ ہو۔ نیز یہ کہ داعی کو تنگ دل نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے اپنی دعوت پر مطمئن ہونا چاہیے، وہ اپنے راستے پر گامزن رہے اور اپنی منزل کو سامنے رکھے، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ داعی نئے نئے مطالبات پیش کرنے والوں کو اہمیت نہ دے، صرف دلائل ہی ان کے سامنے رکھے۔ تمام مسائل پر ایسے دلائل کا قائم کر دینا جن کا توڑ نہ کیا جا سکے یہی کافی ہے۔اور اس آیت کریمہ میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ یہ قرآن بنفسہ معجزہ ہے، کوئی بشر ایسی کتاب نہیں لا سکتا، کتاب تو کیا اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت ہی نہیں بنا سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے بڑے بڑے بلغاء و فصحاء کو مقابلے کی دعوت دی مگر انھوں نے مقابلہ نہ کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ ایسی کتاب بنانے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ وہ امور جن میں محض غلبۂ ظن کافی نہیں بلکہ علم یقینی مطلوب ہے، وہ ہیں علم القرآن اور علم التوحید، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰهِ وَاَنۡ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’تو جان لو کہ وہ اللہ کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘
11:14فَإِلَّمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَكُمۡ فَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَآ أُنزِلَ بِعِلۡمِ ٱللَّهِ وَأَن لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ فَهَلۡ أَنتُم مُّسۡلِمُونَ
پس شاید آپ چھوڑنے والے ہوں بعض وہ چیز جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف اور تنگ ہونے والا ہو بوجہ اس کے سینہ آپ کا، اس اندیشے سے کہ کہیں وہ (کافر) کیوں نہیں نازل کیا گیا آپ پر کوئی خزانہ یا (کیوں نہیں ) آیا آپ کے ساتھ کوئی فرشتہ، بلاشبہ آپ تو صرف ڈرانے والے ہی ہیں اور اللہ اوپر ہر چیز کے نگران ہے (12) کیا وہ کہتے ہیں کہ خود گھڑا ہے اس نے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے، پس لے آؤ تم دس سورتیں اس جیسی گھڑی ہوئی اور بلا لو (تعاون کے لیے) جنھیں (بلانے کی) طاقت رکھتے ہو تم سوائے اللہ کے اگر ہو تم سچے(13) پھر اگر نہ جواب دیں وہ تمھیں تو جان لو کہ یقینا وہ (قرآن) نازل کیا گیا ہے ساتھ اللہ کے علم کےاور یہ کہ نہیں کوئی معبود (برحق) سوائے اس کے تو کیا (اب) تم مسلمان ہوتے ہو؟ (14)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ، کفار کی تکذیب پر اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعۡضَ مَا يُوۡحٰۤى اِلَيۡكَ وَضَآىِٕقٌۢ بِهٖ صَدۡرُكَ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا﴾ ’’شاید آپ کچھ چیز وحی میں سے جو آپ کے پاس آتی ہے چھوڑ دیں اور اس (خیال) سے آپ کا دل تنگ ہوکہ یہ (کافر) کہنے لگیں ۔‘‘ یعنی آپ جیسی ہستی کے لائق نہیں کہ ان کا قول آپ پر اثر انداز ہو اور آپ کو اپنے راستے سے روک دے اور آپ وحی کے کچھ حصے کو ترک کر دیں اور ان کی عیب چینی اور ان کے اس قول پر تنگ دل ہوں کہ ﴿لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ كَنۡزٌ اَوۡ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ ﴾ ’’کیوں نہ اترا اس پر خزانہ یا کیوں نہ آیا اس کے ساتھ فرشتہ‘‘ کیونکہ یہ قول عیب چینی، ظلم، عناد اور دلائل سے جہالت کی بنا پر جنم لیتا ہے۔ پس آپ اپنے راستے پر گامزن رہیے اور ان کے یہ رکیک الفاظ آپ کی راہ کھوٹی نہ کرنے پائیں جو صرف ایک انتہائی بیوقوف آدمی ہی سے صادر ہو سکتے ہیں اور اس کی وجہ سے آپ تنگ دل نہ ہوں ۔کیا انھوں نے آپ کے سامنے کوئی ایسی دلیل پیش کی ہے، جس کا آپ جواب نہیں دے پائے؟ یا انھوں نے اس چیز کی برائی اس انداز سے بیان کی ہے جسے لے کر آپ آئے ہیں کہ وہ اس میں مؤثر ثابت ہوئی ہے اور جس سے اس کی قدرومنزلت کم ہوئی ہے۔ پس آپ اس سے تنگ دل ہوئے ہیں ؟ یا ان کا حساب آپ کے ذمہ ہے اور آپ سے ان کی جبری ہدایت کا مطالبہ کیا گیا ہے؟ ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ نَذِيۡرٌ١ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ وَّؔكِيۡلٌ﴾ ’’آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہر چیز کا ذمے دار ہے‘‘ پس وہ ان جھٹلانے والوں پر نگران ہے، وہ ان کے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور پھر وہ ان کو ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[13]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس (قرآن) کو از خود بنالیا ہے۔‘‘ یعنی اس قرآن کو محمدﷺ نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُلۡ﴾ ان سے کہہ دیجیے! ﴿ فَاۡتُوۡا بِعَشۡرِ سُوَرٍ مِّثۡلِهٖ مُفۡتَرَيٰتٍ وَّادۡعُوۡا مَنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلالو۔‘‘ یعنی اگر اس قرآن کو تمھارے قول کے مطابق… محمدﷺ نے اپنی طرف سے تصنیف کیا ہے، تب تو فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے تمھارے اور محمدﷺ کے درمیان کوئی فرق نہیں اور تم حقیقی دشمن ہو اور محمدﷺ کی دعوت کے ابطال کے لیے انتہائی کوشش کے حریص ہو… اگر تم اپنے موقف میں سچے ہو تو اس جیسی دس سورتیں گھڑ لاؤ۔
[14]﴿ فَاِلَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكُمۡ ﴾ ’’پس اگر وہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی وہ اس کا کوئی جواب نہ دیں ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰهِ ﴾ ’’تو جان لو کہ قرآن تو اترا ہے اللہ کے علم سے‘‘ دلیل و مقتضی کے قیام اور معارض کی نفی کی بنا پر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَاَنۡ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ، وہی الوہیت اور عبادت کا مستحق ہے۔ ﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’تو کیا تم مسلمان ہوتے ہو؟‘‘ یعنی کیا تم اس کی الوہیت کو مانتے ہو اور اس کی عبادت کے لیے سر تسلیم خم کرتے ہو؟ان آیات کریمہ میں اس امر کی طرف راہ نمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کے لیے مناسب نہیں کہ دعوت پر اعتراض کرنے والے معترضین کے اعتراضات اور رد و قدح کی بنا پر دعوت دین سے رک جائے۔ خاص طور پر جبکہ اس رد و قدح پر کوئی دلیل نہ ہو اور دعوت میں کوئی خامی بھی نہ ہو۔ نیز یہ کہ داعی کو تنگ دل نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے اپنی دعوت پر مطمئن ہونا چاہیے، وہ اپنے راستے پر گامزن رہے اور اپنی منزل کو سامنے رکھے، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ داعی نئے نئے مطالبات پیش کرنے والوں کو اہمیت نہ دے، صرف دلائل ہی ان کے سامنے رکھے۔ تمام مسائل پر ایسے دلائل کا قائم کر دینا جن کا توڑ نہ کیا جا سکے یہی کافی ہے۔اور اس آیت کریمہ میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ یہ قرآن بنفسہ معجزہ ہے، کوئی بشر ایسی کتاب نہیں لا سکتا، کتاب تو کیا اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت ہی نہیں بنا سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے بڑے بڑے بلغاء و فصحاء کو مقابلے کی دعوت دی مگر انھوں نے مقابلہ نہ کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ ایسی کتاب بنانے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ وہ امور جن میں محض غلبۂ ظن کافی نہیں بلکہ علم یقینی مطلوب ہے، وہ ہیں علم القرآن اور علم التوحید، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰهِ وَاَنۡ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’تو جان لو کہ وہ اللہ کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘
11:15مَن كَانَ يُرِيدُ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيۡهِمۡ أَعۡمَٰلَهُمۡ فِيهَا وَهُمۡ فِيهَا لَا يُبۡخَسُونَ
جو کوئی چاہتا ہے زندگی دنیا کی اور زینت اس کی تو ہم پوری دے دیتے ہیں انھیں جزا ان کے عملوں کی اسی (دنیا) میں اور وہ دنیا میں نہیں نقصان دیے جاتے (15) یہی ہیں وہ لوگ کہ نہیں واسطے ان کے آخرت میں مگر آگ ہی اور برباد ہوا وہ جو کچھ انھوں نے کیا تھا دنیا میں اور باطل (ضائع) ہو گیا جو تھے وہ عمل کرتے (16)
[15]﴿ مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا ﴾ ’’جو چاہتا ہے دنیا کی زندگی اور اس کی رونق‘‘ یعنی جس شخص کا بھی ارادہ، دنیاوی زندگی اور اس کی زیب و زینت ہی کے گرد گھومتا ہے، مثلاً:عورتوں اور بیٹوں کے حصول کی خواہش، سونے اور چاندی کے خزانوں کی حرص، نشان زدہ گھوڑوں ، مویشیوں اور کھیتیوں کی چاہت، اس نے اپنی رغبت، عمل اور کوشش کو صرف انھی چیزوں پر مرکوز کر رکھا ہے اور وہ آخرت کے گھر کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ایسا شخص کافر کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر وہ مومن ہوتا تو اس کا ایمان اسے اس بات سے روک دیتا کہ اس کا تمام ارادہ صرف دنیا ہی پر مرکوز رہے بلکہ اس کا ایمان اور اس کے اعمال، اس کے ارادۂ آخرت ہی کے آثار ہیں ۔ مگر یہ کافر بدبخت تو گویا صرف دنیا ہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے ﴿ نُوَفِّ اِلَيۡهِمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فِيۡهَا ﴾ ’’بھگتا دیں گے ہم ان کو ان کے عمل دنیا ہی میں ‘‘ یعنی ہم ان کو وہ دنیاوی ثواب عطا کر دیتے ہیں جو ان کے لیے لوح محفوظ میں لکھا ہوتا ہے۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا لَا يُبۡخَسُوۡنَ ﴾ ’’اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی۔‘‘ یعنی جو کچھ ان کے لیے مقرر کیا گیا ہوتا ہے اس میں ذرہ بھر کمی نہیں کی جاتی۔ مگر یہ ان کو عطا کی جانے والی نعمتوں کی منتہا ہے۔
[16]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَيۡسَ لَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ﴾ ’’یہی ہیں جن کے واسطے آخرت میں کچھ نہیں ہے سوائے آگ کے‘‘ وہ اس میں ابد الآباد تک رہیں گے، ان کے عذاب میں کوئی وقفہ نہیں کیا جائے گا اور ثواب جزیل سے انھیں محروم کر دیا جائے گا۔ ﴿ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِيۡهَا ﴾ ’’اور برباد ہوگیا جو کچھ انھوں نے کیا دنیا میں ‘‘ یعنی وہ سب اعمال باطل اور مضمحل ہو جائیں گے جو وہ حق اور اہل حق کے خلاف سازشوں کے لیے کرتے رہے ہیں اور نیکی کے اعمال بھی باطل ہو جائیں گے جن کی کوئی اساس ہی نہیں اور ان کی قبولیت کی شرط بھی مفقود ہے اور وہ ہے ایمان۔
11:16أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَيۡسَ لَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ إِلَّا ٱلنَّارُۖ وَحَبِطَ مَا صَنَعُواْ فِيهَا وَبَٰطِلٞ مَّا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
جو کوئی چاہتا ہے زندگی دنیا کی اور زینت اس کی تو ہم پوری دے دیتے ہیں انھیں جزا ان کے عملوں کی اسی (دنیا) میں اور وہ دنیا میں نہیں نقصان دیے جاتے (15) یہی ہیں وہ لوگ کہ نہیں واسطے ان کے آخرت میں مگر آگ ہی اور برباد ہوا وہ جو کچھ انھوں نے کیا تھا دنیا میں اور باطل (ضائع) ہو گیا جو تھے وہ عمل کرتے (16)
[15]﴿ مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا ﴾ ’’جو چاہتا ہے دنیا کی زندگی اور اس کی رونق‘‘ یعنی جس شخص کا بھی ارادہ، دنیاوی زندگی اور اس کی زیب و زینت ہی کے گرد گھومتا ہے، مثلاً:عورتوں اور بیٹوں کے حصول کی خواہش، سونے اور چاندی کے خزانوں کی حرص، نشان زدہ گھوڑوں ، مویشیوں اور کھیتیوں کی چاہت، اس نے اپنی رغبت، عمل اور کوشش کو صرف انھی چیزوں پر مرکوز کر رکھا ہے اور وہ آخرت کے گھر کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ایسا شخص کافر کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر وہ مومن ہوتا تو اس کا ایمان اسے اس بات سے روک دیتا کہ اس کا تمام ارادہ صرف دنیا ہی پر مرکوز رہے بلکہ اس کا ایمان اور اس کے اعمال، اس کے ارادۂ آخرت ہی کے آثار ہیں ۔ مگر یہ کافر بدبخت تو گویا صرف دنیا ہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے ﴿ نُوَفِّ اِلَيۡهِمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فِيۡهَا ﴾ ’’بھگتا دیں گے ہم ان کو ان کے عمل دنیا ہی میں ‘‘ یعنی ہم ان کو وہ دنیاوی ثواب عطا کر دیتے ہیں جو ان کے لیے لوح محفوظ میں لکھا ہوتا ہے۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا لَا يُبۡخَسُوۡنَ ﴾ ’’اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی۔‘‘ یعنی جو کچھ ان کے لیے مقرر کیا گیا ہوتا ہے اس میں ذرہ بھر کمی نہیں کی جاتی۔ مگر یہ ان کو عطا کی جانے والی نعمتوں کی منتہا ہے۔
[16]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَيۡسَ لَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ﴾ ’’یہی ہیں جن کے واسطے آخرت میں کچھ نہیں ہے سوائے آگ کے‘‘ وہ اس میں ابد الآباد تک رہیں گے، ان کے عذاب میں کوئی وقفہ نہیں کیا جائے گا اور ثواب جزیل سے انھیں محروم کر دیا جائے گا۔ ﴿ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِيۡهَا ﴾ ’’اور برباد ہوگیا جو کچھ انھوں نے کیا دنیا میں ‘‘ یعنی وہ سب اعمال باطل اور مضمحل ہو جائیں گے جو وہ حق اور اہل حق کے خلاف سازشوں کے لیے کرتے رہے ہیں اور نیکی کے اعمال بھی باطل ہو جائیں گے جن کی کوئی اساس ہی نہیں اور ان کی قبولیت کی شرط بھی مفقود ہے اور وہ ہے ایمان۔
11:17أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّهِۦ وَيَتۡلُوهُ شَاهِدٞ مِّنۡهُ وَمِن قَبۡلِهِۦ كِتَٰبُ مُوسَىٰٓ إِمَامٗا وَرَحۡمَةًۚ أُوْلَـٰٓئِكَ يُؤۡمِنُونَ بِهِۦۚ وَمَن يَكۡفُرۡ بِهِۦ مِنَ ٱلۡأَحۡزَابِ فَٱلنَّارُ مَوۡعِدُهُۥۚ فَلَا تَكُ فِي مِرۡيَةٖ مِّنۡهُۚ إِنَّهُ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤۡمِنُونَ
کیا پس (طالب دنیا اس جیسا ہے) جو ہو اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سےاور اس کے پیچھے ایک گواہ ہو اللہ کی طرف سےاور اس سے پہلے ہے کتاب موسیٰ کی درآں حالیکہ وہ پیشوا اور رحمت ہے یہی لوگ ایمان لاتے ہیں ساتھ اس (قرآن) کےاور جو شخص کفرکرے ساتھ اس کے گروہوں میں سے تو آگ ہی اس کی وعدہ گا ہ ہے، پس نہ ہوں آپ شک میں اس سے، بلاشبہ قرآن حق ہے آپ کے رب کی طرف سے لیکن اکثر لوگ نہیں ایمان لاتے (17)
[17] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ ، آپ کے قائم مقام، آپ کے دین کو قائم کرنے والے آپ کے ورثاء کا حال اور اہل ایقان کے دلائل کا ذکر کرتا ہے اور یہ ایسے اوصاف ہیں جن سے ان کے سوا کوئی اور متصف نہیں ہے اور نہ ان جیسا کوئی اور ہے۔ فرمایا:﴿اَفَمَنۡ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ ’’بھلا وہ شخص جو ہے واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی اس وحی کے ذریعے سے جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہم مسائل اور ان کے ظاہری دلائل نازل کیے ہیں پس ان سے یہ ثبوت اور دلیل مزید متیقن ہو جاتی ہے۔ ﴿ وَيَتۡلُوۡهُ ﴾ ’’اور اس کے پیچھے ہے‘‘ یعنی اس دلیل اور برہان کے پیچھے ایک اور دلیل ہے۔ ﴿شَاهِدٌ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’ایک گواہ اس کی طرف سے‘‘ اور وہ ہے فطرت مستقیم، عقل سلیم۔ فطرت سلیم اس شریعت کی حقانیت کی گواہی دیتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے نازل اور مشروع فرمایا اور بندہ اپنی عقل کے ذریعے سے اس کے حسن کو معلوم کر لیتا ہے پس اس کے ایمان میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔ ﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ وہاں ایک تیسرا شاہد بھی ہے ﴿ مِنۡ قَبۡلِهٖ ﴾ ’’اس سے پہلے‘‘ اور وہ ہے ﴿ كِتٰبُ مُوۡسٰۤى ﴾ ’’موسیٰ (u) کی کتاب۔‘‘ یعنی تورات ﴿ اِمَامًا﴾ ’’پیشوا‘‘ جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے امام ﴿ وَّرَحۡمَةً﴾’’اور رحمت بنایا ہے۔‘‘ یہ تورات قرآن کی صداقت پر گواہی دیتی ہے اور اس حق کی موافقت کرتی ہے جو اس کے اندر نازل کیا گیا… یعنی جس کا یہ وصف ہو کہ تمام شواہد ایمان اس کی تائید کرتے ہوں اور اس کے پاس تمام دلائل یقین قائم ہوں کیا وہ اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو تاریکیوں اور جہالتوں میں ڈوبا ہوا ہے اور ان میں سے نکل نہیں سکتا۔ یہ دونوں اللہ کے ہاں برابر ہیں نہ اللہ کے بندوں کے ہاں ۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو دلائل قائم کرنے کی توفیق عطا کی گئی ہے۔ ﴿ يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ﴾ ’’اس پر ایمان لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی قرآن پر حقیقی ایمان رکھتے ہیں ان کے ایمان کے نتیجے میں انھیں دنیا و آخرت کی ہر بھلائی عطا ہوتی ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِهٖ مِنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’اور جو منکر ہو اس سے سب فرقوں میں سے‘‘ یعنی روئے زمین کے تمام گروہ، جو حق کو ٹھکرانے پر متفق ہیں ۔ ﴿ فَالنَّارُ مَوۡعِدُهٗ﴾ ’’پس دوزخ اس کا ٹھکانا ہے‘‘ وہ ضرور جہنم میں داخل ہوں گے۔ ﴿ فَلَا تَكُ فِيۡ مِرۡيَةٍ مِّؔنۡهُ﴾ ’’تو آپ اس (قرآن) سے شک میں نہ ہونا۔‘‘ یعنی آپ اس کی طرف سے ادنیٰ سے شک میں بھی مبتلا نہ ہوں ۔ ﴿ اِنَّهُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے‘‘ یعنی یا تو جہالت کی بنا پر ایمان نہیں لاتے یا ظلم، عناد اور بغاوت کی بنا پر ایمان نہیں لاتے۔ ورنہ جس کا مقصد اچھا اور فہم درست ہے وہ اس پر ضرور ایمان لائے گا کیونکہ اسے اس میں وہ صداقت نظر آتی ہے جو اسے ہر لحاظ سے ایمان لانے کی دعوت دیتی ہے۔
11:18وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ يُعۡرَضُونَ عَلَىٰ رَبِّهِمۡ وَيَقُولُ ٱلۡأَشۡهَٰدُ هَـٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ كَذَبُواْ عَلَىٰ رَبِّهِمۡۚ أَلَا لَعۡنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلظَّـٰلِمِينَ
اور کون شخص زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے باندھا اوپر اللہ کے جھوٹ؟ یہی لوگ پیش کیے جائیں گے اوپر اپنے رب کے اور کہیں گے گواہ (فرشتے) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا تھا اوپر اپنے رب کے، آگاہ رہو! لعنت ہے اللہ کی اوپر ظالموں کے (18) وہ لوگ جو روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور تلاش کرتے ہیں اس میں کجی اور وہی ہیں ساتھ آخرت کے کفر کرنے والے (19) یہ لوگ نہ تھے عاجز کرنے والے (اللہ کو) زمین میں اور نہ تھا واسطے ان کے سوائے اللہ کے کوئی حمایتی، دگنا کیا جائے گا واسطے ان کے عذاب، نہ تھے وہ استطاعت رکھتے (حق) سننے کی اور نہ تھے وہ (حق کو) دیکھتے (20) یہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنے آپ کو اور گم ہو گیا ان سے وہ جو تھے وہ افتراء باندھتے (21) یقینا بلاشبہ وہی لوگ آخرت میں خسارہ پانے والے ہیں (22)
[18]﴿وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے‘‘ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اور اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کی طرف کوئی شریک منسوب کرتا ہے یا اسے کسی ایسی صفت سے متصف کرتا ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس کی طرف سے کوئی ایسی بات کہتا ہے جو اس نے نہیں کہی یا وہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی بھی طرح سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ پس یہ لوگ سب سے بڑے ظالم ہیں ﴿اُولٰٓىِٕكَ يُعۡرَضُوۡنَ عَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے‘‘ تاکہ وہ انھیں ان کے ظلم کا بدلہ دے۔ جب وہ ان کے خلاف سخت عذاب کا فیصلہ سنائے گا ﴿وَيَقُوۡلُ الۡاَشۡهَادُ ﴾ ’’کہیں گے گواہی دینے والے‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان کے خلاف ان کے کذب و افترا پر گواہی دیں گے ﴿هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ كَذَبُوۡا عَلٰى رَبِّهِمۡ١ۚ اَلَا لَعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا اپنے رب پر، خبردار، اللہ کی لعنت ہے جھوٹوں پر‘‘ یعنی وہ لعنت جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا کیونکہ ظلم ان کا وصف لازم بن چکا ہے، جو تخفیف کے قابل نہیں ۔
[19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو کہ روکتے ہیں اللہ کے راستے سے‘‘ پس انھوں نے اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور یہ انبیاء و مرسلین کا راستہ ہے جس کی طرف انبیاء لوگوں کو دعوت دیتے رہے اور وہ دوسرے لوگوں کو بھی اس راستے سے روکتے رہے۔ پس وہ ائمہ ضلالت بن گئے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿وَيَبۡغُوۡنَهَا ﴾ ’’اور اس میں چاہتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ کے راستے کے بارے میں چاہتے ہیں ﴿ عِوَجًا ﴾ ’’کجی‘‘ یعنی اس راستے کو ٹیڑھا کرنے، اسے حقیر اور عیب دار قرار دینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا راستہ لوگوں کے نزدیک غیر مستقیم قرار پائے۔ پس وہ باطل کی تحسین اور حق کی برائیاں بیان کرتے ہیں … اللہ ان کا برا کرے ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘
[20]﴿اُولٰٓىِٕكَ لَمۡ يَكُوۡنُوۡا مُعۡجِزِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ لوگ نہیں تھکانے والے زمین میں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے کہیں بھاگ نہیں سکتے کیونکہ وہ اس کی گرفت میں اور اس کے دست قدرت کے تحت ہیں ﴿ وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ﴾ ’’اور نہیں ہیں ان کے واسطے اللہ کے سوا کوئی دوست‘‘ جو ان کی تکلیف دور کر سکیں یا ان کے لیے کوئی فائدہ حاصل کر سکیں بلکہ ان کے درمیان تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔ ﴿ يُضٰعَفُ لَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’دوگنا ہے ان کے لیے عذاب‘‘ ان کے لیے عذاب بہت سخت ہوگا اور بڑھتا چلا جائے گا کیونکہ انھوں نے خود اپنے آپ کو گمراہ کیا اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے۔ ﴿ مَا كَانُوۡا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ السَّمۡعَ ﴾ ’’نہیں طاقت رکھتے تھے وہ سننے کی‘‘ یعنی حق کے خلاف بغض اور نفرت رکھنے کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سن نہیں سکتے جس سے وہ منتفع ہو سکیں ﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَۙ۰۰كَاَنَّهُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌۙ۰۰ فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ ﴾(المدثر: 74؍49-51) ’’انھیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ نصیحت سے روگردانی کرتے ہیں گویا وہ بدکے ہوئے گدھے ہیں جو شیر سے ڈر کر بھاگے ہوں ۔‘‘ ﴿ وَمَا كَانُوۡا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ دیکھتے تھے‘‘ یعنی وہ عبرت اور تفکر و تدبر کی نظر سے نہیں دیکھتے جس سے وہ فائدہ اٹھا سکیں ۔ وہ تو بہروں اور گونگوں کی مانند ہیں جو سوچنے، سمجھنے سے محروم ہیں ۔
[21]﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو‘‘ کیونکہ وہ سب سے بڑے ثواب سے محروم ہو گئے اور شدید ترین عذاب کے مستحق قرار پائے ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور گم ہو گیا ان سے وہ جو جھوٹ باندھتے تھے‘‘ یعنی ان کا وہ دین جس کی طرف یہ لوگوں کو دعوت دیا کرتے تھے اور جس کی یہ تحسین کیا کرتے تھے مٹ گیا اور جب آپ کے رب کا حکم آ گیا تو ان کے وہ جھوٹے خدا ان کے کسی کام نہ آئے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے۔
[22]﴿ لَا جَرَمَ ﴾ ’’بلاشبہ‘‘ یعنی یہ بات حق اور سچ ہے کہ ﴿ اَنَّهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ان پر منحصر کر دیا ہے بلکہ ان کے لیے شدید ترین خسارہ مقررہ کیا کیونکہ ان کی حسرت اور محرومی نہایت شدید ہوگی۔ مشقت اور عذاب ان پر مستزاد ہو گا۔ ہم ان کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
11:19ٱلَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبۡغُونَهَا عِوَجٗا وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ كَٰفِرُونَ
اور کون شخص زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے باندھا اوپر اللہ کے جھوٹ؟ یہی لوگ پیش کیے جائیں گے اوپر اپنے رب کے اور کہیں گے گواہ (فرشتے) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا تھا اوپر اپنے رب کے، آگاہ رہو! لعنت ہے اللہ کی اوپر ظالموں کے (18) وہ لوگ جو روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور تلاش کرتے ہیں اس میں کجی اور وہی ہیں ساتھ آخرت کے کفر کرنے والے (19) یہ لوگ نہ تھے عاجز کرنے والے (اللہ کو) زمین میں اور نہ تھا واسطے ان کے سوائے اللہ کے کوئی حمایتی، دگنا کیا جائے گا واسطے ان کے عذاب، نہ تھے وہ استطاعت رکھتے (حق) سننے کی اور نہ تھے وہ (حق کو) دیکھتے (20) یہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنے آپ کو اور گم ہو گیا ان سے وہ جو تھے وہ افتراء باندھتے (21) یقینا بلاشبہ وہی لوگ آخرت میں خسارہ پانے والے ہیں (22)
[18]﴿وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے‘‘ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اور اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کی طرف کوئی شریک منسوب کرتا ہے یا اسے کسی ایسی صفت سے متصف کرتا ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس کی طرف سے کوئی ایسی بات کہتا ہے جو اس نے نہیں کہی یا وہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی بھی طرح سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ پس یہ لوگ سب سے بڑے ظالم ہیں ﴿اُولٰٓىِٕكَ يُعۡرَضُوۡنَ عَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے‘‘ تاکہ وہ انھیں ان کے ظلم کا بدلہ دے۔ جب وہ ان کے خلاف سخت عذاب کا فیصلہ سنائے گا ﴿وَيَقُوۡلُ الۡاَشۡهَادُ ﴾ ’’کہیں گے گواہی دینے والے‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان کے خلاف ان کے کذب و افترا پر گواہی دیں گے ﴿هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ كَذَبُوۡا عَلٰى رَبِّهِمۡ١ۚ اَلَا لَعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا اپنے رب پر، خبردار، اللہ کی لعنت ہے جھوٹوں پر‘‘ یعنی وہ لعنت جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا کیونکہ ظلم ان کا وصف لازم بن چکا ہے، جو تخفیف کے قابل نہیں ۔
[19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو کہ روکتے ہیں اللہ کے راستے سے‘‘ پس انھوں نے اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور یہ انبیاء و مرسلین کا راستہ ہے جس کی طرف انبیاء لوگوں کو دعوت دیتے رہے اور وہ دوسرے لوگوں کو بھی اس راستے سے روکتے رہے۔ پس وہ ائمہ ضلالت بن گئے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿وَيَبۡغُوۡنَهَا ﴾ ’’اور اس میں چاہتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ کے راستے کے بارے میں چاہتے ہیں ﴿ عِوَجًا ﴾ ’’کجی‘‘ یعنی اس راستے کو ٹیڑھا کرنے، اسے حقیر اور عیب دار قرار دینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا راستہ لوگوں کے نزدیک غیر مستقیم قرار پائے۔ پس وہ باطل کی تحسین اور حق کی برائیاں بیان کرتے ہیں … اللہ ان کا برا کرے ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘
[20]﴿اُولٰٓىِٕكَ لَمۡ يَكُوۡنُوۡا مُعۡجِزِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ لوگ نہیں تھکانے والے زمین میں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے کہیں بھاگ نہیں سکتے کیونکہ وہ اس کی گرفت میں اور اس کے دست قدرت کے تحت ہیں ﴿ وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ﴾ ’’اور نہیں ہیں ان کے واسطے اللہ کے سوا کوئی دوست‘‘ جو ان کی تکلیف دور کر سکیں یا ان کے لیے کوئی فائدہ حاصل کر سکیں بلکہ ان کے درمیان تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔ ﴿ يُضٰعَفُ لَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’دوگنا ہے ان کے لیے عذاب‘‘ ان کے لیے عذاب بہت سخت ہوگا اور بڑھتا چلا جائے گا کیونکہ انھوں نے خود اپنے آپ کو گمراہ کیا اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے۔ ﴿ مَا كَانُوۡا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ السَّمۡعَ ﴾ ’’نہیں طاقت رکھتے تھے وہ سننے کی‘‘ یعنی حق کے خلاف بغض اور نفرت رکھنے کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سن نہیں سکتے جس سے وہ منتفع ہو سکیں ﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَۙ۰۰كَاَنَّهُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌۙ۰۰ فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ ﴾(المدثر: 74؍49-51) ’’انھیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ نصیحت سے روگردانی کرتے ہیں گویا وہ بدکے ہوئے گدھے ہیں جو شیر سے ڈر کر بھاگے ہوں ۔‘‘ ﴿ وَمَا كَانُوۡا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ دیکھتے تھے‘‘ یعنی وہ عبرت اور تفکر و تدبر کی نظر سے نہیں دیکھتے جس سے وہ فائدہ اٹھا سکیں ۔ وہ تو بہروں اور گونگوں کی مانند ہیں جو سوچنے، سمجھنے سے محروم ہیں ۔
[21]﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو‘‘ کیونکہ وہ سب سے بڑے ثواب سے محروم ہو گئے اور شدید ترین عذاب کے مستحق قرار پائے ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور گم ہو گیا ان سے وہ جو جھوٹ باندھتے تھے‘‘ یعنی ان کا وہ دین جس کی طرف یہ لوگوں کو دعوت دیا کرتے تھے اور جس کی یہ تحسین کیا کرتے تھے مٹ گیا اور جب آپ کے رب کا حکم آ گیا تو ان کے وہ جھوٹے خدا ان کے کسی کام نہ آئے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے۔
[22]﴿ لَا جَرَمَ ﴾ ’’بلاشبہ‘‘ یعنی یہ بات حق اور سچ ہے کہ ﴿ اَنَّهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ان پر منحصر کر دیا ہے بلکہ ان کے لیے شدید ترین خسارہ مقررہ کیا کیونکہ ان کی حسرت اور محرومی نہایت شدید ہوگی۔ مشقت اور عذاب ان پر مستزاد ہو گا۔ ہم ان کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
11:20أُوْلَـٰٓئِكَ لَمۡ يَكُونُواْ مُعۡجِزِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا كَانَ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنۡ أَوۡلِيَآءَۘ يُضَٰعَفُ لَهُمُ ٱلۡعَذَابُۚ مَا كَانُواْ يَسۡتَطِيعُونَ ٱلسَّمۡعَ وَمَا كَانُواْ يُبۡصِرُونَ
اور کون شخص زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے باندھا اوپر اللہ کے جھوٹ؟ یہی لوگ پیش کیے جائیں گے اوپر اپنے رب کے اور کہیں گے گواہ (فرشتے) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا تھا اوپر اپنے رب کے، آگاہ رہو! لعنت ہے اللہ کی اوپر ظالموں کے (18) وہ لوگ جو روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور تلاش کرتے ہیں اس میں کجی اور وہی ہیں ساتھ آخرت کے کفر کرنے والے (19) یہ لوگ نہ تھے عاجز کرنے والے (اللہ کو) زمین میں اور نہ تھا واسطے ان کے سوائے اللہ کے کوئی حمایتی، دگنا کیا جائے گا واسطے ان کے عذاب، نہ تھے وہ استطاعت رکھتے (حق) سننے کی اور نہ تھے وہ (حق کو) دیکھتے (20) یہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنے آپ کو اور گم ہو گیا ان سے وہ جو تھے وہ افتراء باندھتے (21) یقینا بلاشبہ وہی لوگ آخرت میں خسارہ پانے والے ہیں (22)
[18]﴿وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے‘‘ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اور اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کی طرف کوئی شریک منسوب کرتا ہے یا اسے کسی ایسی صفت سے متصف کرتا ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس کی طرف سے کوئی ایسی بات کہتا ہے جو اس نے نہیں کہی یا وہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی بھی طرح سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ پس یہ لوگ سب سے بڑے ظالم ہیں ﴿اُولٰٓىِٕكَ يُعۡرَضُوۡنَ عَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے‘‘ تاکہ وہ انھیں ان کے ظلم کا بدلہ دے۔ جب وہ ان کے خلاف سخت عذاب کا فیصلہ سنائے گا ﴿وَيَقُوۡلُ الۡاَشۡهَادُ ﴾ ’’کہیں گے گواہی دینے والے‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان کے خلاف ان کے کذب و افترا پر گواہی دیں گے ﴿هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ كَذَبُوۡا عَلٰى رَبِّهِمۡ١ۚ اَلَا لَعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا اپنے رب پر، خبردار، اللہ کی لعنت ہے جھوٹوں پر‘‘ یعنی وہ لعنت جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا کیونکہ ظلم ان کا وصف لازم بن چکا ہے، جو تخفیف کے قابل نہیں ۔
[19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو کہ روکتے ہیں اللہ کے راستے سے‘‘ پس انھوں نے اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور یہ انبیاء و مرسلین کا راستہ ہے جس کی طرف انبیاء لوگوں کو دعوت دیتے رہے اور وہ دوسرے لوگوں کو بھی اس راستے سے روکتے رہے۔ پس وہ ائمہ ضلالت بن گئے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿وَيَبۡغُوۡنَهَا ﴾ ’’اور اس میں چاہتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ کے راستے کے بارے میں چاہتے ہیں ﴿ عِوَجًا ﴾ ’’کجی‘‘ یعنی اس راستے کو ٹیڑھا کرنے، اسے حقیر اور عیب دار قرار دینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا راستہ لوگوں کے نزدیک غیر مستقیم قرار پائے۔ پس وہ باطل کی تحسین اور حق کی برائیاں بیان کرتے ہیں … اللہ ان کا برا کرے ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘
[20]﴿اُولٰٓىِٕكَ لَمۡ يَكُوۡنُوۡا مُعۡجِزِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ لوگ نہیں تھکانے والے زمین میں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے کہیں بھاگ نہیں سکتے کیونکہ وہ اس کی گرفت میں اور اس کے دست قدرت کے تحت ہیں ﴿ وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ﴾ ’’اور نہیں ہیں ان کے واسطے اللہ کے سوا کوئی دوست‘‘ جو ان کی تکلیف دور کر سکیں یا ان کے لیے کوئی فائدہ حاصل کر سکیں بلکہ ان کے درمیان تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔ ﴿ يُضٰعَفُ لَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’دوگنا ہے ان کے لیے عذاب‘‘ ان کے لیے عذاب بہت سخت ہوگا اور بڑھتا چلا جائے گا کیونکہ انھوں نے خود اپنے آپ کو گمراہ کیا اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے۔ ﴿ مَا كَانُوۡا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ السَّمۡعَ ﴾ ’’نہیں طاقت رکھتے تھے وہ سننے کی‘‘ یعنی حق کے خلاف بغض اور نفرت رکھنے کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سن نہیں سکتے جس سے وہ منتفع ہو سکیں ﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَۙ۰۰كَاَنَّهُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌۙ۰۰ فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ ﴾(المدثر: 74؍49-51) ’’انھیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ نصیحت سے روگردانی کرتے ہیں گویا وہ بدکے ہوئے گدھے ہیں جو شیر سے ڈر کر بھاگے ہوں ۔‘‘ ﴿ وَمَا كَانُوۡا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ دیکھتے تھے‘‘ یعنی وہ عبرت اور تفکر و تدبر کی نظر سے نہیں دیکھتے جس سے وہ فائدہ اٹھا سکیں ۔ وہ تو بہروں اور گونگوں کی مانند ہیں جو سوچنے، سمجھنے سے محروم ہیں ۔
[21]﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو‘‘ کیونکہ وہ سب سے بڑے ثواب سے محروم ہو گئے اور شدید ترین عذاب کے مستحق قرار پائے ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور گم ہو گیا ان سے وہ جو جھوٹ باندھتے تھے‘‘ یعنی ان کا وہ دین جس کی طرف یہ لوگوں کو دعوت دیا کرتے تھے اور جس کی یہ تحسین کیا کرتے تھے مٹ گیا اور جب آپ کے رب کا حکم آ گیا تو ان کے وہ جھوٹے خدا ان کے کسی کام نہ آئے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے۔
[22]﴿ لَا جَرَمَ ﴾ ’’بلاشبہ‘‘ یعنی یہ بات حق اور سچ ہے کہ ﴿ اَنَّهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ان پر منحصر کر دیا ہے بلکہ ان کے لیے شدید ترین خسارہ مقررہ کیا کیونکہ ان کی حسرت اور محرومی نہایت شدید ہوگی۔ مشقت اور عذاب ان پر مستزاد ہو گا۔ ہم ان کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
11:21أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ وَضَلَّ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ
اور کون شخص زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے باندھا اوپر اللہ کے جھوٹ؟ یہی لوگ پیش کیے جائیں گے اوپر اپنے رب کے اور کہیں گے گواہ (فرشتے) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا تھا اوپر اپنے رب کے، آگاہ رہو! لعنت ہے اللہ کی اوپر ظالموں کے (18) وہ لوگ جو روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور تلاش کرتے ہیں اس میں کجی اور وہی ہیں ساتھ آخرت کے کفر کرنے والے (19) یہ لوگ نہ تھے عاجز کرنے والے (اللہ کو) زمین میں اور نہ تھا واسطے ان کے سوائے اللہ کے کوئی حمایتی، دگنا کیا جائے گا واسطے ان کے عذاب، نہ تھے وہ استطاعت رکھتے (حق) سننے کی اور نہ تھے وہ (حق کو) دیکھتے (20) یہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنے آپ کو اور گم ہو گیا ان سے وہ جو تھے وہ افتراء باندھتے (21) یقینا بلاشبہ وہی لوگ آخرت میں خسارہ پانے والے ہیں (22)
[18]﴿وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے‘‘ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اور اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کی طرف کوئی شریک منسوب کرتا ہے یا اسے کسی ایسی صفت سے متصف کرتا ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس کی طرف سے کوئی ایسی بات کہتا ہے جو اس نے نہیں کہی یا وہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی بھی طرح سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ پس یہ لوگ سب سے بڑے ظالم ہیں ﴿اُولٰٓىِٕكَ يُعۡرَضُوۡنَ عَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے‘‘ تاکہ وہ انھیں ان کے ظلم کا بدلہ دے۔ جب وہ ان کے خلاف سخت عذاب کا فیصلہ سنائے گا ﴿وَيَقُوۡلُ الۡاَشۡهَادُ ﴾ ’’کہیں گے گواہی دینے والے‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان کے خلاف ان کے کذب و افترا پر گواہی دیں گے ﴿هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ كَذَبُوۡا عَلٰى رَبِّهِمۡ١ۚ اَلَا لَعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا اپنے رب پر، خبردار، اللہ کی لعنت ہے جھوٹوں پر‘‘ یعنی وہ لعنت جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا کیونکہ ظلم ان کا وصف لازم بن چکا ہے، جو تخفیف کے قابل نہیں ۔
[19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو کہ روکتے ہیں اللہ کے راستے سے‘‘ پس انھوں نے اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور یہ انبیاء و مرسلین کا راستہ ہے جس کی طرف انبیاء لوگوں کو دعوت دیتے رہے اور وہ دوسرے لوگوں کو بھی اس راستے سے روکتے رہے۔ پس وہ ائمہ ضلالت بن گئے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿وَيَبۡغُوۡنَهَا ﴾ ’’اور اس میں چاہتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ کے راستے کے بارے میں چاہتے ہیں ﴿ عِوَجًا ﴾ ’’کجی‘‘ یعنی اس راستے کو ٹیڑھا کرنے، اسے حقیر اور عیب دار قرار دینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا راستہ لوگوں کے نزدیک غیر مستقیم قرار پائے۔ پس وہ باطل کی تحسین اور حق کی برائیاں بیان کرتے ہیں … اللہ ان کا برا کرے ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘
[20]﴿اُولٰٓىِٕكَ لَمۡ يَكُوۡنُوۡا مُعۡجِزِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ لوگ نہیں تھکانے والے زمین میں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے کہیں بھاگ نہیں سکتے کیونکہ وہ اس کی گرفت میں اور اس کے دست قدرت کے تحت ہیں ﴿ وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ﴾ ’’اور نہیں ہیں ان کے واسطے اللہ کے سوا کوئی دوست‘‘ جو ان کی تکلیف دور کر سکیں یا ان کے لیے کوئی فائدہ حاصل کر سکیں بلکہ ان کے درمیان تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔ ﴿ يُضٰعَفُ لَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’دوگنا ہے ان کے لیے عذاب‘‘ ان کے لیے عذاب بہت سخت ہوگا اور بڑھتا چلا جائے گا کیونکہ انھوں نے خود اپنے آپ کو گمراہ کیا اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے۔ ﴿ مَا كَانُوۡا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ السَّمۡعَ ﴾ ’’نہیں طاقت رکھتے تھے وہ سننے کی‘‘ یعنی حق کے خلاف بغض اور نفرت رکھنے کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سن نہیں سکتے جس سے وہ منتفع ہو سکیں ﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَۙ۰۰كَاَنَّهُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌۙ۰۰ فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ ﴾(المدثر: 74؍49-51) ’’انھیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ نصیحت سے روگردانی کرتے ہیں گویا وہ بدکے ہوئے گدھے ہیں جو شیر سے ڈر کر بھاگے ہوں ۔‘‘ ﴿ وَمَا كَانُوۡا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ دیکھتے تھے‘‘ یعنی وہ عبرت اور تفکر و تدبر کی نظر سے نہیں دیکھتے جس سے وہ فائدہ اٹھا سکیں ۔ وہ تو بہروں اور گونگوں کی مانند ہیں جو سوچنے، سمجھنے سے محروم ہیں ۔
[21]﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو‘‘ کیونکہ وہ سب سے بڑے ثواب سے محروم ہو گئے اور شدید ترین عذاب کے مستحق قرار پائے ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور گم ہو گیا ان سے وہ جو جھوٹ باندھتے تھے‘‘ یعنی ان کا وہ دین جس کی طرف یہ لوگوں کو دعوت دیا کرتے تھے اور جس کی یہ تحسین کیا کرتے تھے مٹ گیا اور جب آپ کے رب کا حکم آ گیا تو ان کے وہ جھوٹے خدا ان کے کسی کام نہ آئے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے۔
[22]﴿ لَا جَرَمَ ﴾ ’’بلاشبہ‘‘ یعنی یہ بات حق اور سچ ہے کہ ﴿ اَنَّهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ان پر منحصر کر دیا ہے بلکہ ان کے لیے شدید ترین خسارہ مقررہ کیا کیونکہ ان کی حسرت اور محرومی نہایت شدید ہوگی۔ مشقت اور عذاب ان پر مستزاد ہو گا۔ ہم ان کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
11:22لَا جَرَمَ أَنَّهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ هُمُ ٱلۡأَخۡسَرُونَ
اور کون شخص زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے باندھا اوپر اللہ کے جھوٹ؟ یہی لوگ پیش کیے جائیں گے اوپر اپنے رب کے اور کہیں گے گواہ (فرشتے) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا تھا اوپر اپنے رب کے، آگاہ رہو! لعنت ہے اللہ کی اوپر ظالموں کے (18) وہ لوگ جو روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور تلاش کرتے ہیں اس میں کجی اور وہی ہیں ساتھ آخرت کے کفر کرنے والے (19) یہ لوگ نہ تھے عاجز کرنے والے (اللہ کو) زمین میں اور نہ تھا واسطے ان کے سوائے اللہ کے کوئی حمایتی، دگنا کیا جائے گا واسطے ان کے عذاب، نہ تھے وہ استطاعت رکھتے (حق) سننے کی اور نہ تھے وہ (حق کو) دیکھتے (20) یہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنے آپ کو اور گم ہو گیا ان سے وہ جو تھے وہ افتراء باندھتے (21) یقینا بلاشبہ وہی لوگ آخرت میں خسارہ پانے والے ہیں (22)
[18]﴿وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے‘‘ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اور اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کی طرف کوئی شریک منسوب کرتا ہے یا اسے کسی ایسی صفت سے متصف کرتا ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس کی طرف سے کوئی ایسی بات کہتا ہے جو اس نے نہیں کہی یا وہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی بھی طرح سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ پس یہ لوگ سب سے بڑے ظالم ہیں ﴿اُولٰٓىِٕكَ يُعۡرَضُوۡنَ عَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے‘‘ تاکہ وہ انھیں ان کے ظلم کا بدلہ دے۔ جب وہ ان کے خلاف سخت عذاب کا فیصلہ سنائے گا ﴿وَيَقُوۡلُ الۡاَشۡهَادُ ﴾ ’’کہیں گے گواہی دینے والے‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان کے خلاف ان کے کذب و افترا پر گواہی دیں گے ﴿هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ كَذَبُوۡا عَلٰى رَبِّهِمۡ١ۚ اَلَا لَعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا اپنے رب پر، خبردار، اللہ کی لعنت ہے جھوٹوں پر‘‘ یعنی وہ لعنت جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا کیونکہ ظلم ان کا وصف لازم بن چکا ہے، جو تخفیف کے قابل نہیں ۔
[19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو کہ روکتے ہیں اللہ کے راستے سے‘‘ پس انھوں نے اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور یہ انبیاء و مرسلین کا راستہ ہے جس کی طرف انبیاء لوگوں کو دعوت دیتے رہے اور وہ دوسرے لوگوں کو بھی اس راستے سے روکتے رہے۔ پس وہ ائمہ ضلالت بن گئے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿وَيَبۡغُوۡنَهَا ﴾ ’’اور اس میں چاہتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ کے راستے کے بارے میں چاہتے ہیں ﴿ عِوَجًا ﴾ ’’کجی‘‘ یعنی اس راستے کو ٹیڑھا کرنے، اسے حقیر اور عیب دار قرار دینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا راستہ لوگوں کے نزدیک غیر مستقیم قرار پائے۔ پس وہ باطل کی تحسین اور حق کی برائیاں بیان کرتے ہیں … اللہ ان کا برا کرے ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘
[20]﴿اُولٰٓىِٕكَ لَمۡ يَكُوۡنُوۡا مُعۡجِزِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ لوگ نہیں تھکانے والے زمین میں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے کہیں بھاگ نہیں سکتے کیونکہ وہ اس کی گرفت میں اور اس کے دست قدرت کے تحت ہیں ﴿ وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ﴾ ’’اور نہیں ہیں ان کے واسطے اللہ کے سوا کوئی دوست‘‘ جو ان کی تکلیف دور کر سکیں یا ان کے لیے کوئی فائدہ حاصل کر سکیں بلکہ ان کے درمیان تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔ ﴿ يُضٰعَفُ لَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’دوگنا ہے ان کے لیے عذاب‘‘ ان کے لیے عذاب بہت سخت ہوگا اور بڑھتا چلا جائے گا کیونکہ انھوں نے خود اپنے آپ کو گمراہ کیا اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے۔ ﴿ مَا كَانُوۡا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ السَّمۡعَ ﴾ ’’نہیں طاقت رکھتے تھے وہ سننے کی‘‘ یعنی حق کے خلاف بغض اور نفرت رکھنے کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سن نہیں سکتے جس سے وہ منتفع ہو سکیں ﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَۙ۰۰كَاَنَّهُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌۙ۰۰ فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ ﴾(المدثر: 74؍49-51) ’’انھیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ نصیحت سے روگردانی کرتے ہیں گویا وہ بدکے ہوئے گدھے ہیں جو شیر سے ڈر کر بھاگے ہوں ۔‘‘ ﴿ وَمَا كَانُوۡا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ دیکھتے تھے‘‘ یعنی وہ عبرت اور تفکر و تدبر کی نظر سے نہیں دیکھتے جس سے وہ فائدہ اٹھا سکیں ۔ وہ تو بہروں اور گونگوں کی مانند ہیں جو سوچنے، سمجھنے سے محروم ہیں ۔
[21]﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو‘‘ کیونکہ وہ سب سے بڑے ثواب سے محروم ہو گئے اور شدید ترین عذاب کے مستحق قرار پائے ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور گم ہو گیا ان سے وہ جو جھوٹ باندھتے تھے‘‘ یعنی ان کا وہ دین جس کی طرف یہ لوگوں کو دعوت دیا کرتے تھے اور جس کی یہ تحسین کیا کرتے تھے مٹ گیا اور جب آپ کے رب کا حکم آ گیا تو ان کے وہ جھوٹے خدا ان کے کسی کام نہ آئے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے۔
[22]﴿ لَا جَرَمَ ﴾ ’’بلاشبہ‘‘ یعنی یہ بات حق اور سچ ہے کہ ﴿ اَنَّهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ان پر منحصر کر دیا ہے بلکہ ان کے لیے شدید ترین خسارہ مقررہ کیا کیونکہ ان کی حسرت اور محرومی نہایت شدید ہوگی۔ مشقت اور عذاب ان پر مستزاد ہو گا۔ ہم ان کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
11:23إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَأَخۡبَتُوٓاْ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک اور عاجزی کی انھوں نے اپنے رب کی طرف، یہی لوگ اہل جنت ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (23) مثال دونوں فریقوں کی مانند (مثال) اندھے اور بہرے، دیکھنے والے اور سننے والے کی ہے، کیا دونوں برابر ہو سکتے ہیں مثال میں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (24)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے (بدبختوں کا حال اور اللہ کے ہاں ان کا اجروثواب بیان کرنے کے بعد خوش بخت لوگوں کا حال بیان کرتے ہوئے) فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’جولوگ ایمان لائے۔‘‘ یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اصول دین اور اس کے قواعد پر ایمان لانے کا حکم دیا تو انھوں نے ان امور کا اعتراف کیا اور ان کی تصدیق کی۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور عمل نیک کیے۔‘‘ جو اعمال قلوب، اعمال جوارح اور اقوال لسان پر مشتمل ہیں ۔ ﴿ وَاَخۡبَتُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡ﴾ ’’اور عاجزی کی انھوں نے اپنے رب کے سامنے‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے سرافگندہ ہوگئے، اس کی قوت و اقتدار کے سامنے تذلل اور انکساری اختیار کی، اپنے دل میں اس کی محبت، اس کا خوف اور اس پر امیدیں رکھتے ہوئے اس کی طرف لوٹے اور اس کے حضور اپنی عاجزی اور بے مائیگی کا اظہار کیا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی‘‘یعنی وہ لوگ جن میں یہ تمام صفات جمع ہیں ﴿ اَصۡحٰؔبُ الۡجَنَّةِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’جنتی ہیں ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ کیونکہ بھلائی کا کوئی ایسا مقصد نہیں جو انھوں نے حاصل نہ کیا اور کوئی ایسی منزل نہیں جس کی طرف انھوں نے سبقت نہ کی ہو۔
[24]﴿ مَثَلُ الۡفَرِيۡقَيۡنِ ﴾ ’’مثال دو گروہوں کی‘‘ یعنی بدبختوں کا گروہ اور نیک بختوں کا گروہ ﴿ كَالۡاَعۡمٰى وَالۡاَصَمِّ ﴾ ’’اندھے اور بہرے کی مانند ہیں ‘‘ یعنی ان بدبختوں کا گروہ ﴿ وَالۡبَصِيۡرِ وَالسَّمِيۡعِ﴾ ’’اور دیکھنے، سننے والے کی مانند ہیں ‘‘ یعنی سعادت مند لوگوں کی مثل۔ ﴿ هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ مَثَلًا﴾ ’’کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہو سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی مثال میں دونوں مساوی نہیں ہیں بلکہ دونوں کے درمیان فرق ہے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’پس تم کیوں دھیان نہیں دیتے‘‘ ان اعمال کی طرف جو تمھیں فائدہ دیں اور تم انھیں بجا لاؤ اور ان اعمال کی طرف، جو تمھارے لیے نقصان دہ ہیں ، پس تم ان کو چھوڑ دو۔
11:24۞مَثَلُ ٱلۡفَرِيقَيۡنِ كَٱلۡأَعۡمَىٰ وَٱلۡأَصَمِّ وَٱلۡبَصِيرِ وَٱلسَّمِيعِۚ هَلۡ يَسۡتَوِيَانِ مَثَلًاۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک اور عاجزی کی انھوں نے اپنے رب کی طرف، یہی لوگ اہل جنت ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (23) مثال دونوں فریقوں کی مانند (مثال) اندھے اور بہرے، دیکھنے والے اور سننے والے کی ہے، کیا دونوں برابر ہو سکتے ہیں مثال میں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (24)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے (بدبختوں کا حال اور اللہ کے ہاں ان کا اجروثواب بیان کرنے کے بعد خوش بخت لوگوں کا حال بیان کرتے ہوئے) فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’جولوگ ایمان لائے۔‘‘ یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اصول دین اور اس کے قواعد پر ایمان لانے کا حکم دیا تو انھوں نے ان امور کا اعتراف کیا اور ان کی تصدیق کی۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور عمل نیک کیے۔‘‘ جو اعمال قلوب، اعمال جوارح اور اقوال لسان پر مشتمل ہیں ۔ ﴿ وَاَخۡبَتُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡ﴾ ’’اور عاجزی کی انھوں نے اپنے رب کے سامنے‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے سرافگندہ ہوگئے، اس کی قوت و اقتدار کے سامنے تذلل اور انکساری اختیار کی، اپنے دل میں اس کی محبت، اس کا خوف اور اس پر امیدیں رکھتے ہوئے اس کی طرف لوٹے اور اس کے حضور اپنی عاجزی اور بے مائیگی کا اظہار کیا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی‘‘یعنی وہ لوگ جن میں یہ تمام صفات جمع ہیں ﴿ اَصۡحٰؔبُ الۡجَنَّةِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’جنتی ہیں ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ کیونکہ بھلائی کا کوئی ایسا مقصد نہیں جو انھوں نے حاصل نہ کیا اور کوئی ایسی منزل نہیں جس کی طرف انھوں نے سبقت نہ کی ہو۔
[24]﴿ مَثَلُ الۡفَرِيۡقَيۡنِ ﴾ ’’مثال دو گروہوں کی‘‘ یعنی بدبختوں کا گروہ اور نیک بختوں کا گروہ ﴿ كَالۡاَعۡمٰى وَالۡاَصَمِّ ﴾ ’’اندھے اور بہرے کی مانند ہیں ‘‘ یعنی ان بدبختوں کا گروہ ﴿ وَالۡبَصِيۡرِ وَالسَّمِيۡعِ﴾ ’’اور دیکھنے، سننے والے کی مانند ہیں ‘‘ یعنی سعادت مند لوگوں کی مثل۔ ﴿ هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ مَثَلًا﴾ ’’کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہو سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی مثال میں دونوں مساوی نہیں ہیں بلکہ دونوں کے درمیان فرق ہے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’پس تم کیوں دھیان نہیں دیتے‘‘ ان اعمال کی طرف جو تمھیں فائدہ دیں اور تم انھیں بجا لاؤ اور ان اعمال کی طرف، جو تمھارے لیے نقصان دہ ہیں ، پس تم ان کو چھوڑ دو۔
11:25وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوۡمِهِۦٓ إِنِّي لَكُمۡ نَذِيرٞ مُّبِينٌ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:26أَن لَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّا ٱللَّهَۖ إِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ أَلِيمٖ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:27فَقَالَ ٱلۡمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَوۡمِهِۦ مَا نَرَىٰكَ إِلَّا بَشَرٗا مِّثۡلَنَا وَمَا نَرَىٰكَ ٱتَّبَعَكَ إِلَّا ٱلَّذِينَ هُمۡ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ ٱلرَّأۡيِ وَمَا نَرَىٰ لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِن فَضۡلِۭ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كَٰذِبِينَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:28قَالَ يَٰقَوۡمِ أَرَءَيۡتُمۡ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّي وَءَاتَىٰنِي رَحۡمَةٗ مِّنۡ عِندِهِۦ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ أَنُلۡزِمُكُمُوهَا وَأَنتُمۡ لَهَا كَٰرِهُونَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:29وَيَٰقَوۡمِ لَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًاۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِۚ وَمَآ أَنَا۠ بِطَارِدِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْۚ إِنَّهُم مُّلَٰقُواْ رَبِّهِمۡ وَلَٰكِنِّيٓ أَرَىٰكُمۡ قَوۡمٗا تَجۡهَلُونَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:30وَيَٰقَوۡمِ مَن يَنصُرُنِي مِنَ ٱللَّهِ إِن طَرَدتُّهُمۡۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:31وَلَآ أَقُولُ لَكُمۡ عِندِي خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ وَلَآ أَقُولُ إِنِّي مَلَكٞ وَلَآ أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزۡدَرِيٓ أَعۡيُنُكُمۡ لَن يُؤۡتِيَهُمُ ٱللَّهُ خَيۡرًاۖ ٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا فِيٓ أَنفُسِهِمۡ إِنِّيٓ إِذٗا لَّمِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:32قَالُواْ يَٰنُوحُ قَدۡ جَٰدَلۡتَنَا فَأَكۡثَرۡتَ جِدَٰلَنَا فَأۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:33قَالَ إِنَّمَا يَأۡتِيكُم بِهِ ٱللَّهُ إِن شَآءَ وَمَآ أَنتُم بِمُعۡجِزِينَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:34وَلَا يَنفَعُكُمۡ نُصۡحِيٓ إِنۡ أَرَدتُّ أَنۡ أَنصَحَ لَكُمۡ إِن كَانَ ٱللَّهُ يُرِيدُ أَن يُغۡوِيَكُمۡۚ هُوَ رَبُّكُمۡ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:35أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰهُۖ قُلۡ إِنِ ٱفۡتَرَيۡتُهُۥ فَعَلَيَّ إِجۡرَامِي وَأَنَا۠ بَرِيٓءٞ مِّمَّا تُجۡرِمُونَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:36وَأُوحِيَ إِلَىٰ نُوحٍ أَنَّهُۥ لَن يُؤۡمِنَ مِن قَوۡمِكَ إِلَّا مَن قَدۡ ءَامَنَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا كَانُواْ يَفۡعَلُونَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:37وَٱصۡنَعِ ٱلۡفُلۡكَ بِأَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا وَلَا تُخَٰطِبۡنِي فِي ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ إِنَّهُم مُّغۡرَقُونَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:38وَيَصۡنَعُ ٱلۡفُلۡكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَأٞ مِّن قَوۡمِهِۦ سَخِرُواْ مِنۡهُۚ قَالَ إِن تَسۡخَرُواْ مِنَّا فَإِنَّا نَسۡخَرُ مِنكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُونَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:39فَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَ مَن يَأۡتِيهِ عَذَابٞ يُخۡزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٞ مُّقِيمٌ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:40حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَمۡرُنَا وَفَارَ ٱلتَّنُّورُ قُلۡنَا ٱحۡمِلۡ فِيهَا مِن كُلّٖ زَوۡجَيۡنِ ٱثۡنَيۡنِ وَأَهۡلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيۡهِ ٱلۡقَوۡلُ وَمَنۡ ءَامَنَۚ وَمَآ ءَامَنَ مَعَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلٞ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:41۞وَقَالَ ٱرۡكَبُواْ فِيهَا بِسۡمِ ٱللَّهِ مَجۡرٜىٰهَا وَمُرۡسَىٰهَآۚ إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٞ رَّحِيمٞ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:42وَهِيَ تَجۡرِي بِهِمۡ فِي مَوۡجٖ كَٱلۡجِبَالِ وَنَادَىٰ نُوحٌ ٱبۡنَهُۥ وَكَانَ فِي مَعۡزِلٖ يَٰبُنَيَّ ٱرۡكَب مَّعَنَا وَلَا تَكُن مَّعَ ٱلۡكَٰفِرِينَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:43قَالَ سَـَٔاوِيٓ إِلَىٰ جَبَلٖ يَعۡصِمُنِي مِنَ ٱلۡمَآءِۚ قَالَ لَا عَاصِمَ ٱلۡيَوۡمَ مِنۡ أَمۡرِ ٱللَّهِ إِلَّا مَن رَّحِمَۚ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا ٱلۡمَوۡجُ فَكَانَ مِنَ ٱلۡمُغۡرَقِينَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:44وَقِيلَ يَـٰٓأَرۡضُ ٱبۡلَعِي مَآءَكِ وَيَٰسَمَآءُ أَقۡلِعِي وَغِيضَ ٱلۡمَآءُ وَقُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ وَٱسۡتَوَتۡ عَلَى ٱلۡجُودِيِّۖ وَقِيلَ بُعۡدٗا لِّلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:45وَنَادَىٰ نُوحٞ رَّبَّهُۥ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ٱبۡنِي مِنۡ أَهۡلِي وَإِنَّ وَعۡدَكَ ٱلۡحَقُّ وَأَنتَ أَحۡكَمُ ٱلۡحَٰكِمِينَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:46قَالَ يَٰنُوحُ إِنَّهُۥ لَيۡسَ مِنۡ أَهۡلِكَۖ إِنَّهُۥ عَمَلٌ غَيۡرُ صَٰلِحٖۖ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٌۖ إِنِّيٓ أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ ٱلۡجَٰهِلِينَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:47قَالَ رَبِّ إِنِّيٓ أَعُوذُ بِكَ أَنۡ أَسۡـَٔلَكَ مَا لَيۡسَ لِي بِهِۦ عِلۡمٞۖ وَإِلَّا تَغۡفِرۡ لِي وَتَرۡحَمۡنِيٓ أَكُن مِّنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:48قِيلَ يَٰنُوحُ ٱهۡبِطۡ بِسَلَٰمٖ مِّنَّا وَبَرَكَٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلَىٰٓ أُمَمٖ مِّمَّن مَّعَكَۚ وَأُمَمٞ سَنُمَتِّعُهُمۡ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٞ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:49تِلۡكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ ٱلۡغَيۡبِ نُوحِيهَآ إِلَيۡكَۖ مَا كُنتَ تَعۡلَمُهَآ أَنتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِن قَبۡلِ هَٰذَاۖ فَٱصۡبِرۡۖ إِنَّ ٱلۡعَٰقِبَةَ لِلۡمُتَّقِينَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔
11:50وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمۡ هُودٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥٓۖ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا مُفۡتَرُونَ
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، نہیں ہو تم مگر جھوٹ گھڑنے والے (50) اے میری قوم! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی اجر کا، نہیں ہے اجر میرا مگر اوپر اس ذات کے جس نے پیدا کیا مجھے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (51)اور اے میری قوم! مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف ، وہ بھیجے گا بادل اوپر تمھارے خوب برسنے والےاور بڑھا دے گا تمھیں قوت میں ساتھ تمھاری (موجودہ) قوت کے اور مت روگردانی کرو مجرم بن کر(52) انھوں نے کہا، اے ہود! نہیں لایا تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل اور نہیں ہیں ہم چھوڑنے والے اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سےاور نہیں ہیں ہم تجھ پر ایمان لانے والے (53) نہیں کہتے ہم مگر یہ کہ مبتلا کر دیا ہے تجھے کسی ہمارے معبود نے برائی (خلل دماغ) میں ، ہود نے کہا، بے شک میں گواہ بناتا ہوں اللہ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ بے شک میں بری ہوں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو (54) سوائے اللہ کے، پس تدبیر کر لو تم مجھے نقصان پہنچانے کی سب مل کر ، پھر نہ مہلت دو تم مجھے (55)بے شک میں نے بھروسہ کیا ہے اوپر اللہ کے، جو رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا ، نہیں کوئی چلنے والا جاندار (زمین پر) مگر اللہ پکڑے ہوئے ہے پیشانی اس کی، بلاشبہ میرا رب اوپر سیدھے راستے کے ہے (56) پس اگر روگردانی کرو تم تو تحقیق پہنچا دی ہے میں نے تمھیں وہ چیز کہ بھیجا گیا ہوں میں ساتھ اس کے تمھاری طرف اور (تمھارا) جانشین بنا دے گا میرا رب ایک اور قوم کو سوائے تمھارےاور نہ نقصان پہنچا سکو گے تم اسے کچھ بھی، بلاشبہ میرا رب اوپر ہر چیز کے نگہبان ہے (57) اور جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، اپنے فضل سےاور نجات دی ہم نے انھیں عذاب شدید سے (58) اور یہ عاد ہیں ، انھوں نے انکار کیا تھا آیتوں کا اپنے رب کی اور نافرمانی کی اللہ کے رسولوں کی اور پیروی کی انھوں نے حکم کی ہر سرکش عناد رکھنے والے کے (59) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، آگاہ رہو! بلاشبہ عاد (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے عاد، قوم ہود کے (60)
[50]﴿وَاِلٰى عَادٍ ﴾ ’’اور عاد کی طرف‘‘ یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا ’’عاد‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو سرزمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ نسب میں ان کے بھائی ﴿هُوۡدًا﴾ ’’ہود کو‘‘ تاکہ وہ ان سے علم حاصل کر سکیں ۔ ﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تم بہتان باندھتے ہو‘‘ یعنی ہودu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کیا اور انھیں آگاہ کیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کو اختیار کر کے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا کی عبادت کے فساد کو واضح فرمایا۔
[51] پھر اطاعت کے راستے پر گامزن ہونے سے کسی چیز کے مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اے میری قوم! میں اس کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں تمھارے اموال میں سے کوئی تاوان وصول نہیں کرتا کہ تمھیں کہنا پڑے ’’یہ ہمارے مال ہتھیانا چاہتا ہے‘‘ میں تو تمھیں بغیر کسی معاوضہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں اور تمھیں تعلیم دیتا ہوں ۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، کیا پس تم نہیں سمجھتے‘‘ یعنی جس چیز کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں کیا تم اسے سمجھتے نہیں کہ یہ قبولیت کی موجب ہے اس کو قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
[52]﴿ وَيٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔‘‘ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہو چکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’پھر اس کے آگے توبہ کرو۔‘‘ یعنی آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے ﴿ يُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّؔدۡرَارًا﴾ ’’وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿ وَّيَزِدۡؔكُمۡ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں ‘‘ کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا: ﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حم السجدہ: 41؍15) ’’ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کی قوت میں اور اضافہ کر دے گا۔ ﴿ وَلَا تَتَوَلَّوۡا﴾ ’’اور روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اپنے رب سے منہ نہ موڑو ﴿ مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ہو کر‘‘ یعنی تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑو اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت نہ کرو۔
[53]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ يٰهُوۡدُ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا‘‘ اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لیے لازم نہیں بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہودu ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر کرتا ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔اگر ان کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہ بھی ظاہر ہوا ہوتا سوائے دعوت کے جس میں دین کو اللہ وحدہ لا شریک کے لیے خالص کرنے کی تاکید ہو، نیک عمل اور اخلاق جمیلہ کا حکم دیا گیا ہو اور اخلاق مذمومہ، یعنی شرک، فواحش، ظلم اور دیگر مختلف قسم کی برائیوں سے روکا گیا ہو نیز اس کی تائید میں ہودu کی وہ صفات بھی ہوں جو مخلوق میں سب سے اچھے اور سب سے سچے شخص کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں تو ان کی صداقت پر دلیل کے لیے یہی چیز کافی تھی… بلکہ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز مجرد خرق عادت معجزات سے زیادہ بڑی نشانی ہے۔ حضرت ہودu کی صداقت پر دلالت کرنے والی آیات و بینات میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ فرد واحد ہے، اس کے کوئی انصار و اعوان نہیں ، وہ اپنی قوم میں پکار پکار کر کہتا ہے اور ان کو عاجز کر دیتا ہے وہ کہتا ہے ﴿ اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ ﴿قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’ہود نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان ہستیوں سے بیزار ہوں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے پھر تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ وہ دشمن ہیں ان کے پاس سطوت، غلبہ اور اقتدار ہے وہ ہر طریقے سے اس روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں جسے ہودu لے کر آئے ہیں وہ ان دشمنوں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور یہ ہیں کہ ہودu کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز اور بے بس ہیں ۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں ۔کفار نے کہا:﴿ وَّمَا نَحۡنُ بِتَارِكِيۡۤ اٰلِهَتِنَا عَنۡ قَوۡلِكَ ﴾ ’’اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ۔‘‘ یعنی ہم مجرد تیرے قول پر جس پر… ان کے زعم کے مطابق… کوئی دلیل نہیں ، اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑ سکتے ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور ہم تیرا یقین کرنے والے نہیں ‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے ایمان کے بارے میں اپنے نبی ہودu کے ساتھ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ اپنے کفر میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔
[54]﴿اِنۡ نَّقُوۡلُ ﴾ ہم تیرے بارے میں کہتے ہیں : ﴿ اِلَّا اعۡتَرٰىكَ بَعۡضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوۡٓءٍ﴾ ’’تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے‘‘ یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کر کے تجھے جنون لاحق کر دیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کر دیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کر دی۔ انھوں نے کس طرح سب سے سچے انسان کو، جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔
[55] اسی لیے ہودu نے واضح فرمایا کہ انھیں پورا وثوق ہے کہ ان کی طرف سے یا ان کے معبودوں کی طرف سے انھیں کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی، بنا بریں فرمایا:﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ﴾ یعنی تم سب ہر ممکن طریقے سے مجھے نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کر لو ﴿ ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’پھر مجھے کوئی مہلت بھی نہ دو۔‘‘
[56]﴿اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے اللہ پر توکل کیا۔‘‘ یعنی میں نے اپنے تمام معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ ﴿ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ یعنی وہ تمام موجودات کا خالق ہے، وہی ہے جو ہماری اور تمھاری تدبیر کرتا ہے اور وہی ہے جس نے ہماری تربیت کی ﴿ مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾ ’’جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی کوئی جان دار اس کے حکم کے بغیر حرکت کرتا ہے نہ ساکن ہوتا ہے۔ اگر تم سب مل کر مجھے کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ تمھیں مجھ پر مسلط نہ کرے تو تم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں اس کی کوئی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے‘‘ یعنی میرا رب عدل و انصاف اور حکمت پر ہے وہ اپنی قضا و قدر، شرع وامر، جزا اور اپنے ثواب و عقاب میں قابل ستائش ہے اس کے افعال صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے نہیں جس کی وجہ سے اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔
[57]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پس اگر تم روگردانی کرو۔‘‘ یعنی اگر تم اس چیز سے منہ موڑ لو جس کی طرف میں تمھیں بلاتا ہوں ﴿ فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’تو تحقیق میں پہنچا چکا تمھیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمھاری طرف بھیجا گیا تھا‘‘ پس میرے ذمے تمھارے معاملے میں کوئی چیز باقی نہیں ۔ ﴿وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّيۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ ﴾ ’’اور جانشین بنائے گا میرا رب، تمھارے علاوہ کسی اور قوم کو‘‘ جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ﴿ وَلَا تَضُرُّوۡنَهٗ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے‘‘ کیونکہ تمھارا ضرر تمھاری ہی طرف لوٹے گا۔ اہل معاصی کی معصیت اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے نہ اہل اطاعت کی اطاعت اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ﴿ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے اور جو کوئی برے کام کرتا ہے تو اس کا نقصان اسی کے لیے ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡؔظٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘
[58]﴿ وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب نامبارک ہوا کی صورت میں ہمارا عذاب آیا۔ ﴿ مَا تَذَرُ مِنۡ شَيۡءٍ اَتَتۡ عَلَيۡهِ اِلَّا جَعَلَتۡهُ كَالرَّمِيۡمِ﴾(الذاریات: 51؍42) ’’جس چیز پر بھی وہ چلتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی مانند ریزہ ریزہ کیے دیتی تھی‘‘ ﴿ نَجَّيۡنَا هُوۡدًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَنَجَّيۡنٰهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا‘‘ یعنی نہایت عظیم عذاب جسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر نازل فرمایا۔ اس عذاب نے ان کی یہ حالت کر دی کہ ان کے مساکن کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔
[59]﴿ وَتِلۡكَ عَادٌ﴾ ’’یہ قوم عاد تھی‘‘ جن پر ان کے ظلم کی پاداش میں یہ عذاب نازل فرمایا کیونکہ ﴿ جَحَدُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا‘‘ اور کہنے لگے: ﴿ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے‘‘ پس اس سے واضح ہوا کہ ہودu کی دعوت کی صداقت کے بارے میں انھیں یقین تھا، انھوں نے محض عناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا تھا۔ ﴿ وَعَصَوۡا رُسُلَهٗ ﴾’’اورانھوں نے اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی اور جو کوئی کسی ایک رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ تمام رسولوں کی نافرمانی کرتا ہے کیونکہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ایک ہے۔﴿ وَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ ﴾ ’’اور انھوں نے حکم مانا ہر اس شخص کا جو سرکش تھا‘‘ یعنی وہ شخص جو جبر و استبداد کے ذریعے سے اللہ کے بندوں پر مسلط ہو جاتا ہے۔ ﴿ عَنِيۡدٍ ﴾ ’’سرکش‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ انھوں نے ہر خیر خواہ اور مشفق کی نافرمانی کی اور ہر دھوکے باز کی پیروی کی جو ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔
[60]﴿وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً ﴾ ’’اور پیچھے لگی رہی ان کے اس دنیا میں پھٹکار‘‘ پس ہر وقت اور ہر زمانے میں ان کے کرتوتوں اور بری خبروں کا لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں اور ایسی مذمت کے ساتھ ان کو یاد کرتے ہیں جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے روز بھی‘‘ وہ ملعون ٹھہریں گے۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ﴾ ’’خبردار! بے شک عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا‘‘ انھوں نے اس ہستی کا انکار کر دیا جس نے ان کو پیدا کیا، ان کو رزق دیا اور ان کی تربیت کی ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ ﴾ ’’سنو! ہود کی قوم عاد کے لیے دوری ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ہر بھلائی سے دور اور برائی سے قریب کر دیا۔
11:51يَٰقَوۡمِ لَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ أَجۡرًاۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱلَّذِي فَطَرَنِيٓۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، نہیں ہو تم مگر جھوٹ گھڑنے والے (50) اے میری قوم! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی اجر کا، نہیں ہے اجر میرا مگر اوپر اس ذات کے جس نے پیدا کیا مجھے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (51)اور اے میری قوم! مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف ، وہ بھیجے گا بادل اوپر تمھارے خوب برسنے والےاور بڑھا دے گا تمھیں قوت میں ساتھ تمھاری (موجودہ) قوت کے اور مت روگردانی کرو مجرم بن کر(52) انھوں نے کہا، اے ہود! نہیں لایا تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل اور نہیں ہیں ہم چھوڑنے والے اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سےاور نہیں ہیں ہم تجھ پر ایمان لانے والے (53) نہیں کہتے ہم مگر یہ کہ مبتلا کر دیا ہے تجھے کسی ہمارے معبود نے برائی (خلل دماغ) میں ، ہود نے کہا، بے شک میں گواہ بناتا ہوں اللہ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ بے شک میں بری ہوں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو (54) سوائے اللہ کے، پس تدبیر کر لو تم مجھے نقصان پہنچانے کی سب مل کر ، پھر نہ مہلت دو تم مجھے (55)بے شک میں نے بھروسہ کیا ہے اوپر اللہ کے، جو رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا ، نہیں کوئی چلنے والا جاندار (زمین پر) مگر اللہ پکڑے ہوئے ہے پیشانی اس کی، بلاشبہ میرا رب اوپر سیدھے راستے کے ہے (56) پس اگر روگردانی کرو تم تو تحقیق پہنچا دی ہے میں نے تمھیں وہ چیز کہ بھیجا گیا ہوں میں ساتھ اس کے تمھاری طرف اور (تمھارا) جانشین بنا دے گا میرا رب ایک اور قوم کو سوائے تمھارےاور نہ نقصان پہنچا سکو گے تم اسے کچھ بھی، بلاشبہ میرا رب اوپر ہر چیز کے نگہبان ہے (57) اور جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، اپنے فضل سےاور نجات دی ہم نے انھیں عذاب شدید سے (58) اور یہ عاد ہیں ، انھوں نے انکار کیا تھا آیتوں کا اپنے رب کی اور نافرمانی کی اللہ کے رسولوں کی اور پیروی کی انھوں نے حکم کی ہر سرکش عناد رکھنے والے کے (59) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، آگاہ رہو! بلاشبہ عاد (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے عاد، قوم ہود کے (60)
[50]﴿وَاِلٰى عَادٍ ﴾ ’’اور عاد کی طرف‘‘ یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا ’’عاد‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو سرزمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ نسب میں ان کے بھائی ﴿هُوۡدًا﴾ ’’ہود کو‘‘ تاکہ وہ ان سے علم حاصل کر سکیں ۔ ﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تم بہتان باندھتے ہو‘‘ یعنی ہودu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کیا اور انھیں آگاہ کیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کو اختیار کر کے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا کی عبادت کے فساد کو واضح فرمایا۔
[51] پھر اطاعت کے راستے پر گامزن ہونے سے کسی چیز کے مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اے میری قوم! میں اس کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں تمھارے اموال میں سے کوئی تاوان وصول نہیں کرتا کہ تمھیں کہنا پڑے ’’یہ ہمارے مال ہتھیانا چاہتا ہے‘‘ میں تو تمھیں بغیر کسی معاوضہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں اور تمھیں تعلیم دیتا ہوں ۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، کیا پس تم نہیں سمجھتے‘‘ یعنی جس چیز کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں کیا تم اسے سمجھتے نہیں کہ یہ قبولیت کی موجب ہے اس کو قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
[52]﴿ وَيٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔‘‘ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہو چکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’پھر اس کے آگے توبہ کرو۔‘‘ یعنی آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے ﴿ يُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّؔدۡرَارًا﴾ ’’وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿ وَّيَزِدۡؔكُمۡ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں ‘‘ کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا: ﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حم السجدہ: 41؍15) ’’ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کی قوت میں اور اضافہ کر دے گا۔ ﴿ وَلَا تَتَوَلَّوۡا﴾ ’’اور روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اپنے رب سے منہ نہ موڑو ﴿ مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ہو کر‘‘ یعنی تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑو اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت نہ کرو۔
[53]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ يٰهُوۡدُ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا‘‘ اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لیے لازم نہیں بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہودu ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر کرتا ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔اگر ان کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہ بھی ظاہر ہوا ہوتا سوائے دعوت کے جس میں دین کو اللہ وحدہ لا شریک کے لیے خالص کرنے کی تاکید ہو، نیک عمل اور اخلاق جمیلہ کا حکم دیا گیا ہو اور اخلاق مذمومہ، یعنی شرک، فواحش، ظلم اور دیگر مختلف قسم کی برائیوں سے روکا گیا ہو نیز اس کی تائید میں ہودu کی وہ صفات بھی ہوں جو مخلوق میں سب سے اچھے اور سب سے سچے شخص کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں تو ان کی صداقت پر دلیل کے لیے یہی چیز کافی تھی… بلکہ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز مجرد خرق عادت معجزات سے زیادہ بڑی نشانی ہے۔ حضرت ہودu کی صداقت پر دلالت کرنے والی آیات و بینات میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ فرد واحد ہے، اس کے کوئی انصار و اعوان نہیں ، وہ اپنی قوم میں پکار پکار کر کہتا ہے اور ان کو عاجز کر دیتا ہے وہ کہتا ہے ﴿ اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ ﴿قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’ہود نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان ہستیوں سے بیزار ہوں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے پھر تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ وہ دشمن ہیں ان کے پاس سطوت، غلبہ اور اقتدار ہے وہ ہر طریقے سے اس روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں جسے ہودu لے کر آئے ہیں وہ ان دشمنوں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور یہ ہیں کہ ہودu کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز اور بے بس ہیں ۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں ۔کفار نے کہا:﴿ وَّمَا نَحۡنُ بِتَارِكِيۡۤ اٰلِهَتِنَا عَنۡ قَوۡلِكَ ﴾ ’’اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ۔‘‘ یعنی ہم مجرد تیرے قول پر جس پر… ان کے زعم کے مطابق… کوئی دلیل نہیں ، اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑ سکتے ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور ہم تیرا یقین کرنے والے نہیں ‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے ایمان کے بارے میں اپنے نبی ہودu کے ساتھ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ اپنے کفر میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔
[54]﴿اِنۡ نَّقُوۡلُ ﴾ ہم تیرے بارے میں کہتے ہیں : ﴿ اِلَّا اعۡتَرٰىكَ بَعۡضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوۡٓءٍ﴾ ’’تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے‘‘ یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کر کے تجھے جنون لاحق کر دیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کر دیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کر دی۔ انھوں نے کس طرح سب سے سچے انسان کو، جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔
[55] اسی لیے ہودu نے واضح فرمایا کہ انھیں پورا وثوق ہے کہ ان کی طرف سے یا ان کے معبودوں کی طرف سے انھیں کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی، بنا بریں فرمایا:﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ﴾ یعنی تم سب ہر ممکن طریقے سے مجھے نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کر لو ﴿ ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’پھر مجھے کوئی مہلت بھی نہ دو۔‘‘
[56]﴿اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے اللہ پر توکل کیا۔‘‘ یعنی میں نے اپنے تمام معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ ﴿ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ یعنی وہ تمام موجودات کا خالق ہے، وہی ہے جو ہماری اور تمھاری تدبیر کرتا ہے اور وہی ہے جس نے ہماری تربیت کی ﴿ مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾ ’’جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی کوئی جان دار اس کے حکم کے بغیر حرکت کرتا ہے نہ ساکن ہوتا ہے۔ اگر تم سب مل کر مجھے کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ تمھیں مجھ پر مسلط نہ کرے تو تم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں اس کی کوئی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے‘‘ یعنی میرا رب عدل و انصاف اور حکمت پر ہے وہ اپنی قضا و قدر، شرع وامر، جزا اور اپنے ثواب و عقاب میں قابل ستائش ہے اس کے افعال صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے نہیں جس کی وجہ سے اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔
[57]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پس اگر تم روگردانی کرو۔‘‘ یعنی اگر تم اس چیز سے منہ موڑ لو جس کی طرف میں تمھیں بلاتا ہوں ﴿ فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’تو تحقیق میں پہنچا چکا تمھیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمھاری طرف بھیجا گیا تھا‘‘ پس میرے ذمے تمھارے معاملے میں کوئی چیز باقی نہیں ۔ ﴿وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّيۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ ﴾ ’’اور جانشین بنائے گا میرا رب، تمھارے علاوہ کسی اور قوم کو‘‘ جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ﴿ وَلَا تَضُرُّوۡنَهٗ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے‘‘ کیونکہ تمھارا ضرر تمھاری ہی طرف لوٹے گا۔ اہل معاصی کی معصیت اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے نہ اہل اطاعت کی اطاعت اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ﴿ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے اور جو کوئی برے کام کرتا ہے تو اس کا نقصان اسی کے لیے ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡؔظٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘
[58]﴿ وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب نامبارک ہوا کی صورت میں ہمارا عذاب آیا۔ ﴿ مَا تَذَرُ مِنۡ شَيۡءٍ اَتَتۡ عَلَيۡهِ اِلَّا جَعَلَتۡهُ كَالرَّمِيۡمِ﴾(الذاریات: 51؍42) ’’جس چیز پر بھی وہ چلتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی مانند ریزہ ریزہ کیے دیتی تھی‘‘ ﴿ نَجَّيۡنَا هُوۡدًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَنَجَّيۡنٰهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا‘‘ یعنی نہایت عظیم عذاب جسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر نازل فرمایا۔ اس عذاب نے ان کی یہ حالت کر دی کہ ان کے مساکن کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔
[59]﴿ وَتِلۡكَ عَادٌ﴾ ’’یہ قوم عاد تھی‘‘ جن پر ان کے ظلم کی پاداش میں یہ عذاب نازل فرمایا کیونکہ ﴿ جَحَدُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا‘‘ اور کہنے لگے: ﴿ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے‘‘ پس اس سے واضح ہوا کہ ہودu کی دعوت کی صداقت کے بارے میں انھیں یقین تھا، انھوں نے محض عناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا تھا۔ ﴿ وَعَصَوۡا رُسُلَهٗ ﴾’’اورانھوں نے اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی اور جو کوئی کسی ایک رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ تمام رسولوں کی نافرمانی کرتا ہے کیونکہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ایک ہے۔﴿ وَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ ﴾ ’’اور انھوں نے حکم مانا ہر اس شخص کا جو سرکش تھا‘‘ یعنی وہ شخص جو جبر و استبداد کے ذریعے سے اللہ کے بندوں پر مسلط ہو جاتا ہے۔ ﴿ عَنِيۡدٍ ﴾ ’’سرکش‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ انھوں نے ہر خیر خواہ اور مشفق کی نافرمانی کی اور ہر دھوکے باز کی پیروی کی جو ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔
[60]﴿وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً ﴾ ’’اور پیچھے لگی رہی ان کے اس دنیا میں پھٹکار‘‘ پس ہر وقت اور ہر زمانے میں ان کے کرتوتوں اور بری خبروں کا لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں اور ایسی مذمت کے ساتھ ان کو یاد کرتے ہیں جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے روز بھی‘‘ وہ ملعون ٹھہریں گے۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ﴾ ’’خبردار! بے شک عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا‘‘ انھوں نے اس ہستی کا انکار کر دیا جس نے ان کو پیدا کیا، ان کو رزق دیا اور ان کی تربیت کی ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ ﴾ ’’سنو! ہود کی قوم عاد کے لیے دوری ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ہر بھلائی سے دور اور برائی سے قریب کر دیا۔
11:52وَيَٰقَوۡمِ ٱسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوبُوٓاْ إِلَيۡهِ يُرۡسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيۡكُم مِّدۡرَارٗا وَيَزِدۡكُمۡ قُوَّةً إِلَىٰ قُوَّتِكُمۡ وَلَا تَتَوَلَّوۡاْ مُجۡرِمِينَ
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، نہیں ہو تم مگر جھوٹ گھڑنے والے (50) اے میری قوم! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی اجر کا، نہیں ہے اجر میرا مگر اوپر اس ذات کے جس نے پیدا کیا مجھے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (51)اور اے میری قوم! مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف ، وہ بھیجے گا بادل اوپر تمھارے خوب برسنے والےاور بڑھا دے گا تمھیں قوت میں ساتھ تمھاری (موجودہ) قوت کے اور مت روگردانی کرو مجرم بن کر(52) انھوں نے کہا، اے ہود! نہیں لایا تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل اور نہیں ہیں ہم چھوڑنے والے اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سےاور نہیں ہیں ہم تجھ پر ایمان لانے والے (53) نہیں کہتے ہم مگر یہ کہ مبتلا کر دیا ہے تجھے کسی ہمارے معبود نے برائی (خلل دماغ) میں ، ہود نے کہا، بے شک میں گواہ بناتا ہوں اللہ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ بے شک میں بری ہوں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو (54) سوائے اللہ کے، پس تدبیر کر لو تم مجھے نقصان پہنچانے کی سب مل کر ، پھر نہ مہلت دو تم مجھے (55)بے شک میں نے بھروسہ کیا ہے اوپر اللہ کے، جو رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا ، نہیں کوئی چلنے والا جاندار (زمین پر) مگر اللہ پکڑے ہوئے ہے پیشانی اس کی، بلاشبہ میرا رب اوپر سیدھے راستے کے ہے (56) پس اگر روگردانی کرو تم تو تحقیق پہنچا دی ہے میں نے تمھیں وہ چیز کہ بھیجا گیا ہوں میں ساتھ اس کے تمھاری طرف اور (تمھارا) جانشین بنا دے گا میرا رب ایک اور قوم کو سوائے تمھارےاور نہ نقصان پہنچا سکو گے تم اسے کچھ بھی، بلاشبہ میرا رب اوپر ہر چیز کے نگہبان ہے (57) اور جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، اپنے فضل سےاور نجات دی ہم نے انھیں عذاب شدید سے (58) اور یہ عاد ہیں ، انھوں نے انکار کیا تھا آیتوں کا اپنے رب کی اور نافرمانی کی اللہ کے رسولوں کی اور پیروی کی انھوں نے حکم کی ہر سرکش عناد رکھنے والے کے (59) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، آگاہ رہو! بلاشبہ عاد (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے عاد، قوم ہود کے (60)
[50]﴿وَاِلٰى عَادٍ ﴾ ’’اور عاد کی طرف‘‘ یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا ’’عاد‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو سرزمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ نسب میں ان کے بھائی ﴿هُوۡدًا﴾ ’’ہود کو‘‘ تاکہ وہ ان سے علم حاصل کر سکیں ۔ ﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تم بہتان باندھتے ہو‘‘ یعنی ہودu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کیا اور انھیں آگاہ کیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کو اختیار کر کے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا کی عبادت کے فساد کو واضح فرمایا۔
[51] پھر اطاعت کے راستے پر گامزن ہونے سے کسی چیز کے مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اے میری قوم! میں اس کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں تمھارے اموال میں سے کوئی تاوان وصول نہیں کرتا کہ تمھیں کہنا پڑے ’’یہ ہمارے مال ہتھیانا چاہتا ہے‘‘ میں تو تمھیں بغیر کسی معاوضہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں اور تمھیں تعلیم دیتا ہوں ۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، کیا پس تم نہیں سمجھتے‘‘ یعنی جس چیز کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں کیا تم اسے سمجھتے نہیں کہ یہ قبولیت کی موجب ہے اس کو قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
[52]﴿ وَيٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔‘‘ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہو چکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’پھر اس کے آگے توبہ کرو۔‘‘ یعنی آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے ﴿ يُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّؔدۡرَارًا﴾ ’’وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿ وَّيَزِدۡؔكُمۡ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں ‘‘ کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا: ﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حم السجدہ: 41؍15) ’’ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کی قوت میں اور اضافہ کر دے گا۔ ﴿ وَلَا تَتَوَلَّوۡا﴾ ’’اور روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اپنے رب سے منہ نہ موڑو ﴿ مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ہو کر‘‘ یعنی تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑو اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت نہ کرو۔
[53]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ يٰهُوۡدُ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا‘‘ اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لیے لازم نہیں بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہودu ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر کرتا ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔اگر ان کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہ بھی ظاہر ہوا ہوتا سوائے دعوت کے جس میں دین کو اللہ وحدہ لا شریک کے لیے خالص کرنے کی تاکید ہو، نیک عمل اور اخلاق جمیلہ کا حکم دیا گیا ہو اور اخلاق مذمومہ، یعنی شرک، فواحش، ظلم اور دیگر مختلف قسم کی برائیوں سے روکا گیا ہو نیز اس کی تائید میں ہودu کی وہ صفات بھی ہوں جو مخلوق میں سب سے اچھے اور سب سے سچے شخص کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں تو ان کی صداقت پر دلیل کے لیے یہی چیز کافی تھی… بلکہ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز مجرد خرق عادت معجزات سے زیادہ بڑی نشانی ہے۔ حضرت ہودu کی صداقت پر دلالت کرنے والی آیات و بینات میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ فرد واحد ہے، اس کے کوئی انصار و اعوان نہیں ، وہ اپنی قوم میں پکار پکار کر کہتا ہے اور ان کو عاجز کر دیتا ہے وہ کہتا ہے ﴿ اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ ﴿قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’ہود نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان ہستیوں سے بیزار ہوں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے پھر تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ وہ دشمن ہیں ان کے پاس سطوت، غلبہ اور اقتدار ہے وہ ہر طریقے سے اس روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں جسے ہودu لے کر آئے ہیں وہ ان دشمنوں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور یہ ہیں کہ ہودu کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز اور بے بس ہیں ۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں ۔کفار نے کہا:﴿ وَّمَا نَحۡنُ بِتَارِكِيۡۤ اٰلِهَتِنَا عَنۡ قَوۡلِكَ ﴾ ’’اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ۔‘‘ یعنی ہم مجرد تیرے قول پر جس پر… ان کے زعم کے مطابق… کوئی دلیل نہیں ، اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑ سکتے ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور ہم تیرا یقین کرنے والے نہیں ‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے ایمان کے بارے میں اپنے نبی ہودu کے ساتھ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ اپنے کفر میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔
[54]﴿اِنۡ نَّقُوۡلُ ﴾ ہم تیرے بارے میں کہتے ہیں : ﴿ اِلَّا اعۡتَرٰىكَ بَعۡضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوۡٓءٍ﴾ ’’تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے‘‘ یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کر کے تجھے جنون لاحق کر دیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کر دیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کر دی۔ انھوں نے کس طرح سب سے سچے انسان کو، جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔
[55] اسی لیے ہودu نے واضح فرمایا کہ انھیں پورا وثوق ہے کہ ان کی طرف سے یا ان کے معبودوں کی طرف سے انھیں کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی، بنا بریں فرمایا:﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ﴾ یعنی تم سب ہر ممکن طریقے سے مجھے نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کر لو ﴿ ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’پھر مجھے کوئی مہلت بھی نہ دو۔‘‘
[56]﴿اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے اللہ پر توکل کیا۔‘‘ یعنی میں نے اپنے تمام معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ ﴿ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ یعنی وہ تمام موجودات کا خالق ہے، وہی ہے جو ہماری اور تمھاری تدبیر کرتا ہے اور وہی ہے جس نے ہماری تربیت کی ﴿ مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾ ’’جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی کوئی جان دار اس کے حکم کے بغیر حرکت کرتا ہے نہ ساکن ہوتا ہے۔ اگر تم سب مل کر مجھے کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ تمھیں مجھ پر مسلط نہ کرے تو تم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں اس کی کوئی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے‘‘ یعنی میرا رب عدل و انصاف اور حکمت پر ہے وہ اپنی قضا و قدر، شرع وامر، جزا اور اپنے ثواب و عقاب میں قابل ستائش ہے اس کے افعال صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے نہیں جس کی وجہ سے اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔
[57]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پس اگر تم روگردانی کرو۔‘‘ یعنی اگر تم اس چیز سے منہ موڑ لو جس کی طرف میں تمھیں بلاتا ہوں ﴿ فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’تو تحقیق میں پہنچا چکا تمھیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمھاری طرف بھیجا گیا تھا‘‘ پس میرے ذمے تمھارے معاملے میں کوئی چیز باقی نہیں ۔ ﴿وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّيۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ ﴾ ’’اور جانشین بنائے گا میرا رب، تمھارے علاوہ کسی اور قوم کو‘‘ جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ﴿ وَلَا تَضُرُّوۡنَهٗ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے‘‘ کیونکہ تمھارا ضرر تمھاری ہی طرف لوٹے گا۔ اہل معاصی کی معصیت اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے نہ اہل اطاعت کی اطاعت اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ﴿ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے اور جو کوئی برے کام کرتا ہے تو اس کا نقصان اسی کے لیے ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡؔظٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘
[58]﴿ وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب نامبارک ہوا کی صورت میں ہمارا عذاب آیا۔ ﴿ مَا تَذَرُ مِنۡ شَيۡءٍ اَتَتۡ عَلَيۡهِ اِلَّا جَعَلَتۡهُ كَالرَّمِيۡمِ﴾(الذاریات: 51؍42) ’’جس چیز پر بھی وہ چلتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی مانند ریزہ ریزہ کیے دیتی تھی‘‘ ﴿ نَجَّيۡنَا هُوۡدًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَنَجَّيۡنٰهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا‘‘ یعنی نہایت عظیم عذاب جسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر نازل فرمایا۔ اس عذاب نے ان کی یہ حالت کر دی کہ ان کے مساکن کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔
[59]﴿ وَتِلۡكَ عَادٌ﴾ ’’یہ قوم عاد تھی‘‘ جن پر ان کے ظلم کی پاداش میں یہ عذاب نازل فرمایا کیونکہ ﴿ جَحَدُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا‘‘ اور کہنے لگے: ﴿ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے‘‘ پس اس سے واضح ہوا کہ ہودu کی دعوت کی صداقت کے بارے میں انھیں یقین تھا، انھوں نے محض عناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا تھا۔ ﴿ وَعَصَوۡا رُسُلَهٗ ﴾’’اورانھوں نے اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی اور جو کوئی کسی ایک رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ تمام رسولوں کی نافرمانی کرتا ہے کیونکہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ایک ہے۔﴿ وَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ ﴾ ’’اور انھوں نے حکم مانا ہر اس شخص کا جو سرکش تھا‘‘ یعنی وہ شخص جو جبر و استبداد کے ذریعے سے اللہ کے بندوں پر مسلط ہو جاتا ہے۔ ﴿ عَنِيۡدٍ ﴾ ’’سرکش‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ انھوں نے ہر خیر خواہ اور مشفق کی نافرمانی کی اور ہر دھوکے باز کی پیروی کی جو ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔
[60]﴿وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً ﴾ ’’اور پیچھے لگی رہی ان کے اس دنیا میں پھٹکار‘‘ پس ہر وقت اور ہر زمانے میں ان کے کرتوتوں اور بری خبروں کا لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں اور ایسی مذمت کے ساتھ ان کو یاد کرتے ہیں جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے روز بھی‘‘ وہ ملعون ٹھہریں گے۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ﴾ ’’خبردار! بے شک عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا‘‘ انھوں نے اس ہستی کا انکار کر دیا جس نے ان کو پیدا کیا، ان کو رزق دیا اور ان کی تربیت کی ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ ﴾ ’’سنو! ہود کی قوم عاد کے لیے دوری ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ہر بھلائی سے دور اور برائی سے قریب کر دیا۔
11:53قَالُواْ يَٰهُودُ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٖ وَمَا نَحۡنُ بِتَارِكِيٓ ءَالِهَتِنَا عَن قَوۡلِكَ وَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِينَ
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، نہیں ہو تم مگر جھوٹ گھڑنے والے (50) اے میری قوم! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی اجر کا، نہیں ہے اجر میرا مگر اوپر اس ذات کے جس نے پیدا کیا مجھے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (51)اور اے میری قوم! مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف ، وہ بھیجے گا بادل اوپر تمھارے خوب برسنے والےاور بڑھا دے گا تمھیں قوت میں ساتھ تمھاری (موجودہ) قوت کے اور مت روگردانی کرو مجرم بن کر(52) انھوں نے کہا، اے ہود! نہیں لایا تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل اور نہیں ہیں ہم چھوڑنے والے اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سےاور نہیں ہیں ہم تجھ پر ایمان لانے والے (53) نہیں کہتے ہم مگر یہ کہ مبتلا کر دیا ہے تجھے کسی ہمارے معبود نے برائی (خلل دماغ) میں ، ہود نے کہا، بے شک میں گواہ بناتا ہوں اللہ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ بے شک میں بری ہوں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو (54) سوائے اللہ کے، پس تدبیر کر لو تم مجھے نقصان پہنچانے کی سب مل کر ، پھر نہ مہلت دو تم مجھے (55)بے شک میں نے بھروسہ کیا ہے اوپر اللہ کے، جو رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا ، نہیں کوئی چلنے والا جاندار (زمین پر) مگر اللہ پکڑے ہوئے ہے پیشانی اس کی، بلاشبہ میرا رب اوپر سیدھے راستے کے ہے (56) پس اگر روگردانی کرو تم تو تحقیق پہنچا دی ہے میں نے تمھیں وہ چیز کہ بھیجا گیا ہوں میں ساتھ اس کے تمھاری طرف اور (تمھارا) جانشین بنا دے گا میرا رب ایک اور قوم کو سوائے تمھارےاور نہ نقصان پہنچا سکو گے تم اسے کچھ بھی، بلاشبہ میرا رب اوپر ہر چیز کے نگہبان ہے (57) اور جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، اپنے فضل سےاور نجات دی ہم نے انھیں عذاب شدید سے (58) اور یہ عاد ہیں ، انھوں نے انکار کیا تھا آیتوں کا اپنے رب کی اور نافرمانی کی اللہ کے رسولوں کی اور پیروی کی انھوں نے حکم کی ہر سرکش عناد رکھنے والے کے (59) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، آگاہ رہو! بلاشبہ عاد (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے عاد، قوم ہود کے (60)
[50]﴿وَاِلٰى عَادٍ ﴾ ’’اور عاد کی طرف‘‘ یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا ’’عاد‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو سرزمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ نسب میں ان کے بھائی ﴿هُوۡدًا﴾ ’’ہود کو‘‘ تاکہ وہ ان سے علم حاصل کر سکیں ۔ ﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تم بہتان باندھتے ہو‘‘ یعنی ہودu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کیا اور انھیں آگاہ کیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کو اختیار کر کے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا کی عبادت کے فساد کو واضح فرمایا۔
[51] پھر اطاعت کے راستے پر گامزن ہونے سے کسی چیز کے مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اے میری قوم! میں اس کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں تمھارے اموال میں سے کوئی تاوان وصول نہیں کرتا کہ تمھیں کہنا پڑے ’’یہ ہمارے مال ہتھیانا چاہتا ہے‘‘ میں تو تمھیں بغیر کسی معاوضہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں اور تمھیں تعلیم دیتا ہوں ۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، کیا پس تم نہیں سمجھتے‘‘ یعنی جس چیز کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں کیا تم اسے سمجھتے نہیں کہ یہ قبولیت کی موجب ہے اس کو قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
[52]﴿ وَيٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔‘‘ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہو چکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’پھر اس کے آگے توبہ کرو۔‘‘ یعنی آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے ﴿ يُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّؔدۡرَارًا﴾ ’’وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿ وَّيَزِدۡؔكُمۡ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں ‘‘ کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا: ﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حم السجدہ: 41؍15) ’’ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کی قوت میں اور اضافہ کر دے گا۔ ﴿ وَلَا تَتَوَلَّوۡا﴾ ’’اور روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اپنے رب سے منہ نہ موڑو ﴿ مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ہو کر‘‘ یعنی تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑو اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت نہ کرو۔
[53]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ يٰهُوۡدُ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا‘‘ اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لیے لازم نہیں بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہودu ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر کرتا ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔اگر ان کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہ بھی ظاہر ہوا ہوتا سوائے دعوت کے جس میں دین کو اللہ وحدہ لا شریک کے لیے خالص کرنے کی تاکید ہو، نیک عمل اور اخلاق جمیلہ کا حکم دیا گیا ہو اور اخلاق مذمومہ، یعنی شرک، فواحش، ظلم اور دیگر مختلف قسم کی برائیوں سے روکا گیا ہو نیز اس کی تائید میں ہودu کی وہ صفات بھی ہوں جو مخلوق میں سب سے اچھے اور سب سے سچے شخص کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں تو ان کی صداقت پر دلیل کے لیے یہی چیز کافی تھی… بلکہ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز مجرد خرق عادت معجزات سے زیادہ بڑی نشانی ہے۔ حضرت ہودu کی صداقت پر دلالت کرنے والی آیات و بینات میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ فرد واحد ہے، اس کے کوئی انصار و اعوان نہیں ، وہ اپنی قوم میں پکار پکار کر کہتا ہے اور ان کو عاجز کر دیتا ہے وہ کہتا ہے ﴿ اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ ﴿قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’ہود نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان ہستیوں سے بیزار ہوں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے پھر تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ وہ دشمن ہیں ان کے پاس سطوت، غلبہ اور اقتدار ہے وہ ہر طریقے سے اس روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں جسے ہودu لے کر آئے ہیں وہ ان دشمنوں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور یہ ہیں کہ ہودu کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز اور بے بس ہیں ۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں ۔کفار نے کہا:﴿ وَّمَا نَحۡنُ بِتَارِكِيۡۤ اٰلِهَتِنَا عَنۡ قَوۡلِكَ ﴾ ’’اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ۔‘‘ یعنی ہم مجرد تیرے قول پر جس پر… ان کے زعم کے مطابق… کوئی دلیل نہیں ، اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑ سکتے ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور ہم تیرا یقین کرنے والے نہیں ‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے ایمان کے بارے میں اپنے نبی ہودu کے ساتھ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ اپنے کفر میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔
[54]﴿اِنۡ نَّقُوۡلُ ﴾ ہم تیرے بارے میں کہتے ہیں : ﴿ اِلَّا اعۡتَرٰىكَ بَعۡضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوۡٓءٍ﴾ ’’تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے‘‘ یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کر کے تجھے جنون لاحق کر دیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کر دیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کر دی۔ انھوں نے کس طرح سب سے سچے انسان کو، جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔
[55] اسی لیے ہودu نے واضح فرمایا کہ انھیں پورا وثوق ہے کہ ان کی طرف سے یا ان کے معبودوں کی طرف سے انھیں کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی، بنا بریں فرمایا:﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ﴾ یعنی تم سب ہر ممکن طریقے سے مجھے نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کر لو ﴿ ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’پھر مجھے کوئی مہلت بھی نہ دو۔‘‘
[56]﴿اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے اللہ پر توکل کیا۔‘‘ یعنی میں نے اپنے تمام معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ ﴿ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ یعنی وہ تمام موجودات کا خالق ہے، وہی ہے جو ہماری اور تمھاری تدبیر کرتا ہے اور وہی ہے جس نے ہماری تربیت کی ﴿ مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾ ’’جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی کوئی جان دار اس کے حکم کے بغیر حرکت کرتا ہے نہ ساکن ہوتا ہے۔ اگر تم سب مل کر مجھے کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ تمھیں مجھ پر مسلط نہ کرے تو تم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں اس کی کوئی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے‘‘ یعنی میرا رب عدل و انصاف اور حکمت پر ہے وہ اپنی قضا و قدر، شرع وامر، جزا اور اپنے ثواب و عقاب میں قابل ستائش ہے اس کے افعال صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے نہیں جس کی وجہ سے اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔
[57]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پس اگر تم روگردانی کرو۔‘‘ یعنی اگر تم اس چیز سے منہ موڑ لو جس کی طرف میں تمھیں بلاتا ہوں ﴿ فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’تو تحقیق میں پہنچا چکا تمھیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمھاری طرف بھیجا گیا تھا‘‘ پس میرے ذمے تمھارے معاملے میں کوئی چیز باقی نہیں ۔ ﴿وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّيۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ ﴾ ’’اور جانشین بنائے گا میرا رب، تمھارے علاوہ کسی اور قوم کو‘‘ جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ﴿ وَلَا تَضُرُّوۡنَهٗ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے‘‘ کیونکہ تمھارا ضرر تمھاری ہی طرف لوٹے گا۔ اہل معاصی کی معصیت اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے نہ اہل اطاعت کی اطاعت اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ﴿ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے اور جو کوئی برے کام کرتا ہے تو اس کا نقصان اسی کے لیے ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡؔظٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘
[58]﴿ وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب نامبارک ہوا کی صورت میں ہمارا عذاب آیا۔ ﴿ مَا تَذَرُ مِنۡ شَيۡءٍ اَتَتۡ عَلَيۡهِ اِلَّا جَعَلَتۡهُ كَالرَّمِيۡمِ﴾(الذاریات: 51؍42) ’’جس چیز پر بھی وہ چلتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی مانند ریزہ ریزہ کیے دیتی تھی‘‘ ﴿ نَجَّيۡنَا هُوۡدًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَنَجَّيۡنٰهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا‘‘ یعنی نہایت عظیم عذاب جسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر نازل فرمایا۔ اس عذاب نے ان کی یہ حالت کر دی کہ ان کے مساکن کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔
[59]﴿ وَتِلۡكَ عَادٌ﴾ ’’یہ قوم عاد تھی‘‘ جن پر ان کے ظلم کی پاداش میں یہ عذاب نازل فرمایا کیونکہ ﴿ جَحَدُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا‘‘ اور کہنے لگے: ﴿ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے‘‘ پس اس سے واضح ہوا کہ ہودu کی دعوت کی صداقت کے بارے میں انھیں یقین تھا، انھوں نے محض عناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا تھا۔ ﴿ وَعَصَوۡا رُسُلَهٗ ﴾’’اورانھوں نے اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی اور جو کوئی کسی ایک رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ تمام رسولوں کی نافرمانی کرتا ہے کیونکہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ایک ہے۔﴿ وَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ ﴾ ’’اور انھوں نے حکم مانا ہر اس شخص کا جو سرکش تھا‘‘ یعنی وہ شخص جو جبر و استبداد کے ذریعے سے اللہ کے بندوں پر مسلط ہو جاتا ہے۔ ﴿ عَنِيۡدٍ ﴾ ’’سرکش‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ انھوں نے ہر خیر خواہ اور مشفق کی نافرمانی کی اور ہر دھوکے باز کی پیروی کی جو ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔
[60]﴿وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً ﴾ ’’اور پیچھے لگی رہی ان کے اس دنیا میں پھٹکار‘‘ پس ہر وقت اور ہر زمانے میں ان کے کرتوتوں اور بری خبروں کا لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں اور ایسی مذمت کے ساتھ ان کو یاد کرتے ہیں جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے روز بھی‘‘ وہ ملعون ٹھہریں گے۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ﴾ ’’خبردار! بے شک عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا‘‘ انھوں نے اس ہستی کا انکار کر دیا جس نے ان کو پیدا کیا، ان کو رزق دیا اور ان کی تربیت کی ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ ﴾ ’’سنو! ہود کی قوم عاد کے لیے دوری ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ہر بھلائی سے دور اور برائی سے قریب کر دیا۔
11:54إِن نَّقُولُ إِلَّا ٱعۡتَرَىٰكَ بَعۡضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوٓءٖۗ قَالَ إِنِّيٓ أُشۡهِدُ ٱللَّهَ وَٱشۡهَدُوٓاْ أَنِّي بَرِيٓءٞ مِّمَّا تُشۡرِكُونَ
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، نہیں ہو تم مگر جھوٹ گھڑنے والے (50) اے میری قوم! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی اجر کا، نہیں ہے اجر میرا مگر اوپر اس ذات کے جس نے پیدا کیا مجھے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (51)اور اے میری قوم! مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف ، وہ بھیجے گا بادل اوپر تمھارے خوب برسنے والےاور بڑھا دے گا تمھیں قوت میں ساتھ تمھاری (موجودہ) قوت کے اور مت روگردانی کرو مجرم بن کر(52) انھوں نے کہا، اے ہود! نہیں لایا تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل اور نہیں ہیں ہم چھوڑنے والے اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سےاور نہیں ہیں ہم تجھ پر ایمان لانے والے (53) نہیں کہتے ہم مگر یہ کہ مبتلا کر دیا ہے تجھے کسی ہمارے معبود نے برائی (خلل دماغ) میں ، ہود نے کہا، بے شک میں گواہ بناتا ہوں اللہ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ بے شک میں بری ہوں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو (54) سوائے اللہ کے، پس تدبیر کر لو تم مجھے نقصان پہنچانے کی سب مل کر ، پھر نہ مہلت دو تم مجھے (55)بے شک میں نے بھروسہ کیا ہے اوپر اللہ کے، جو رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا ، نہیں کوئی چلنے والا جاندار (زمین پر) مگر اللہ پکڑے ہوئے ہے پیشانی اس کی، بلاشبہ میرا رب اوپر سیدھے راستے کے ہے (56) پس اگر روگردانی کرو تم تو تحقیق پہنچا دی ہے میں نے تمھیں وہ چیز کہ بھیجا گیا ہوں میں ساتھ اس کے تمھاری طرف اور (تمھارا) جانشین بنا دے گا میرا رب ایک اور قوم کو سوائے تمھارےاور نہ نقصان پہنچا سکو گے تم اسے کچھ بھی، بلاشبہ میرا رب اوپر ہر چیز کے نگہبان ہے (57) اور جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، اپنے فضل سےاور نجات دی ہم نے انھیں عذاب شدید سے (58) اور یہ عاد ہیں ، انھوں نے انکار کیا تھا آیتوں کا اپنے رب کی اور نافرمانی کی اللہ کے رسولوں کی اور پیروی کی انھوں نے حکم کی ہر سرکش عناد رکھنے والے کے (59) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، آگاہ رہو! بلاشبہ عاد (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے عاد، قوم ہود کے (60)
[50]﴿وَاِلٰى عَادٍ ﴾ ’’اور عاد کی طرف‘‘ یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا ’’عاد‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو سرزمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ نسب میں ان کے بھائی ﴿هُوۡدًا﴾ ’’ہود کو‘‘ تاکہ وہ ان سے علم حاصل کر سکیں ۔ ﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تم بہتان باندھتے ہو‘‘ یعنی ہودu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کیا اور انھیں آگاہ کیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کو اختیار کر کے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا کی عبادت کے فساد کو واضح فرمایا۔
[51] پھر اطاعت کے راستے پر گامزن ہونے سے کسی چیز کے مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اے میری قوم! میں اس کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں تمھارے اموال میں سے کوئی تاوان وصول نہیں کرتا کہ تمھیں کہنا پڑے ’’یہ ہمارے مال ہتھیانا چاہتا ہے‘‘ میں تو تمھیں بغیر کسی معاوضہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں اور تمھیں تعلیم دیتا ہوں ۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، کیا پس تم نہیں سمجھتے‘‘ یعنی جس چیز کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں کیا تم اسے سمجھتے نہیں کہ یہ قبولیت کی موجب ہے اس کو قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
[52]﴿ وَيٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔‘‘ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہو چکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’پھر اس کے آگے توبہ کرو۔‘‘ یعنی آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے ﴿ يُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّؔدۡرَارًا﴾ ’’وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿ وَّيَزِدۡؔكُمۡ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں ‘‘ کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا: ﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حم السجدہ: 41؍15) ’’ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کی قوت میں اور اضافہ کر دے گا۔ ﴿ وَلَا تَتَوَلَّوۡا﴾ ’’اور روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اپنے رب سے منہ نہ موڑو ﴿ مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ہو کر‘‘ یعنی تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑو اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت نہ کرو۔
[53]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ يٰهُوۡدُ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا‘‘ اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لیے لازم نہیں بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہودu ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر کرتا ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔اگر ان کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہ بھی ظاہر ہوا ہوتا سوائے دعوت کے جس میں دین کو اللہ وحدہ لا شریک کے لیے خالص کرنے کی تاکید ہو، نیک عمل اور اخلاق جمیلہ کا حکم دیا گیا ہو اور اخلاق مذمومہ، یعنی شرک، فواحش، ظلم اور دیگر مختلف قسم کی برائیوں سے روکا گیا ہو نیز اس کی تائید میں ہودu کی وہ صفات بھی ہوں جو مخلوق میں سب سے اچھے اور سب سے سچے شخص کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں تو ان کی صداقت پر دلیل کے لیے یہی چیز کافی تھی… بلکہ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز مجرد خرق عادت معجزات سے زیادہ بڑی نشانی ہے۔ حضرت ہودu کی صداقت پر دلالت کرنے والی آیات و بینات میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ فرد واحد ہے، اس کے کوئی انصار و اعوان نہیں ، وہ اپنی قوم میں پکار پکار کر کہتا ہے اور ان کو عاجز کر دیتا ہے وہ کہتا ہے ﴿ اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ ﴿قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’ہود نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان ہستیوں سے بیزار ہوں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے پھر تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ وہ دشمن ہیں ان کے پاس سطوت، غلبہ اور اقتدار ہے وہ ہر طریقے سے اس روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں جسے ہودu لے کر آئے ہیں وہ ان دشمنوں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور یہ ہیں کہ ہودu کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز اور بے بس ہیں ۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں ۔کفار نے کہا:﴿ وَّمَا نَحۡنُ بِتَارِكِيۡۤ اٰلِهَتِنَا عَنۡ قَوۡلِكَ ﴾ ’’اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ۔‘‘ یعنی ہم مجرد تیرے قول پر جس پر… ان کے زعم کے مطابق… کوئی دلیل نہیں ، اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑ سکتے ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور ہم تیرا یقین کرنے والے نہیں ‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے ایمان کے بارے میں اپنے نبی ہودu کے ساتھ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ اپنے کفر میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔
[54]﴿اِنۡ نَّقُوۡلُ ﴾ ہم تیرے بارے میں کہتے ہیں : ﴿ اِلَّا اعۡتَرٰىكَ بَعۡضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوۡٓءٍ﴾ ’’تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے‘‘ یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کر کے تجھے جنون لاحق کر دیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کر دیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کر دی۔ انھوں نے کس طرح سب سے سچے انسان کو، جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔
[55] اسی لیے ہودu نے واضح فرمایا کہ انھیں پورا وثوق ہے کہ ان کی طرف سے یا ان کے معبودوں کی طرف سے انھیں کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی، بنا بریں فرمایا:﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ﴾ یعنی تم سب ہر ممکن طریقے سے مجھے نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کر لو ﴿ ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’پھر مجھے کوئی مہلت بھی نہ دو۔‘‘
[56]﴿اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے اللہ پر توکل کیا۔‘‘ یعنی میں نے اپنے تمام معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ ﴿ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ یعنی وہ تمام موجودات کا خالق ہے، وہی ہے جو ہماری اور تمھاری تدبیر کرتا ہے اور وہی ہے جس نے ہماری تربیت کی ﴿ مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾ ’’جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی کوئی جان دار اس کے حکم کے بغیر حرکت کرتا ہے نہ ساکن ہوتا ہے۔ اگر تم سب مل کر مجھے کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ تمھیں مجھ پر مسلط نہ کرے تو تم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں اس کی کوئی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے‘‘ یعنی میرا رب عدل و انصاف اور حکمت پر ہے وہ اپنی قضا و قدر، شرع وامر، جزا اور اپنے ثواب و عقاب میں قابل ستائش ہے اس کے افعال صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے نہیں جس کی وجہ سے اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔
[57]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پس اگر تم روگردانی کرو۔‘‘ یعنی اگر تم اس چیز سے منہ موڑ لو جس کی طرف میں تمھیں بلاتا ہوں ﴿ فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’تو تحقیق میں پہنچا چکا تمھیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمھاری طرف بھیجا گیا تھا‘‘ پس میرے ذمے تمھارے معاملے میں کوئی چیز باقی نہیں ۔ ﴿وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّيۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ ﴾ ’’اور جانشین بنائے گا میرا رب، تمھارے علاوہ کسی اور قوم کو‘‘ جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ﴿ وَلَا تَضُرُّوۡنَهٗ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے‘‘ کیونکہ تمھارا ضرر تمھاری ہی طرف لوٹے گا۔ اہل معاصی کی معصیت اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے نہ اہل اطاعت کی اطاعت اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ﴿ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے اور جو کوئی برے کام کرتا ہے تو اس کا نقصان اسی کے لیے ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡؔظٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘
[58]﴿ وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب نامبارک ہوا کی صورت میں ہمارا عذاب آیا۔ ﴿ مَا تَذَرُ مِنۡ شَيۡءٍ اَتَتۡ عَلَيۡهِ اِلَّا جَعَلَتۡهُ كَالرَّمِيۡمِ﴾(الذاریات: 51؍42) ’’جس چیز پر بھی وہ چلتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی مانند ریزہ ریزہ کیے دیتی تھی‘‘ ﴿ نَجَّيۡنَا هُوۡدًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَنَجَّيۡنٰهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا‘‘ یعنی نہایت عظیم عذاب جسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر نازل فرمایا۔ اس عذاب نے ان کی یہ حالت کر دی کہ ان کے مساکن کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔
[59]﴿ وَتِلۡكَ عَادٌ﴾ ’’یہ قوم عاد تھی‘‘ جن پر ان کے ظلم کی پاداش میں یہ عذاب نازل فرمایا کیونکہ ﴿ جَحَدُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا‘‘ اور کہنے لگے: ﴿ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے‘‘ پس اس سے واضح ہوا کہ ہودu کی دعوت کی صداقت کے بارے میں انھیں یقین تھا، انھوں نے محض عناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا تھا۔ ﴿ وَعَصَوۡا رُسُلَهٗ ﴾’’اورانھوں نے اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی اور جو کوئی کسی ایک رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ تمام رسولوں کی نافرمانی کرتا ہے کیونکہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ایک ہے۔﴿ وَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ ﴾ ’’اور انھوں نے حکم مانا ہر اس شخص کا جو سرکش تھا‘‘ یعنی وہ شخص جو جبر و استبداد کے ذریعے سے اللہ کے بندوں پر مسلط ہو جاتا ہے۔ ﴿ عَنِيۡدٍ ﴾ ’’سرکش‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ انھوں نے ہر خیر خواہ اور مشفق کی نافرمانی کی اور ہر دھوکے باز کی پیروی کی جو ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔
[60]﴿وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً ﴾ ’’اور پیچھے لگی رہی ان کے اس دنیا میں پھٹکار‘‘ پس ہر وقت اور ہر زمانے میں ان کے کرتوتوں اور بری خبروں کا لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں اور ایسی مذمت کے ساتھ ان کو یاد کرتے ہیں جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے روز بھی‘‘ وہ ملعون ٹھہریں گے۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ﴾ ’’خبردار! بے شک عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا‘‘ انھوں نے اس ہستی کا انکار کر دیا جس نے ان کو پیدا کیا، ان کو رزق دیا اور ان کی تربیت کی ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ ﴾ ’’سنو! ہود کی قوم عاد کے لیے دوری ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ہر بھلائی سے دور اور برائی سے قریب کر دیا۔
11:55مِن دُونِهِۦۖ فَكِيدُونِي جَمِيعٗا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، نہیں ہو تم مگر جھوٹ گھڑنے والے (50) اے میری قوم! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی اجر کا، نہیں ہے اجر میرا مگر اوپر اس ذات کے جس نے پیدا کیا مجھے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (51)اور اے میری قوم! مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف ، وہ بھیجے گا بادل اوپر تمھارے خوب برسنے والےاور بڑھا دے گا تمھیں قوت میں ساتھ تمھاری (موجودہ) قوت کے اور مت روگردانی کرو مجرم بن کر(52) انھوں نے کہا، اے ہود! نہیں لایا تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل اور نہیں ہیں ہم چھوڑنے والے اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سےاور نہیں ہیں ہم تجھ پر ایمان لانے والے (53) نہیں کہتے ہم مگر یہ کہ مبتلا کر دیا ہے تجھے کسی ہمارے معبود نے برائی (خلل دماغ) میں ، ہود نے کہا، بے شک میں گواہ بناتا ہوں اللہ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ بے شک میں بری ہوں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو (54) سوائے اللہ کے، پس تدبیر کر لو تم مجھے نقصان پہنچانے کی سب مل کر ، پھر نہ مہلت دو تم مجھے (55)بے شک میں نے بھروسہ کیا ہے اوپر اللہ کے، جو رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا ، نہیں کوئی چلنے والا جاندار (زمین پر) مگر اللہ پکڑے ہوئے ہے پیشانی اس کی، بلاشبہ میرا رب اوپر سیدھے راستے کے ہے (56) پس اگر روگردانی کرو تم تو تحقیق پہنچا دی ہے میں نے تمھیں وہ چیز کہ بھیجا گیا ہوں میں ساتھ اس کے تمھاری طرف اور (تمھارا) جانشین بنا دے گا میرا رب ایک اور قوم کو سوائے تمھارےاور نہ نقصان پہنچا سکو گے تم اسے کچھ بھی، بلاشبہ میرا رب اوپر ہر چیز کے نگہبان ہے (57) اور جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، اپنے فضل سےاور نجات دی ہم نے انھیں عذاب شدید سے (58) اور یہ عاد ہیں ، انھوں نے انکار کیا تھا آیتوں کا اپنے رب کی اور نافرمانی کی اللہ کے رسولوں کی اور پیروی کی انھوں نے حکم کی ہر سرکش عناد رکھنے والے کے (59) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، آگاہ رہو! بلاشبہ عاد (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے عاد، قوم ہود کے (60)
[50]﴿وَاِلٰى عَادٍ ﴾ ’’اور عاد کی طرف‘‘ یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا ’’عاد‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو سرزمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ نسب میں ان کے بھائی ﴿هُوۡدًا﴾ ’’ہود کو‘‘ تاکہ وہ ان سے علم حاصل کر سکیں ۔ ﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تم بہتان باندھتے ہو‘‘ یعنی ہودu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کیا اور انھیں آگاہ کیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کو اختیار کر کے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا کی عبادت کے فساد کو واضح فرمایا۔
[51] پھر اطاعت کے راستے پر گامزن ہونے سے کسی چیز کے مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اے میری قوم! میں اس کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں تمھارے اموال میں سے کوئی تاوان وصول نہیں کرتا کہ تمھیں کہنا پڑے ’’یہ ہمارے مال ہتھیانا چاہتا ہے‘‘ میں تو تمھیں بغیر کسی معاوضہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں اور تمھیں تعلیم دیتا ہوں ۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، کیا پس تم نہیں سمجھتے‘‘ یعنی جس چیز کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں کیا تم اسے سمجھتے نہیں کہ یہ قبولیت کی موجب ہے اس کو قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
[52]﴿ وَيٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔‘‘ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہو چکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’پھر اس کے آگے توبہ کرو۔‘‘ یعنی آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے ﴿ يُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّؔدۡرَارًا﴾ ’’وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿ وَّيَزِدۡؔكُمۡ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں ‘‘ کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا: ﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حم السجدہ: 41؍15) ’’ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کی قوت میں اور اضافہ کر دے گا۔ ﴿ وَلَا تَتَوَلَّوۡا﴾ ’’اور روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اپنے رب سے منہ نہ موڑو ﴿ مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ہو کر‘‘ یعنی تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑو اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت نہ کرو۔
[53]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ يٰهُوۡدُ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا‘‘ اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لیے لازم نہیں بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہودu ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر کرتا ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔اگر ان کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہ بھی ظاہر ہوا ہوتا سوائے دعوت کے جس میں دین کو اللہ وحدہ لا شریک کے لیے خالص کرنے کی تاکید ہو، نیک عمل اور اخلاق جمیلہ کا حکم دیا گیا ہو اور اخلاق مذمومہ، یعنی شرک، فواحش، ظلم اور دیگر مختلف قسم کی برائیوں سے روکا گیا ہو نیز اس کی تائید میں ہودu کی وہ صفات بھی ہوں جو مخلوق میں سب سے اچھے اور سب سے سچے شخص کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں تو ان کی صداقت پر دلیل کے لیے یہی چیز کافی تھی… بلکہ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز مجرد خرق عادت معجزات سے زیادہ بڑی نشانی ہے۔ حضرت ہودu کی صداقت پر دلالت کرنے والی آیات و بینات میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ فرد واحد ہے، اس کے کوئی انصار و اعوان نہیں ، وہ اپنی قوم میں پکار پکار کر کہتا ہے اور ان کو عاجز کر دیتا ہے وہ کہتا ہے ﴿ اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ ﴿قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’ہود نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان ہستیوں سے بیزار ہوں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے پھر تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ وہ دشمن ہیں ان کے پاس سطوت، غلبہ اور اقتدار ہے وہ ہر طریقے سے اس روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں جسے ہودu لے کر آئے ہیں وہ ان دشمنوں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور یہ ہیں کہ ہودu کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز اور بے بس ہیں ۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں ۔کفار نے کہا:﴿ وَّمَا نَحۡنُ بِتَارِكِيۡۤ اٰلِهَتِنَا عَنۡ قَوۡلِكَ ﴾ ’’اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ۔‘‘ یعنی ہم مجرد تیرے قول پر جس پر… ان کے زعم کے مطابق… کوئی دلیل نہیں ، اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑ سکتے ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور ہم تیرا یقین کرنے والے نہیں ‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے ایمان کے بارے میں اپنے نبی ہودu کے ساتھ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ اپنے کفر میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔
[54]﴿اِنۡ نَّقُوۡلُ ﴾ ہم تیرے بارے میں کہتے ہیں : ﴿ اِلَّا اعۡتَرٰىكَ بَعۡضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوۡٓءٍ﴾ ’’تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے‘‘ یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کر کے تجھے جنون لاحق کر دیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کر دیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کر دی۔ انھوں نے کس طرح سب سے سچے انسان کو، جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔
[55] اسی لیے ہودu نے واضح فرمایا کہ انھیں پورا وثوق ہے کہ ان کی طرف سے یا ان کے معبودوں کی طرف سے انھیں کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی، بنا بریں فرمایا:﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ﴾ یعنی تم سب ہر ممکن طریقے سے مجھے نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کر لو ﴿ ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’پھر مجھے کوئی مہلت بھی نہ دو۔‘‘
[56]﴿اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے اللہ پر توکل کیا۔‘‘ یعنی میں نے اپنے تمام معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ ﴿ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ یعنی وہ تمام موجودات کا خالق ہے، وہی ہے جو ہماری اور تمھاری تدبیر کرتا ہے اور وہی ہے جس نے ہماری تربیت کی ﴿ مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾ ’’جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی کوئی جان دار اس کے حکم کے بغیر حرکت کرتا ہے نہ ساکن ہوتا ہے۔ اگر تم سب مل کر مجھے کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ تمھیں مجھ پر مسلط نہ کرے تو تم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں اس کی کوئی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے‘‘ یعنی میرا رب عدل و انصاف اور حکمت پر ہے وہ اپنی قضا و قدر، شرع وامر، جزا اور اپنے ثواب و عقاب میں قابل ستائش ہے اس کے افعال صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے نہیں جس کی وجہ سے اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔
[57]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پس اگر تم روگردانی کرو۔‘‘ یعنی اگر تم اس چیز سے منہ موڑ لو جس کی طرف میں تمھیں بلاتا ہوں ﴿ فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’تو تحقیق میں پہنچا چکا تمھیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمھاری طرف بھیجا گیا تھا‘‘ پس میرے ذمے تمھارے معاملے میں کوئی چیز باقی نہیں ۔ ﴿وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّيۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ ﴾ ’’اور جانشین بنائے گا میرا رب، تمھارے علاوہ کسی اور قوم کو‘‘ جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ﴿ وَلَا تَضُرُّوۡنَهٗ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے‘‘ کیونکہ تمھارا ضرر تمھاری ہی طرف لوٹے گا۔ اہل معاصی کی معصیت اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے نہ اہل اطاعت کی اطاعت اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ﴿ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے اور جو کوئی برے کام کرتا ہے تو اس کا نقصان اسی کے لیے ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡؔظٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘
[58]﴿ وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب نامبارک ہوا کی صورت میں ہمارا عذاب آیا۔ ﴿ مَا تَذَرُ مِنۡ شَيۡءٍ اَتَتۡ عَلَيۡهِ اِلَّا جَعَلَتۡهُ كَالرَّمِيۡمِ﴾(الذاریات: 51؍42) ’’جس چیز پر بھی وہ چلتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی مانند ریزہ ریزہ کیے دیتی تھی‘‘ ﴿ نَجَّيۡنَا هُوۡدًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَنَجَّيۡنٰهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا‘‘ یعنی نہایت عظیم عذاب جسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر نازل فرمایا۔ اس عذاب نے ان کی یہ حالت کر دی کہ ان کے مساکن کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔
[59]﴿ وَتِلۡكَ عَادٌ﴾ ’’یہ قوم عاد تھی‘‘ جن پر ان کے ظلم کی پاداش میں یہ عذاب نازل فرمایا کیونکہ ﴿ جَحَدُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا‘‘ اور کہنے لگے: ﴿ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے‘‘ پس اس سے واضح ہوا کہ ہودu کی دعوت کی صداقت کے بارے میں انھیں یقین تھا، انھوں نے محض عناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا تھا۔ ﴿ وَعَصَوۡا رُسُلَهٗ ﴾’’اورانھوں نے اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی اور جو کوئی کسی ایک رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ تمام رسولوں کی نافرمانی کرتا ہے کیونکہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ایک ہے۔﴿ وَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ ﴾ ’’اور انھوں نے حکم مانا ہر اس شخص کا جو سرکش تھا‘‘ یعنی وہ شخص جو جبر و استبداد کے ذریعے سے اللہ کے بندوں پر مسلط ہو جاتا ہے۔ ﴿ عَنِيۡدٍ ﴾ ’’سرکش‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ انھوں نے ہر خیر خواہ اور مشفق کی نافرمانی کی اور ہر دھوکے باز کی پیروی کی جو ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔
[60]﴿وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً ﴾ ’’اور پیچھے لگی رہی ان کے اس دنیا میں پھٹکار‘‘ پس ہر وقت اور ہر زمانے میں ان کے کرتوتوں اور بری خبروں کا لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں اور ایسی مذمت کے ساتھ ان کو یاد کرتے ہیں جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے روز بھی‘‘ وہ ملعون ٹھہریں گے۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ﴾ ’’خبردار! بے شک عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا‘‘ انھوں نے اس ہستی کا انکار کر دیا جس نے ان کو پیدا کیا، ان کو رزق دیا اور ان کی تربیت کی ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ ﴾ ’’سنو! ہود کی قوم عاد کے لیے دوری ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ہر بھلائی سے دور اور برائی سے قریب کر دیا۔
11:56إِنِّي تَوَكَّلۡتُ عَلَى ٱللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمۚ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلَّا هُوَ ءَاخِذُۢ بِنَاصِيَتِهَآۚ إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، نہیں ہو تم مگر جھوٹ گھڑنے والے (50) اے میری قوم! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی اجر کا، نہیں ہے اجر میرا مگر اوپر اس ذات کے جس نے پیدا کیا مجھے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (51)اور اے میری قوم! مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف ، وہ بھیجے گا بادل اوپر تمھارے خوب برسنے والےاور بڑھا دے گا تمھیں قوت میں ساتھ تمھاری (موجودہ) قوت کے اور مت روگردانی کرو مجرم بن کر(52) انھوں نے کہا، اے ہود! نہیں لایا تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل اور نہیں ہیں ہم چھوڑنے والے اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سےاور نہیں ہیں ہم تجھ پر ایمان لانے والے (53) نہیں کہتے ہم مگر یہ کہ مبتلا کر دیا ہے تجھے کسی ہمارے معبود نے برائی (خلل دماغ) میں ، ہود نے کہا، بے شک میں گواہ بناتا ہوں اللہ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ بے شک میں بری ہوں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو (54) سوائے اللہ کے، پس تدبیر کر لو تم مجھے نقصان پہنچانے کی سب مل کر ، پھر نہ مہلت دو تم مجھے (55)بے شک میں نے بھروسہ کیا ہے اوپر اللہ کے، جو رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا ، نہیں کوئی چلنے والا جاندار (زمین پر) مگر اللہ پکڑے ہوئے ہے پیشانی اس کی، بلاشبہ میرا رب اوپر سیدھے راستے کے ہے (56) پس اگر روگردانی کرو تم تو تحقیق پہنچا دی ہے میں نے تمھیں وہ چیز کہ بھیجا گیا ہوں میں ساتھ اس کے تمھاری طرف اور (تمھارا) جانشین بنا دے گا میرا رب ایک اور قوم کو سوائے تمھارےاور نہ نقصان پہنچا سکو گے تم اسے کچھ بھی، بلاشبہ میرا رب اوپر ہر چیز کے نگہبان ہے (57) اور جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، اپنے فضل سےاور نجات دی ہم نے انھیں عذاب شدید سے (58) اور یہ عاد ہیں ، انھوں نے انکار کیا تھا آیتوں کا اپنے رب کی اور نافرمانی کی اللہ کے رسولوں کی اور پیروی کی انھوں نے حکم کی ہر سرکش عناد رکھنے والے کے (59) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، آگاہ رہو! بلاشبہ عاد (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے عاد، قوم ہود کے (60)
[50]﴿وَاِلٰى عَادٍ ﴾ ’’اور عاد کی طرف‘‘ یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا ’’عاد‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو سرزمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ نسب میں ان کے بھائی ﴿هُوۡدًا﴾ ’’ہود کو‘‘ تاکہ وہ ان سے علم حاصل کر سکیں ۔ ﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تم بہتان باندھتے ہو‘‘ یعنی ہودu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کیا اور انھیں آگاہ کیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کو اختیار کر کے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا کی عبادت کے فساد کو واضح فرمایا۔
[51] پھر اطاعت کے راستے پر گامزن ہونے سے کسی چیز کے مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اے میری قوم! میں اس کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں تمھارے اموال میں سے کوئی تاوان وصول نہیں کرتا کہ تمھیں کہنا پڑے ’’یہ ہمارے مال ہتھیانا چاہتا ہے‘‘ میں تو تمھیں بغیر کسی معاوضہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں اور تمھیں تعلیم دیتا ہوں ۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، کیا پس تم نہیں سمجھتے‘‘ یعنی جس چیز کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں کیا تم اسے سمجھتے نہیں کہ یہ قبولیت کی موجب ہے اس کو قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
[52]﴿ وَيٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔‘‘ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہو چکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’پھر اس کے آگے توبہ کرو۔‘‘ یعنی آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے ﴿ يُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّؔدۡرَارًا﴾ ’’وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿ وَّيَزِدۡؔكُمۡ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں ‘‘ کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا: ﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حم السجدہ: 41؍15) ’’ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کی قوت میں اور اضافہ کر دے گا۔ ﴿ وَلَا تَتَوَلَّوۡا﴾ ’’اور روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اپنے رب سے منہ نہ موڑو ﴿ مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ہو کر‘‘ یعنی تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑو اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت نہ کرو۔
[53]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ يٰهُوۡدُ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا‘‘ اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لیے لازم نہیں بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہودu ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر کرتا ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔اگر ان کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہ بھی ظاہر ہوا ہوتا سوائے دعوت کے جس میں دین کو اللہ وحدہ لا شریک کے لیے خالص کرنے کی تاکید ہو، نیک عمل اور اخلاق جمیلہ کا حکم دیا گیا ہو اور اخلاق مذمومہ، یعنی شرک، فواحش، ظلم اور دیگر مختلف قسم کی برائیوں سے روکا گیا ہو نیز اس کی تائید میں ہودu کی وہ صفات بھی ہوں جو مخلوق میں سب سے اچھے اور سب سے سچے شخص کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں تو ان کی صداقت پر دلیل کے لیے یہی چیز کافی تھی… بلکہ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز مجرد خرق عادت معجزات سے زیادہ بڑی نشانی ہے۔ حضرت ہودu کی صداقت پر دلالت کرنے والی آیات و بینات میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ فرد واحد ہے، اس کے کوئی انصار و اعوان نہیں ، وہ اپنی قوم میں پکار پکار کر کہتا ہے اور ان کو عاجز کر دیتا ہے وہ کہتا ہے ﴿ اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ ﴿قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’ہود نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان ہستیوں سے بیزار ہوں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے پھر تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ وہ دشمن ہیں ان کے پاس سطوت، غلبہ اور اقتدار ہے وہ ہر طریقے سے اس روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں جسے ہودu لے کر آئے ہیں وہ ان دشمنوں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور یہ ہیں کہ ہودu کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز اور بے بس ہیں ۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں ۔کفار نے کہا:﴿ وَّمَا نَحۡنُ بِتَارِكِيۡۤ اٰلِهَتِنَا عَنۡ قَوۡلِكَ ﴾ ’’اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ۔‘‘ یعنی ہم مجرد تیرے قول پر جس پر… ان کے زعم کے مطابق… کوئی دلیل نہیں ، اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑ سکتے ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور ہم تیرا یقین کرنے والے نہیں ‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے ایمان کے بارے میں اپنے نبی ہودu کے ساتھ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ اپنے کفر میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔
[54]﴿اِنۡ نَّقُوۡلُ ﴾ ہم تیرے بارے میں کہتے ہیں : ﴿ اِلَّا اعۡتَرٰىكَ بَعۡضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوۡٓءٍ﴾ ’’تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے‘‘ یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کر کے تجھے جنون لاحق کر دیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کر دیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کر دی۔ انھوں نے کس طرح سب سے سچے انسان کو، جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔
[55] اسی لیے ہودu نے واضح فرمایا کہ انھیں پورا وثوق ہے کہ ان کی طرف سے یا ان کے معبودوں کی طرف سے انھیں کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی، بنا بریں فرمایا:﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ﴾ یعنی تم سب ہر ممکن طریقے سے مجھے نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کر لو ﴿ ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’پھر مجھے کوئی مہلت بھی نہ دو۔‘‘
[56]﴿اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے اللہ پر توکل کیا۔‘‘ یعنی میں نے اپنے تمام معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ ﴿ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ یعنی وہ تمام موجودات کا خالق ہے، وہی ہے جو ہماری اور تمھاری تدبیر کرتا ہے اور وہی ہے جس نے ہماری تربیت کی ﴿ مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾ ’’جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی کوئی جان دار اس کے حکم کے بغیر حرکت کرتا ہے نہ ساکن ہوتا ہے۔ اگر تم سب مل کر مجھے کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ تمھیں مجھ پر مسلط نہ کرے تو تم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں اس کی کوئی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے‘‘ یعنی میرا رب عدل و انصاف اور حکمت پر ہے وہ اپنی قضا و قدر، شرع وامر، جزا اور اپنے ثواب و عقاب میں قابل ستائش ہے اس کے افعال صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے نہیں جس کی وجہ سے اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔
[57]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پس اگر تم روگردانی کرو۔‘‘ یعنی اگر تم اس چیز سے منہ موڑ لو جس کی طرف میں تمھیں بلاتا ہوں ﴿ فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’تو تحقیق میں پہنچا چکا تمھیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمھاری طرف بھیجا گیا تھا‘‘ پس میرے ذمے تمھارے معاملے میں کوئی چیز باقی نہیں ۔ ﴿وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّيۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ ﴾ ’’اور جانشین بنائے گا میرا رب، تمھارے علاوہ کسی اور قوم کو‘‘ جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ﴿ وَلَا تَضُرُّوۡنَهٗ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے‘‘ کیونکہ تمھارا ضرر تمھاری ہی طرف لوٹے گا۔ اہل معاصی کی معصیت اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے نہ اہل اطاعت کی اطاعت اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ﴿ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے اور جو کوئی برے کام کرتا ہے تو اس کا نقصان اسی کے لیے ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡؔظٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘
[58]﴿ وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب نامبارک ہوا کی صورت میں ہمارا عذاب آیا۔ ﴿ مَا تَذَرُ مِنۡ شَيۡءٍ اَتَتۡ عَلَيۡهِ اِلَّا جَعَلَتۡهُ كَالرَّمِيۡمِ﴾(الذاریات: 51؍42) ’’جس چیز پر بھی وہ چلتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی مانند ریزہ ریزہ کیے دیتی تھی‘‘ ﴿ نَجَّيۡنَا هُوۡدًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَنَجَّيۡنٰهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا‘‘ یعنی نہایت عظیم عذاب جسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر نازل فرمایا۔ اس عذاب نے ان کی یہ حالت کر دی کہ ان کے مساکن کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔
[59]﴿ وَتِلۡكَ عَادٌ﴾ ’’یہ قوم عاد تھی‘‘ جن پر ان کے ظلم کی پاداش میں یہ عذاب نازل فرمایا کیونکہ ﴿ جَحَدُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا‘‘ اور کہنے لگے: ﴿ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے‘‘ پس اس سے واضح ہوا کہ ہودu کی دعوت کی صداقت کے بارے میں انھیں یقین تھا، انھوں نے محض عناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا تھا۔ ﴿ وَعَصَوۡا رُسُلَهٗ ﴾’’اورانھوں نے اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی اور جو کوئی کسی ایک رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ تمام رسولوں کی نافرمانی کرتا ہے کیونکہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ایک ہے۔﴿ وَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ ﴾ ’’اور انھوں نے حکم مانا ہر اس شخص کا جو سرکش تھا‘‘ یعنی وہ شخص جو جبر و استبداد کے ذریعے سے اللہ کے بندوں پر مسلط ہو جاتا ہے۔ ﴿ عَنِيۡدٍ ﴾ ’’سرکش‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ انھوں نے ہر خیر خواہ اور مشفق کی نافرمانی کی اور ہر دھوکے باز کی پیروی کی جو ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔
[60]﴿وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً ﴾ ’’اور پیچھے لگی رہی ان کے اس دنیا میں پھٹکار‘‘ پس ہر وقت اور ہر زمانے میں ان کے کرتوتوں اور بری خبروں کا لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں اور ایسی مذمت کے ساتھ ان کو یاد کرتے ہیں جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے روز بھی‘‘ وہ ملعون ٹھہریں گے۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ﴾ ’’خبردار! بے شک عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا‘‘ انھوں نے اس ہستی کا انکار کر دیا جس نے ان کو پیدا کیا، ان کو رزق دیا اور ان کی تربیت کی ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ ﴾ ’’سنو! ہود کی قوم عاد کے لیے دوری ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ہر بھلائی سے دور اور برائی سے قریب کر دیا۔
11:57فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَقَدۡ أَبۡلَغۡتُكُم مَّآ أُرۡسِلۡتُ بِهِۦٓ إِلَيۡكُمۡۚ وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّي قَوۡمًا غَيۡرَكُمۡ وَلَا تَضُرُّونَهُۥ شَيۡـًٔاۚ إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيظٞ
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، نہیں ہو تم مگر جھوٹ گھڑنے والے (50) اے میری قوم! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی اجر کا، نہیں ہے اجر میرا مگر اوپر اس ذات کے جس نے پیدا کیا مجھے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (51)اور اے میری قوم! مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف ، وہ بھیجے گا بادل اوپر تمھارے خوب برسنے والےاور بڑھا دے گا تمھیں قوت میں ساتھ تمھاری (موجودہ) قوت کے اور مت روگردانی کرو مجرم بن کر(52) انھوں نے کہا، اے ہود! نہیں لایا تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل اور نہیں ہیں ہم چھوڑنے والے اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سےاور نہیں ہیں ہم تجھ پر ایمان لانے والے (53) نہیں کہتے ہم مگر یہ کہ مبتلا کر دیا ہے تجھے کسی ہمارے معبود نے برائی (خلل دماغ) میں ، ہود نے کہا، بے شک میں گواہ بناتا ہوں اللہ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ بے شک میں بری ہوں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو (54) سوائے اللہ کے، پس تدبیر کر لو تم مجھے نقصان پہنچانے کی سب مل کر ، پھر نہ مہلت دو تم مجھے (55)بے شک میں نے بھروسہ کیا ہے اوپر اللہ کے، جو رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا ، نہیں کوئی چلنے والا جاندار (زمین پر) مگر اللہ پکڑے ہوئے ہے پیشانی اس کی، بلاشبہ میرا رب اوپر سیدھے راستے کے ہے (56) پس اگر روگردانی کرو تم تو تحقیق پہنچا دی ہے میں نے تمھیں وہ چیز کہ بھیجا گیا ہوں میں ساتھ اس کے تمھاری طرف اور (تمھارا) جانشین بنا دے گا میرا رب ایک اور قوم کو سوائے تمھارےاور نہ نقصان پہنچا سکو گے تم اسے کچھ بھی، بلاشبہ میرا رب اوپر ہر چیز کے نگہبان ہے (57) اور جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، اپنے فضل سےاور نجات دی ہم نے انھیں عذاب شدید سے (58) اور یہ عاد ہیں ، انھوں نے انکار کیا تھا آیتوں کا اپنے رب کی اور نافرمانی کی اللہ کے رسولوں کی اور پیروی کی انھوں نے حکم کی ہر سرکش عناد رکھنے والے کے (59) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، آگاہ رہو! بلاشبہ عاد (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے عاد، قوم ہود کے (60)
[50]﴿وَاِلٰى عَادٍ ﴾ ’’اور عاد کی طرف‘‘ یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا ’’عاد‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو سرزمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ نسب میں ان کے بھائی ﴿هُوۡدًا﴾ ’’ہود کو‘‘ تاکہ وہ ان سے علم حاصل کر سکیں ۔ ﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تم بہتان باندھتے ہو‘‘ یعنی ہودu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کیا اور انھیں آگاہ کیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کو اختیار کر کے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا کی عبادت کے فساد کو واضح فرمایا۔
[51] پھر اطاعت کے راستے پر گامزن ہونے سے کسی چیز کے مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اے میری قوم! میں اس کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں تمھارے اموال میں سے کوئی تاوان وصول نہیں کرتا کہ تمھیں کہنا پڑے ’’یہ ہمارے مال ہتھیانا چاہتا ہے‘‘ میں تو تمھیں بغیر کسی معاوضہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں اور تمھیں تعلیم دیتا ہوں ۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، کیا پس تم نہیں سمجھتے‘‘ یعنی جس چیز کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں کیا تم اسے سمجھتے نہیں کہ یہ قبولیت کی موجب ہے اس کو قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
[52]﴿ وَيٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔‘‘ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہو چکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’پھر اس کے آگے توبہ کرو۔‘‘ یعنی آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے ﴿ يُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّؔدۡرَارًا﴾ ’’وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿ وَّيَزِدۡؔكُمۡ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں ‘‘ کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا: ﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حم السجدہ: 41؍15) ’’ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کی قوت میں اور اضافہ کر دے گا۔ ﴿ وَلَا تَتَوَلَّوۡا﴾ ’’اور روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اپنے رب سے منہ نہ موڑو ﴿ مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ہو کر‘‘ یعنی تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑو اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت نہ کرو۔
[53]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ يٰهُوۡدُ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا‘‘ اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لیے لازم نہیں بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہودu ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر کرتا ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔اگر ان کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہ بھی ظاہر ہوا ہوتا سوائے دعوت کے جس میں دین کو اللہ وحدہ لا شریک کے لیے خالص کرنے کی تاکید ہو، نیک عمل اور اخلاق جمیلہ کا حکم دیا گیا ہو اور اخلاق مذمومہ، یعنی شرک، فواحش، ظلم اور دیگر مختلف قسم کی برائیوں سے روکا گیا ہو نیز اس کی تائید میں ہودu کی وہ صفات بھی ہوں جو مخلوق میں سب سے اچھے اور سب سے سچے شخص کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں تو ان کی صداقت پر دلیل کے لیے یہی چیز کافی تھی… بلکہ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز مجرد خرق عادت معجزات سے زیادہ بڑی نشانی ہے۔ حضرت ہودu کی صداقت پر دلالت کرنے والی آیات و بینات میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ فرد واحد ہے، اس کے کوئی انصار و اعوان نہیں ، وہ اپنی قوم میں پکار پکار کر کہتا ہے اور ان کو عاجز کر دیتا ہے وہ کہتا ہے ﴿ اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ ﴿قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’ہود نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان ہستیوں سے بیزار ہوں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے پھر تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ وہ دشمن ہیں ان کے پاس سطوت، غلبہ اور اقتدار ہے وہ ہر طریقے سے اس روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں جسے ہودu لے کر آئے ہیں وہ ان دشمنوں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور یہ ہیں کہ ہودu کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز اور بے بس ہیں ۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں ۔کفار نے کہا:﴿ وَّمَا نَحۡنُ بِتَارِكِيۡۤ اٰلِهَتِنَا عَنۡ قَوۡلِكَ ﴾ ’’اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ۔‘‘ یعنی ہم مجرد تیرے قول پر جس پر… ان کے زعم کے مطابق… کوئی دلیل نہیں ، اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑ سکتے ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور ہم تیرا یقین کرنے والے نہیں ‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے ایمان کے بارے میں اپنے نبی ہودu کے ساتھ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ اپنے کفر میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔
[54]﴿اِنۡ نَّقُوۡلُ ﴾ ہم تیرے بارے میں کہتے ہیں : ﴿ اِلَّا اعۡتَرٰىكَ بَعۡضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوۡٓءٍ﴾ ’’تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے‘‘ یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کر کے تجھے جنون لاحق کر دیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کر دیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کر دی۔ انھوں نے کس طرح سب سے سچے انسان کو، جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔
[55] اسی لیے ہودu نے واضح فرمایا کہ انھیں پورا وثوق ہے کہ ان کی طرف سے یا ان کے معبودوں کی طرف سے انھیں کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی، بنا بریں فرمایا:﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ﴾ یعنی تم سب ہر ممکن طریقے سے مجھے نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کر لو ﴿ ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’پھر مجھے کوئی مہلت بھی نہ دو۔‘‘
[56]﴿اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے اللہ پر توکل کیا۔‘‘ یعنی میں نے اپنے تمام معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ ﴿ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ یعنی وہ تمام موجودات کا خالق ہے، وہی ہے جو ہماری اور تمھاری تدبیر کرتا ہے اور وہی ہے جس نے ہماری تربیت کی ﴿ مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾ ’’جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی کوئی جان دار اس کے حکم کے بغیر حرکت کرتا ہے نہ ساکن ہوتا ہے۔ اگر تم سب مل کر مجھے کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ تمھیں مجھ پر مسلط نہ کرے تو تم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں اس کی کوئی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے‘‘ یعنی میرا رب عدل و انصاف اور حکمت پر ہے وہ اپنی قضا و قدر، شرع وامر، جزا اور اپنے ثواب و عقاب میں قابل ستائش ہے اس کے افعال صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے نہیں جس کی وجہ سے اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔
[57]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پس اگر تم روگردانی کرو۔‘‘ یعنی اگر تم اس چیز سے منہ موڑ لو جس کی طرف میں تمھیں بلاتا ہوں ﴿ فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’تو تحقیق میں پہنچا چکا تمھیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمھاری طرف بھیجا گیا تھا‘‘ پس میرے ذمے تمھارے معاملے میں کوئی چیز باقی نہیں ۔ ﴿وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّيۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ ﴾ ’’اور جانشین بنائے گا میرا رب، تمھارے علاوہ کسی اور قوم کو‘‘ جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ﴿ وَلَا تَضُرُّوۡنَهٗ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے‘‘ کیونکہ تمھارا ضرر تمھاری ہی طرف لوٹے گا۔ اہل معاصی کی معصیت اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے نہ اہل اطاعت کی اطاعت اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ﴿ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے اور جو کوئی برے کام کرتا ہے تو اس کا نقصان اسی کے لیے ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡؔظٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘
[58]﴿ وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب نامبارک ہوا کی صورت میں ہمارا عذاب آیا۔ ﴿ مَا تَذَرُ مِنۡ شَيۡءٍ اَتَتۡ عَلَيۡهِ اِلَّا جَعَلَتۡهُ كَالرَّمِيۡمِ﴾(الذاریات: 51؍42) ’’جس چیز پر بھی وہ چلتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی مانند ریزہ ریزہ کیے دیتی تھی‘‘ ﴿ نَجَّيۡنَا هُوۡدًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَنَجَّيۡنٰهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا‘‘ یعنی نہایت عظیم عذاب جسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر نازل فرمایا۔ اس عذاب نے ان کی یہ حالت کر دی کہ ان کے مساکن کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔
[59]﴿ وَتِلۡكَ عَادٌ﴾ ’’یہ قوم عاد تھی‘‘ جن پر ان کے ظلم کی پاداش میں یہ عذاب نازل فرمایا کیونکہ ﴿ جَحَدُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا‘‘ اور کہنے لگے: ﴿ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے‘‘ پس اس سے واضح ہوا کہ ہودu کی دعوت کی صداقت کے بارے میں انھیں یقین تھا، انھوں نے محض عناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا تھا۔ ﴿ وَعَصَوۡا رُسُلَهٗ ﴾’’اورانھوں نے اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی اور جو کوئی کسی ایک رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ تمام رسولوں کی نافرمانی کرتا ہے کیونکہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ایک ہے۔﴿ وَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ ﴾ ’’اور انھوں نے حکم مانا ہر اس شخص کا جو سرکش تھا‘‘ یعنی وہ شخص جو جبر و استبداد کے ذریعے سے اللہ کے بندوں پر مسلط ہو جاتا ہے۔ ﴿ عَنِيۡدٍ ﴾ ’’سرکش‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ انھوں نے ہر خیر خواہ اور مشفق کی نافرمانی کی اور ہر دھوکے باز کی پیروی کی جو ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔
[60]﴿وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً ﴾ ’’اور پیچھے لگی رہی ان کے اس دنیا میں پھٹکار‘‘ پس ہر وقت اور ہر زمانے میں ان کے کرتوتوں اور بری خبروں کا لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں اور ایسی مذمت کے ساتھ ان کو یاد کرتے ہیں جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے روز بھی‘‘ وہ ملعون ٹھہریں گے۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ﴾ ’’خبردار! بے شک عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا‘‘ انھوں نے اس ہستی کا انکار کر دیا جس نے ان کو پیدا کیا، ان کو رزق دیا اور ان کی تربیت کی ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ ﴾ ’’سنو! ہود کی قوم عاد کے لیے دوری ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ہر بھلائی سے دور اور برائی سے قریب کر دیا۔
11:58وَلَمَّا جَآءَ أَمۡرُنَا نَجَّيۡنَا هُودٗا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ بِرَحۡمَةٖ مِّنَّا وَنَجَّيۡنَٰهُم مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيظٖ
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، نہیں ہو تم مگر جھوٹ گھڑنے والے (50) اے میری قوم! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی اجر کا، نہیں ہے اجر میرا مگر اوپر اس ذات کے جس نے پیدا کیا مجھے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (51)اور اے میری قوم! مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف ، وہ بھیجے گا بادل اوپر تمھارے خوب برسنے والےاور بڑھا دے گا تمھیں قوت میں ساتھ تمھاری (موجودہ) قوت کے اور مت روگردانی کرو مجرم بن کر(52) انھوں نے کہا، اے ہود! نہیں لایا تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل اور نہیں ہیں ہم چھوڑنے والے اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سےاور نہیں ہیں ہم تجھ پر ایمان لانے والے (53) نہیں کہتے ہم مگر یہ کہ مبتلا کر دیا ہے تجھے کسی ہمارے معبود نے برائی (خلل دماغ) میں ، ہود نے کہا، بے شک میں گواہ بناتا ہوں اللہ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ بے شک میں بری ہوں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو (54) سوائے اللہ کے، پس تدبیر کر لو تم مجھے نقصان پہنچانے کی سب مل کر ، پھر نہ مہلت دو تم مجھے (55)بے شک میں نے بھروسہ کیا ہے اوپر اللہ کے، جو رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا ، نہیں کوئی چلنے والا جاندار (زمین پر) مگر اللہ پکڑے ہوئے ہے پیشانی اس کی، بلاشبہ میرا رب اوپر سیدھے راستے کے ہے (56) پس اگر روگردانی کرو تم تو تحقیق پہنچا دی ہے میں نے تمھیں وہ چیز کہ بھیجا گیا ہوں میں ساتھ اس کے تمھاری طرف اور (تمھارا) جانشین بنا دے گا میرا رب ایک اور قوم کو سوائے تمھارےاور نہ نقصان پہنچا سکو گے تم اسے کچھ بھی، بلاشبہ میرا رب اوپر ہر چیز کے نگہبان ہے (57) اور جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، اپنے فضل سےاور نجات دی ہم نے انھیں عذاب شدید سے (58) اور یہ عاد ہیں ، انھوں نے انکار کیا تھا آیتوں کا اپنے رب کی اور نافرمانی کی اللہ کے رسولوں کی اور پیروی کی انھوں نے حکم کی ہر سرکش عناد رکھنے والے کے (59) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، آگاہ رہو! بلاشبہ عاد (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے عاد، قوم ہود کے (60)
[50]﴿وَاِلٰى عَادٍ ﴾ ’’اور عاد کی طرف‘‘ یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا ’’عاد‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو سرزمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ نسب میں ان کے بھائی ﴿هُوۡدًا﴾ ’’ہود کو‘‘ تاکہ وہ ان سے علم حاصل کر سکیں ۔ ﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تم بہتان باندھتے ہو‘‘ یعنی ہودu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کیا اور انھیں آگاہ کیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کو اختیار کر کے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا کی عبادت کے فساد کو واضح فرمایا۔
[51] پھر اطاعت کے راستے پر گامزن ہونے سے کسی چیز کے مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اے میری قوم! میں اس کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں تمھارے اموال میں سے کوئی تاوان وصول نہیں کرتا کہ تمھیں کہنا پڑے ’’یہ ہمارے مال ہتھیانا چاہتا ہے‘‘ میں تو تمھیں بغیر کسی معاوضہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں اور تمھیں تعلیم دیتا ہوں ۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، کیا پس تم نہیں سمجھتے‘‘ یعنی جس چیز کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں کیا تم اسے سمجھتے نہیں کہ یہ قبولیت کی موجب ہے اس کو قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
[52]﴿ وَيٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔‘‘ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہو چکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’پھر اس کے آگے توبہ کرو۔‘‘ یعنی آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے ﴿ يُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّؔدۡرَارًا﴾ ’’وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿ وَّيَزِدۡؔكُمۡ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں ‘‘ کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا: ﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حم السجدہ: 41؍15) ’’ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کی قوت میں اور اضافہ کر دے گا۔ ﴿ وَلَا تَتَوَلَّوۡا﴾ ’’اور روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اپنے رب سے منہ نہ موڑو ﴿ مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ہو کر‘‘ یعنی تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑو اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت نہ کرو۔
[53]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ يٰهُوۡدُ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا‘‘ اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لیے لازم نہیں بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہودu ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر کرتا ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔اگر ان کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہ بھی ظاہر ہوا ہوتا سوائے دعوت کے جس میں دین کو اللہ وحدہ لا شریک کے لیے خالص کرنے کی تاکید ہو، نیک عمل اور اخلاق جمیلہ کا حکم دیا گیا ہو اور اخلاق مذمومہ، یعنی شرک، فواحش، ظلم اور دیگر مختلف قسم کی برائیوں سے روکا گیا ہو نیز اس کی تائید میں ہودu کی وہ صفات بھی ہوں جو مخلوق میں سب سے اچھے اور سب سے سچے شخص کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں تو ان کی صداقت پر دلیل کے لیے یہی چیز کافی تھی… بلکہ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز مجرد خرق عادت معجزات سے زیادہ بڑی نشانی ہے۔ حضرت ہودu کی صداقت پر دلالت کرنے والی آیات و بینات میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ فرد واحد ہے، اس کے کوئی انصار و اعوان نہیں ، وہ اپنی قوم میں پکار پکار کر کہتا ہے اور ان کو عاجز کر دیتا ہے وہ کہتا ہے ﴿ اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ ﴿قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’ہود نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان ہستیوں سے بیزار ہوں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے پھر تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ وہ دشمن ہیں ان کے پاس سطوت، غلبہ اور اقتدار ہے وہ ہر طریقے سے اس روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں جسے ہودu لے کر آئے ہیں وہ ان دشمنوں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور یہ ہیں کہ ہودu کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز اور بے بس ہیں ۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں ۔کفار نے کہا:﴿ وَّمَا نَحۡنُ بِتَارِكِيۡۤ اٰلِهَتِنَا عَنۡ قَوۡلِكَ ﴾ ’’اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ۔‘‘ یعنی ہم مجرد تیرے قول پر جس پر… ان کے زعم کے مطابق… کوئی دلیل نہیں ، اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑ سکتے ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور ہم تیرا یقین کرنے والے نہیں ‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے ایمان کے بارے میں اپنے نبی ہودu کے ساتھ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ اپنے کفر میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔
[54]﴿اِنۡ نَّقُوۡلُ ﴾ ہم تیرے بارے میں کہتے ہیں : ﴿ اِلَّا اعۡتَرٰىكَ بَعۡضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوۡٓءٍ﴾ ’’تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے‘‘ یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کر کے تجھے جنون لاحق کر دیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کر دیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کر دی۔ انھوں نے کس طرح سب سے سچے انسان کو، جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔
[55] اسی لیے ہودu نے واضح فرمایا کہ انھیں پورا وثوق ہے کہ ان کی طرف سے یا ان کے معبودوں کی طرف سے انھیں کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی، بنا بریں فرمایا:﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ﴾ یعنی تم سب ہر ممکن طریقے سے مجھے نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کر لو ﴿ ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’پھر مجھے کوئی مہلت بھی نہ دو۔‘‘
[56]﴿اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے اللہ پر توکل کیا۔‘‘ یعنی میں نے اپنے تمام معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ ﴿ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ یعنی وہ تمام موجودات کا خالق ہے، وہی ہے جو ہماری اور تمھاری تدبیر کرتا ہے اور وہی ہے جس نے ہماری تربیت کی ﴿ مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾ ’’جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی کوئی جان دار اس کے حکم کے بغیر حرکت کرتا ہے نہ ساکن ہوتا ہے۔ اگر تم سب مل کر مجھے کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ تمھیں مجھ پر مسلط نہ کرے تو تم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں اس کی کوئی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے‘‘ یعنی میرا رب عدل و انصاف اور حکمت پر ہے وہ اپنی قضا و قدر، شرع وامر، جزا اور اپنے ثواب و عقاب میں قابل ستائش ہے اس کے افعال صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے نہیں جس کی وجہ سے اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔
[57]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پس اگر تم روگردانی کرو۔‘‘ یعنی اگر تم اس چیز سے منہ موڑ لو جس کی طرف میں تمھیں بلاتا ہوں ﴿ فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’تو تحقیق میں پہنچا چکا تمھیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمھاری طرف بھیجا گیا تھا‘‘ پس میرے ذمے تمھارے معاملے میں کوئی چیز باقی نہیں ۔ ﴿وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّيۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ ﴾ ’’اور جانشین بنائے گا میرا رب، تمھارے علاوہ کسی اور قوم کو‘‘ جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ﴿ وَلَا تَضُرُّوۡنَهٗ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے‘‘ کیونکہ تمھارا ضرر تمھاری ہی طرف لوٹے گا۔ اہل معاصی کی معصیت اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے نہ اہل اطاعت کی اطاعت اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ﴿ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے اور جو کوئی برے کام کرتا ہے تو اس کا نقصان اسی کے لیے ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡؔظٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘
[58]﴿ وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب نامبارک ہوا کی صورت میں ہمارا عذاب آیا۔ ﴿ مَا تَذَرُ مِنۡ شَيۡءٍ اَتَتۡ عَلَيۡهِ اِلَّا جَعَلَتۡهُ كَالرَّمِيۡمِ﴾(الذاریات: 51؍42) ’’جس چیز پر بھی وہ چلتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی مانند ریزہ ریزہ کیے دیتی تھی‘‘ ﴿ نَجَّيۡنَا هُوۡدًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَنَجَّيۡنٰهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا‘‘ یعنی نہایت عظیم عذاب جسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر نازل فرمایا۔ اس عذاب نے ان کی یہ حالت کر دی کہ ان کے مساکن کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔
[59]﴿ وَتِلۡكَ عَادٌ﴾ ’’یہ قوم عاد تھی‘‘ جن پر ان کے ظلم کی پاداش میں یہ عذاب نازل فرمایا کیونکہ ﴿ جَحَدُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا‘‘ اور کہنے لگے: ﴿ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے‘‘ پس اس سے واضح ہوا کہ ہودu کی دعوت کی صداقت کے بارے میں انھیں یقین تھا، انھوں نے محض عناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا تھا۔ ﴿ وَعَصَوۡا رُسُلَهٗ ﴾’’اورانھوں نے اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی اور جو کوئی کسی ایک رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ تمام رسولوں کی نافرمانی کرتا ہے کیونکہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ایک ہے۔﴿ وَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ ﴾ ’’اور انھوں نے حکم مانا ہر اس شخص کا جو سرکش تھا‘‘ یعنی وہ شخص جو جبر و استبداد کے ذریعے سے اللہ کے بندوں پر مسلط ہو جاتا ہے۔ ﴿ عَنِيۡدٍ ﴾ ’’سرکش‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ انھوں نے ہر خیر خواہ اور مشفق کی نافرمانی کی اور ہر دھوکے باز کی پیروی کی جو ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔
[60]﴿وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً ﴾ ’’اور پیچھے لگی رہی ان کے اس دنیا میں پھٹکار‘‘ پس ہر وقت اور ہر زمانے میں ان کے کرتوتوں اور بری خبروں کا لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں اور ایسی مذمت کے ساتھ ان کو یاد کرتے ہیں جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے روز بھی‘‘ وہ ملعون ٹھہریں گے۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ﴾ ’’خبردار! بے شک عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا‘‘ انھوں نے اس ہستی کا انکار کر دیا جس نے ان کو پیدا کیا، ان کو رزق دیا اور ان کی تربیت کی ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ ﴾ ’’سنو! ہود کی قوم عاد کے لیے دوری ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ہر بھلائی سے دور اور برائی سے قریب کر دیا۔
11:59وَتِلۡكَ عَادٞۖ جَحَدُواْ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمۡ وَعَصَوۡاْ رُسُلَهُۥ وَٱتَّبَعُوٓاْ أَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٖ
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، نہیں ہو تم مگر جھوٹ گھڑنے والے (50) اے میری قوم! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی اجر کا، نہیں ہے اجر میرا مگر اوپر اس ذات کے جس نے پیدا کیا مجھے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (51)اور اے میری قوم! مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف ، وہ بھیجے گا بادل اوپر تمھارے خوب برسنے والےاور بڑھا دے گا تمھیں قوت میں ساتھ تمھاری (موجودہ) قوت کے اور مت روگردانی کرو مجرم بن کر(52) انھوں نے کہا، اے ہود! نہیں لایا تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل اور نہیں ہیں ہم چھوڑنے والے اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سےاور نہیں ہیں ہم تجھ پر ایمان لانے والے (53) نہیں کہتے ہم مگر یہ کہ مبتلا کر دیا ہے تجھے کسی ہمارے معبود نے برائی (خلل دماغ) میں ، ہود نے کہا، بے شک میں گواہ بناتا ہوں اللہ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ بے شک میں بری ہوں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو (54) سوائے اللہ کے، پس تدبیر کر لو تم مجھے نقصان پہنچانے کی سب مل کر ، پھر نہ مہلت دو تم مجھے (55)بے شک میں نے بھروسہ کیا ہے اوپر اللہ کے، جو رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا ، نہیں کوئی چلنے والا جاندار (زمین پر) مگر اللہ پکڑے ہوئے ہے پیشانی اس کی، بلاشبہ میرا رب اوپر سیدھے راستے کے ہے (56) پس اگر روگردانی کرو تم تو تحقیق پہنچا دی ہے میں نے تمھیں وہ چیز کہ بھیجا گیا ہوں میں ساتھ اس کے تمھاری طرف اور (تمھارا) جانشین بنا دے گا میرا رب ایک اور قوم کو سوائے تمھارےاور نہ نقصان پہنچا سکو گے تم اسے کچھ بھی، بلاشبہ میرا رب اوپر ہر چیز کے نگہبان ہے (57) اور جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، اپنے فضل سےاور نجات دی ہم نے انھیں عذاب شدید سے (58) اور یہ عاد ہیں ، انھوں نے انکار کیا تھا آیتوں کا اپنے رب کی اور نافرمانی کی اللہ کے رسولوں کی اور پیروی کی انھوں نے حکم کی ہر سرکش عناد رکھنے والے کے (59) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، آگاہ رہو! بلاشبہ عاد (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے عاد، قوم ہود کے (60)
[50]﴿وَاِلٰى عَادٍ ﴾ ’’اور عاد کی طرف‘‘ یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا ’’عاد‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو سرزمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ نسب میں ان کے بھائی ﴿هُوۡدًا﴾ ’’ہود کو‘‘ تاکہ وہ ان سے علم حاصل کر سکیں ۔ ﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تم بہتان باندھتے ہو‘‘ یعنی ہودu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کیا اور انھیں آگاہ کیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کو اختیار کر کے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا کی عبادت کے فساد کو واضح فرمایا۔
[51] پھر اطاعت کے راستے پر گامزن ہونے سے کسی چیز کے مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اے میری قوم! میں اس کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں تمھارے اموال میں سے کوئی تاوان وصول نہیں کرتا کہ تمھیں کہنا پڑے ’’یہ ہمارے مال ہتھیانا چاہتا ہے‘‘ میں تو تمھیں بغیر کسی معاوضہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں اور تمھیں تعلیم دیتا ہوں ۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، کیا پس تم نہیں سمجھتے‘‘ یعنی جس چیز کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں کیا تم اسے سمجھتے نہیں کہ یہ قبولیت کی موجب ہے اس کو قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
[52]﴿ وَيٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔‘‘ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہو چکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’پھر اس کے آگے توبہ کرو۔‘‘ یعنی آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے ﴿ يُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّؔدۡرَارًا﴾ ’’وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿ وَّيَزِدۡؔكُمۡ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں ‘‘ کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا: ﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حم السجدہ: 41؍15) ’’ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کی قوت میں اور اضافہ کر دے گا۔ ﴿ وَلَا تَتَوَلَّوۡا﴾ ’’اور روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اپنے رب سے منہ نہ موڑو ﴿ مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ہو کر‘‘ یعنی تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑو اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت نہ کرو۔
[53]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ يٰهُوۡدُ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا‘‘ اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لیے لازم نہیں بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہودu ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر کرتا ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔اگر ان کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہ بھی ظاہر ہوا ہوتا سوائے دعوت کے جس میں دین کو اللہ وحدہ لا شریک کے لیے خالص کرنے کی تاکید ہو، نیک عمل اور اخلاق جمیلہ کا حکم دیا گیا ہو اور اخلاق مذمومہ، یعنی شرک، فواحش، ظلم اور دیگر مختلف قسم کی برائیوں سے روکا گیا ہو نیز اس کی تائید میں ہودu کی وہ صفات بھی ہوں جو مخلوق میں سب سے اچھے اور سب سے سچے شخص کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں تو ان کی صداقت پر دلیل کے لیے یہی چیز کافی تھی… بلکہ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز مجرد خرق عادت معجزات سے زیادہ بڑی نشانی ہے۔ حضرت ہودu کی صداقت پر دلالت کرنے والی آیات و بینات میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ فرد واحد ہے، اس کے کوئی انصار و اعوان نہیں ، وہ اپنی قوم میں پکار پکار کر کہتا ہے اور ان کو عاجز کر دیتا ہے وہ کہتا ہے ﴿ اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ ﴿قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’ہود نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان ہستیوں سے بیزار ہوں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے پھر تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ وہ دشمن ہیں ان کے پاس سطوت، غلبہ اور اقتدار ہے وہ ہر طریقے سے اس روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں جسے ہودu لے کر آئے ہیں وہ ان دشمنوں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور یہ ہیں کہ ہودu کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز اور بے بس ہیں ۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں ۔کفار نے کہا:﴿ وَّمَا نَحۡنُ بِتَارِكِيۡۤ اٰلِهَتِنَا عَنۡ قَوۡلِكَ ﴾ ’’اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ۔‘‘ یعنی ہم مجرد تیرے قول پر جس پر… ان کے زعم کے مطابق… کوئی دلیل نہیں ، اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑ سکتے ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور ہم تیرا یقین کرنے والے نہیں ‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے ایمان کے بارے میں اپنے نبی ہودu کے ساتھ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ اپنے کفر میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔
[54]﴿اِنۡ نَّقُوۡلُ ﴾ ہم تیرے بارے میں کہتے ہیں : ﴿ اِلَّا اعۡتَرٰىكَ بَعۡضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوۡٓءٍ﴾ ’’تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے‘‘ یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کر کے تجھے جنون لاحق کر دیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کر دیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کر دی۔ انھوں نے کس طرح سب سے سچے انسان کو، جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔
[55] اسی لیے ہودu نے واضح فرمایا کہ انھیں پورا وثوق ہے کہ ان کی طرف سے یا ان کے معبودوں کی طرف سے انھیں کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی، بنا بریں فرمایا:﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ﴾ یعنی تم سب ہر ممکن طریقے سے مجھے نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کر لو ﴿ ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’پھر مجھے کوئی مہلت بھی نہ دو۔‘‘
[56]﴿اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے اللہ پر توکل کیا۔‘‘ یعنی میں نے اپنے تمام معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ ﴿ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ یعنی وہ تمام موجودات کا خالق ہے، وہی ہے جو ہماری اور تمھاری تدبیر کرتا ہے اور وہی ہے جس نے ہماری تربیت کی ﴿ مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾ ’’جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی کوئی جان دار اس کے حکم کے بغیر حرکت کرتا ہے نہ ساکن ہوتا ہے۔ اگر تم سب مل کر مجھے کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ تمھیں مجھ پر مسلط نہ کرے تو تم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں اس کی کوئی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے‘‘ یعنی میرا رب عدل و انصاف اور حکمت پر ہے وہ اپنی قضا و قدر، شرع وامر، جزا اور اپنے ثواب و عقاب میں قابل ستائش ہے اس کے افعال صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے نہیں جس کی وجہ سے اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔
[57]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پس اگر تم روگردانی کرو۔‘‘ یعنی اگر تم اس چیز سے منہ موڑ لو جس کی طرف میں تمھیں بلاتا ہوں ﴿ فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’تو تحقیق میں پہنچا چکا تمھیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمھاری طرف بھیجا گیا تھا‘‘ پس میرے ذمے تمھارے معاملے میں کوئی چیز باقی نہیں ۔ ﴿وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّيۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ ﴾ ’’اور جانشین بنائے گا میرا رب، تمھارے علاوہ کسی اور قوم کو‘‘ جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ﴿ وَلَا تَضُرُّوۡنَهٗ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے‘‘ کیونکہ تمھارا ضرر تمھاری ہی طرف لوٹے گا۔ اہل معاصی کی معصیت اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے نہ اہل اطاعت کی اطاعت اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ﴿ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے اور جو کوئی برے کام کرتا ہے تو اس کا نقصان اسی کے لیے ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡؔظٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘
[58]﴿ وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب نامبارک ہوا کی صورت میں ہمارا عذاب آیا۔ ﴿ مَا تَذَرُ مِنۡ شَيۡءٍ اَتَتۡ عَلَيۡهِ اِلَّا جَعَلَتۡهُ كَالرَّمِيۡمِ﴾(الذاریات: 51؍42) ’’جس چیز پر بھی وہ چلتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی مانند ریزہ ریزہ کیے دیتی تھی‘‘ ﴿ نَجَّيۡنَا هُوۡدًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَنَجَّيۡنٰهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا‘‘ یعنی نہایت عظیم عذاب جسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر نازل فرمایا۔ اس عذاب نے ان کی یہ حالت کر دی کہ ان کے مساکن کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔
[59]﴿ وَتِلۡكَ عَادٌ﴾ ’’یہ قوم عاد تھی‘‘ جن پر ان کے ظلم کی پاداش میں یہ عذاب نازل فرمایا کیونکہ ﴿ جَحَدُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا‘‘ اور کہنے لگے: ﴿ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے‘‘ پس اس سے واضح ہوا کہ ہودu کی دعوت کی صداقت کے بارے میں انھیں یقین تھا، انھوں نے محض عناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا تھا۔ ﴿ وَعَصَوۡا رُسُلَهٗ ﴾’’اورانھوں نے اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی اور جو کوئی کسی ایک رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ تمام رسولوں کی نافرمانی کرتا ہے کیونکہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ایک ہے۔﴿ وَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ ﴾ ’’اور انھوں نے حکم مانا ہر اس شخص کا جو سرکش تھا‘‘ یعنی وہ شخص جو جبر و استبداد کے ذریعے سے اللہ کے بندوں پر مسلط ہو جاتا ہے۔ ﴿ عَنِيۡدٍ ﴾ ’’سرکش‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ انھوں نے ہر خیر خواہ اور مشفق کی نافرمانی کی اور ہر دھوکے باز کی پیروی کی جو ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔
[60]﴿وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً ﴾ ’’اور پیچھے لگی رہی ان کے اس دنیا میں پھٹکار‘‘ پس ہر وقت اور ہر زمانے میں ان کے کرتوتوں اور بری خبروں کا لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں اور ایسی مذمت کے ساتھ ان کو یاد کرتے ہیں جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے روز بھی‘‘ وہ ملعون ٹھہریں گے۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ﴾ ’’خبردار! بے شک عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا‘‘ انھوں نے اس ہستی کا انکار کر دیا جس نے ان کو پیدا کیا، ان کو رزق دیا اور ان کی تربیت کی ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ ﴾ ’’سنو! ہود کی قوم عاد کے لیے دوری ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ہر بھلائی سے دور اور برائی سے قریب کر دیا۔
11:60وَأُتۡبِعُواْ فِي هَٰذِهِ ٱلدُّنۡيَا لَعۡنَةٗ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ أَلَآ إِنَّ عَادٗا كَفَرُواْ رَبَّهُمۡۗ أَلَا بُعۡدٗا لِّعَادٖ قَوۡمِ هُودٖ
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، نہیں ہو تم مگر جھوٹ گھڑنے والے (50) اے میری قوم! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی اجر کا، نہیں ہے اجر میرا مگر اوپر اس ذات کے جس نے پیدا کیا مجھے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (51)اور اے میری قوم! مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف ، وہ بھیجے گا بادل اوپر تمھارے خوب برسنے والےاور بڑھا دے گا تمھیں قوت میں ساتھ تمھاری (موجودہ) قوت کے اور مت روگردانی کرو مجرم بن کر(52) انھوں نے کہا، اے ہود! نہیں لایا تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل اور نہیں ہیں ہم چھوڑنے والے اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سےاور نہیں ہیں ہم تجھ پر ایمان لانے والے (53) نہیں کہتے ہم مگر یہ کہ مبتلا کر دیا ہے تجھے کسی ہمارے معبود نے برائی (خلل دماغ) میں ، ہود نے کہا، بے شک میں گواہ بناتا ہوں اللہ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ بے شک میں بری ہوں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو (54) سوائے اللہ کے، پس تدبیر کر لو تم مجھے نقصان پہنچانے کی سب مل کر ، پھر نہ مہلت دو تم مجھے (55)بے شک میں نے بھروسہ کیا ہے اوپر اللہ کے، جو رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا ، نہیں کوئی چلنے والا جاندار (زمین پر) مگر اللہ پکڑے ہوئے ہے پیشانی اس کی، بلاشبہ میرا رب اوپر سیدھے راستے کے ہے (56) پس اگر روگردانی کرو تم تو تحقیق پہنچا دی ہے میں نے تمھیں وہ چیز کہ بھیجا گیا ہوں میں ساتھ اس کے تمھاری طرف اور (تمھارا) جانشین بنا دے گا میرا رب ایک اور قوم کو سوائے تمھارےاور نہ نقصان پہنچا سکو گے تم اسے کچھ بھی، بلاشبہ میرا رب اوپر ہر چیز کے نگہبان ہے (57) اور جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، اپنے فضل سےاور نجات دی ہم نے انھیں عذاب شدید سے (58) اور یہ عاد ہیں ، انھوں نے انکار کیا تھا آیتوں کا اپنے رب کی اور نافرمانی کی اللہ کے رسولوں کی اور پیروی کی انھوں نے حکم کی ہر سرکش عناد رکھنے والے کے (59) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، آگاہ رہو! بلاشبہ عاد (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے عاد، قوم ہود کے (60)
[50]﴿وَاِلٰى عَادٍ ﴾ ’’اور عاد کی طرف‘‘ یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا ’’عاد‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو سرزمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ نسب میں ان کے بھائی ﴿هُوۡدًا﴾ ’’ہود کو‘‘ تاکہ وہ ان سے علم حاصل کر سکیں ۔ ﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تم بہتان باندھتے ہو‘‘ یعنی ہودu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کیا اور انھیں آگاہ کیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کو اختیار کر کے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا کی عبادت کے فساد کو واضح فرمایا۔
[51] پھر اطاعت کے راستے پر گامزن ہونے سے کسی چیز کے مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اے میری قوم! میں اس کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں تمھارے اموال میں سے کوئی تاوان وصول نہیں کرتا کہ تمھیں کہنا پڑے ’’یہ ہمارے مال ہتھیانا چاہتا ہے‘‘ میں تو تمھیں بغیر کسی معاوضہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں اور تمھیں تعلیم دیتا ہوں ۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، کیا پس تم نہیں سمجھتے‘‘ یعنی جس چیز کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں کیا تم اسے سمجھتے نہیں کہ یہ قبولیت کی موجب ہے اس کو قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
[52]﴿ وَيٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔‘‘ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہو چکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’پھر اس کے آگے توبہ کرو۔‘‘ یعنی آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے ﴿ يُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّؔدۡرَارًا﴾ ’’وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿ وَّيَزِدۡؔكُمۡ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں ‘‘ کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا: ﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حم السجدہ: 41؍15) ’’ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کی قوت میں اور اضافہ کر دے گا۔ ﴿ وَلَا تَتَوَلَّوۡا﴾ ’’اور روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اپنے رب سے منہ نہ موڑو ﴿ مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ہو کر‘‘ یعنی تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑو اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت نہ کرو۔
[53]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ يٰهُوۡدُ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا‘‘ اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لیے لازم نہیں بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہودu ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر کرتا ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔اگر ان کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہ بھی ظاہر ہوا ہوتا سوائے دعوت کے جس میں دین کو اللہ وحدہ لا شریک کے لیے خالص کرنے کی تاکید ہو، نیک عمل اور اخلاق جمیلہ کا حکم دیا گیا ہو اور اخلاق مذمومہ، یعنی شرک، فواحش، ظلم اور دیگر مختلف قسم کی برائیوں سے روکا گیا ہو نیز اس کی تائید میں ہودu کی وہ صفات بھی ہوں جو مخلوق میں سب سے اچھے اور سب سے سچے شخص کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں تو ان کی صداقت پر دلیل کے لیے یہی چیز کافی تھی… بلکہ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز مجرد خرق عادت معجزات سے زیادہ بڑی نشانی ہے۔ حضرت ہودu کی صداقت پر دلالت کرنے والی آیات و بینات میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ فرد واحد ہے، اس کے کوئی انصار و اعوان نہیں ، وہ اپنی قوم میں پکار پکار کر کہتا ہے اور ان کو عاجز کر دیتا ہے وہ کہتا ہے ﴿ اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ ﴿قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’ہود نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان ہستیوں سے بیزار ہوں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے پھر تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ وہ دشمن ہیں ان کے پاس سطوت، غلبہ اور اقتدار ہے وہ ہر طریقے سے اس روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں جسے ہودu لے کر آئے ہیں وہ ان دشمنوں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور یہ ہیں کہ ہودu کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز اور بے بس ہیں ۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں ۔کفار نے کہا:﴿ وَّمَا نَحۡنُ بِتَارِكِيۡۤ اٰلِهَتِنَا عَنۡ قَوۡلِكَ ﴾ ’’اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ۔‘‘ یعنی ہم مجرد تیرے قول پر جس پر… ان کے زعم کے مطابق… کوئی دلیل نہیں ، اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑ سکتے ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور ہم تیرا یقین کرنے والے نہیں ‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے ایمان کے بارے میں اپنے نبی ہودu کے ساتھ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ اپنے کفر میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔
[54]﴿اِنۡ نَّقُوۡلُ ﴾ ہم تیرے بارے میں کہتے ہیں : ﴿ اِلَّا اعۡتَرٰىكَ بَعۡضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوۡٓءٍ﴾ ’’تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے‘‘ یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کر کے تجھے جنون لاحق کر دیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کر دیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کر دی۔ انھوں نے کس طرح سب سے سچے انسان کو، جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔
[55] اسی لیے ہودu نے واضح فرمایا کہ انھیں پورا وثوق ہے کہ ان کی طرف سے یا ان کے معبودوں کی طرف سے انھیں کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی، بنا بریں فرمایا:﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ﴾ یعنی تم سب ہر ممکن طریقے سے مجھے نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کر لو ﴿ ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’پھر مجھے کوئی مہلت بھی نہ دو۔‘‘
[56]﴿اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے اللہ پر توکل کیا۔‘‘ یعنی میں نے اپنے تمام معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ ﴿ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ یعنی وہ تمام موجودات کا خالق ہے، وہی ہے جو ہماری اور تمھاری تدبیر کرتا ہے اور وہی ہے جس نے ہماری تربیت کی ﴿ مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾ ’’جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی کوئی جان دار اس کے حکم کے بغیر حرکت کرتا ہے نہ ساکن ہوتا ہے۔ اگر تم سب مل کر مجھے کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ تمھیں مجھ پر مسلط نہ کرے تو تم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں اس کی کوئی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے‘‘ یعنی میرا رب عدل و انصاف اور حکمت پر ہے وہ اپنی قضا و قدر، شرع وامر، جزا اور اپنے ثواب و عقاب میں قابل ستائش ہے اس کے افعال صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے نہیں جس کی وجہ سے اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔
[57]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پس اگر تم روگردانی کرو۔‘‘ یعنی اگر تم اس چیز سے منہ موڑ لو جس کی طرف میں تمھیں بلاتا ہوں ﴿ فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’تو تحقیق میں پہنچا چکا تمھیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمھاری طرف بھیجا گیا تھا‘‘ پس میرے ذمے تمھارے معاملے میں کوئی چیز باقی نہیں ۔ ﴿وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّيۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ ﴾ ’’اور جانشین بنائے گا میرا رب، تمھارے علاوہ کسی اور قوم کو‘‘ جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ﴿ وَلَا تَضُرُّوۡنَهٗ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے‘‘ کیونکہ تمھارا ضرر تمھاری ہی طرف لوٹے گا۔ اہل معاصی کی معصیت اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے نہ اہل اطاعت کی اطاعت اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ﴿ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے اور جو کوئی برے کام کرتا ہے تو اس کا نقصان اسی کے لیے ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡؔظٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘
[58]﴿ وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب نامبارک ہوا کی صورت میں ہمارا عذاب آیا۔ ﴿ مَا تَذَرُ مِنۡ شَيۡءٍ اَتَتۡ عَلَيۡهِ اِلَّا جَعَلَتۡهُ كَالرَّمِيۡمِ﴾(الذاریات: 51؍42) ’’جس چیز پر بھی وہ چلتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی مانند ریزہ ریزہ کیے دیتی تھی‘‘ ﴿ نَجَّيۡنَا هُوۡدًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَنَجَّيۡنٰهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا‘‘ یعنی نہایت عظیم عذاب جسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر نازل فرمایا۔ اس عذاب نے ان کی یہ حالت کر دی کہ ان کے مساکن کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔
[59]﴿ وَتِلۡكَ عَادٌ﴾ ’’یہ قوم عاد تھی‘‘ جن پر ان کے ظلم کی پاداش میں یہ عذاب نازل فرمایا کیونکہ ﴿ جَحَدُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا‘‘ اور کہنے لگے: ﴿ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے‘‘ پس اس سے واضح ہوا کہ ہودu کی دعوت کی صداقت کے بارے میں انھیں یقین تھا، انھوں نے محض عناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا تھا۔ ﴿ وَعَصَوۡا رُسُلَهٗ ﴾’’اورانھوں نے اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی اور جو کوئی کسی ایک رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ تمام رسولوں کی نافرمانی کرتا ہے کیونکہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ایک ہے۔﴿ وَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ ﴾ ’’اور انھوں نے حکم مانا ہر اس شخص کا جو سرکش تھا‘‘ یعنی وہ شخص جو جبر و استبداد کے ذریعے سے اللہ کے بندوں پر مسلط ہو جاتا ہے۔ ﴿ عَنِيۡدٍ ﴾ ’’سرکش‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ انھوں نے ہر خیر خواہ اور مشفق کی نافرمانی کی اور ہر دھوکے باز کی پیروی کی جو ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔
[60]﴿وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً ﴾ ’’اور پیچھے لگی رہی ان کے اس دنیا میں پھٹکار‘‘ پس ہر وقت اور ہر زمانے میں ان کے کرتوتوں اور بری خبروں کا لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں اور ایسی مذمت کے ساتھ ان کو یاد کرتے ہیں جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے روز بھی‘‘ وہ ملعون ٹھہریں گے۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ﴾ ’’خبردار! بے شک عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا‘‘ انھوں نے اس ہستی کا انکار کر دیا جس نے ان کو پیدا کیا، ان کو رزق دیا اور ان کی تربیت کی ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ ﴾ ’’سنو! ہود کی قوم عاد کے لیے دوری ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ہر بھلائی سے دور اور برائی سے قریب کر دیا۔
11:61۞وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمۡ صَٰلِحٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ وَٱسۡتَعۡمَرَكُمۡ فِيهَا فَٱسۡتَغۡفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوٓاْ إِلَيۡهِۚ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٞ مُّجِيبٞ
اور (بھیجا ہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو، اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کر و اللہ کی، نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اسی نے پیدا کیا تمھیں زمین سے اور اسی نے آباد کیا تمھیں اس میں ، سو تم مغفرت طلب کرو اس سے ، پھر توبہ کرو طرف اسی کی، بلاشبہ میرا رب بہت قریب ہے، (دعائیں ) قبول کرنے والا ہے (61)انھوں نے کہا، اے صالح! تحقیق تھا تو ہم میں امیدوں کا مرکز پہلے اس سے، کیا تو روکتا ہے ہمیں یہ کہ عبادت کریں ہم ان کی جن کی عبادت کرتے تھے آباء ہمارے؟ اور بے شک ہم البتہ شک میں ہیں اس چیز سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں طرف اس کی ، جو اضطراب میں ڈالنے والی ہے(62) صالح نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ تو مجھے، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور دی ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت تو کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے، اگر نافرمانی کروں میں اس کی؟ پس نہیں زیادہ کرو گے تم مجھ کو سوائے خسارہ دینے کے(63) اور اے میری قوم! یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے نشانی، پس تم چھوڑ دو اسے کہ کھاتی (چرتی) پھرے زمین میں اللہ کی اور نہ ہاتھ لگانا تم اسے ساتھ برائی کے، پس پکڑ لے گا تمھیں عذاب قریب ہی (64) پس ٹانگیں کاٹ ڈالیں انھوں نے اس کی تو کہا صالح نے، تم فائدہ اٹھا لو اپنے گھروں میں تین دن، یہ (ایسا) وعدہ ہے نہیں جھوٹ بولا گیا ہے (اس میں )(65) ، پھر جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاور رسوائی سے بھی اس (قیامت کے) دن کی، بے شک آپ کا رب، وہی ہے نہایت طاقتور بہت زبردست (66) اور آپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرے ہوئے (67) گویا کہ نہ رہے تھے وہ ان (گھروں ) میں ، آگاہ رہو! بے شک ثمود (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے ثمود کے (68)
[61]﴿وَاِلٰى ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود کی طرف۔‘‘ یعنی ہم نے ثمود کی طرف مبعوث کیا۔ ثمود، عاد ثانیہ کے نام سے معروف ہیں جو وادی القریٰ اور الحجر کے علاقے میں آباد تھے۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ صٰلِحًا﴾ ’’صالح (u) کو‘‘ جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور دین کو اس کے لیے خالص کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ نہ آسمان والوں میں سے اور نہ اہل زمین میں سے۔ ﴿ هُوَ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اسی (اللہ تعالیٰ) ہی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا‘‘ ﴿ وَاسۡتَعۡمَرَؔكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’اور اس میں تمھیں بسایا‘‘ یعنی تمھیں زمین میں خلیفہ بنایا، تمھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا، تمھیں زمین میں تمکن و اقتدار عطا کیا، تم عمارتیں بناتے ہو، باغات لگاتے ہو اور کھیتیاں اگاتے ہو، جو چاہتے ہو کاشت کرتے ہو، اس سے منفعت حاصل کرتے ہو اور اسے اپنے مصالح اور مفاد میں استعمال کرتے ہو۔ جس طرح ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اس کی عبادت میں بھی کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ﴿ فَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’پس اسی سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ یعنی تم سے کفر، شرک اور دیگر جو گناہ صادر ہوئے ہیں ان کی بخشش طلب کرو اور ان گناہوں کو چھوڑ دو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ یعنی خالص توبہ اور انابت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ قَرِيۡبٌ مُّجِيۡبٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب نزدیک اور (دعا کو) قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس شخص کے قریب ہے جو اس کو سوال کرنے کے لیے پکارتا ہے یا عبادت کے لیے پکارتا ہے وہ اس کو اس کا سوال عطا کر کے اور اس کی دعا قبول کر کے اور اس پر جلیل ترین ثواب عطا کرتے ہوئے اس کی پکار کا جواب دیتا ہے۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے قرب کی دو قسمیں ہیں ۔ قرب عام اور قرب خاص۔ قرب عام سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے علم کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا، قرب کی یہ نوع اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ﴾(ق: 50؍16) ’’اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔‘‘ میں مذکور ہے۔ قرب خاص سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں ، اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے قریب ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاسۡجُدۡ وَاقۡتَرِبۡ﴾(العلق: 96؍19) ’’سجدہ کر اور اس کا قرب حاصل کر۔‘‘ میں قرب کی اسی نوع کا ذکر ہے۔اس آیت کریمہ میں نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيۡ عَنِّيۡ فَاِنِّيۡ قَرِيۡبٌ١ؕ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ ﴾(البقرہ: 2؍186) ’’جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں (تو ان سے کہہ دیں ) کہ میں ان کے قریب ہوں اور پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں ۔‘‘ میں اس قرب کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم، ان کی دعاؤں کو قبول کرنے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ (الْقَرِیب) اور (الْمُجِیب) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے۔
[62] جب ان کے نبی صالحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی ترغیب دی تو انھوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور آپ سے انتہائی برے طریقے سے پیش آئے ﴿ قَالُوۡا يٰصٰلِحُ قَدۡ كُنۡتَ فِيۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ هٰؔذَاۤ﴾ ’’انھوں نے کہا صالح! اس سے پہلے ہم تجھ سے امیدیں رکھتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے تجھ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تجھ سے عقل مندی اور نفع کی توقع تھی۔ یہ ان کی طرف سے ان کے نبی حضرت صالحu کے حق میں ایک گواہی ہے کہ وہ مکارم اخلاق اور محاسن عادات میں معروف تھے اور وہ اپنی قوم میں بہترین شخص گردانے جاتے تھے۔ مگر جب وہ یہ دعوت توحید لے کر آئے جو ان کی فاسد خواہشات کے موافق نہ تھی تب انھوں نے یہ بات کہی جس کے مضمون کا لب لباب یہ ہے۔ ’’تو کامل شخصیت کا حامل تھا مگر تو ہمارے ظن و گمان کے بالکل خلاف نکلا اور اب تیری حالت ایسی ہے کہ تجھ سے کسی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی۔‘‘صالحu کا گناہ صرف وہی تھا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے: ﴿ اَتَنۡهٰىنَاۤ اَنۡ نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا﴾’’کیا تو ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے‘‘ اور وہ سمجھتے تھے کہ صالحu میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ کیسے وہ ان کی عقل کی خامی بیان کرتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کے گمراہ آباء و اجداد کو بے عقل کہتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کو ان ہستیوں کی عبادت سے روکتے ہیں جو ان کو کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور پتھر اور لکڑی کے گھڑے ہوئے یہ معبود کسی کام نہیں آسکتے؟ صالحu نے ان کو حکم دیا کہ وہ دین کو اپنے رب، اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کریں جو انھیں اپنی نعمتوں سے پیہم نوازتا رہتا ہے۔ اس کے دائمی احسانات کا ابر رحمت ان پر برستا رہتا ہے۔ ہر نعمت جو انھیں حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور برائیوں کو ان سے وہی دور کرتا ہے۔﴿ وَاِنَّنَا لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّؔا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ﴾ ’’تو ہمیں جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے اس بارے میں ہم ہمیشہ شک میں مبتلا رہتے ہیں ۔‘‘ یہ شک ہمارے دلوں میں شبہات کو جنم دیتا ہے۔
[63] بزعم خود، اگر وہ صالحu کی دعوت کو صحیح سمجھتے تو وہ ضرور ان کی اتباع کرتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے تھے۔ بنا بریں صالحu نے ان کے جھوٹ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں ہی اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف سے برہان اور اپنے یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ مِنۡهُ رَحۡمَةً﴾ ’’اور اس نے دی مجھے رحمت، اپنی طرف سے‘‘ اس نے اپنی رسالت اور وحی سے مجھے نوازا۔ تب بھی کیا تم جس چیز کی طرف مجھے بلاتے ہو اور جس پر تم عمل پیرا ہو، میں اس میں تمھاری پیروی کروں ؟ ﴿ فَمَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ عَصَيۡتُهٗ١۫ فَمَا تَزِيۡدُوۡنَنِيۡ۠ غَيۡرَ تَخۡسِيۡرٍ ﴾ ’’پھر کون بچائے گا مجھ کو اس سے، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ پس تم میرے نقصان ہی میں اضافہ کرتے ہو‘‘ یعنی تم خسارے، ہلاکت اور ضرر کے سوا میرے لیے کسی چیز کا اضافہ نہیں کرو گے۔
[64]﴿وَيٰقَوۡمِ هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی‘‘ کنویں سے ایک دن صرف اونٹنی پانی پیے گی، پھر تمام لوگ اس کے تھنوں سے دودھ پئیں گے اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لیے مقرر ہوگا۔ ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس تم اسے چھوڑ دو، وہ کھائے پھرے اللہ کی زمین میں ‘‘ یعنی تم پر اونٹنی کے چارہ وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور تم اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا۔‘‘ یعنی اس کو قتل کرنے کی نیت سے مت چھونا ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں بہت جلد عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[65]﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَقَالَ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو کہا‘‘ یعنی جناب صالحu نے ﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ﴾ ’’تم اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہو گا‘‘ بلکہ یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔
[66]﴿ فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آگیا۔‘‘ یعنی وقوع عذاب کا ﴿ نَجَّيۡنَا صٰلِحًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَمِنۡ خِزۡيِ يَوۡمِىِٕذٍ﴾ ’’تو ہم نے صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی، اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے‘‘ یعنی ہم نے ان کو عذاب، رسوائی اور فضیحت سے بچا لیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب زور آور غالب ہے‘‘ یہ اس کی قوت اور غلبے کی دلیل ہے کہ اس نے سرکش قوموں کو ہلاک کر دیا اور انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔
[67]﴿وَاَخَذَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے ان ظالموں کو دھر لیا اور ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ﴿فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے رہ گئے۔
[68]﴿ كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ گویا کہ… جب ان پر عذاب آیا…و ہ اپنی بستیوں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہوئے تھے نہ انھوں نے ان بستیوں میں ایک دن بھی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ نعمتیں ان سے دور ہوگئیں اور سرمدی عذاب نے ان کو آن لیا، وہ عذاب جو منقطع نہیں ہو گا اور وہ جو ہمیشہ رہے گا۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوۡدَاۡؔ كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’سن لو، بے شک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا‘‘ یعنی ان کے پاس نمایاں نشان آجانے کے بعد بھی انھوں نے اللہ کا انکار کیا۔ ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّثَمُوۡدَ ﴾ ’’سنو! دوری ہے ثمود کے لیے‘‘ پس کتنے بدبخت اور کس قدر ذلیل تھے ثمود! ہم دنیا کے عذاب اور اس کی رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
11:62قَالُواْ يَٰصَٰلِحُ قَدۡ كُنتَ فِينَا مَرۡجُوّٗا قَبۡلَ هَٰذَآۖ أَتَنۡهَىٰنَآ أَن نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ ءَابَآؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِي شَكّٖ مِّمَّا تَدۡعُونَآ إِلَيۡهِ مُرِيبٖ
اور (بھیجا ہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو، اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کر و اللہ کی، نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اسی نے پیدا کیا تمھیں زمین سے اور اسی نے آباد کیا تمھیں اس میں ، سو تم مغفرت طلب کرو اس سے ، پھر توبہ کرو طرف اسی کی، بلاشبہ میرا رب بہت قریب ہے، (دعائیں ) قبول کرنے والا ہے (61)انھوں نے کہا، اے صالح! تحقیق تھا تو ہم میں امیدوں کا مرکز پہلے اس سے، کیا تو روکتا ہے ہمیں یہ کہ عبادت کریں ہم ان کی جن کی عبادت کرتے تھے آباء ہمارے؟ اور بے شک ہم البتہ شک میں ہیں اس چیز سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں طرف اس کی ، جو اضطراب میں ڈالنے والی ہے(62) صالح نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ تو مجھے، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور دی ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت تو کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے، اگر نافرمانی کروں میں اس کی؟ پس نہیں زیادہ کرو گے تم مجھ کو سوائے خسارہ دینے کے(63) اور اے میری قوم! یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے نشانی، پس تم چھوڑ دو اسے کہ کھاتی (چرتی) پھرے زمین میں اللہ کی اور نہ ہاتھ لگانا تم اسے ساتھ برائی کے، پس پکڑ لے گا تمھیں عذاب قریب ہی (64) پس ٹانگیں کاٹ ڈالیں انھوں نے اس کی تو کہا صالح نے، تم فائدہ اٹھا لو اپنے گھروں میں تین دن، یہ (ایسا) وعدہ ہے نہیں جھوٹ بولا گیا ہے (اس میں )(65) ، پھر جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاور رسوائی سے بھی اس (قیامت کے) دن کی، بے شک آپ کا رب، وہی ہے نہایت طاقتور بہت زبردست (66) اور آپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرے ہوئے (67) گویا کہ نہ رہے تھے وہ ان (گھروں ) میں ، آگاہ رہو! بے شک ثمود (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے ثمود کے (68)
[61]﴿وَاِلٰى ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود کی طرف۔‘‘ یعنی ہم نے ثمود کی طرف مبعوث کیا۔ ثمود، عاد ثانیہ کے نام سے معروف ہیں جو وادی القریٰ اور الحجر کے علاقے میں آباد تھے۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ صٰلِحًا﴾ ’’صالح (u) کو‘‘ جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور دین کو اس کے لیے خالص کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ نہ آسمان والوں میں سے اور نہ اہل زمین میں سے۔ ﴿ هُوَ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اسی (اللہ تعالیٰ) ہی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا‘‘ ﴿ وَاسۡتَعۡمَرَؔكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’اور اس میں تمھیں بسایا‘‘ یعنی تمھیں زمین میں خلیفہ بنایا، تمھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا، تمھیں زمین میں تمکن و اقتدار عطا کیا، تم عمارتیں بناتے ہو، باغات لگاتے ہو اور کھیتیاں اگاتے ہو، جو چاہتے ہو کاشت کرتے ہو، اس سے منفعت حاصل کرتے ہو اور اسے اپنے مصالح اور مفاد میں استعمال کرتے ہو۔ جس طرح ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اس کی عبادت میں بھی کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ﴿ فَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’پس اسی سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ یعنی تم سے کفر، شرک اور دیگر جو گناہ صادر ہوئے ہیں ان کی بخشش طلب کرو اور ان گناہوں کو چھوڑ دو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ یعنی خالص توبہ اور انابت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ قَرِيۡبٌ مُّجِيۡبٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب نزدیک اور (دعا کو) قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس شخص کے قریب ہے جو اس کو سوال کرنے کے لیے پکارتا ہے یا عبادت کے لیے پکارتا ہے وہ اس کو اس کا سوال عطا کر کے اور اس کی دعا قبول کر کے اور اس پر جلیل ترین ثواب عطا کرتے ہوئے اس کی پکار کا جواب دیتا ہے۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے قرب کی دو قسمیں ہیں ۔ قرب عام اور قرب خاص۔ قرب عام سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے علم کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا، قرب کی یہ نوع اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ﴾(ق: 50؍16) ’’اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔‘‘ میں مذکور ہے۔ قرب خاص سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں ، اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے قریب ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاسۡجُدۡ وَاقۡتَرِبۡ﴾(العلق: 96؍19) ’’سجدہ کر اور اس کا قرب حاصل کر۔‘‘ میں قرب کی اسی نوع کا ذکر ہے۔اس آیت کریمہ میں نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيۡ عَنِّيۡ فَاِنِّيۡ قَرِيۡبٌ١ؕ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ ﴾(البقرہ: 2؍186) ’’جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں (تو ان سے کہہ دیں ) کہ میں ان کے قریب ہوں اور پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں ۔‘‘ میں اس قرب کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم، ان کی دعاؤں کو قبول کرنے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ (الْقَرِیب) اور (الْمُجِیب) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے۔
[62] جب ان کے نبی صالحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی ترغیب دی تو انھوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور آپ سے انتہائی برے طریقے سے پیش آئے ﴿ قَالُوۡا يٰصٰلِحُ قَدۡ كُنۡتَ فِيۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ هٰؔذَاۤ﴾ ’’انھوں نے کہا صالح! اس سے پہلے ہم تجھ سے امیدیں رکھتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے تجھ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تجھ سے عقل مندی اور نفع کی توقع تھی۔ یہ ان کی طرف سے ان کے نبی حضرت صالحu کے حق میں ایک گواہی ہے کہ وہ مکارم اخلاق اور محاسن عادات میں معروف تھے اور وہ اپنی قوم میں بہترین شخص گردانے جاتے تھے۔ مگر جب وہ یہ دعوت توحید لے کر آئے جو ان کی فاسد خواہشات کے موافق نہ تھی تب انھوں نے یہ بات کہی جس کے مضمون کا لب لباب یہ ہے۔ ’’تو کامل شخصیت کا حامل تھا مگر تو ہمارے ظن و گمان کے بالکل خلاف نکلا اور اب تیری حالت ایسی ہے کہ تجھ سے کسی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی۔‘‘صالحu کا گناہ صرف وہی تھا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے: ﴿ اَتَنۡهٰىنَاۤ اَنۡ نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا﴾’’کیا تو ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے‘‘ اور وہ سمجھتے تھے کہ صالحu میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ کیسے وہ ان کی عقل کی خامی بیان کرتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کے گمراہ آباء و اجداد کو بے عقل کہتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کو ان ہستیوں کی عبادت سے روکتے ہیں جو ان کو کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور پتھر اور لکڑی کے گھڑے ہوئے یہ معبود کسی کام نہیں آسکتے؟ صالحu نے ان کو حکم دیا کہ وہ دین کو اپنے رب، اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کریں جو انھیں اپنی نعمتوں سے پیہم نوازتا رہتا ہے۔ اس کے دائمی احسانات کا ابر رحمت ان پر برستا رہتا ہے۔ ہر نعمت جو انھیں حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور برائیوں کو ان سے وہی دور کرتا ہے۔﴿ وَاِنَّنَا لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّؔا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ﴾ ’’تو ہمیں جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے اس بارے میں ہم ہمیشہ شک میں مبتلا رہتے ہیں ۔‘‘ یہ شک ہمارے دلوں میں شبہات کو جنم دیتا ہے۔
[63] بزعم خود، اگر وہ صالحu کی دعوت کو صحیح سمجھتے تو وہ ضرور ان کی اتباع کرتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے تھے۔ بنا بریں صالحu نے ان کے جھوٹ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں ہی اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف سے برہان اور اپنے یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ مِنۡهُ رَحۡمَةً﴾ ’’اور اس نے دی مجھے رحمت، اپنی طرف سے‘‘ اس نے اپنی رسالت اور وحی سے مجھے نوازا۔ تب بھی کیا تم جس چیز کی طرف مجھے بلاتے ہو اور جس پر تم عمل پیرا ہو، میں اس میں تمھاری پیروی کروں ؟ ﴿ فَمَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ عَصَيۡتُهٗ١۫ فَمَا تَزِيۡدُوۡنَنِيۡ۠ غَيۡرَ تَخۡسِيۡرٍ ﴾ ’’پھر کون بچائے گا مجھ کو اس سے، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ پس تم میرے نقصان ہی میں اضافہ کرتے ہو‘‘ یعنی تم خسارے، ہلاکت اور ضرر کے سوا میرے لیے کسی چیز کا اضافہ نہیں کرو گے۔
[64]﴿وَيٰقَوۡمِ هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی‘‘ کنویں سے ایک دن صرف اونٹنی پانی پیے گی، پھر تمام لوگ اس کے تھنوں سے دودھ پئیں گے اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لیے مقرر ہوگا۔ ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس تم اسے چھوڑ دو، وہ کھائے پھرے اللہ کی زمین میں ‘‘ یعنی تم پر اونٹنی کے چارہ وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور تم اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا۔‘‘ یعنی اس کو قتل کرنے کی نیت سے مت چھونا ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں بہت جلد عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[65]﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَقَالَ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو کہا‘‘ یعنی جناب صالحu نے ﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ﴾ ’’تم اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہو گا‘‘ بلکہ یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔
[66]﴿ فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آگیا۔‘‘ یعنی وقوع عذاب کا ﴿ نَجَّيۡنَا صٰلِحًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَمِنۡ خِزۡيِ يَوۡمِىِٕذٍ﴾ ’’تو ہم نے صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی، اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے‘‘ یعنی ہم نے ان کو عذاب، رسوائی اور فضیحت سے بچا لیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب زور آور غالب ہے‘‘ یہ اس کی قوت اور غلبے کی دلیل ہے کہ اس نے سرکش قوموں کو ہلاک کر دیا اور انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔
[67]﴿وَاَخَذَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے ان ظالموں کو دھر لیا اور ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ﴿فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے رہ گئے۔
[68]﴿ كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ گویا کہ… جب ان پر عذاب آیا…و ہ اپنی بستیوں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہوئے تھے نہ انھوں نے ان بستیوں میں ایک دن بھی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ نعمتیں ان سے دور ہوگئیں اور سرمدی عذاب نے ان کو آن لیا، وہ عذاب جو منقطع نہیں ہو گا اور وہ جو ہمیشہ رہے گا۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوۡدَاۡؔ كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’سن لو، بے شک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا‘‘ یعنی ان کے پاس نمایاں نشان آجانے کے بعد بھی انھوں نے اللہ کا انکار کیا۔ ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّثَمُوۡدَ ﴾ ’’سنو! دوری ہے ثمود کے لیے‘‘ پس کتنے بدبخت اور کس قدر ذلیل تھے ثمود! ہم دنیا کے عذاب اور اس کی رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
11:63قَالَ يَٰقَوۡمِ أَرَءَيۡتُمۡ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّي وَءَاتَىٰنِي مِنۡهُ رَحۡمَةٗ فَمَن يَنصُرُنِي مِنَ ٱللَّهِ إِنۡ عَصَيۡتُهُۥۖ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيۡرَ تَخۡسِيرٖ
اور (بھیجا ہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو، اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کر و اللہ کی، نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اسی نے پیدا کیا تمھیں زمین سے اور اسی نے آباد کیا تمھیں اس میں ، سو تم مغفرت طلب کرو اس سے ، پھر توبہ کرو طرف اسی کی، بلاشبہ میرا رب بہت قریب ہے، (دعائیں ) قبول کرنے والا ہے (61)انھوں نے کہا، اے صالح! تحقیق تھا تو ہم میں امیدوں کا مرکز پہلے اس سے، کیا تو روکتا ہے ہمیں یہ کہ عبادت کریں ہم ان کی جن کی عبادت کرتے تھے آباء ہمارے؟ اور بے شک ہم البتہ شک میں ہیں اس چیز سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں طرف اس کی ، جو اضطراب میں ڈالنے والی ہے(62) صالح نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ تو مجھے، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور دی ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت تو کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے، اگر نافرمانی کروں میں اس کی؟ پس نہیں زیادہ کرو گے تم مجھ کو سوائے خسارہ دینے کے(63) اور اے میری قوم! یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے نشانی، پس تم چھوڑ دو اسے کہ کھاتی (چرتی) پھرے زمین میں اللہ کی اور نہ ہاتھ لگانا تم اسے ساتھ برائی کے، پس پکڑ لے گا تمھیں عذاب قریب ہی (64) پس ٹانگیں کاٹ ڈالیں انھوں نے اس کی تو کہا صالح نے، تم فائدہ اٹھا لو اپنے گھروں میں تین دن، یہ (ایسا) وعدہ ہے نہیں جھوٹ بولا گیا ہے (اس میں )(65) ، پھر جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاور رسوائی سے بھی اس (قیامت کے) دن کی، بے شک آپ کا رب، وہی ہے نہایت طاقتور بہت زبردست (66) اور آپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرے ہوئے (67) گویا کہ نہ رہے تھے وہ ان (گھروں ) میں ، آگاہ رہو! بے شک ثمود (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے ثمود کے (68)
[61]﴿وَاِلٰى ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود کی طرف۔‘‘ یعنی ہم نے ثمود کی طرف مبعوث کیا۔ ثمود، عاد ثانیہ کے نام سے معروف ہیں جو وادی القریٰ اور الحجر کے علاقے میں آباد تھے۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ صٰلِحًا﴾ ’’صالح (u) کو‘‘ جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور دین کو اس کے لیے خالص کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ نہ آسمان والوں میں سے اور نہ اہل زمین میں سے۔ ﴿ هُوَ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اسی (اللہ تعالیٰ) ہی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا‘‘ ﴿ وَاسۡتَعۡمَرَؔكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’اور اس میں تمھیں بسایا‘‘ یعنی تمھیں زمین میں خلیفہ بنایا، تمھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا، تمھیں زمین میں تمکن و اقتدار عطا کیا، تم عمارتیں بناتے ہو، باغات لگاتے ہو اور کھیتیاں اگاتے ہو، جو چاہتے ہو کاشت کرتے ہو، اس سے منفعت حاصل کرتے ہو اور اسے اپنے مصالح اور مفاد میں استعمال کرتے ہو۔ جس طرح ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اس کی عبادت میں بھی کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ﴿ فَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’پس اسی سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ یعنی تم سے کفر، شرک اور دیگر جو گناہ صادر ہوئے ہیں ان کی بخشش طلب کرو اور ان گناہوں کو چھوڑ دو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ یعنی خالص توبہ اور انابت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ قَرِيۡبٌ مُّجِيۡبٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب نزدیک اور (دعا کو) قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس شخص کے قریب ہے جو اس کو سوال کرنے کے لیے پکارتا ہے یا عبادت کے لیے پکارتا ہے وہ اس کو اس کا سوال عطا کر کے اور اس کی دعا قبول کر کے اور اس پر جلیل ترین ثواب عطا کرتے ہوئے اس کی پکار کا جواب دیتا ہے۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے قرب کی دو قسمیں ہیں ۔ قرب عام اور قرب خاص۔ قرب عام سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے علم کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا، قرب کی یہ نوع اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ﴾(ق: 50؍16) ’’اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔‘‘ میں مذکور ہے۔ قرب خاص سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں ، اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے قریب ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاسۡجُدۡ وَاقۡتَرِبۡ﴾(العلق: 96؍19) ’’سجدہ کر اور اس کا قرب حاصل کر۔‘‘ میں قرب کی اسی نوع کا ذکر ہے۔اس آیت کریمہ میں نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيۡ عَنِّيۡ فَاِنِّيۡ قَرِيۡبٌ١ؕ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ ﴾(البقرہ: 2؍186) ’’جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں (تو ان سے کہہ دیں ) کہ میں ان کے قریب ہوں اور پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں ۔‘‘ میں اس قرب کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم، ان کی دعاؤں کو قبول کرنے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ (الْقَرِیب) اور (الْمُجِیب) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے۔
[62] جب ان کے نبی صالحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی ترغیب دی تو انھوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور آپ سے انتہائی برے طریقے سے پیش آئے ﴿ قَالُوۡا يٰصٰلِحُ قَدۡ كُنۡتَ فِيۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ هٰؔذَاۤ﴾ ’’انھوں نے کہا صالح! اس سے پہلے ہم تجھ سے امیدیں رکھتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے تجھ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تجھ سے عقل مندی اور نفع کی توقع تھی۔ یہ ان کی طرف سے ان کے نبی حضرت صالحu کے حق میں ایک گواہی ہے کہ وہ مکارم اخلاق اور محاسن عادات میں معروف تھے اور وہ اپنی قوم میں بہترین شخص گردانے جاتے تھے۔ مگر جب وہ یہ دعوت توحید لے کر آئے جو ان کی فاسد خواہشات کے موافق نہ تھی تب انھوں نے یہ بات کہی جس کے مضمون کا لب لباب یہ ہے۔ ’’تو کامل شخصیت کا حامل تھا مگر تو ہمارے ظن و گمان کے بالکل خلاف نکلا اور اب تیری حالت ایسی ہے کہ تجھ سے کسی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی۔‘‘صالحu کا گناہ صرف وہی تھا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے: ﴿ اَتَنۡهٰىنَاۤ اَنۡ نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا﴾’’کیا تو ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے‘‘ اور وہ سمجھتے تھے کہ صالحu میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ کیسے وہ ان کی عقل کی خامی بیان کرتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کے گمراہ آباء و اجداد کو بے عقل کہتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کو ان ہستیوں کی عبادت سے روکتے ہیں جو ان کو کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور پتھر اور لکڑی کے گھڑے ہوئے یہ معبود کسی کام نہیں آسکتے؟ صالحu نے ان کو حکم دیا کہ وہ دین کو اپنے رب، اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کریں جو انھیں اپنی نعمتوں سے پیہم نوازتا رہتا ہے۔ اس کے دائمی احسانات کا ابر رحمت ان پر برستا رہتا ہے۔ ہر نعمت جو انھیں حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور برائیوں کو ان سے وہی دور کرتا ہے۔﴿ وَاِنَّنَا لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّؔا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ﴾ ’’تو ہمیں جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے اس بارے میں ہم ہمیشہ شک میں مبتلا رہتے ہیں ۔‘‘ یہ شک ہمارے دلوں میں شبہات کو جنم دیتا ہے۔
[63] بزعم خود، اگر وہ صالحu کی دعوت کو صحیح سمجھتے تو وہ ضرور ان کی اتباع کرتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے تھے۔ بنا بریں صالحu نے ان کے جھوٹ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں ہی اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف سے برہان اور اپنے یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ مِنۡهُ رَحۡمَةً﴾ ’’اور اس نے دی مجھے رحمت، اپنی طرف سے‘‘ اس نے اپنی رسالت اور وحی سے مجھے نوازا۔ تب بھی کیا تم جس چیز کی طرف مجھے بلاتے ہو اور جس پر تم عمل پیرا ہو، میں اس میں تمھاری پیروی کروں ؟ ﴿ فَمَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ عَصَيۡتُهٗ١۫ فَمَا تَزِيۡدُوۡنَنِيۡ۠ غَيۡرَ تَخۡسِيۡرٍ ﴾ ’’پھر کون بچائے گا مجھ کو اس سے، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ پس تم میرے نقصان ہی میں اضافہ کرتے ہو‘‘ یعنی تم خسارے، ہلاکت اور ضرر کے سوا میرے لیے کسی چیز کا اضافہ نہیں کرو گے۔
[64]﴿وَيٰقَوۡمِ هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی‘‘ کنویں سے ایک دن صرف اونٹنی پانی پیے گی، پھر تمام لوگ اس کے تھنوں سے دودھ پئیں گے اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لیے مقرر ہوگا۔ ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس تم اسے چھوڑ دو، وہ کھائے پھرے اللہ کی زمین میں ‘‘ یعنی تم پر اونٹنی کے چارہ وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور تم اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا۔‘‘ یعنی اس کو قتل کرنے کی نیت سے مت چھونا ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں بہت جلد عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[65]﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَقَالَ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو کہا‘‘ یعنی جناب صالحu نے ﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ﴾ ’’تم اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہو گا‘‘ بلکہ یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔
[66]﴿ فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آگیا۔‘‘ یعنی وقوع عذاب کا ﴿ نَجَّيۡنَا صٰلِحًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَمِنۡ خِزۡيِ يَوۡمِىِٕذٍ﴾ ’’تو ہم نے صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی، اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے‘‘ یعنی ہم نے ان کو عذاب، رسوائی اور فضیحت سے بچا لیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب زور آور غالب ہے‘‘ یہ اس کی قوت اور غلبے کی دلیل ہے کہ اس نے سرکش قوموں کو ہلاک کر دیا اور انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔
[67]﴿وَاَخَذَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے ان ظالموں کو دھر لیا اور ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ﴿فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے رہ گئے۔
[68]﴿ كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ گویا کہ… جب ان پر عذاب آیا…و ہ اپنی بستیوں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہوئے تھے نہ انھوں نے ان بستیوں میں ایک دن بھی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ نعمتیں ان سے دور ہوگئیں اور سرمدی عذاب نے ان کو آن لیا، وہ عذاب جو منقطع نہیں ہو گا اور وہ جو ہمیشہ رہے گا۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوۡدَاۡؔ كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’سن لو، بے شک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا‘‘ یعنی ان کے پاس نمایاں نشان آجانے کے بعد بھی انھوں نے اللہ کا انکار کیا۔ ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّثَمُوۡدَ ﴾ ’’سنو! دوری ہے ثمود کے لیے‘‘ پس کتنے بدبخت اور کس قدر ذلیل تھے ثمود! ہم دنیا کے عذاب اور اس کی رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
11:64وَيَٰقَوۡمِ هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمۡ ءَايَةٗۖ فَذَرُوهَا تَأۡكُلۡ فِيٓ أَرۡضِ ٱللَّهِۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٖ فَيَأۡخُذَكُمۡ عَذَابٞ قَرِيبٞ
اور (بھیجا ہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو، اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کر و اللہ کی، نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اسی نے پیدا کیا تمھیں زمین سے اور اسی نے آباد کیا تمھیں اس میں ، سو تم مغفرت طلب کرو اس سے ، پھر توبہ کرو طرف اسی کی، بلاشبہ میرا رب بہت قریب ہے، (دعائیں ) قبول کرنے والا ہے (61)انھوں نے کہا، اے صالح! تحقیق تھا تو ہم میں امیدوں کا مرکز پہلے اس سے، کیا تو روکتا ہے ہمیں یہ کہ عبادت کریں ہم ان کی جن کی عبادت کرتے تھے آباء ہمارے؟ اور بے شک ہم البتہ شک میں ہیں اس چیز سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں طرف اس کی ، جو اضطراب میں ڈالنے والی ہے(62) صالح نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ تو مجھے، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور دی ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت تو کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے، اگر نافرمانی کروں میں اس کی؟ پس نہیں زیادہ کرو گے تم مجھ کو سوائے خسارہ دینے کے(63) اور اے میری قوم! یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے نشانی، پس تم چھوڑ دو اسے کہ کھاتی (چرتی) پھرے زمین میں اللہ کی اور نہ ہاتھ لگانا تم اسے ساتھ برائی کے، پس پکڑ لے گا تمھیں عذاب قریب ہی (64) پس ٹانگیں کاٹ ڈالیں انھوں نے اس کی تو کہا صالح نے، تم فائدہ اٹھا لو اپنے گھروں میں تین دن، یہ (ایسا) وعدہ ہے نہیں جھوٹ بولا گیا ہے (اس میں )(65) ، پھر جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاور رسوائی سے بھی اس (قیامت کے) دن کی، بے شک آپ کا رب، وہی ہے نہایت طاقتور بہت زبردست (66) اور آپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرے ہوئے (67) گویا کہ نہ رہے تھے وہ ان (گھروں ) میں ، آگاہ رہو! بے شک ثمود (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے ثمود کے (68)
[61]﴿وَاِلٰى ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود کی طرف۔‘‘ یعنی ہم نے ثمود کی طرف مبعوث کیا۔ ثمود، عاد ثانیہ کے نام سے معروف ہیں جو وادی القریٰ اور الحجر کے علاقے میں آباد تھے۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ صٰلِحًا﴾ ’’صالح (u) کو‘‘ جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور دین کو اس کے لیے خالص کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ نہ آسمان والوں میں سے اور نہ اہل زمین میں سے۔ ﴿ هُوَ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اسی (اللہ تعالیٰ) ہی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا‘‘ ﴿ وَاسۡتَعۡمَرَؔكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’اور اس میں تمھیں بسایا‘‘ یعنی تمھیں زمین میں خلیفہ بنایا، تمھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا، تمھیں زمین میں تمکن و اقتدار عطا کیا، تم عمارتیں بناتے ہو، باغات لگاتے ہو اور کھیتیاں اگاتے ہو، جو چاہتے ہو کاشت کرتے ہو، اس سے منفعت حاصل کرتے ہو اور اسے اپنے مصالح اور مفاد میں استعمال کرتے ہو۔ جس طرح ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اس کی عبادت میں بھی کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ﴿ فَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’پس اسی سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ یعنی تم سے کفر، شرک اور دیگر جو گناہ صادر ہوئے ہیں ان کی بخشش طلب کرو اور ان گناہوں کو چھوڑ دو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ یعنی خالص توبہ اور انابت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ قَرِيۡبٌ مُّجِيۡبٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب نزدیک اور (دعا کو) قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس شخص کے قریب ہے جو اس کو سوال کرنے کے لیے پکارتا ہے یا عبادت کے لیے پکارتا ہے وہ اس کو اس کا سوال عطا کر کے اور اس کی دعا قبول کر کے اور اس پر جلیل ترین ثواب عطا کرتے ہوئے اس کی پکار کا جواب دیتا ہے۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے قرب کی دو قسمیں ہیں ۔ قرب عام اور قرب خاص۔ قرب عام سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے علم کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا، قرب کی یہ نوع اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ﴾(ق: 50؍16) ’’اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔‘‘ میں مذکور ہے۔ قرب خاص سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں ، اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے قریب ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاسۡجُدۡ وَاقۡتَرِبۡ﴾(العلق: 96؍19) ’’سجدہ کر اور اس کا قرب حاصل کر۔‘‘ میں قرب کی اسی نوع کا ذکر ہے۔اس آیت کریمہ میں نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيۡ عَنِّيۡ فَاِنِّيۡ قَرِيۡبٌ١ؕ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ ﴾(البقرہ: 2؍186) ’’جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں (تو ان سے کہہ دیں ) کہ میں ان کے قریب ہوں اور پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں ۔‘‘ میں اس قرب کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم، ان کی دعاؤں کو قبول کرنے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ (الْقَرِیب) اور (الْمُجِیب) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے۔
[62] جب ان کے نبی صالحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی ترغیب دی تو انھوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور آپ سے انتہائی برے طریقے سے پیش آئے ﴿ قَالُوۡا يٰصٰلِحُ قَدۡ كُنۡتَ فِيۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ هٰؔذَاۤ﴾ ’’انھوں نے کہا صالح! اس سے پہلے ہم تجھ سے امیدیں رکھتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے تجھ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تجھ سے عقل مندی اور نفع کی توقع تھی۔ یہ ان کی طرف سے ان کے نبی حضرت صالحu کے حق میں ایک گواہی ہے کہ وہ مکارم اخلاق اور محاسن عادات میں معروف تھے اور وہ اپنی قوم میں بہترین شخص گردانے جاتے تھے۔ مگر جب وہ یہ دعوت توحید لے کر آئے جو ان کی فاسد خواہشات کے موافق نہ تھی تب انھوں نے یہ بات کہی جس کے مضمون کا لب لباب یہ ہے۔ ’’تو کامل شخصیت کا حامل تھا مگر تو ہمارے ظن و گمان کے بالکل خلاف نکلا اور اب تیری حالت ایسی ہے کہ تجھ سے کسی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی۔‘‘صالحu کا گناہ صرف وہی تھا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے: ﴿ اَتَنۡهٰىنَاۤ اَنۡ نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا﴾’’کیا تو ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے‘‘ اور وہ سمجھتے تھے کہ صالحu میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ کیسے وہ ان کی عقل کی خامی بیان کرتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کے گمراہ آباء و اجداد کو بے عقل کہتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کو ان ہستیوں کی عبادت سے روکتے ہیں جو ان کو کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور پتھر اور لکڑی کے گھڑے ہوئے یہ معبود کسی کام نہیں آسکتے؟ صالحu نے ان کو حکم دیا کہ وہ دین کو اپنے رب، اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کریں جو انھیں اپنی نعمتوں سے پیہم نوازتا رہتا ہے۔ اس کے دائمی احسانات کا ابر رحمت ان پر برستا رہتا ہے۔ ہر نعمت جو انھیں حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور برائیوں کو ان سے وہی دور کرتا ہے۔﴿ وَاِنَّنَا لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّؔا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ﴾ ’’تو ہمیں جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے اس بارے میں ہم ہمیشہ شک میں مبتلا رہتے ہیں ۔‘‘ یہ شک ہمارے دلوں میں شبہات کو جنم دیتا ہے۔
[63] بزعم خود، اگر وہ صالحu کی دعوت کو صحیح سمجھتے تو وہ ضرور ان کی اتباع کرتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے تھے۔ بنا بریں صالحu نے ان کے جھوٹ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں ہی اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف سے برہان اور اپنے یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ مِنۡهُ رَحۡمَةً﴾ ’’اور اس نے دی مجھے رحمت، اپنی طرف سے‘‘ اس نے اپنی رسالت اور وحی سے مجھے نوازا۔ تب بھی کیا تم جس چیز کی طرف مجھے بلاتے ہو اور جس پر تم عمل پیرا ہو، میں اس میں تمھاری پیروی کروں ؟ ﴿ فَمَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ عَصَيۡتُهٗ١۫ فَمَا تَزِيۡدُوۡنَنِيۡ۠ غَيۡرَ تَخۡسِيۡرٍ ﴾ ’’پھر کون بچائے گا مجھ کو اس سے، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ پس تم میرے نقصان ہی میں اضافہ کرتے ہو‘‘ یعنی تم خسارے، ہلاکت اور ضرر کے سوا میرے لیے کسی چیز کا اضافہ نہیں کرو گے۔
[64]﴿وَيٰقَوۡمِ هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی‘‘ کنویں سے ایک دن صرف اونٹنی پانی پیے گی، پھر تمام لوگ اس کے تھنوں سے دودھ پئیں گے اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لیے مقرر ہوگا۔ ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس تم اسے چھوڑ دو، وہ کھائے پھرے اللہ کی زمین میں ‘‘ یعنی تم پر اونٹنی کے چارہ وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور تم اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا۔‘‘ یعنی اس کو قتل کرنے کی نیت سے مت چھونا ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں بہت جلد عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[65]﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَقَالَ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو کہا‘‘ یعنی جناب صالحu نے ﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ﴾ ’’تم اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہو گا‘‘ بلکہ یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔
[66]﴿ فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آگیا۔‘‘ یعنی وقوع عذاب کا ﴿ نَجَّيۡنَا صٰلِحًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَمِنۡ خِزۡيِ يَوۡمِىِٕذٍ﴾ ’’تو ہم نے صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی، اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے‘‘ یعنی ہم نے ان کو عذاب، رسوائی اور فضیحت سے بچا لیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب زور آور غالب ہے‘‘ یہ اس کی قوت اور غلبے کی دلیل ہے کہ اس نے سرکش قوموں کو ہلاک کر دیا اور انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔
[67]﴿وَاَخَذَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے ان ظالموں کو دھر لیا اور ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ﴿فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے رہ گئے۔
[68]﴿ كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ گویا کہ… جب ان پر عذاب آیا…و ہ اپنی بستیوں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہوئے تھے نہ انھوں نے ان بستیوں میں ایک دن بھی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ نعمتیں ان سے دور ہوگئیں اور سرمدی عذاب نے ان کو آن لیا، وہ عذاب جو منقطع نہیں ہو گا اور وہ جو ہمیشہ رہے گا۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوۡدَاۡؔ كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’سن لو، بے شک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا‘‘ یعنی ان کے پاس نمایاں نشان آجانے کے بعد بھی انھوں نے اللہ کا انکار کیا۔ ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّثَمُوۡدَ ﴾ ’’سنو! دوری ہے ثمود کے لیے‘‘ پس کتنے بدبخت اور کس قدر ذلیل تھے ثمود! ہم دنیا کے عذاب اور اس کی رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
11:65فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُواْ فِي دَارِكُمۡ ثَلَٰثَةَ أَيَّامٖۖ ذَٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوبٖ
اور (بھیجا ہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو، اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کر و اللہ کی، نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اسی نے پیدا کیا تمھیں زمین سے اور اسی نے آباد کیا تمھیں اس میں ، سو تم مغفرت طلب کرو اس سے ، پھر توبہ کرو طرف اسی کی، بلاشبہ میرا رب بہت قریب ہے، (دعائیں ) قبول کرنے والا ہے (61)انھوں نے کہا، اے صالح! تحقیق تھا تو ہم میں امیدوں کا مرکز پہلے اس سے، کیا تو روکتا ہے ہمیں یہ کہ عبادت کریں ہم ان کی جن کی عبادت کرتے تھے آباء ہمارے؟ اور بے شک ہم البتہ شک میں ہیں اس چیز سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں طرف اس کی ، جو اضطراب میں ڈالنے والی ہے(62) صالح نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ تو مجھے، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور دی ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت تو کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے، اگر نافرمانی کروں میں اس کی؟ پس نہیں زیادہ کرو گے تم مجھ کو سوائے خسارہ دینے کے(63) اور اے میری قوم! یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے نشانی، پس تم چھوڑ دو اسے کہ کھاتی (چرتی) پھرے زمین میں اللہ کی اور نہ ہاتھ لگانا تم اسے ساتھ برائی کے، پس پکڑ لے گا تمھیں عذاب قریب ہی (64) پس ٹانگیں کاٹ ڈالیں انھوں نے اس کی تو کہا صالح نے، تم فائدہ اٹھا لو اپنے گھروں میں تین دن، یہ (ایسا) وعدہ ہے نہیں جھوٹ بولا گیا ہے (اس میں )(65) ، پھر جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاور رسوائی سے بھی اس (قیامت کے) دن کی، بے شک آپ کا رب، وہی ہے نہایت طاقتور بہت زبردست (66) اور آپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرے ہوئے (67) گویا کہ نہ رہے تھے وہ ان (گھروں ) میں ، آگاہ رہو! بے شک ثمود (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے ثمود کے (68)
[61]﴿وَاِلٰى ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود کی طرف۔‘‘ یعنی ہم نے ثمود کی طرف مبعوث کیا۔ ثمود، عاد ثانیہ کے نام سے معروف ہیں جو وادی القریٰ اور الحجر کے علاقے میں آباد تھے۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ صٰلِحًا﴾ ’’صالح (u) کو‘‘ جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور دین کو اس کے لیے خالص کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ نہ آسمان والوں میں سے اور نہ اہل زمین میں سے۔ ﴿ هُوَ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اسی (اللہ تعالیٰ) ہی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا‘‘ ﴿ وَاسۡتَعۡمَرَؔكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’اور اس میں تمھیں بسایا‘‘ یعنی تمھیں زمین میں خلیفہ بنایا، تمھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا، تمھیں زمین میں تمکن و اقتدار عطا کیا، تم عمارتیں بناتے ہو، باغات لگاتے ہو اور کھیتیاں اگاتے ہو، جو چاہتے ہو کاشت کرتے ہو، اس سے منفعت حاصل کرتے ہو اور اسے اپنے مصالح اور مفاد میں استعمال کرتے ہو۔ جس طرح ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اس کی عبادت میں بھی کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ﴿ فَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’پس اسی سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ یعنی تم سے کفر، شرک اور دیگر جو گناہ صادر ہوئے ہیں ان کی بخشش طلب کرو اور ان گناہوں کو چھوڑ دو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ یعنی خالص توبہ اور انابت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ قَرِيۡبٌ مُّجِيۡبٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب نزدیک اور (دعا کو) قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس شخص کے قریب ہے جو اس کو سوال کرنے کے لیے پکارتا ہے یا عبادت کے لیے پکارتا ہے وہ اس کو اس کا سوال عطا کر کے اور اس کی دعا قبول کر کے اور اس پر جلیل ترین ثواب عطا کرتے ہوئے اس کی پکار کا جواب دیتا ہے۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے قرب کی دو قسمیں ہیں ۔ قرب عام اور قرب خاص۔ قرب عام سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے علم کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا، قرب کی یہ نوع اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ﴾(ق: 50؍16) ’’اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔‘‘ میں مذکور ہے۔ قرب خاص سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں ، اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے قریب ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاسۡجُدۡ وَاقۡتَرِبۡ﴾(العلق: 96؍19) ’’سجدہ کر اور اس کا قرب حاصل کر۔‘‘ میں قرب کی اسی نوع کا ذکر ہے۔اس آیت کریمہ میں نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيۡ عَنِّيۡ فَاِنِّيۡ قَرِيۡبٌ١ؕ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ ﴾(البقرہ: 2؍186) ’’جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں (تو ان سے کہہ دیں ) کہ میں ان کے قریب ہوں اور پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں ۔‘‘ میں اس قرب کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم، ان کی دعاؤں کو قبول کرنے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ (الْقَرِیب) اور (الْمُجِیب) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے۔
[62] جب ان کے نبی صالحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی ترغیب دی تو انھوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور آپ سے انتہائی برے طریقے سے پیش آئے ﴿ قَالُوۡا يٰصٰلِحُ قَدۡ كُنۡتَ فِيۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ هٰؔذَاۤ﴾ ’’انھوں نے کہا صالح! اس سے پہلے ہم تجھ سے امیدیں رکھتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے تجھ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تجھ سے عقل مندی اور نفع کی توقع تھی۔ یہ ان کی طرف سے ان کے نبی حضرت صالحu کے حق میں ایک گواہی ہے کہ وہ مکارم اخلاق اور محاسن عادات میں معروف تھے اور وہ اپنی قوم میں بہترین شخص گردانے جاتے تھے۔ مگر جب وہ یہ دعوت توحید لے کر آئے جو ان کی فاسد خواہشات کے موافق نہ تھی تب انھوں نے یہ بات کہی جس کے مضمون کا لب لباب یہ ہے۔ ’’تو کامل شخصیت کا حامل تھا مگر تو ہمارے ظن و گمان کے بالکل خلاف نکلا اور اب تیری حالت ایسی ہے کہ تجھ سے کسی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی۔‘‘صالحu کا گناہ صرف وہی تھا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے: ﴿ اَتَنۡهٰىنَاۤ اَنۡ نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا﴾’’کیا تو ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے‘‘ اور وہ سمجھتے تھے کہ صالحu میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ کیسے وہ ان کی عقل کی خامی بیان کرتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کے گمراہ آباء و اجداد کو بے عقل کہتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کو ان ہستیوں کی عبادت سے روکتے ہیں جو ان کو کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور پتھر اور لکڑی کے گھڑے ہوئے یہ معبود کسی کام نہیں آسکتے؟ صالحu نے ان کو حکم دیا کہ وہ دین کو اپنے رب، اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کریں جو انھیں اپنی نعمتوں سے پیہم نوازتا رہتا ہے۔ اس کے دائمی احسانات کا ابر رحمت ان پر برستا رہتا ہے۔ ہر نعمت جو انھیں حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور برائیوں کو ان سے وہی دور کرتا ہے۔﴿ وَاِنَّنَا لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّؔا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ﴾ ’’تو ہمیں جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے اس بارے میں ہم ہمیشہ شک میں مبتلا رہتے ہیں ۔‘‘ یہ شک ہمارے دلوں میں شبہات کو جنم دیتا ہے۔
[63] بزعم خود، اگر وہ صالحu کی دعوت کو صحیح سمجھتے تو وہ ضرور ان کی اتباع کرتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے تھے۔ بنا بریں صالحu نے ان کے جھوٹ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں ہی اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف سے برہان اور اپنے یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ مِنۡهُ رَحۡمَةً﴾ ’’اور اس نے دی مجھے رحمت، اپنی طرف سے‘‘ اس نے اپنی رسالت اور وحی سے مجھے نوازا۔ تب بھی کیا تم جس چیز کی طرف مجھے بلاتے ہو اور جس پر تم عمل پیرا ہو، میں اس میں تمھاری پیروی کروں ؟ ﴿ فَمَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ عَصَيۡتُهٗ١۫ فَمَا تَزِيۡدُوۡنَنِيۡ۠ غَيۡرَ تَخۡسِيۡرٍ ﴾ ’’پھر کون بچائے گا مجھ کو اس سے، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ پس تم میرے نقصان ہی میں اضافہ کرتے ہو‘‘ یعنی تم خسارے، ہلاکت اور ضرر کے سوا میرے لیے کسی چیز کا اضافہ نہیں کرو گے۔
[64]﴿وَيٰقَوۡمِ هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی‘‘ کنویں سے ایک دن صرف اونٹنی پانی پیے گی، پھر تمام لوگ اس کے تھنوں سے دودھ پئیں گے اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لیے مقرر ہوگا۔ ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس تم اسے چھوڑ دو، وہ کھائے پھرے اللہ کی زمین میں ‘‘ یعنی تم پر اونٹنی کے چارہ وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور تم اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا۔‘‘ یعنی اس کو قتل کرنے کی نیت سے مت چھونا ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں بہت جلد عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[65]﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَقَالَ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو کہا‘‘ یعنی جناب صالحu نے ﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ﴾ ’’تم اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہو گا‘‘ بلکہ یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔
[66]﴿ فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آگیا۔‘‘ یعنی وقوع عذاب کا ﴿ نَجَّيۡنَا صٰلِحًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَمِنۡ خِزۡيِ يَوۡمِىِٕذٍ﴾ ’’تو ہم نے صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی، اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے‘‘ یعنی ہم نے ان کو عذاب، رسوائی اور فضیحت سے بچا لیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب زور آور غالب ہے‘‘ یہ اس کی قوت اور غلبے کی دلیل ہے کہ اس نے سرکش قوموں کو ہلاک کر دیا اور انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔
[67]﴿وَاَخَذَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے ان ظالموں کو دھر لیا اور ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ﴿فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے رہ گئے۔
[68]﴿ كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ گویا کہ… جب ان پر عذاب آیا…و ہ اپنی بستیوں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہوئے تھے نہ انھوں نے ان بستیوں میں ایک دن بھی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ نعمتیں ان سے دور ہوگئیں اور سرمدی عذاب نے ان کو آن لیا، وہ عذاب جو منقطع نہیں ہو گا اور وہ جو ہمیشہ رہے گا۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوۡدَاۡؔ كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’سن لو، بے شک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا‘‘ یعنی ان کے پاس نمایاں نشان آجانے کے بعد بھی انھوں نے اللہ کا انکار کیا۔ ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّثَمُوۡدَ ﴾ ’’سنو! دوری ہے ثمود کے لیے‘‘ پس کتنے بدبخت اور کس قدر ذلیل تھے ثمود! ہم دنیا کے عذاب اور اس کی رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
11:66فَلَمَّا جَآءَ أَمۡرُنَا نَجَّيۡنَا صَٰلِحٗا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ بِرَحۡمَةٖ مِّنَّا وَمِنۡ خِزۡيِ يَوۡمِئِذٍۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ ٱلۡقَوِيُّ ٱلۡعَزِيزُ
اور (بھیجا ہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو، اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کر و اللہ کی، نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اسی نے پیدا کیا تمھیں زمین سے اور اسی نے آباد کیا تمھیں اس میں ، سو تم مغفرت طلب کرو اس سے ، پھر توبہ کرو طرف اسی کی، بلاشبہ میرا رب بہت قریب ہے، (دعائیں ) قبول کرنے والا ہے (61)انھوں نے کہا، اے صالح! تحقیق تھا تو ہم میں امیدوں کا مرکز پہلے اس سے، کیا تو روکتا ہے ہمیں یہ کہ عبادت کریں ہم ان کی جن کی عبادت کرتے تھے آباء ہمارے؟ اور بے شک ہم البتہ شک میں ہیں اس چیز سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں طرف اس کی ، جو اضطراب میں ڈالنے والی ہے(62) صالح نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ تو مجھے، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور دی ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت تو کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے، اگر نافرمانی کروں میں اس کی؟ پس نہیں زیادہ کرو گے تم مجھ کو سوائے خسارہ دینے کے(63) اور اے میری قوم! یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے نشانی، پس تم چھوڑ دو اسے کہ کھاتی (چرتی) پھرے زمین میں اللہ کی اور نہ ہاتھ لگانا تم اسے ساتھ برائی کے، پس پکڑ لے گا تمھیں عذاب قریب ہی (64) پس ٹانگیں کاٹ ڈالیں انھوں نے اس کی تو کہا صالح نے، تم فائدہ اٹھا لو اپنے گھروں میں تین دن، یہ (ایسا) وعدہ ہے نہیں جھوٹ بولا گیا ہے (اس میں )(65) ، پھر جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاور رسوائی سے بھی اس (قیامت کے) دن کی، بے شک آپ کا رب، وہی ہے نہایت طاقتور بہت زبردست (66) اور آپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرے ہوئے (67) گویا کہ نہ رہے تھے وہ ان (گھروں ) میں ، آگاہ رہو! بے شک ثمود (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے ثمود کے (68)
[61]﴿وَاِلٰى ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود کی طرف۔‘‘ یعنی ہم نے ثمود کی طرف مبعوث کیا۔ ثمود، عاد ثانیہ کے نام سے معروف ہیں جو وادی القریٰ اور الحجر کے علاقے میں آباد تھے۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ صٰلِحًا﴾ ’’صالح (u) کو‘‘ جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور دین کو اس کے لیے خالص کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ نہ آسمان والوں میں سے اور نہ اہل زمین میں سے۔ ﴿ هُوَ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اسی (اللہ تعالیٰ) ہی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا‘‘ ﴿ وَاسۡتَعۡمَرَؔكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’اور اس میں تمھیں بسایا‘‘ یعنی تمھیں زمین میں خلیفہ بنایا، تمھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا، تمھیں زمین میں تمکن و اقتدار عطا کیا، تم عمارتیں بناتے ہو، باغات لگاتے ہو اور کھیتیاں اگاتے ہو، جو چاہتے ہو کاشت کرتے ہو، اس سے منفعت حاصل کرتے ہو اور اسے اپنے مصالح اور مفاد میں استعمال کرتے ہو۔ جس طرح ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اس کی عبادت میں بھی کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ﴿ فَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’پس اسی سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ یعنی تم سے کفر، شرک اور دیگر جو گناہ صادر ہوئے ہیں ان کی بخشش طلب کرو اور ان گناہوں کو چھوڑ دو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ یعنی خالص توبہ اور انابت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ قَرِيۡبٌ مُّجِيۡبٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب نزدیک اور (دعا کو) قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس شخص کے قریب ہے جو اس کو سوال کرنے کے لیے پکارتا ہے یا عبادت کے لیے پکارتا ہے وہ اس کو اس کا سوال عطا کر کے اور اس کی دعا قبول کر کے اور اس پر جلیل ترین ثواب عطا کرتے ہوئے اس کی پکار کا جواب دیتا ہے۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے قرب کی دو قسمیں ہیں ۔ قرب عام اور قرب خاص۔ قرب عام سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے علم کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا، قرب کی یہ نوع اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ﴾(ق: 50؍16) ’’اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔‘‘ میں مذکور ہے۔ قرب خاص سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں ، اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے قریب ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاسۡجُدۡ وَاقۡتَرِبۡ﴾(العلق: 96؍19) ’’سجدہ کر اور اس کا قرب حاصل کر۔‘‘ میں قرب کی اسی نوع کا ذکر ہے۔اس آیت کریمہ میں نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيۡ عَنِّيۡ فَاِنِّيۡ قَرِيۡبٌ١ؕ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ ﴾(البقرہ: 2؍186) ’’جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں (تو ان سے کہہ دیں ) کہ میں ان کے قریب ہوں اور پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں ۔‘‘ میں اس قرب کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم، ان کی دعاؤں کو قبول کرنے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ (الْقَرِیب) اور (الْمُجِیب) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے۔
[62] جب ان کے نبی صالحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی ترغیب دی تو انھوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور آپ سے انتہائی برے طریقے سے پیش آئے ﴿ قَالُوۡا يٰصٰلِحُ قَدۡ كُنۡتَ فِيۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ هٰؔذَاۤ﴾ ’’انھوں نے کہا صالح! اس سے پہلے ہم تجھ سے امیدیں رکھتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے تجھ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تجھ سے عقل مندی اور نفع کی توقع تھی۔ یہ ان کی طرف سے ان کے نبی حضرت صالحu کے حق میں ایک گواہی ہے کہ وہ مکارم اخلاق اور محاسن عادات میں معروف تھے اور وہ اپنی قوم میں بہترین شخص گردانے جاتے تھے۔ مگر جب وہ یہ دعوت توحید لے کر آئے جو ان کی فاسد خواہشات کے موافق نہ تھی تب انھوں نے یہ بات کہی جس کے مضمون کا لب لباب یہ ہے۔ ’’تو کامل شخصیت کا حامل تھا مگر تو ہمارے ظن و گمان کے بالکل خلاف نکلا اور اب تیری حالت ایسی ہے کہ تجھ سے کسی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی۔‘‘صالحu کا گناہ صرف وہی تھا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے: ﴿ اَتَنۡهٰىنَاۤ اَنۡ نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا﴾’’کیا تو ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے‘‘ اور وہ سمجھتے تھے کہ صالحu میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ کیسے وہ ان کی عقل کی خامی بیان کرتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کے گمراہ آباء و اجداد کو بے عقل کہتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کو ان ہستیوں کی عبادت سے روکتے ہیں جو ان کو کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور پتھر اور لکڑی کے گھڑے ہوئے یہ معبود کسی کام نہیں آسکتے؟ صالحu نے ان کو حکم دیا کہ وہ دین کو اپنے رب، اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کریں جو انھیں اپنی نعمتوں سے پیہم نوازتا رہتا ہے۔ اس کے دائمی احسانات کا ابر رحمت ان پر برستا رہتا ہے۔ ہر نعمت جو انھیں حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور برائیوں کو ان سے وہی دور کرتا ہے۔﴿ وَاِنَّنَا لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّؔا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ﴾ ’’تو ہمیں جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے اس بارے میں ہم ہمیشہ شک میں مبتلا رہتے ہیں ۔‘‘ یہ شک ہمارے دلوں میں شبہات کو جنم دیتا ہے۔
[63] بزعم خود، اگر وہ صالحu کی دعوت کو صحیح سمجھتے تو وہ ضرور ان کی اتباع کرتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے تھے۔ بنا بریں صالحu نے ان کے جھوٹ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں ہی اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف سے برہان اور اپنے یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ مِنۡهُ رَحۡمَةً﴾ ’’اور اس نے دی مجھے رحمت، اپنی طرف سے‘‘ اس نے اپنی رسالت اور وحی سے مجھے نوازا۔ تب بھی کیا تم جس چیز کی طرف مجھے بلاتے ہو اور جس پر تم عمل پیرا ہو، میں اس میں تمھاری پیروی کروں ؟ ﴿ فَمَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ عَصَيۡتُهٗ١۫ فَمَا تَزِيۡدُوۡنَنِيۡ۠ غَيۡرَ تَخۡسِيۡرٍ ﴾ ’’پھر کون بچائے گا مجھ کو اس سے، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ پس تم میرے نقصان ہی میں اضافہ کرتے ہو‘‘ یعنی تم خسارے، ہلاکت اور ضرر کے سوا میرے لیے کسی چیز کا اضافہ نہیں کرو گے۔
[64]﴿وَيٰقَوۡمِ هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی‘‘ کنویں سے ایک دن صرف اونٹنی پانی پیے گی، پھر تمام لوگ اس کے تھنوں سے دودھ پئیں گے اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لیے مقرر ہوگا۔ ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس تم اسے چھوڑ دو، وہ کھائے پھرے اللہ کی زمین میں ‘‘ یعنی تم پر اونٹنی کے چارہ وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور تم اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا۔‘‘ یعنی اس کو قتل کرنے کی نیت سے مت چھونا ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں بہت جلد عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[65]﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَقَالَ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو کہا‘‘ یعنی جناب صالحu نے ﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ﴾ ’’تم اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہو گا‘‘ بلکہ یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔
[66]﴿ فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آگیا۔‘‘ یعنی وقوع عذاب کا ﴿ نَجَّيۡنَا صٰلِحًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَمِنۡ خِزۡيِ يَوۡمِىِٕذٍ﴾ ’’تو ہم نے صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی، اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے‘‘ یعنی ہم نے ان کو عذاب، رسوائی اور فضیحت سے بچا لیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب زور آور غالب ہے‘‘ یہ اس کی قوت اور غلبے کی دلیل ہے کہ اس نے سرکش قوموں کو ہلاک کر دیا اور انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔
[67]﴿وَاَخَذَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے ان ظالموں کو دھر لیا اور ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ﴿فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے رہ گئے۔
[68]﴿ كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ گویا کہ… جب ان پر عذاب آیا…و ہ اپنی بستیوں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہوئے تھے نہ انھوں نے ان بستیوں میں ایک دن بھی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ نعمتیں ان سے دور ہوگئیں اور سرمدی عذاب نے ان کو آن لیا، وہ عذاب جو منقطع نہیں ہو گا اور وہ جو ہمیشہ رہے گا۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوۡدَاۡؔ كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’سن لو، بے شک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا‘‘ یعنی ان کے پاس نمایاں نشان آجانے کے بعد بھی انھوں نے اللہ کا انکار کیا۔ ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّثَمُوۡدَ ﴾ ’’سنو! دوری ہے ثمود کے لیے‘‘ پس کتنے بدبخت اور کس قدر ذلیل تھے ثمود! ہم دنیا کے عذاب اور اس کی رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
11:67وَأَخَذَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ ٱلصَّيۡحَةُ فَأَصۡبَحُواْ فِي دِيَٰرِهِمۡ جَٰثِمِينَ
اور (بھیجا ہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو، اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کر و اللہ کی، نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اسی نے پیدا کیا تمھیں زمین سے اور اسی نے آباد کیا تمھیں اس میں ، سو تم مغفرت طلب کرو اس سے ، پھر توبہ کرو طرف اسی کی، بلاشبہ میرا رب بہت قریب ہے، (دعائیں ) قبول کرنے والا ہے (61)انھوں نے کہا، اے صالح! تحقیق تھا تو ہم میں امیدوں کا مرکز پہلے اس سے، کیا تو روکتا ہے ہمیں یہ کہ عبادت کریں ہم ان کی جن کی عبادت کرتے تھے آباء ہمارے؟ اور بے شک ہم البتہ شک میں ہیں اس چیز سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں طرف اس کی ، جو اضطراب میں ڈالنے والی ہے(62) صالح نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ تو مجھے، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور دی ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت تو کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے، اگر نافرمانی کروں میں اس کی؟ پس نہیں زیادہ کرو گے تم مجھ کو سوائے خسارہ دینے کے(63) اور اے میری قوم! یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے نشانی، پس تم چھوڑ دو اسے کہ کھاتی (چرتی) پھرے زمین میں اللہ کی اور نہ ہاتھ لگانا تم اسے ساتھ برائی کے، پس پکڑ لے گا تمھیں عذاب قریب ہی (64) پس ٹانگیں کاٹ ڈالیں انھوں نے اس کی تو کہا صالح نے، تم فائدہ اٹھا لو اپنے گھروں میں تین دن، یہ (ایسا) وعدہ ہے نہیں جھوٹ بولا گیا ہے (اس میں )(65) ، پھر جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاور رسوائی سے بھی اس (قیامت کے) دن کی، بے شک آپ کا رب، وہی ہے نہایت طاقتور بہت زبردست (66) اور آپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرے ہوئے (67) گویا کہ نہ رہے تھے وہ ان (گھروں ) میں ، آگاہ رہو! بے شک ثمود (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے ثمود کے (68)
[61]﴿وَاِلٰى ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود کی طرف۔‘‘ یعنی ہم نے ثمود کی طرف مبعوث کیا۔ ثمود، عاد ثانیہ کے نام سے معروف ہیں جو وادی القریٰ اور الحجر کے علاقے میں آباد تھے۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ صٰلِحًا﴾ ’’صالح (u) کو‘‘ جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور دین کو اس کے لیے خالص کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ نہ آسمان والوں میں سے اور نہ اہل زمین میں سے۔ ﴿ هُوَ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اسی (اللہ تعالیٰ) ہی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا‘‘ ﴿ وَاسۡتَعۡمَرَؔكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’اور اس میں تمھیں بسایا‘‘ یعنی تمھیں زمین میں خلیفہ بنایا، تمھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا، تمھیں زمین میں تمکن و اقتدار عطا کیا، تم عمارتیں بناتے ہو، باغات لگاتے ہو اور کھیتیاں اگاتے ہو، جو چاہتے ہو کاشت کرتے ہو، اس سے منفعت حاصل کرتے ہو اور اسے اپنے مصالح اور مفاد میں استعمال کرتے ہو۔ جس طرح ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اس کی عبادت میں بھی کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ﴿ فَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’پس اسی سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ یعنی تم سے کفر، شرک اور دیگر جو گناہ صادر ہوئے ہیں ان کی بخشش طلب کرو اور ان گناہوں کو چھوڑ دو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ یعنی خالص توبہ اور انابت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ قَرِيۡبٌ مُّجِيۡبٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب نزدیک اور (دعا کو) قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس شخص کے قریب ہے جو اس کو سوال کرنے کے لیے پکارتا ہے یا عبادت کے لیے پکارتا ہے وہ اس کو اس کا سوال عطا کر کے اور اس کی دعا قبول کر کے اور اس پر جلیل ترین ثواب عطا کرتے ہوئے اس کی پکار کا جواب دیتا ہے۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے قرب کی دو قسمیں ہیں ۔ قرب عام اور قرب خاص۔ قرب عام سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے علم کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا، قرب کی یہ نوع اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ﴾(ق: 50؍16) ’’اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔‘‘ میں مذکور ہے۔ قرب خاص سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں ، اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے قریب ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاسۡجُدۡ وَاقۡتَرِبۡ﴾(العلق: 96؍19) ’’سجدہ کر اور اس کا قرب حاصل کر۔‘‘ میں قرب کی اسی نوع کا ذکر ہے۔اس آیت کریمہ میں نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيۡ عَنِّيۡ فَاِنِّيۡ قَرِيۡبٌ١ؕ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ ﴾(البقرہ: 2؍186) ’’جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں (تو ان سے کہہ دیں ) کہ میں ان کے قریب ہوں اور پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں ۔‘‘ میں اس قرب کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم، ان کی دعاؤں کو قبول کرنے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ (الْقَرِیب) اور (الْمُجِیب) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے۔
[62] جب ان کے نبی صالحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی ترغیب دی تو انھوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور آپ سے انتہائی برے طریقے سے پیش آئے ﴿ قَالُوۡا يٰصٰلِحُ قَدۡ كُنۡتَ فِيۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ هٰؔذَاۤ﴾ ’’انھوں نے کہا صالح! اس سے پہلے ہم تجھ سے امیدیں رکھتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے تجھ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تجھ سے عقل مندی اور نفع کی توقع تھی۔ یہ ان کی طرف سے ان کے نبی حضرت صالحu کے حق میں ایک گواہی ہے کہ وہ مکارم اخلاق اور محاسن عادات میں معروف تھے اور وہ اپنی قوم میں بہترین شخص گردانے جاتے تھے۔ مگر جب وہ یہ دعوت توحید لے کر آئے جو ان کی فاسد خواہشات کے موافق نہ تھی تب انھوں نے یہ بات کہی جس کے مضمون کا لب لباب یہ ہے۔ ’’تو کامل شخصیت کا حامل تھا مگر تو ہمارے ظن و گمان کے بالکل خلاف نکلا اور اب تیری حالت ایسی ہے کہ تجھ سے کسی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی۔‘‘صالحu کا گناہ صرف وہی تھا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے: ﴿ اَتَنۡهٰىنَاۤ اَنۡ نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا﴾’’کیا تو ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے‘‘ اور وہ سمجھتے تھے کہ صالحu میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ کیسے وہ ان کی عقل کی خامی بیان کرتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کے گمراہ آباء و اجداد کو بے عقل کہتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کو ان ہستیوں کی عبادت سے روکتے ہیں جو ان کو کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور پتھر اور لکڑی کے گھڑے ہوئے یہ معبود کسی کام نہیں آسکتے؟ صالحu نے ان کو حکم دیا کہ وہ دین کو اپنے رب، اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کریں جو انھیں اپنی نعمتوں سے پیہم نوازتا رہتا ہے۔ اس کے دائمی احسانات کا ابر رحمت ان پر برستا رہتا ہے۔ ہر نعمت جو انھیں حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور برائیوں کو ان سے وہی دور کرتا ہے۔﴿ وَاِنَّنَا لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّؔا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ﴾ ’’تو ہمیں جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے اس بارے میں ہم ہمیشہ شک میں مبتلا رہتے ہیں ۔‘‘ یہ شک ہمارے دلوں میں شبہات کو جنم دیتا ہے۔
[63] بزعم خود، اگر وہ صالحu کی دعوت کو صحیح سمجھتے تو وہ ضرور ان کی اتباع کرتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے تھے۔ بنا بریں صالحu نے ان کے جھوٹ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں ہی اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف سے برہان اور اپنے یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ مِنۡهُ رَحۡمَةً﴾ ’’اور اس نے دی مجھے رحمت، اپنی طرف سے‘‘ اس نے اپنی رسالت اور وحی سے مجھے نوازا۔ تب بھی کیا تم جس چیز کی طرف مجھے بلاتے ہو اور جس پر تم عمل پیرا ہو، میں اس میں تمھاری پیروی کروں ؟ ﴿ فَمَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ عَصَيۡتُهٗ١۫ فَمَا تَزِيۡدُوۡنَنِيۡ۠ غَيۡرَ تَخۡسِيۡرٍ ﴾ ’’پھر کون بچائے گا مجھ کو اس سے، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ پس تم میرے نقصان ہی میں اضافہ کرتے ہو‘‘ یعنی تم خسارے، ہلاکت اور ضرر کے سوا میرے لیے کسی چیز کا اضافہ نہیں کرو گے۔
[64]﴿وَيٰقَوۡمِ هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی‘‘ کنویں سے ایک دن صرف اونٹنی پانی پیے گی، پھر تمام لوگ اس کے تھنوں سے دودھ پئیں گے اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لیے مقرر ہوگا۔ ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس تم اسے چھوڑ دو، وہ کھائے پھرے اللہ کی زمین میں ‘‘ یعنی تم پر اونٹنی کے چارہ وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور تم اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا۔‘‘ یعنی اس کو قتل کرنے کی نیت سے مت چھونا ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں بہت جلد عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[65]﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَقَالَ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو کہا‘‘ یعنی جناب صالحu نے ﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ﴾ ’’تم اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہو گا‘‘ بلکہ یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔
[66]﴿ فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آگیا۔‘‘ یعنی وقوع عذاب کا ﴿ نَجَّيۡنَا صٰلِحًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَمِنۡ خِزۡيِ يَوۡمِىِٕذٍ﴾ ’’تو ہم نے صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی، اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے‘‘ یعنی ہم نے ان کو عذاب، رسوائی اور فضیحت سے بچا لیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب زور آور غالب ہے‘‘ یہ اس کی قوت اور غلبے کی دلیل ہے کہ اس نے سرکش قوموں کو ہلاک کر دیا اور انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔
[67]﴿وَاَخَذَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے ان ظالموں کو دھر لیا اور ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ﴿فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے رہ گئے۔
[68]﴿ كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ گویا کہ… جب ان پر عذاب آیا…و ہ اپنی بستیوں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہوئے تھے نہ انھوں نے ان بستیوں میں ایک دن بھی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ نعمتیں ان سے دور ہوگئیں اور سرمدی عذاب نے ان کو آن لیا، وہ عذاب جو منقطع نہیں ہو گا اور وہ جو ہمیشہ رہے گا۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوۡدَاۡؔ كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’سن لو، بے شک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا‘‘ یعنی ان کے پاس نمایاں نشان آجانے کے بعد بھی انھوں نے اللہ کا انکار کیا۔ ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّثَمُوۡدَ ﴾ ’’سنو! دوری ہے ثمود کے لیے‘‘ پس کتنے بدبخت اور کس قدر ذلیل تھے ثمود! ہم دنیا کے عذاب اور اس کی رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
11:68كَأَن لَّمۡ يَغۡنَوۡاْ فِيهَآۗ أَلَآ إِنَّ ثَمُودَاْ كَفَرُواْ رَبَّهُمۡۗ أَلَا بُعۡدٗا لِّثَمُودَ
اور (بھیجا ہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو، اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کر و اللہ کی، نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اسی نے پیدا کیا تمھیں زمین سے اور اسی نے آباد کیا تمھیں اس میں ، سو تم مغفرت طلب کرو اس سے ، پھر توبہ کرو طرف اسی کی، بلاشبہ میرا رب بہت قریب ہے، (دعائیں ) قبول کرنے والا ہے (61)انھوں نے کہا، اے صالح! تحقیق تھا تو ہم میں امیدوں کا مرکز پہلے اس سے، کیا تو روکتا ہے ہمیں یہ کہ عبادت کریں ہم ان کی جن کی عبادت کرتے تھے آباء ہمارے؟ اور بے شک ہم البتہ شک میں ہیں اس چیز سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں طرف اس کی ، جو اضطراب میں ڈالنے والی ہے(62) صالح نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ تو مجھے، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور دی ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت تو کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے، اگر نافرمانی کروں میں اس کی؟ پس نہیں زیادہ کرو گے تم مجھ کو سوائے خسارہ دینے کے(63) اور اے میری قوم! یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے نشانی، پس تم چھوڑ دو اسے کہ کھاتی (چرتی) پھرے زمین میں اللہ کی اور نہ ہاتھ لگانا تم اسے ساتھ برائی کے، پس پکڑ لے گا تمھیں عذاب قریب ہی (64) پس ٹانگیں کاٹ ڈالیں انھوں نے اس کی تو کہا صالح نے، تم فائدہ اٹھا لو اپنے گھروں میں تین دن، یہ (ایسا) وعدہ ہے نہیں جھوٹ بولا گیا ہے (اس میں )(65) ، پھر جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاور رسوائی سے بھی اس (قیامت کے) دن کی، بے شک آپ کا رب، وہی ہے نہایت طاقتور بہت زبردست (66) اور آپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرے ہوئے (67) گویا کہ نہ رہے تھے وہ ان (گھروں ) میں ، آگاہ رہو! بے شک ثمود (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے ثمود کے (68)
[61]﴿وَاِلٰى ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود کی طرف۔‘‘ یعنی ہم نے ثمود کی طرف مبعوث کیا۔ ثمود، عاد ثانیہ کے نام سے معروف ہیں جو وادی القریٰ اور الحجر کے علاقے میں آباد تھے۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ صٰلِحًا﴾ ’’صالح (u) کو‘‘ جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور دین کو اس کے لیے خالص کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ نہ آسمان والوں میں سے اور نہ اہل زمین میں سے۔ ﴿ هُوَ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اسی (اللہ تعالیٰ) ہی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا‘‘ ﴿ وَاسۡتَعۡمَرَؔكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’اور اس میں تمھیں بسایا‘‘ یعنی تمھیں زمین میں خلیفہ بنایا، تمھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا، تمھیں زمین میں تمکن و اقتدار عطا کیا، تم عمارتیں بناتے ہو، باغات لگاتے ہو اور کھیتیاں اگاتے ہو، جو چاہتے ہو کاشت کرتے ہو، اس سے منفعت حاصل کرتے ہو اور اسے اپنے مصالح اور مفاد میں استعمال کرتے ہو۔ جس طرح ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اس کی عبادت میں بھی کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ﴿ فَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’پس اسی سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ یعنی تم سے کفر، شرک اور دیگر جو گناہ صادر ہوئے ہیں ان کی بخشش طلب کرو اور ان گناہوں کو چھوڑ دو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ یعنی خالص توبہ اور انابت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ قَرِيۡبٌ مُّجِيۡبٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب نزدیک اور (دعا کو) قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس شخص کے قریب ہے جو اس کو سوال کرنے کے لیے پکارتا ہے یا عبادت کے لیے پکارتا ہے وہ اس کو اس کا سوال عطا کر کے اور اس کی دعا قبول کر کے اور اس پر جلیل ترین ثواب عطا کرتے ہوئے اس کی پکار کا جواب دیتا ہے۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے قرب کی دو قسمیں ہیں ۔ قرب عام اور قرب خاص۔ قرب عام سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے علم کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا، قرب کی یہ نوع اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ﴾(ق: 50؍16) ’’اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔‘‘ میں مذکور ہے۔ قرب خاص سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں ، اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے قریب ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاسۡجُدۡ وَاقۡتَرِبۡ﴾(العلق: 96؍19) ’’سجدہ کر اور اس کا قرب حاصل کر۔‘‘ میں قرب کی اسی نوع کا ذکر ہے۔اس آیت کریمہ میں نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيۡ عَنِّيۡ فَاِنِّيۡ قَرِيۡبٌ١ؕ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ ﴾(البقرہ: 2؍186) ’’جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں (تو ان سے کہہ دیں ) کہ میں ان کے قریب ہوں اور پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں ۔‘‘ میں اس قرب کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم، ان کی دعاؤں کو قبول کرنے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ (الْقَرِیب) اور (الْمُجِیب) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے۔
[62] جب ان کے نبی صالحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی ترغیب دی تو انھوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور آپ سے انتہائی برے طریقے سے پیش آئے ﴿ قَالُوۡا يٰصٰلِحُ قَدۡ كُنۡتَ فِيۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ هٰؔذَاۤ﴾ ’’انھوں نے کہا صالح! اس سے پہلے ہم تجھ سے امیدیں رکھتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے تجھ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تجھ سے عقل مندی اور نفع کی توقع تھی۔ یہ ان کی طرف سے ان کے نبی حضرت صالحu کے حق میں ایک گواہی ہے کہ وہ مکارم اخلاق اور محاسن عادات میں معروف تھے اور وہ اپنی قوم میں بہترین شخص گردانے جاتے تھے۔ مگر جب وہ یہ دعوت توحید لے کر آئے جو ان کی فاسد خواہشات کے موافق نہ تھی تب انھوں نے یہ بات کہی جس کے مضمون کا لب لباب یہ ہے۔ ’’تو کامل شخصیت کا حامل تھا مگر تو ہمارے ظن و گمان کے بالکل خلاف نکلا اور اب تیری حالت ایسی ہے کہ تجھ سے کسی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی۔‘‘صالحu کا گناہ صرف وہی تھا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے: ﴿ اَتَنۡهٰىنَاۤ اَنۡ نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا﴾’’کیا تو ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے‘‘ اور وہ سمجھتے تھے کہ صالحu میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ کیسے وہ ان کی عقل کی خامی بیان کرتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کے گمراہ آباء و اجداد کو بے عقل کہتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کو ان ہستیوں کی عبادت سے روکتے ہیں جو ان کو کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور پتھر اور لکڑی کے گھڑے ہوئے یہ معبود کسی کام نہیں آسکتے؟ صالحu نے ان کو حکم دیا کہ وہ دین کو اپنے رب، اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کریں جو انھیں اپنی نعمتوں سے پیہم نوازتا رہتا ہے۔ اس کے دائمی احسانات کا ابر رحمت ان پر برستا رہتا ہے۔ ہر نعمت جو انھیں حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور برائیوں کو ان سے وہی دور کرتا ہے۔﴿ وَاِنَّنَا لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّؔا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ﴾ ’’تو ہمیں جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے اس بارے میں ہم ہمیشہ شک میں مبتلا رہتے ہیں ۔‘‘ یہ شک ہمارے دلوں میں شبہات کو جنم دیتا ہے۔
[63] بزعم خود، اگر وہ صالحu کی دعوت کو صحیح سمجھتے تو وہ ضرور ان کی اتباع کرتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے تھے۔ بنا بریں صالحu نے ان کے جھوٹ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں ہی اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے رب کی طرف سے برہان اور اپنے یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ مِنۡهُ رَحۡمَةً﴾ ’’اور اس نے دی مجھے رحمت، اپنی طرف سے‘‘ اس نے اپنی رسالت اور وحی سے مجھے نوازا۔ تب بھی کیا تم جس چیز کی طرف مجھے بلاتے ہو اور جس پر تم عمل پیرا ہو، میں اس میں تمھاری پیروی کروں ؟ ﴿ فَمَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ عَصَيۡتُهٗ١۫ فَمَا تَزِيۡدُوۡنَنِيۡ۠ غَيۡرَ تَخۡسِيۡرٍ ﴾ ’’پھر کون بچائے گا مجھ کو اس سے، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ پس تم میرے نقصان ہی میں اضافہ کرتے ہو‘‘ یعنی تم خسارے، ہلاکت اور ضرر کے سوا میرے لیے کسی چیز کا اضافہ نہیں کرو گے۔
[64]﴿وَيٰقَوۡمِ هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی‘‘ کنویں سے ایک دن صرف اونٹنی پانی پیے گی، پھر تمام لوگ اس کے تھنوں سے دودھ پئیں گے اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لیے مقرر ہوگا۔ ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس تم اسے چھوڑ دو، وہ کھائے پھرے اللہ کی زمین میں ‘‘ یعنی تم پر اونٹنی کے چارہ وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور تم اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا۔‘‘ یعنی اس کو قتل کرنے کی نیت سے مت چھونا ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں بہت جلد عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[65]﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَقَالَ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو کہا‘‘ یعنی جناب صالحu نے ﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ﴾ ’’تم اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہو گا‘‘ بلکہ یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔
[66]﴿ فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آگیا۔‘‘ یعنی وقوع عذاب کا ﴿ نَجَّيۡنَا صٰلِحًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَمِنۡ خِزۡيِ يَوۡمِىِٕذٍ﴾ ’’تو ہم نے صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی، اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے‘‘ یعنی ہم نے ان کو عذاب، رسوائی اور فضیحت سے بچا لیا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب زور آور غالب ہے‘‘ یہ اس کی قوت اور غلبے کی دلیل ہے کہ اس نے سرکش قوموں کو ہلاک کر دیا اور انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔
[67]﴿وَاَخَذَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے ان ظالموں کو دھر لیا اور ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ﴿فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے رہ گئے۔
[68]﴿ كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ گویا کہ… جب ان پر عذاب آیا…و ہ اپنی بستیوں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہوئے تھے نہ انھوں نے ان بستیوں میں ایک دن بھی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ نعمتیں ان سے دور ہوگئیں اور سرمدی عذاب نے ان کو آن لیا، وہ عذاب جو منقطع نہیں ہو گا اور وہ جو ہمیشہ رہے گا۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوۡدَاۡؔ كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’سن لو، بے شک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا‘‘ یعنی ان کے پاس نمایاں نشان آجانے کے بعد بھی انھوں نے اللہ کا انکار کیا۔ ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّثَمُوۡدَ ﴾ ’’سنو! دوری ہے ثمود کے لیے‘‘ پس کتنے بدبخت اور کس قدر ذلیل تھے ثمود! ہم دنیا کے عذاب اور اس کی رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
11:69وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَآ إِبۡرَٰهِيمَ بِٱلۡبُشۡرَىٰ قَالُواْ سَلَٰمٗاۖ قَالَ سَلَٰمٞۖ فَمَا لَبِثَ أَن جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيذٖ
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
11:70فَلَمَّا رَءَآ أَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ إِلَيۡهِ نَكِرَهُمۡ وَأَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيفَةٗۚ قَالُواْ لَا تَخَفۡ إِنَّآ أُرۡسِلۡنَآ إِلَىٰ قَوۡمِ لُوطٖ
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
11:71وَٱمۡرَأَتُهُۥ قَآئِمَةٞ فَضَحِكَتۡ فَبَشَّرۡنَٰهَا بِإِسۡحَٰقَ وَمِن وَرَآءِ إِسۡحَٰقَ يَعۡقُوبَ
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
11:72قَالَتۡ يَٰوَيۡلَتَىٰٓ ءَأَلِدُ وَأَنَا۠ عَجُوزٞ وَهَٰذَا بَعۡلِي شَيۡخًاۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيۡءٌ عَجِيبٞ
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
11:73قَالُوٓاْ أَتَعۡجَبِينَ مِنۡ أَمۡرِ ٱللَّهِۖ رَحۡمَتُ ٱللَّهِ وَبَرَكَٰتُهُۥ عَلَيۡكُمۡ أَهۡلَ ٱلۡبَيۡتِۚ إِنَّهُۥ حَمِيدٞ مَّجِيدٞ
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
11:74فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ إِبۡرَٰهِيمَ ٱلرَّوۡعُ وَجَآءَتۡهُ ٱلۡبُشۡرَىٰ يُجَٰدِلُنَا فِي قَوۡمِ لُوطٍ
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
11:75إِنَّ إِبۡرَٰهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّـٰهٞ مُّنِيبٞ
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
11:76يَـٰٓإِبۡرَٰهِيمُ أَعۡرِضۡ عَنۡ هَٰذَآۖ إِنَّهُۥ قَدۡ جَآءَ أَمۡرُ رَبِّكَۖ وَإِنَّهُمۡ ءَاتِيهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُودٖ
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
11:77وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا لُوطٗا سِيٓءَ بِهِمۡ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعٗا وَقَالَ هَٰذَا يَوۡمٌ عَصِيبٞ
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
11:78وَجَآءَهُۥ قَوۡمُهُۥ يُهۡرَعُونَ إِلَيۡهِ وَمِن قَبۡلُ كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ هَـٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطۡهَرُ لَكُمۡۖ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَلَا تُخۡزُونِ فِي ضَيۡفِيٓۖ أَلَيۡسَ مِنكُمۡ رَجُلٞ رَّشِيدٞ
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
11:79قَالُواْ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنۡ حَقّٖ وَإِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيدُ
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
11:80قَالَ لَوۡ أَنَّ لِي بِكُمۡ قُوَّةً أَوۡ ءَاوِيٓ إِلَىٰ رُكۡنٖ شَدِيدٖ
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
11:81قَالُواْ يَٰلُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَن يَصِلُوٓاْ إِلَيۡكَۖ فَأَسۡرِ بِأَهۡلِكَ بِقِطۡعٖ مِّنَ ٱلَّيۡلِ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنكُمۡ أَحَدٌ إِلَّا ٱمۡرَأَتَكَۖ إِنَّهُۥ مُصِيبُهَا مَآ أَصَابَهُمۡۚ إِنَّ مَوۡعِدَهُمُ ٱلصُّبۡحُۚ أَلَيۡسَ ٱلصُّبۡحُ بِقَرِيبٖ
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
11:82فَلَمَّا جَآءَ أَمۡرُنَا جَعَلۡنَا عَٰلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةٗ مِّن سِجِّيلٖ مَّنضُودٖ
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
11:83مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَۖ وَمَا هِيَ مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ بِبَعِيدٖ
اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
11:84۞وَإِلَىٰ مَدۡيَنَ أَخَاهُمۡ شُعَيۡبٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ وَلَا تَنقُصُواْ ٱلۡمِكۡيَالَ وَٱلۡمِيزَانَۖ إِنِّيٓ أَرَىٰكُم بِخَيۡرٖ وَإِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٖ مُّحِيطٖ
اور (بھیجا ہم نے) طرف (اہل) مدین کی ان کے بھائی شعیب کو، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اور نہ کم کرو تم ماپ اور تول کو، بے شک میں دیکھتا ہوں تمھیں آسودگی میں اور بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیرنے والے دن کے (84) اور اے میری قوم! پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کےاور مت کم دو تم لوگوں کو چیزیں ان کی اور نہ پھرو تم زمین میں فسادی بن کر (85) بچت اللہ کی (جائز نفع) بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(86)انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز حکم دیتی ہے تجھے یہ کہ ہم چھوڑ دیں ان (معبودوں ) کو جن کی عبادت کرتے تھے باپ دادا ہمارے؟ یا (چھوڑ دیں ہم) کرنا اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں ، بلاشبہ تو البتہ بہت بردبار، بڑا سمجھدار ہے (87) شعیب نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ! ( میں کیسے نافرمان بنوں ؟)اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے،اور دیا ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رزق اچھا اور نہیں چاہتا میں کہ مخالفت کروں تمھاری طرف ان کاموں کے کہ روکتا ہوں میں تمھیں ان سے، نہیں چاہتا میں مگر اصلاح( تمھاری)، جس قدر استطاعت رکھتا ہوں میں اور نہیں توفیق مجھے مگر ساتھ اللہ(کی مدد) کے، اسی پر توکل کیامیں نے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (88) اور اے میری قوم! نہ باعث بنے تمھارے لیے میری مخالفت (اس بات کی) کہ پہنچے تمھیں مانند اس عذاب کے جو پہنچاقوم نوح کو اور قوم ہود کو اور قوم صالح کو اور نہیں قوم لوط تم سے کچھ دور (89) اور تم مغفرت طلب کرو اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف، بلاشبہ میرا رب بڑا رحم والا نہایت محبت کرنے والا ہے (90)انھوں نے کہا، اے شعیب! نہیں سمجھتے ہم بہت کچھ اس میں سے جو تو کہتا ہےاور بے شک ہم البتہ دیکھتے ہیں تجھے درمیان اپنے ضعیف اور اگر نہ ہوتا قبیلہ تیرا تو یقینا سنگسار کر دیتے ہم تجھےاور نہیں ہے تو ہم پر کچھ غالب (91) شعیب نے کہا، اے میری قوم! کیا میر ا قبیلہ زیادہ دباؤ والا ہے تم پر اللہ سے؟ اور کر دیا تم نے اللہ کو پیچھے ڈالا ہوا اپنی پیٹھوں کے ، بے شک میرا رب ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو گھیرنے والا ہے (92) اور اے میری قوم! تم عمل کرو اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ میں بھی عمل کر رہا ہوں عنقریب تم جان لوگے کہ کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر (ایسا) عذاب جو رسوا کرے گا اسے؟ اور کون ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں (93) اور جب آیاحکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاورآپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (94) گویا کہ وہ نہ رہے تھے ان میں ، آگاہ رہو! دوری ہے (اہل) مدین کے لیے جیسے (رحمت سے) دور ہوئے تھے ثمود (95)
[84]﴿ وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اور مدین کی طرف بھیجا‘‘ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمۡ ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيۡبًا﴾ ’’شعیب (u) کو۔‘‘ گویا وہ جناب شعیبu کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیبu نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنۡقُصُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو‘‘ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾ ’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں ، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے‘‘ یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
[85]﴿وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد مت مچاؤ‘‘ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
[86]﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمھارے لیے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستغنی ہو اور وہ تمھارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم مومن ہو‘‘ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’اور میں تم پر نگران نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمھارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میں تو تمھیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔
[87]﴿قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے‘‘ یہ بات انھوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لیے منع کرتا ہے کہ تو نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں ، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آبا ءو اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں ؟اسی طرح تمھارا ہمیں یہ کہنا ﴿ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِيۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا﴾ ’’یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں ‘‘ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں ، انھیں ادا کریں ۔ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمھیں کوئی حق نہیں ۔ بنابریں انھوں نے ازراہ تمسخر کہا:﴿ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ﴾ ’’تو تو بڑا بردبار اور راست باز ہے۔‘‘ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حلم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد و ہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا ،تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا… یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد درحقیقت یہ تھا کہ شعیبu اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں … اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباء و اجداد احمق اور گمراہ؟ اور یہ قول جس کی انھوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کر کے معاملے کو شعیبu کے قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے… ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں ۔ بے شک شعیبu کی نماز انھیں حکم دیتی ہے کہ وہ انھیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباء و اجداد کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے… کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کون سا کام برا اور فحش ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کر کے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیبu کا وصف تو حلم و رشد ہے۔
[88]﴿قَالَ﴾ جناب شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتلاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو ﴿ وَرَزَقَنِيۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا ﴾ ’’اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾’’اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمھیں روکتا ہوں ‘‘ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں تو ناپ تول سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اور اس بارے میں تہمت اٹھاتا رہوں بلکہ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ میں جس کام سے تمھیں روکتا ہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں ۔﴿ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ﴾ ’’میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہو سکے‘‘ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ تمھارے احوال کی اصلاح ہو اور تمھارے منافع درست ہوں اور اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا میرا مقصد نہیں ۔ حسب استطاعت میں کام کرتا ہوں اور چونکہ اس میں ایک قسم کے تزکیہ نفس کا دعویٰ ہے اس لیے اس قول کے ذریعے سے اس کو دور کیا ﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ﴾ ’’اور سب صرف اللہ کی توفیق سے ہے‘‘ یعنی بھلائی کے کام کرنے اور شر سے بچنے کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ اس میں میری قوت و اختیار کا کوئی دخل نہیں ۔ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر توکل کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کے کافی ہونے پر مجھے اعتماد ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾’’اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے مختلف اقسام کی عبادات کا جو مجھے حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لیے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور ان دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن کے احوال درست ہوتے ہیں :۱۔ اپنے رب سے مدد طلب کرنا۔ ۲۔ اور اس کی طرف رجوع کرنا… جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾(ھود: 11؍123) ’’اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اسی پر بھروسا کر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحہ: 1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔‘‘
[89]﴿وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيۡۤ﴾ ’’اے میری قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے۔‘‘ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمھیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ ﴿ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ ﴾ کہ تم پر عذاب نازل ہو جائے۔ ﴿ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ١ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّؔنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ ﴾ ’’جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے‘‘ یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں ۔
[90]﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ﴾ ’’اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ﴾ ’’بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے (اَلْوَدُود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔ (ودود)(فعول) کے وزن پر ’’فاعل‘‘ اور ’’مفعول‘‘ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
[91]﴿ قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّؔا تَقُوۡلُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔‘‘ یعنی وہ شعیبu کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ’’ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے‘‘ یہ بات محض اس لیے کہتے تھے کیونکہ انھیں شعیبu کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ ﴿ وَاِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا﴾’’اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ ﴾ ’’اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا‘‘ ﴿ لَرَجَمۡنٰكَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں ‘‘ یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں ۔ ہم تجھے چھوڑ کر دراصل تیرے قبیلے کا احترام کررہے ہیں ۔
[92]﴿قَالَ﴾ حضرت شعیبu نے ان کو نرم کرنے کے لیے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِيۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمھارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے‘‘ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ ﴿ وَاتَّخَذۡتُمُوۡهُ۠ وَرَآءَؔكُمۡ ظِهۡرِيًّا﴾ ’’اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا کی نہ اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب تمھارے عملوں کو گھیرنے والا ہے‘‘ یعنی تمھارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں ، پس وہ تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[93]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کر کے ان کو بے بس کر دیا تو شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ١ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’میں بھی کام کرتا ہوں ، عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے‘‘ یعنی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ ﴿ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ﴾ ’’اور جھوٹا کون ہے۔‘‘ یعنی یہ بھی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا؟ ﴿ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی تم اس بات کا انتظار کرو کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور میں انتظار کرتا ہوں کہ تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔
[94]﴿وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا ﴿نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے‘‘ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی ۔
[95]﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انھوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا۔ ﴿اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ﴾ ’’سنو، پھٹکار ہے مدین کے لیے‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا ﴿ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر‘‘ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیبu کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں :(۱)کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں کیونکہ جناب شعیبu نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے پورے کرنے کی دعوت دی تھی اور مجموعی طور پر توحید اور ناپ تول کو پورا کرنے کے حکم کی عدم تعمیل پر وعید کو مترتب کیا۔(۲)ناپ تول میں کمی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کے بارے میں ڈر ہے کہ کہیں وہ عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کا مال چوری کرنے کے مترادف ہے۔ جب ناپ تول کے ذریعے سے چوری کرنا عذاب کی وعید کا موجب ہے تو جبر اور تغلب کے ذریعے سے لوگوں کے مال چوری کرنا بدرجہ اولیٰ وعید کا موجب ہے۔(۳) عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ جو کوئی لوگوں کے مال کو کم کر کے خود اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو اس کے مال میں کمی کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا۔ ناپ تول میں کمی اس کے رزق کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں ‘‘ اس لیے اپنے کرتوتوں کے ذریعے سے اس رزق کے زوال کا باعث نہ بنو۔(۴) بندے پر واجب ہے کہ وہ اس رزق پر قناعت کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے، چنانچہ وہ حرام کو چھوڑ کر حلال پر اور حرام ذرائع اکتساب کو چھوڑ کر حلال ذرائع پر قناعت کرے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ حلال ذرائع اکتساب میں جو برکت اور اضافۂ رزق ہے، وہ دنیا کی حرص کی خاطر حرام اسباب کسب اختیار کرنے میں نہیں ۔ اس میں سراسر مال کا زوال اور برکت کی ضد ہے۔(۵)یہ لوازم ایمان اور اس کے آثار میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عمل کو وجود ایمان پر مترتب کیا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عمل کا وجود نہ ہو تو ایمان ناقص یا قطعی طور پر معدوم ہے۔(۶)اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے سابقین کی شریعت میں نماز مشروع تھی، نیز یہ کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے۔ حتیٰ کہ کفار کے نزدیک بھی نماز کی افضلیت اور نماز کا تمام اعمال پر مقدم ہونا متحقق ہے۔ نیز ان کے ہاں یہ بات بھی متحقق ہے کہ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے اور نماز ایمان اور شرائع کی میزان ہے، نماز کو مسنون طریقے سے ادا کرنے سے بندۂ مومن کے احوال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز کی عدم ادائیگی سے اس کے دینی احوال میں خلل واقع ہوتا ہے۔(۷)وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کر رکھا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مال کا مالک بنا رکھا ہے تاہم انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے کیونکہ یہ مال اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس پر فرض ہے کہ وہ اس میں سے لوگوں کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم کرے اور ان ذرائع اکتساب کو اختیار کرنے سے باز رہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس کفار اور ان سے مشابہت رکھنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مال کے خود مالک ہیں اور وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں خواہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو یا مخالف۔(۸) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داعی کی دعوت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ خود اس کام پر عمل کرنے میں سبقت کرے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور جس کام سے وہ لوگوں کو روکتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس کام سے رک جائے، جیسا کہ جناب شعیبu نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں جن باتوں سے روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الصف: 61؍2)’’اے مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔‘‘(۹)تمام انبیاء و مرسلین کا وظیفہ اور ان کی سنت و ملت یہ ہے کہ حسب امکان اور مقدور بھر مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور استطاعت کے مطابق مفاسد کو دور یا کم کرتے ہیں اور مصالح خاصہ کی رعایت رکھتے ہیں … اور حقیقی مصلحت وہ ہے جس سے بندوں کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے اور جس سے ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔(۱۰)جو کوئی مقدور بھر اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسے کسی فعل کے نہ کرنے پر قابل ملامت اور قابل مذمت نہیں جس کے کرنے کی وہ قدرت اور استطاعت نہیں رکھتا۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔(۱۱) بندۂ مومن کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی سے توفیق کا طلب گار رہے۔ جب اسے کوئی نیک توفیق حاصل ہو جائے تو اسے توفیق عطا کرنے والی ہستی کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی کا شکار نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾(۱۲)امم سابقہ پر جو تباہی نازل ہوئی اور عذاب کے ذریعے سے ان کو جو پکڑا گیا اس میں بندوں کے لیے ترہیب ہے اور یہ نہایت مناسب بات ہے کہ وعظ و نصیحت کے دوران گزشتہ قوموں کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں مجرموں پر عذاب نازل کیا گیا… اور اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ تقویٰ کی ترغیب کے لیے اہل تقویٰ کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام سے نوازا۔(۱۳) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کے تمام گناہوں سے درگزر کر کے اسے معاف کر دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے ’’توبہ کرنے والا جب توبہ کرتا ہے تو اس کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کو مغفرت اور عفو سے نواز دیا جائے اور رہا اللہ تعالیٰ کی محبت اور مودت کا واپس لوٹنا تو اللہ تعالیٰ کی محبت دوبارہ نہیں آتی‘‘… کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ ﴾’’اپنے رب سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ بے شک میرا رب بہت ہی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے بہت محبت رکھتا ہے۔‘‘(۱۴) اللہ تبارک و تعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعے سے اہل ایمان کی مدافعت کرتا ہے بعض اسباب کا ان کو علم ہوتا ہے اور بعض اسباب کا ان کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کے قبیلے اور اہل وطن کے ذریعے سے ان کی مدافعت کرتا ہے جیسے شعیبu کو ان کے قبیلے کے سبب سے رجم ہونے سے بچایا۔ اس قسم کے روابط کے لیے جن کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور ان کی حفاظت کا حصول مقصود ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ایسی کوشش لازم ہے کیونکہ مقدور بھر اور حسب امکان، اصلاح مطلوب ہے۔لہٰذا اس اصول کو مدنظر رکھ کر کفار کی سلطنت میں رہنے والے مسلمان اگر اسی قسم کی کوشش کریں اور نظام حکومت کو جمہوری اصولوں پر چلانے کے لیے کام کریں جس میں افراد یا جماعتوں کے لیے ممکن ہو کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی حقوق کی حفاظت کر سکیں تو یہ اس صورت حال سے بہتر ہے جس میں مسلمان کافر ریاست کے مطیع ہوں اور ریاست ان کے دینی اور دنیاوی حقوق کے بارے میں من مانے فیصلے کرے، مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے اور کفار کی خدمت کے لیے ان کو معمولی درجے کے کارکن اور خدام بنا ڈالے، البتہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا اقتدار اور ان کی حکومت ممکن ہو تو اس حکومت کا قیام لازم ہے لیکن اگر اقتدار کا یہ مرتبہ حاصل نہ ہو سکے تو اس مرتبے کا حصول جس میں دینی اور دنیاوی مصالح کی حفاظت ہو، مقدم ہے۔ واللہ اعلم۔
11:85وَيَٰقَوۡمِ أَوۡفُواْ ٱلۡمِكۡيَالَ وَٱلۡمِيزَانَ بِٱلۡقِسۡطِۖ وَلَا تَبۡخَسُواْ ٱلنَّاسَ أَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تَعۡثَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ
اور (بھیجا ہم نے) طرف (اہل) مدین کی ان کے بھائی شعیب کو، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اور نہ کم کرو تم ماپ اور تول کو، بے شک میں دیکھتا ہوں تمھیں آسودگی میں اور بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیرنے والے دن کے (84) اور اے میری قوم! پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کےاور مت کم دو تم لوگوں کو چیزیں ان کی اور نہ پھرو تم زمین میں فسادی بن کر (85) بچت اللہ کی (جائز نفع) بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(86)انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز حکم دیتی ہے تجھے یہ کہ ہم چھوڑ دیں ان (معبودوں ) کو جن کی عبادت کرتے تھے باپ دادا ہمارے؟ یا (چھوڑ دیں ہم) کرنا اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں ، بلاشبہ تو البتہ بہت بردبار، بڑا سمجھدار ہے (87) شعیب نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ! ( میں کیسے نافرمان بنوں ؟)اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے،اور دیا ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رزق اچھا اور نہیں چاہتا میں کہ مخالفت کروں تمھاری طرف ان کاموں کے کہ روکتا ہوں میں تمھیں ان سے، نہیں چاہتا میں مگر اصلاح( تمھاری)، جس قدر استطاعت رکھتا ہوں میں اور نہیں توفیق مجھے مگر ساتھ اللہ(کی مدد) کے، اسی پر توکل کیامیں نے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (88) اور اے میری قوم! نہ باعث بنے تمھارے لیے میری مخالفت (اس بات کی) کہ پہنچے تمھیں مانند اس عذاب کے جو پہنچاقوم نوح کو اور قوم ہود کو اور قوم صالح کو اور نہیں قوم لوط تم سے کچھ دور (89) اور تم مغفرت طلب کرو اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف، بلاشبہ میرا رب بڑا رحم والا نہایت محبت کرنے والا ہے (90)انھوں نے کہا، اے شعیب! نہیں سمجھتے ہم بہت کچھ اس میں سے جو تو کہتا ہےاور بے شک ہم البتہ دیکھتے ہیں تجھے درمیان اپنے ضعیف اور اگر نہ ہوتا قبیلہ تیرا تو یقینا سنگسار کر دیتے ہم تجھےاور نہیں ہے تو ہم پر کچھ غالب (91) شعیب نے کہا، اے میری قوم! کیا میر ا قبیلہ زیادہ دباؤ والا ہے تم پر اللہ سے؟ اور کر دیا تم نے اللہ کو پیچھے ڈالا ہوا اپنی پیٹھوں کے ، بے شک میرا رب ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو گھیرنے والا ہے (92) اور اے میری قوم! تم عمل کرو اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ میں بھی عمل کر رہا ہوں عنقریب تم جان لوگے کہ کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر (ایسا) عذاب جو رسوا کرے گا اسے؟ اور کون ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں (93) اور جب آیاحکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاورآپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (94) گویا کہ وہ نہ رہے تھے ان میں ، آگاہ رہو! دوری ہے (اہل) مدین کے لیے جیسے (رحمت سے) دور ہوئے تھے ثمود (95)
[84]﴿ وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اور مدین کی طرف بھیجا‘‘ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمۡ ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيۡبًا﴾ ’’شعیب (u) کو۔‘‘ گویا وہ جناب شعیبu کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیبu نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنۡقُصُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو‘‘ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾ ’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں ، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے‘‘ یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
[85]﴿وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد مت مچاؤ‘‘ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
[86]﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمھارے لیے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستغنی ہو اور وہ تمھارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم مومن ہو‘‘ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’اور میں تم پر نگران نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمھارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میں تو تمھیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔
[87]﴿قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے‘‘ یہ بات انھوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لیے منع کرتا ہے کہ تو نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں ، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آبا ءو اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں ؟اسی طرح تمھارا ہمیں یہ کہنا ﴿ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِيۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا﴾ ’’یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں ‘‘ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں ، انھیں ادا کریں ۔ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمھیں کوئی حق نہیں ۔ بنابریں انھوں نے ازراہ تمسخر کہا:﴿ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ﴾ ’’تو تو بڑا بردبار اور راست باز ہے۔‘‘ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حلم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد و ہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا ،تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا… یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد درحقیقت یہ تھا کہ شعیبu اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں … اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباء و اجداد احمق اور گمراہ؟ اور یہ قول جس کی انھوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کر کے معاملے کو شعیبu کے قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے… ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں ۔ بے شک شعیبu کی نماز انھیں حکم دیتی ہے کہ وہ انھیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباء و اجداد کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے… کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کون سا کام برا اور فحش ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کر کے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیبu کا وصف تو حلم و رشد ہے۔
[88]﴿قَالَ﴾ جناب شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتلاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو ﴿ وَرَزَقَنِيۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا ﴾ ’’اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾’’اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمھیں روکتا ہوں ‘‘ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں تو ناپ تول سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اور اس بارے میں تہمت اٹھاتا رہوں بلکہ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ میں جس کام سے تمھیں روکتا ہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں ۔﴿ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ﴾ ’’میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہو سکے‘‘ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ تمھارے احوال کی اصلاح ہو اور تمھارے منافع درست ہوں اور اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا میرا مقصد نہیں ۔ حسب استطاعت میں کام کرتا ہوں اور چونکہ اس میں ایک قسم کے تزکیہ نفس کا دعویٰ ہے اس لیے اس قول کے ذریعے سے اس کو دور کیا ﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ﴾ ’’اور سب صرف اللہ کی توفیق سے ہے‘‘ یعنی بھلائی کے کام کرنے اور شر سے بچنے کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ اس میں میری قوت و اختیار کا کوئی دخل نہیں ۔ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر توکل کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کے کافی ہونے پر مجھے اعتماد ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾’’اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے مختلف اقسام کی عبادات کا جو مجھے حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لیے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور ان دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن کے احوال درست ہوتے ہیں :۱۔ اپنے رب سے مدد طلب کرنا۔ ۲۔ اور اس کی طرف رجوع کرنا… جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾(ھود: 11؍123) ’’اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اسی پر بھروسا کر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحہ: 1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔‘‘
[89]﴿وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيۡۤ﴾ ’’اے میری قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے۔‘‘ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمھیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ ﴿ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ ﴾ کہ تم پر عذاب نازل ہو جائے۔ ﴿ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ١ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّؔنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ ﴾ ’’جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے‘‘ یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں ۔
[90]﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ﴾ ’’اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ﴾ ’’بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے (اَلْوَدُود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔ (ودود)(فعول) کے وزن پر ’’فاعل‘‘ اور ’’مفعول‘‘ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
[91]﴿ قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّؔا تَقُوۡلُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔‘‘ یعنی وہ شعیبu کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ’’ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے‘‘ یہ بات محض اس لیے کہتے تھے کیونکہ انھیں شعیبu کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ ﴿ وَاِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا﴾’’اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ ﴾ ’’اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا‘‘ ﴿ لَرَجَمۡنٰكَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں ‘‘ یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں ۔ ہم تجھے چھوڑ کر دراصل تیرے قبیلے کا احترام کررہے ہیں ۔
[92]﴿قَالَ﴾ حضرت شعیبu نے ان کو نرم کرنے کے لیے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِيۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمھارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے‘‘ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ ﴿ وَاتَّخَذۡتُمُوۡهُ۠ وَرَآءَؔكُمۡ ظِهۡرِيًّا﴾ ’’اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا کی نہ اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب تمھارے عملوں کو گھیرنے والا ہے‘‘ یعنی تمھارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں ، پس وہ تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[93]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کر کے ان کو بے بس کر دیا تو شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ١ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’میں بھی کام کرتا ہوں ، عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے‘‘ یعنی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ ﴿ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ﴾ ’’اور جھوٹا کون ہے۔‘‘ یعنی یہ بھی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا؟ ﴿ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی تم اس بات کا انتظار کرو کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور میں انتظار کرتا ہوں کہ تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔
[94]﴿وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا ﴿نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے‘‘ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی ۔
[95]﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انھوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا۔ ﴿اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ﴾ ’’سنو، پھٹکار ہے مدین کے لیے‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا ﴿ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر‘‘ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیبu کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں :(۱)کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں کیونکہ جناب شعیبu نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے پورے کرنے کی دعوت دی تھی اور مجموعی طور پر توحید اور ناپ تول کو پورا کرنے کے حکم کی عدم تعمیل پر وعید کو مترتب کیا۔(۲)ناپ تول میں کمی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کے بارے میں ڈر ہے کہ کہیں وہ عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کا مال چوری کرنے کے مترادف ہے۔ جب ناپ تول کے ذریعے سے چوری کرنا عذاب کی وعید کا موجب ہے تو جبر اور تغلب کے ذریعے سے لوگوں کے مال چوری کرنا بدرجہ اولیٰ وعید کا موجب ہے۔(۳) عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ جو کوئی لوگوں کے مال کو کم کر کے خود اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو اس کے مال میں کمی کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا۔ ناپ تول میں کمی اس کے رزق کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں ‘‘ اس لیے اپنے کرتوتوں کے ذریعے سے اس رزق کے زوال کا باعث نہ بنو۔(۴) بندے پر واجب ہے کہ وہ اس رزق پر قناعت کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے، چنانچہ وہ حرام کو چھوڑ کر حلال پر اور حرام ذرائع اکتساب کو چھوڑ کر حلال ذرائع پر قناعت کرے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ حلال ذرائع اکتساب میں جو برکت اور اضافۂ رزق ہے، وہ دنیا کی حرص کی خاطر حرام اسباب کسب اختیار کرنے میں نہیں ۔ اس میں سراسر مال کا زوال اور برکت کی ضد ہے۔(۵)یہ لوازم ایمان اور اس کے آثار میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عمل کو وجود ایمان پر مترتب کیا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عمل کا وجود نہ ہو تو ایمان ناقص یا قطعی طور پر معدوم ہے۔(۶)اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے سابقین کی شریعت میں نماز مشروع تھی، نیز یہ کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے۔ حتیٰ کہ کفار کے نزدیک بھی نماز کی افضلیت اور نماز کا تمام اعمال پر مقدم ہونا متحقق ہے۔ نیز ان کے ہاں یہ بات بھی متحقق ہے کہ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے اور نماز ایمان اور شرائع کی میزان ہے، نماز کو مسنون طریقے سے ادا کرنے سے بندۂ مومن کے احوال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز کی عدم ادائیگی سے اس کے دینی احوال میں خلل واقع ہوتا ہے۔(۷)وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کر رکھا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مال کا مالک بنا رکھا ہے تاہم انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے کیونکہ یہ مال اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس پر فرض ہے کہ وہ اس میں سے لوگوں کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم کرے اور ان ذرائع اکتساب کو اختیار کرنے سے باز رہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس کفار اور ان سے مشابہت رکھنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مال کے خود مالک ہیں اور وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں خواہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو یا مخالف۔(۸) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داعی کی دعوت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ خود اس کام پر عمل کرنے میں سبقت کرے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور جس کام سے وہ لوگوں کو روکتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس کام سے رک جائے، جیسا کہ جناب شعیبu نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں جن باتوں سے روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الصف: 61؍2)’’اے مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔‘‘(۹)تمام انبیاء و مرسلین کا وظیفہ اور ان کی سنت و ملت یہ ہے کہ حسب امکان اور مقدور بھر مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور استطاعت کے مطابق مفاسد کو دور یا کم کرتے ہیں اور مصالح خاصہ کی رعایت رکھتے ہیں … اور حقیقی مصلحت وہ ہے جس سے بندوں کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے اور جس سے ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔(۱۰)جو کوئی مقدور بھر اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسے کسی فعل کے نہ کرنے پر قابل ملامت اور قابل مذمت نہیں جس کے کرنے کی وہ قدرت اور استطاعت نہیں رکھتا۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔(۱۱) بندۂ مومن کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی سے توفیق کا طلب گار رہے۔ جب اسے کوئی نیک توفیق حاصل ہو جائے تو اسے توفیق عطا کرنے والی ہستی کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی کا شکار نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾(۱۲)امم سابقہ پر جو تباہی نازل ہوئی اور عذاب کے ذریعے سے ان کو جو پکڑا گیا اس میں بندوں کے لیے ترہیب ہے اور یہ نہایت مناسب بات ہے کہ وعظ و نصیحت کے دوران گزشتہ قوموں کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں مجرموں پر عذاب نازل کیا گیا… اور اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ تقویٰ کی ترغیب کے لیے اہل تقویٰ کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام سے نوازا۔(۱۳) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کے تمام گناہوں سے درگزر کر کے اسے معاف کر دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے ’’توبہ کرنے والا جب توبہ کرتا ہے تو اس کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کو مغفرت اور عفو سے نواز دیا جائے اور رہا اللہ تعالیٰ کی محبت اور مودت کا واپس لوٹنا تو اللہ تعالیٰ کی محبت دوبارہ نہیں آتی‘‘… کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ ﴾’’اپنے رب سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ بے شک میرا رب بہت ہی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے بہت محبت رکھتا ہے۔‘‘(۱۴) اللہ تبارک و تعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعے سے اہل ایمان کی مدافعت کرتا ہے بعض اسباب کا ان کو علم ہوتا ہے اور بعض اسباب کا ان کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کے قبیلے اور اہل وطن کے ذریعے سے ان کی مدافعت کرتا ہے جیسے شعیبu کو ان کے قبیلے کے سبب سے رجم ہونے سے بچایا۔ اس قسم کے روابط کے لیے جن کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور ان کی حفاظت کا حصول مقصود ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ایسی کوشش لازم ہے کیونکہ مقدور بھر اور حسب امکان، اصلاح مطلوب ہے۔لہٰذا اس اصول کو مدنظر رکھ کر کفار کی سلطنت میں رہنے والے مسلمان اگر اسی قسم کی کوشش کریں اور نظام حکومت کو جمہوری اصولوں پر چلانے کے لیے کام کریں جس میں افراد یا جماعتوں کے لیے ممکن ہو کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی حقوق کی حفاظت کر سکیں تو یہ اس صورت حال سے بہتر ہے جس میں مسلمان کافر ریاست کے مطیع ہوں اور ریاست ان کے دینی اور دنیاوی حقوق کے بارے میں من مانے فیصلے کرے، مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے اور کفار کی خدمت کے لیے ان کو معمولی درجے کے کارکن اور خدام بنا ڈالے، البتہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا اقتدار اور ان کی حکومت ممکن ہو تو اس حکومت کا قیام لازم ہے لیکن اگر اقتدار کا یہ مرتبہ حاصل نہ ہو سکے تو اس مرتبے کا حصول جس میں دینی اور دنیاوی مصالح کی حفاظت ہو، مقدم ہے۔ واللہ اعلم۔
11:86بَقِيَّتُ ٱللَّهِ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَۚ وَمَآ أَنَا۠ عَلَيۡكُم بِحَفِيظٖ
اور (بھیجا ہم نے) طرف (اہل) مدین کی ان کے بھائی شعیب کو، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اور نہ کم کرو تم ماپ اور تول کو، بے شک میں دیکھتا ہوں تمھیں آسودگی میں اور بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیرنے والے دن کے (84) اور اے میری قوم! پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کےاور مت کم دو تم لوگوں کو چیزیں ان کی اور نہ پھرو تم زمین میں فسادی بن کر (85) بچت اللہ کی (جائز نفع) بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(86)انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز حکم دیتی ہے تجھے یہ کہ ہم چھوڑ دیں ان (معبودوں ) کو جن کی عبادت کرتے تھے باپ دادا ہمارے؟ یا (چھوڑ دیں ہم) کرنا اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں ، بلاشبہ تو البتہ بہت بردبار، بڑا سمجھدار ہے (87) شعیب نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ! ( میں کیسے نافرمان بنوں ؟)اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے،اور دیا ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رزق اچھا اور نہیں چاہتا میں کہ مخالفت کروں تمھاری طرف ان کاموں کے کہ روکتا ہوں میں تمھیں ان سے، نہیں چاہتا میں مگر اصلاح( تمھاری)، جس قدر استطاعت رکھتا ہوں میں اور نہیں توفیق مجھے مگر ساتھ اللہ(کی مدد) کے، اسی پر توکل کیامیں نے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (88) اور اے میری قوم! نہ باعث بنے تمھارے لیے میری مخالفت (اس بات کی) کہ پہنچے تمھیں مانند اس عذاب کے جو پہنچاقوم نوح کو اور قوم ہود کو اور قوم صالح کو اور نہیں قوم لوط تم سے کچھ دور (89) اور تم مغفرت طلب کرو اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف، بلاشبہ میرا رب بڑا رحم والا نہایت محبت کرنے والا ہے (90)انھوں نے کہا، اے شعیب! نہیں سمجھتے ہم بہت کچھ اس میں سے جو تو کہتا ہےاور بے شک ہم البتہ دیکھتے ہیں تجھے درمیان اپنے ضعیف اور اگر نہ ہوتا قبیلہ تیرا تو یقینا سنگسار کر دیتے ہم تجھےاور نہیں ہے تو ہم پر کچھ غالب (91) شعیب نے کہا، اے میری قوم! کیا میر ا قبیلہ زیادہ دباؤ والا ہے تم پر اللہ سے؟ اور کر دیا تم نے اللہ کو پیچھے ڈالا ہوا اپنی پیٹھوں کے ، بے شک میرا رب ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو گھیرنے والا ہے (92) اور اے میری قوم! تم عمل کرو اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ میں بھی عمل کر رہا ہوں عنقریب تم جان لوگے کہ کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر (ایسا) عذاب جو رسوا کرے گا اسے؟ اور کون ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں (93) اور جب آیاحکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاورآپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (94) گویا کہ وہ نہ رہے تھے ان میں ، آگاہ رہو! دوری ہے (اہل) مدین کے لیے جیسے (رحمت سے) دور ہوئے تھے ثمود (95)
[84]﴿ وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اور مدین کی طرف بھیجا‘‘ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمۡ ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيۡبًا﴾ ’’شعیب (u) کو۔‘‘ گویا وہ جناب شعیبu کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیبu نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنۡقُصُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو‘‘ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾ ’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں ، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے‘‘ یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
[85]﴿وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد مت مچاؤ‘‘ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
[86]﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمھارے لیے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستغنی ہو اور وہ تمھارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم مومن ہو‘‘ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’اور میں تم پر نگران نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمھارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میں تو تمھیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔
[87]﴿قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے‘‘ یہ بات انھوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لیے منع کرتا ہے کہ تو نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں ، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آبا ءو اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں ؟اسی طرح تمھارا ہمیں یہ کہنا ﴿ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِيۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا﴾ ’’یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں ‘‘ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں ، انھیں ادا کریں ۔ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمھیں کوئی حق نہیں ۔ بنابریں انھوں نے ازراہ تمسخر کہا:﴿ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ﴾ ’’تو تو بڑا بردبار اور راست باز ہے۔‘‘ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حلم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد و ہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا ،تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا… یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد درحقیقت یہ تھا کہ شعیبu اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں … اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباء و اجداد احمق اور گمراہ؟ اور یہ قول جس کی انھوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کر کے معاملے کو شعیبu کے قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے… ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں ۔ بے شک شعیبu کی نماز انھیں حکم دیتی ہے کہ وہ انھیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباء و اجداد کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے… کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کون سا کام برا اور فحش ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کر کے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیبu کا وصف تو حلم و رشد ہے۔
[88]﴿قَالَ﴾ جناب شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتلاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو ﴿ وَرَزَقَنِيۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا ﴾ ’’اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾’’اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمھیں روکتا ہوں ‘‘ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں تو ناپ تول سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اور اس بارے میں تہمت اٹھاتا رہوں بلکہ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ میں جس کام سے تمھیں روکتا ہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں ۔﴿ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ﴾ ’’میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہو سکے‘‘ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ تمھارے احوال کی اصلاح ہو اور تمھارے منافع درست ہوں اور اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا میرا مقصد نہیں ۔ حسب استطاعت میں کام کرتا ہوں اور چونکہ اس میں ایک قسم کے تزکیہ نفس کا دعویٰ ہے اس لیے اس قول کے ذریعے سے اس کو دور کیا ﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ﴾ ’’اور سب صرف اللہ کی توفیق سے ہے‘‘ یعنی بھلائی کے کام کرنے اور شر سے بچنے کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ اس میں میری قوت و اختیار کا کوئی دخل نہیں ۔ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر توکل کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کے کافی ہونے پر مجھے اعتماد ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾’’اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے مختلف اقسام کی عبادات کا جو مجھے حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لیے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور ان دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن کے احوال درست ہوتے ہیں :۱۔ اپنے رب سے مدد طلب کرنا۔ ۲۔ اور اس کی طرف رجوع کرنا… جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾(ھود: 11؍123) ’’اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اسی پر بھروسا کر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحہ: 1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔‘‘
[89]﴿وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيۡۤ﴾ ’’اے میری قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے۔‘‘ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمھیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ ﴿ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ ﴾ کہ تم پر عذاب نازل ہو جائے۔ ﴿ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ١ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّؔنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ ﴾ ’’جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے‘‘ یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں ۔
[90]﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ﴾ ’’اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ﴾ ’’بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے (اَلْوَدُود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔ (ودود)(فعول) کے وزن پر ’’فاعل‘‘ اور ’’مفعول‘‘ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
[91]﴿ قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّؔا تَقُوۡلُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔‘‘ یعنی وہ شعیبu کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ’’ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے‘‘ یہ بات محض اس لیے کہتے تھے کیونکہ انھیں شعیبu کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ ﴿ وَاِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا﴾’’اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ ﴾ ’’اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا‘‘ ﴿ لَرَجَمۡنٰكَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں ‘‘ یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں ۔ ہم تجھے چھوڑ کر دراصل تیرے قبیلے کا احترام کررہے ہیں ۔
[92]﴿قَالَ﴾ حضرت شعیبu نے ان کو نرم کرنے کے لیے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِيۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمھارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے‘‘ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ ﴿ وَاتَّخَذۡتُمُوۡهُ۠ وَرَآءَؔكُمۡ ظِهۡرِيًّا﴾ ’’اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا کی نہ اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب تمھارے عملوں کو گھیرنے والا ہے‘‘ یعنی تمھارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں ، پس وہ تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[93]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کر کے ان کو بے بس کر دیا تو شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ١ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’میں بھی کام کرتا ہوں ، عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے‘‘ یعنی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ ﴿ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ﴾ ’’اور جھوٹا کون ہے۔‘‘ یعنی یہ بھی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا؟ ﴿ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی تم اس بات کا انتظار کرو کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور میں انتظار کرتا ہوں کہ تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔
[94]﴿وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا ﴿نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے‘‘ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی ۔
[95]﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انھوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا۔ ﴿اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ﴾ ’’سنو، پھٹکار ہے مدین کے لیے‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا ﴿ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر‘‘ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیبu کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں :(۱)کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں کیونکہ جناب شعیبu نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے پورے کرنے کی دعوت دی تھی اور مجموعی طور پر توحید اور ناپ تول کو پورا کرنے کے حکم کی عدم تعمیل پر وعید کو مترتب کیا۔(۲)ناپ تول میں کمی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کے بارے میں ڈر ہے کہ کہیں وہ عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کا مال چوری کرنے کے مترادف ہے۔ جب ناپ تول کے ذریعے سے چوری کرنا عذاب کی وعید کا موجب ہے تو جبر اور تغلب کے ذریعے سے لوگوں کے مال چوری کرنا بدرجہ اولیٰ وعید کا موجب ہے۔(۳) عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ جو کوئی لوگوں کے مال کو کم کر کے خود اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو اس کے مال میں کمی کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا۔ ناپ تول میں کمی اس کے رزق کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں ‘‘ اس لیے اپنے کرتوتوں کے ذریعے سے اس رزق کے زوال کا باعث نہ بنو۔(۴) بندے پر واجب ہے کہ وہ اس رزق پر قناعت کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے، چنانچہ وہ حرام کو چھوڑ کر حلال پر اور حرام ذرائع اکتساب کو چھوڑ کر حلال ذرائع پر قناعت کرے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ حلال ذرائع اکتساب میں جو برکت اور اضافۂ رزق ہے، وہ دنیا کی حرص کی خاطر حرام اسباب کسب اختیار کرنے میں نہیں ۔ اس میں سراسر مال کا زوال اور برکت کی ضد ہے۔(۵)یہ لوازم ایمان اور اس کے آثار میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عمل کو وجود ایمان پر مترتب کیا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عمل کا وجود نہ ہو تو ایمان ناقص یا قطعی طور پر معدوم ہے۔(۶)اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے سابقین کی شریعت میں نماز مشروع تھی، نیز یہ کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے۔ حتیٰ کہ کفار کے نزدیک بھی نماز کی افضلیت اور نماز کا تمام اعمال پر مقدم ہونا متحقق ہے۔ نیز ان کے ہاں یہ بات بھی متحقق ہے کہ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے اور نماز ایمان اور شرائع کی میزان ہے، نماز کو مسنون طریقے سے ادا کرنے سے بندۂ مومن کے احوال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز کی عدم ادائیگی سے اس کے دینی احوال میں خلل واقع ہوتا ہے۔(۷)وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کر رکھا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مال کا مالک بنا رکھا ہے تاہم انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے کیونکہ یہ مال اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس پر فرض ہے کہ وہ اس میں سے لوگوں کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم کرے اور ان ذرائع اکتساب کو اختیار کرنے سے باز رہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس کفار اور ان سے مشابہت رکھنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مال کے خود مالک ہیں اور وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں خواہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو یا مخالف۔(۸) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داعی کی دعوت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ خود اس کام پر عمل کرنے میں سبقت کرے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور جس کام سے وہ لوگوں کو روکتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس کام سے رک جائے، جیسا کہ جناب شعیبu نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں جن باتوں سے روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الصف: 61؍2)’’اے مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔‘‘(۹)تمام انبیاء و مرسلین کا وظیفہ اور ان کی سنت و ملت یہ ہے کہ حسب امکان اور مقدور بھر مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور استطاعت کے مطابق مفاسد کو دور یا کم کرتے ہیں اور مصالح خاصہ کی رعایت رکھتے ہیں … اور حقیقی مصلحت وہ ہے جس سے بندوں کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے اور جس سے ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔(۱۰)جو کوئی مقدور بھر اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسے کسی فعل کے نہ کرنے پر قابل ملامت اور قابل مذمت نہیں جس کے کرنے کی وہ قدرت اور استطاعت نہیں رکھتا۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔(۱۱) بندۂ مومن کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی سے توفیق کا طلب گار رہے۔ جب اسے کوئی نیک توفیق حاصل ہو جائے تو اسے توفیق عطا کرنے والی ہستی کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی کا شکار نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾(۱۲)امم سابقہ پر جو تباہی نازل ہوئی اور عذاب کے ذریعے سے ان کو جو پکڑا گیا اس میں بندوں کے لیے ترہیب ہے اور یہ نہایت مناسب بات ہے کہ وعظ و نصیحت کے دوران گزشتہ قوموں کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں مجرموں پر عذاب نازل کیا گیا… اور اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ تقویٰ کی ترغیب کے لیے اہل تقویٰ کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام سے نوازا۔(۱۳) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کے تمام گناہوں سے درگزر کر کے اسے معاف کر دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے ’’توبہ کرنے والا جب توبہ کرتا ہے تو اس کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کو مغفرت اور عفو سے نواز دیا جائے اور رہا اللہ تعالیٰ کی محبت اور مودت کا واپس لوٹنا تو اللہ تعالیٰ کی محبت دوبارہ نہیں آتی‘‘… کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ ﴾’’اپنے رب سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ بے شک میرا رب بہت ہی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے بہت محبت رکھتا ہے۔‘‘(۱۴) اللہ تبارک و تعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعے سے اہل ایمان کی مدافعت کرتا ہے بعض اسباب کا ان کو علم ہوتا ہے اور بعض اسباب کا ان کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کے قبیلے اور اہل وطن کے ذریعے سے ان کی مدافعت کرتا ہے جیسے شعیبu کو ان کے قبیلے کے سبب سے رجم ہونے سے بچایا۔ اس قسم کے روابط کے لیے جن کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور ان کی حفاظت کا حصول مقصود ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ایسی کوشش لازم ہے کیونکہ مقدور بھر اور حسب امکان، اصلاح مطلوب ہے۔لہٰذا اس اصول کو مدنظر رکھ کر کفار کی سلطنت میں رہنے والے مسلمان اگر اسی قسم کی کوشش کریں اور نظام حکومت کو جمہوری اصولوں پر چلانے کے لیے کام کریں جس میں افراد یا جماعتوں کے لیے ممکن ہو کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی حقوق کی حفاظت کر سکیں تو یہ اس صورت حال سے بہتر ہے جس میں مسلمان کافر ریاست کے مطیع ہوں اور ریاست ان کے دینی اور دنیاوی حقوق کے بارے میں من مانے فیصلے کرے، مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے اور کفار کی خدمت کے لیے ان کو معمولی درجے کے کارکن اور خدام بنا ڈالے، البتہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا اقتدار اور ان کی حکومت ممکن ہو تو اس حکومت کا قیام لازم ہے لیکن اگر اقتدار کا یہ مرتبہ حاصل نہ ہو سکے تو اس مرتبے کا حصول جس میں دینی اور دنیاوی مصالح کی حفاظت ہو، مقدم ہے۔ واللہ اعلم۔
11:87قَالُواْ يَٰشُعَيۡبُ أَصَلَوٰتُكَ تَأۡمُرُكَ أَن نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ ءَابَآؤُنَآ أَوۡ أَن نَّفۡعَلَ فِيٓ أَمۡوَٰلِنَا مَا نَشَـٰٓؤُاْۖ إِنَّكَ لَأَنتَ ٱلۡحَلِيمُ ٱلرَّشِيدُ
اور (بھیجا ہم نے) طرف (اہل) مدین کی ان کے بھائی شعیب کو، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اور نہ کم کرو تم ماپ اور تول کو، بے شک میں دیکھتا ہوں تمھیں آسودگی میں اور بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیرنے والے دن کے (84) اور اے میری قوم! پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کےاور مت کم دو تم لوگوں کو چیزیں ان کی اور نہ پھرو تم زمین میں فسادی بن کر (85) بچت اللہ کی (جائز نفع) بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(86)انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز حکم دیتی ہے تجھے یہ کہ ہم چھوڑ دیں ان (معبودوں ) کو جن کی عبادت کرتے تھے باپ دادا ہمارے؟ یا (چھوڑ دیں ہم) کرنا اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں ، بلاشبہ تو البتہ بہت بردبار، بڑا سمجھدار ہے (87) شعیب نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ! ( میں کیسے نافرمان بنوں ؟)اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے،اور دیا ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رزق اچھا اور نہیں چاہتا میں کہ مخالفت کروں تمھاری طرف ان کاموں کے کہ روکتا ہوں میں تمھیں ان سے، نہیں چاہتا میں مگر اصلاح( تمھاری)، جس قدر استطاعت رکھتا ہوں میں اور نہیں توفیق مجھے مگر ساتھ اللہ(کی مدد) کے، اسی پر توکل کیامیں نے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (88) اور اے میری قوم! نہ باعث بنے تمھارے لیے میری مخالفت (اس بات کی) کہ پہنچے تمھیں مانند اس عذاب کے جو پہنچاقوم نوح کو اور قوم ہود کو اور قوم صالح کو اور نہیں قوم لوط تم سے کچھ دور (89) اور تم مغفرت طلب کرو اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف، بلاشبہ میرا رب بڑا رحم والا نہایت محبت کرنے والا ہے (90)انھوں نے کہا، اے شعیب! نہیں سمجھتے ہم بہت کچھ اس میں سے جو تو کہتا ہےاور بے شک ہم البتہ دیکھتے ہیں تجھے درمیان اپنے ضعیف اور اگر نہ ہوتا قبیلہ تیرا تو یقینا سنگسار کر دیتے ہم تجھےاور نہیں ہے تو ہم پر کچھ غالب (91) شعیب نے کہا، اے میری قوم! کیا میر ا قبیلہ زیادہ دباؤ والا ہے تم پر اللہ سے؟ اور کر دیا تم نے اللہ کو پیچھے ڈالا ہوا اپنی پیٹھوں کے ، بے شک میرا رب ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو گھیرنے والا ہے (92) اور اے میری قوم! تم عمل کرو اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ میں بھی عمل کر رہا ہوں عنقریب تم جان لوگے کہ کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر (ایسا) عذاب جو رسوا کرے گا اسے؟ اور کون ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں (93) اور جب آیاحکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاورآپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (94) گویا کہ وہ نہ رہے تھے ان میں ، آگاہ رہو! دوری ہے (اہل) مدین کے لیے جیسے (رحمت سے) دور ہوئے تھے ثمود (95)
[84]﴿ وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اور مدین کی طرف بھیجا‘‘ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمۡ ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيۡبًا﴾ ’’شعیب (u) کو۔‘‘ گویا وہ جناب شعیبu کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیبu نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنۡقُصُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو‘‘ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾ ’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں ، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے‘‘ یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
[85]﴿وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد مت مچاؤ‘‘ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
[86]﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمھارے لیے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستغنی ہو اور وہ تمھارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم مومن ہو‘‘ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’اور میں تم پر نگران نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمھارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میں تو تمھیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔
[87]﴿قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے‘‘ یہ بات انھوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لیے منع کرتا ہے کہ تو نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں ، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آبا ءو اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں ؟اسی طرح تمھارا ہمیں یہ کہنا ﴿ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِيۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا﴾ ’’یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں ‘‘ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں ، انھیں ادا کریں ۔ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمھیں کوئی حق نہیں ۔ بنابریں انھوں نے ازراہ تمسخر کہا:﴿ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ﴾ ’’تو تو بڑا بردبار اور راست باز ہے۔‘‘ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حلم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد و ہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا ،تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا… یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد درحقیقت یہ تھا کہ شعیبu اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں … اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباء و اجداد احمق اور گمراہ؟ اور یہ قول جس کی انھوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کر کے معاملے کو شعیبu کے قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے… ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں ۔ بے شک شعیبu کی نماز انھیں حکم دیتی ہے کہ وہ انھیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباء و اجداد کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے… کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کون سا کام برا اور فحش ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کر کے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیبu کا وصف تو حلم و رشد ہے۔
[88]﴿قَالَ﴾ جناب شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتلاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو ﴿ وَرَزَقَنِيۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا ﴾ ’’اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾’’اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمھیں روکتا ہوں ‘‘ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں تو ناپ تول سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اور اس بارے میں تہمت اٹھاتا رہوں بلکہ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ میں جس کام سے تمھیں روکتا ہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں ۔﴿ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ﴾ ’’میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہو سکے‘‘ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ تمھارے احوال کی اصلاح ہو اور تمھارے منافع درست ہوں اور اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا میرا مقصد نہیں ۔ حسب استطاعت میں کام کرتا ہوں اور چونکہ اس میں ایک قسم کے تزکیہ نفس کا دعویٰ ہے اس لیے اس قول کے ذریعے سے اس کو دور کیا ﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ﴾ ’’اور سب صرف اللہ کی توفیق سے ہے‘‘ یعنی بھلائی کے کام کرنے اور شر سے بچنے کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ اس میں میری قوت و اختیار کا کوئی دخل نہیں ۔ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر توکل کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کے کافی ہونے پر مجھے اعتماد ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾’’اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے مختلف اقسام کی عبادات کا جو مجھے حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لیے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور ان دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن کے احوال درست ہوتے ہیں :۱۔ اپنے رب سے مدد طلب کرنا۔ ۲۔ اور اس کی طرف رجوع کرنا… جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾(ھود: 11؍123) ’’اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اسی پر بھروسا کر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحہ: 1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔‘‘
[89]﴿وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيۡۤ﴾ ’’اے میری قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے۔‘‘ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمھیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ ﴿ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ ﴾ کہ تم پر عذاب نازل ہو جائے۔ ﴿ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ١ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّؔنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ ﴾ ’’جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے‘‘ یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں ۔
[90]﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ﴾ ’’اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ﴾ ’’بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے (اَلْوَدُود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔ (ودود)(فعول) کے وزن پر ’’فاعل‘‘ اور ’’مفعول‘‘ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
[91]﴿ قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّؔا تَقُوۡلُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔‘‘ یعنی وہ شعیبu کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ’’ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے‘‘ یہ بات محض اس لیے کہتے تھے کیونکہ انھیں شعیبu کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ ﴿ وَاِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا﴾’’اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ ﴾ ’’اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا‘‘ ﴿ لَرَجَمۡنٰكَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں ‘‘ یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں ۔ ہم تجھے چھوڑ کر دراصل تیرے قبیلے کا احترام کررہے ہیں ۔
[92]﴿قَالَ﴾ حضرت شعیبu نے ان کو نرم کرنے کے لیے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِيۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمھارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے‘‘ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ ﴿ وَاتَّخَذۡتُمُوۡهُ۠ وَرَآءَؔكُمۡ ظِهۡرِيًّا﴾ ’’اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا کی نہ اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب تمھارے عملوں کو گھیرنے والا ہے‘‘ یعنی تمھارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں ، پس وہ تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[93]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کر کے ان کو بے بس کر دیا تو شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ١ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’میں بھی کام کرتا ہوں ، عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے‘‘ یعنی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ ﴿ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ﴾ ’’اور جھوٹا کون ہے۔‘‘ یعنی یہ بھی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا؟ ﴿ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی تم اس بات کا انتظار کرو کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور میں انتظار کرتا ہوں کہ تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔
[94]﴿وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا ﴿نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے‘‘ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی ۔
[95]﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انھوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا۔ ﴿اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ﴾ ’’سنو، پھٹکار ہے مدین کے لیے‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا ﴿ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر‘‘ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیبu کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں :(۱)کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں کیونکہ جناب شعیبu نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے پورے کرنے کی دعوت دی تھی اور مجموعی طور پر توحید اور ناپ تول کو پورا کرنے کے حکم کی عدم تعمیل پر وعید کو مترتب کیا۔(۲)ناپ تول میں کمی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کے بارے میں ڈر ہے کہ کہیں وہ عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کا مال چوری کرنے کے مترادف ہے۔ جب ناپ تول کے ذریعے سے چوری کرنا عذاب کی وعید کا موجب ہے تو جبر اور تغلب کے ذریعے سے لوگوں کے مال چوری کرنا بدرجہ اولیٰ وعید کا موجب ہے۔(۳) عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ جو کوئی لوگوں کے مال کو کم کر کے خود اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو اس کے مال میں کمی کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا۔ ناپ تول میں کمی اس کے رزق کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں ‘‘ اس لیے اپنے کرتوتوں کے ذریعے سے اس رزق کے زوال کا باعث نہ بنو۔(۴) بندے پر واجب ہے کہ وہ اس رزق پر قناعت کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے، چنانچہ وہ حرام کو چھوڑ کر حلال پر اور حرام ذرائع اکتساب کو چھوڑ کر حلال ذرائع پر قناعت کرے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ حلال ذرائع اکتساب میں جو برکت اور اضافۂ رزق ہے، وہ دنیا کی حرص کی خاطر حرام اسباب کسب اختیار کرنے میں نہیں ۔ اس میں سراسر مال کا زوال اور برکت کی ضد ہے۔(۵)یہ لوازم ایمان اور اس کے آثار میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عمل کو وجود ایمان پر مترتب کیا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عمل کا وجود نہ ہو تو ایمان ناقص یا قطعی طور پر معدوم ہے۔(۶)اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے سابقین کی شریعت میں نماز مشروع تھی، نیز یہ کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے۔ حتیٰ کہ کفار کے نزدیک بھی نماز کی افضلیت اور نماز کا تمام اعمال پر مقدم ہونا متحقق ہے۔ نیز ان کے ہاں یہ بات بھی متحقق ہے کہ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے اور نماز ایمان اور شرائع کی میزان ہے، نماز کو مسنون طریقے سے ادا کرنے سے بندۂ مومن کے احوال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز کی عدم ادائیگی سے اس کے دینی احوال میں خلل واقع ہوتا ہے۔(۷)وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کر رکھا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مال کا مالک بنا رکھا ہے تاہم انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے کیونکہ یہ مال اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس پر فرض ہے کہ وہ اس میں سے لوگوں کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم کرے اور ان ذرائع اکتساب کو اختیار کرنے سے باز رہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس کفار اور ان سے مشابہت رکھنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مال کے خود مالک ہیں اور وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں خواہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو یا مخالف۔(۸) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داعی کی دعوت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ خود اس کام پر عمل کرنے میں سبقت کرے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور جس کام سے وہ لوگوں کو روکتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس کام سے رک جائے، جیسا کہ جناب شعیبu نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں جن باتوں سے روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الصف: 61؍2)’’اے مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔‘‘(۹)تمام انبیاء و مرسلین کا وظیفہ اور ان کی سنت و ملت یہ ہے کہ حسب امکان اور مقدور بھر مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور استطاعت کے مطابق مفاسد کو دور یا کم کرتے ہیں اور مصالح خاصہ کی رعایت رکھتے ہیں … اور حقیقی مصلحت وہ ہے جس سے بندوں کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے اور جس سے ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔(۱۰)جو کوئی مقدور بھر اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسے کسی فعل کے نہ کرنے پر قابل ملامت اور قابل مذمت نہیں جس کے کرنے کی وہ قدرت اور استطاعت نہیں رکھتا۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔(۱۱) بندۂ مومن کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی سے توفیق کا طلب گار رہے۔ جب اسے کوئی نیک توفیق حاصل ہو جائے تو اسے توفیق عطا کرنے والی ہستی کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی کا شکار نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾(۱۲)امم سابقہ پر جو تباہی نازل ہوئی اور عذاب کے ذریعے سے ان کو جو پکڑا گیا اس میں بندوں کے لیے ترہیب ہے اور یہ نہایت مناسب بات ہے کہ وعظ و نصیحت کے دوران گزشتہ قوموں کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں مجرموں پر عذاب نازل کیا گیا… اور اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ تقویٰ کی ترغیب کے لیے اہل تقویٰ کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام سے نوازا۔(۱۳) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کے تمام گناہوں سے درگزر کر کے اسے معاف کر دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے ’’توبہ کرنے والا جب توبہ کرتا ہے تو اس کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کو مغفرت اور عفو سے نواز دیا جائے اور رہا اللہ تعالیٰ کی محبت اور مودت کا واپس لوٹنا تو اللہ تعالیٰ کی محبت دوبارہ نہیں آتی‘‘… کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ ﴾’’اپنے رب سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ بے شک میرا رب بہت ہی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے بہت محبت رکھتا ہے۔‘‘(۱۴) اللہ تبارک و تعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعے سے اہل ایمان کی مدافعت کرتا ہے بعض اسباب کا ان کو علم ہوتا ہے اور بعض اسباب کا ان کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کے قبیلے اور اہل وطن کے ذریعے سے ان کی مدافعت کرتا ہے جیسے شعیبu کو ان کے قبیلے کے سبب سے رجم ہونے سے بچایا۔ اس قسم کے روابط کے لیے جن کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور ان کی حفاظت کا حصول مقصود ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ایسی کوشش لازم ہے کیونکہ مقدور بھر اور حسب امکان، اصلاح مطلوب ہے۔لہٰذا اس اصول کو مدنظر رکھ کر کفار کی سلطنت میں رہنے والے مسلمان اگر اسی قسم کی کوشش کریں اور نظام حکومت کو جمہوری اصولوں پر چلانے کے لیے کام کریں جس میں افراد یا جماعتوں کے لیے ممکن ہو کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی حقوق کی حفاظت کر سکیں تو یہ اس صورت حال سے بہتر ہے جس میں مسلمان کافر ریاست کے مطیع ہوں اور ریاست ان کے دینی اور دنیاوی حقوق کے بارے میں من مانے فیصلے کرے، مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے اور کفار کی خدمت کے لیے ان کو معمولی درجے کے کارکن اور خدام بنا ڈالے، البتہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا اقتدار اور ان کی حکومت ممکن ہو تو اس حکومت کا قیام لازم ہے لیکن اگر اقتدار کا یہ مرتبہ حاصل نہ ہو سکے تو اس مرتبے کا حصول جس میں دینی اور دنیاوی مصالح کی حفاظت ہو، مقدم ہے۔ واللہ اعلم۔
11:88قَالَ يَٰقَوۡمِ أَرَءَيۡتُمۡ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّي وَرَزَقَنِي مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنٗاۚ وَمَآ أُرِيدُ أَنۡ أُخَالِفَكُمۡ إِلَىٰ مَآ أَنۡهَىٰكُمۡ عَنۡهُۚ إِنۡ أُرِيدُ إِلَّا ٱلۡإِصۡلَٰحَ مَا ٱسۡتَطَعۡتُۚ وَمَا تَوۡفِيقِيٓ إِلَّا بِٱللَّهِۚ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَإِلَيۡهِ أُنِيبُ
اور (بھیجا ہم نے) طرف (اہل) مدین کی ان کے بھائی شعیب کو، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اور نہ کم کرو تم ماپ اور تول کو، بے شک میں دیکھتا ہوں تمھیں آسودگی میں اور بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیرنے والے دن کے (84) اور اے میری قوم! پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کےاور مت کم دو تم لوگوں کو چیزیں ان کی اور نہ پھرو تم زمین میں فسادی بن کر (85) بچت اللہ کی (جائز نفع) بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(86)انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز حکم دیتی ہے تجھے یہ کہ ہم چھوڑ دیں ان (معبودوں ) کو جن کی عبادت کرتے تھے باپ دادا ہمارے؟ یا (چھوڑ دیں ہم) کرنا اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں ، بلاشبہ تو البتہ بہت بردبار، بڑا سمجھدار ہے (87) شعیب نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ! ( میں کیسے نافرمان بنوں ؟)اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے،اور دیا ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رزق اچھا اور نہیں چاہتا میں کہ مخالفت کروں تمھاری طرف ان کاموں کے کہ روکتا ہوں میں تمھیں ان سے، نہیں چاہتا میں مگر اصلاح( تمھاری)، جس قدر استطاعت رکھتا ہوں میں اور نہیں توفیق مجھے مگر ساتھ اللہ(کی مدد) کے، اسی پر توکل کیامیں نے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (88) اور اے میری قوم! نہ باعث بنے تمھارے لیے میری مخالفت (اس بات کی) کہ پہنچے تمھیں مانند اس عذاب کے جو پہنچاقوم نوح کو اور قوم ہود کو اور قوم صالح کو اور نہیں قوم لوط تم سے کچھ دور (89) اور تم مغفرت طلب کرو اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف، بلاشبہ میرا رب بڑا رحم والا نہایت محبت کرنے والا ہے (90)انھوں نے کہا، اے شعیب! نہیں سمجھتے ہم بہت کچھ اس میں سے جو تو کہتا ہےاور بے شک ہم البتہ دیکھتے ہیں تجھے درمیان اپنے ضعیف اور اگر نہ ہوتا قبیلہ تیرا تو یقینا سنگسار کر دیتے ہم تجھےاور نہیں ہے تو ہم پر کچھ غالب (91) شعیب نے کہا، اے میری قوم! کیا میر ا قبیلہ زیادہ دباؤ والا ہے تم پر اللہ سے؟ اور کر دیا تم نے اللہ کو پیچھے ڈالا ہوا اپنی پیٹھوں کے ، بے شک میرا رب ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو گھیرنے والا ہے (92) اور اے میری قوم! تم عمل کرو اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ میں بھی عمل کر رہا ہوں عنقریب تم جان لوگے کہ کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر (ایسا) عذاب جو رسوا کرے گا اسے؟ اور کون ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں (93) اور جب آیاحکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاورآپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (94) گویا کہ وہ نہ رہے تھے ان میں ، آگاہ رہو! دوری ہے (اہل) مدین کے لیے جیسے (رحمت سے) دور ہوئے تھے ثمود (95)
[84]﴿ وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اور مدین کی طرف بھیجا‘‘ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمۡ ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيۡبًا﴾ ’’شعیب (u) کو۔‘‘ گویا وہ جناب شعیبu کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیبu نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنۡقُصُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو‘‘ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾ ’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں ، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے‘‘ یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
[85]﴿وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد مت مچاؤ‘‘ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
[86]﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمھارے لیے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستغنی ہو اور وہ تمھارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم مومن ہو‘‘ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’اور میں تم پر نگران نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمھارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میں تو تمھیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔
[87]﴿قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے‘‘ یہ بات انھوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لیے منع کرتا ہے کہ تو نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں ، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آبا ءو اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں ؟اسی طرح تمھارا ہمیں یہ کہنا ﴿ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِيۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا﴾ ’’یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں ‘‘ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں ، انھیں ادا کریں ۔ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمھیں کوئی حق نہیں ۔ بنابریں انھوں نے ازراہ تمسخر کہا:﴿ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ﴾ ’’تو تو بڑا بردبار اور راست باز ہے۔‘‘ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حلم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد و ہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا ،تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا… یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد درحقیقت یہ تھا کہ شعیبu اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں … اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباء و اجداد احمق اور گمراہ؟ اور یہ قول جس کی انھوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کر کے معاملے کو شعیبu کے قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے… ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں ۔ بے شک شعیبu کی نماز انھیں حکم دیتی ہے کہ وہ انھیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباء و اجداد کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے… کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کون سا کام برا اور فحش ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کر کے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیبu کا وصف تو حلم و رشد ہے۔
[88]﴿قَالَ﴾ جناب شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتلاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو ﴿ وَرَزَقَنِيۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا ﴾ ’’اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾’’اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمھیں روکتا ہوں ‘‘ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں تو ناپ تول سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اور اس بارے میں تہمت اٹھاتا رہوں بلکہ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ میں جس کام سے تمھیں روکتا ہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں ۔﴿ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ﴾ ’’میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہو سکے‘‘ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ تمھارے احوال کی اصلاح ہو اور تمھارے منافع درست ہوں اور اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا میرا مقصد نہیں ۔ حسب استطاعت میں کام کرتا ہوں اور چونکہ اس میں ایک قسم کے تزکیہ نفس کا دعویٰ ہے اس لیے اس قول کے ذریعے سے اس کو دور کیا ﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ﴾ ’’اور سب صرف اللہ کی توفیق سے ہے‘‘ یعنی بھلائی کے کام کرنے اور شر سے بچنے کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ اس میں میری قوت و اختیار کا کوئی دخل نہیں ۔ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر توکل کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کے کافی ہونے پر مجھے اعتماد ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾’’اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے مختلف اقسام کی عبادات کا جو مجھے حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لیے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور ان دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن کے احوال درست ہوتے ہیں :۱۔ اپنے رب سے مدد طلب کرنا۔ ۲۔ اور اس کی طرف رجوع کرنا… جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾(ھود: 11؍123) ’’اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اسی پر بھروسا کر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحہ: 1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔‘‘
[89]﴿وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيۡۤ﴾ ’’اے میری قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے۔‘‘ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمھیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ ﴿ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ ﴾ کہ تم پر عذاب نازل ہو جائے۔ ﴿ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ١ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّؔنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ ﴾ ’’جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے‘‘ یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں ۔
[90]﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ﴾ ’’اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ﴾ ’’بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے (اَلْوَدُود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔ (ودود)(فعول) کے وزن پر ’’فاعل‘‘ اور ’’مفعول‘‘ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
[91]﴿ قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّؔا تَقُوۡلُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔‘‘ یعنی وہ شعیبu کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ’’ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے‘‘ یہ بات محض اس لیے کہتے تھے کیونکہ انھیں شعیبu کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ ﴿ وَاِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا﴾’’اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ ﴾ ’’اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا‘‘ ﴿ لَرَجَمۡنٰكَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں ‘‘ یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں ۔ ہم تجھے چھوڑ کر دراصل تیرے قبیلے کا احترام کررہے ہیں ۔
[92]﴿قَالَ﴾ حضرت شعیبu نے ان کو نرم کرنے کے لیے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِيۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمھارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے‘‘ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ ﴿ وَاتَّخَذۡتُمُوۡهُ۠ وَرَآءَؔكُمۡ ظِهۡرِيًّا﴾ ’’اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا کی نہ اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب تمھارے عملوں کو گھیرنے والا ہے‘‘ یعنی تمھارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں ، پس وہ تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[93]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کر کے ان کو بے بس کر دیا تو شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ١ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’میں بھی کام کرتا ہوں ، عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے‘‘ یعنی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ ﴿ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ﴾ ’’اور جھوٹا کون ہے۔‘‘ یعنی یہ بھی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا؟ ﴿ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی تم اس بات کا انتظار کرو کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور میں انتظار کرتا ہوں کہ تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔
[94]﴿وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا ﴿نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے‘‘ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی ۔
[95]﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انھوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا۔ ﴿اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ﴾ ’’سنو، پھٹکار ہے مدین کے لیے‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا ﴿ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر‘‘ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیبu کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں :(۱)کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں کیونکہ جناب شعیبu نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے پورے کرنے کی دعوت دی تھی اور مجموعی طور پر توحید اور ناپ تول کو پورا کرنے کے حکم کی عدم تعمیل پر وعید کو مترتب کیا۔(۲)ناپ تول میں کمی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کے بارے میں ڈر ہے کہ کہیں وہ عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کا مال چوری کرنے کے مترادف ہے۔ جب ناپ تول کے ذریعے سے چوری کرنا عذاب کی وعید کا موجب ہے تو جبر اور تغلب کے ذریعے سے لوگوں کے مال چوری کرنا بدرجہ اولیٰ وعید کا موجب ہے۔(۳) عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ جو کوئی لوگوں کے مال کو کم کر کے خود اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو اس کے مال میں کمی کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا۔ ناپ تول میں کمی اس کے رزق کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں ‘‘ اس لیے اپنے کرتوتوں کے ذریعے سے اس رزق کے زوال کا باعث نہ بنو۔(۴) بندے پر واجب ہے کہ وہ اس رزق پر قناعت کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے، چنانچہ وہ حرام کو چھوڑ کر حلال پر اور حرام ذرائع اکتساب کو چھوڑ کر حلال ذرائع پر قناعت کرے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ حلال ذرائع اکتساب میں جو برکت اور اضافۂ رزق ہے، وہ دنیا کی حرص کی خاطر حرام اسباب کسب اختیار کرنے میں نہیں ۔ اس میں سراسر مال کا زوال اور برکت کی ضد ہے۔(۵)یہ لوازم ایمان اور اس کے آثار میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عمل کو وجود ایمان پر مترتب کیا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عمل کا وجود نہ ہو تو ایمان ناقص یا قطعی طور پر معدوم ہے۔(۶)اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے سابقین کی شریعت میں نماز مشروع تھی، نیز یہ کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے۔ حتیٰ کہ کفار کے نزدیک بھی نماز کی افضلیت اور نماز کا تمام اعمال پر مقدم ہونا متحقق ہے۔ نیز ان کے ہاں یہ بات بھی متحقق ہے کہ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے اور نماز ایمان اور شرائع کی میزان ہے، نماز کو مسنون طریقے سے ادا کرنے سے بندۂ مومن کے احوال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز کی عدم ادائیگی سے اس کے دینی احوال میں خلل واقع ہوتا ہے۔(۷)وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کر رکھا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مال کا مالک بنا رکھا ہے تاہم انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے کیونکہ یہ مال اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس پر فرض ہے کہ وہ اس میں سے لوگوں کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم کرے اور ان ذرائع اکتساب کو اختیار کرنے سے باز رہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس کفار اور ان سے مشابہت رکھنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مال کے خود مالک ہیں اور وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں خواہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو یا مخالف۔(۸) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داعی کی دعوت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ خود اس کام پر عمل کرنے میں سبقت کرے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور جس کام سے وہ لوگوں کو روکتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس کام سے رک جائے، جیسا کہ جناب شعیبu نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں جن باتوں سے روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الصف: 61؍2)’’اے مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔‘‘(۹)تمام انبیاء و مرسلین کا وظیفہ اور ان کی سنت و ملت یہ ہے کہ حسب امکان اور مقدور بھر مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور استطاعت کے مطابق مفاسد کو دور یا کم کرتے ہیں اور مصالح خاصہ کی رعایت رکھتے ہیں … اور حقیقی مصلحت وہ ہے جس سے بندوں کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے اور جس سے ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔(۱۰)جو کوئی مقدور بھر اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسے کسی فعل کے نہ کرنے پر قابل ملامت اور قابل مذمت نہیں جس کے کرنے کی وہ قدرت اور استطاعت نہیں رکھتا۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔(۱۱) بندۂ مومن کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی سے توفیق کا طلب گار رہے۔ جب اسے کوئی نیک توفیق حاصل ہو جائے تو اسے توفیق عطا کرنے والی ہستی کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی کا شکار نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾(۱۲)امم سابقہ پر جو تباہی نازل ہوئی اور عذاب کے ذریعے سے ان کو جو پکڑا گیا اس میں بندوں کے لیے ترہیب ہے اور یہ نہایت مناسب بات ہے کہ وعظ و نصیحت کے دوران گزشتہ قوموں کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں مجرموں پر عذاب نازل کیا گیا… اور اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ تقویٰ کی ترغیب کے لیے اہل تقویٰ کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام سے نوازا۔(۱۳) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کے تمام گناہوں سے درگزر کر کے اسے معاف کر دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے ’’توبہ کرنے والا جب توبہ کرتا ہے تو اس کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کو مغفرت اور عفو سے نواز دیا جائے اور رہا اللہ تعالیٰ کی محبت اور مودت کا واپس لوٹنا تو اللہ تعالیٰ کی محبت دوبارہ نہیں آتی‘‘… کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ ﴾’’اپنے رب سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ بے شک میرا رب بہت ہی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے بہت محبت رکھتا ہے۔‘‘(۱۴) اللہ تبارک و تعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعے سے اہل ایمان کی مدافعت کرتا ہے بعض اسباب کا ان کو علم ہوتا ہے اور بعض اسباب کا ان کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کے قبیلے اور اہل وطن کے ذریعے سے ان کی مدافعت کرتا ہے جیسے شعیبu کو ان کے قبیلے کے سبب سے رجم ہونے سے بچایا۔ اس قسم کے روابط کے لیے جن کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور ان کی حفاظت کا حصول مقصود ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ایسی کوشش لازم ہے کیونکہ مقدور بھر اور حسب امکان، اصلاح مطلوب ہے۔لہٰذا اس اصول کو مدنظر رکھ کر کفار کی سلطنت میں رہنے والے مسلمان اگر اسی قسم کی کوشش کریں اور نظام حکومت کو جمہوری اصولوں پر چلانے کے لیے کام کریں جس میں افراد یا جماعتوں کے لیے ممکن ہو کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی حقوق کی حفاظت کر سکیں تو یہ اس صورت حال سے بہتر ہے جس میں مسلمان کافر ریاست کے مطیع ہوں اور ریاست ان کے دینی اور دنیاوی حقوق کے بارے میں من مانے فیصلے کرے، مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے اور کفار کی خدمت کے لیے ان کو معمولی درجے کے کارکن اور خدام بنا ڈالے، البتہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا اقتدار اور ان کی حکومت ممکن ہو تو اس حکومت کا قیام لازم ہے لیکن اگر اقتدار کا یہ مرتبہ حاصل نہ ہو سکے تو اس مرتبے کا حصول جس میں دینی اور دنیاوی مصالح کی حفاظت ہو، مقدم ہے۔ واللہ اعلم۔
11:89وَيَٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيٓ أَن يُصِيبَكُم مِّثۡلُ مَآ أَصَابَ قَوۡمَ نُوحٍ أَوۡ قَوۡمَ هُودٍ أَوۡ قَوۡمَ صَٰلِحٖۚ وَمَا قَوۡمُ لُوطٖ مِّنكُم بِبَعِيدٖ
اور (بھیجا ہم نے) طرف (اہل) مدین کی ان کے بھائی شعیب کو، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اور نہ کم کرو تم ماپ اور تول کو، بے شک میں دیکھتا ہوں تمھیں آسودگی میں اور بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیرنے والے دن کے (84) اور اے میری قوم! پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کےاور مت کم دو تم لوگوں کو چیزیں ان کی اور نہ پھرو تم زمین میں فسادی بن کر (85) بچت اللہ کی (جائز نفع) بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(86)انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز حکم دیتی ہے تجھے یہ کہ ہم چھوڑ دیں ان (معبودوں ) کو جن کی عبادت کرتے تھے باپ دادا ہمارے؟ یا (چھوڑ دیں ہم) کرنا اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں ، بلاشبہ تو البتہ بہت بردبار، بڑا سمجھدار ہے (87) شعیب نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ! ( میں کیسے نافرمان بنوں ؟)اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے،اور دیا ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رزق اچھا اور نہیں چاہتا میں کہ مخالفت کروں تمھاری طرف ان کاموں کے کہ روکتا ہوں میں تمھیں ان سے، نہیں چاہتا میں مگر اصلاح( تمھاری)، جس قدر استطاعت رکھتا ہوں میں اور نہیں توفیق مجھے مگر ساتھ اللہ(کی مدد) کے، اسی پر توکل کیامیں نے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (88) اور اے میری قوم! نہ باعث بنے تمھارے لیے میری مخالفت (اس بات کی) کہ پہنچے تمھیں مانند اس عذاب کے جو پہنچاقوم نوح کو اور قوم ہود کو اور قوم صالح کو اور نہیں قوم لوط تم سے کچھ دور (89) اور تم مغفرت طلب کرو اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف، بلاشبہ میرا رب بڑا رحم والا نہایت محبت کرنے والا ہے (90)انھوں نے کہا، اے شعیب! نہیں سمجھتے ہم بہت کچھ اس میں سے جو تو کہتا ہےاور بے شک ہم البتہ دیکھتے ہیں تجھے درمیان اپنے ضعیف اور اگر نہ ہوتا قبیلہ تیرا تو یقینا سنگسار کر دیتے ہم تجھےاور نہیں ہے تو ہم پر کچھ غالب (91) شعیب نے کہا، اے میری قوم! کیا میر ا قبیلہ زیادہ دباؤ والا ہے تم پر اللہ سے؟ اور کر دیا تم نے اللہ کو پیچھے ڈالا ہوا اپنی پیٹھوں کے ، بے شک میرا رب ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو گھیرنے والا ہے (92) اور اے میری قوم! تم عمل کرو اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ میں بھی عمل کر رہا ہوں عنقریب تم جان لوگے کہ کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر (ایسا) عذاب جو رسوا کرے گا اسے؟ اور کون ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں (93) اور جب آیاحکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاورآپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (94) گویا کہ وہ نہ رہے تھے ان میں ، آگاہ رہو! دوری ہے (اہل) مدین کے لیے جیسے (رحمت سے) دور ہوئے تھے ثمود (95)
[84]﴿ وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اور مدین کی طرف بھیجا‘‘ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمۡ ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيۡبًا﴾ ’’شعیب (u) کو۔‘‘ گویا وہ جناب شعیبu کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیبu نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنۡقُصُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو‘‘ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾ ’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں ، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے‘‘ یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
[85]﴿وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد مت مچاؤ‘‘ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
[86]﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمھارے لیے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستغنی ہو اور وہ تمھارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم مومن ہو‘‘ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’اور میں تم پر نگران نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمھارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میں تو تمھیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔
[87]﴿قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے‘‘ یہ بات انھوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لیے منع کرتا ہے کہ تو نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں ، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آبا ءو اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں ؟اسی طرح تمھارا ہمیں یہ کہنا ﴿ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِيۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا﴾ ’’یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں ‘‘ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں ، انھیں ادا کریں ۔ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمھیں کوئی حق نہیں ۔ بنابریں انھوں نے ازراہ تمسخر کہا:﴿ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ﴾ ’’تو تو بڑا بردبار اور راست باز ہے۔‘‘ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حلم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد و ہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا ،تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا… یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد درحقیقت یہ تھا کہ شعیبu اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں … اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباء و اجداد احمق اور گمراہ؟ اور یہ قول جس کی انھوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کر کے معاملے کو شعیبu کے قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے… ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں ۔ بے شک شعیبu کی نماز انھیں حکم دیتی ہے کہ وہ انھیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباء و اجداد کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے… کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کون سا کام برا اور فحش ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کر کے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیبu کا وصف تو حلم و رشد ہے۔
[88]﴿قَالَ﴾ جناب شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتلاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو ﴿ وَرَزَقَنِيۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا ﴾ ’’اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾’’اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمھیں روکتا ہوں ‘‘ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں تو ناپ تول سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اور اس بارے میں تہمت اٹھاتا رہوں بلکہ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ میں جس کام سے تمھیں روکتا ہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں ۔﴿ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ﴾ ’’میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہو سکے‘‘ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ تمھارے احوال کی اصلاح ہو اور تمھارے منافع درست ہوں اور اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا میرا مقصد نہیں ۔ حسب استطاعت میں کام کرتا ہوں اور چونکہ اس میں ایک قسم کے تزکیہ نفس کا دعویٰ ہے اس لیے اس قول کے ذریعے سے اس کو دور کیا ﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ﴾ ’’اور سب صرف اللہ کی توفیق سے ہے‘‘ یعنی بھلائی کے کام کرنے اور شر سے بچنے کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ اس میں میری قوت و اختیار کا کوئی دخل نہیں ۔ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر توکل کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کے کافی ہونے پر مجھے اعتماد ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾’’اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے مختلف اقسام کی عبادات کا جو مجھے حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لیے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور ان دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن کے احوال درست ہوتے ہیں :۱۔ اپنے رب سے مدد طلب کرنا۔ ۲۔ اور اس کی طرف رجوع کرنا… جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾(ھود: 11؍123) ’’اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اسی پر بھروسا کر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحہ: 1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔‘‘
[89]﴿وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيۡۤ﴾ ’’اے میری قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے۔‘‘ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمھیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ ﴿ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ ﴾ کہ تم پر عذاب نازل ہو جائے۔ ﴿ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ١ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّؔنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ ﴾ ’’جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے‘‘ یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں ۔
[90]﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ﴾ ’’اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ﴾ ’’بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے (اَلْوَدُود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔ (ودود)(فعول) کے وزن پر ’’فاعل‘‘ اور ’’مفعول‘‘ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
[91]﴿ قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّؔا تَقُوۡلُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔‘‘ یعنی وہ شعیبu کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ’’ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے‘‘ یہ بات محض اس لیے کہتے تھے کیونکہ انھیں شعیبu کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ ﴿ وَاِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا﴾’’اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ ﴾ ’’اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا‘‘ ﴿ لَرَجَمۡنٰكَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں ‘‘ یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں ۔ ہم تجھے چھوڑ کر دراصل تیرے قبیلے کا احترام کررہے ہیں ۔
[92]﴿قَالَ﴾ حضرت شعیبu نے ان کو نرم کرنے کے لیے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِيۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمھارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے‘‘ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ ﴿ وَاتَّخَذۡتُمُوۡهُ۠ وَرَآءَؔكُمۡ ظِهۡرِيًّا﴾ ’’اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا کی نہ اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب تمھارے عملوں کو گھیرنے والا ہے‘‘ یعنی تمھارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں ، پس وہ تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[93]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کر کے ان کو بے بس کر دیا تو شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ١ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’میں بھی کام کرتا ہوں ، عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے‘‘ یعنی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ ﴿ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ﴾ ’’اور جھوٹا کون ہے۔‘‘ یعنی یہ بھی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا؟ ﴿ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی تم اس بات کا انتظار کرو کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور میں انتظار کرتا ہوں کہ تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔
[94]﴿وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا ﴿نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے‘‘ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی ۔
[95]﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انھوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا۔ ﴿اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ﴾ ’’سنو، پھٹکار ہے مدین کے لیے‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا ﴿ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر‘‘ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیبu کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں :(۱)کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں کیونکہ جناب شعیبu نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے پورے کرنے کی دعوت دی تھی اور مجموعی طور پر توحید اور ناپ تول کو پورا کرنے کے حکم کی عدم تعمیل پر وعید کو مترتب کیا۔(۲)ناپ تول میں کمی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کے بارے میں ڈر ہے کہ کہیں وہ عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کا مال چوری کرنے کے مترادف ہے۔ جب ناپ تول کے ذریعے سے چوری کرنا عذاب کی وعید کا موجب ہے تو جبر اور تغلب کے ذریعے سے لوگوں کے مال چوری کرنا بدرجہ اولیٰ وعید کا موجب ہے۔(۳) عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ جو کوئی لوگوں کے مال کو کم کر کے خود اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو اس کے مال میں کمی کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا۔ ناپ تول میں کمی اس کے رزق کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں ‘‘ اس لیے اپنے کرتوتوں کے ذریعے سے اس رزق کے زوال کا باعث نہ بنو۔(۴) بندے پر واجب ہے کہ وہ اس رزق پر قناعت کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے، چنانچہ وہ حرام کو چھوڑ کر حلال پر اور حرام ذرائع اکتساب کو چھوڑ کر حلال ذرائع پر قناعت کرے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ حلال ذرائع اکتساب میں جو برکت اور اضافۂ رزق ہے، وہ دنیا کی حرص کی خاطر حرام اسباب کسب اختیار کرنے میں نہیں ۔ اس میں سراسر مال کا زوال اور برکت کی ضد ہے۔(۵)یہ لوازم ایمان اور اس کے آثار میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عمل کو وجود ایمان پر مترتب کیا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عمل کا وجود نہ ہو تو ایمان ناقص یا قطعی طور پر معدوم ہے۔(۶)اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے سابقین کی شریعت میں نماز مشروع تھی، نیز یہ کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے۔ حتیٰ کہ کفار کے نزدیک بھی نماز کی افضلیت اور نماز کا تمام اعمال پر مقدم ہونا متحقق ہے۔ نیز ان کے ہاں یہ بات بھی متحقق ہے کہ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے اور نماز ایمان اور شرائع کی میزان ہے، نماز کو مسنون طریقے سے ادا کرنے سے بندۂ مومن کے احوال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز کی عدم ادائیگی سے اس کے دینی احوال میں خلل واقع ہوتا ہے۔(۷)وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کر رکھا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مال کا مالک بنا رکھا ہے تاہم انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے کیونکہ یہ مال اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس پر فرض ہے کہ وہ اس میں سے لوگوں کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم کرے اور ان ذرائع اکتساب کو اختیار کرنے سے باز رہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس کفار اور ان سے مشابہت رکھنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مال کے خود مالک ہیں اور وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں خواہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو یا مخالف۔(۸) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داعی کی دعوت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ خود اس کام پر عمل کرنے میں سبقت کرے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور جس کام سے وہ لوگوں کو روکتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس کام سے رک جائے، جیسا کہ جناب شعیبu نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں جن باتوں سے روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الصف: 61؍2)’’اے مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔‘‘(۹)تمام انبیاء و مرسلین کا وظیفہ اور ان کی سنت و ملت یہ ہے کہ حسب امکان اور مقدور بھر مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور استطاعت کے مطابق مفاسد کو دور یا کم کرتے ہیں اور مصالح خاصہ کی رعایت رکھتے ہیں … اور حقیقی مصلحت وہ ہے جس سے بندوں کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے اور جس سے ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔(۱۰)جو کوئی مقدور بھر اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسے کسی فعل کے نہ کرنے پر قابل ملامت اور قابل مذمت نہیں جس کے کرنے کی وہ قدرت اور استطاعت نہیں رکھتا۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔(۱۱) بندۂ مومن کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی سے توفیق کا طلب گار رہے۔ جب اسے کوئی نیک توفیق حاصل ہو جائے تو اسے توفیق عطا کرنے والی ہستی کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی کا شکار نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾(۱۲)امم سابقہ پر جو تباہی نازل ہوئی اور عذاب کے ذریعے سے ان کو جو پکڑا گیا اس میں بندوں کے لیے ترہیب ہے اور یہ نہایت مناسب بات ہے کہ وعظ و نصیحت کے دوران گزشتہ قوموں کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں مجرموں پر عذاب نازل کیا گیا… اور اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ تقویٰ کی ترغیب کے لیے اہل تقویٰ کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام سے نوازا۔(۱۳) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کے تمام گناہوں سے درگزر کر کے اسے معاف کر دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے ’’توبہ کرنے والا جب توبہ کرتا ہے تو اس کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کو مغفرت اور عفو سے نواز دیا جائے اور رہا اللہ تعالیٰ کی محبت اور مودت کا واپس لوٹنا تو اللہ تعالیٰ کی محبت دوبارہ نہیں آتی‘‘… کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ ﴾’’اپنے رب سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ بے شک میرا رب بہت ہی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے بہت محبت رکھتا ہے۔‘‘(۱۴) اللہ تبارک و تعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعے سے اہل ایمان کی مدافعت کرتا ہے بعض اسباب کا ان کو علم ہوتا ہے اور بعض اسباب کا ان کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کے قبیلے اور اہل وطن کے ذریعے سے ان کی مدافعت کرتا ہے جیسے شعیبu کو ان کے قبیلے کے سبب سے رجم ہونے سے بچایا۔ اس قسم کے روابط کے لیے جن کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور ان کی حفاظت کا حصول مقصود ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ایسی کوشش لازم ہے کیونکہ مقدور بھر اور حسب امکان، اصلاح مطلوب ہے۔لہٰذا اس اصول کو مدنظر رکھ کر کفار کی سلطنت میں رہنے والے مسلمان اگر اسی قسم کی کوشش کریں اور نظام حکومت کو جمہوری اصولوں پر چلانے کے لیے کام کریں جس میں افراد یا جماعتوں کے لیے ممکن ہو کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی حقوق کی حفاظت کر سکیں تو یہ اس صورت حال سے بہتر ہے جس میں مسلمان کافر ریاست کے مطیع ہوں اور ریاست ان کے دینی اور دنیاوی حقوق کے بارے میں من مانے فیصلے کرے، مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے اور کفار کی خدمت کے لیے ان کو معمولی درجے کے کارکن اور خدام بنا ڈالے، البتہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا اقتدار اور ان کی حکومت ممکن ہو تو اس حکومت کا قیام لازم ہے لیکن اگر اقتدار کا یہ مرتبہ حاصل نہ ہو سکے تو اس مرتبے کا حصول جس میں دینی اور دنیاوی مصالح کی حفاظت ہو، مقدم ہے۔ واللہ اعلم۔
11:90وَٱسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوبُوٓاْ إِلَيۡهِۚ إِنَّ رَبِّي رَحِيمٞ وَدُودٞ
اور (بھیجا ہم نے) طرف (اہل) مدین کی ان کے بھائی شعیب کو، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اور نہ کم کرو تم ماپ اور تول کو، بے شک میں دیکھتا ہوں تمھیں آسودگی میں اور بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیرنے والے دن کے (84) اور اے میری قوم! پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کےاور مت کم دو تم لوگوں کو چیزیں ان کی اور نہ پھرو تم زمین میں فسادی بن کر (85) بچت اللہ کی (جائز نفع) بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(86)انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز حکم دیتی ہے تجھے یہ کہ ہم چھوڑ دیں ان (معبودوں ) کو جن کی عبادت کرتے تھے باپ دادا ہمارے؟ یا (چھوڑ دیں ہم) کرنا اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں ، بلاشبہ تو البتہ بہت بردبار، بڑا سمجھدار ہے (87) شعیب نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ! ( میں کیسے نافرمان بنوں ؟)اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے،اور دیا ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رزق اچھا اور نہیں چاہتا میں کہ مخالفت کروں تمھاری طرف ان کاموں کے کہ روکتا ہوں میں تمھیں ان سے، نہیں چاہتا میں مگر اصلاح( تمھاری)، جس قدر استطاعت رکھتا ہوں میں اور نہیں توفیق مجھے مگر ساتھ اللہ(کی مدد) کے، اسی پر توکل کیامیں نے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (88) اور اے میری قوم! نہ باعث بنے تمھارے لیے میری مخالفت (اس بات کی) کہ پہنچے تمھیں مانند اس عذاب کے جو پہنچاقوم نوح کو اور قوم ہود کو اور قوم صالح کو اور نہیں قوم لوط تم سے کچھ دور (89) اور تم مغفرت طلب کرو اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف، بلاشبہ میرا رب بڑا رحم والا نہایت محبت کرنے والا ہے (90)انھوں نے کہا، اے شعیب! نہیں سمجھتے ہم بہت کچھ اس میں سے جو تو کہتا ہےاور بے شک ہم البتہ دیکھتے ہیں تجھے درمیان اپنے ضعیف اور اگر نہ ہوتا قبیلہ تیرا تو یقینا سنگسار کر دیتے ہم تجھےاور نہیں ہے تو ہم پر کچھ غالب (91) شعیب نے کہا، اے میری قوم! کیا میر ا قبیلہ زیادہ دباؤ والا ہے تم پر اللہ سے؟ اور کر دیا تم نے اللہ کو پیچھے ڈالا ہوا اپنی پیٹھوں کے ، بے شک میرا رب ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو گھیرنے والا ہے (92) اور اے میری قوم! تم عمل کرو اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ میں بھی عمل کر رہا ہوں عنقریب تم جان لوگے کہ کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر (ایسا) عذاب جو رسوا کرے گا اسے؟ اور کون ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں (93) اور جب آیاحکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاورآپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (94) گویا کہ وہ نہ رہے تھے ان میں ، آگاہ رہو! دوری ہے (اہل) مدین کے لیے جیسے (رحمت سے) دور ہوئے تھے ثمود (95)
[84]﴿ وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اور مدین کی طرف بھیجا‘‘ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمۡ ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيۡبًا﴾ ’’شعیب (u) کو۔‘‘ گویا وہ جناب شعیبu کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیبu نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنۡقُصُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو‘‘ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾ ’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں ، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے‘‘ یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
[85]﴿وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد مت مچاؤ‘‘ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
[86]﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمھارے لیے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستغنی ہو اور وہ تمھارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم مومن ہو‘‘ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’اور میں تم پر نگران نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمھارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میں تو تمھیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔
[87]﴿قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے‘‘ یہ بات انھوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لیے منع کرتا ہے کہ تو نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں ، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آبا ءو اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں ؟اسی طرح تمھارا ہمیں یہ کہنا ﴿ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِيۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا﴾ ’’یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں ‘‘ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں ، انھیں ادا کریں ۔ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمھیں کوئی حق نہیں ۔ بنابریں انھوں نے ازراہ تمسخر کہا:﴿ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ﴾ ’’تو تو بڑا بردبار اور راست باز ہے۔‘‘ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حلم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد و ہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا ،تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا… یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد درحقیقت یہ تھا کہ شعیبu اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں … اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباء و اجداد احمق اور گمراہ؟ اور یہ قول جس کی انھوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کر کے معاملے کو شعیبu کے قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے… ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں ۔ بے شک شعیبu کی نماز انھیں حکم دیتی ہے کہ وہ انھیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباء و اجداد کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے… کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کون سا کام برا اور فحش ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کر کے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیبu کا وصف تو حلم و رشد ہے۔
[88]﴿قَالَ﴾ جناب شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتلاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو ﴿ وَرَزَقَنِيۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا ﴾ ’’اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾’’اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمھیں روکتا ہوں ‘‘ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں تو ناپ تول سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اور اس بارے میں تہمت اٹھاتا رہوں بلکہ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ میں جس کام سے تمھیں روکتا ہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں ۔﴿ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ﴾ ’’میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہو سکے‘‘ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ تمھارے احوال کی اصلاح ہو اور تمھارے منافع درست ہوں اور اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا میرا مقصد نہیں ۔ حسب استطاعت میں کام کرتا ہوں اور چونکہ اس میں ایک قسم کے تزکیہ نفس کا دعویٰ ہے اس لیے اس قول کے ذریعے سے اس کو دور کیا ﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ﴾ ’’اور سب صرف اللہ کی توفیق سے ہے‘‘ یعنی بھلائی کے کام کرنے اور شر سے بچنے کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ اس میں میری قوت و اختیار کا کوئی دخل نہیں ۔ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر توکل کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کے کافی ہونے پر مجھے اعتماد ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾’’اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے مختلف اقسام کی عبادات کا جو مجھے حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لیے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور ان دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن کے احوال درست ہوتے ہیں :۱۔ اپنے رب سے مدد طلب کرنا۔ ۲۔ اور اس کی طرف رجوع کرنا… جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾(ھود: 11؍123) ’’اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اسی پر بھروسا کر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحہ: 1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔‘‘
[89]﴿وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيۡۤ﴾ ’’اے میری قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے۔‘‘ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمھیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ ﴿ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ ﴾ کہ تم پر عذاب نازل ہو جائے۔ ﴿ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ١ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّؔنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ ﴾ ’’جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے‘‘ یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں ۔
[90]﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ﴾ ’’اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ﴾ ’’بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے (اَلْوَدُود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔ (ودود)(فعول) کے وزن پر ’’فاعل‘‘ اور ’’مفعول‘‘ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
[91]﴿ قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّؔا تَقُوۡلُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔‘‘ یعنی وہ شعیبu کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ’’ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے‘‘ یہ بات محض اس لیے کہتے تھے کیونکہ انھیں شعیبu کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ ﴿ وَاِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا﴾’’اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ ﴾ ’’اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا‘‘ ﴿ لَرَجَمۡنٰكَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں ‘‘ یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں ۔ ہم تجھے چھوڑ کر دراصل تیرے قبیلے کا احترام کررہے ہیں ۔
[92]﴿قَالَ﴾ حضرت شعیبu نے ان کو نرم کرنے کے لیے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِيۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمھارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے‘‘ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ ﴿ وَاتَّخَذۡتُمُوۡهُ۠ وَرَآءَؔكُمۡ ظِهۡرِيًّا﴾ ’’اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا کی نہ اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب تمھارے عملوں کو گھیرنے والا ہے‘‘ یعنی تمھارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں ، پس وہ تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[93]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کر کے ان کو بے بس کر دیا تو شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ١ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’میں بھی کام کرتا ہوں ، عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے‘‘ یعنی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ ﴿ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ﴾ ’’اور جھوٹا کون ہے۔‘‘ یعنی یہ بھی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا؟ ﴿ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی تم اس بات کا انتظار کرو کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور میں انتظار کرتا ہوں کہ تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔
[94]﴿وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا ﴿نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے‘‘ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی ۔
[95]﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انھوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا۔ ﴿اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ﴾ ’’سنو، پھٹکار ہے مدین کے لیے‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا ﴿ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر‘‘ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیبu کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں :(۱)کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں کیونکہ جناب شعیبu نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے پورے کرنے کی دعوت دی تھی اور مجموعی طور پر توحید اور ناپ تول کو پورا کرنے کے حکم کی عدم تعمیل پر وعید کو مترتب کیا۔(۲)ناپ تول میں کمی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کے بارے میں ڈر ہے کہ کہیں وہ عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کا مال چوری کرنے کے مترادف ہے۔ جب ناپ تول کے ذریعے سے چوری کرنا عذاب کی وعید کا موجب ہے تو جبر اور تغلب کے ذریعے سے لوگوں کے مال چوری کرنا بدرجہ اولیٰ وعید کا موجب ہے۔(۳) عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ جو کوئی لوگوں کے مال کو کم کر کے خود اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو اس کے مال میں کمی کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا۔ ناپ تول میں کمی اس کے رزق کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں ‘‘ اس لیے اپنے کرتوتوں کے ذریعے سے اس رزق کے زوال کا باعث نہ بنو۔(۴) بندے پر واجب ہے کہ وہ اس رزق پر قناعت کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے، چنانچہ وہ حرام کو چھوڑ کر حلال پر اور حرام ذرائع اکتساب کو چھوڑ کر حلال ذرائع پر قناعت کرے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ حلال ذرائع اکتساب میں جو برکت اور اضافۂ رزق ہے، وہ دنیا کی حرص کی خاطر حرام اسباب کسب اختیار کرنے میں نہیں ۔ اس میں سراسر مال کا زوال اور برکت کی ضد ہے۔(۵)یہ لوازم ایمان اور اس کے آثار میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عمل کو وجود ایمان پر مترتب کیا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عمل کا وجود نہ ہو تو ایمان ناقص یا قطعی طور پر معدوم ہے۔(۶)اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے سابقین کی شریعت میں نماز مشروع تھی، نیز یہ کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے۔ حتیٰ کہ کفار کے نزدیک بھی نماز کی افضلیت اور نماز کا تمام اعمال پر مقدم ہونا متحقق ہے۔ نیز ان کے ہاں یہ بات بھی متحقق ہے کہ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے اور نماز ایمان اور شرائع کی میزان ہے، نماز کو مسنون طریقے سے ادا کرنے سے بندۂ مومن کے احوال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز کی عدم ادائیگی سے اس کے دینی احوال میں خلل واقع ہوتا ہے۔(۷)وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کر رکھا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مال کا مالک بنا رکھا ہے تاہم انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے کیونکہ یہ مال اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس پر فرض ہے کہ وہ اس میں سے لوگوں کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم کرے اور ان ذرائع اکتساب کو اختیار کرنے سے باز رہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس کفار اور ان سے مشابہت رکھنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مال کے خود مالک ہیں اور وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں خواہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو یا مخالف۔(۸) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داعی کی دعوت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ خود اس کام پر عمل کرنے میں سبقت کرے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور جس کام سے وہ لوگوں کو روکتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس کام سے رک جائے، جیسا کہ جناب شعیبu نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں جن باتوں سے روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الصف: 61؍2)’’اے مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔‘‘(۹)تمام انبیاء و مرسلین کا وظیفہ اور ان کی سنت و ملت یہ ہے کہ حسب امکان اور مقدور بھر مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور استطاعت کے مطابق مفاسد کو دور یا کم کرتے ہیں اور مصالح خاصہ کی رعایت رکھتے ہیں … اور حقیقی مصلحت وہ ہے جس سے بندوں کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے اور جس سے ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔(۱۰)جو کوئی مقدور بھر اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسے کسی فعل کے نہ کرنے پر قابل ملامت اور قابل مذمت نہیں جس کے کرنے کی وہ قدرت اور استطاعت نہیں رکھتا۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔(۱۱) بندۂ مومن کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی سے توفیق کا طلب گار رہے۔ جب اسے کوئی نیک توفیق حاصل ہو جائے تو اسے توفیق عطا کرنے والی ہستی کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی کا شکار نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾(۱۲)امم سابقہ پر جو تباہی نازل ہوئی اور عذاب کے ذریعے سے ان کو جو پکڑا گیا اس میں بندوں کے لیے ترہیب ہے اور یہ نہایت مناسب بات ہے کہ وعظ و نصیحت کے دوران گزشتہ قوموں کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں مجرموں پر عذاب نازل کیا گیا… اور اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ تقویٰ کی ترغیب کے لیے اہل تقویٰ کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام سے نوازا۔(۱۳) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کے تمام گناہوں سے درگزر کر کے اسے معاف کر دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے ’’توبہ کرنے والا جب توبہ کرتا ہے تو اس کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کو مغفرت اور عفو سے نواز دیا جائے اور رہا اللہ تعالیٰ کی محبت اور مودت کا واپس لوٹنا تو اللہ تعالیٰ کی محبت دوبارہ نہیں آتی‘‘… کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ ﴾’’اپنے رب سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ بے شک میرا رب بہت ہی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے بہت محبت رکھتا ہے۔‘‘(۱۴) اللہ تبارک و تعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعے سے اہل ایمان کی مدافعت کرتا ہے بعض اسباب کا ان کو علم ہوتا ہے اور بعض اسباب کا ان کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کے قبیلے اور اہل وطن کے ذریعے سے ان کی مدافعت کرتا ہے جیسے شعیبu کو ان کے قبیلے کے سبب سے رجم ہونے سے بچایا۔ اس قسم کے روابط کے لیے جن کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور ان کی حفاظت کا حصول مقصود ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ایسی کوشش لازم ہے کیونکہ مقدور بھر اور حسب امکان، اصلاح مطلوب ہے۔لہٰذا اس اصول کو مدنظر رکھ کر کفار کی سلطنت میں رہنے والے مسلمان اگر اسی قسم کی کوشش کریں اور نظام حکومت کو جمہوری اصولوں پر چلانے کے لیے کام کریں جس میں افراد یا جماعتوں کے لیے ممکن ہو کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی حقوق کی حفاظت کر سکیں تو یہ اس صورت حال سے بہتر ہے جس میں مسلمان کافر ریاست کے مطیع ہوں اور ریاست ان کے دینی اور دنیاوی حقوق کے بارے میں من مانے فیصلے کرے، مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے اور کفار کی خدمت کے لیے ان کو معمولی درجے کے کارکن اور خدام بنا ڈالے، البتہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا اقتدار اور ان کی حکومت ممکن ہو تو اس حکومت کا قیام لازم ہے لیکن اگر اقتدار کا یہ مرتبہ حاصل نہ ہو سکے تو اس مرتبے کا حصول جس میں دینی اور دنیاوی مصالح کی حفاظت ہو، مقدم ہے۔ واللہ اعلم۔
11:91قَالُواْ يَٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيرٗا مِّمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَىٰكَ فِينَا ضَعِيفٗاۖ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ لَرَجَمۡنَٰكَۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيزٖ
اور (بھیجا ہم نے) طرف (اہل) مدین کی ان کے بھائی شعیب کو، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اور نہ کم کرو تم ماپ اور تول کو، بے شک میں دیکھتا ہوں تمھیں آسودگی میں اور بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیرنے والے دن کے (84) اور اے میری قوم! پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کےاور مت کم دو تم لوگوں کو چیزیں ان کی اور نہ پھرو تم زمین میں فسادی بن کر (85) بچت اللہ کی (جائز نفع) بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(86)انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز حکم دیتی ہے تجھے یہ کہ ہم چھوڑ دیں ان (معبودوں ) کو جن کی عبادت کرتے تھے باپ دادا ہمارے؟ یا (چھوڑ دیں ہم) کرنا اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں ، بلاشبہ تو البتہ بہت بردبار، بڑا سمجھدار ہے (87) شعیب نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ! ( میں کیسے نافرمان بنوں ؟)اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے،اور دیا ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رزق اچھا اور نہیں چاہتا میں کہ مخالفت کروں تمھاری طرف ان کاموں کے کہ روکتا ہوں میں تمھیں ان سے، نہیں چاہتا میں مگر اصلاح( تمھاری)، جس قدر استطاعت رکھتا ہوں میں اور نہیں توفیق مجھے مگر ساتھ اللہ(کی مدد) کے، اسی پر توکل کیامیں نے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (88) اور اے میری قوم! نہ باعث بنے تمھارے لیے میری مخالفت (اس بات کی) کہ پہنچے تمھیں مانند اس عذاب کے جو پہنچاقوم نوح کو اور قوم ہود کو اور قوم صالح کو اور نہیں قوم لوط تم سے کچھ دور (89) اور تم مغفرت طلب کرو اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف، بلاشبہ میرا رب بڑا رحم والا نہایت محبت کرنے والا ہے (90)انھوں نے کہا، اے شعیب! نہیں سمجھتے ہم بہت کچھ اس میں سے جو تو کہتا ہےاور بے شک ہم البتہ دیکھتے ہیں تجھے درمیان اپنے ضعیف اور اگر نہ ہوتا قبیلہ تیرا تو یقینا سنگسار کر دیتے ہم تجھےاور نہیں ہے تو ہم پر کچھ غالب (91) شعیب نے کہا، اے میری قوم! کیا میر ا قبیلہ زیادہ دباؤ والا ہے تم پر اللہ سے؟ اور کر دیا تم نے اللہ کو پیچھے ڈالا ہوا اپنی پیٹھوں کے ، بے شک میرا رب ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو گھیرنے والا ہے (92) اور اے میری قوم! تم عمل کرو اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ میں بھی عمل کر رہا ہوں عنقریب تم جان لوگے کہ کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر (ایسا) عذاب جو رسوا کرے گا اسے؟ اور کون ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں (93) اور جب آیاحکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاورآپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (94) گویا کہ وہ نہ رہے تھے ان میں ، آگاہ رہو! دوری ہے (اہل) مدین کے لیے جیسے (رحمت سے) دور ہوئے تھے ثمود (95)
[84]﴿ وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اور مدین کی طرف بھیجا‘‘ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمۡ ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيۡبًا﴾ ’’شعیب (u) کو۔‘‘ گویا وہ جناب شعیبu کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیبu نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنۡقُصُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو‘‘ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾ ’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں ، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے‘‘ یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
[85]﴿وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد مت مچاؤ‘‘ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
[86]﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمھارے لیے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستغنی ہو اور وہ تمھارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم مومن ہو‘‘ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’اور میں تم پر نگران نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمھارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میں تو تمھیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔
[87]﴿قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے‘‘ یہ بات انھوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لیے منع کرتا ہے کہ تو نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں ، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آبا ءو اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں ؟اسی طرح تمھارا ہمیں یہ کہنا ﴿ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِيۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا﴾ ’’یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں ‘‘ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں ، انھیں ادا کریں ۔ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمھیں کوئی حق نہیں ۔ بنابریں انھوں نے ازراہ تمسخر کہا:﴿ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ﴾ ’’تو تو بڑا بردبار اور راست باز ہے۔‘‘ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حلم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد و ہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا ،تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا… یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد درحقیقت یہ تھا کہ شعیبu اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں … اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباء و اجداد احمق اور گمراہ؟ اور یہ قول جس کی انھوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کر کے معاملے کو شعیبu کے قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے… ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں ۔ بے شک شعیبu کی نماز انھیں حکم دیتی ہے کہ وہ انھیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباء و اجداد کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے… کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کون سا کام برا اور فحش ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کر کے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیبu کا وصف تو حلم و رشد ہے۔
[88]﴿قَالَ﴾ جناب شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتلاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو ﴿ وَرَزَقَنِيۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا ﴾ ’’اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾’’اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمھیں روکتا ہوں ‘‘ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں تو ناپ تول سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اور اس بارے میں تہمت اٹھاتا رہوں بلکہ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ میں جس کام سے تمھیں روکتا ہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں ۔﴿ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ﴾ ’’میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہو سکے‘‘ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ تمھارے احوال کی اصلاح ہو اور تمھارے منافع درست ہوں اور اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا میرا مقصد نہیں ۔ حسب استطاعت میں کام کرتا ہوں اور چونکہ اس میں ایک قسم کے تزکیہ نفس کا دعویٰ ہے اس لیے اس قول کے ذریعے سے اس کو دور کیا ﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ﴾ ’’اور سب صرف اللہ کی توفیق سے ہے‘‘ یعنی بھلائی کے کام کرنے اور شر سے بچنے کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ اس میں میری قوت و اختیار کا کوئی دخل نہیں ۔ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر توکل کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کے کافی ہونے پر مجھے اعتماد ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾’’اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے مختلف اقسام کی عبادات کا جو مجھے حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لیے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور ان دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن کے احوال درست ہوتے ہیں :۱۔ اپنے رب سے مدد طلب کرنا۔ ۲۔ اور اس کی طرف رجوع کرنا… جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾(ھود: 11؍123) ’’اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اسی پر بھروسا کر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحہ: 1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔‘‘
[89]﴿وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيۡۤ﴾ ’’اے میری قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے۔‘‘ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمھیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ ﴿ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ ﴾ کہ تم پر عذاب نازل ہو جائے۔ ﴿ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ١ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّؔنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ ﴾ ’’جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے‘‘ یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں ۔
[90]﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ﴾ ’’اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ﴾ ’’بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے (اَلْوَدُود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔ (ودود)(فعول) کے وزن پر ’’فاعل‘‘ اور ’’مفعول‘‘ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
[91]﴿ قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّؔا تَقُوۡلُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔‘‘ یعنی وہ شعیبu کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ’’ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے‘‘ یہ بات محض اس لیے کہتے تھے کیونکہ انھیں شعیبu کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ ﴿ وَاِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا﴾’’اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ ﴾ ’’اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا‘‘ ﴿ لَرَجَمۡنٰكَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں ‘‘ یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں ۔ ہم تجھے چھوڑ کر دراصل تیرے قبیلے کا احترام کررہے ہیں ۔
[92]﴿قَالَ﴾ حضرت شعیبu نے ان کو نرم کرنے کے لیے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِيۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمھارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے‘‘ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ ﴿ وَاتَّخَذۡتُمُوۡهُ۠ وَرَآءَؔكُمۡ ظِهۡرِيًّا﴾ ’’اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا کی نہ اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب تمھارے عملوں کو گھیرنے والا ہے‘‘ یعنی تمھارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں ، پس وہ تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[93]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کر کے ان کو بے بس کر دیا تو شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ١ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’میں بھی کام کرتا ہوں ، عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے‘‘ یعنی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ ﴿ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ﴾ ’’اور جھوٹا کون ہے۔‘‘ یعنی یہ بھی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا؟ ﴿ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی تم اس بات کا انتظار کرو کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور میں انتظار کرتا ہوں کہ تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔
[94]﴿وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا ﴿نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے‘‘ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی ۔
[95]﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انھوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا۔ ﴿اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ﴾ ’’سنو، پھٹکار ہے مدین کے لیے‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا ﴿ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر‘‘ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیبu کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں :(۱)کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں کیونکہ جناب شعیبu نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے پورے کرنے کی دعوت دی تھی اور مجموعی طور پر توحید اور ناپ تول کو پورا کرنے کے حکم کی عدم تعمیل پر وعید کو مترتب کیا۔(۲)ناپ تول میں کمی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کے بارے میں ڈر ہے کہ کہیں وہ عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کا مال چوری کرنے کے مترادف ہے۔ جب ناپ تول کے ذریعے سے چوری کرنا عذاب کی وعید کا موجب ہے تو جبر اور تغلب کے ذریعے سے لوگوں کے مال چوری کرنا بدرجہ اولیٰ وعید کا موجب ہے۔(۳) عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ جو کوئی لوگوں کے مال کو کم کر کے خود اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو اس کے مال میں کمی کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا۔ ناپ تول میں کمی اس کے رزق کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں ‘‘ اس لیے اپنے کرتوتوں کے ذریعے سے اس رزق کے زوال کا باعث نہ بنو۔(۴) بندے پر واجب ہے کہ وہ اس رزق پر قناعت کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے، چنانچہ وہ حرام کو چھوڑ کر حلال پر اور حرام ذرائع اکتساب کو چھوڑ کر حلال ذرائع پر قناعت کرے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ حلال ذرائع اکتساب میں جو برکت اور اضافۂ رزق ہے، وہ دنیا کی حرص کی خاطر حرام اسباب کسب اختیار کرنے میں نہیں ۔ اس میں سراسر مال کا زوال اور برکت کی ضد ہے۔(۵)یہ لوازم ایمان اور اس کے آثار میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عمل کو وجود ایمان پر مترتب کیا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عمل کا وجود نہ ہو تو ایمان ناقص یا قطعی طور پر معدوم ہے۔(۶)اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے سابقین کی شریعت میں نماز مشروع تھی، نیز یہ کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے۔ حتیٰ کہ کفار کے نزدیک بھی نماز کی افضلیت اور نماز کا تمام اعمال پر مقدم ہونا متحقق ہے۔ نیز ان کے ہاں یہ بات بھی متحقق ہے کہ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے اور نماز ایمان اور شرائع کی میزان ہے، نماز کو مسنون طریقے سے ادا کرنے سے بندۂ مومن کے احوال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز کی عدم ادائیگی سے اس کے دینی احوال میں خلل واقع ہوتا ہے۔(۷)وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کر رکھا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مال کا مالک بنا رکھا ہے تاہم انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے کیونکہ یہ مال اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس پر فرض ہے کہ وہ اس میں سے لوگوں کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم کرے اور ان ذرائع اکتساب کو اختیار کرنے سے باز رہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس کفار اور ان سے مشابہت رکھنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مال کے خود مالک ہیں اور وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں خواہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو یا مخالف۔(۸) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داعی کی دعوت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ خود اس کام پر عمل کرنے میں سبقت کرے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور جس کام سے وہ لوگوں کو روکتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس کام سے رک جائے، جیسا کہ جناب شعیبu نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں جن باتوں سے روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الصف: 61؍2)’’اے مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔‘‘(۹)تمام انبیاء و مرسلین کا وظیفہ اور ان کی سنت و ملت یہ ہے کہ حسب امکان اور مقدور بھر مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور استطاعت کے مطابق مفاسد کو دور یا کم کرتے ہیں اور مصالح خاصہ کی رعایت رکھتے ہیں … اور حقیقی مصلحت وہ ہے جس سے بندوں کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے اور جس سے ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔(۱۰)جو کوئی مقدور بھر اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسے کسی فعل کے نہ کرنے پر قابل ملامت اور قابل مذمت نہیں جس کے کرنے کی وہ قدرت اور استطاعت نہیں رکھتا۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔(۱۱) بندۂ مومن کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی سے توفیق کا طلب گار رہے۔ جب اسے کوئی نیک توفیق حاصل ہو جائے تو اسے توفیق عطا کرنے والی ہستی کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی کا شکار نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾(۱۲)امم سابقہ پر جو تباہی نازل ہوئی اور عذاب کے ذریعے سے ان کو جو پکڑا گیا اس میں بندوں کے لیے ترہیب ہے اور یہ نہایت مناسب بات ہے کہ وعظ و نصیحت کے دوران گزشتہ قوموں کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں مجرموں پر عذاب نازل کیا گیا… اور اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ تقویٰ کی ترغیب کے لیے اہل تقویٰ کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام سے نوازا۔(۱۳) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کے تمام گناہوں سے درگزر کر کے اسے معاف کر دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے ’’توبہ کرنے والا جب توبہ کرتا ہے تو اس کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کو مغفرت اور عفو سے نواز دیا جائے اور رہا اللہ تعالیٰ کی محبت اور مودت کا واپس لوٹنا تو اللہ تعالیٰ کی محبت دوبارہ نہیں آتی‘‘… کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ ﴾’’اپنے رب سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ بے شک میرا رب بہت ہی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے بہت محبت رکھتا ہے۔‘‘(۱۴) اللہ تبارک و تعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعے سے اہل ایمان کی مدافعت کرتا ہے بعض اسباب کا ان کو علم ہوتا ہے اور بعض اسباب کا ان کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کے قبیلے اور اہل وطن کے ذریعے سے ان کی مدافعت کرتا ہے جیسے شعیبu کو ان کے قبیلے کے سبب سے رجم ہونے سے بچایا۔ اس قسم کے روابط کے لیے جن کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور ان کی حفاظت کا حصول مقصود ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ایسی کوشش لازم ہے کیونکہ مقدور بھر اور حسب امکان، اصلاح مطلوب ہے۔لہٰذا اس اصول کو مدنظر رکھ کر کفار کی سلطنت میں رہنے والے مسلمان اگر اسی قسم کی کوشش کریں اور نظام حکومت کو جمہوری اصولوں پر چلانے کے لیے کام کریں جس میں افراد یا جماعتوں کے لیے ممکن ہو کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی حقوق کی حفاظت کر سکیں تو یہ اس صورت حال سے بہتر ہے جس میں مسلمان کافر ریاست کے مطیع ہوں اور ریاست ان کے دینی اور دنیاوی حقوق کے بارے میں من مانے فیصلے کرے، مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے اور کفار کی خدمت کے لیے ان کو معمولی درجے کے کارکن اور خدام بنا ڈالے، البتہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا اقتدار اور ان کی حکومت ممکن ہو تو اس حکومت کا قیام لازم ہے لیکن اگر اقتدار کا یہ مرتبہ حاصل نہ ہو سکے تو اس مرتبے کا حصول جس میں دینی اور دنیاوی مصالح کی حفاظت ہو، مقدم ہے۔ واللہ اعلم۔
11:92قَالَ يَٰقَوۡمِ أَرَهۡطِيٓ أَعَزُّ عَلَيۡكُم مِّنَ ٱللَّهِ وَٱتَّخَذۡتُمُوهُ وَرَآءَكُمۡ ظِهۡرِيًّاۖ إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعۡمَلُونَ مُحِيطٞ
اور (بھیجا ہم نے) طرف (اہل) مدین کی ان کے بھائی شعیب کو، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اور نہ کم کرو تم ماپ اور تول کو، بے شک میں دیکھتا ہوں تمھیں آسودگی میں اور بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیرنے والے دن کے (84) اور اے میری قوم! پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کےاور مت کم دو تم لوگوں کو چیزیں ان کی اور نہ پھرو تم زمین میں فسادی بن کر (85) بچت اللہ کی (جائز نفع) بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(86)انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز حکم دیتی ہے تجھے یہ کہ ہم چھوڑ دیں ان (معبودوں ) کو جن کی عبادت کرتے تھے باپ دادا ہمارے؟ یا (چھوڑ دیں ہم) کرنا اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں ، بلاشبہ تو البتہ بہت بردبار، بڑا سمجھدار ہے (87) شعیب نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ! ( میں کیسے نافرمان بنوں ؟)اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے،اور دیا ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رزق اچھا اور نہیں چاہتا میں کہ مخالفت کروں تمھاری طرف ان کاموں کے کہ روکتا ہوں میں تمھیں ان سے، نہیں چاہتا میں مگر اصلاح( تمھاری)، جس قدر استطاعت رکھتا ہوں میں اور نہیں توفیق مجھے مگر ساتھ اللہ(کی مدد) کے، اسی پر توکل کیامیں نے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (88) اور اے میری قوم! نہ باعث بنے تمھارے لیے میری مخالفت (اس بات کی) کہ پہنچے تمھیں مانند اس عذاب کے جو پہنچاقوم نوح کو اور قوم ہود کو اور قوم صالح کو اور نہیں قوم لوط تم سے کچھ دور (89) اور تم مغفرت طلب کرو اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف، بلاشبہ میرا رب بڑا رحم والا نہایت محبت کرنے والا ہے (90)انھوں نے کہا، اے شعیب! نہیں سمجھتے ہم بہت کچھ اس میں سے جو تو کہتا ہےاور بے شک ہم البتہ دیکھتے ہیں تجھے درمیان اپنے ضعیف اور اگر نہ ہوتا قبیلہ تیرا تو یقینا سنگسار کر دیتے ہم تجھےاور نہیں ہے تو ہم پر کچھ غالب (91) شعیب نے کہا، اے میری قوم! کیا میر ا قبیلہ زیادہ دباؤ والا ہے تم پر اللہ سے؟ اور کر دیا تم نے اللہ کو پیچھے ڈالا ہوا اپنی پیٹھوں کے ، بے شک میرا رب ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو گھیرنے والا ہے (92) اور اے میری قوم! تم عمل کرو اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ میں بھی عمل کر رہا ہوں عنقریب تم جان لوگے کہ کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر (ایسا) عذاب جو رسوا کرے گا اسے؟ اور کون ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں (93) اور جب آیاحکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاورآپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (94) گویا کہ وہ نہ رہے تھے ان میں ، آگاہ رہو! دوری ہے (اہل) مدین کے لیے جیسے (رحمت سے) دور ہوئے تھے ثمود (95)
[84]﴿ وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اور مدین کی طرف بھیجا‘‘ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمۡ ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيۡبًا﴾ ’’شعیب (u) کو۔‘‘ گویا وہ جناب شعیبu کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیبu نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنۡقُصُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو‘‘ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾ ’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں ، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے‘‘ یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
[85]﴿وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد مت مچاؤ‘‘ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
[86]﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمھارے لیے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستغنی ہو اور وہ تمھارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم مومن ہو‘‘ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’اور میں تم پر نگران نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمھارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میں تو تمھیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔
[87]﴿قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے‘‘ یہ بات انھوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لیے منع کرتا ہے کہ تو نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں ، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آبا ءو اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں ؟اسی طرح تمھارا ہمیں یہ کہنا ﴿ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِيۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا﴾ ’’یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں ‘‘ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں ، انھیں ادا کریں ۔ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمھیں کوئی حق نہیں ۔ بنابریں انھوں نے ازراہ تمسخر کہا:﴿ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ﴾ ’’تو تو بڑا بردبار اور راست باز ہے۔‘‘ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حلم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد و ہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا ،تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا… یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد درحقیقت یہ تھا کہ شعیبu اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں … اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباء و اجداد احمق اور گمراہ؟ اور یہ قول جس کی انھوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کر کے معاملے کو شعیبu کے قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے… ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں ۔ بے شک شعیبu کی نماز انھیں حکم دیتی ہے کہ وہ انھیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباء و اجداد کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے… کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کون سا کام برا اور فحش ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کر کے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیبu کا وصف تو حلم و رشد ہے۔
[88]﴿قَالَ﴾ جناب شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتلاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو ﴿ وَرَزَقَنِيۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا ﴾ ’’اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾’’اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمھیں روکتا ہوں ‘‘ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں تو ناپ تول سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اور اس بارے میں تہمت اٹھاتا رہوں بلکہ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ میں جس کام سے تمھیں روکتا ہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں ۔﴿ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ﴾ ’’میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہو سکے‘‘ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ تمھارے احوال کی اصلاح ہو اور تمھارے منافع درست ہوں اور اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا میرا مقصد نہیں ۔ حسب استطاعت میں کام کرتا ہوں اور چونکہ اس میں ایک قسم کے تزکیہ نفس کا دعویٰ ہے اس لیے اس قول کے ذریعے سے اس کو دور کیا ﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ﴾ ’’اور سب صرف اللہ کی توفیق سے ہے‘‘ یعنی بھلائی کے کام کرنے اور شر سے بچنے کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ اس میں میری قوت و اختیار کا کوئی دخل نہیں ۔ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر توکل کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کے کافی ہونے پر مجھے اعتماد ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾’’اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے مختلف اقسام کی عبادات کا جو مجھے حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لیے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور ان دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن کے احوال درست ہوتے ہیں :۱۔ اپنے رب سے مدد طلب کرنا۔ ۲۔ اور اس کی طرف رجوع کرنا… جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾(ھود: 11؍123) ’’اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اسی پر بھروسا کر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحہ: 1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔‘‘
[89]﴿وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيۡۤ﴾ ’’اے میری قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے۔‘‘ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمھیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ ﴿ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ ﴾ کہ تم پر عذاب نازل ہو جائے۔ ﴿ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ١ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّؔنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ ﴾ ’’جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے‘‘ یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں ۔
[90]﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ﴾ ’’اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ﴾ ’’بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے (اَلْوَدُود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔ (ودود)(فعول) کے وزن پر ’’فاعل‘‘ اور ’’مفعول‘‘ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
[91]﴿ قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّؔا تَقُوۡلُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔‘‘ یعنی وہ شعیبu کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ’’ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے‘‘ یہ بات محض اس لیے کہتے تھے کیونکہ انھیں شعیبu کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ ﴿ وَاِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا﴾’’اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ ﴾ ’’اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا‘‘ ﴿ لَرَجَمۡنٰكَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں ‘‘ یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں ۔ ہم تجھے چھوڑ کر دراصل تیرے قبیلے کا احترام کررہے ہیں ۔
[92]﴿قَالَ﴾ حضرت شعیبu نے ان کو نرم کرنے کے لیے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِيۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمھارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے‘‘ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ ﴿ وَاتَّخَذۡتُمُوۡهُ۠ وَرَآءَؔكُمۡ ظِهۡرِيًّا﴾ ’’اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا کی نہ اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب تمھارے عملوں کو گھیرنے والا ہے‘‘ یعنی تمھارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں ، پس وہ تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[93]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کر کے ان کو بے بس کر دیا تو شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ١ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’میں بھی کام کرتا ہوں ، عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے‘‘ یعنی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ ﴿ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ﴾ ’’اور جھوٹا کون ہے۔‘‘ یعنی یہ بھی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا؟ ﴿ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی تم اس بات کا انتظار کرو کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور میں انتظار کرتا ہوں کہ تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔
[94]﴿وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا ﴿نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے‘‘ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی ۔
[95]﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انھوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا۔ ﴿اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ﴾ ’’سنو، پھٹکار ہے مدین کے لیے‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا ﴿ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر‘‘ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیبu کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں :(۱)کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں کیونکہ جناب شعیبu نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے پورے کرنے کی دعوت دی تھی اور مجموعی طور پر توحید اور ناپ تول کو پورا کرنے کے حکم کی عدم تعمیل پر وعید کو مترتب کیا۔(۲)ناپ تول میں کمی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کے بارے میں ڈر ہے کہ کہیں وہ عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کا مال چوری کرنے کے مترادف ہے۔ جب ناپ تول کے ذریعے سے چوری کرنا عذاب کی وعید کا موجب ہے تو جبر اور تغلب کے ذریعے سے لوگوں کے مال چوری کرنا بدرجہ اولیٰ وعید کا موجب ہے۔(۳) عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ جو کوئی لوگوں کے مال کو کم کر کے خود اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو اس کے مال میں کمی کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا۔ ناپ تول میں کمی اس کے رزق کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں ‘‘ اس لیے اپنے کرتوتوں کے ذریعے سے اس رزق کے زوال کا باعث نہ بنو۔(۴) بندے پر واجب ہے کہ وہ اس رزق پر قناعت کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے، چنانچہ وہ حرام کو چھوڑ کر حلال پر اور حرام ذرائع اکتساب کو چھوڑ کر حلال ذرائع پر قناعت کرے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ حلال ذرائع اکتساب میں جو برکت اور اضافۂ رزق ہے، وہ دنیا کی حرص کی خاطر حرام اسباب کسب اختیار کرنے میں نہیں ۔ اس میں سراسر مال کا زوال اور برکت کی ضد ہے۔(۵)یہ لوازم ایمان اور اس کے آثار میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عمل کو وجود ایمان پر مترتب کیا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عمل کا وجود نہ ہو تو ایمان ناقص یا قطعی طور پر معدوم ہے۔(۶)اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے سابقین کی شریعت میں نماز مشروع تھی، نیز یہ کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے۔ حتیٰ کہ کفار کے نزدیک بھی نماز کی افضلیت اور نماز کا تمام اعمال پر مقدم ہونا متحقق ہے۔ نیز ان کے ہاں یہ بات بھی متحقق ہے کہ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے اور نماز ایمان اور شرائع کی میزان ہے، نماز کو مسنون طریقے سے ادا کرنے سے بندۂ مومن کے احوال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز کی عدم ادائیگی سے اس کے دینی احوال میں خلل واقع ہوتا ہے۔(۷)وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کر رکھا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مال کا مالک بنا رکھا ہے تاہم انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے کیونکہ یہ مال اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس پر فرض ہے کہ وہ اس میں سے لوگوں کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم کرے اور ان ذرائع اکتساب کو اختیار کرنے سے باز رہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس کفار اور ان سے مشابہت رکھنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مال کے خود مالک ہیں اور وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں خواہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو یا مخالف۔(۸) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داعی کی دعوت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ خود اس کام پر عمل کرنے میں سبقت کرے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور جس کام سے وہ لوگوں کو روکتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس کام سے رک جائے، جیسا کہ جناب شعیبu نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں جن باتوں سے روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الصف: 61؍2)’’اے مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔‘‘(۹)تمام انبیاء و مرسلین کا وظیفہ اور ان کی سنت و ملت یہ ہے کہ حسب امکان اور مقدور بھر مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور استطاعت کے مطابق مفاسد کو دور یا کم کرتے ہیں اور مصالح خاصہ کی رعایت رکھتے ہیں … اور حقیقی مصلحت وہ ہے جس سے بندوں کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے اور جس سے ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔(۱۰)جو کوئی مقدور بھر اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسے کسی فعل کے نہ کرنے پر قابل ملامت اور قابل مذمت نہیں جس کے کرنے کی وہ قدرت اور استطاعت نہیں رکھتا۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔(۱۱) بندۂ مومن کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی سے توفیق کا طلب گار رہے۔ جب اسے کوئی نیک توفیق حاصل ہو جائے تو اسے توفیق عطا کرنے والی ہستی کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی کا شکار نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾(۱۲)امم سابقہ پر جو تباہی نازل ہوئی اور عذاب کے ذریعے سے ان کو جو پکڑا گیا اس میں بندوں کے لیے ترہیب ہے اور یہ نہایت مناسب بات ہے کہ وعظ و نصیحت کے دوران گزشتہ قوموں کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں مجرموں پر عذاب نازل کیا گیا… اور اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ تقویٰ کی ترغیب کے لیے اہل تقویٰ کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام سے نوازا۔(۱۳) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کے تمام گناہوں سے درگزر کر کے اسے معاف کر دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے ’’توبہ کرنے والا جب توبہ کرتا ہے تو اس کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کو مغفرت اور عفو سے نواز دیا جائے اور رہا اللہ تعالیٰ کی محبت اور مودت کا واپس لوٹنا تو اللہ تعالیٰ کی محبت دوبارہ نہیں آتی‘‘… کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ ﴾’’اپنے رب سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ بے شک میرا رب بہت ہی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے بہت محبت رکھتا ہے۔‘‘(۱۴) اللہ تبارک و تعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعے سے اہل ایمان کی مدافعت کرتا ہے بعض اسباب کا ان کو علم ہوتا ہے اور بعض اسباب کا ان کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کے قبیلے اور اہل وطن کے ذریعے سے ان کی مدافعت کرتا ہے جیسے شعیبu کو ان کے قبیلے کے سبب سے رجم ہونے سے بچایا۔ اس قسم کے روابط کے لیے جن کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور ان کی حفاظت کا حصول مقصود ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ایسی کوشش لازم ہے کیونکہ مقدور بھر اور حسب امکان، اصلاح مطلوب ہے۔لہٰذا اس اصول کو مدنظر رکھ کر کفار کی سلطنت میں رہنے والے مسلمان اگر اسی قسم کی کوشش کریں اور نظام حکومت کو جمہوری اصولوں پر چلانے کے لیے کام کریں جس میں افراد یا جماعتوں کے لیے ممکن ہو کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی حقوق کی حفاظت کر سکیں تو یہ اس صورت حال سے بہتر ہے جس میں مسلمان کافر ریاست کے مطیع ہوں اور ریاست ان کے دینی اور دنیاوی حقوق کے بارے میں من مانے فیصلے کرے، مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے اور کفار کی خدمت کے لیے ان کو معمولی درجے کے کارکن اور خدام بنا ڈالے، البتہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا اقتدار اور ان کی حکومت ممکن ہو تو اس حکومت کا قیام لازم ہے لیکن اگر اقتدار کا یہ مرتبہ حاصل نہ ہو سکے تو اس مرتبے کا حصول جس میں دینی اور دنیاوی مصالح کی حفاظت ہو، مقدم ہے۔ واللہ اعلم۔
11:93وَيَٰقَوۡمِ ٱعۡمَلُواْ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمۡ إِنِّي عَٰمِلٞۖ سَوۡفَ تَعۡلَمُونَ مَن يَأۡتِيهِ عَذَابٞ يُخۡزِيهِ وَمَنۡ هُوَ كَٰذِبٞۖ وَٱرۡتَقِبُوٓاْ إِنِّي مَعَكُمۡ رَقِيبٞ
اور (بھیجا ہم نے) طرف (اہل) مدین کی ان کے بھائی شعیب کو، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اور نہ کم کرو تم ماپ اور تول کو، بے شک میں دیکھتا ہوں تمھیں آسودگی میں اور بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیرنے والے دن کے (84) اور اے میری قوم! پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کےاور مت کم دو تم لوگوں کو چیزیں ان کی اور نہ پھرو تم زمین میں فسادی بن کر (85) بچت اللہ کی (جائز نفع) بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(86)انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز حکم دیتی ہے تجھے یہ کہ ہم چھوڑ دیں ان (معبودوں ) کو جن کی عبادت کرتے تھے باپ دادا ہمارے؟ یا (چھوڑ دیں ہم) کرنا اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں ، بلاشبہ تو البتہ بہت بردبار، بڑا سمجھدار ہے (87) شعیب نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ! ( میں کیسے نافرمان بنوں ؟)اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے،اور دیا ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رزق اچھا اور نہیں چاہتا میں کہ مخالفت کروں تمھاری طرف ان کاموں کے کہ روکتا ہوں میں تمھیں ان سے، نہیں چاہتا میں مگر اصلاح( تمھاری)، جس قدر استطاعت رکھتا ہوں میں اور نہیں توفیق مجھے مگر ساتھ اللہ(کی مدد) کے، اسی پر توکل کیامیں نے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (88) اور اے میری قوم! نہ باعث بنے تمھارے لیے میری مخالفت (اس بات کی) کہ پہنچے تمھیں مانند اس عذاب کے جو پہنچاقوم نوح کو اور قوم ہود کو اور قوم صالح کو اور نہیں قوم لوط تم سے کچھ دور (89) اور تم مغفرت طلب کرو اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف، بلاشبہ میرا رب بڑا رحم والا نہایت محبت کرنے والا ہے (90)انھوں نے کہا، اے شعیب! نہیں سمجھتے ہم بہت کچھ اس میں سے جو تو کہتا ہےاور بے شک ہم البتہ دیکھتے ہیں تجھے درمیان اپنے ضعیف اور اگر نہ ہوتا قبیلہ تیرا تو یقینا سنگسار کر دیتے ہم تجھےاور نہیں ہے تو ہم پر کچھ غالب (91) شعیب نے کہا، اے میری قوم! کیا میر ا قبیلہ زیادہ دباؤ والا ہے تم پر اللہ سے؟ اور کر دیا تم نے اللہ کو پیچھے ڈالا ہوا اپنی پیٹھوں کے ، بے شک میرا رب ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو گھیرنے والا ہے (92) اور اے میری قوم! تم عمل کرو اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ میں بھی عمل کر رہا ہوں عنقریب تم جان لوگے کہ کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر (ایسا) عذاب جو رسوا کرے گا اسے؟ اور کون ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں (93) اور جب آیاحکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاورآپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (94) گویا کہ وہ نہ رہے تھے ان میں ، آگاہ رہو! دوری ہے (اہل) مدین کے لیے جیسے (رحمت سے) دور ہوئے تھے ثمود (95)
[84]﴿ وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اور مدین کی طرف بھیجا‘‘ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمۡ ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيۡبًا﴾ ’’شعیب (u) کو۔‘‘ گویا وہ جناب شعیبu کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیبu نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنۡقُصُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو‘‘ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾ ’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں ، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے‘‘ یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
[85]﴿وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد مت مچاؤ‘‘ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
[86]﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمھارے لیے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستغنی ہو اور وہ تمھارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم مومن ہو‘‘ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’اور میں تم پر نگران نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمھارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میں تو تمھیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔
[87]﴿قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے‘‘ یہ بات انھوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لیے منع کرتا ہے کہ تو نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں ، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آبا ءو اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں ؟اسی طرح تمھارا ہمیں یہ کہنا ﴿ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِيۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا﴾ ’’یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں ‘‘ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں ، انھیں ادا کریں ۔ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمھیں کوئی حق نہیں ۔ بنابریں انھوں نے ازراہ تمسخر کہا:﴿ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ﴾ ’’تو تو بڑا بردبار اور راست باز ہے۔‘‘ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حلم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد و ہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا ،تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا… یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد درحقیقت یہ تھا کہ شعیبu اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں … اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباء و اجداد احمق اور گمراہ؟ اور یہ قول جس کی انھوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کر کے معاملے کو شعیبu کے قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے… ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں ۔ بے شک شعیبu کی نماز انھیں حکم دیتی ہے کہ وہ انھیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباء و اجداد کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے… کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کون سا کام برا اور فحش ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کر کے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیبu کا وصف تو حلم و رشد ہے۔
[88]﴿قَالَ﴾ جناب شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتلاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو ﴿ وَرَزَقَنِيۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا ﴾ ’’اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾’’اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمھیں روکتا ہوں ‘‘ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں تو ناپ تول سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اور اس بارے میں تہمت اٹھاتا رہوں بلکہ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ میں جس کام سے تمھیں روکتا ہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں ۔﴿ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ﴾ ’’میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہو سکے‘‘ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ تمھارے احوال کی اصلاح ہو اور تمھارے منافع درست ہوں اور اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا میرا مقصد نہیں ۔ حسب استطاعت میں کام کرتا ہوں اور چونکہ اس میں ایک قسم کے تزکیہ نفس کا دعویٰ ہے اس لیے اس قول کے ذریعے سے اس کو دور کیا ﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ﴾ ’’اور سب صرف اللہ کی توفیق سے ہے‘‘ یعنی بھلائی کے کام کرنے اور شر سے بچنے کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ اس میں میری قوت و اختیار کا کوئی دخل نہیں ۔ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر توکل کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کے کافی ہونے پر مجھے اعتماد ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾’’اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے مختلف اقسام کی عبادات کا جو مجھے حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لیے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور ان دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن کے احوال درست ہوتے ہیں :۱۔ اپنے رب سے مدد طلب کرنا۔ ۲۔ اور اس کی طرف رجوع کرنا… جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾(ھود: 11؍123) ’’اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اسی پر بھروسا کر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحہ: 1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔‘‘
[89]﴿وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيۡۤ﴾ ’’اے میری قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے۔‘‘ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمھیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ ﴿ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ ﴾ کہ تم پر عذاب نازل ہو جائے۔ ﴿ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ١ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّؔنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ ﴾ ’’جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے‘‘ یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں ۔
[90]﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ﴾ ’’اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ﴾ ’’بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے (اَلْوَدُود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔ (ودود)(فعول) کے وزن پر ’’فاعل‘‘ اور ’’مفعول‘‘ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
[91]﴿ قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّؔا تَقُوۡلُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔‘‘ یعنی وہ شعیبu کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ’’ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے‘‘ یہ بات محض اس لیے کہتے تھے کیونکہ انھیں شعیبu کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ ﴿ وَاِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا﴾’’اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ ﴾ ’’اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا‘‘ ﴿ لَرَجَمۡنٰكَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں ‘‘ یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں ۔ ہم تجھے چھوڑ کر دراصل تیرے قبیلے کا احترام کررہے ہیں ۔
[92]﴿قَالَ﴾ حضرت شعیبu نے ان کو نرم کرنے کے لیے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِيۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمھارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے‘‘ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ ﴿ وَاتَّخَذۡتُمُوۡهُ۠ وَرَآءَؔكُمۡ ظِهۡرِيًّا﴾ ’’اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا کی نہ اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب تمھارے عملوں کو گھیرنے والا ہے‘‘ یعنی تمھارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں ، پس وہ تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[93]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کر کے ان کو بے بس کر دیا تو شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ١ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’میں بھی کام کرتا ہوں ، عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے‘‘ یعنی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ ﴿ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ﴾ ’’اور جھوٹا کون ہے۔‘‘ یعنی یہ بھی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا؟ ﴿ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی تم اس بات کا انتظار کرو کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور میں انتظار کرتا ہوں کہ تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔
[94]﴿وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا ﴿نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے‘‘ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی ۔
[95]﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انھوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا۔ ﴿اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ﴾ ’’سنو، پھٹکار ہے مدین کے لیے‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا ﴿ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر‘‘ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیبu کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں :(۱)کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں کیونکہ جناب شعیبu نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے پورے کرنے کی دعوت دی تھی اور مجموعی طور پر توحید اور ناپ تول کو پورا کرنے کے حکم کی عدم تعمیل پر وعید کو مترتب کیا۔(۲)ناپ تول میں کمی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کے بارے میں ڈر ہے کہ کہیں وہ عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کا مال چوری کرنے کے مترادف ہے۔ جب ناپ تول کے ذریعے سے چوری کرنا عذاب کی وعید کا موجب ہے تو جبر اور تغلب کے ذریعے سے لوگوں کے مال چوری کرنا بدرجہ اولیٰ وعید کا موجب ہے۔(۳) عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ جو کوئی لوگوں کے مال کو کم کر کے خود اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو اس کے مال میں کمی کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا۔ ناپ تول میں کمی اس کے رزق کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں ‘‘ اس لیے اپنے کرتوتوں کے ذریعے سے اس رزق کے زوال کا باعث نہ بنو۔(۴) بندے پر واجب ہے کہ وہ اس رزق پر قناعت کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے، چنانچہ وہ حرام کو چھوڑ کر حلال پر اور حرام ذرائع اکتساب کو چھوڑ کر حلال ذرائع پر قناعت کرے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ حلال ذرائع اکتساب میں جو برکت اور اضافۂ رزق ہے، وہ دنیا کی حرص کی خاطر حرام اسباب کسب اختیار کرنے میں نہیں ۔ اس میں سراسر مال کا زوال اور برکت کی ضد ہے۔(۵)یہ لوازم ایمان اور اس کے آثار میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عمل کو وجود ایمان پر مترتب کیا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عمل کا وجود نہ ہو تو ایمان ناقص یا قطعی طور پر معدوم ہے۔(۶)اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے سابقین کی شریعت میں نماز مشروع تھی، نیز یہ کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے۔ حتیٰ کہ کفار کے نزدیک بھی نماز کی افضلیت اور نماز کا تمام اعمال پر مقدم ہونا متحقق ہے۔ نیز ان کے ہاں یہ بات بھی متحقق ہے کہ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے اور نماز ایمان اور شرائع کی میزان ہے، نماز کو مسنون طریقے سے ادا کرنے سے بندۂ مومن کے احوال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز کی عدم ادائیگی سے اس کے دینی احوال میں خلل واقع ہوتا ہے۔(۷)وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کر رکھا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مال کا مالک بنا رکھا ہے تاہم انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے کیونکہ یہ مال اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس پر فرض ہے کہ وہ اس میں سے لوگوں کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم کرے اور ان ذرائع اکتساب کو اختیار کرنے سے باز رہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس کفار اور ان سے مشابہت رکھنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مال کے خود مالک ہیں اور وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں خواہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو یا مخالف۔(۸) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داعی کی دعوت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ خود اس کام پر عمل کرنے میں سبقت کرے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور جس کام سے وہ لوگوں کو روکتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس کام سے رک جائے، جیسا کہ جناب شعیبu نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں جن باتوں سے روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الصف: 61؍2)’’اے مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔‘‘(۹)تمام انبیاء و مرسلین کا وظیفہ اور ان کی سنت و ملت یہ ہے کہ حسب امکان اور مقدور بھر مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور استطاعت کے مطابق مفاسد کو دور یا کم کرتے ہیں اور مصالح خاصہ کی رعایت رکھتے ہیں … اور حقیقی مصلحت وہ ہے جس سے بندوں کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے اور جس سے ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔(۱۰)جو کوئی مقدور بھر اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسے کسی فعل کے نہ کرنے پر قابل ملامت اور قابل مذمت نہیں جس کے کرنے کی وہ قدرت اور استطاعت نہیں رکھتا۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔(۱۱) بندۂ مومن کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی سے توفیق کا طلب گار رہے۔ جب اسے کوئی نیک توفیق حاصل ہو جائے تو اسے توفیق عطا کرنے والی ہستی کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی کا شکار نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾(۱۲)امم سابقہ پر جو تباہی نازل ہوئی اور عذاب کے ذریعے سے ان کو جو پکڑا گیا اس میں بندوں کے لیے ترہیب ہے اور یہ نہایت مناسب بات ہے کہ وعظ و نصیحت کے دوران گزشتہ قوموں کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں مجرموں پر عذاب نازل کیا گیا… اور اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ تقویٰ کی ترغیب کے لیے اہل تقویٰ کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام سے نوازا۔(۱۳) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کے تمام گناہوں سے درگزر کر کے اسے معاف کر دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے ’’توبہ کرنے والا جب توبہ کرتا ہے تو اس کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کو مغفرت اور عفو سے نواز دیا جائے اور رہا اللہ تعالیٰ کی محبت اور مودت کا واپس لوٹنا تو اللہ تعالیٰ کی محبت دوبارہ نہیں آتی‘‘… کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ ﴾’’اپنے رب سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ بے شک میرا رب بہت ہی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے بہت محبت رکھتا ہے۔‘‘(۱۴) اللہ تبارک و تعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعے سے اہل ایمان کی مدافعت کرتا ہے بعض اسباب کا ان کو علم ہوتا ہے اور بعض اسباب کا ان کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کے قبیلے اور اہل وطن کے ذریعے سے ان کی مدافعت کرتا ہے جیسے شعیبu کو ان کے قبیلے کے سبب سے رجم ہونے سے بچایا۔ اس قسم کے روابط کے لیے جن کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور ان کی حفاظت کا حصول مقصود ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ایسی کوشش لازم ہے کیونکہ مقدور بھر اور حسب امکان، اصلاح مطلوب ہے۔لہٰذا اس اصول کو مدنظر رکھ کر کفار کی سلطنت میں رہنے والے مسلمان اگر اسی قسم کی کوشش کریں اور نظام حکومت کو جمہوری اصولوں پر چلانے کے لیے کام کریں جس میں افراد یا جماعتوں کے لیے ممکن ہو کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی حقوق کی حفاظت کر سکیں تو یہ اس صورت حال سے بہتر ہے جس میں مسلمان کافر ریاست کے مطیع ہوں اور ریاست ان کے دینی اور دنیاوی حقوق کے بارے میں من مانے فیصلے کرے، مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے اور کفار کی خدمت کے لیے ان کو معمولی درجے کے کارکن اور خدام بنا ڈالے، البتہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا اقتدار اور ان کی حکومت ممکن ہو تو اس حکومت کا قیام لازم ہے لیکن اگر اقتدار کا یہ مرتبہ حاصل نہ ہو سکے تو اس مرتبے کا حصول جس میں دینی اور دنیاوی مصالح کی حفاظت ہو، مقدم ہے۔ واللہ اعلم۔
11:94وَلَمَّا جَآءَ أَمۡرُنَا نَجَّيۡنَا شُعَيۡبٗا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ بِرَحۡمَةٖ مِّنَّا وَأَخَذَتِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ ٱلصَّيۡحَةُ فَأَصۡبَحُواْ فِي دِيَٰرِهِمۡ جَٰثِمِينَ
اور (بھیجا ہم نے) طرف (اہل) مدین کی ان کے بھائی شعیب کو، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اور نہ کم کرو تم ماپ اور تول کو، بے شک میں دیکھتا ہوں تمھیں آسودگی میں اور بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیرنے والے دن کے (84) اور اے میری قوم! پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کےاور مت کم دو تم لوگوں کو چیزیں ان کی اور نہ پھرو تم زمین میں فسادی بن کر (85) بچت اللہ کی (جائز نفع) بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(86)انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز حکم دیتی ہے تجھے یہ کہ ہم چھوڑ دیں ان (معبودوں ) کو جن کی عبادت کرتے تھے باپ دادا ہمارے؟ یا (چھوڑ دیں ہم) کرنا اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں ، بلاشبہ تو البتہ بہت بردبار، بڑا سمجھدار ہے (87) شعیب نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ! ( میں کیسے نافرمان بنوں ؟)اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے،اور دیا ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رزق اچھا اور نہیں چاہتا میں کہ مخالفت کروں تمھاری طرف ان کاموں کے کہ روکتا ہوں میں تمھیں ان سے، نہیں چاہتا میں مگر اصلاح( تمھاری)، جس قدر استطاعت رکھتا ہوں میں اور نہیں توفیق مجھے مگر ساتھ اللہ(کی مدد) کے، اسی پر توکل کیامیں نے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (88) اور اے میری قوم! نہ باعث بنے تمھارے لیے میری مخالفت (اس بات کی) کہ پہنچے تمھیں مانند اس عذاب کے جو پہنچاقوم نوح کو اور قوم ہود کو اور قوم صالح کو اور نہیں قوم لوط تم سے کچھ دور (89) اور تم مغفرت طلب کرو اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف، بلاشبہ میرا رب بڑا رحم والا نہایت محبت کرنے والا ہے (90)انھوں نے کہا، اے شعیب! نہیں سمجھتے ہم بہت کچھ اس میں سے جو تو کہتا ہےاور بے شک ہم البتہ دیکھتے ہیں تجھے درمیان اپنے ضعیف اور اگر نہ ہوتا قبیلہ تیرا تو یقینا سنگسار کر دیتے ہم تجھےاور نہیں ہے تو ہم پر کچھ غالب (91) شعیب نے کہا، اے میری قوم! کیا میر ا قبیلہ زیادہ دباؤ والا ہے تم پر اللہ سے؟ اور کر دیا تم نے اللہ کو پیچھے ڈالا ہوا اپنی پیٹھوں کے ، بے شک میرا رب ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو گھیرنے والا ہے (92) اور اے میری قوم! تم عمل کرو اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ میں بھی عمل کر رہا ہوں عنقریب تم جان لوگے کہ کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر (ایسا) عذاب جو رسوا کرے گا اسے؟ اور کون ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں (93) اور جب آیاحکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاورآپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (94) گویا کہ وہ نہ رہے تھے ان میں ، آگاہ رہو! دوری ہے (اہل) مدین کے لیے جیسے (رحمت سے) دور ہوئے تھے ثمود (95)
[84]﴿ وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اور مدین کی طرف بھیجا‘‘ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمۡ ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيۡبًا﴾ ’’شعیب (u) کو۔‘‘ گویا وہ جناب شعیبu کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیبu نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنۡقُصُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو‘‘ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾ ’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں ، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے‘‘ یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
[85]﴿وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد مت مچاؤ‘‘ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
[86]﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمھارے لیے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستغنی ہو اور وہ تمھارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم مومن ہو‘‘ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’اور میں تم پر نگران نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمھارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میں تو تمھیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔
[87]﴿قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے‘‘ یہ بات انھوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لیے منع کرتا ہے کہ تو نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں ، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آبا ءو اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں ؟اسی طرح تمھارا ہمیں یہ کہنا ﴿ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِيۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا﴾ ’’یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں ‘‘ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں ، انھیں ادا کریں ۔ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمھیں کوئی حق نہیں ۔ بنابریں انھوں نے ازراہ تمسخر کہا:﴿ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ﴾ ’’تو تو بڑا بردبار اور راست باز ہے۔‘‘ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حلم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد و ہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا ،تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا… یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد درحقیقت یہ تھا کہ شعیبu اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں … اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباء و اجداد احمق اور گمراہ؟ اور یہ قول جس کی انھوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کر کے معاملے کو شعیبu کے قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے… ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں ۔ بے شک شعیبu کی نماز انھیں حکم دیتی ہے کہ وہ انھیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباء و اجداد کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے… کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کون سا کام برا اور فحش ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کر کے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیبu کا وصف تو حلم و رشد ہے۔
[88]﴿قَالَ﴾ جناب شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتلاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو ﴿ وَرَزَقَنِيۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا ﴾ ’’اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾’’اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمھیں روکتا ہوں ‘‘ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں تو ناپ تول سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اور اس بارے میں تہمت اٹھاتا رہوں بلکہ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ میں جس کام سے تمھیں روکتا ہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں ۔﴿ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ﴾ ’’میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہو سکے‘‘ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ تمھارے احوال کی اصلاح ہو اور تمھارے منافع درست ہوں اور اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا میرا مقصد نہیں ۔ حسب استطاعت میں کام کرتا ہوں اور چونکہ اس میں ایک قسم کے تزکیہ نفس کا دعویٰ ہے اس لیے اس قول کے ذریعے سے اس کو دور کیا ﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ﴾ ’’اور سب صرف اللہ کی توفیق سے ہے‘‘ یعنی بھلائی کے کام کرنے اور شر سے بچنے کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ اس میں میری قوت و اختیار کا کوئی دخل نہیں ۔ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر توکل کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کے کافی ہونے پر مجھے اعتماد ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾’’اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے مختلف اقسام کی عبادات کا جو مجھے حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لیے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور ان دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن کے احوال درست ہوتے ہیں :۱۔ اپنے رب سے مدد طلب کرنا۔ ۲۔ اور اس کی طرف رجوع کرنا… جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾(ھود: 11؍123) ’’اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اسی پر بھروسا کر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحہ: 1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔‘‘
[89]﴿وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيۡۤ﴾ ’’اے میری قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے۔‘‘ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمھیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ ﴿ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ ﴾ کہ تم پر عذاب نازل ہو جائے۔ ﴿ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ١ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّؔنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ ﴾ ’’جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے‘‘ یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں ۔
[90]﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ﴾ ’’اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ﴾ ’’بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے (اَلْوَدُود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔ (ودود)(فعول) کے وزن پر ’’فاعل‘‘ اور ’’مفعول‘‘ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
[91]﴿ قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّؔا تَقُوۡلُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔‘‘ یعنی وہ شعیبu کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ’’ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے‘‘ یہ بات محض اس لیے کہتے تھے کیونکہ انھیں شعیبu کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ ﴿ وَاِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا﴾’’اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ ﴾ ’’اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا‘‘ ﴿ لَرَجَمۡنٰكَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں ‘‘ یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں ۔ ہم تجھے چھوڑ کر دراصل تیرے قبیلے کا احترام کررہے ہیں ۔
[92]﴿قَالَ﴾ حضرت شعیبu نے ان کو نرم کرنے کے لیے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِيۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمھارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے‘‘ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ ﴿ وَاتَّخَذۡتُمُوۡهُ۠ وَرَآءَؔكُمۡ ظِهۡرِيًّا﴾ ’’اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا کی نہ اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب تمھارے عملوں کو گھیرنے والا ہے‘‘ یعنی تمھارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں ، پس وہ تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[93]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کر کے ان کو بے بس کر دیا تو شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ١ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’میں بھی کام کرتا ہوں ، عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے‘‘ یعنی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ ﴿ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ﴾ ’’اور جھوٹا کون ہے۔‘‘ یعنی یہ بھی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا؟ ﴿ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی تم اس بات کا انتظار کرو کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور میں انتظار کرتا ہوں کہ تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔
[94]﴿وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا ﴿نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے‘‘ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی ۔
[95]﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انھوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا۔ ﴿اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ﴾ ’’سنو، پھٹکار ہے مدین کے لیے‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا ﴿ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر‘‘ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیبu کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں :(۱)کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں کیونکہ جناب شعیبu نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے پورے کرنے کی دعوت دی تھی اور مجموعی طور پر توحید اور ناپ تول کو پورا کرنے کے حکم کی عدم تعمیل پر وعید کو مترتب کیا۔(۲)ناپ تول میں کمی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کے بارے میں ڈر ہے کہ کہیں وہ عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کا مال چوری کرنے کے مترادف ہے۔ جب ناپ تول کے ذریعے سے چوری کرنا عذاب کی وعید کا موجب ہے تو جبر اور تغلب کے ذریعے سے لوگوں کے مال چوری کرنا بدرجہ اولیٰ وعید کا موجب ہے۔(۳) عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ جو کوئی لوگوں کے مال کو کم کر کے خود اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو اس کے مال میں کمی کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا۔ ناپ تول میں کمی اس کے رزق کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں ‘‘ اس لیے اپنے کرتوتوں کے ذریعے سے اس رزق کے زوال کا باعث نہ بنو۔(۴) بندے پر واجب ہے کہ وہ اس رزق پر قناعت کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے، چنانچہ وہ حرام کو چھوڑ کر حلال پر اور حرام ذرائع اکتساب کو چھوڑ کر حلال ذرائع پر قناعت کرے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ حلال ذرائع اکتساب میں جو برکت اور اضافۂ رزق ہے، وہ دنیا کی حرص کی خاطر حرام اسباب کسب اختیار کرنے میں نہیں ۔ اس میں سراسر مال کا زوال اور برکت کی ضد ہے۔(۵)یہ لوازم ایمان اور اس کے آثار میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عمل کو وجود ایمان پر مترتب کیا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عمل کا وجود نہ ہو تو ایمان ناقص یا قطعی طور پر معدوم ہے۔(۶)اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے سابقین کی شریعت میں نماز مشروع تھی، نیز یہ کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے۔ حتیٰ کہ کفار کے نزدیک بھی نماز کی افضلیت اور نماز کا تمام اعمال پر مقدم ہونا متحقق ہے۔ نیز ان کے ہاں یہ بات بھی متحقق ہے کہ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے اور نماز ایمان اور شرائع کی میزان ہے، نماز کو مسنون طریقے سے ادا کرنے سے بندۂ مومن کے احوال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز کی عدم ادائیگی سے اس کے دینی احوال میں خلل واقع ہوتا ہے۔(۷)وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کر رکھا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مال کا مالک بنا رکھا ہے تاہم انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے کیونکہ یہ مال اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس پر فرض ہے کہ وہ اس میں سے لوگوں کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم کرے اور ان ذرائع اکتساب کو اختیار کرنے سے باز رہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس کفار اور ان سے مشابہت رکھنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مال کے خود مالک ہیں اور وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں خواہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو یا مخالف۔(۸) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داعی کی دعوت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ خود اس کام پر عمل کرنے میں سبقت کرے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور جس کام سے وہ لوگوں کو روکتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس کام سے رک جائے، جیسا کہ جناب شعیبu نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں جن باتوں سے روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الصف: 61؍2)’’اے مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔‘‘(۹)تمام انبیاء و مرسلین کا وظیفہ اور ان کی سنت و ملت یہ ہے کہ حسب امکان اور مقدور بھر مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور استطاعت کے مطابق مفاسد کو دور یا کم کرتے ہیں اور مصالح خاصہ کی رعایت رکھتے ہیں … اور حقیقی مصلحت وہ ہے جس سے بندوں کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے اور جس سے ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔(۱۰)جو کوئی مقدور بھر اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسے کسی فعل کے نہ کرنے پر قابل ملامت اور قابل مذمت نہیں جس کے کرنے کی وہ قدرت اور استطاعت نہیں رکھتا۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔(۱۱) بندۂ مومن کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی سے توفیق کا طلب گار رہے۔ جب اسے کوئی نیک توفیق حاصل ہو جائے تو اسے توفیق عطا کرنے والی ہستی کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی کا شکار نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾(۱۲)امم سابقہ پر جو تباہی نازل ہوئی اور عذاب کے ذریعے سے ان کو جو پکڑا گیا اس میں بندوں کے لیے ترہیب ہے اور یہ نہایت مناسب بات ہے کہ وعظ و نصیحت کے دوران گزشتہ قوموں کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں مجرموں پر عذاب نازل کیا گیا… اور اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ تقویٰ کی ترغیب کے لیے اہل تقویٰ کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام سے نوازا۔(۱۳) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کے تمام گناہوں سے درگزر کر کے اسے معاف کر دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے ’’توبہ کرنے والا جب توبہ کرتا ہے تو اس کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کو مغفرت اور عفو سے نواز دیا جائے اور رہا اللہ تعالیٰ کی محبت اور مودت کا واپس لوٹنا تو اللہ تعالیٰ کی محبت دوبارہ نہیں آتی‘‘… کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ ﴾’’اپنے رب سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ بے شک میرا رب بہت ہی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے بہت محبت رکھتا ہے۔‘‘(۱۴) اللہ تبارک و تعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعے سے اہل ایمان کی مدافعت کرتا ہے بعض اسباب کا ان کو علم ہوتا ہے اور بعض اسباب کا ان کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کے قبیلے اور اہل وطن کے ذریعے سے ان کی مدافعت کرتا ہے جیسے شعیبu کو ان کے قبیلے کے سبب سے رجم ہونے سے بچایا۔ اس قسم کے روابط کے لیے جن کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور ان کی حفاظت کا حصول مقصود ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ایسی کوشش لازم ہے کیونکہ مقدور بھر اور حسب امکان، اصلاح مطلوب ہے۔لہٰذا اس اصول کو مدنظر رکھ کر کفار کی سلطنت میں رہنے والے مسلمان اگر اسی قسم کی کوشش کریں اور نظام حکومت کو جمہوری اصولوں پر چلانے کے لیے کام کریں جس میں افراد یا جماعتوں کے لیے ممکن ہو کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی حقوق کی حفاظت کر سکیں تو یہ اس صورت حال سے بہتر ہے جس میں مسلمان کافر ریاست کے مطیع ہوں اور ریاست ان کے دینی اور دنیاوی حقوق کے بارے میں من مانے فیصلے کرے، مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے اور کفار کی خدمت کے لیے ان کو معمولی درجے کے کارکن اور خدام بنا ڈالے، البتہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا اقتدار اور ان کی حکومت ممکن ہو تو اس حکومت کا قیام لازم ہے لیکن اگر اقتدار کا یہ مرتبہ حاصل نہ ہو سکے تو اس مرتبے کا حصول جس میں دینی اور دنیاوی مصالح کی حفاظت ہو، مقدم ہے۔ واللہ اعلم۔
11:95كَأَن لَّمۡ يَغۡنَوۡاْ فِيهَآۗ أَلَا بُعۡدٗا لِّمَدۡيَنَ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُودُ
اور (بھیجا ہم نے) طرف (اہل) مدین کی ان کے بھائی شعیب کو، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اور نہ کم کرو تم ماپ اور تول کو، بے شک میں دیکھتا ہوں تمھیں آسودگی میں اور بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیرنے والے دن کے (84) اور اے میری قوم! پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کےاور مت کم دو تم لوگوں کو چیزیں ان کی اور نہ پھرو تم زمین میں فسادی بن کر (85) بچت اللہ کی (جائز نفع) بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(86)انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز حکم دیتی ہے تجھے یہ کہ ہم چھوڑ دیں ان (معبودوں ) کو جن کی عبادت کرتے تھے باپ دادا ہمارے؟ یا (چھوڑ دیں ہم) کرنا اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں ، بلاشبہ تو البتہ بہت بردبار، بڑا سمجھدار ہے (87) شعیب نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ! ( میں کیسے نافرمان بنوں ؟)اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے،اور دیا ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رزق اچھا اور نہیں چاہتا میں کہ مخالفت کروں تمھاری طرف ان کاموں کے کہ روکتا ہوں میں تمھیں ان سے، نہیں چاہتا میں مگر اصلاح( تمھاری)، جس قدر استطاعت رکھتا ہوں میں اور نہیں توفیق مجھے مگر ساتھ اللہ(کی مدد) کے، اسی پر توکل کیامیں نے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (88) اور اے میری قوم! نہ باعث بنے تمھارے لیے میری مخالفت (اس بات کی) کہ پہنچے تمھیں مانند اس عذاب کے جو پہنچاقوم نوح کو اور قوم ہود کو اور قوم صالح کو اور نہیں قوم لوط تم سے کچھ دور (89) اور تم مغفرت طلب کرو اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف، بلاشبہ میرا رب بڑا رحم والا نہایت محبت کرنے والا ہے (90)انھوں نے کہا، اے شعیب! نہیں سمجھتے ہم بہت کچھ اس میں سے جو تو کہتا ہےاور بے شک ہم البتہ دیکھتے ہیں تجھے درمیان اپنے ضعیف اور اگر نہ ہوتا قبیلہ تیرا تو یقینا سنگسار کر دیتے ہم تجھےاور نہیں ہے تو ہم پر کچھ غالب (91) شعیب نے کہا، اے میری قوم! کیا میر ا قبیلہ زیادہ دباؤ والا ہے تم پر اللہ سے؟ اور کر دیا تم نے اللہ کو پیچھے ڈالا ہوا اپنی پیٹھوں کے ، بے شک میرا رب ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو گھیرنے والا ہے (92) اور اے میری قوم! تم عمل کرو اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ میں بھی عمل کر رہا ہوں عنقریب تم جان لوگے کہ کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر (ایسا) عذاب جو رسوا کرے گا اسے؟ اور کون ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں (93) اور جب آیاحکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاورآپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (94) گویا کہ وہ نہ رہے تھے ان میں ، آگاہ رہو! دوری ہے (اہل) مدین کے لیے جیسے (رحمت سے) دور ہوئے تھے ثمود (95)
[84]﴿ وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اور مدین کی طرف بھیجا‘‘ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمۡ ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيۡبًا﴾ ’’شعیب (u) کو۔‘‘ گویا وہ جناب شعیبu کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیبu نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنۡقُصُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو‘‘ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾ ’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں ، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے‘‘ یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
[85]﴿وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد مت مچاؤ‘‘ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
[86]﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمھارے لیے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستغنی ہو اور وہ تمھارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم مومن ہو‘‘ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’اور میں تم پر نگران نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمھارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میں تو تمھیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔
[87]﴿قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے‘‘ یہ بات انھوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لیے منع کرتا ہے کہ تو نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں ، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آبا ءو اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں ؟اسی طرح تمھارا ہمیں یہ کہنا ﴿ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِيۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا﴾ ’’یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں ‘‘ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں ، انھیں ادا کریں ۔ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمھیں کوئی حق نہیں ۔ بنابریں انھوں نے ازراہ تمسخر کہا:﴿ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ﴾ ’’تو تو بڑا بردبار اور راست باز ہے۔‘‘ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حلم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد و ہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا ،تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا… یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد درحقیقت یہ تھا کہ شعیبu اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں … اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباء و اجداد احمق اور گمراہ؟ اور یہ قول جس کی انھوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کر کے معاملے کو شعیبu کے قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے… ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں ۔ بے شک شعیبu کی نماز انھیں حکم دیتی ہے کہ وہ انھیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباء و اجداد کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے… کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کون سا کام برا اور فحش ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کر کے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیبu کا وصف تو حلم و رشد ہے۔
[88]﴿قَالَ﴾ جناب شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتلاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو ﴿ وَرَزَقَنِيۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا ﴾ ’’اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾’’اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمھیں روکتا ہوں ‘‘ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں تو ناپ تول سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اور اس بارے میں تہمت اٹھاتا رہوں بلکہ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ میں جس کام سے تمھیں روکتا ہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں ۔﴿ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ﴾ ’’میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہو سکے‘‘ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ تمھارے احوال کی اصلاح ہو اور تمھارے منافع درست ہوں اور اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا میرا مقصد نہیں ۔ حسب استطاعت میں کام کرتا ہوں اور چونکہ اس میں ایک قسم کے تزکیہ نفس کا دعویٰ ہے اس لیے اس قول کے ذریعے سے اس کو دور کیا ﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ﴾ ’’اور سب صرف اللہ کی توفیق سے ہے‘‘ یعنی بھلائی کے کام کرنے اور شر سے بچنے کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ اس میں میری قوت و اختیار کا کوئی دخل نہیں ۔ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر توکل کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کے کافی ہونے پر مجھے اعتماد ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾’’اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے مختلف اقسام کی عبادات کا جو مجھے حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لیے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور ان دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن کے احوال درست ہوتے ہیں :۱۔ اپنے رب سے مدد طلب کرنا۔ ۲۔ اور اس کی طرف رجوع کرنا… جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾(ھود: 11؍123) ’’اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اسی پر بھروسا کر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحہ: 1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔‘‘
[89]﴿وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيۡۤ﴾ ’’اے میری قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے۔‘‘ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمھیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ ﴿ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ ﴾ کہ تم پر عذاب نازل ہو جائے۔ ﴿ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ١ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّؔنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ ﴾ ’’جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے‘‘ یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں ۔
[90]﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ﴾ ’’اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ﴾ ’’بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے (اَلْوَدُود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔ (ودود)(فعول) کے وزن پر ’’فاعل‘‘ اور ’’مفعول‘‘ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
[91]﴿ قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّؔا تَقُوۡلُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔‘‘ یعنی وہ شعیبu کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ’’ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے‘‘ یہ بات محض اس لیے کہتے تھے کیونکہ انھیں شعیبu کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ ﴿ وَاِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا﴾’’اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ ﴾ ’’اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا‘‘ ﴿ لَرَجَمۡنٰكَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں ‘‘ یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں ۔ ہم تجھے چھوڑ کر دراصل تیرے قبیلے کا احترام کررہے ہیں ۔
[92]﴿قَالَ﴾ حضرت شعیبu نے ان کو نرم کرنے کے لیے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِيۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمھارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے‘‘ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ ﴿ وَاتَّخَذۡتُمُوۡهُ۠ وَرَآءَؔكُمۡ ظِهۡرِيًّا﴾ ’’اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا کی نہ اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب تمھارے عملوں کو گھیرنے والا ہے‘‘ یعنی تمھارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں ، پس وہ تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[93]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کر کے ان کو بے بس کر دیا تو شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ١ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’میں بھی کام کرتا ہوں ، عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے‘‘ یعنی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ ﴿ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ﴾ ’’اور جھوٹا کون ہے۔‘‘ یعنی یہ بھی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا؟ ﴿ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی تم اس بات کا انتظار کرو کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور میں انتظار کرتا ہوں کہ تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔
[94]﴿وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا ﴿نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے‘‘ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی ۔
[95]﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انھوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا۔ ﴿اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ﴾ ’’سنو، پھٹکار ہے مدین کے لیے‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا ﴿ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر‘‘ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیبu کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں :(۱)کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں کیونکہ جناب شعیبu نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے پورے کرنے کی دعوت دی تھی اور مجموعی طور پر توحید اور ناپ تول کو پورا کرنے کے حکم کی عدم تعمیل پر وعید کو مترتب کیا۔(۲)ناپ تول میں کمی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کے بارے میں ڈر ہے کہ کہیں وہ عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کا مال چوری کرنے کے مترادف ہے۔ جب ناپ تول کے ذریعے سے چوری کرنا عذاب کی وعید کا موجب ہے تو جبر اور تغلب کے ذریعے سے لوگوں کے مال چوری کرنا بدرجہ اولیٰ وعید کا موجب ہے۔(۳) عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ جو کوئی لوگوں کے مال کو کم کر کے خود اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو اس کے مال میں کمی کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا۔ ناپ تول میں کمی اس کے رزق کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں ‘‘ اس لیے اپنے کرتوتوں کے ذریعے سے اس رزق کے زوال کا باعث نہ بنو۔(۴) بندے پر واجب ہے کہ وہ اس رزق پر قناعت کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے، چنانچہ وہ حرام کو چھوڑ کر حلال پر اور حرام ذرائع اکتساب کو چھوڑ کر حلال ذرائع پر قناعت کرے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ حلال ذرائع اکتساب میں جو برکت اور اضافۂ رزق ہے، وہ دنیا کی حرص کی خاطر حرام اسباب کسب اختیار کرنے میں نہیں ۔ اس میں سراسر مال کا زوال اور برکت کی ضد ہے۔(۵)یہ لوازم ایمان اور اس کے آثار میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عمل کو وجود ایمان پر مترتب کیا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عمل کا وجود نہ ہو تو ایمان ناقص یا قطعی طور پر معدوم ہے۔(۶)اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے سابقین کی شریعت میں نماز مشروع تھی، نیز یہ کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے۔ حتیٰ کہ کفار کے نزدیک بھی نماز کی افضلیت اور نماز کا تمام اعمال پر مقدم ہونا متحقق ہے۔ نیز ان کے ہاں یہ بات بھی متحقق ہے کہ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے اور نماز ایمان اور شرائع کی میزان ہے، نماز کو مسنون طریقے سے ادا کرنے سے بندۂ مومن کے احوال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز کی عدم ادائیگی سے اس کے دینی احوال میں خلل واقع ہوتا ہے۔(۷)وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کر رکھا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مال کا مالک بنا رکھا ہے تاہم انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے کیونکہ یہ مال اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس پر فرض ہے کہ وہ اس میں سے لوگوں کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم کرے اور ان ذرائع اکتساب کو اختیار کرنے سے باز رہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس کفار اور ان سے مشابہت رکھنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مال کے خود مالک ہیں اور وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں خواہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو یا مخالف۔(۸) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داعی کی دعوت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ خود اس کام پر عمل کرنے میں سبقت کرے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور جس کام سے وہ لوگوں کو روکتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس کام سے رک جائے، جیسا کہ جناب شعیبu نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں جن باتوں سے روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الصف: 61؍2)’’اے مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔‘‘(۹)تمام انبیاء و مرسلین کا وظیفہ اور ان کی سنت و ملت یہ ہے کہ حسب امکان اور مقدور بھر مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور استطاعت کے مطابق مفاسد کو دور یا کم کرتے ہیں اور مصالح خاصہ کی رعایت رکھتے ہیں … اور حقیقی مصلحت وہ ہے جس سے بندوں کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے اور جس سے ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔(۱۰)جو کوئی مقدور بھر اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسے کسی فعل کے نہ کرنے پر قابل ملامت اور قابل مذمت نہیں جس کے کرنے کی وہ قدرت اور استطاعت نہیں رکھتا۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔(۱۱) بندۂ مومن کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی سے توفیق کا طلب گار رہے۔ جب اسے کوئی نیک توفیق حاصل ہو جائے تو اسے توفیق عطا کرنے والی ہستی کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی کا شکار نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾(۱۲)امم سابقہ پر جو تباہی نازل ہوئی اور عذاب کے ذریعے سے ان کو جو پکڑا گیا اس میں بندوں کے لیے ترہیب ہے اور یہ نہایت مناسب بات ہے کہ وعظ و نصیحت کے دوران گزشتہ قوموں کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں مجرموں پر عذاب نازل کیا گیا… اور اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ تقویٰ کی ترغیب کے لیے اہل تقویٰ کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام سے نوازا۔(۱۳) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کے تمام گناہوں سے درگزر کر کے اسے معاف کر دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے ’’توبہ کرنے والا جب توبہ کرتا ہے تو اس کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کو مغفرت اور عفو سے نواز دیا جائے اور رہا اللہ تعالیٰ کی محبت اور مودت کا واپس لوٹنا تو اللہ تعالیٰ کی محبت دوبارہ نہیں آتی‘‘… کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ ﴾’’اپنے رب سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ بے شک میرا رب بہت ہی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے بہت محبت رکھتا ہے۔‘‘(۱۴) اللہ تبارک و تعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعے سے اہل ایمان کی مدافعت کرتا ہے بعض اسباب کا ان کو علم ہوتا ہے اور بعض اسباب کا ان کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کے قبیلے اور اہل وطن کے ذریعے سے ان کی مدافعت کرتا ہے جیسے شعیبu کو ان کے قبیلے کے سبب سے رجم ہونے سے بچایا۔ اس قسم کے روابط کے لیے جن کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور ان کی حفاظت کا حصول مقصود ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ایسی کوشش لازم ہے کیونکہ مقدور بھر اور حسب امکان، اصلاح مطلوب ہے۔لہٰذا اس اصول کو مدنظر رکھ کر کفار کی سلطنت میں رہنے والے مسلمان اگر اسی قسم کی کوشش کریں اور نظام حکومت کو جمہوری اصولوں پر چلانے کے لیے کام کریں جس میں افراد یا جماعتوں کے لیے ممکن ہو کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی حقوق کی حفاظت کر سکیں تو یہ اس صورت حال سے بہتر ہے جس میں مسلمان کافر ریاست کے مطیع ہوں اور ریاست ان کے دینی اور دنیاوی حقوق کے بارے میں من مانے فیصلے کرے، مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے اور کفار کی خدمت کے لیے ان کو معمولی درجے کے کارکن اور خدام بنا ڈالے، البتہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا اقتدار اور ان کی حکومت ممکن ہو تو اس حکومت کا قیام لازم ہے لیکن اگر اقتدار کا یہ مرتبہ حاصل نہ ہو سکے تو اس مرتبے کا حصول جس میں دینی اور دنیاوی مصالح کی حفاظت ہو، مقدم ہے۔ واللہ اعلم۔
11:96وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَا وَسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٍ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیتوں اوردلیل واضح کے (96) طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی ، پس انھوں نے پیروی کی فرعون کے حکم کی اور نہیں تھا حکم فرعون کا کوئی بھلائی والا (97) وہ آگے آگے ہو گا اپنی قوم کے دن قیامت کے، پس جا داخل کرے گا انھیں آگ میں اور برا ہے وہ گھاٹ جس پر وہ لائے جائیں گے (98) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس (دنیا) میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، برا ہے وہ عطیہ جو وہ عطیہ دیے جائیں گے (99)یہ کچھ خبریں ہیں ان (تباہ شدہ) بستیوں کی، ہم بیان کرتے ہیں ان کو آپ پر، کچھ تو ان میں سے قائم ہیں اور کچھ نیست و نابود کر دی گئیں (100) اور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر لیکن انھوں نے (خود ہی) ظلم کیا اپنے نفسوں پر، پس نہ فائدہ دیا انھیں ان کے ان معبودوں نے جنھیں وہ پکارتے تھے سوائے اللہ کے کچھ بھی، جب آگیا حکم آپ کے رب کااور نہ زیادہ کیا انھوں نے ان کو سوائے تباہی کے (101)
[96]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى ﴾ ’’اور ہم نے بھیجا موسیٰ کو‘‘ یعنی موسیٰ بن عمران کو ﴿ بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ جو ان کی دعوت کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں ، مثلاً:عصا اور ید بیضا اور دیگر معجزات، جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر ظاہر فرمایا ﴿ وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’اور دلیل واضح (کے ساتھ)‘‘ اور ایسی واضح دلیل کے ساتھ، جو سورج کی مانند عیاں تھی۔
[97]﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے اشرافیہ کی طرف‘‘ کیونکہ اشراف متبوع اور دیگر لوگ ان کے تابع ہوتے ہیں ۔ ان اشراف نے موسیٰu کے ان معجزات کو نہ مانا جو جناب موسیٰ نے ان کو دکھائے تھے جیسا کہ بسط و تفصیل کے ساتھ ان کا ذکر سورۂ اعراف میں گزر چکا ہے۔ ﴿ فَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ فِرۡعَوۡنَ١ۚ وَمَاۤ اَمۡرُ فِرۡعَوۡنَ بِرَشِيۡدٍ ﴾ ’’پس وہ پیچھے لگے فرعون کے حکم کے اور فرعون کا حکم اچھا نہیں تھا‘‘ بلکہ وہ بھٹکا ہوا اور گمراہ ہے۔ وہ جس چیز کا حکم دیتا ہے وہ ضرر محض کے سوا کچھ نہیں ۔
[98] اس کی قوم نے اس کی اتباع کی اور اس نے ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ يَقۡدُمُ قَوۡمَهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَاَوۡرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡوِرۡدُ الۡمَوۡرُوۡدُ ﴾ ’’وہ قیامت کے روز اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور اپنی قیادت میں ان کو جہنم میں جا اتارے گا اور یہ بہت ہی برا مقام ہے جہاں یہ لوگ وارد ہوں گے۔‘‘
[99]﴿ وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهٖ لَعۡنَةً ﴾ ’’اور اس میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگادی گئی۔‘‘ یعنی اس دنیا میں ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے دن بھی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور تمام لوگ دنیا و آخرت میں ان پر لعنت بھیجیں گے۔ ﴿ بِئۡسَ الرِّفۡدُ الۡمَرۡفُوۡدُ ﴾ ’’بہت ہی برا ہے جو ان کے لیے جمع کیا گیا‘‘ اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا عذاب اور دنیا و آخرت کی لعنت ان کا پیچھا کرے گی۔
[100] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و مرسلین کے ساتھ ان کی قوموں کے واقعات بیان کرنے کے بعد اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَيۡكَ ﴾ ’’یہ بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جن میں سے بعض ہم آپ کو سناتے ہیں ‘‘ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے اپنی قوم کو ڈرائیں اور یہ چیز آپ کی رسالت پر دلیل اور اہل ایمان کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہو۔ ﴿ مِنۡهَا قَآىِٕمٌ ﴾ ’’ان میں سے بعض تو باقی ہیں ۔‘‘ یعنی ان کی بستیوں کی بعض نشانیاں اب بھی باقی کھڑی ہیں یعنی تلف نہیں ہوئیں ۔ جو ان قوموں کی تباہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿ وَ﴾ اور ان میں سے بعض نشانیاں ﴿ حَصِيۡدٌ ﴾ ’’ان کی جڑ کٹ گئی‘‘ یعنی ان کے مسکن منہدم ہوگئے، ان کے گھر نیست و نابود ہوگئے اور ان کے نشانات تک باقی نہ رہے۔
[101]﴿وَمَا ظَلَمۡنٰهُمۡ﴾ ’’اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔‘‘ یعنی مختلف قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کو پکڑ کر ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے شرک، کفر اور عناد کے ذریعے سے خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿ فَمَاۤ اَغۡنَتۡ عَنۡهُمۡ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيۡ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’پس نہ کام آئے ان کے وہ معبود جن کو وہ پکارتے تھے اللہ کو چھوڑ کر، کسی چیز میں ، جب آپ کے رب کا حکم آیا‘‘ اسی طرح ہر وہ شخص جو مصیبت اور سختیوں کے وقت غیر اللہ کی پناہ لیتا ہے، اس سے اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ ﴿ وَمَا زَادُوۡهُمۡ غَيۡرَ تَتۡبِيۡبٍ﴾ ’’اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق میں کچھ نہ کرسکے۔‘‘ یعنی ان کی خواہشات کے برعکس خسارے اور تباہی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔
11:97إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَإِيْهِۦ فَٱتَّبَعُوٓاْ أَمۡرَ فِرۡعَوۡنَۖ وَمَآ أَمۡرُ فِرۡعَوۡنَ بِرَشِيدٖ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیتوں اوردلیل واضح کے (96) طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی ، پس انھوں نے پیروی کی فرعون کے حکم کی اور نہیں تھا حکم فرعون کا کوئی بھلائی والا (97) وہ آگے آگے ہو گا اپنی قوم کے دن قیامت کے، پس جا داخل کرے گا انھیں آگ میں اور برا ہے وہ گھاٹ جس پر وہ لائے جائیں گے (98) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس (دنیا) میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، برا ہے وہ عطیہ جو وہ عطیہ دیے جائیں گے (99)یہ کچھ خبریں ہیں ان (تباہ شدہ) بستیوں کی، ہم بیان کرتے ہیں ان کو آپ پر، کچھ تو ان میں سے قائم ہیں اور کچھ نیست و نابود کر دی گئیں (100) اور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر لیکن انھوں نے (خود ہی) ظلم کیا اپنے نفسوں پر، پس نہ فائدہ دیا انھیں ان کے ان معبودوں نے جنھیں وہ پکارتے تھے سوائے اللہ کے کچھ بھی، جب آگیا حکم آپ کے رب کااور نہ زیادہ کیا انھوں نے ان کو سوائے تباہی کے (101)
[96]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى ﴾ ’’اور ہم نے بھیجا موسیٰ کو‘‘ یعنی موسیٰ بن عمران کو ﴿ بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ جو ان کی دعوت کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں ، مثلاً:عصا اور ید بیضا اور دیگر معجزات، جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر ظاہر فرمایا ﴿ وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’اور دلیل واضح (کے ساتھ)‘‘ اور ایسی واضح دلیل کے ساتھ، جو سورج کی مانند عیاں تھی۔
[97]﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے اشرافیہ کی طرف‘‘ کیونکہ اشراف متبوع اور دیگر لوگ ان کے تابع ہوتے ہیں ۔ ان اشراف نے موسیٰu کے ان معجزات کو نہ مانا جو جناب موسیٰ نے ان کو دکھائے تھے جیسا کہ بسط و تفصیل کے ساتھ ان کا ذکر سورۂ اعراف میں گزر چکا ہے۔ ﴿ فَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ فِرۡعَوۡنَ١ۚ وَمَاۤ اَمۡرُ فِرۡعَوۡنَ بِرَشِيۡدٍ ﴾ ’’پس وہ پیچھے لگے فرعون کے حکم کے اور فرعون کا حکم اچھا نہیں تھا‘‘ بلکہ وہ بھٹکا ہوا اور گمراہ ہے۔ وہ جس چیز کا حکم دیتا ہے وہ ضرر محض کے سوا کچھ نہیں ۔
[98] اس کی قوم نے اس کی اتباع کی اور اس نے ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ يَقۡدُمُ قَوۡمَهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَاَوۡرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡوِرۡدُ الۡمَوۡرُوۡدُ ﴾ ’’وہ قیامت کے روز اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور اپنی قیادت میں ان کو جہنم میں جا اتارے گا اور یہ بہت ہی برا مقام ہے جہاں یہ لوگ وارد ہوں گے۔‘‘
[99]﴿ وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهٖ لَعۡنَةً ﴾ ’’اور اس میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگادی گئی۔‘‘ یعنی اس دنیا میں ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے دن بھی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور تمام لوگ دنیا و آخرت میں ان پر لعنت بھیجیں گے۔ ﴿ بِئۡسَ الرِّفۡدُ الۡمَرۡفُوۡدُ ﴾ ’’بہت ہی برا ہے جو ان کے لیے جمع کیا گیا‘‘ اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا عذاب اور دنیا و آخرت کی لعنت ان کا پیچھا کرے گی۔
[100] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و مرسلین کے ساتھ ان کی قوموں کے واقعات بیان کرنے کے بعد اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَيۡكَ ﴾ ’’یہ بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جن میں سے بعض ہم آپ کو سناتے ہیں ‘‘ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے اپنی قوم کو ڈرائیں اور یہ چیز آپ کی رسالت پر دلیل اور اہل ایمان کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہو۔ ﴿ مِنۡهَا قَآىِٕمٌ ﴾ ’’ان میں سے بعض تو باقی ہیں ۔‘‘ یعنی ان کی بستیوں کی بعض نشانیاں اب بھی باقی کھڑی ہیں یعنی تلف نہیں ہوئیں ۔ جو ان قوموں کی تباہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿ وَ﴾ اور ان میں سے بعض نشانیاں ﴿ حَصِيۡدٌ ﴾ ’’ان کی جڑ کٹ گئی‘‘ یعنی ان کے مسکن منہدم ہوگئے، ان کے گھر نیست و نابود ہوگئے اور ان کے نشانات تک باقی نہ رہے۔
[101]﴿وَمَا ظَلَمۡنٰهُمۡ﴾ ’’اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔‘‘ یعنی مختلف قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کو پکڑ کر ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے شرک، کفر اور عناد کے ذریعے سے خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿ فَمَاۤ اَغۡنَتۡ عَنۡهُمۡ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيۡ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’پس نہ کام آئے ان کے وہ معبود جن کو وہ پکارتے تھے اللہ کو چھوڑ کر، کسی چیز میں ، جب آپ کے رب کا حکم آیا‘‘ اسی طرح ہر وہ شخص جو مصیبت اور سختیوں کے وقت غیر اللہ کی پناہ لیتا ہے، اس سے اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ ﴿ وَمَا زَادُوۡهُمۡ غَيۡرَ تَتۡبِيۡبٍ﴾ ’’اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق میں کچھ نہ کرسکے۔‘‘ یعنی ان کی خواہشات کے برعکس خسارے اور تباہی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔
11:98يَقۡدُمُ قَوۡمَهُۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فَأَوۡرَدَهُمُ ٱلنَّارَۖ وَبِئۡسَ ٱلۡوِرۡدُ ٱلۡمَوۡرُودُ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیتوں اوردلیل واضح کے (96) طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی ، پس انھوں نے پیروی کی فرعون کے حکم کی اور نہیں تھا حکم فرعون کا کوئی بھلائی والا (97) وہ آگے آگے ہو گا اپنی قوم کے دن قیامت کے، پس جا داخل کرے گا انھیں آگ میں اور برا ہے وہ گھاٹ جس پر وہ لائے جائیں گے (98) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس (دنیا) میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، برا ہے وہ عطیہ جو وہ عطیہ دیے جائیں گے (99)یہ کچھ خبریں ہیں ان (تباہ شدہ) بستیوں کی، ہم بیان کرتے ہیں ان کو آپ پر، کچھ تو ان میں سے قائم ہیں اور کچھ نیست و نابود کر دی گئیں (100) اور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر لیکن انھوں نے (خود ہی) ظلم کیا اپنے نفسوں پر، پس نہ فائدہ دیا انھیں ان کے ان معبودوں نے جنھیں وہ پکارتے تھے سوائے اللہ کے کچھ بھی، جب آگیا حکم آپ کے رب کااور نہ زیادہ کیا انھوں نے ان کو سوائے تباہی کے (101)
[96]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى ﴾ ’’اور ہم نے بھیجا موسیٰ کو‘‘ یعنی موسیٰ بن عمران کو ﴿ بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ جو ان کی دعوت کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں ، مثلاً:عصا اور ید بیضا اور دیگر معجزات، جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر ظاہر فرمایا ﴿ وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’اور دلیل واضح (کے ساتھ)‘‘ اور ایسی واضح دلیل کے ساتھ، جو سورج کی مانند عیاں تھی۔
[97]﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے اشرافیہ کی طرف‘‘ کیونکہ اشراف متبوع اور دیگر لوگ ان کے تابع ہوتے ہیں ۔ ان اشراف نے موسیٰu کے ان معجزات کو نہ مانا جو جناب موسیٰ نے ان کو دکھائے تھے جیسا کہ بسط و تفصیل کے ساتھ ان کا ذکر سورۂ اعراف میں گزر چکا ہے۔ ﴿ فَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ فِرۡعَوۡنَ١ۚ وَمَاۤ اَمۡرُ فِرۡعَوۡنَ بِرَشِيۡدٍ ﴾ ’’پس وہ پیچھے لگے فرعون کے حکم کے اور فرعون کا حکم اچھا نہیں تھا‘‘ بلکہ وہ بھٹکا ہوا اور گمراہ ہے۔ وہ جس چیز کا حکم دیتا ہے وہ ضرر محض کے سوا کچھ نہیں ۔
[98] اس کی قوم نے اس کی اتباع کی اور اس نے ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ يَقۡدُمُ قَوۡمَهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَاَوۡرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡوِرۡدُ الۡمَوۡرُوۡدُ ﴾ ’’وہ قیامت کے روز اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور اپنی قیادت میں ان کو جہنم میں جا اتارے گا اور یہ بہت ہی برا مقام ہے جہاں یہ لوگ وارد ہوں گے۔‘‘
[99]﴿ وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهٖ لَعۡنَةً ﴾ ’’اور اس میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگادی گئی۔‘‘ یعنی اس دنیا میں ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے دن بھی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور تمام لوگ دنیا و آخرت میں ان پر لعنت بھیجیں گے۔ ﴿ بِئۡسَ الرِّفۡدُ الۡمَرۡفُوۡدُ ﴾ ’’بہت ہی برا ہے جو ان کے لیے جمع کیا گیا‘‘ اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا عذاب اور دنیا و آخرت کی لعنت ان کا پیچھا کرے گی۔
[100] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و مرسلین کے ساتھ ان کی قوموں کے واقعات بیان کرنے کے بعد اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَيۡكَ ﴾ ’’یہ بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جن میں سے بعض ہم آپ کو سناتے ہیں ‘‘ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے اپنی قوم کو ڈرائیں اور یہ چیز آپ کی رسالت پر دلیل اور اہل ایمان کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہو۔ ﴿ مِنۡهَا قَآىِٕمٌ ﴾ ’’ان میں سے بعض تو باقی ہیں ۔‘‘ یعنی ان کی بستیوں کی بعض نشانیاں اب بھی باقی کھڑی ہیں یعنی تلف نہیں ہوئیں ۔ جو ان قوموں کی تباہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿ وَ﴾ اور ان میں سے بعض نشانیاں ﴿ حَصِيۡدٌ ﴾ ’’ان کی جڑ کٹ گئی‘‘ یعنی ان کے مسکن منہدم ہوگئے، ان کے گھر نیست و نابود ہوگئے اور ان کے نشانات تک باقی نہ رہے۔
[101]﴿وَمَا ظَلَمۡنٰهُمۡ﴾ ’’اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔‘‘ یعنی مختلف قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کو پکڑ کر ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے شرک، کفر اور عناد کے ذریعے سے خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿ فَمَاۤ اَغۡنَتۡ عَنۡهُمۡ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيۡ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’پس نہ کام آئے ان کے وہ معبود جن کو وہ پکارتے تھے اللہ کو چھوڑ کر، کسی چیز میں ، جب آپ کے رب کا حکم آیا‘‘ اسی طرح ہر وہ شخص جو مصیبت اور سختیوں کے وقت غیر اللہ کی پناہ لیتا ہے، اس سے اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ ﴿ وَمَا زَادُوۡهُمۡ غَيۡرَ تَتۡبِيۡبٍ﴾ ’’اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق میں کچھ نہ کرسکے۔‘‘ یعنی ان کی خواہشات کے برعکس خسارے اور تباہی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔
11:99وَأُتۡبِعُواْ فِي هَٰذِهِۦ لَعۡنَةٗ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ بِئۡسَ ٱلرِّفۡدُ ٱلۡمَرۡفُودُ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیتوں اوردلیل واضح کے (96) طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی ، پس انھوں نے پیروی کی فرعون کے حکم کی اور نہیں تھا حکم فرعون کا کوئی بھلائی والا (97) وہ آگے آگے ہو گا اپنی قوم کے دن قیامت کے، پس جا داخل کرے گا انھیں آگ میں اور برا ہے وہ گھاٹ جس پر وہ لائے جائیں گے (98) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس (دنیا) میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، برا ہے وہ عطیہ جو وہ عطیہ دیے جائیں گے (99)یہ کچھ خبریں ہیں ان (تباہ شدہ) بستیوں کی، ہم بیان کرتے ہیں ان کو آپ پر، کچھ تو ان میں سے قائم ہیں اور کچھ نیست و نابود کر دی گئیں (100) اور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر لیکن انھوں نے (خود ہی) ظلم کیا اپنے نفسوں پر، پس نہ فائدہ دیا انھیں ان کے ان معبودوں نے جنھیں وہ پکارتے تھے سوائے اللہ کے کچھ بھی، جب آگیا حکم آپ کے رب کااور نہ زیادہ کیا انھوں نے ان کو سوائے تباہی کے (101)
[96]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى ﴾ ’’اور ہم نے بھیجا موسیٰ کو‘‘ یعنی موسیٰ بن عمران کو ﴿ بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ جو ان کی دعوت کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں ، مثلاً:عصا اور ید بیضا اور دیگر معجزات، جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر ظاہر فرمایا ﴿ وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’اور دلیل واضح (کے ساتھ)‘‘ اور ایسی واضح دلیل کے ساتھ، جو سورج کی مانند عیاں تھی۔
[97]﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے اشرافیہ کی طرف‘‘ کیونکہ اشراف متبوع اور دیگر لوگ ان کے تابع ہوتے ہیں ۔ ان اشراف نے موسیٰu کے ان معجزات کو نہ مانا جو جناب موسیٰ نے ان کو دکھائے تھے جیسا کہ بسط و تفصیل کے ساتھ ان کا ذکر سورۂ اعراف میں گزر چکا ہے۔ ﴿ فَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ فِرۡعَوۡنَ١ۚ وَمَاۤ اَمۡرُ فِرۡعَوۡنَ بِرَشِيۡدٍ ﴾ ’’پس وہ پیچھے لگے فرعون کے حکم کے اور فرعون کا حکم اچھا نہیں تھا‘‘ بلکہ وہ بھٹکا ہوا اور گمراہ ہے۔ وہ جس چیز کا حکم دیتا ہے وہ ضرر محض کے سوا کچھ نہیں ۔
[98] اس کی قوم نے اس کی اتباع کی اور اس نے ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ يَقۡدُمُ قَوۡمَهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَاَوۡرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡوِرۡدُ الۡمَوۡرُوۡدُ ﴾ ’’وہ قیامت کے روز اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور اپنی قیادت میں ان کو جہنم میں جا اتارے گا اور یہ بہت ہی برا مقام ہے جہاں یہ لوگ وارد ہوں گے۔‘‘
[99]﴿ وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهٖ لَعۡنَةً ﴾ ’’اور اس میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگادی گئی۔‘‘ یعنی اس دنیا میں ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے دن بھی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور تمام لوگ دنیا و آخرت میں ان پر لعنت بھیجیں گے۔ ﴿ بِئۡسَ الرِّفۡدُ الۡمَرۡفُوۡدُ ﴾ ’’بہت ہی برا ہے جو ان کے لیے جمع کیا گیا‘‘ اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا عذاب اور دنیا و آخرت کی لعنت ان کا پیچھا کرے گی۔
[100] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و مرسلین کے ساتھ ان کی قوموں کے واقعات بیان کرنے کے بعد اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَيۡكَ ﴾ ’’یہ بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جن میں سے بعض ہم آپ کو سناتے ہیں ‘‘ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے اپنی قوم کو ڈرائیں اور یہ چیز آپ کی رسالت پر دلیل اور اہل ایمان کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہو۔ ﴿ مِنۡهَا قَآىِٕمٌ ﴾ ’’ان میں سے بعض تو باقی ہیں ۔‘‘ یعنی ان کی بستیوں کی بعض نشانیاں اب بھی باقی کھڑی ہیں یعنی تلف نہیں ہوئیں ۔ جو ان قوموں کی تباہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿ وَ﴾ اور ان میں سے بعض نشانیاں ﴿ حَصِيۡدٌ ﴾ ’’ان کی جڑ کٹ گئی‘‘ یعنی ان کے مسکن منہدم ہوگئے، ان کے گھر نیست و نابود ہوگئے اور ان کے نشانات تک باقی نہ رہے۔
[101]﴿وَمَا ظَلَمۡنٰهُمۡ﴾ ’’اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔‘‘ یعنی مختلف قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کو پکڑ کر ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے شرک، کفر اور عناد کے ذریعے سے خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿ فَمَاۤ اَغۡنَتۡ عَنۡهُمۡ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيۡ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’پس نہ کام آئے ان کے وہ معبود جن کو وہ پکارتے تھے اللہ کو چھوڑ کر، کسی چیز میں ، جب آپ کے رب کا حکم آیا‘‘ اسی طرح ہر وہ شخص جو مصیبت اور سختیوں کے وقت غیر اللہ کی پناہ لیتا ہے، اس سے اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ ﴿ وَمَا زَادُوۡهُمۡ غَيۡرَ تَتۡبِيۡبٍ﴾ ’’اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق میں کچھ نہ کرسکے۔‘‘ یعنی ان کی خواہشات کے برعکس خسارے اور تباہی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔
11:100ذَٰلِكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ ٱلۡقُرَىٰ نَقُصُّهُۥ عَلَيۡكَۖ مِنۡهَا قَآئِمٞ وَحَصِيدٞ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیتوں اوردلیل واضح کے (96) طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی ، پس انھوں نے پیروی کی فرعون کے حکم کی اور نہیں تھا حکم فرعون کا کوئی بھلائی والا (97) وہ آگے آگے ہو گا اپنی قوم کے دن قیامت کے، پس جا داخل کرے گا انھیں آگ میں اور برا ہے وہ گھاٹ جس پر وہ لائے جائیں گے (98) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس (دنیا) میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، برا ہے وہ عطیہ جو وہ عطیہ دیے جائیں گے (99)یہ کچھ خبریں ہیں ان (تباہ شدہ) بستیوں کی، ہم بیان کرتے ہیں ان کو آپ پر، کچھ تو ان میں سے قائم ہیں اور کچھ نیست و نابود کر دی گئیں (100) اور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر لیکن انھوں نے (خود ہی) ظلم کیا اپنے نفسوں پر، پس نہ فائدہ دیا انھیں ان کے ان معبودوں نے جنھیں وہ پکارتے تھے سوائے اللہ کے کچھ بھی، جب آگیا حکم آپ کے رب کااور نہ زیادہ کیا انھوں نے ان کو سوائے تباہی کے (101)
[96]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى ﴾ ’’اور ہم نے بھیجا موسیٰ کو‘‘ یعنی موسیٰ بن عمران کو ﴿ بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ جو ان کی دعوت کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں ، مثلاً:عصا اور ید بیضا اور دیگر معجزات، جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر ظاہر فرمایا ﴿ وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’اور دلیل واضح (کے ساتھ)‘‘ اور ایسی واضح دلیل کے ساتھ، جو سورج کی مانند عیاں تھی۔
[97]﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے اشرافیہ کی طرف‘‘ کیونکہ اشراف متبوع اور دیگر لوگ ان کے تابع ہوتے ہیں ۔ ان اشراف نے موسیٰu کے ان معجزات کو نہ مانا جو جناب موسیٰ نے ان کو دکھائے تھے جیسا کہ بسط و تفصیل کے ساتھ ان کا ذکر سورۂ اعراف میں گزر چکا ہے۔ ﴿ فَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ فِرۡعَوۡنَ١ۚ وَمَاۤ اَمۡرُ فِرۡعَوۡنَ بِرَشِيۡدٍ ﴾ ’’پس وہ پیچھے لگے فرعون کے حکم کے اور فرعون کا حکم اچھا نہیں تھا‘‘ بلکہ وہ بھٹکا ہوا اور گمراہ ہے۔ وہ جس چیز کا حکم دیتا ہے وہ ضرر محض کے سوا کچھ نہیں ۔
[98] اس کی قوم نے اس کی اتباع کی اور اس نے ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ يَقۡدُمُ قَوۡمَهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَاَوۡرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡوِرۡدُ الۡمَوۡرُوۡدُ ﴾ ’’وہ قیامت کے روز اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور اپنی قیادت میں ان کو جہنم میں جا اتارے گا اور یہ بہت ہی برا مقام ہے جہاں یہ لوگ وارد ہوں گے۔‘‘
[99]﴿ وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهٖ لَعۡنَةً ﴾ ’’اور اس میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگادی گئی۔‘‘ یعنی اس دنیا میں ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے دن بھی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور تمام لوگ دنیا و آخرت میں ان پر لعنت بھیجیں گے۔ ﴿ بِئۡسَ الرِّفۡدُ الۡمَرۡفُوۡدُ ﴾ ’’بہت ہی برا ہے جو ان کے لیے جمع کیا گیا‘‘ اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا عذاب اور دنیا و آخرت کی لعنت ان کا پیچھا کرے گی۔
[100] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و مرسلین کے ساتھ ان کی قوموں کے واقعات بیان کرنے کے بعد اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَيۡكَ ﴾ ’’یہ بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جن میں سے بعض ہم آپ کو سناتے ہیں ‘‘ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے اپنی قوم کو ڈرائیں اور یہ چیز آپ کی رسالت پر دلیل اور اہل ایمان کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہو۔ ﴿ مِنۡهَا قَآىِٕمٌ ﴾ ’’ان میں سے بعض تو باقی ہیں ۔‘‘ یعنی ان کی بستیوں کی بعض نشانیاں اب بھی باقی کھڑی ہیں یعنی تلف نہیں ہوئیں ۔ جو ان قوموں کی تباہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿ وَ﴾ اور ان میں سے بعض نشانیاں ﴿ حَصِيۡدٌ ﴾ ’’ان کی جڑ کٹ گئی‘‘ یعنی ان کے مسکن منہدم ہوگئے، ان کے گھر نیست و نابود ہوگئے اور ان کے نشانات تک باقی نہ رہے۔
[101]﴿وَمَا ظَلَمۡنٰهُمۡ﴾ ’’اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔‘‘ یعنی مختلف قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کو پکڑ کر ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے شرک، کفر اور عناد کے ذریعے سے خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿ فَمَاۤ اَغۡنَتۡ عَنۡهُمۡ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيۡ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’پس نہ کام آئے ان کے وہ معبود جن کو وہ پکارتے تھے اللہ کو چھوڑ کر، کسی چیز میں ، جب آپ کے رب کا حکم آیا‘‘ اسی طرح ہر وہ شخص جو مصیبت اور سختیوں کے وقت غیر اللہ کی پناہ لیتا ہے، اس سے اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ ﴿ وَمَا زَادُوۡهُمۡ غَيۡرَ تَتۡبِيۡبٍ﴾ ’’اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق میں کچھ نہ کرسکے۔‘‘ یعنی ان کی خواہشات کے برعکس خسارے اور تباہی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔
11:101وَمَا ظَلَمۡنَٰهُمۡ وَلَٰكِن ظَلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡۖ فَمَآ أَغۡنَتۡ عَنۡهُمۡ ءَالِهَتُهُمُ ٱلَّتِي يَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٖ لَّمَّا جَآءَ أَمۡرُ رَبِّكَۖ وَمَا زَادُوهُمۡ غَيۡرَ تَتۡبِيبٖ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیتوں اوردلیل واضح کے (96) طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی ، پس انھوں نے پیروی کی فرعون کے حکم کی اور نہیں تھا حکم فرعون کا کوئی بھلائی والا (97) وہ آگے آگے ہو گا اپنی قوم کے دن قیامت کے، پس جا داخل کرے گا انھیں آگ میں اور برا ہے وہ گھاٹ جس پر وہ لائے جائیں گے (98) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس (دنیا) میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، برا ہے وہ عطیہ جو وہ عطیہ دیے جائیں گے (99)یہ کچھ خبریں ہیں ان (تباہ شدہ) بستیوں کی، ہم بیان کرتے ہیں ان کو آپ پر، کچھ تو ان میں سے قائم ہیں اور کچھ نیست و نابود کر دی گئیں (100) اور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر لیکن انھوں نے (خود ہی) ظلم کیا اپنے نفسوں پر، پس نہ فائدہ دیا انھیں ان کے ان معبودوں نے جنھیں وہ پکارتے تھے سوائے اللہ کے کچھ بھی، جب آگیا حکم آپ کے رب کااور نہ زیادہ کیا انھوں نے ان کو سوائے تباہی کے (101)
[96]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى ﴾ ’’اور ہم نے بھیجا موسیٰ کو‘‘ یعنی موسیٰ بن عمران کو ﴿ بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ جو ان کی دعوت کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں ، مثلاً:عصا اور ید بیضا اور دیگر معجزات، جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر ظاہر فرمایا ﴿ وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’اور دلیل واضح (کے ساتھ)‘‘ اور ایسی واضح دلیل کے ساتھ، جو سورج کی مانند عیاں تھی۔
[97]﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے اشرافیہ کی طرف‘‘ کیونکہ اشراف متبوع اور دیگر لوگ ان کے تابع ہوتے ہیں ۔ ان اشراف نے موسیٰu کے ان معجزات کو نہ مانا جو جناب موسیٰ نے ان کو دکھائے تھے جیسا کہ بسط و تفصیل کے ساتھ ان کا ذکر سورۂ اعراف میں گزر چکا ہے۔ ﴿ فَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ فِرۡعَوۡنَ١ۚ وَمَاۤ اَمۡرُ فِرۡعَوۡنَ بِرَشِيۡدٍ ﴾ ’’پس وہ پیچھے لگے فرعون کے حکم کے اور فرعون کا حکم اچھا نہیں تھا‘‘ بلکہ وہ بھٹکا ہوا اور گمراہ ہے۔ وہ جس چیز کا حکم دیتا ہے وہ ضرر محض کے سوا کچھ نہیں ۔
[98] اس کی قوم نے اس کی اتباع کی اور اس نے ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ يَقۡدُمُ قَوۡمَهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَاَوۡرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡوِرۡدُ الۡمَوۡرُوۡدُ ﴾ ’’وہ قیامت کے روز اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور اپنی قیادت میں ان کو جہنم میں جا اتارے گا اور یہ بہت ہی برا مقام ہے جہاں یہ لوگ وارد ہوں گے۔‘‘
[99]﴿ وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهٖ لَعۡنَةً ﴾ ’’اور اس میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگادی گئی۔‘‘ یعنی اس دنیا میں ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے دن بھی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور تمام لوگ دنیا و آخرت میں ان پر لعنت بھیجیں گے۔ ﴿ بِئۡسَ الرِّفۡدُ الۡمَرۡفُوۡدُ ﴾ ’’بہت ہی برا ہے جو ان کے لیے جمع کیا گیا‘‘ اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا عذاب اور دنیا و آخرت کی لعنت ان کا پیچھا کرے گی۔
[100] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و مرسلین کے ساتھ ان کی قوموں کے واقعات بیان کرنے کے بعد اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَيۡكَ ﴾ ’’یہ بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جن میں سے بعض ہم آپ کو سناتے ہیں ‘‘ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے اپنی قوم کو ڈرائیں اور یہ چیز آپ کی رسالت پر دلیل اور اہل ایمان کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہو۔ ﴿ مِنۡهَا قَآىِٕمٌ ﴾ ’’ان میں سے بعض تو باقی ہیں ۔‘‘ یعنی ان کی بستیوں کی بعض نشانیاں اب بھی باقی کھڑی ہیں یعنی تلف نہیں ہوئیں ۔ جو ان قوموں کی تباہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿ وَ﴾ اور ان میں سے بعض نشانیاں ﴿ حَصِيۡدٌ ﴾ ’’ان کی جڑ کٹ گئی‘‘ یعنی ان کے مسکن منہدم ہوگئے، ان کے گھر نیست و نابود ہوگئے اور ان کے نشانات تک باقی نہ رہے۔
[101]﴿وَمَا ظَلَمۡنٰهُمۡ﴾ ’’اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔‘‘ یعنی مختلف قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کو پکڑ کر ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے شرک، کفر اور عناد کے ذریعے سے خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿ فَمَاۤ اَغۡنَتۡ عَنۡهُمۡ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيۡ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’پس نہ کام آئے ان کے وہ معبود جن کو وہ پکارتے تھے اللہ کو چھوڑ کر، کسی چیز میں ، جب آپ کے رب کا حکم آیا‘‘ اسی طرح ہر وہ شخص جو مصیبت اور سختیوں کے وقت غیر اللہ کی پناہ لیتا ہے، اس سے اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ ﴿ وَمَا زَادُوۡهُمۡ غَيۡرَ تَتۡبِيۡبٍ﴾ ’’اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق میں کچھ نہ کرسکے۔‘‘ یعنی ان کی خواہشات کے برعکس خسارے اور تباہی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔
11:102وَكَذَٰلِكَ أَخۡذُ رَبِّكَ إِذَآ أَخَذَ ٱلۡقُرَىٰ وَهِيَ ظَٰلِمَةٌۚ إِنَّ أَخۡذَهُۥٓ أَلِيمٞ شَدِيدٌ
اور اسی طرح ہے پکڑ آپ کے رب کی جب وہ پکڑتا ہے بستیوں کو جبکہ وہ ظالم ہوتی ہیں ، بلاشبہ پکڑ اس کی نہایت درد ناک (اور) شدید ہے (102)
[102] یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ عذاب کے ذریعے سے ظالموں کی کمر توڑ دیتا ہے اور ان کو تباہ و برباد کر دیتا ہے اور وہ ہستیاں ان کے کسی کام نہیں آتیں جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ۔
11:103إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّمَنۡ خَافَ عَذَابَ ٱلۡأٓخِرَةِۚ ذَٰلِكَ يَوۡمٞ مَّجۡمُوعٞ لَّهُ ٱلنَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوۡمٞ مَّشۡهُودٞ
بے شک اس میں یقینا نشان (عبرت) ہے اس شخص کے لیے جو ڈر گیا عذاب آخرت سے، وہ (یوم آخرت) ایک دن ہے کہ جمع کیے جائیں گے اس میں سب لوگ اور وہ دن ہے کہ حاضر کیے جائیں گے (اس میں سب)(103) اور نہیں مؤخر کرتے ہیں ہم اس دن کو مگر واسطے (پورا کرنے) وقت مقرر کے (104)(جب) وہ دن آجائے گا تو نہ کلام کرے گا کوئی نفس مگر اللہ کے حکم سے، پھر کوئی ان میں سے بد بخت ہو گا اور کوئی نیک بخت(105) پس لیکن وہ لوگ جو بدبخت ہو ں گے تو (وہ) آگ میں ہوں گے، ان کے لیے اس میں چیخنا چلانا اور دھاڑنا ہو گا (106) ہمیشہ رہیں گے وہ اس (آگ) میں جب تک (باقی) رہیں گے آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب، بے شک آپ کا رب کر گزرنے والا ہے اس کو جو وہ چاہتا ہے (107)اور لیکن وہ لوگ جو نیک بخت بنائے گئے تو (وہ) جنت میں ہوں گے، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں جب تک (باقی) رہیں گے آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب، (یہ اللہ کی) عطاء ہے نہ ختم ہونے والی (108)
[103]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک ان میں ‘‘ یعنی عذاب کی مختلف انواع کے ذریعے سے ظالموں کو اللہ تعالیٰ کے پکڑنے میں ۔ ﴿ لَاٰيَةً لِّمَنۡ خَافَ عَذَابَ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’اس شخص کے لیے نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے‘‘ یعنی اس میں عبرت اور دلیل ہے کہ جو لوگ ظلم اور جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے لیے دنیاوی سزا اور اخروی عذاب ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذکر سے منتقل ہو کر آخرت کے وصف کا ذکر فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ يَوۡمٌ مَّجۡمُوۡعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ ﴾ ’’یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی اس روز تمام لوگوں کو جزا و سزا کے لیے جمع کیا جائے گا تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کا عدل عظیم ظاہر ہو اور اس کے ذریعے سے وہ اس کو اچھی طرح پہچان لیں ﴿ وَذٰلِكَ يَوۡمٌ مَّشۡهُوۡدٌ ﴾ ’’اور وہ دن ہے سب کے پیش ہونے کا‘‘ یعنی اس روز اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور تمام مخلوقات اس کا مشاہدہ کرے گی۔
[104]﴿ وَمَا نُؤَخِّرُهٗۤ ﴾ ’’ہم اس میں تاخیر نہیں کررہے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز کی آمد کو ہم موخر نہیں کرتے۔ ﴿ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعۡدُوۡدٍ ﴾ ’’مگر وقت مقرر کے لیے‘‘ یعنی جب دنیا کی مدت اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر مقرر کیا ہے پورا ہو جائے گا اس وقت وہ ان کو ایک اور جہان میں منتقل کرے گا اور وہاں ان پر اپنے احکام جزائی اسی طرح جاری کرے گا جس طرح اس دنیا میں ان پر احکام شرعیہ نافذ کیے تھے۔
[105]﴿يَوۡمَ يَاۡتِ ﴾ ’’جس روز وہ آجائے گا۔‘‘ یعنی جس روز یہ دن آئے گا اور تمام مخلوق اکٹھی ہوگی۔ ﴿ لَا تَكَلَّمُ نَفۡسٌ اِلَّا بِـاِذۡنِهٖ﴾ ’’اس کی اجازت کے بغیر کوئی کلام نہیں کرے گا‘‘ یہاں تک کہ اس روز انبیائے کرام اور مکرم فرشتے بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکیں گے۔ ﴿ فَمِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان میں سے بعض‘‘ یعنی تمام مخلوق میں سے ﴿ شَقِيٌّ وَّسَعِيۡدٌ ﴾ ’’بدبخت اور بعض نیک بخت ہیں ‘‘ بدبخت وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی اور خوش بخت وہ لوگ ہیں جو مومن اور متقی ہیں ۔
[106]﴿ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ شَقُوۡا﴾ ’’تو جو بدبخت ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو بدبختی، رسوائی اور فضیحت میں مبتلا ہوں گے۔ ﴿ فَفِي النَّارِ ﴾ تو وہ جہنم کے عذاب میں غوطے کھائیں گے اور آگ کا نہایت سخت عذاب ان کو جکڑ لے گا۔ ﴿ لَهُمۡ فِيۡهَا’’ان كے ليے اس ميں ‘‘ يعني اس سختي كي وجه سے جس ميں وه مبتلا هوں گے۔ ﴿ زَفِيۡرٌ وَّشَهِيۡقٌ ﴾ ’’چیخنا ہے اور دھاڑنا‘‘ اور یہ نہایت بری اور قبیح ترین آواز ہو گی۔
[107]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ یعنی اس جہنم میں جس کا عذاب یہ ہے ﴿ مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ﴾ ’’جب تک رہے گا آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب‘‘ یعنی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے سوائے اس مدت کے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ اس مدت کے دوران جہنم میں نہ رہیں اور یہ مدت جہنم میں داخل ہونے سے قبل کی ہے۔ یہ جمہور مفسرین کا قول ہے۔ پس اس صورت میں استثناء جہنم میں دخول سے قبل کی مدت کی طرف راجع ہے، یعنی وہ تمام زمانوں تک جہنم میں رہیں گے سوائے اس زمانے کے جو جہنم میں داخل ہونے سے پہلے تھا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب جو چاہتا ہے، کرتا ہے‘‘ ہر وہ فعل جس کا اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے اور اس کی حکمت مقتضی ہوتی ہے، کر گزرتا ہے کوئی اسے اس کے ارادے سے روک نہیں سکتا۔
[108]﴿ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ سُعِدُوۡا﴾ ’’اور جو نیک بخت ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھیں سعادت اور فوز و فلاح سے نوازا گیا ہے۔ ﴿ فَفِي الۡجَنَّةِ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ﴾ ’’وہ جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں مگر جو چاہے آپ کا رب۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے مزید تاکید کے طور پر فرمایا: ﴿ عَطَآءً غَيۡرَ مَجۡذُوۡذٍ ﴾ ’’بخشش بے انتہا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور لذتیں عطا کرے گا وہ ہمیشہ رہیں گی اور کسی وقت بھی منقطع نہ ہوں گی۔ ہم اللہ کریم سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی ان خوش بخت لوگوں کی معیت عطا کرے۔
11:104وَمَا نُؤَخِّرُهُۥٓ إِلَّا لِأَجَلٖ مَّعۡدُودٖ
بے شک اس میں یقینا نشان (عبرت) ہے اس شخص کے لیے جو ڈر گیا عذاب آخرت سے، وہ (یوم آخرت) ایک دن ہے کہ جمع کیے جائیں گے اس میں سب لوگ اور وہ دن ہے کہ حاضر کیے جائیں گے (اس میں سب)(103) اور نہیں مؤخر کرتے ہیں ہم اس دن کو مگر واسطے (پورا کرنے) وقت مقرر کے (104)(جب) وہ دن آجائے گا تو نہ کلام کرے گا کوئی نفس مگر اللہ کے حکم سے، پھر کوئی ان میں سے بد بخت ہو گا اور کوئی نیک بخت(105) پس لیکن وہ لوگ جو بدبخت ہو ں گے تو (وہ) آگ میں ہوں گے، ان کے لیے اس میں چیخنا چلانا اور دھاڑنا ہو گا (106) ہمیشہ رہیں گے وہ اس (آگ) میں جب تک (باقی) رہیں گے آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب، بے شک آپ کا رب کر گزرنے والا ہے اس کو جو وہ چاہتا ہے (107)اور لیکن وہ لوگ جو نیک بخت بنائے گئے تو (وہ) جنت میں ہوں گے، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں جب تک (باقی) رہیں گے آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب، (یہ اللہ کی) عطاء ہے نہ ختم ہونے والی (108)
[103]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک ان میں ‘‘ یعنی عذاب کی مختلف انواع کے ذریعے سے ظالموں کو اللہ تعالیٰ کے پکڑنے میں ۔ ﴿ لَاٰيَةً لِّمَنۡ خَافَ عَذَابَ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’اس شخص کے لیے نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے‘‘ یعنی اس میں عبرت اور دلیل ہے کہ جو لوگ ظلم اور جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے لیے دنیاوی سزا اور اخروی عذاب ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذکر سے منتقل ہو کر آخرت کے وصف کا ذکر فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ يَوۡمٌ مَّجۡمُوۡعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ ﴾ ’’یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی اس روز تمام لوگوں کو جزا و سزا کے لیے جمع کیا جائے گا تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کا عدل عظیم ظاہر ہو اور اس کے ذریعے سے وہ اس کو اچھی طرح پہچان لیں ﴿ وَذٰلِكَ يَوۡمٌ مَّشۡهُوۡدٌ ﴾ ’’اور وہ دن ہے سب کے پیش ہونے کا‘‘ یعنی اس روز اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور تمام مخلوقات اس کا مشاہدہ کرے گی۔
[104]﴿ وَمَا نُؤَخِّرُهٗۤ ﴾ ’’ہم اس میں تاخیر نہیں کررہے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز کی آمد کو ہم موخر نہیں کرتے۔ ﴿ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعۡدُوۡدٍ ﴾ ’’مگر وقت مقرر کے لیے‘‘ یعنی جب دنیا کی مدت اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر مقرر کیا ہے پورا ہو جائے گا اس وقت وہ ان کو ایک اور جہان میں منتقل کرے گا اور وہاں ان پر اپنے احکام جزائی اسی طرح جاری کرے گا جس طرح اس دنیا میں ان پر احکام شرعیہ نافذ کیے تھے۔
[105]﴿يَوۡمَ يَاۡتِ ﴾ ’’جس روز وہ آجائے گا۔‘‘ یعنی جس روز یہ دن آئے گا اور تمام مخلوق اکٹھی ہوگی۔ ﴿ لَا تَكَلَّمُ نَفۡسٌ اِلَّا بِـاِذۡنِهٖ﴾ ’’اس کی اجازت کے بغیر کوئی کلام نہیں کرے گا‘‘ یہاں تک کہ اس روز انبیائے کرام اور مکرم فرشتے بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکیں گے۔ ﴿ فَمِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان میں سے بعض‘‘ یعنی تمام مخلوق میں سے ﴿ شَقِيٌّ وَّسَعِيۡدٌ ﴾ ’’بدبخت اور بعض نیک بخت ہیں ‘‘ بدبخت وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی اور خوش بخت وہ لوگ ہیں جو مومن اور متقی ہیں ۔
[106]﴿ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ شَقُوۡا﴾ ’’تو جو بدبخت ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو بدبختی، رسوائی اور فضیحت میں مبتلا ہوں گے۔ ﴿ فَفِي النَّارِ ﴾ تو وہ جہنم کے عذاب میں غوطے کھائیں گے اور آگ کا نہایت سخت عذاب ان کو جکڑ لے گا۔ ﴿ لَهُمۡ فِيۡهَا’’ان كے ليے اس ميں ‘‘ يعني اس سختي كي وجه سے جس ميں وه مبتلا هوں گے۔ ﴿ زَفِيۡرٌ وَّشَهِيۡقٌ ﴾ ’’چیخنا ہے اور دھاڑنا‘‘ اور یہ نہایت بری اور قبیح ترین آواز ہو گی۔
[107]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ یعنی اس جہنم میں جس کا عذاب یہ ہے ﴿ مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ﴾ ’’جب تک رہے گا آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب‘‘ یعنی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے سوائے اس مدت کے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ اس مدت کے دوران جہنم میں نہ رہیں اور یہ مدت جہنم میں داخل ہونے سے قبل کی ہے۔ یہ جمہور مفسرین کا قول ہے۔ پس اس صورت میں استثناء جہنم میں دخول سے قبل کی مدت کی طرف راجع ہے، یعنی وہ تمام زمانوں تک جہنم میں رہیں گے سوائے اس زمانے کے جو جہنم میں داخل ہونے سے پہلے تھا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب جو چاہتا ہے، کرتا ہے‘‘ ہر وہ فعل جس کا اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے اور اس کی حکمت مقتضی ہوتی ہے، کر گزرتا ہے کوئی اسے اس کے ارادے سے روک نہیں سکتا۔
[108]﴿ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ سُعِدُوۡا﴾ ’’اور جو نیک بخت ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھیں سعادت اور فوز و فلاح سے نوازا گیا ہے۔ ﴿ فَفِي الۡجَنَّةِ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ﴾ ’’وہ جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں مگر جو چاہے آپ کا رب۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے مزید تاکید کے طور پر فرمایا: ﴿ عَطَآءً غَيۡرَ مَجۡذُوۡذٍ ﴾ ’’بخشش بے انتہا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور لذتیں عطا کرے گا وہ ہمیشہ رہیں گی اور کسی وقت بھی منقطع نہ ہوں گی۔ ہم اللہ کریم سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی ان خوش بخت لوگوں کی معیت عطا کرے۔
11:105يَوۡمَ يَأۡتِ لَا تَكَلَّمُ نَفۡسٌ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ فَمِنۡهُمۡ شَقِيّٞ وَسَعِيدٞ
بے شک اس میں یقینا نشان (عبرت) ہے اس شخص کے لیے جو ڈر گیا عذاب آخرت سے، وہ (یوم آخرت) ایک دن ہے کہ جمع کیے جائیں گے اس میں سب لوگ اور وہ دن ہے کہ حاضر کیے جائیں گے (اس میں سب)(103) اور نہیں مؤخر کرتے ہیں ہم اس دن کو مگر واسطے (پورا کرنے) وقت مقرر کے (104)(جب) وہ دن آجائے گا تو نہ کلام کرے گا کوئی نفس مگر اللہ کے حکم سے، پھر کوئی ان میں سے بد بخت ہو گا اور کوئی نیک بخت(105) پس لیکن وہ لوگ جو بدبخت ہو ں گے تو (وہ) آگ میں ہوں گے، ان کے لیے اس میں چیخنا چلانا اور دھاڑنا ہو گا (106) ہمیشہ رہیں گے وہ اس (آگ) میں جب تک (باقی) رہیں گے آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب، بے شک آپ کا رب کر گزرنے والا ہے اس کو جو وہ چاہتا ہے (107)اور لیکن وہ لوگ جو نیک بخت بنائے گئے تو (وہ) جنت میں ہوں گے، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں جب تک (باقی) رہیں گے آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب، (یہ اللہ کی) عطاء ہے نہ ختم ہونے والی (108)
[103]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک ان میں ‘‘ یعنی عذاب کی مختلف انواع کے ذریعے سے ظالموں کو اللہ تعالیٰ کے پکڑنے میں ۔ ﴿ لَاٰيَةً لِّمَنۡ خَافَ عَذَابَ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’اس شخص کے لیے نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے‘‘ یعنی اس میں عبرت اور دلیل ہے کہ جو لوگ ظلم اور جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے لیے دنیاوی سزا اور اخروی عذاب ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذکر سے منتقل ہو کر آخرت کے وصف کا ذکر فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ يَوۡمٌ مَّجۡمُوۡعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ ﴾ ’’یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی اس روز تمام لوگوں کو جزا و سزا کے لیے جمع کیا جائے گا تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کا عدل عظیم ظاہر ہو اور اس کے ذریعے سے وہ اس کو اچھی طرح پہچان لیں ﴿ وَذٰلِكَ يَوۡمٌ مَّشۡهُوۡدٌ ﴾ ’’اور وہ دن ہے سب کے پیش ہونے کا‘‘ یعنی اس روز اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور تمام مخلوقات اس کا مشاہدہ کرے گی۔
[104]﴿ وَمَا نُؤَخِّرُهٗۤ ﴾ ’’ہم اس میں تاخیر نہیں کررہے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز کی آمد کو ہم موخر نہیں کرتے۔ ﴿ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعۡدُوۡدٍ ﴾ ’’مگر وقت مقرر کے لیے‘‘ یعنی جب دنیا کی مدت اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر مقرر کیا ہے پورا ہو جائے گا اس وقت وہ ان کو ایک اور جہان میں منتقل کرے گا اور وہاں ان پر اپنے احکام جزائی اسی طرح جاری کرے گا جس طرح اس دنیا میں ان پر احکام شرعیہ نافذ کیے تھے۔
[105]﴿يَوۡمَ يَاۡتِ ﴾ ’’جس روز وہ آجائے گا۔‘‘ یعنی جس روز یہ دن آئے گا اور تمام مخلوق اکٹھی ہوگی۔ ﴿ لَا تَكَلَّمُ نَفۡسٌ اِلَّا بِـاِذۡنِهٖ﴾ ’’اس کی اجازت کے بغیر کوئی کلام نہیں کرے گا‘‘ یہاں تک کہ اس روز انبیائے کرام اور مکرم فرشتے بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکیں گے۔ ﴿ فَمِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان میں سے بعض‘‘ یعنی تمام مخلوق میں سے ﴿ شَقِيٌّ وَّسَعِيۡدٌ ﴾ ’’بدبخت اور بعض نیک بخت ہیں ‘‘ بدبخت وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی اور خوش بخت وہ لوگ ہیں جو مومن اور متقی ہیں ۔
[106]﴿ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ شَقُوۡا﴾ ’’تو جو بدبخت ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو بدبختی، رسوائی اور فضیحت میں مبتلا ہوں گے۔ ﴿ فَفِي النَّارِ ﴾ تو وہ جہنم کے عذاب میں غوطے کھائیں گے اور آگ کا نہایت سخت عذاب ان کو جکڑ لے گا۔ ﴿ لَهُمۡ فِيۡهَا’’ان كے ليے اس ميں ‘‘ يعني اس سختي كي وجه سے جس ميں وه مبتلا هوں گے۔ ﴿ زَفِيۡرٌ وَّشَهِيۡقٌ ﴾ ’’چیخنا ہے اور دھاڑنا‘‘ اور یہ نہایت بری اور قبیح ترین آواز ہو گی۔
[107]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ یعنی اس جہنم میں جس کا عذاب یہ ہے ﴿ مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ﴾ ’’جب تک رہے گا آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب‘‘ یعنی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے سوائے اس مدت کے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ اس مدت کے دوران جہنم میں نہ رہیں اور یہ مدت جہنم میں داخل ہونے سے قبل کی ہے۔ یہ جمہور مفسرین کا قول ہے۔ پس اس صورت میں استثناء جہنم میں دخول سے قبل کی مدت کی طرف راجع ہے، یعنی وہ تمام زمانوں تک جہنم میں رہیں گے سوائے اس زمانے کے جو جہنم میں داخل ہونے سے پہلے تھا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب جو چاہتا ہے، کرتا ہے‘‘ ہر وہ فعل جس کا اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے اور اس کی حکمت مقتضی ہوتی ہے، کر گزرتا ہے کوئی اسے اس کے ارادے سے روک نہیں سکتا۔
[108]﴿ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ سُعِدُوۡا﴾ ’’اور جو نیک بخت ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھیں سعادت اور فوز و فلاح سے نوازا گیا ہے۔ ﴿ فَفِي الۡجَنَّةِ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ﴾ ’’وہ جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں مگر جو چاہے آپ کا رب۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے مزید تاکید کے طور پر فرمایا: ﴿ عَطَآءً غَيۡرَ مَجۡذُوۡذٍ ﴾ ’’بخشش بے انتہا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور لذتیں عطا کرے گا وہ ہمیشہ رہیں گی اور کسی وقت بھی منقطع نہ ہوں گی۔ ہم اللہ کریم سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی ان خوش بخت لوگوں کی معیت عطا کرے۔
11:106فَأَمَّا ٱلَّذِينَ شَقُواْ فَفِي ٱلنَّارِ لَهُمۡ فِيهَا زَفِيرٞ وَشَهِيقٌ
بے شک اس میں یقینا نشان (عبرت) ہے اس شخص کے لیے جو ڈر گیا عذاب آخرت سے، وہ (یوم آخرت) ایک دن ہے کہ جمع کیے جائیں گے اس میں سب لوگ اور وہ دن ہے کہ حاضر کیے جائیں گے (اس میں سب)(103) اور نہیں مؤخر کرتے ہیں ہم اس دن کو مگر واسطے (پورا کرنے) وقت مقرر کے (104)(جب) وہ دن آجائے گا تو نہ کلام کرے گا کوئی نفس مگر اللہ کے حکم سے، پھر کوئی ان میں سے بد بخت ہو گا اور کوئی نیک بخت(105) پس لیکن وہ لوگ جو بدبخت ہو ں گے تو (وہ) آگ میں ہوں گے، ان کے لیے اس میں چیخنا چلانا اور دھاڑنا ہو گا (106) ہمیشہ رہیں گے وہ اس (آگ) میں جب تک (باقی) رہیں گے آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب، بے شک آپ کا رب کر گزرنے والا ہے اس کو جو وہ چاہتا ہے (107)اور لیکن وہ لوگ جو نیک بخت بنائے گئے تو (وہ) جنت میں ہوں گے، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں جب تک (باقی) رہیں گے آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب، (یہ اللہ کی) عطاء ہے نہ ختم ہونے والی (108)
[103]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک ان میں ‘‘ یعنی عذاب کی مختلف انواع کے ذریعے سے ظالموں کو اللہ تعالیٰ کے پکڑنے میں ۔ ﴿ لَاٰيَةً لِّمَنۡ خَافَ عَذَابَ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’اس شخص کے لیے نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے‘‘ یعنی اس میں عبرت اور دلیل ہے کہ جو لوگ ظلم اور جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے لیے دنیاوی سزا اور اخروی عذاب ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذکر سے منتقل ہو کر آخرت کے وصف کا ذکر فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ يَوۡمٌ مَّجۡمُوۡعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ ﴾ ’’یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی اس روز تمام لوگوں کو جزا و سزا کے لیے جمع کیا جائے گا تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کا عدل عظیم ظاہر ہو اور اس کے ذریعے سے وہ اس کو اچھی طرح پہچان لیں ﴿ وَذٰلِكَ يَوۡمٌ مَّشۡهُوۡدٌ ﴾ ’’اور وہ دن ہے سب کے پیش ہونے کا‘‘ یعنی اس روز اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور تمام مخلوقات اس کا مشاہدہ کرے گی۔
[104]﴿ وَمَا نُؤَخِّرُهٗۤ ﴾ ’’ہم اس میں تاخیر نہیں کررہے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز کی آمد کو ہم موخر نہیں کرتے۔ ﴿ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعۡدُوۡدٍ ﴾ ’’مگر وقت مقرر کے لیے‘‘ یعنی جب دنیا کی مدت اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر مقرر کیا ہے پورا ہو جائے گا اس وقت وہ ان کو ایک اور جہان میں منتقل کرے گا اور وہاں ان پر اپنے احکام جزائی اسی طرح جاری کرے گا جس طرح اس دنیا میں ان پر احکام شرعیہ نافذ کیے تھے۔
[105]﴿يَوۡمَ يَاۡتِ ﴾ ’’جس روز وہ آجائے گا۔‘‘ یعنی جس روز یہ دن آئے گا اور تمام مخلوق اکٹھی ہوگی۔ ﴿ لَا تَكَلَّمُ نَفۡسٌ اِلَّا بِـاِذۡنِهٖ﴾ ’’اس کی اجازت کے بغیر کوئی کلام نہیں کرے گا‘‘ یہاں تک کہ اس روز انبیائے کرام اور مکرم فرشتے بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکیں گے۔ ﴿ فَمِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان میں سے بعض‘‘ یعنی تمام مخلوق میں سے ﴿ شَقِيٌّ وَّسَعِيۡدٌ ﴾ ’’بدبخت اور بعض نیک بخت ہیں ‘‘ بدبخت وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی اور خوش بخت وہ لوگ ہیں جو مومن اور متقی ہیں ۔
[106]﴿ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ شَقُوۡا﴾ ’’تو جو بدبخت ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو بدبختی، رسوائی اور فضیحت میں مبتلا ہوں گے۔ ﴿ فَفِي النَّارِ ﴾ تو وہ جہنم کے عذاب میں غوطے کھائیں گے اور آگ کا نہایت سخت عذاب ان کو جکڑ لے گا۔ ﴿ لَهُمۡ فِيۡهَا’’ان كے ليے اس ميں ‘‘ يعني اس سختي كي وجه سے جس ميں وه مبتلا هوں گے۔ ﴿ زَفِيۡرٌ وَّشَهِيۡقٌ ﴾ ’’چیخنا ہے اور دھاڑنا‘‘ اور یہ نہایت بری اور قبیح ترین آواز ہو گی۔
[107]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ یعنی اس جہنم میں جس کا عذاب یہ ہے ﴿ مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ﴾ ’’جب تک رہے گا آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب‘‘ یعنی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے سوائے اس مدت کے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ اس مدت کے دوران جہنم میں نہ رہیں اور یہ مدت جہنم میں داخل ہونے سے قبل کی ہے۔ یہ جمہور مفسرین کا قول ہے۔ پس اس صورت میں استثناء جہنم میں دخول سے قبل کی مدت کی طرف راجع ہے، یعنی وہ تمام زمانوں تک جہنم میں رہیں گے سوائے اس زمانے کے جو جہنم میں داخل ہونے سے پہلے تھا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب جو چاہتا ہے، کرتا ہے‘‘ ہر وہ فعل جس کا اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے اور اس کی حکمت مقتضی ہوتی ہے، کر گزرتا ہے کوئی اسے اس کے ارادے سے روک نہیں سکتا۔
[108]﴿ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ سُعِدُوۡا﴾ ’’اور جو نیک بخت ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھیں سعادت اور فوز و فلاح سے نوازا گیا ہے۔ ﴿ فَفِي الۡجَنَّةِ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ﴾ ’’وہ جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں مگر جو چاہے آپ کا رب۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے مزید تاکید کے طور پر فرمایا: ﴿ عَطَآءً غَيۡرَ مَجۡذُوۡذٍ ﴾ ’’بخشش بے انتہا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور لذتیں عطا کرے گا وہ ہمیشہ رہیں گی اور کسی وقت بھی منقطع نہ ہوں گی۔ ہم اللہ کریم سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی ان خوش بخت لوگوں کی معیت عطا کرے۔
11:107خَٰلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلۡأَرۡضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَۚ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٞ لِّمَا يُرِيدُ
بے شک اس میں یقینا نشان (عبرت) ہے اس شخص کے لیے جو ڈر گیا عذاب آخرت سے، وہ (یوم آخرت) ایک دن ہے کہ جمع کیے جائیں گے اس میں سب لوگ اور وہ دن ہے کہ حاضر کیے جائیں گے (اس میں سب)(103) اور نہیں مؤخر کرتے ہیں ہم اس دن کو مگر واسطے (پورا کرنے) وقت مقرر کے (104)(جب) وہ دن آجائے گا تو نہ کلام کرے گا کوئی نفس مگر اللہ کے حکم سے، پھر کوئی ان میں سے بد بخت ہو گا اور کوئی نیک بخت(105) پس لیکن وہ لوگ جو بدبخت ہو ں گے تو (وہ) آگ میں ہوں گے، ان کے لیے اس میں چیخنا چلانا اور دھاڑنا ہو گا (106) ہمیشہ رہیں گے وہ اس (آگ) میں جب تک (باقی) رہیں گے آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب، بے شک آپ کا رب کر گزرنے والا ہے اس کو جو وہ چاہتا ہے (107)اور لیکن وہ لوگ جو نیک بخت بنائے گئے تو (وہ) جنت میں ہوں گے، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں جب تک (باقی) رہیں گے آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب، (یہ اللہ کی) عطاء ہے نہ ختم ہونے والی (108)
[103]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک ان میں ‘‘ یعنی عذاب کی مختلف انواع کے ذریعے سے ظالموں کو اللہ تعالیٰ کے پکڑنے میں ۔ ﴿ لَاٰيَةً لِّمَنۡ خَافَ عَذَابَ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’اس شخص کے لیے نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے‘‘ یعنی اس میں عبرت اور دلیل ہے کہ جو لوگ ظلم اور جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے لیے دنیاوی سزا اور اخروی عذاب ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذکر سے منتقل ہو کر آخرت کے وصف کا ذکر فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ يَوۡمٌ مَّجۡمُوۡعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ ﴾ ’’یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی اس روز تمام لوگوں کو جزا و سزا کے لیے جمع کیا جائے گا تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کا عدل عظیم ظاہر ہو اور اس کے ذریعے سے وہ اس کو اچھی طرح پہچان لیں ﴿ وَذٰلِكَ يَوۡمٌ مَّشۡهُوۡدٌ ﴾ ’’اور وہ دن ہے سب کے پیش ہونے کا‘‘ یعنی اس روز اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور تمام مخلوقات اس کا مشاہدہ کرے گی۔
[104]﴿ وَمَا نُؤَخِّرُهٗۤ ﴾ ’’ہم اس میں تاخیر نہیں کررہے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز کی آمد کو ہم موخر نہیں کرتے۔ ﴿ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعۡدُوۡدٍ ﴾ ’’مگر وقت مقرر کے لیے‘‘ یعنی جب دنیا کی مدت اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر مقرر کیا ہے پورا ہو جائے گا اس وقت وہ ان کو ایک اور جہان میں منتقل کرے گا اور وہاں ان پر اپنے احکام جزائی اسی طرح جاری کرے گا جس طرح اس دنیا میں ان پر احکام شرعیہ نافذ کیے تھے۔
[105]﴿يَوۡمَ يَاۡتِ ﴾ ’’جس روز وہ آجائے گا۔‘‘ یعنی جس روز یہ دن آئے گا اور تمام مخلوق اکٹھی ہوگی۔ ﴿ لَا تَكَلَّمُ نَفۡسٌ اِلَّا بِـاِذۡنِهٖ﴾ ’’اس کی اجازت کے بغیر کوئی کلام نہیں کرے گا‘‘ یہاں تک کہ اس روز انبیائے کرام اور مکرم فرشتے بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکیں گے۔ ﴿ فَمِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان میں سے بعض‘‘ یعنی تمام مخلوق میں سے ﴿ شَقِيٌّ وَّسَعِيۡدٌ ﴾ ’’بدبخت اور بعض نیک بخت ہیں ‘‘ بدبخت وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی اور خوش بخت وہ لوگ ہیں جو مومن اور متقی ہیں ۔
[106]﴿ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ شَقُوۡا﴾ ’’تو جو بدبخت ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو بدبختی، رسوائی اور فضیحت میں مبتلا ہوں گے۔ ﴿ فَفِي النَّارِ ﴾ تو وہ جہنم کے عذاب میں غوطے کھائیں گے اور آگ کا نہایت سخت عذاب ان کو جکڑ لے گا۔ ﴿ لَهُمۡ فِيۡهَا’’ان كے ليے اس ميں ‘‘ يعني اس سختي كي وجه سے جس ميں وه مبتلا هوں گے۔ ﴿ زَفِيۡرٌ وَّشَهِيۡقٌ ﴾ ’’چیخنا ہے اور دھاڑنا‘‘ اور یہ نہایت بری اور قبیح ترین آواز ہو گی۔
[107]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ یعنی اس جہنم میں جس کا عذاب یہ ہے ﴿ مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ﴾ ’’جب تک رہے گا آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب‘‘ یعنی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے سوائے اس مدت کے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ اس مدت کے دوران جہنم میں نہ رہیں اور یہ مدت جہنم میں داخل ہونے سے قبل کی ہے۔ یہ جمہور مفسرین کا قول ہے۔ پس اس صورت میں استثناء جہنم میں دخول سے قبل کی مدت کی طرف راجع ہے، یعنی وہ تمام زمانوں تک جہنم میں رہیں گے سوائے اس زمانے کے جو جہنم میں داخل ہونے سے پہلے تھا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب جو چاہتا ہے، کرتا ہے‘‘ ہر وہ فعل جس کا اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے اور اس کی حکمت مقتضی ہوتی ہے، کر گزرتا ہے کوئی اسے اس کے ارادے سے روک نہیں سکتا۔
[108]﴿ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ سُعِدُوۡا﴾ ’’اور جو نیک بخت ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھیں سعادت اور فوز و فلاح سے نوازا گیا ہے۔ ﴿ فَفِي الۡجَنَّةِ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ﴾ ’’وہ جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں مگر جو چاہے آپ کا رب۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے مزید تاکید کے طور پر فرمایا: ﴿ عَطَآءً غَيۡرَ مَجۡذُوۡذٍ ﴾ ’’بخشش بے انتہا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور لذتیں عطا کرے گا وہ ہمیشہ رہیں گی اور کسی وقت بھی منقطع نہ ہوں گی۔ ہم اللہ کریم سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی ان خوش بخت لوگوں کی معیت عطا کرے۔
11:108۞وَأَمَّا ٱلَّذِينَ سُعِدُواْ فَفِي ٱلۡجَنَّةِ خَٰلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلۡأَرۡضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَۖ عَطَآءً غَيۡرَ مَجۡذُوذٖ
بے شک اس میں یقینا نشان (عبرت) ہے اس شخص کے لیے جو ڈر گیا عذاب آخرت سے، وہ (یوم آخرت) ایک دن ہے کہ جمع کیے جائیں گے اس میں سب لوگ اور وہ دن ہے کہ حاضر کیے جائیں گے (اس میں سب)(103) اور نہیں مؤخر کرتے ہیں ہم اس دن کو مگر واسطے (پورا کرنے) وقت مقرر کے (104)(جب) وہ دن آجائے گا تو نہ کلام کرے گا کوئی نفس مگر اللہ کے حکم سے، پھر کوئی ان میں سے بد بخت ہو گا اور کوئی نیک بخت(105) پس لیکن وہ لوگ جو بدبخت ہو ں گے تو (وہ) آگ میں ہوں گے، ان کے لیے اس میں چیخنا چلانا اور دھاڑنا ہو گا (106) ہمیشہ رہیں گے وہ اس (آگ) میں جب تک (باقی) رہیں گے آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب، بے شک آپ کا رب کر گزرنے والا ہے اس کو جو وہ چاہتا ہے (107)اور لیکن وہ لوگ جو نیک بخت بنائے گئے تو (وہ) جنت میں ہوں گے، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں جب تک (باقی) رہیں گے آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب، (یہ اللہ کی) عطاء ہے نہ ختم ہونے والی (108)
[103]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک ان میں ‘‘ یعنی عذاب کی مختلف انواع کے ذریعے سے ظالموں کو اللہ تعالیٰ کے پکڑنے میں ۔ ﴿ لَاٰيَةً لِّمَنۡ خَافَ عَذَابَ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’اس شخص کے لیے نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے‘‘ یعنی اس میں عبرت اور دلیل ہے کہ جو لوگ ظلم اور جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے لیے دنیاوی سزا اور اخروی عذاب ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذکر سے منتقل ہو کر آخرت کے وصف کا ذکر فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ يَوۡمٌ مَّجۡمُوۡعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ ﴾ ’’یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی اس روز تمام لوگوں کو جزا و سزا کے لیے جمع کیا جائے گا تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کا عدل عظیم ظاہر ہو اور اس کے ذریعے سے وہ اس کو اچھی طرح پہچان لیں ﴿ وَذٰلِكَ يَوۡمٌ مَّشۡهُوۡدٌ ﴾ ’’اور وہ دن ہے سب کے پیش ہونے کا‘‘ یعنی اس روز اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور تمام مخلوقات اس کا مشاہدہ کرے گی۔
[104]﴿ وَمَا نُؤَخِّرُهٗۤ ﴾ ’’ہم اس میں تاخیر نہیں کررہے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز کی آمد کو ہم موخر نہیں کرتے۔ ﴿ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعۡدُوۡدٍ ﴾ ’’مگر وقت مقرر کے لیے‘‘ یعنی جب دنیا کی مدت اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر مقرر کیا ہے پورا ہو جائے گا اس وقت وہ ان کو ایک اور جہان میں منتقل کرے گا اور وہاں ان پر اپنے احکام جزائی اسی طرح جاری کرے گا جس طرح اس دنیا میں ان پر احکام شرعیہ نافذ کیے تھے۔
[105]﴿يَوۡمَ يَاۡتِ ﴾ ’’جس روز وہ آجائے گا۔‘‘ یعنی جس روز یہ دن آئے گا اور تمام مخلوق اکٹھی ہوگی۔ ﴿ لَا تَكَلَّمُ نَفۡسٌ اِلَّا بِـاِذۡنِهٖ﴾ ’’اس کی اجازت کے بغیر کوئی کلام نہیں کرے گا‘‘ یہاں تک کہ اس روز انبیائے کرام اور مکرم فرشتے بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکیں گے۔ ﴿ فَمِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان میں سے بعض‘‘ یعنی تمام مخلوق میں سے ﴿ شَقِيٌّ وَّسَعِيۡدٌ ﴾ ’’بدبخت اور بعض نیک بخت ہیں ‘‘ بدبخت وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی اور خوش بخت وہ لوگ ہیں جو مومن اور متقی ہیں ۔
[106]﴿ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ شَقُوۡا﴾ ’’تو جو بدبخت ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو بدبختی، رسوائی اور فضیحت میں مبتلا ہوں گے۔ ﴿ فَفِي النَّارِ ﴾ تو وہ جہنم کے عذاب میں غوطے کھائیں گے اور آگ کا نہایت سخت عذاب ان کو جکڑ لے گا۔ ﴿ لَهُمۡ فِيۡهَا’’ان كے ليے اس ميں ‘‘ يعني اس سختي كي وجه سے جس ميں وه مبتلا هوں گے۔ ﴿ زَفِيۡرٌ وَّشَهِيۡقٌ ﴾ ’’چیخنا ہے اور دھاڑنا‘‘ اور یہ نہایت بری اور قبیح ترین آواز ہو گی۔
[107]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ یعنی اس جہنم میں جس کا عذاب یہ ہے ﴿ مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ﴾ ’’جب تک رہے گا آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب‘‘ یعنی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے سوائے اس مدت کے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ اس مدت کے دوران جہنم میں نہ رہیں اور یہ مدت جہنم میں داخل ہونے سے قبل کی ہے۔ یہ جمہور مفسرین کا قول ہے۔ پس اس صورت میں استثناء جہنم میں دخول سے قبل کی مدت کی طرف راجع ہے، یعنی وہ تمام زمانوں تک جہنم میں رہیں گے سوائے اس زمانے کے جو جہنم میں داخل ہونے سے پہلے تھا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب جو چاہتا ہے، کرتا ہے‘‘ ہر وہ فعل جس کا اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے اور اس کی حکمت مقتضی ہوتی ہے، کر گزرتا ہے کوئی اسے اس کے ارادے سے روک نہیں سکتا۔
[108]﴿ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ سُعِدُوۡا﴾ ’’اور جو نیک بخت ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھیں سعادت اور فوز و فلاح سے نوازا گیا ہے۔ ﴿ فَفِي الۡجَنَّةِ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ﴾ ’’وہ جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں مگر جو چاہے آپ کا رب۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے مزید تاکید کے طور پر فرمایا: ﴿ عَطَآءً غَيۡرَ مَجۡذُوۡذٍ ﴾ ’’بخشش بے انتہا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور لذتیں عطا کرے گا وہ ہمیشہ رہیں گی اور کسی وقت بھی منقطع نہ ہوں گی۔ ہم اللہ کریم سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی ان خوش بخت لوگوں کی معیت عطا کرے۔
11:109فَلَا تَكُ فِي مِرۡيَةٖ مِّمَّا يَعۡبُدُ هَـٰٓؤُلَآءِۚ مَا يَعۡبُدُونَ إِلَّا كَمَا يَعۡبُدُ ءَابَآؤُهُم مِّن قَبۡلُۚ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمۡ نَصِيبَهُمۡ غَيۡرَ مَنقُوصٖ
پس نہ ہوں آپ شک میں اس سے جو عبادت کرتے ہیں یہ لوگ، نہیں عبادت کرتے وہ مگر جیسے عبادت کرتے تھے باپ دادے ان کے پہلے (ان سے)اور بے شک ہم ، البتہ پورا دیں گے انھیں حصہ ان کا، نہیں کم کیا جائے گا (اس سے کچھ)(109)
[109] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ سے خطاب کرکے فرماتا ہے: ﴿ فَلَا تَكُ فِيۡ مِرۡيَةٍ مِّؔمَّا يَعۡبُدُ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’آپ ان معبودان باطل کی طرف سے کسی شک میں نہ رہیں جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں ‘‘ یعنی آپ کو ان کے حال کے بارے میں کوئی شک نہ رہے وہ جس راہ پر چل رہے ہیں وہ باطل ہے اور ان کے پاس کوئی شرعی اور عقلی دلیل نہیں ہے۔ ان کی دلیل اور شبہ تو بس یہ ہے کہ وہ ﴿ مَا يَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا كَمَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ﴾ ’’یہ انھی کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت اس سے قبل ان کے باپ دادا کرتے تھے‘‘ اور یہ واضح طور پر معلوم ہے کہ ان کے آباء و اجداد کا ان باطل معبودوں کی عبادت کرنا، دلیل ہونا تو کجا یہ تو شبہ کے زمرے میں بھی نہیں آتا کیونکہ انبیاء کے سوا کسی کا قول حجت نہیں ۔ خاص طور پر ان جیسے گمراہ لوگ، جو اصول دین میں بکثرت اغلاط اور فساد اقوال کے حامل ہوتے ہیں کیونکہ ان کے اقوال اگرچہ وہ ان کے ہاں متفق علیہ کیوں نہ ہوں، خطا اور ضلالت پر مبنی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَمُوَفُّوۡهُمۡ نَصِيۡبَهُمۡ غَيۡرَ مَنۡقُوۡصٍ ﴾ ’’اور ہم دینے والے ہیں ان کو ان کا حصہ، بغیر کمی کیے‘‘ یعنی وہ لازمی طور پر دنیا کے حصے سے بہرہ ور ہوں گے جو ان کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔ خواہ یہ دنیاوی نصیب آپ کی نظر میں کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو مگر یہ ان کے احوال کے درست ہونے پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے بھی دنیا عطا کرتا ہے جس سے محبت کرتا ہے اور اسے بھی عطا کرتا ہے جس سے محبت نہیں کرتا مگر ایمان اور دین سے صرف اسی شخص کو نوازتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ گمراہ لوگوں کے اپنے گمراہ آباء و اجداد کے نظریات پر اتفاق کر لینے سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے اور نہ اس بات سے دھوکہ کھانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیاوی مال و متاع سے نواز رکھا ہے۔
11:110وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ فَٱخۡتُلِفَ فِيهِۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۚ وَإِنَّهُمۡ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُ مُرِيبٖ
اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب تو اختلاف کیا گیا اس میں اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے (طے) ہو چکی ہے آپ کے رب کی طرف سے تو ضرور فیصلہ کر دیا جاتا درمیان ان کےاور یقینا وہ ایسے شک میں ہیں اس سے (جو انھیں ) بے چین کرنے والا ہے(110) اور بے شک ہر ایک کو البتہ ضرور پوری پوری دے گاآپ کا رب (جزاء) ان کے عملوں کی، بے شک وہ ساتھ اس کے جو وہ عمل کرتے ہیں خبردار ہے (111) پس ثابت رہیں آپ جس طرح حکم کیے گئے ہیں آپ اور وہ لوگ بھی جنھوں نے توبہ کی آپ کے ساتھ اور نہ سرکشی کرو تم، بے شک وہ (اللہ) اسے جو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(112) اور نہ جھکو تم طرف ان لوگوں کی جنھوں نے ظلم کیا، پس (ورنہ) چھوئے گی تمھیں آگ اور نہیں ہو گا تمھارے لیے سوائے اللہ کے کوئی دوست، پھر نہ مدد کیے جاؤ گے تم (113)
[110] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے جناب موسیٰu کو کتاب عطا کی، جس کو تورات کہا جاتا ہے جو اس کے اوامر و نواہی پر ان کے اتفاق و اجتماع کی موجب ہے۔ مگر اس کے باوجود تورات سے نسبت رکھنے والوں نے اس میں اختلاف پیدا کیا جس نے ان کے عقائد اور ان کی دینی جمعیت کو سخت نقصان پہنچایا۔ ﴿ وَلَوۡ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’اگر تمھارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی۔‘‘ یعنی ان کے معاملہ کو موخر کرنے اور ان کو عذاب میں عجلت نہ کرنے کے بارے میں ایک بات پہلے طے نہ ہو چکی ہوتی ﴿ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’تو ان کا فیصلہ کردیا جاتا۔‘‘ یعنی ظالم پر عذاب نازل ہو چکا ہوتا۔ مگر اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے کو قیامت تک کے لیے موخر کر دے اور یہ لوگ شک و شبہ ہی میں مبتلا رہیں ۔ جب ان کا اپنی کتاب کے ساتھ یہ حال ہے تو قرآن جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کیا ہے یہود کے ایک گروہ کا یہ رویہ تعجب خیز نہیں ہے کہ وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور اس کے بارے میں شک و ریب میں مبتلا ہیں ۔
[111]﴿ وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمۡ رَبُّكَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ ’’اور جتنے لوگ ہیں ، سب کو پورا دے گا آپ کا رب ان کے اعمال (کا بدلہ)‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے درمیان ضرور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو وہی سزا و جزا دے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔ ﴿ اِنَّهٗ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ اس سے جو عمل یہ کرتے ہیں ۔‘‘ اچھے یا برے۔ ﴿ خَبِيۡرٌ ﴾ ’’باخبر ہے‘‘ ان کے اعمال میں سے کوئی چھوٹی یا بڑی چیز اس پر مخفی نہیں ۔
[112] اللہ تعالیٰ نے یہود کی عدم استقامت کا ذکر کرنے کے بعد، جو ان کے اختلاف و افتراق کا باعث تھی، اپنے نبی محمد مصطفیﷺ اور اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ صراط مستقیم پر گامزن رہیں جیسا کہ ان کو حکم دیا گیا ہے اور اس شریعت کو لائحہ عمل بنائیں جو ان کے لیے مشروع کی گئی ہے اور ان اعتقادات صحیحہ کو اپنا عقیدہ بنائیں جو اللہ تعالیٰ نے وحی کیے ہیں ۔ اس سیدھے راستے کو چھوڑ کر دائیں ، بائیں ٹیڑھی راہوں پر نہ چلیں اور دائمی طور پر اسی عقیدے اور اسی شریعت پر عمل پیرا رہیں اور سرکشی اختیار نہ کریں ، یعنی استقامت کی ان حدود سے تجاوز نہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر فرمائی ہیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’وہ تمھارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ پر تمھارے اعمال میں سے کچھ بھی مخفی نہیں اور وہ تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔ ان آیات کریمہ میں استقامت کو مسلک بنانے کی ترغیب اور اس کے برعکس راستہ اختیار کرنے پر ترہیب دی گئی ہے۔
[113] بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی طرف میلان رکھنے سے منع فرمایا جنھوں نے استقامت کو چھوڑ دیا۔﴿وَلَا تَرۡؔكَنُوۡۤا اِلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور مت جھکو ان لوگوں کی طرف جو ظالم ہیں ‘‘ کیونکہ اگر تم ان کی طرف مائل ہوئے، ان کے ظلم و تعدی پر ان کی موافقت کی یا ان کے ظلم پر راضی ہوئے ﴿فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ﴾ ’’تو تمھیں جہنم کی آگ آ لپٹے گی۔‘‘ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’اور اللہ کے سوا تمھارے کوئی مددگار نہیں ‘‘ جو تمھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکیں ۔ اس آیت کریمہ میں ظالم کی طرف میلان رکھنے سے روکا گیا ہے۔ یہاں (رکون) سے مراد ظالم کے ظلم کی طرف میلان، اس کے ظلم کی موافقت اور اس کے ظلم پر راضی ہونا ہے۔ جب ظالموں کی طرف میلان رکھنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتنی شدید وعید ہے تو خود ظالموں کا کیا حال ہوگا… ہم اللہ تعالیٰ سے ظلم سے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔
11:111وَإِنَّ كُلّٗا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمۡ رَبُّكَ أَعۡمَٰلَهُمۡۚ إِنَّهُۥ بِمَا يَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ
اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب تو اختلاف کیا گیا اس میں اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے (طے) ہو چکی ہے آپ کے رب کی طرف سے تو ضرور فیصلہ کر دیا جاتا درمیان ان کےاور یقینا وہ ایسے شک میں ہیں اس سے (جو انھیں ) بے چین کرنے والا ہے(110) اور بے شک ہر ایک کو البتہ ضرور پوری پوری دے گاآپ کا رب (جزاء) ان کے عملوں کی، بے شک وہ ساتھ اس کے جو وہ عمل کرتے ہیں خبردار ہے (111) پس ثابت رہیں آپ جس طرح حکم کیے گئے ہیں آپ اور وہ لوگ بھی جنھوں نے توبہ کی آپ کے ساتھ اور نہ سرکشی کرو تم، بے شک وہ (اللہ) اسے جو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(112) اور نہ جھکو تم طرف ان لوگوں کی جنھوں نے ظلم کیا، پس (ورنہ) چھوئے گی تمھیں آگ اور نہیں ہو گا تمھارے لیے سوائے اللہ کے کوئی دوست، پھر نہ مدد کیے جاؤ گے تم (113)
[110] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے جناب موسیٰu کو کتاب عطا کی، جس کو تورات کہا جاتا ہے جو اس کے اوامر و نواہی پر ان کے اتفاق و اجتماع کی موجب ہے۔ مگر اس کے باوجود تورات سے نسبت رکھنے والوں نے اس میں اختلاف پیدا کیا جس نے ان کے عقائد اور ان کی دینی جمعیت کو سخت نقصان پہنچایا۔ ﴿ وَلَوۡ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’اگر تمھارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی۔‘‘ یعنی ان کے معاملہ کو موخر کرنے اور ان کو عذاب میں عجلت نہ کرنے کے بارے میں ایک بات پہلے طے نہ ہو چکی ہوتی ﴿ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’تو ان کا فیصلہ کردیا جاتا۔‘‘ یعنی ظالم پر عذاب نازل ہو چکا ہوتا۔ مگر اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے کو قیامت تک کے لیے موخر کر دے اور یہ لوگ شک و شبہ ہی میں مبتلا رہیں ۔ جب ان کا اپنی کتاب کے ساتھ یہ حال ہے تو قرآن جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کیا ہے یہود کے ایک گروہ کا یہ رویہ تعجب خیز نہیں ہے کہ وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور اس کے بارے میں شک و ریب میں مبتلا ہیں ۔
[111]﴿ وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمۡ رَبُّكَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ ’’اور جتنے لوگ ہیں ، سب کو پورا دے گا آپ کا رب ان کے اعمال (کا بدلہ)‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے درمیان ضرور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو وہی سزا و جزا دے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔ ﴿ اِنَّهٗ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ اس سے جو عمل یہ کرتے ہیں ۔‘‘ اچھے یا برے۔ ﴿ خَبِيۡرٌ ﴾ ’’باخبر ہے‘‘ ان کے اعمال میں سے کوئی چھوٹی یا بڑی چیز اس پر مخفی نہیں ۔
[112] اللہ تعالیٰ نے یہود کی عدم استقامت کا ذکر کرنے کے بعد، جو ان کے اختلاف و افتراق کا باعث تھی، اپنے نبی محمد مصطفیﷺ اور اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ صراط مستقیم پر گامزن رہیں جیسا کہ ان کو حکم دیا گیا ہے اور اس شریعت کو لائحہ عمل بنائیں جو ان کے لیے مشروع کی گئی ہے اور ان اعتقادات صحیحہ کو اپنا عقیدہ بنائیں جو اللہ تعالیٰ نے وحی کیے ہیں ۔ اس سیدھے راستے کو چھوڑ کر دائیں ، بائیں ٹیڑھی راہوں پر نہ چلیں اور دائمی طور پر اسی عقیدے اور اسی شریعت پر عمل پیرا رہیں اور سرکشی اختیار نہ کریں ، یعنی استقامت کی ان حدود سے تجاوز نہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر فرمائی ہیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’وہ تمھارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ پر تمھارے اعمال میں سے کچھ بھی مخفی نہیں اور وہ تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔ ان آیات کریمہ میں استقامت کو مسلک بنانے کی ترغیب اور اس کے برعکس راستہ اختیار کرنے پر ترہیب دی گئی ہے۔
[113] بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی طرف میلان رکھنے سے منع فرمایا جنھوں نے استقامت کو چھوڑ دیا۔﴿وَلَا تَرۡؔكَنُوۡۤا اِلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور مت جھکو ان لوگوں کی طرف جو ظالم ہیں ‘‘ کیونکہ اگر تم ان کی طرف مائل ہوئے، ان کے ظلم و تعدی پر ان کی موافقت کی یا ان کے ظلم پر راضی ہوئے ﴿فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ﴾ ’’تو تمھیں جہنم کی آگ آ لپٹے گی۔‘‘ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’اور اللہ کے سوا تمھارے کوئی مددگار نہیں ‘‘ جو تمھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکیں ۔ اس آیت کریمہ میں ظالم کی طرف میلان رکھنے سے روکا گیا ہے۔ یہاں (رکون) سے مراد ظالم کے ظلم کی طرف میلان، اس کے ظلم کی موافقت اور اس کے ظلم پر راضی ہونا ہے۔ جب ظالموں کی طرف میلان رکھنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتنی شدید وعید ہے تو خود ظالموں کا کیا حال ہوگا… ہم اللہ تعالیٰ سے ظلم سے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔
11:112فَٱسۡتَقِمۡ كَمَآ أُمِرۡتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطۡغَوۡاْۚ إِنَّهُۥ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ
اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب تو اختلاف کیا گیا اس میں اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے (طے) ہو چکی ہے آپ کے رب کی طرف سے تو ضرور فیصلہ کر دیا جاتا درمیان ان کےاور یقینا وہ ایسے شک میں ہیں اس سے (جو انھیں ) بے چین کرنے والا ہے(110) اور بے شک ہر ایک کو البتہ ضرور پوری پوری دے گاآپ کا رب (جزاء) ان کے عملوں کی، بے شک وہ ساتھ اس کے جو وہ عمل کرتے ہیں خبردار ہے (111) پس ثابت رہیں آپ جس طرح حکم کیے گئے ہیں آپ اور وہ لوگ بھی جنھوں نے توبہ کی آپ کے ساتھ اور نہ سرکشی کرو تم، بے شک وہ (اللہ) اسے جو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(112) اور نہ جھکو تم طرف ان لوگوں کی جنھوں نے ظلم کیا، پس (ورنہ) چھوئے گی تمھیں آگ اور نہیں ہو گا تمھارے لیے سوائے اللہ کے کوئی دوست، پھر نہ مدد کیے جاؤ گے تم (113)
[110] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے جناب موسیٰu کو کتاب عطا کی، جس کو تورات کہا جاتا ہے جو اس کے اوامر و نواہی پر ان کے اتفاق و اجتماع کی موجب ہے۔ مگر اس کے باوجود تورات سے نسبت رکھنے والوں نے اس میں اختلاف پیدا کیا جس نے ان کے عقائد اور ان کی دینی جمعیت کو سخت نقصان پہنچایا۔ ﴿ وَلَوۡ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’اگر تمھارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی۔‘‘ یعنی ان کے معاملہ کو موخر کرنے اور ان کو عذاب میں عجلت نہ کرنے کے بارے میں ایک بات پہلے طے نہ ہو چکی ہوتی ﴿ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’تو ان کا فیصلہ کردیا جاتا۔‘‘ یعنی ظالم پر عذاب نازل ہو چکا ہوتا۔ مگر اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے کو قیامت تک کے لیے موخر کر دے اور یہ لوگ شک و شبہ ہی میں مبتلا رہیں ۔ جب ان کا اپنی کتاب کے ساتھ یہ حال ہے تو قرآن جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کیا ہے یہود کے ایک گروہ کا یہ رویہ تعجب خیز نہیں ہے کہ وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور اس کے بارے میں شک و ریب میں مبتلا ہیں ۔
[111]﴿ وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمۡ رَبُّكَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ ’’اور جتنے لوگ ہیں ، سب کو پورا دے گا آپ کا رب ان کے اعمال (کا بدلہ)‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے درمیان ضرور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو وہی سزا و جزا دے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔ ﴿ اِنَّهٗ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ اس سے جو عمل یہ کرتے ہیں ۔‘‘ اچھے یا برے۔ ﴿ خَبِيۡرٌ ﴾ ’’باخبر ہے‘‘ ان کے اعمال میں سے کوئی چھوٹی یا بڑی چیز اس پر مخفی نہیں ۔
[112] اللہ تعالیٰ نے یہود کی عدم استقامت کا ذکر کرنے کے بعد، جو ان کے اختلاف و افتراق کا باعث تھی، اپنے نبی محمد مصطفیﷺ اور اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ صراط مستقیم پر گامزن رہیں جیسا کہ ان کو حکم دیا گیا ہے اور اس شریعت کو لائحہ عمل بنائیں جو ان کے لیے مشروع کی گئی ہے اور ان اعتقادات صحیحہ کو اپنا عقیدہ بنائیں جو اللہ تعالیٰ نے وحی کیے ہیں ۔ اس سیدھے راستے کو چھوڑ کر دائیں ، بائیں ٹیڑھی راہوں پر نہ چلیں اور دائمی طور پر اسی عقیدے اور اسی شریعت پر عمل پیرا رہیں اور سرکشی اختیار نہ کریں ، یعنی استقامت کی ان حدود سے تجاوز نہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر فرمائی ہیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’وہ تمھارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ پر تمھارے اعمال میں سے کچھ بھی مخفی نہیں اور وہ تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔ ان آیات کریمہ میں استقامت کو مسلک بنانے کی ترغیب اور اس کے برعکس راستہ اختیار کرنے پر ترہیب دی گئی ہے۔
[113] بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی طرف میلان رکھنے سے منع فرمایا جنھوں نے استقامت کو چھوڑ دیا۔﴿وَلَا تَرۡؔكَنُوۡۤا اِلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور مت جھکو ان لوگوں کی طرف جو ظالم ہیں ‘‘ کیونکہ اگر تم ان کی طرف مائل ہوئے، ان کے ظلم و تعدی پر ان کی موافقت کی یا ان کے ظلم پر راضی ہوئے ﴿فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ﴾ ’’تو تمھیں جہنم کی آگ آ لپٹے گی۔‘‘ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’اور اللہ کے سوا تمھارے کوئی مددگار نہیں ‘‘ جو تمھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکیں ۔ اس آیت کریمہ میں ظالم کی طرف میلان رکھنے سے روکا گیا ہے۔ یہاں (رکون) سے مراد ظالم کے ظلم کی طرف میلان، اس کے ظلم کی موافقت اور اس کے ظلم پر راضی ہونا ہے۔ جب ظالموں کی طرف میلان رکھنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتنی شدید وعید ہے تو خود ظالموں کا کیا حال ہوگا… ہم اللہ تعالیٰ سے ظلم سے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔
11:113وَلَا تَرۡكَنُوٓاْ إِلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنۡ أَوۡلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ
اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب تو اختلاف کیا گیا اس میں اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے (طے) ہو چکی ہے آپ کے رب کی طرف سے تو ضرور فیصلہ کر دیا جاتا درمیان ان کےاور یقینا وہ ایسے شک میں ہیں اس سے (جو انھیں ) بے چین کرنے والا ہے(110) اور بے شک ہر ایک کو البتہ ضرور پوری پوری دے گاآپ کا رب (جزاء) ان کے عملوں کی، بے شک وہ ساتھ اس کے جو وہ عمل کرتے ہیں خبردار ہے (111) پس ثابت رہیں آپ جس طرح حکم کیے گئے ہیں آپ اور وہ لوگ بھی جنھوں نے توبہ کی آپ کے ساتھ اور نہ سرکشی کرو تم، بے شک وہ (اللہ) اسے جو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(112) اور نہ جھکو تم طرف ان لوگوں کی جنھوں نے ظلم کیا، پس (ورنہ) چھوئے گی تمھیں آگ اور نہیں ہو گا تمھارے لیے سوائے اللہ کے کوئی دوست، پھر نہ مدد کیے جاؤ گے تم (113)
[110] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے جناب موسیٰu کو کتاب عطا کی، جس کو تورات کہا جاتا ہے جو اس کے اوامر و نواہی پر ان کے اتفاق و اجتماع کی موجب ہے۔ مگر اس کے باوجود تورات سے نسبت رکھنے والوں نے اس میں اختلاف پیدا کیا جس نے ان کے عقائد اور ان کی دینی جمعیت کو سخت نقصان پہنچایا۔ ﴿ وَلَوۡ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’اگر تمھارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی۔‘‘ یعنی ان کے معاملہ کو موخر کرنے اور ان کو عذاب میں عجلت نہ کرنے کے بارے میں ایک بات پہلے طے نہ ہو چکی ہوتی ﴿ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’تو ان کا فیصلہ کردیا جاتا۔‘‘ یعنی ظالم پر عذاب نازل ہو چکا ہوتا۔ مگر اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے کو قیامت تک کے لیے موخر کر دے اور یہ لوگ شک و شبہ ہی میں مبتلا رہیں ۔ جب ان کا اپنی کتاب کے ساتھ یہ حال ہے تو قرآن جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کیا ہے یہود کے ایک گروہ کا یہ رویہ تعجب خیز نہیں ہے کہ وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور اس کے بارے میں شک و ریب میں مبتلا ہیں ۔
[111]﴿ وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمۡ رَبُّكَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ ’’اور جتنے لوگ ہیں ، سب کو پورا دے گا آپ کا رب ان کے اعمال (کا بدلہ)‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے درمیان ضرور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو وہی سزا و جزا دے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔ ﴿ اِنَّهٗ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ اس سے جو عمل یہ کرتے ہیں ۔‘‘ اچھے یا برے۔ ﴿ خَبِيۡرٌ ﴾ ’’باخبر ہے‘‘ ان کے اعمال میں سے کوئی چھوٹی یا بڑی چیز اس پر مخفی نہیں ۔
[112] اللہ تعالیٰ نے یہود کی عدم استقامت کا ذکر کرنے کے بعد، جو ان کے اختلاف و افتراق کا باعث تھی، اپنے نبی محمد مصطفیﷺ اور اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ صراط مستقیم پر گامزن رہیں جیسا کہ ان کو حکم دیا گیا ہے اور اس شریعت کو لائحہ عمل بنائیں جو ان کے لیے مشروع کی گئی ہے اور ان اعتقادات صحیحہ کو اپنا عقیدہ بنائیں جو اللہ تعالیٰ نے وحی کیے ہیں ۔ اس سیدھے راستے کو چھوڑ کر دائیں ، بائیں ٹیڑھی راہوں پر نہ چلیں اور دائمی طور پر اسی عقیدے اور اسی شریعت پر عمل پیرا رہیں اور سرکشی اختیار نہ کریں ، یعنی استقامت کی ان حدود سے تجاوز نہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر فرمائی ہیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’وہ تمھارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ پر تمھارے اعمال میں سے کچھ بھی مخفی نہیں اور وہ تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔ ان آیات کریمہ میں استقامت کو مسلک بنانے کی ترغیب اور اس کے برعکس راستہ اختیار کرنے پر ترہیب دی گئی ہے۔
[113] بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی طرف میلان رکھنے سے منع فرمایا جنھوں نے استقامت کو چھوڑ دیا۔﴿وَلَا تَرۡؔكَنُوۡۤا اِلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور مت جھکو ان لوگوں کی طرف جو ظالم ہیں ‘‘ کیونکہ اگر تم ان کی طرف مائل ہوئے، ان کے ظلم و تعدی پر ان کی موافقت کی یا ان کے ظلم پر راضی ہوئے ﴿فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ﴾ ’’تو تمھیں جہنم کی آگ آ لپٹے گی۔‘‘ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’اور اللہ کے سوا تمھارے کوئی مددگار نہیں ‘‘ جو تمھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکیں ۔ اس آیت کریمہ میں ظالم کی طرف میلان رکھنے سے روکا گیا ہے۔ یہاں (رکون) سے مراد ظالم کے ظلم کی طرف میلان، اس کے ظلم کی موافقت اور اس کے ظلم پر راضی ہونا ہے۔ جب ظالموں کی طرف میلان رکھنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتنی شدید وعید ہے تو خود ظالموں کا کیا حال ہوگا… ہم اللہ تعالیٰ سے ظلم سے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔
11:114وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ طَرَفَيِ ٱلنَّهَارِ وَزُلَفٗا مِّنَ ٱلَّيۡلِۚ إِنَّ ٱلۡحَسَنَٰتِ يُذۡهِبۡنَ ٱلسَّيِّـَٔاتِۚ ذَٰلِكَ ذِكۡرَىٰ لِلذَّـٰكِرِينَ
اورآپ قائم کریں نمازدونوں طرفوں (حصوں ) میں دن کے اورکچھ گھڑیوں میں رات سے بھی، بلاشبہ نیکیاں دور کر دیتی ہیں برائیوں کو، یہ نصیحت ہے واسطے ذکر کرنے والوں کے (114) اور آپ صبر کریں ، پس بے شک اللہ نہیں ضائع کرتا اجر نیکی کرنے والوں کا (115)
[114] اللہ تبارک و تعالیٰ کامل طور پر نماز کو قائم کرنے کا حکم دیتا ہے ﴿طَرَفَيِ النَّهَارِ ﴾ ’’دن کے دونوں طرفوں میں ‘‘ یعنی دن کے ابتدائی اور آخری حصے میں ۔ اس میں فجر، ظہر اور عصر کی نماز شامل ہے۔ ﴿ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيۡلِ﴾ ’’اور رات کے کچھ حصوں میں ‘‘ اور اس میں مغرب اور عشاء کی نماز داخل ہے۔ تہجد کی نماز بھی اسی میں شامل ہے کیونکہ بندۂ مومن تہجد کی نماز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ يُذۡهِبۡنَ السَّؔيِّاٰتِ﴾ ’’بے شک نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو‘‘ یعنی یہ نماز پنجگانہ اور اس سے ملحق نوافل سب سے بڑی نیکی ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ کہ نماز سب سے بڑی نیکی اور ثواب کی موجب ہے… برائیوں کو مٹاتی بھی ہے۔ اس سے مراد صغیرہ گناہ ہیں جیسا کہ صحیح احادیث میں اس اطلاق کو مقید کیا گیا ہے، مثلاً:رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’اگر مومن کبائر سے اجتناب کرتا ہے تو نماز پنج گانہ، جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک، یہ ان کے مابین ہونے والے گناہوں کو مٹا دینے والے عمل ہیں ۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب الصلوات الخمس… الخ، حدیث: 233) بلکہ اس آیت کریمہ کے اطلاق کو سورۃ النساء کی اس آیت نے بھی مقید کر دیا ہے فرمایا: ﴿ اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا كَبَآىِٕرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَـفِّرۡ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡكُمۡ مُّؔدۡخَلًا كَرِيۡمًا ﴾(النساء: 4؍31) ’’اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کرو جن سے تمھیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمھارے (چھوٹے چھوٹے) گناہوں کو مٹا دیں گے اور تمھیں عزت و تکریم کی جگہ میں داخل کریں گے۔‘‘ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ شاید یہ گزشتہ باتوں کی طرف ارشارہ ہے، جیسے صراط مستقیم پر استقامت کا التزام، حدود الٰہی سے عدم تجاوز، اہل ظلم کی طرف عدم میلان، اقامت صلوۃ کا حکم اور یہ بیان کہ نیکیاں تمام برائیوں کو مٹا دیتی ہیں یہ سب ﴿ ذِكۡرٰى لِلذّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’نصیحت ہے یاد رکھنے والوں کے لیے‘‘ وہ اس چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے اوامر ونواہی کو سمجھتے ہیں اور ان تمام اوامر کی تعمیل کرتے ہیں جن کا ثمرہ نیکیاں ہیں جو شر اور برائی کو مٹاتی ہیں ۔
[115] مگر ان امور میں مجاہدۂ نفس اور صبر کی سخت ضرورت ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَاصۡبِرۡ ﴾ ’’اور صبر کیجیے۔‘‘ یعنی اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم اور اس کی نافرمانی سے باز رکھیں اور اس کا ہمیشہ التزام کریں اور تنگ دل نہ ہوں ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ نیکی کرنے والوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرتا‘‘ بلکہ وہ ان کے اچھے اعمال کو قبول فرماتا ہے اور ان کو ان کے اعمال کی بہترین جزا عطا کرتا ہے۔ جب نفوس ضعیفہ، انقطاع اور اکتاہٹ کا شکار ہو کر کمزور پڑ جاتے ہیں تو آیت کریمہ میں ان کو صبر کے التزام کی ترغیب اور اللہ تعالیٰ کے ثواب کا شوق دلایا گیا ہے۔
11:115وَٱصۡبِرۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
اورآپ قائم کریں نمازدونوں طرفوں (حصوں ) میں دن کے اورکچھ گھڑیوں میں رات سے بھی، بلاشبہ نیکیاں دور کر دیتی ہیں برائیوں کو، یہ نصیحت ہے واسطے ذکر کرنے والوں کے (114) اور آپ صبر کریں ، پس بے شک اللہ نہیں ضائع کرتا اجر نیکی کرنے والوں کا (115)
[114] اللہ تبارک و تعالیٰ کامل طور پر نماز کو قائم کرنے کا حکم دیتا ہے ﴿طَرَفَيِ النَّهَارِ ﴾ ’’دن کے دونوں طرفوں میں ‘‘ یعنی دن کے ابتدائی اور آخری حصے میں ۔ اس میں فجر، ظہر اور عصر کی نماز شامل ہے۔ ﴿ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيۡلِ﴾ ’’اور رات کے کچھ حصوں میں ‘‘ اور اس میں مغرب اور عشاء کی نماز داخل ہے۔ تہجد کی نماز بھی اسی میں شامل ہے کیونکہ بندۂ مومن تہجد کی نماز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ يُذۡهِبۡنَ السَّؔيِّاٰتِ﴾ ’’بے شک نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو‘‘ یعنی یہ نماز پنجگانہ اور اس سے ملحق نوافل سب سے بڑی نیکی ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ کہ نماز سب سے بڑی نیکی اور ثواب کی موجب ہے… برائیوں کو مٹاتی بھی ہے۔ اس سے مراد صغیرہ گناہ ہیں جیسا کہ صحیح احادیث میں اس اطلاق کو مقید کیا گیا ہے، مثلاً:رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’اگر مومن کبائر سے اجتناب کرتا ہے تو نماز پنج گانہ، جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک، یہ ان کے مابین ہونے والے گناہوں کو مٹا دینے والے عمل ہیں ۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب الصلوات الخمس… الخ، حدیث: 233) بلکہ اس آیت کریمہ کے اطلاق کو سورۃ النساء کی اس آیت نے بھی مقید کر دیا ہے فرمایا: ﴿ اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا كَبَآىِٕرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَـفِّرۡ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡكُمۡ مُّؔدۡخَلًا كَرِيۡمًا ﴾(النساء: 4؍31) ’’اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کرو جن سے تمھیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمھارے (چھوٹے چھوٹے) گناہوں کو مٹا دیں گے اور تمھیں عزت و تکریم کی جگہ میں داخل کریں گے۔‘‘ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ شاید یہ گزشتہ باتوں کی طرف ارشارہ ہے، جیسے صراط مستقیم پر استقامت کا التزام، حدود الٰہی سے عدم تجاوز، اہل ظلم کی طرف عدم میلان، اقامت صلوۃ کا حکم اور یہ بیان کہ نیکیاں تمام برائیوں کو مٹا دیتی ہیں یہ سب ﴿ ذِكۡرٰى لِلذّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’نصیحت ہے یاد رکھنے والوں کے لیے‘‘ وہ اس چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے اوامر ونواہی کو سمجھتے ہیں اور ان تمام اوامر کی تعمیل کرتے ہیں جن کا ثمرہ نیکیاں ہیں جو شر اور برائی کو مٹاتی ہیں ۔
[115] مگر ان امور میں مجاہدۂ نفس اور صبر کی سخت ضرورت ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَاصۡبِرۡ ﴾ ’’اور صبر کیجیے۔‘‘ یعنی اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم اور اس کی نافرمانی سے باز رکھیں اور اس کا ہمیشہ التزام کریں اور تنگ دل نہ ہوں ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ نیکی کرنے والوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرتا‘‘ بلکہ وہ ان کے اچھے اعمال کو قبول فرماتا ہے اور ان کو ان کے اعمال کی بہترین جزا عطا کرتا ہے۔ جب نفوس ضعیفہ، انقطاع اور اکتاہٹ کا شکار ہو کر کمزور پڑ جاتے ہیں تو آیت کریمہ میں ان کو صبر کے التزام کی ترغیب اور اللہ تعالیٰ کے ثواب کا شوق دلایا گیا ہے۔
11:116فَلَوۡلَا كَانَ مِنَ ٱلۡقُرُونِ مِن قَبۡلِكُمۡ أُوْلُواْ بَقِيَّةٖ يَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡفَسَادِ فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا قَلِيلٗا مِّمَّنۡ أَنجَيۡنَا مِنۡهُمۡۗ وَٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مَآ أُتۡرِفُواْ فِيهِ وَكَانُواْ مُجۡرِمِينَ
پس کیوں نہ ہوئے ان امتوں میں سے جو تم سے پہلے تھیں کچھ لوگ عقل و بصیرت والے کہ وہ روکتے فساد (کرنے) سے زمین میں مگر تھوڑے ہی ان لوگوں میں سے جنھیں نجات دی ہم نے ان میں سے اور پیچھے لگے وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، ان چیزوں کے کہ آسودگی دیے گئے تھے وہ (ظالم) ان چیزوں میں اور تھے وہ مجرم (116)
[116]جب اللہ تعالیٰ نے گزشتہ امتوں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا جنھوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا تھا، نیز یہ کہ ان میں سے اکثر وہ لوگ تھے جنھوں نے کتب سماویہ کے ماننے والوں سے انحراف کیا، حتیٰ کہ ان لوگوں نے بھی جوکتب الٰہیہ کو ماننے والے تھے اور یہ چیز اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ گزشتہ ادیان انعدام و اضمحلال کا شکار ہوگئے تو اب ذکر فرمایا کہ گزشتہ قوموں میں ایسے اصحاب خیر کیوں نہ ہوئے جو لوگوں کو ہدایت کی طرف بلاتے رہتے، فساد اور ہلاکت سے روکتے رہتے تو ان سے کچھ فائدہ حاصل ہوتا جب تک ان کے ادیان باقی رہتے۔ مگر ایسے لوگ بہت ہی قلیل تھے۔اس سارے معاملے کی غرض و غایت یہ ہے کہ گزشتہ امتوں کے جو تھوڑے لوگوں نے نجات پائی تو انھوں نے انبیاء و مرسلین کی اتباع اور اقامت دین کی وجہ سے نجات پائی، نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حجت بن گئے جس کو اس نے ان کے ہاتھوں پر جاری کیا تاکہ جو ہلاک ہو تو دلیل کی بنا پر ہلاک ہو اور زندہ رہے تو دلیل ہی سے زندہ رہے۔﴿ وَاتَّبَعَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَاۤ اُتۡرِفُوۡا فِيۡهِ ﴾ ’’اور پیچھے پڑے رہے ظالم اسی چیز کے جس میں ان کو عیش ملا‘‘ یعنی وہ جن نعمتوں اور آسائشوں سے متمتع ہو رہے تھے انھی کے پیچھے پڑے رہے اور ان چیزوں کے بدلے انھوں نے کچھ اور نہیں چاہا۔ ﴿ وَكَانُوۡا مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تھے وہ گناہ گار‘‘ یعنی ان نعمتوں اور آسائشوں کے پیچھے پڑ کر انھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا، لہٰذا وہ عتاب کے مستحق ٹھہرے اور عذاب نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔اس آیت کریمہ میں اس امت کو ترغیب دی گئی ہے کہ ان کے اندر ایسے ہوش مند مصلحین ہونے چاہئیں جو ان امور کی اصلاح کریں جن کو لوگوں نے فاسد کر دیا ہے، جو اللہ کے دین کو قائم کرنے والے ہوں ، بھٹکے ہوؤں کو ہدایت کی طرف بلاتے رہیں ۔ اگر اس راہ میں تکلیفیں آئیں تو اس پر صبر کرتے رہیں اور وہ گمراہی کی تاریکیوں میں لوگوں کو بصیرت کی روشنی دکھاتے رہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا بلند ترین حال ہے جس کی طرف رغبت کرنے والے راغب ہوتے ہیں اور اسی حال کو اختیار کرنے والا مرتبۂ امامت پر فائز ہوتا ہے کیونکہ اس کا عمل خالص رب العالمین کے لیے ہے۔
11:117وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهۡلِكَ ٱلۡقُرَىٰ بِظُلۡمٖ وَأَهۡلُهَا مُصۡلِحُونَ
اور نہیں ہے آپ کا رب (ایسا) کہ وہ ہلاک کرے بستیوں کو ساتھ ظلم کے جبکہ ان کے رہنے والے اصلاح کرنے والے ہوں (117)
[117] اللہ تبارک و تعالیٰ ظلم کے ساتھ بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا درآں حالیکہ وہ اصلاح کرنے والے ہوں ، یعنی وہ درست رویے پر قائم اور اس پر دوام کا التزام کرتے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو صرف اسی وقت ہلاک کرتا ہے جب وہ ظلم کا ارتکاب کریں اور ان کے خلاف حجت قائم ہو جائے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں کہ جب لوگ اپنے گناہوں سے توبہ کر کے اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں اور اپنے اعمال کی اصلاح کر لیں تو تیرا رب ان بستیوں کو ان کے گزشتہ ظلم کی پاداش میں ہلاک نہیں کرے گا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا اور ان کے گزشتہ ظلم کو مٹا دے گا۔
11:118وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ ٱلنَّاسَ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗۖ وَلَا يَزَالُونَ مُخۡتَلِفِينَ
اور اگر چاہتا آپ کا رب تو البتہ بنا دیتا تمام لوگوں کو امت ایک ہی ، جبکہ وہ ہمیشہ رہیں گے (باہم) اختلاف کرنے والے ہی (118) سوائے ان لوگوں کے جن پر رحم کیا آپ کے رب نےاور اسی لیے اس نے پیدا کیا انھیں اور پوری ہوئی بات آپ کے رب کی، کہ ضرور بھروں گا میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے، سب سے (119)
[118] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو تمام لوگوں کو دین اسلام پر مجتمع کر کے انھیں ایک امت بنا دیتا اس کی مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہ تھی اور کوئی چیز اس کی گرفت سے باہر نہیں ۔ مگر اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اختلاف کرتے رہیں ، صراط مستقیم کی مخالفت کریں اور جہنم کی طرف جانے والے راستوں پر رواں دواں رہیں اور ہر کوئی اپنی رائے کو حق اور دوسرے کے قول کو گمراہی سمجھے۔
[119]﴿ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ رَبُّكَ ﴾’’مگر جن پر رحم کیا آپ کے رب نے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی علم حق کی طرف رہنمائی کی، انھیں اس پر عمل اور اس پر اتفاق کی توفیق بخشی۔ پس یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے سعادت کو لکھ دیا گیا تھا اور عنایت ربانی اور توفیق الٰہی نے ان کو جا لیا تھا… رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کو ان کے نفسوں کے حوالے کر دیا گیا۔﴿ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمۡ﴾ ’’اور اسی لیے ان کو پیدا کیا‘‘ یعنی ان کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا تاکہ ان میں سے کچھ لوگ خوش بخت اور کچھ لوگ بدبخت ہوں ، ان میں کچھ لوگ اتفاق کرنے والے اور کچھ لوگ اختلاف کرنے والے ہوں ۔ ان میں سے ایک گروہ وہ ہو جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نواز دیا اور ایک گروہ وہ ہو جو گمراہی کا حق دار قرار پایا تاکہ بندوں پر اس کا عدل اور اس کی حکمت عیاں ہو جائے، نیز طبائع بشری میں جو کچھ بھی اچھائی اور برائی پنہاں ہے وہ ظاہر ہو جائے اور تاکہ جہاد اور ان عبادات کا بازار گرم ہو جو امتحان اور آزمائش کے بغیر درست اور مکمل نہیں ہوتیں اور اس لیے کہ ﴿ وَتَمَّتۡ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’آپ کے رب کی وہ بات پوری ہو جائے (جس میں اس نے کہا تھا) کہ میں جہنم کو جنوں ، انسانوں سب سے بھر دوں گا۔‘‘ پس لازم ٹھہرا کہ وہ جہنم کو اس میں رہنے والے مہیا کرے جو ایسے اعمال بجا لائیں جو جہنم میں پہنچاتے ہیں ۔
11:119إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَۚ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمۡۗ وَتَمَّتۡ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمۡلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجۡمَعِينَ
اور اگر چاہتا آپ کا رب تو البتہ بنا دیتا تمام لوگوں کو امت ایک ہی ، جبکہ وہ ہمیشہ رہیں گے (باہم) اختلاف کرنے والے ہی (118) سوائے ان لوگوں کے جن پر رحم کیا آپ کے رب نےاور اسی لیے اس نے پیدا کیا انھیں اور پوری ہوئی بات آپ کے رب کی، کہ ضرور بھروں گا میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے، سب سے (119)
[118] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو تمام لوگوں کو دین اسلام پر مجتمع کر کے انھیں ایک امت بنا دیتا اس کی مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہ تھی اور کوئی چیز اس کی گرفت سے باہر نہیں ۔ مگر اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اختلاف کرتے رہیں ، صراط مستقیم کی مخالفت کریں اور جہنم کی طرف جانے والے راستوں پر رواں دواں رہیں اور ہر کوئی اپنی رائے کو حق اور دوسرے کے قول کو گمراہی سمجھے۔
[119]﴿ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ رَبُّكَ ﴾’’مگر جن پر رحم کیا آپ کے رب نے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی علم حق کی طرف رہنمائی کی، انھیں اس پر عمل اور اس پر اتفاق کی توفیق بخشی۔ پس یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے سعادت کو لکھ دیا گیا تھا اور عنایت ربانی اور توفیق الٰہی نے ان کو جا لیا تھا… رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کو ان کے نفسوں کے حوالے کر دیا گیا۔﴿ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمۡ﴾ ’’اور اسی لیے ان کو پیدا کیا‘‘ یعنی ان کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا تاکہ ان میں سے کچھ لوگ خوش بخت اور کچھ لوگ بدبخت ہوں ، ان میں کچھ لوگ اتفاق کرنے والے اور کچھ لوگ اختلاف کرنے والے ہوں ۔ ان میں سے ایک گروہ وہ ہو جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نواز دیا اور ایک گروہ وہ ہو جو گمراہی کا حق دار قرار پایا تاکہ بندوں پر اس کا عدل اور اس کی حکمت عیاں ہو جائے، نیز طبائع بشری میں جو کچھ بھی اچھائی اور برائی پنہاں ہے وہ ظاہر ہو جائے اور تاکہ جہاد اور ان عبادات کا بازار گرم ہو جو امتحان اور آزمائش کے بغیر درست اور مکمل نہیں ہوتیں اور اس لیے کہ ﴿ وَتَمَّتۡ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’آپ کے رب کی وہ بات پوری ہو جائے (جس میں اس نے کہا تھا) کہ میں جہنم کو جنوں ، انسانوں سب سے بھر دوں گا۔‘‘ پس لازم ٹھہرا کہ وہ جہنم کو اس میں رہنے والے مہیا کرے جو ایسے اعمال بجا لائیں جو جہنم میں پہنچاتے ہیں ۔
11:120وَكُلّٗا نَّقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ ٱلرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِۦ فُؤَادَكَۚ وَجَآءَكَ فِي هَٰذِهِ ٱلۡحَقُّ وَمَوۡعِظَةٞ وَذِكۡرَىٰ لِلۡمُؤۡمِنِينَ
اور (ضرورت کی) ہر ایک چیز کو بیان کرتے ہیں ہم آپ پر خبروں میں سے رسولوں کی، کہ مضبو ط رکھتے ہیں ہم ساتھ اس کے دل آپ کااور آیا ہے آپ کے پاس اس (سورت یا واقعات) میں حق اور نصیحت اور یاد دہانی واسطے مومنوں کے (120) اور آپ کہہ دیجیے واسطے ان لوگوں کے جو نہیں ایمان لاتے، عمل کرو تم اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ ہم بھی عمل کرنے والے ہیں (121) اورانتظار کرو تم، بلاشبہ ہم بھی انتظار کرنے والے ہیں (122) اور واسطے اللہ ہی کے ہے غیب آسمانوں اور زمین کااور اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کام سب کے سب، سو آپ عبادت کریں اسی کی اور توکل کریں اسی پراور نہیں ہے آپ کا رب غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو(123)
[120] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ میں انبیائے کرام کے حالات بیان فرمائے تو اب اس میں پنہاں حکمت کا ذکر فرمایا: ﴿وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ﴾’’اور یہ سب چیز بیان کرتے ہیں ہم آپ کے پاس رسولوں کے احوال سے جس سے مضبوط کریں ہم آپ کے دل کو‘‘ تاکہ وہ مطمئن رہے، اس کو ثبات حاصل ہو اور وہ صبر کرے، جیسے اولوالعزم انبیاء و مرسلین نے صبر کیا تھا کیونکہ نفوس انسانی اقتدا سے مانوس ہوتے ہیں اور اعمال پر ان کو نشاط حاصل ہوتا ہے اور وہ دوسروں کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہیں ، حق کے شواہد اور اس کو قائم کرنے والوں کی کثرت کا ذکر کرنے سے حق کی تائید ہوتی ہے۔﴿وَجَآءَكَ فِيۡ هٰؔذِهِ ﴾ ’’اور آیا آپ کے پاس اس میں ‘‘ یعنی اس سورۂ مقدسہ میں ﴿الۡحَقُّ﴾ ’’حق‘‘ آپ کے پاس یقین آگیا اور اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی شک نہیں ۔ اس کا علم، حق کا علم ہے جو نفس کے لیے سب سے بڑی فضیلت ہے۔ ﴿ وَمَوۡعِظَةٌ وَّذِكۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور نصیحت اور یاددہانی مومنوں کے لیے‘‘ یعنی وہ اس سے نصیحت پکڑتے ہیں پس برے کاموں سے باز رہتے ہیں اور محبوب کاموں کو یاد کرتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں ۔
[121] اور جو ایمان نہیں رکھتے انھیں نصیحتیں اور مختلف انواع کی یاددہانیاں کوئی فائدہ نہیں دیتیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَقُلۡ لِّلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو (دلائل قائم ہو جانے کے بعد بھی) ایمان نہیں لاتے‘‘ ﴿ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ﴾ ’’اپنی جگہ عمل کیے جاؤ۔‘‘ یعنی اسی حالت میں جس میں کہ تم ہو، عمل کرتے رہو ﴿ اِنَّا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’ہم بھی (اپنے طریقے کے مطابق) عمل کر رہے ہیں ۔‘‘
[122]﴿ وَانۡتَظِرُوۡا﴾ ’’تم بھی انتظار کرو۔‘‘ یعنی ہم پر جو کچھ نازل ہوگا، تم اس کا انتظار کرو ﴿ اِنَّا مُنۡتَظِرُوۡنَ﴾ ’’ہم بھی انتظار کرتے ہیں ۔‘‘ اور تم پر جو کچھ نازل ہوگا، ہم اس کے منتظر ہیں ۔
[123] اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں گروہوں کے درمیان جو فرق ہے اسے بیان کر دیا۔ اس نے اپنے بندوں کو دکھا دیا کہ وہ اپنے مومن بندوں کی مدد کرتا ہے اور انبیائے کرام کو جھٹلانے والے دشمنان الٰہی کا قلع قمع کرتا ہے۔﴿ وَلِلّٰهِ غَيۡبُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اللہ ہی کے پاس ہے چھپی بات آسمانوں اور زمین کی‘‘ یعنی تمام مخفی چیزیں اور غیبی امور جو آسمانوں اور زمین میں سربستہ ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ يُرۡجَعُ الۡاَمۡرُؔ كُلُّهٗ ﴾ ’’اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کام‘‘ تمام اعمال اور عمل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا۔ ﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾ ’’پس اسی کی عبادت کریں اور اسی پر بھروسہ رکھیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبودیت کو قائم کیجیے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ تمام احکام ہیں جن کی تعمیل پر آپﷺ قادر ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ آپ کا رب ان اچھے اور برے اعمال سے غافل نہیں ہے جن کو تم بجا لاتے ہو بلکہ اس کا علم ان اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ان پر اس کا قلم جاری ہو چکا ہے اور اب اس پر اس کا حکم اور جزا کا فیصلہ جاری ہوگا۔
11:121وَقُل لِّلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ ٱعۡمَلُواْ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمۡ إِنَّا عَٰمِلُونَ
اور (ضرورت کی) ہر ایک چیز کو بیان کرتے ہیں ہم آپ پر خبروں میں سے رسولوں کی، کہ مضبو ط رکھتے ہیں ہم ساتھ اس کے دل آپ کااور آیا ہے آپ کے پاس اس (سورت یا واقعات) میں حق اور نصیحت اور یاد دہانی واسطے مومنوں کے (120) اور آپ کہہ دیجیے واسطے ان لوگوں کے جو نہیں ایمان لاتے، عمل کرو تم اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ ہم بھی عمل کرنے والے ہیں (121) اورانتظار کرو تم، بلاشبہ ہم بھی انتظار کرنے والے ہیں (122) اور واسطے اللہ ہی کے ہے غیب آسمانوں اور زمین کااور اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کام سب کے سب، سو آپ عبادت کریں اسی کی اور توکل کریں اسی پراور نہیں ہے آپ کا رب غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو(123)
[120] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ میں انبیائے کرام کے حالات بیان فرمائے تو اب اس میں پنہاں حکمت کا ذکر فرمایا: ﴿وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ﴾’’اور یہ سب چیز بیان کرتے ہیں ہم آپ کے پاس رسولوں کے احوال سے جس سے مضبوط کریں ہم آپ کے دل کو‘‘ تاکہ وہ مطمئن رہے، اس کو ثبات حاصل ہو اور وہ صبر کرے، جیسے اولوالعزم انبیاء و مرسلین نے صبر کیا تھا کیونکہ نفوس انسانی اقتدا سے مانوس ہوتے ہیں اور اعمال پر ان کو نشاط حاصل ہوتا ہے اور وہ دوسروں کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہیں ، حق کے شواہد اور اس کو قائم کرنے والوں کی کثرت کا ذکر کرنے سے حق کی تائید ہوتی ہے۔﴿وَجَآءَكَ فِيۡ هٰؔذِهِ ﴾ ’’اور آیا آپ کے پاس اس میں ‘‘ یعنی اس سورۂ مقدسہ میں ﴿الۡحَقُّ﴾ ’’حق‘‘ آپ کے پاس یقین آگیا اور اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی شک نہیں ۔ اس کا علم، حق کا علم ہے جو نفس کے لیے سب سے بڑی فضیلت ہے۔ ﴿ وَمَوۡعِظَةٌ وَّذِكۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور نصیحت اور یاددہانی مومنوں کے لیے‘‘ یعنی وہ اس سے نصیحت پکڑتے ہیں پس برے کاموں سے باز رہتے ہیں اور محبوب کاموں کو یاد کرتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں ۔
[121] اور جو ایمان نہیں رکھتے انھیں نصیحتیں اور مختلف انواع کی یاددہانیاں کوئی فائدہ نہیں دیتیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَقُلۡ لِّلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو (دلائل قائم ہو جانے کے بعد بھی) ایمان نہیں لاتے‘‘ ﴿ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ﴾ ’’اپنی جگہ عمل کیے جاؤ۔‘‘ یعنی اسی حالت میں جس میں کہ تم ہو، عمل کرتے رہو ﴿ اِنَّا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’ہم بھی (اپنے طریقے کے مطابق) عمل کر رہے ہیں ۔‘‘
[122]﴿ وَانۡتَظِرُوۡا﴾ ’’تم بھی انتظار کرو۔‘‘ یعنی ہم پر جو کچھ نازل ہوگا، تم اس کا انتظار کرو ﴿ اِنَّا مُنۡتَظِرُوۡنَ﴾ ’’ہم بھی انتظار کرتے ہیں ۔‘‘ اور تم پر جو کچھ نازل ہوگا، ہم اس کے منتظر ہیں ۔
[123] اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں گروہوں کے درمیان جو فرق ہے اسے بیان کر دیا۔ اس نے اپنے بندوں کو دکھا دیا کہ وہ اپنے مومن بندوں کی مدد کرتا ہے اور انبیائے کرام کو جھٹلانے والے دشمنان الٰہی کا قلع قمع کرتا ہے۔﴿ وَلِلّٰهِ غَيۡبُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اللہ ہی کے پاس ہے چھپی بات آسمانوں اور زمین کی‘‘ یعنی تمام مخفی چیزیں اور غیبی امور جو آسمانوں اور زمین میں سربستہ ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ يُرۡجَعُ الۡاَمۡرُؔ كُلُّهٗ ﴾ ’’اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کام‘‘ تمام اعمال اور عمل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا۔ ﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾ ’’پس اسی کی عبادت کریں اور اسی پر بھروسہ رکھیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبودیت کو قائم کیجیے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ تمام احکام ہیں جن کی تعمیل پر آپﷺ قادر ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ آپ کا رب ان اچھے اور برے اعمال سے غافل نہیں ہے جن کو تم بجا لاتے ہو بلکہ اس کا علم ان اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ان پر اس کا قلم جاری ہو چکا ہے اور اب اس پر اس کا حکم اور جزا کا فیصلہ جاری ہوگا۔
11:122وَٱنتَظِرُوٓاْ إِنَّا مُنتَظِرُونَ
اور (ضرورت کی) ہر ایک چیز کو بیان کرتے ہیں ہم آپ پر خبروں میں سے رسولوں کی، کہ مضبو ط رکھتے ہیں ہم ساتھ اس کے دل آپ کااور آیا ہے آپ کے پاس اس (سورت یا واقعات) میں حق اور نصیحت اور یاد دہانی واسطے مومنوں کے (120) اور آپ کہہ دیجیے واسطے ان لوگوں کے جو نہیں ایمان لاتے، عمل کرو تم اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ ہم بھی عمل کرنے والے ہیں (121) اورانتظار کرو تم، بلاشبہ ہم بھی انتظار کرنے والے ہیں (122) اور واسطے اللہ ہی کے ہے غیب آسمانوں اور زمین کااور اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کام سب کے سب، سو آپ عبادت کریں اسی کی اور توکل کریں اسی پراور نہیں ہے آپ کا رب غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو(123)
[120] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ میں انبیائے کرام کے حالات بیان فرمائے تو اب اس میں پنہاں حکمت کا ذکر فرمایا: ﴿وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ﴾’’اور یہ سب چیز بیان کرتے ہیں ہم آپ کے پاس رسولوں کے احوال سے جس سے مضبوط کریں ہم آپ کے دل کو‘‘ تاکہ وہ مطمئن رہے، اس کو ثبات حاصل ہو اور وہ صبر کرے، جیسے اولوالعزم انبیاء و مرسلین نے صبر کیا تھا کیونکہ نفوس انسانی اقتدا سے مانوس ہوتے ہیں اور اعمال پر ان کو نشاط حاصل ہوتا ہے اور وہ دوسروں کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہیں ، حق کے شواہد اور اس کو قائم کرنے والوں کی کثرت کا ذکر کرنے سے حق کی تائید ہوتی ہے۔﴿وَجَآءَكَ فِيۡ هٰؔذِهِ ﴾ ’’اور آیا آپ کے پاس اس میں ‘‘ یعنی اس سورۂ مقدسہ میں ﴿الۡحَقُّ﴾ ’’حق‘‘ آپ کے پاس یقین آگیا اور اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی شک نہیں ۔ اس کا علم، حق کا علم ہے جو نفس کے لیے سب سے بڑی فضیلت ہے۔ ﴿ وَمَوۡعِظَةٌ وَّذِكۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور نصیحت اور یاددہانی مومنوں کے لیے‘‘ یعنی وہ اس سے نصیحت پکڑتے ہیں پس برے کاموں سے باز رہتے ہیں اور محبوب کاموں کو یاد کرتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں ۔
[121] اور جو ایمان نہیں رکھتے انھیں نصیحتیں اور مختلف انواع کی یاددہانیاں کوئی فائدہ نہیں دیتیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَقُلۡ لِّلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو (دلائل قائم ہو جانے کے بعد بھی) ایمان نہیں لاتے‘‘ ﴿ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ﴾ ’’اپنی جگہ عمل کیے جاؤ۔‘‘ یعنی اسی حالت میں جس میں کہ تم ہو، عمل کرتے رہو ﴿ اِنَّا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’ہم بھی (اپنے طریقے کے مطابق) عمل کر رہے ہیں ۔‘‘
[122]﴿ وَانۡتَظِرُوۡا﴾ ’’تم بھی انتظار کرو۔‘‘ یعنی ہم پر جو کچھ نازل ہوگا، تم اس کا انتظار کرو ﴿ اِنَّا مُنۡتَظِرُوۡنَ﴾ ’’ہم بھی انتظار کرتے ہیں ۔‘‘ اور تم پر جو کچھ نازل ہوگا، ہم اس کے منتظر ہیں ۔
[123] اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں گروہوں کے درمیان جو فرق ہے اسے بیان کر دیا۔ اس نے اپنے بندوں کو دکھا دیا کہ وہ اپنے مومن بندوں کی مدد کرتا ہے اور انبیائے کرام کو جھٹلانے والے دشمنان الٰہی کا قلع قمع کرتا ہے۔﴿ وَلِلّٰهِ غَيۡبُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اللہ ہی کے پاس ہے چھپی بات آسمانوں اور زمین کی‘‘ یعنی تمام مخفی چیزیں اور غیبی امور جو آسمانوں اور زمین میں سربستہ ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ يُرۡجَعُ الۡاَمۡرُؔ كُلُّهٗ ﴾ ’’اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کام‘‘ تمام اعمال اور عمل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا۔ ﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾ ’’پس اسی کی عبادت کریں اور اسی پر بھروسہ رکھیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبودیت کو قائم کیجیے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ تمام احکام ہیں جن کی تعمیل پر آپﷺ قادر ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ آپ کا رب ان اچھے اور برے اعمال سے غافل نہیں ہے جن کو تم بجا لاتے ہو بلکہ اس کا علم ان اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ان پر اس کا قلم جاری ہو چکا ہے اور اب اس پر اس کا حکم اور جزا کا فیصلہ جاری ہوگا۔
11:123وَلِلَّهِ غَيۡبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَإِلَيۡهِ يُرۡجَعُ ٱلۡأَمۡرُ كُلُّهُۥ فَٱعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُونَ
اور (ضرورت کی) ہر ایک چیز کو بیان کرتے ہیں ہم آپ پر خبروں میں سے رسولوں کی، کہ مضبو ط رکھتے ہیں ہم ساتھ اس کے دل آپ کااور آیا ہے آپ کے پاس اس (سورت یا واقعات) میں حق اور نصیحت اور یاد دہانی واسطے مومنوں کے (120) اور آپ کہہ دیجیے واسطے ان لوگوں کے جو نہیں ایمان لاتے، عمل کرو تم اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ ہم بھی عمل کرنے والے ہیں (121) اورانتظار کرو تم، بلاشبہ ہم بھی انتظار کرنے والے ہیں (122) اور واسطے اللہ ہی کے ہے غیب آسمانوں اور زمین کااور اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کام سب کے سب، سو آپ عبادت کریں اسی کی اور توکل کریں اسی پراور نہیں ہے آپ کا رب غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو(123)
[120] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ میں انبیائے کرام کے حالات بیان فرمائے تو اب اس میں پنہاں حکمت کا ذکر فرمایا: ﴿وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ﴾’’اور یہ سب چیز بیان کرتے ہیں ہم آپ کے پاس رسولوں کے احوال سے جس سے مضبوط کریں ہم آپ کے دل کو‘‘ تاکہ وہ مطمئن رہے، اس کو ثبات حاصل ہو اور وہ صبر کرے، جیسے اولوالعزم انبیاء و مرسلین نے صبر کیا تھا کیونکہ نفوس انسانی اقتدا سے مانوس ہوتے ہیں اور اعمال پر ان کو نشاط حاصل ہوتا ہے اور وہ دوسروں کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہیں ، حق کے شواہد اور اس کو قائم کرنے والوں کی کثرت کا ذکر کرنے سے حق کی تائید ہوتی ہے۔﴿وَجَآءَكَ فِيۡ هٰؔذِهِ ﴾ ’’اور آیا آپ کے پاس اس میں ‘‘ یعنی اس سورۂ مقدسہ میں ﴿الۡحَقُّ﴾ ’’حق‘‘ آپ کے پاس یقین آگیا اور اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی شک نہیں ۔ اس کا علم، حق کا علم ہے جو نفس کے لیے سب سے بڑی فضیلت ہے۔ ﴿ وَمَوۡعِظَةٌ وَّذِكۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور نصیحت اور یاددہانی مومنوں کے لیے‘‘ یعنی وہ اس سے نصیحت پکڑتے ہیں پس برے کاموں سے باز رہتے ہیں اور محبوب کاموں کو یاد کرتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں ۔
[121] اور جو ایمان نہیں رکھتے انھیں نصیحتیں اور مختلف انواع کی یاددہانیاں کوئی فائدہ نہیں دیتیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَقُلۡ لِّلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو (دلائل قائم ہو جانے کے بعد بھی) ایمان نہیں لاتے‘‘ ﴿ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ﴾ ’’اپنی جگہ عمل کیے جاؤ۔‘‘ یعنی اسی حالت میں جس میں کہ تم ہو، عمل کرتے رہو ﴿ اِنَّا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’ہم بھی (اپنے طریقے کے مطابق) عمل کر رہے ہیں ۔‘‘
[122]﴿ وَانۡتَظِرُوۡا﴾ ’’تم بھی انتظار کرو۔‘‘ یعنی ہم پر جو کچھ نازل ہوگا، تم اس کا انتظار کرو ﴿ اِنَّا مُنۡتَظِرُوۡنَ﴾ ’’ہم بھی انتظار کرتے ہیں ۔‘‘ اور تم پر جو کچھ نازل ہوگا، ہم اس کے منتظر ہیں ۔
[123] اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں گروہوں کے درمیان جو فرق ہے اسے بیان کر دیا۔ اس نے اپنے بندوں کو دکھا دیا کہ وہ اپنے مومن بندوں کی مدد کرتا ہے اور انبیائے کرام کو جھٹلانے والے دشمنان الٰہی کا قلع قمع کرتا ہے۔﴿ وَلِلّٰهِ غَيۡبُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اللہ ہی کے پاس ہے چھپی بات آسمانوں اور زمین کی‘‘ یعنی تمام مخفی چیزیں اور غیبی امور جو آسمانوں اور زمین میں سربستہ ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ يُرۡجَعُ الۡاَمۡرُؔ كُلُّهٗ ﴾ ’’اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کام‘‘ تمام اعمال اور عمل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا۔ ﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾ ’’پس اسی کی عبادت کریں اور اسی پر بھروسہ رکھیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبودیت کو قائم کیجیے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ تمام احکام ہیں جن کی تعمیل پر آپﷺ قادر ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ آپ کا رب ان اچھے اور برے اعمال سے غافل نہیں ہے جن کو تم بجا لاتے ہو بلکہ اس کا علم ان اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ان پر اس کا قلم جاری ہو چکا ہے اور اب اس پر اس کا حکم اور جزا کا فیصلہ جاری ہوگا۔